لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں
و قَالَ سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ بِمِثْلِ ذَلِکَ قَالَ فَقُلْتُ لِلرَّبِيعِ مِمَّنْ سَمِعْتَهُ قَالَ مِنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ فَأَتَيْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ فَقُلْتُ مِمَّنْ سَمِعْتُهُ قَالَ مِنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی قَالَ فَأَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَی فَقُلْتُ مِمَّنْ سَمِعْتُهُ قَالَ مِنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سلیمان بن ابوعامر عمر عبداللہ بن ابی سفر شعبی، حضرت ربیع بن خثیم ؓ سے بھی اسی طرح حدیث مروی ہے کہ ربیع نے کہا میں نے یہ حدیث حضرت عمر بن میمون سے سنی راوی کہتے ہیں کہ میں عمرو بن میمون کے پاس آیا اور ان سے پوچھا آپ نے کس سے یہ حدیث سنی انہوں نے کہا ابن ابی لیلی سے پھر میں ابن ابی لیلی کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ آپ نے کس سے سنا انہوں نے کہا میں نے حضرت ابوایوب انصاری سے سنا وہ اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Two are the expressions which are light on the tongue, but heavy in scale, dear to the Compassionate One: "Hallowed be Allah and praise is due to Him"; "Hallowed be Allah, the Great."
لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَی الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، زہیر بن حرب، ابوکریب، محمد بن طریف بجلی ابن فضیل عمارہ بن قعقاع ابی زرعہ حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں لیکن وزن میں بھاری ہیں اور رحمن کو محبوب ہیں (سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ )۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The uttering of (these words): "Hallowed be Allah; all praise is due to Allah, there is no god but Allah and Allah is the Greatest," is dearer to me than anything over which the sun rises.
لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ أَقُولَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ کہنا میرے نزدیک ہر اس چیز سے محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The uttering of (these words): "Hallowed be Allah; all praise is due to Allah, there is no god but Allah and Allah is the Greatest," is dearer to me than anything over which the sun rises.
لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ مُوسَی الْجُهَنِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُوسَی الْجُهَنِيُّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَائَ أَعْرَابِيٌّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلِّمْنِي کَلَامًا أَقُولُهُ قَالَ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ اللَّهُ أَکْبَرُ کَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ کَثِيرًا سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَکِيمِ قَالَ فَهَؤُلَائِ لِرَبِّي فَمَا لِي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي قَالَ مُوسَی أَمَّا عَافِنِي فَأَنَا أَتَوَهَّمُ وَمَا أَدْرِي وَلَمْ يَذْکُرْ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَ مُوسَی
ابوبکر بن ابی شبیہ، علی بن مسہر، ابن نمیر، موسیٰ جہنی، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی موسیٰ جہنی، مصعب بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا مجھے ایسا کلام سکھائیں جسے میں پڑھتا رہوں آپ نے فرمایا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ اللَّهُ أَکْبَرُ کَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ کَثِيرًا سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَکِيمِ پڑھا کر اس نے عرض کیا یہ سارے کلمات تو میرے رب کے لئے ہیں میرے لئے کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا (اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي) اے اللہ مجھے معاف فرما اور رحم فرما اور ہدایت عطا فرما اور رزق عطا فرما کہہ اور راوی کہتے ہیں عَافِنِی کے بارے میں مجھے وہم ہے کہ وہ ابن ابی شبیہ نے کہا تھا یا نہیں۔
Musab bin Sad reported on the authority of his father that a desert Arab came to Allahs Messenger ﷺ and said to him: Teach me the words which I should (often) utter. He said: Utter, "There is no god but Allah, the One, having no partner with Him. Allah is the Greatest of the great and all praise is due to Him. Hallowed be Allah, the Lord of the worlds, there is no Might and Power but that of Allah, the All-Powerful and the Wise." He (that desert Arab) said: These all (glorify) my Lord. But what about me? Thereupon he (the Holy Prophet) said: You should say: "O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, direct me to righteousness and provide me sustenance." Musa (one of the narrators) said: I think he also said: "Grant me safety." But I cannot say for certain whether he said this or not. Ibn Abi Shaiba has not made a mention of the words of Musa in his narration.
لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ مَنْ أَسْلَمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي
ابوکامل جحدری عبدالواحد ابن زیاد حضرت ابومالک اشجعی ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ہر مسلمان ہونے والے آدمی کو (اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي) سکھاتے تھے۔
Abu Malik Ashajai reported on the authority of his father that whenever a person embraced Islam, Allahs Messenger ﷺ instructed him to recite: "O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, direct me to the path of righteousness and provide me sustenance."
لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَزْهَرَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَسْلَمَ عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي
سعید بن ازہر واسطی ابومعاویہ حضرت ابومالک اشجعی ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں جب کوئی مسلمان ہوتا تو نبی ﷺ اسے نماز سکھاتے پھر اسے حکم کرتے کہ وہ ان کلمات سے دعا مانگے (اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي)۔
Abu Malik reported on the authority of his father that when a person embraced Islam, Allahs Messenger ﷺ used to teach him how to observe prayer and then commanded him to supplicate in these words: "O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, direct me to the path of righteousness, grant me protection and provide me sustenance."
لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي وَيَجْمَعُ أَصَابِعَهُ إِلَّا الْإِبْهَامَ فَإِنَّ هَؤُلَائِ تَجْمَعُ لَکَ دُنْيَاکَ وَآخِرَتَکَ
زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، حضرت ابومالک اشجعی ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سنا اور ایک آدمی نے آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول جب میں اپنے رب سے دعا کروں تو کیسے کہوں آپ ﷺ نے فرمایا (اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي) کہہ اور آپ نے اپنے انگوٹھے کے سوا باقی انگلیاں جمع کیں کیونکہ یہ کلمات تیری دنیا اور آخرت کے لئے جامع ہیں۔
Abu Malik reported on the authority Of his father that he heard Allahs Messenger ﷺ as saying to the person who bad come to him and asked him as to how he should beg his Lord, that he should utter these words: "O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, protect me, provide me sustenance," and he collected his fingers together except his thumb and said: It is in these words (that there is supplication) which sums up for you (the good) of this world and that of the Hereafter.
لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ وَعَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ مُوسَی الْجُهَنِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُوسَی الْجُهَنِيُّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيَعْجِزُ أَحَدُکُمْ أَنْ يَکْسِبَ کُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ کَيْفَ يَکْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ قَالَ يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ فَيُکْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ أَوْ يُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، مروان، علی بن مسہر، موسیٰ جہنی، محمد بن عبداللہ بن نمیر، مصعب بن سعد اپنے والد حضرت سعد ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی ہر دن ہزار نیکیاں کرنے سے عاجز ہے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر صحابہ کرام میں سے کسی پوچھنے والے نے پوچھا ہم میں کوئی آدمی ہزار نیکیاں کیسے کرسکتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جو آدمی سُبْحَانَ اللَّهِ سو مرتبہ پڑھتا ہے اس کے لئے ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا اس کی ہزار خطائیں مٹا دی جاتی ہیں۔
Musab bin Sad reported that his father told him that he had been in the company of Allahs Messenger ﷺ that he said: Is one amongst you powerless to get one thousand virtues every day. Amongst those who had been sitting there, one asked: How one amongst us can get one thousand virtues every day? He said: Recite: "Hallowed be Allah" one hundred times for (by reciting them) one thousand virtues are recorded (to your credit) and one tbousand vices are blotted out.
