اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ کَتَبْتُ إِلَی شُعْبَةَ أَسْأَلُهُ عَنْ أَبِي شَيْبَةَ قَاضِي وَاسِطٍ فَکَتَبَ إِلَيَّ لَا تَکْتُبْ عَنْهُ شَيْئًا وَمَزِّقْ کِتَابِي
عبیداللہ بن معاذ عنبری بیان کرتے ہیں کہ میں نے شعبہ کو لکھا کہ ابوشیبہ قاضی واسط کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے تو شعبہ نے لکھا کہ ابوشیبہ کی کوئی روایت نہ لکھنا اور میرے اس خط کو پھاڑ دینا۔
Ubayd Allah bin Mu’ādh al-Anbarī narrated to me, my father narrated to us, he said: ‘I wrote to Shu’bah asking him about Abū Shaybah , a judge of Wāsit, so he wrote to me: ‘Do not write anything from him [of Ḥadīth] and tear up my letter [to you about this]’.