دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ و قَالَ ابْنُ عَبَّادٍ وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ مَا أَشْبَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ حِنْطَةٍ حَتَّی فَارَقَ الدُّنْيَا
محمد بن عباد، ابن ابی عمر، مروان، یزید ابن کیسان، ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اور ابن عباد نے اپنی روایت میں وَالَّذِي نَفْسُ ابوہریرہ بِيَدِهِ کے الفاظ کہے ہیں یعنی قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں ابوہریرہ ؓ کی جان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لگاتار تین دن تک اپنے گھر والوں کو گندم کی روٹی سے سیر نہیں کیا یہاں تک کہ آپ ﷺ اس فانی دنیا سے رحلت فرما گئے۔
Abu Hurairah (RA) reported: By Him in Whose Hand is my life and Ibn Abbad also said: By One in Whose hand is the life of Abu Hurairah (RA) , Allahs Messenger ﷺ could not afford to provide adequate food to his family which could (fill their bellies) with bread and wheat for three days successively until he left the world.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ کَيْسَانَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ مِرَارًا يَقُولُ وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ مَا شَبِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ حِنْطَةٍ حَتَّی فَارَقَ الدُّنْيَا
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، یزید بن کیسان، حضرت ابوحازم ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو دیکھا کہ وہ اپنی انگلیوں سے بار بار اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے ہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں ابوہریرہ ؓ کی جان ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے گھر والوں نے لگاتار تین دن تک کبھی بھی گندم کی روٹی سے سیر ہو کر نہیں کھایا یہاں تک کہ اس دنیائے فانی سے رحلت فرما گئے۔
Abu Hazim reported: I saw Abu Hurairah (RA) point with his finger many a time and saying: By One in Whose Hand is the life of Abu Hurairah (RA) , Allahs Apostle ﷺ could not eat to his fill and provide his family bread of wheat beyond three days successively until he left the world.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُا أَلَسْتُمْ فِي طَعَامٍ وَشَرَابٍ مَا شِئْتُمْ لَقَدْ رَأَيْتُ نَبِيَّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَجِدُ مِنْ الدَّقَلِ مَا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ وَقُتَيْبَةُ لَمْ يَذْکُرْ بِهِ
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، احوص، سماک، حضرت نعمان بن بشیر ؓ فرماتے ہیں کہ کیا تم لوگ جو چاہتے ہو کھاتے اور پیتے نہیں ہو؟ جبکہ میں نے تمہارے نبی ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ کو خراب کھجور بھی پیٹ بھر کر نہیں ملتی تھی۔
Numan bin Bashir said: Dont you eat and drink according to your hearts desire, whereas I saw that your Prophet ﷺ (at times) could not find even an inferior quality of the dates with which he could fill his belly? Qutaiba, however, did not make a mention of it.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ کِلَاهُمَا عَنْ سِمَاکٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ وَمَا تَرْضَوْنَ دُونَ أَلْوَانِ التَّمْرِ وَالزُّبْدِ
محمد بن رافع، یحییٰ بن آدم، زہیر، اسحاق بن ابراہیم، حضرت سماک ؓ نے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے اور زہیر کی اس روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ تم تو طرح طرح کی کھجور اور مکھن کے علاوہ راضی نہیں ہوتے۔
This hadith has been narrated on the authority of Simak with the same chain of transmitters, with this addition of words: "You are not satisfied with the qualities of dates and butter."