تلاوت قرآن اور ذکر کے لئے اجتماع کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ کُرْبَةً مِنْ کُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ کُرْبَةً مِنْ کُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَی مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ وَمَنْ سَلَکَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَی الْجَنَّةِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ کِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّکِينَةُ وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمْ الْمَلَائِکَةُ وَذَکَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابوبکر بن ابی شبیہ محمد بن علاء ہمدانی یحییٰ بن یحییٰ ابومعاویہ اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے کسی مومن سے دنیا میں مصیبتوں کو دور کیا اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی مصیبتوں کو دور کرے گا اور جس نے تنگ دست پر آسانی کی اللہ اس پر دنیا میں اور آخرت میں آسانی کرے گا اور اللہ اس بندے کی مدد میں ہوتے ہیں جو اپنے بھائی کی مدد میں لگا ہوتا ہے اور جو ایسے راستے پر چلا جس میں علم کی تلاش کرتا ہو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ذریعہ جنت کا راستہ آسان فرما دیتے ہیں اور جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے اور اس کی تعلیم میں مصروف ہوتے ہیں ان پر سکینہ نازل ہوتی ہے اور رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ ان کا ذکر اپنے پاس موجود فرشتوں میں کرتے ہیں اور جس شخص کو اس کے اپنے اعمال نے پیچھے کردیا تو اسے اس کا نسب آگے نہیں بڑھا سکتا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who alleviates the suffering of a brother out of the sufferings of the world, Allah would alleviate his suffering from the sufferings of the Day of Resurrection, and he who finds relief for one who is hard pressed, Allah would make things easy for him in the Hereafter, and he who conceals (the faults) of a Muslim, Allah would conceal his faults in the world and in the Hereafter. Allah is at the back of a servant so long as the servant is at the back of his brother, and he who treads the path in search of knowledge, Allah would make that path easy, leading to Paradise for him and those persons who assemble in the house among the houses of Allah (mosques) and recite the Book of Allah and they learn and teach the Quran (among themselves) there would descend upon them the tranquillity and mercy would cover them and the angels would surround them and Allah makes a mention of them in the presence of those near Him, and he who is slow-paced in doing good deeds, his (high) descent does not make him go ahead.
تلاوت قرآن اور ذکر کے لئے اجتماع کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَاه نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَخَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ أَبِي أُسَامَةَ لَيْسَ فِيهِ ذِکْرُ التَّيْسِيرِ عَلَی الْمُعْسِرِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، نصر بن علی جہضمی ابواسامہ اعمش، ابی اوفیٰ ابی اسامہ ابوصالح اس سند سے بھی یہ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لیکن ابواسامہ کی حدیث میں تنگ دست پر آسانی کرنے کا ذکر موجود نہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.
تلاوت قرآن اور ذکر کے لئے اجتماع کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ أَنَّهُ قَالَ أَشْهَدُ عَلَی أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْکُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا حَفَّتْهُمْ الْمَلَائِکَةُ وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّکِينَةُ وَذَکَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ
محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق ابی مسلم حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے نبی ﷺ پر گواہی دیتے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو قوم بھی بیٹھ کر اللہ رب العزت کے ذکر میں مشغول ہوتی ہے فرشتے انہیں گھیر لتے ہیں اور رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور سکینہ ان پر نازل ہوتی ہے اور اللہ اپنے پاس والوں میں ان کا ذکر فرماتا ہے۔
Agharr Abi Muslim reported: I bear witness to the fact that both Abu Hurairah (RA) and Abu Said Khudri were present when Allahs Messenger may peace be upon him) said: The people do not sit but they are surrounded by angels and covered by Mercy, and there descends upon them tranquillity as they remember Allah, and Allah makes a mention of them to those who are near Him.
تلاوت قرآن اور ذکر کے لئے اجتماع کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
زہیر بن حرب، عبدالرحمن شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.
