دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ غَزْوَانَ يَقُولُا لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا طَعَامُنَا إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ حَتَّی قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا
ابو کریب محمد بن علاء، وکیع، قرہ بن خالد، حمید بن ہلال، حضرت خالد بن عمیر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عتبہ بن غزوان سے سنا وہ کہتے ہیں کہ مجھے کیا دیکھتا ہے میں تو ان ساتوں میں سے سا تو اں ہوں کہ جو نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہمارے پاس کھانے کے لئے سوائے حبلہ درخت کے پتوں کے اور کچھ نہ تھا یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں۔
Khalid bin Umair reported: I heard Uqba bin Ghazwan as saying: I found myself as the seventh amongst the seven who had been along with Allahs Messenger ﷺ . We had nothing to eat but the leaves of hubla (a wild tree) until the corners of our mouths were injured.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَی رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ قَالُوا لَا قَالَ فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ قَالُوا لَا قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّکُمْ إِلَّا کَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا قَالَ فَيَلْقَی الْعَبْدَ فَيَقُولُ أَيْ فُلْ أَلَمْ أُکْرِمْکَ وَأُسَوِّدْکَ وَأُزَوِّجْکَ وَأُسَخِّرْ لَکَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ وَأَذَرْکَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ فَيَقُولُ بَلَی قَالَ فَيَقُولُ أَفَظَنَنْتَ أَنَّکَ مُلَاقِيَّ فَيَقُولُ لَا فَيَقُولُ فَإِنِّي أَنْسَاکَ کَمَا نَسِيتَنِي ثُمَّ يَلْقَی الثَّانِيَ فَيَقُولُ أَيْ فُلْ أَلَمْ أُکْرِمْکَ وَأُسَوِّدْکَ وَأُزَوِّجْکَ وَأُسَخِّرْ لَکَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ وَأَذَرْکَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ فَيَقُولُ بَلَی أَيْ رَبِّ فَيَقُولُ أَفَظَنَنْتَ أَنَّکَ مُلَاقِيَّ فَيَقُولُ لَا فَيَقُولُ فَإِنِّي أَنْسَاکَ کَمَا نَسِيتَنِي ثُمَّ يَلْقَی الثَّالِثَ فَيَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِکَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ آمَنْتُ بِکَ وَبِکِتَابِکَ وَبِرُسُلِکَ وَصَلَّيْتُ وَصُمْتُ وَتَصَدَّقْتُ وَيُثْنِي بِخَيْرٍ مَا اسْتَطَاعَ فَيَقُولُ هَاهُنَا إِذًا قَالَ ثُمَّ يُقَالُ لَهُ الْآنَ نَبْعَثُ شَاهِدَنَا عَلَيْکَ وَيَتَفَکَّرُ فِي نَفْسِهِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ فَيُخْتَمُ عَلَی فِيهِ وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ وَلَحْمِهِ وَعِظَامِهِ انْطِقِي فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِعَمَلِهِ وَذَلِکَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ وَذَلِکَ الْمُنَافِقُ وَذَلِکَ الَّذِي يَسْخَطُ اللَّهُ عَلَيْهِ
محمد بن ابی عمر، سفیان، سہیل بن ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ نے فرمایا کیا تمہیں دوپہر کے وقت میں جبکہ کوئی بادل نہ ہو سورج کے دیکھنے میں کوئی مشقت ہوتی ہے؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا نہیں! آپ نے فرمایا کیا تمہیں چودہویں رات کے چاند کے دیکھنے میں جبکہ بادل نہ ہوں کوئی مشقت ہوتی ہے؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ تم لوگوں کو اپنے رب کے دیکھنے میں کسی قسم کا حجاب نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ جتنا تمہیں سورج اور چاند میں سے کسی ایک کے دیکھنے میں حجاب ہوتا ہے آپ نے فرمایا پھر اس کے بعد اللہ اپنے بندوں سے ملاقات کرے گا اور فرمائے گا اے فلاں کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی اور تجھے سردار نہیں بنایا اور تجھے جوڑا نہیں بنایا اور تیرے لئے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کئے اور کیا میں نے تجھے ریاست اور آرام کی حالت میں نہیں چھوڑا اور تو ان سے چوتھائی حصہ لیتا تھا وہ عرض کرے گا جی ہاں اے پروردگار اللہ عزوجل فرمائے گا کیا تو گمان کرتا تھا کہ تو مجھے سے ملاقات