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يَخْطُبُ قَالَ ذَکَرَ عُمَرُ مَا أَصَابَ النَّاسُ مِنْ الدُّنْيَا فَقَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَظَلُّ الْيَوْمَ يَلْتَوِي مَا يَجِدُ دَقَلًا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت سماک بن حرب سے روایت ہے کہ میں نے حضرت نعمان سے خطبہ دیتے ہوئے سنا انہوں نے فرمایا حضرت عمر ؓ نے ذکر فرمایا کہ لوگوں نے جو دنیا حاصل کرلی ہے اس کا ذکر کیا اور فرمایا میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ ﷺ سارا دن بھوک کی وجہ سے بیقرار رہتے تھے آپ ﷺ خراب کھجور تک نہ پاتے تھے کہ جس سے اپنا پیٹ بھرلیں۔
Simak bin Harb reported: I heard Numan deliver an address in which he said that (Hadrat) Umar made a mention of what had fallen to the lot of people out of the material world and he said: I saw Allahs Messenger ﷺ spend the whole day being upset because of hunger and he could not get even an inferior quality of dates with which he could fill his belly.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يَقُولُا سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَلَسْنَا مِنْ فُقَرَائِ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَلَکَ امْرَأَةٌ تَأْوِي إِلَيْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ أَلَکَ مَسْکَنٌ تَسْکُنُهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَنْتَ مِنْ الْأَغْنِيَائِ قَالَ فَإِنَّ لِي خَادِمًا قَالَ فَأَنْتَ مِنْ الْمُلُوکِ
ابوطاہر احمد عمرو بن سرح، ابن وہب، ابوہانی، ابوعبدالرحمن حبلی، حضرت عبداللہ ؓ بن عمرو بن عاص ؓ سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ کیا ہم مہاجرین فقراء میں سے نہیں ہیں تو حضرت عبداللہ نے اس آدمی سے فرمایا کیا تیری بیوی ہے جس کے پاس تو رہتا ہے وہ کہنے لگا ہاں حضرت عبداللہ نے فرمایا پھر تو تو غنی لوگوں میں سے ہے اس آدمی نے کہا میرے پاس ایک خادم بھی ہے عبداللہ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔
Abdul Rahman al-Hubuli reported: I heard that a person asked Abdullah bin Amr bin As saying: Are we not amongst the destitute of the emigrants? Abdullah said to him: Have you a spouse with whom you live? He said: Yes. He again said: Then you are amongst the rich. He said: I have a servant also. Thereupon he (Abdullah bin Amr bin As) said: Then you are amongst the kings.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَجَائَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالُوا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّا وَاللَّهِ مَا نَقْدِرُ عَلَی شَيْئٍ لَا نَفَقَةٍ وَلَا دَابَّةٍ وَلَا مَتَاعٍ فَقَالَ لَهُمْ مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْنَا فَأَعْطَيْنَاکُمْ مَا يَسَّرَ اللَّهُ لَکُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ ذَکَرْنَا أَمْرَکُمْ لِلسُّلْطَانِ وَإِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فُقَرَائَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَی الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا قَالُوا فَإِنَّا نَصْبِرُ لَا نَسْأَلُ شَيْئًا
ابوعبدالرحمن فرماتے ہیں کہ تین آدمی حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کے پاس آئے اور میں ان کے پاس موجود تھا وہ آدمی کہنے لگا اے ابومحمد اللہ کی قسم ہمارے پاس کچھ نہیں ہے نہ خرچ ہے نہ سواری نہ مال ومتاع حضرت عبداللہ نے ان تینوں آدمیوں سے فرمایا تم کیا چاہتے ہو اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تم ہماری طرف لوٹ آؤ ہم تمہیں وہ دیں گے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے اور اگر تم چاہو تو تمہارا ذکر بادشاہ سے کریں اور اگر تم چاہو تو صبر کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں ہم مہاجرین فقراء قیامت کے دن مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے وہ آدمی کہنے لگا ہم لوگ صبر کریں گے اور ہم کچھ نہیں مانگتے۔
Abu Abdal-Rahman reported that three persons came to Abdullah bin Amr (RA) bin As while I was sitting with him and they said: By Allah, we have nothing with us either in the form of provision, riding animals or wealth. Thereupon he said to them: I am prepared to do whatever you like. If you come to us, we would give you what Allah would make available for you and if you like I would make a mention of your case to the ruler, and if you like you can show patience also for I have heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Destitute amongst the emigrants would precede the rich emigrants by forty years in getting into Paradise on the Day of Resurrection. Thereupon they said: We then show patience and do not ask for anything.
