جو اللہ کے ملنے کو پسند کرے اللہ کے اس کو ملنے کے پسند کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ عَامِرٍ حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، زکریا، عامر شریح بن ہانی سیدہ عائشہ ؓ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح ارشاد فرمایا۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Aisha through another chain of transmitters.
جو اللہ کے ملنے کو پسند کرے اللہ کے اس کو ملنے کے پسند کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ لِقَائَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَائَهُ وَمَنْ کَرِهَ لِقَائَ اللَّهِ کَرِهَ اللَّهُ لِقَائَهُ قَالَ فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْکُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا إِنْ کَانَ کَذَلِکَ فَقَدْ هَلَکْنَا فَقَالَتْ إِنَّ الْهَالِکَ مَنْ هَلَکَ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا ذَاکَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ لِقَائَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَائَهُ وَمَنْ کَرِهَ لِقَائَ اللَّهِ کَرِهَ اللَّهُ لِقَائَهُ وَلَيْسَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا وَهُوَ يَکْرَهُ الْمَوْتَ فَقَالَتْ قَدْ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ بِالَّذِي تَذْهَبُ إِلَيْهِ وَلَکِنْ إِذَا شَخَصَ الْبَصَرُ وَحَشْرَجَ الصَّدْرُ وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ وَتَشَنَّجَتْ الْأَصَابِعُ فَعِنْدَ ذَلِکَ مَنْ أَحَبَّ لِقَائَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَائَهُ وَمَنْ کَرِهَ لِقَائَ اللَّهِ کَرِهَ اللَّهُ لِقَائَهُ
سعید بن عمرو اشعثی عبثر مطرف عامر شریح بن ہانی حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ سے ملاقات کرنے کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملاقات کرنے کو پسند کرتا ہے اور جسے اللہ کی ملاقات پسند نہ ہو اللہ بھی اس سے ملاقات کرنے کو ناپسند کرتا ہے شریح بن ہانی کہتے ہیں میں سیدہ عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا اے ام المومنین میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنا وہ رسول اللہ ﷺ سے حدیث روایت کرتے ہیں کہ اگر واقعتا ایسا ہی ہے تو ہم ہلاک ہوگئے سیدہ نے کہا جو رسول اللہ کے قول سے ہلاک ہوگیا وہ واقعتا ہلاک ہونے والا ہے وہ حدیث کیا ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرے اللہ بھی اس سے ملاقات کرنے کو پسند کرتا ہے اور ہم میں سے ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے تو سیدہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فرمایا تھا لیکن اس کا مطلب وہ نہیں جس کی طرف تم چلے گئے ہو بلکہ جب آنکھیں پھٹ جائیں اور سینہ میں دم گھنٹے لگے اور رونگٹے کھڑے ہوجائیں اور انگلیاں اکڑ جائیں پس اس وقت جو اللہ سے ملاقات کرنے کو پسند کرے اللہ بھی اس سے ملاقات کرنے کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملاقات کرنے کو ناپسند کرے اللہ بھی اس سے ملاقات کرنے کو پسند نہیں کرتا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who loves meeting Allah, Allah loves to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah abhors to meet him. I (Shuraih bin Hani, one of the narrators) came to Aisha and said to her: Mother of the faithful, I heard Abu Hurairah (RA) narrate from Allahs Messenger ﷺ which, if it is actually so, is a destruction to us. Thereupon she said: Those are in fact ruined who are ruined at the words of Allahs Messenger ﷺ . What are (the words which in your opinion would cause your destruction)? He said that Allahs Messenger ﷺ had stated: He who loves to meet Allah, Allah too loves to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah too abhors to meet him, and there is none amongst us who does not hate death. Thereupon she said: Allahs Messenger ﷺ has in fact stated this, but it does not mean what you construe, but it implies (the time) when one loses the lustre of the eye, and there is rattling in the throat, shudder in the body and convulsion in fingers (at the time of death). (It is about this time) that it has been said: He who loves to meet Allah, Allah would love to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah would abhor to meet him
جو اللہ کے ملنے کو پسند کرے اللہ کے اس کو ملنے کے پسند کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنِي جَرِيرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْثَرٍ
اسحاق بن ابراہیم جریر، مطرف اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Mutarrif with the same chain of transmitters.
جو اللہ کے ملنے کو پسند کرے اللہ کے اس کو ملنے کے پسند کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوعامر اشعری، ابوکریب، ابواسامہ، یزید، ابوبردہ، ابوموسی اشعری نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو اللہ سے ملاقات کرنے کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملاقات کرنے کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملاقات کرنے کو پسند نہ کرے اللہ بھی اس سے ملاقات کرنے کو پسند نہیں کرتا
Abu Musa reported Allahs Apostle ﷺ as saying: He who loves to meet Allah, Allah too loves to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah abhors to meet him.