کرے گا وہ عرض کرے گا نہیں پھر اللہ عزوجل فرمائے گا کہ میں تجھے بھلا دیتا ہوں جس طرح کہ تو نے مجھے بھلا دیا تھا پھر اللہ تیسرے سے ملاقات کرے گا اور اللہ اسے بھی اسی طرح سے فرمائے گا وہ عرض کرے گا اے پروردگار میں تجھ پر اور تیری کتابوں پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا اور میں نے نماز پڑھی اور میں نے روزہ رکھا اور میں نے صدقہ و خیرات کیا اس سے جس قدر ہو سکے گی وہ اپنی نیکی کی تعریف کرے گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا تجھے ابھی تیری نیکیوں کا پتہ چل جائے گا آپ ﷺ نے فرمایا پھر اسے کہا جائے گا کہ ہم ابھی تیرے خلاف گواہ بھیجتے ہیں وہ اپنے دل میں غور وفکر کرے گا کہ کون ہے جو میرے خلاف گواہی دے پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران گوشت ہڈیوں سے کہا جائے گا بولو پھر اس کی رگ اور اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال کی گواہی دیتے ہوئے بولیں گے اور یہ سب اس وجہ سے ہوگا کہ کسی نفس کی طرف سے کوئی عذر قائم نہ ہو سکے گا اور یہ منافق آدمی ہوگا اور اس پر اللہ تعالیٰ اپنی ناراضگی کا اظہار فرمائے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported that they (the Companions of the Holy Prophet) said: Allahs Messenger, will we be able to see our Lord on the Day of Judgment? He said: Do you feel any difficulty in seeing the sun in the noon when there is no cloud over it? They said: No. He again said: Do you feel any difficulty in seeing the moon on the fourteenth night when there is no cloud over it? They said: No. Thereupon he said: By Allah Who is One in Whose Hand is my life, you will not face any difficulty in seeing your Lord but only so much as you feel in seeing one of them. Then Allah would sit in judgment upon the servant and would say: O, so and so, did I not honour you and make you the chief and provide you the spouse and subdue for you horses, camels, and offered you an opportunity to rule over your subjects? He would say: Yes. And then it would be said: Did you not think that you would meet Us? And he would say: No. Thereupon He (Allah) would say: Well, We forget you as you forgot Us. Then the second person would be brought for judgment and Allah would say: 0, so and so. Did We not honour you and make you the chief and make you pair and subdue for you horses and camels and offered you an opportunity to rule over your subjects? He would say: Yes, my Lord. And He (the Lord) would say: Did you not think that you would be meeting Us? And he would say: No. And then He (Allah) would say: Well, I forget you today as you forgot Us. Then the third one would be brought and He (Allah) would say to him as He said before. And he (the third person) would say: O, my Lord, I affirmed my faith in Thee and in Thy Book and in Thy Messenger and I observed prayer and fasts and gave charity, and he would speak in good terms like this as he would be able to do. And He (Allah) would say: Well, We will bring our witnesses to you. And the man would think in his mind who would bear witness upon him and then his mouth would be sealed and it would be said to his thighs, to his flesh and to his bones to speak and his thighs. flesh and bones would bear witness to his deeds and it would be done so that he should not be able to make any excuse for himself and he would be a hypocrite and Allah would be annoyed with him.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عُبَيْدٍ الْمُکْتِبِ عَنْ فُضَيْلٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِکَ فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَکُ قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَقُولُ يَا رَبِّ أَلَمْ تُجِرْنِي مِنْ الظُّلْمِ قَالَ يَقُولُ بَلَی قَالَ فَيَقُولُ فَإِنِّي لَا أُجِيزُ عَلَی نَفْسِي إِلَّا شَاهِدًا مِنِّي قَالَ فَيَقُولُ کَفَی بِنَفْسِکَ الْيَوْمَ عَلَيْکَ شَهِيدًا وَبِالْکِرَامِ الْکَاتِبِينَ شُهُودًا قَالَ فَيُخْتَمُ عَلَی فِيهِ فَيُقَالُ لِأَرْکَانِهِ انْطِقِي قَالَ فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ قَالَ ثُمَّ يُخَلَّی بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْکَلَامِ قَالَ فَيَقُولُ بُعْدًا لَکُنَّ وَسُحْقًا فَعَنْکُنَّ کُنْتُ أُنَاضِلُ