پتھر والوں (قوم ثمود) کے گھروں پر سے داخل ہونے کی ممانعت کے بیان میں سوائے اس کے کہ جو روتا ہوا داخل ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِ الْحِجْرِ لَا تَدْخُلُوا عَلَی هَؤُلَائِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَکُونُوا بَاکِينَ فَإِنْ لَمْ تَکُونُوا بَاکِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَکُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن ایوب، اسماعیل بن جعفر، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پتھروں والے یعنی قوم ثمود کے بارے میں فرمایا اس قوم کے گھروں کے پاس سے نہ گزرو کیونکہ انہیں عذاب دیا گیا ہے سوائے اس کے کہ وہاں سے روتے ہوئے گزرو اور اگر تمہیں رونا نہیں آتا تو پھر وہاں سے نہ گزرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہ عذاب مسلط ہوجائے کہ جو عذاب قوم ثمود پر مسلط ہوا تھا۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said in connection with the people of Hijr (Thamud): Do not enter but weepingly (the habitations) of these people who had been punished by (Allah), and in case you do not feel inclined to weep, then do not enter (these habitations) that you may not meet the same calamity as had fallen to their lot.
پتھر والوں (قوم ثمود) کے گھروں پر سے داخل ہونے کی ممانعت کے بیان میں سوائے اس کے کہ جو روتا ہوا داخل ہو۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ وَهُوَ يَذْکُرُ الْحِجْرَ مَسَاکِنَ ثَمُودَ قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ مَرَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْحِجْرِ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدْخُلُوا مَسَاکِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلَّا أَنْ تَکُونُوا بَاکِينَ حَذَرًا أَنْ يُصِيبَکُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ ثُمَّ زَجَرَ فَأَسْرَعَ حَتَّی خَلَّفَهَا
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پتھر والوں یعنی قوم ثمود کے مقامات کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا تم ان لوگوں کے پتھروں کے پاس سے نہ گزرو کہ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے سوائے اس کے کہ تم وہاں سے روتے ہوئے گزرو اور اس بات سے بچو کہ کہیں تمہیں بھی نہ آپہنچے کہ جو عذاب ان کو پہنچا پھر اپنی سواری کو ڈانٹ کر جلد چلایا یہاں تک کہ قوم ثمود کے گھروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔
Ibn Shihab reported, and he had been talking about the stony abodes of Thamud, and he said: Salim bin Abdullah reported that Abdullah bin Umar (RA) said: We were passing along with Allahs Messenger ﷺ through the habitations of Hijr, and Allahs Messenger ﷺ said: Do not enter but weepingly the habitations of these persons who committed tyranny among themselves, lest the same calamity should fall upon you as it fell upon them. He then urged his mount to proceed quickly and pass through that valley hurriedly.
پتھر والوں (قوم ثمود) کے گھروں پر سے داخل ہونے کی ممانعت کے بیان میں سوائے اس کے کہ جو روتا ہوا داخل ہو۔
حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْحِجْرِ أَرْضِ ثَمُودَ فَاسْتَقَوْا مِنْ آبَارِهَا وَعَجَنُوا بِهِ الْعَجِينَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهَرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا وَيَعْلِفُوا الْإِبِلَ الْعَجِينَ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مِنْ الْبِئْرِ الَّتِي کَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ
حکم بن موسیٰ ابوصالح شعیب بن اسحاق بن عبیداللہ نافع حضرت ابن عمر ؓ خبری دیتے ہیں کہ صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قوم ثمود کے علاقہ میں اترے تو انہوں نے اس جگہ کے کنوؤں سے پینے کا پانی لیا اور انہوں نے اس پانی سے آٹا بھی گوندھا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو حکم فرمایا پینے والا پانی بہا دیا جائے اور اس پانی سے گوندھا گیا آٹا اونٹوں کو کھلا دیا جائے اور آپ ﷺ نے ان کو حکم فرمایا کہ اس کنوئیں سے پانی لیا جائے کہ جس کنوئیں پر حضرت صالح کی اونٹنی پانی پینے آئی تھی۔
Abdullah bin Umar reported that the people encamped along with Allahs Messenger ﷺ in the valley of Hijr, the habitations of Thamud, and they quenched their thirst from the wells thereof and kneaded the flour with it. Thereupon Allahs Messenger ﷺ commanded that the water collected for drinking should be spilt and the flour should be given to the camels and commanded them that the water for drinking should be taken from that well where the she-camel (of Hadrat Salih) used to come.