ذکر دعا اور اللہ کے تقرب کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي
ابوکریب محمد بن علاء، وکیع، جعفر بن برقان یزید بن اصم حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے بندے سے اپنے بارے میں گمان کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying that Allah thus stated: I live in the thought of My servant as he thinks of Me and with him as he calls Me.
ذکر دعا اور اللہ کے تقرب کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ وَهُوَ التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَقَرَّبَ عَبْدِي مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا أَوْ بُوعًا وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً
محمد بن بشار، ابن عثمان عبدی یحییٰ ابن سعید ابن ابی عدی، سلیمان انس بن مالک، حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ رب العزت نے فرمایا جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور وہ جب ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں چار ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں (میری رحمت) دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying that Allah, the Exalted and Glorious, said: When My servant draws close to Me by the span of a palm, I draw close to him by the cubit and when he draws close to Me by the cubit, I draw close to him by the space (covered) by two hands, and when he draws close to Me by the space (covered) by two hands, I go in hurry towards him.
ذکر دعا اور اللہ کے تقرب کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الْقَيْسِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ إِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً
محمد بن عبدالاعلی قیسی معتمر اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس روایت میں جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں مذکور نہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Mutamar from his father with the same chain of transmitters, with a slight variation of wording.
ذکر دعا اور اللہ کے تقرب کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْکُرُنِي فَإِنْ ذَکَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَکَرْتُهُ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَکَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَکَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُ وَإِنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَإِنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابی کریب ابومعاویہ اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ رب العزت فرماتا ہے میں اپنے بندے سے اس کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اور اگر وہ مجھ دل میں یاد کرے میں بھی اسے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے گروہ میں یاد کرے میں اسے اس سے بہتر گروہ میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں چار ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کے پاس آتا ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying that Allah, the Exalted and Glorious, thus stated: I live in the thought of My servant as he thinks about Me, and I am with him, as he remembers Me And if he remembers Me in his heart, I also remember him in My Heart, and if he remembers Me in assembly I remember him in the assembly, better than he (does that), and if he draws near Me by the span of a palm I draw near him by the cubit, and if he draws near Me by the cubit I draw near him by the space (covered by) two hands. And it he walks towards Me, I rush towards him.
ذکر دعا اور اللہ کے تقرب کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ جَائَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيدُ وَمَنْ جَائَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاؤُهُ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً لَا يُشْرِکُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً قَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ
ابوبکر بن ابی شبیہ وکیع، اعمش، معرور بن سوید حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ جو ایک نیکی لائے گا اسے اس کی دس مثل ثواب ہوگا اور میں اور زیادہ اجر عطا کروں گا اور جو برائی لائے گا تو اس کا بدلہ اسی کی مثل ہوگا یا میں اسے معاف کر دوں گا اور جو مجھ سے ایک بالشت قریب ہوگا میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوں گا اور جو مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوگا میں چار ہاتھ اس کے قریب ہوں گا جو میرے پاس چل کر آئے گا میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں اور جس نے تمام زمین کے برابر گناہ لے کر مجھ سے ملاقات کی بشرطیکہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرتا ہو تو میں اس سے اسی کی مثل مغفرت کے ساتھ ملاقات کرتا ہوں۔
Abu Dharr (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying that Allah, the Exalted and Glorious, stated: "He who comes with goodness, there are in store for him ten like those and even more than those: And he who comes with vice, it is only for that that he is called to account. I even forgive him (as I like) and he who draws close to Me by the span of a palm I draw close to him by the cubit, and he who draws close to Me by the cubit I draw close to him by the space (covered) by two hands, and he who walks towards Me I rush towards him, and he who meets Me in the state that his sins fill the earth, but not associating anything with Me, I would meet Him with the same (vastness) of pardon (on My behalf). "This hadith has been transmitted on the authority of Waki.
ذکر دعا اور اللہ کے تقرب کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ
ابو کریب، ابومعاویہ، اعمش ؓ اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے فرق صرف یہ ہے کہ فرمایا اس کے لئے اس کی دس مثل ثواب ہوتا ہے اور میں زیادہ بھی عطا کرتا ہوں۔
A hadith like this has been transmitted on the authority of Amash with the same chain of transmitters and he (further) said: There is for him ten like that (the good he performed) or more than that.