ابوبکر بن نضر بن ابی نضر، ابونضر، ہاشم بن قاسم، عبیداللہ، سفیان ثوری، عبیدالمکتب، فضیل، شعبی، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ ہنسے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں کس وجہ سے ہنسا ہوں حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا میں بندے کی اس بات سے ہنسا ہوں کہ جو وہ اپنے رب سے کرے گا وہ بندہ عرض کرے گا اے پروردگار کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی آپ ﷺ نے فرمایا اللہ فرمائے گا ہاں آپ ﷺ نے فرمایا پھر بندہ عرض کرے گا میں اپنے اوپر اپنی ذات کے علاوہ کسی کی گواہی کو جائز نہیں سمجھتا آپ ﷺ نے فرمایا پھر اللہ فرمائے گا کہ آج کے دن تیرے اوپر تیری ہی ذات کی گوہی اور کراما کا تبین کی گواہی کفایت کر جائے گی آپ نے فرمایا پھر اس بندے کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے دیگر اعضاء کو کہا جائے گا کہ بولیں آپ ﷺ نے فرمایا اس کے اعضاء اس کے سارے اعمال بیان کریں گے آپ ﷺ نے فرمایا پھر بندہ اپنے اعضاء سے کہے گا دور ہوجاؤ چلو دور ہوجاؤ میں تمہاری طرف سے ہی تو جھگڑا کر رہا تھا۔
Anas bin Malik (RA) reported: We were in the company of Allahs Messenger ﷺ that he smiled and said: Do you know why I laughed? We said: Allah and His Messenger, know best. Thereupon he said: It was because of the (fact that there came to my mind) the talk which the servant would have with his Lord (on the Day of Judgment). He would say: My Lord, have you not guaranteed me protection against injustice? He would say: Yes. Then the servant would say: I do not deem valid any witness against me but my own self, and He would say: Well, enough would be the witness of your self against you and that of the two angels who had been appointed to record your deeds. Then the seal would be set upon his mouth and it would be said to his hands and feet to speak and they would speak of his deeds. Then the mouth would be made free to talk, he would say (to the hands and feet): Be away, let there be curse of Allah upon you. It was for your safety that I contended.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا
زہیر بن حرب، محمد بن فضیل، عمارہ بن قعقاع، ابن زرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ محمد کی آل کو بقدر کفایت رزق عطا فرما۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: O Allah, make for the family of Muhammad the provision which is a bare subsistence.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا وَفِي رِوَايَةِ عَمْرٍو اللَّهُمَّ ارْزُقْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابوکریب، وکیع، اعمش، عمارہ ابن قعقاع، ابی، زرعہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ محمد کی آل کو بقدر کفایت رزق عطا فرما دے عمرو کی روایت میں اللَّهُمَّ اجْعَلْ کی بجائے اللَّهُمَّ رِزْقَ ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: O Allah, provide for the family of Muhammad their subsistence, and in the narration transmitted on the authority of Amr (the words are): "O Allah, provide us subsistence"
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ذَکَرَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ کَفَافًا
ابوسعید اشج، ابواسامہ، اعمش، حضرت عمارہ بن قعقاع سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور اس روایت میں آپ ﷺ نے قُوتًا کی بجائے کَفَافًا کا لفظ فرمایا ہے۔
Umara bin al-Qaqa reported this hadith with the same chain of transmitters but instead of the word "qut" (bare subsistence) there has been used the word "Kafaf" (adequate means to meet the needs).