پتھر والوں (قوم ثمود) کے گھروں پر سے داخل ہونے کی ممانعت کے بیان میں سوائے اس کے کہ جو روتا ہوا داخل ہو۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَاسْتَقَوْا مِنْ بِئَارِهَا وَاعْتَجَنُوا بِهِ
اسحاق بن موسیٰ انصاری، انس بن عیاض، حضرت عبیداللہ اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث روایت کی طرح حدیث بیان کرتے ہیں سوائے اس کے کہ اس میں ہے انہوں نے اس سے پانی پیا اور اس سے انہوں نے آٹا بھی گوندھا۔
This hadith has been narrated on the authority of Abdullah with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
بیوہ مسکین یتیم کے ساتھ نیکی (حسن سلوک) کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ السَّاعِي عَلَی الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْکِينِ کَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَکَالْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ وَکَالصَّائِمِ لَا يُفْطِرُ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، مالک، ثور بن زید، ابی غیث، حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا بیوہ عورت اور مسکینوں پر کوشش کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے (مجاہد) کی طرح ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ وہ اس قائم کی طرح ہے کہ جو نہ تھکتا ہو اور اس صائم کی طرح ہے کہ جو افطار نہ کرتا ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: One who makes efforts (for earning to be spent) on a widow and the destitute is like a striver in the cause of Allah, and I think he also said: He is like one who constantly stands for prayer and observes fast without breaking it.
بیوہ مسکین یتیم کے ساتھ نیکی (حسن سلوک) کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْغَيْثِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ أَنَا وَهُوَ کَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ وَأَشَارَ مَالِکٌ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَی
زہیر بن حرب، اسحاق عیسی، مالک، ثور بن زید، ابوغیث، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی یتیم بچے کی کفالت کرنے والا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار یا اس کے علاوہ اور جو کوئی بھی ہو اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے حضرت مالک ؓ نے شہادت کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے بتایا۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: One who looks after the orphan whether he is his relative or not, I and he would be together in Paradise like this, and Malik (explained it) with the gesture by drawing his index finger and middle finger close together.
مسجدیں بنانے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ الْخَوْلَانِيَّ يَذْکُرُ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ حِينَ بَنَی مَسْجِدَ الرَّسُولِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکُمْ قَدْ أَکْثَرْتُمْ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَنَی مَسْجِدًا قَالَ بُکَيْرٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ بَنَی اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ وَفِي رِوَايَةِ هَارُونَ بَنَی اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ
ہارون بن سعید ایلی، احمد بن عیسی، ابن وہب، عمرو ابن حارث، بکیر، عاصم بن عمر بن قتادہ، حضرت عبیداللہ خولانی ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے سنا کہ حضرت عثمان بن عفان نے جس وقت رسول اللہ ﷺ کی مسجد کو (شہید کرکے) دوبارہ بنایا تو لوگ اس بارے میں باتیں کرنے لگے تو حضرت عثمان نے فرمایا تم نے بڑی کثرت سے باتیں کیں حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس آدمی نے مسجد بنائی راوی بکیر کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اللہ کا گھر (مسجد) بنایا تو اس طرح کا ایک گھر جنت میں بنائے گا اور ہارون کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنادے گا۔
Abdullah al-Khaulani reported that when Uthman bin Affan tried to rebuild the mosque of Allahs Messenger ﷺ the people began to talk about this. Uthman bin Affan said: You discuss it very much whereas I have heard Allahs Messenger ﷺ as saying: "He who builds a mosque .." and the narrator Bukair said: I think he also said: (for) seeking the pleasure of Allah, Allah would build (a similar house for him in Paradise), and in the narration of Harun (the words are): "A house for him in Paradise."