دنیا میں ہی عذاب مانگنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَی الْحَسَّانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ قَدْ خَفَتَ فَصَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ کُنْتَ تَدْعُو بِشَيْئٍ أَوْ تَسْأَلُهُ إِيَّاهُ قَالَ نَعَمْ کُنْتُ أَقُولُ اللَّهُمَّ مَا کُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ لَا تُطِيقُهُ أَوْ لَا تَسْتَطِيعُهُ أَفَلَا قُلْتَ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قَالَ فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ
ابوخطاب زیاد بن یحییٰ حسانی محمد بن ابی عدی حمید ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے آدمی کی عیادت کی جو مرغ کے چوزہ کی طرح کمزور ہوچکا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو کسی چیز کی دعا مانگتا تھا یا اس سے کسی چیز کا سوال کرتا تھا اس نے عرض کیا جی ہاں میں کہتا تھا اے اللہ جو تو آخرت میں مجھے سزا دینے والا ہے اسے فورا دنیا میں ہی مجھے دے دے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ پاک ہے، نہ تو اس کی طاقت رکھتا ہے اور نہ استطاعت تو نے یہ کیوں نہ کہا اے اللہ ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا پھر آپ ﷺ اللہ نے اس کے لئے دعا مانگی پس اللہ نے شفاعت عطا فرما دی۔
Anas reported that Allahs Messenger ﷺ visited a person from amongst the Muslims in order to inquire (about his health) who had grown feeble like the chicken. Allahs Messenger ﷺ said: Did you supplicate for anything or beg of Him about that? He said: Yes. I used to utter (these words): Impose punishment upon me earlier in this world, what Thou art going to impose upon me in the Hereafter. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Hallowed be Allah, you have neither the power nor forbearance to take upon yourself (the burden of His Punishment). Why did you not say this: O Allah, grant us good in the world and good in the Hereafter, and save us from the torment of Fire. He (the Holy Prophet) made this supplication (for him) and he was all right.
دنیا میں ہی عذاب مانگنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَاه عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ وَلَمْ يَذْکُرْ الزِّيَادَةَ
عاصم، بن نضر تیمی خالد بن حارث، حمید اس سند سے بھی یہ حدیث وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ مروی ہے اور زیادتی مذکور نہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Humaid with the same chain of transmitters, but with a slight variation of wording.
دنیا میں ہی عذاب مانگنے کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَی رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُهُ وَقَدْ صَارَ کَالْفَرْخِ بِمَعْنَی حَدِيثِ حُمَيْدٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ لَا طَاقَةَ لَکَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَلَمْ يَذْکُرْ فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ
زہیر بن حرب، عفان حماد ثابت حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اصحاب میں سے ایک صحابی کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جو کہ چوزہ کی طرح کمزور ہوچکا تھا باقی حدیث حمید کی طرح ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تیرے لئے اللہ کے عذاب برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہے اور یہ مذکور نہیں کہ پھر آپ نے اس کے لئے اللہ سے دعا مانگی تو اللہ نے اسے شفاء عطا فرما دی۔
Anas reported that Allahs Messenger ﷺ visited a person from amongst his Companions who had grown as feeble as the chicken. The rest of the hadith is the same, but with this variation that he (the Holy Prophet) said: You have not power enough to undergo the torment imposed by Allah. And there is no mention of: He supplicated Allah for him and He cured him.
دنیا میں ہی عذاب مانگنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ
محمد بن مثنی، ابن بشار سالم بن نوح عطاء، سعید بن ابی عروبہ قتادہ، حضرت انس ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث مبارکہ روایت کی ہے۔
This hadith had been transmitted on the authority of Anas through another chain of narrators.
ذکر کی مجلسوں کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی مَلَائِکَةً سَيَّارَةً فُضُلًا يَتَتَبَّعُونَ مَجَالِسَ الذِّکْرِ فَإِذَا وَجَدُوا مَجْلِسًا فِيهِ ذِکْرٌ قَعَدُوا مَعَهُمْ وَحَفَّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِأَجْنِحَتِهِمْ حَتَّی يَمْلَئُوا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَائِ الدُّنْيَا فَإِذَا تَفَرَّقُوا عَرَجُوا وَصَعِدُوا إِلَی السَّمَائِ قَالَ فَيَسْأَلُهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ فَيَقُولُونَ جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادٍ لَکَ فِي الْأَرْضِ يُسَبِّحُونَکَ وَيُکَبِّرُونَکَ وَيُهَلِّلُونَکَ وَيَحْمَدُونَکَ وَيَسْأَلُونَکَ قَالَ وَمَاذَا يَسْأَلُونِي قَالُوا يَسْأَلُونَکَ جَنَّتَکَ قَالَ وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي قَالُوا لَا أَيْ رَبِّ قَالَ فَکَيْفَ لَوْ رَأَوْا جَنَّتِي قَالُوا وَيَسْتَجِيرُونَکَ قَالَ وَمِمَّ يَسْتَجِيرُونَنِي قَالُوا مِنْ نَارِکَ يَا رَبِّ قَالَ وَهَلْ رَأَوْا نَارِي قَالُوا لَا قَالَ فَکَيْفَ لَوْ رَأَوْا نَارِي قَالُوا وَيَسْتَغْفِرُونَکَ قَالَ فَيَقُولُ قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوا وَأَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا قَالَ فَيَقُولُونَ رَبِّ فِيهِمْ فُلَانٌ عَبْدٌ خَطَّائٌ إِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَهُمْ قَالَ فَيَقُولُ وَلَهُ غَفَرْتُ هُمْ الْقَوْمُ لَا يَشْقَی بِهِمْ جَلِيسُهُمْ