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتَّی قُبِضَ
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، منصور، ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جس وقت سے آل محمد مدینہ منورہ آئے کبھی بھی لگاتار تین راتیں گیہوں کی روٹی سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا یہاں تک کہ آپ ﷺ اس فانی دنیا سے رخصت فرما گئے۔
Aisha reported: Never had the family of Muhammad ﷺ eaten to the fill since their arrival in Madinah with the bread of wheat for three successive nights until his (Holy Prophets) death.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّی مَضَی لِسَبِيلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، ابومعاویہ، اعمش ؓ ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کبھی بھی لگاتار تین دن تک گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے یہاں تک کہ آپ اس فانی دنیا سے رحلت فرما گئے۔
Aisha reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Never did Allahs Messenger ﷺ eat to his fill the bread of wheat for three successive days until he had run the course of his life.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ حَتَّی قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، عبدالرحمن بن یزید، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آل محمد کبھی لگاتار دو دن جو کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اس فانی دنیا سے رحلت فرما گئے۔
Aisha reported: Never did the family of Muhammad ﷺ eat to the fill the bread of barley for two successive days until Allahs Messenger ﷺ died.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ فَوْقَ ثَلَاثٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، عبدالرحمن ابن عباس ؓ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آل محمد کبھی بھی تین دن سے زیادہ گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے۔
Aisha reported: Never could the family of Muhammad ﷺ (afford to eat to the fill) the bread of wheat beyond three days (successively).
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ الْبُرِّ ثَلَاثًا حَتَّی مَضَی لِسَبِيلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، ہشام بن عروہ ؓ، سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آل محمد تین دن تک لگاتار گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے یہاں تک کہ اس فانی دنیا سے رحلت فرما گئے۔
Aisha reported: Never could the family of Muhammad ﷺ (afford to) eat the bread of wheat for three (successive) days until he ran the course of his life.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَيْنِ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ إِلَّا وَأَحَدُهُمَا تَمْرٌ
ابوکریب، وکیع، حفص بن غیاث، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آل محمد دو دنوں تک گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے سوائے اس کے کہ صرف ایک کھجور ہی ہوتی تھی۔
Aisha reported: Never could the family of Muhammad ﷺ (afford to eat) the bread of wheat for two days successively. Even (out of these two days) one was such wherein he could get only a date.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ وَيَحْيَی بْنُ يَمَانٍ حَدَّثَنَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ کُنَّا آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَمْکُثُ شَهْرًا مَا نَسْتَوْقِدُ بِنَارٍ إِنْ هُوَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْمَائُ
عمرو ناقد، عبدہ بن سلیمان، یحییٰ بن یمان، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم آل محمد کا یہ حال تھا کہ ہمارے ہاں مہینہ مہینہ بھر تک آگ نہیں جلتی تھی بلکہ صرف کھجور اور پانی پر ہی گزر بسر ہوتی تھی۔
Aisha reported: We the family of Muhammad ﷺ used to spend the whole month in which we did not need to kindle the fire as (we had nothing to cook); we had only dates and water (to fill our bellies).
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِنْ کُنَّا لَنَمْکُثُ وَلَمْ يَذْکُرْ آلَ مُحَمَّدٍ وَزَادَ أَبُو کُرَيْبٍ فِي حَدِيثِهِ عَنْ ابْنِ نُمَيْرٍ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَنَا اللُّحَيْمُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابواسامہ، ابن نمیر، حضرت ہشام بن عروہ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس روایت میں آل محمد کا ذکر نہیں ہے اور ابوکریب نے اپنی روایت میں یہ زیادتی بیان کی ہے کہ ابن نمیر سے روایت ہے کہ سوائے اس کے کہ کہیں سے ہمارے لئے گوشت آجاتا۔
This hadith has been narrated on the authority of Urwa with the same chain of transmitters (and the words are): "We used to spend" And he did not make a mention of the family of Muhammad ﷺ , and Abu Kuraib made this addition to his hadith which was transmitted on the authority of Ibn Numair (and the words are): "But this that there was brought to us some meat."