مسجدیں بنانے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی کِلَاهُمَا عَنْ الضَّحَّاکِ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَرَادَ بِنَائَ الْمَسْجِدِ فَکَرِهَ النَّاسُ ذَلِکَ وَأَحَبُّوا أَنْ يَدَعَهُ عَلَی هَيْئَتِهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَنَی مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَی اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، ضحاک، عبدالحمید بن جعفر، محمود بن لبید ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان بن عفان ؓ نے مسجد بنانے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے اسے ناپسند سمجھا اور وہ لوگ اس بات کو پسند کرنے لگے کہ اس مسجد کو اسی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو حضرت عثمان ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس آدمی نے اللہ کے لئے مسجد بنائی تو اللہ جنت میں اس کے لئے اس جیسا ایک گھر بنا دے گا۔
Mahmud bin Labid reported that Uthman bin Affan decided to rebuild the mosque (of Allahs Apostle ﷺ in Madinah) but the people did not like this idea and they wished that it should be preserved in the same (old) form. Thereupon he (Hadrat Uthman) said: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: He who builds a mosque for Allah, Allah would build for him (a house) in Paradise like it.
مسجدیں بنانے کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِيُّ وَعَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الصَّبَّاحِ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا بَنَی اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ
اسحاق بن ابراہیم، ابوبکر حنفی، عبدالملک، ابن صباح، حضرت عبدالحمید ؓ بن جعفر سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ ان دونوں روایات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنا دے گا۔
This hadith has been narrated on the authority of Jafar with the same chain of transmitters with this variation (that the words are): "Allah would build for him a house in Paradise."
مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنْ الْأَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتًا فِي سَحَابَةٍ اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ فَتَنَحَّی ذَلِکَ السَّحَابُ فَأَفْرَغَ مَائَهُ فِي حَرَّةٍ فَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْکَ الشِّرَاجِ قَدْ اسْتَوْعَبَتْ ذَلِکَ الْمَائَ کُلَّهُ فَتَتَبَّعَ الْمَائَ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي حَدِيقَتِهِ يُحَوِّلُ الْمَائَ بِمِسْحَاتِهِ فَقَالَ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا اسْمُکَ قَالَ فُلَانٌ لِلِاسْمِ الَّذِي سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ فَقَالَ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ لِمَ تَسْأَلُنِي عَنْ اسْمِي فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فِي السَّحَابِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهُ يَقُولُ اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ لِاسْمِکَ فَمَا تَصْنَعُ فِيهَا قَالَ أَمَّا إِذْ قُلْتَ هَذَا فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَی مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ وَآکُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثًا وَأَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابی بکر، یزید بن ہارون، عبدالعزیز ابن ابوسلمہ، وہب بن کیسان عبید بن عمیر لیثی، حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی ایک جنگل میں تھا کہ اس نے بادلوں سے ایک آواز سنی کہ فلاں باغ کو پانی لگاؤ تو پھر ایک بادل ایک طرف چلا اور اس نے ایک پتھریلی زمین پر بارش برسائی اور وہاں نالیوں میں سے ایک نالی بھر گئی وہ آدمی برستے ہوئے پانی کے پیچھے پیچھے گیا اچانک اس نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنے باغ میں کھڑا ہو اپنے پھاوڑے سے پانی ادھر ادھر کر رہا ہے اس آدمی نے باغ والے آدمی سے کہا اے اللہ کے بندے تیرا نام کیا ہے