تلاوت قرآن اور ذکر کے لئے اجتماع کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَی حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ مَا أَجْلَسَکُمْ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْکُرُ اللَّهَ قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَکُمْ إِلَّا ذَاکَ قَالُوا وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاکَ قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْکُمْ تُهْمَةً لَکُمْ وَمَا کَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَی حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَجْلَسَکُمْ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْکُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَی مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ بِهِ عَلَيْنَا قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَکُمْ إِلَّا ذَاکَ قَالُوا وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاکَ قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْکُمْ تُهْمَةً لَکُمْ وَلَکِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِکُمْ الْمَلَائِکَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، مرحوم بن عبدالعزیز ابی نعامہ سعدی ابی عثمان حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ ؓ کا مسجد میں موجود ایک حلقہ کے پاس سے گزر ہوا تو کہا تم کو کس چیز نے بٹھایا ہے انہوں نے کہا ہم اللہ کے ذکر کے لئے بیٹھے ہیں انہوں نے کہا کیا تمہیں اللہ کی قسم صرف اسی بات نے بٹھایا ہوا ہے انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم صرف اسی لئے بیٹھے ہوئے ہیں حضرت معاویہ نے کہا میں نے تم سے قسم کسی بدگمانی کی وجہ سے نہیں لی اور میرے مقام و مرتبہ والا کوئی بھی آدمی رسول اللہ ﷺ سے مجھ سے کم حدیثوں کو بیان کرنے والا نہیں اور بیشک ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کرام کے ایک حلقے کی طرف تشریف لے گئے تو فرمایا تمہیں کس بات نے بٹھلایا ہوا ہے صحابہ نے عرض کیا ہم اللہ کا ذکر کرنے اور اس کی اس بات پر حمد کرنے کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور ہم پر اس کے ذریعہ احسان فرمایا آپ ﷺ نے فرمایا کیا اللہ کی قسم تمہیں اس بات کے علاوہ کسی بات نے نہیں بٹھایا صحابہ نے عرض کیا اللہ کی قسم ہم صرف اسی لئے بیٹھے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا میں تم سے قسم کسی بدگمانی کی وجہ سے نہیں اٹھوئی بلکہ میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے مجھے خبر دی کہ اللہ رب العزت تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کر رہا ہے۔
Abu Said Khudri reported that Muawiyah went to a circle in the mosque and said: What makes you sit here? They said: We are sitting here in order to remember Allah. He said: I adjure you by Allah (to tell me whether you are sitting here for this very purpose)? They said: By Allah, we are sitting here for this very purpose. Thereupon, he said: I have not demanded you to take an oath, because of any allegation against you and none of my rank in the eye of Allahs Messenger ﷺ is the narrator of so few ahadith as I am. The fact is that Allahs Messenger ﷺ went out to the circle of his Companions and said: What makes you sit? They said: We are sitting here in order to remember Allah and to praise Him for He guided us to the path of Islam and He conferred favours upon us. Thereupon he adjured by Allah and asked if that only was the purpose of their sitting there. They said: By Allah, we are not sitting here but for this very purpose, whereupon he (the Messenger) said: I am not asking you to take an oath because of any allegation against you but for the fact that Gabriel (علیہ السلام) came to me and he informed me that Allah, the Exalted and Glorious, was talking to the angels about your magnificence.
استغناء کی کثرت کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ وَکَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَی قَلْبِي وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ
یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، ابوربیع عتکی حماد یحییٰ حماد بن زید ثابت حضرت اغر مزنی صحابی رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے دل پر (کبھی کبھی) غفلت آجاتی ہے اسی وجہ سے میں دن میں سو مرتبہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔
Al-Agharr al-Muzani, who was one amongst the Companions (of the Holy Prophet) reported that Allahs Messenger ﷺ said: There is (at times) some sort of shade upon my heart, and I seek forgiveness from Allah a hundred times a day.
استغناء کی کثرت کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَغَرَّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَی اللَّهِ فَإِنِّي أَتُوبُ فِي الْيَوْمِ إِلَيْهِ مِائَةَ مَرَّةٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر شعبہ، عمرو بن مرہ نبی ﷺ کے صحابہ کرام میں سے حضرت اغر سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو اللہ سے توبہ کرو کیونکہ میں دن میں سو مرتبہ اس (اللہ عزَّوجَلّ ) سے توبہ کرتا ہوں۔
Al-Agharr al-Muzani who was from amongst the Companions of Allahs Apostle ﷺ reported that Ibn Umar stated to him that Allahs Messenger ﷺ said: O people, seek repentance from Allah. Verily, I seek repentance from Him a hundred times a day.