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ بْنِ کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ شَيْئٍ يَأْکُلُهُ ذُو کَبِدٍ إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي فَأَکَلْتُ مِنْهُ حَتَّی طَالَ عَلَيَّ فَکِلْتُهُ فَفَنِيَ
ابوکریب محمد بن علاء بن کریب، ابواسامہ، ہشام، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو میرے برتن میں سوائے تھوڑے سے جو کے کھانے کے لئے اور کچھ نہیں تھا میں اسی برتن میں بہت دنوں تک کھاتی رہی میں نے اس برتن کو ناپا تو اس میں سے جو ختم ہوگئے۔
Aisha reported that Allahs Messenger ﷺ died (in such a state) that there had been nothing in my wooden tub which a living being could afford to eat but a handful of barley therein. I had been eating out of that for a fairly long duration when I thought of measuring it and it was almost finished.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا کَانَتْ تَقُولُ وَاللَّهِ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنْ کُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَی الْهِلَالِ ثُمَّ الْهِلَالِ ثُمَّ الْهِلَالِ ثَلَاثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ وَمَا أُوقِدَ فِي أَبْيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ قَالَ قُلْتُ يَا خَالَةُ فَمَا کَانَ يُعَيِّشُکُمْ قَالَتْ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَائُ إِلَّا أَنَّهُ قَدْ کَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيرَانٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَکَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ فَکَانُوا يُرْسِلُونَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَلْبَانِهَا فَيَسْقِينَاهُ
یحییٰ بن یحیی، عبدالعزیز بن ابی حازم، یزید بن رومان، عروہ، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی تھیں اللہ کی قسم اے میرے بھتیجے ہم ایک چاند دیکھتے پھر دوسرا چاند دیکھتے پھر تیسرا چاند دیکھتے تو مہینوں میں تین چاند دیکھ لیتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے گھروں میں (اتنے عرصہ تک) آگ نہیں جلتی تھی حضرت عروہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے خالہ پھر آپ کسی طرح زندگی گزارتیں تھیں سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا کھجور اور پانی کے ساتھ سوائے اس کے کہ رسول اللہ ﷺ کے کچھ انصاری ہمسائے تھے اور ان کے دودھ والے جانور تھے وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف ان جانوروں کا دودھ بھیج دیتے تھے توہ دودھ آپ ہمیں پلا دیتے تھے۔
Aisha used to say to Urwa (RA) : Son of my sister, by Allah, I used to see the new moon, then the new moon, then the new moon, i. e. three moons in two months, and fire was not kindled in the house of Allahs Messenger ﷺ . I (Urwa) said: Auntie, then what were your means of sustenance? She said: Dates and water. But it (so happened) that Allahs Messenger ﷺ had some Ansar as his neighbours and they had milch animals and they used to send to Allahs Messenger ﷺ some milk of their (animals) and he served that to us.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَقَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا شَبِعَ مِنْ خُبْزٍ وَزَيْتٍ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ
ابوطاہر احمد، عبداللہ بن وہب، ابوصخر، یزید بن عبداللہ قسیط، ہارون بن سعید، ابن وہب، ابوصخر، ابن قسیط، عروہ بن زبیر ؓ، سیدہ عائشہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے اور آپ ﷺ نے ایک دن میں دو مرتبہ روٹی اور زیتون کا تیل تک سیر ہو کر نہیں کھائے۔
Urwa bin Zubair reported on the authority of Aisha, the wife of Allahs Apostle ﷺ , that she said: Allahs Messenger ﷺ died (in a state) that it never happened that he could eat to his fill the bread with olive oil twice during a day.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَکِّيُّ الْعَطَّارُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ ح و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيُّ عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعَ النَّاسُ مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَائِ
یحییٰ بن یحیی، داود بن عبدالرحمن مکی، منصور، ام منصور، حضرت عائشہ۔ سعید بن منصور، داؤد بن عبدالرحمن، عطاء، منصور بن عبدالرحمن، صفیہ، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو اس وقت صحابہ کرام کھجور اور پانی سے ہی سیر ہوتے تھے۔
Aisha reported this hadith through other chains of transmitters also (and the words are) that Allahs Messenger ﷺ died (in a state) when the people could afford to eat only the dates and water.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ الْمَائِ وَالتَّمْرِ
محمد بن مثنی، عبدالرحمن، سفیان، منصور بن صفیہ، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے اور ہم پانی اور کھجور سے ہی سیر ہوتے تھے۔
Aisha reported that Allahs Messenger ﷺ had died in a state that they could afford to eat two things only: water and dates.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ح و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ سُفْيَانَ وَمَا شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ
ابو کریب، اشجعی، نصر بن علی، ابواحمد، سفیان، حضرت سفیان سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ ان دونوں روایات میں ہے کہ ان دونوں چیزوں یعنی کھجور اور پانی سے بھی سیر نہیں ہوتے تھے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Sufyan and the words are: "We could not afford to eat to the fill even dates and water."