اس نے کہا فلاں اور اس نے وہی نام بتایا کہ جو اس نے بادلوں میں سنا تھا پھر اس باغ والے آدمی نے اس سے کہا تو نے میرا نام کیوں پوچھا ہے اس نے کہا میں نے ان بادلوں میں سے جس سے یہ پانی برسا ہے ایک آواز سنی ہے کہ کوئی تیرا نام لے کر کہتا ہے کہ اس باغ کو سیراب کر، تم اس باغ میں کیا کرتے ہو اس نے کہا جب تو نے یہ کہا ہے کہ تو سنو میں اس باغ میں پیداوار پر نظر رکھتا ہوں اور اس میں سے ایک تہائی صدقہ خیرات کرتا ہوں اور ایک تہائی اس میں سے میں اور میرے گھر والے کھاتے ہیں جبکہ ایک تہائی میں اسی باغ میں لگا دیتا ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported: While a person was in the wilderness he heard a voice from the cloud (commanding it thus): Irrigate the garden of so and so. (After that the clouds slinked aside and poured water on a stony ground. It filled a channel amongst the channels of that land and that person followed that water and he found a person standing in the garden busy in changing the course of water with the help of a hatchet. He said to him: Servant of Allah, what is your name? he said: So and so. And it was that very name which he had heard from the clouds. and he said to him: Servant of Allah, why do you ask me my name? He said: I heard a voice from the clouds of which it is the downpour, saying: Water the garden of so and so, like your name. What do you do (for the favour) shown to you by Allah in this matter? He said: Now as you state so. I look what yield I get from it, and I give one-third as charity out of it and I and my children eat one-third of it and one-third I return to it as investment.
مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرنے کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ کَيْسَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَأَجْعَلُ ثُلُثَهُ فِي الْمَسَاکِينِ وَالسَّائِلِينَ وَابْنِ السَّبِيلِ
احمد بن عبدہ ضبی، ابوداؤد، عبدالعزیز بن ابوسلمہ، عبید ابن عمیر لیثی، ابوہریرہ ؓ حضرت وہب بن کیسان روایت بیان کرتے ہیں سوائے اس کے کہ اس میں اس نے کہا اس میں سے ایک تہائی مسکینوں مانگنے والوں اور مسافروں پر صدقہ کرتا ہوں۔
This hadith has been narrated on the authority of Wahb bin Kaisan with the same chain of transmitters but with this change that he said: "I earmark one-third for the poor, the needy and the wayfarers."
ریا کاری (دکھلاوے) کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَا أَغْنَی الشُّرَکَائِ عَنْ الشِّرْکِ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَکَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَکْتُهُ وَشِرْکَهُ
زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، روح بن قاسم، علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ میں شرک والوں کے شرک سے بےپرواہوں جو آدمی میرے لئے کوئی ایسا کام کرے کہ جس میں میرے علاوہ کوئی میرا شریک ہو تو میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as stating that Allah the Most High and Exalted said: I am the One Who does not stand in need of a partner. If anyone does anything in which he associates anyone else with Me, I shall abandon him with one whom he associates with Allah.
ریا کاری (دکھلاوے) کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ رَائَی رَائَی اللَّهُ بِهِ
عمر بن حفص ابن غیاث، ابی اسماعیل بن سمیع، مسلم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی لوگوں کو سنانے کے لئے کوئی کام کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ذلت لوگوں کو سنائے گا اور جو آدمی لوگوں کے دکھاوے کے لئے کوئی کام کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ریاکاروں کی سزا دے گا۔
Ibn Abbas (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If anyone wants to have his deeds widely publicised, Allah will publicise (his humiliation). And if anyone makes a hypocritical display (of his deeds) Allah will make a display of him.