استغناء کی کثرت کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ
عبیداللہ بن معاذ ابن مثنی ابوداؤد عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.
استغناء کی کثرت کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد سلیمان بن حیان ابن نمیر، اشج حفص ابن غیاث ہشام ابوخیثمہ زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ہشام بن حسان محمد بن سیرین حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے سورج کی مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے پہلے توبہ کرلی تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلیں گے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who seeks repentance (from the Lord) before the rising of the sun from the west (before the Day of Resurrection), Allah turns to him with Mercy.
آہستہ آواز سے ذکر کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُونَ بِالتَّکْبِيرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ إِنَّکُمْ لَيْسَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّکُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَکُمْ قَالَ وَأَنَا خَلْفَهُ وَأَنَا أَقُولُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّکَ عَلَی کَنْزٍ مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّةِ فَقُلْتُ بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن فضیل ابومعاویہ عاصم، ابی عثمان حضرت ابوموسی سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے صحابہ نے بلند آواز سے اَللّٰهُ أَکْبَرُ کہنا شروع کردیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اے لوگوں اپنی جانوں پر ترس کرو تم کسی غائب یا بہرے کو نہیں پکار رہے ہو بلکہ تم سننے والے اور قریب والے کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے اور میں اس وقت آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ پڑھ رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے عبداللہ بن قیس کیا تمہیں جنت کے خزانوں میں سے خزانہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول آپ نے فرمایا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ کہو۔
Abu Musa reported: We were along with Allahs Apostle ﷺ on a journey when the people began to pronounce Allah-o-Akbar in a loud voice. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: O people, show mercy to yourselves for you are not calling One Who is deaf or absent. Verily, you are calling One Who is All-Hearing (and) Near to you and is with you. Abu Musa told that he had been behind him (the Holy Prophet) and reciting: "There is neither might nor power but that of Allah." He (the Holy Prophet), while addressing Abdullah bin Qais (RA) , said: Should I not direct you to a treasure from amongst the treasurers of Paradise? I (Abdullah bin Qais (RA) ) said: Allahs Messenger, do it, of course. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Then recite: "There is no might and no power but that of Allah."
آہستہ آواز سے ذکر کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ جَمِيعًا عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، ابو سعید اشج حفص بن غیاث عاصم، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Asim with the same chain of transmitters.
آہستہ آواز سے ذکر کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَی أَنَّهُمْ کَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَصْعَدُونَ فِي ثَنِيَّةٍ قَالَ فَجَعَلَ رَجُلٌ کُلَّمَا عَلَا ثَنِيَّةً نَادَی لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ قَالَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکُمْ لَا تُنَادُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا قَالَ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَی أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّکَ عَلَی کَلِمَةٍ مِنْ کَنْزِ الْجَنَّةِ قُلْتُ مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
ابوکامل فضیل بن حسین یزید بن زریع تیمی ابی عثمان حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک گھاٹی پر چڑھ رہے تھے ایک شخص نے ہر گھاٹی پر چڑھتے ہوئے بلند آواز سے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ کہنا شروع کردیا تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا تم بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو پھر اے ابوموسی یا اے عبداللہ بن قیس فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں جنت کے خزانے کی خبر نہ دوں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ کونسا ہے آپ ﷺ نے فرمایا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔
Abu Musa reported that he (and his other companions) were climbing upon the hillock along with Allahs Messenger ﷺ and when any person climbed up, he pronounced (loudly): "There is no god but Allah, Allah is the Greatest." Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Verily, you are not supplicating One Who is deaf or absent. He said: Abu Musa or Abdullah b Qais, should I not direct you to the words (which form) the treasure of Paradise? I said: Allahs Messenger, what are these? He said: "There is no might and no power but that of Allah."