محمد بن حاتم بن میمون بہز وہیب سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے کچھ زائد فرشتے ایسے بھی ہیں جو پھرتے رہتے ہیں اور ذکر کی مجالس کو تلاش کرتے ہیں کہ جب وہ ایسی مجلس پالیتے ہیں جس میں ذکر ہو تو ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں یہاں تک کہ ان سے لے کر آسمان دنیا کے درمیان کا خلا بھر جاتا ہے پس جب وہ (اہل مجلس) متفرق ہوجاتے ہیں تو (یہ فرشتے آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں) اللہ رب العزت ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ بخوبی جانتا ہے کہ تم کہاں سے آئے ہو وہ عرض کرتے ہیں کہ ہم زمین میں تیرے بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح تکبیر تہلیل اور تعریف اور تجھ سے سوال کرنے میں مشغول تھے اللہ فرماتا ہے وہ مجھ سے کیا سوال کر رہے تھے وہ عرض کرتے ہیں وہ تجھ سے تیری جنت کا سوال کر رہے تھے اللہ فرماتا ہے کیا انہوں نے میری جنت کو دیکھا ہے وہ عرض کرتے ہیں نہیں اے میرے پروردگار، اللہ فرماتا ہے اگر وہ اس کو دیکھ لیتے تو ان کی کیا کیفیت ہوتی وہ عرض کرتے ہیں اور وہ تجھ سے پناہ بھی مانگ رہے تھے اللہ فرماتا ہے وہ مجھ سے کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے فرشتے عرض کرتے ہیں اے رب تیری جہنم سے اللہ فرماتا ہے کیا انہوں نے میری جہنم کو دیکھا ہے وہ عرض کرتے ہیں نہیں اللہ فرماتا ہے اگر وہ میری جہنم کو دیکھ لیتے تو ان کی کیا کیفیت ہوتی فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اور وہ تجھ سے مغفرت بھی مانگ رہے تھے تو اللہ فرماتا ہے کہ تحقیق میں نے معاف کردیا اور انہوں نے جو مانگا میں نے انہیں عطا کردیا اور میں نے انہیں پناہ دے دی جس سے انہوں نے پناہ مانگی فرشتے عرض کرتے ہیں اے رب ان میں فلاں بندہ گناہ گار ہے وہ وہاں سے گزرا تو ان کے ساتھ بیٹھ گیا تو اللہ فرماتا ہے میں نے اسے بھی معاف کردیا اور یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والے کو بھی محروم نہیں کیا جاتا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying Allah has mobile (squads) of angels, who have no other work (to attend to) but to follow the assemblies of Dhikr and when they find such assemblies in which there is Dhikr (of Allah) they sit in them and some of them surround the others with their wings till the space between them and the sky of the world is fully covered, and when they disperse (after the assembly of Dhikr is adjourned) they go upward to the heaven and Allah, the Exalted and Glorious, asks them although He is best informed about them: Where have you come from? They say: We come from Thine servants upon the earth who had been glorifying Thee (reciting Subhan Allah), uttering Thine Greatness (saying Allah o-Akbar) and uttering Thine Oneness (La ilaha ill Allah) and praising Thee (uttering al-Hamdu Lillah) and begging of Thee. Be would say: What do they beg of Me? They would say: They beg of Thee the Paradise of Thine. He (God) would say: Have they seen My Paradise? They said: No, our Lord. He would say: (What it would be then) if they were to see Mine Paradise? They (the angels) said: They seek Thine protection. He (the Lord) would say: Against what do they seek protection of Mine? They (the angels) would say: Our Lord, from the Hell-Fire. He (the Lord) would say: Have they seen My Fire? They would say: No. He (the Lord) would say: What it would be if they were to see My Fire? They would say: They beg of Thee forgiveness. He would say: I grant pardon to them, and confer upon them what they ask for and grant them protection against which they seek protection. They (the angels) would again say: Our Lord, there is one amongst them such and such simple servant who happened to pass by (that assembly) and sat there along with them (who had been participating in that assembly). He (the Lord) would say: I also grant him pardon, for they are a people the seat-fellows of whom are in no way unfortunate.
آپ ﷺ اکثر اوقات کون سی دعا مانگتے تھے ؟
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ قَالَ سَأَلَ قَتَادَةُ أَنَسًا أَيُّ دَعْوَةٍ کَانَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکْثَرَ قَالَ کَانَ أَکْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا يَقُولُ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قَالَ وَکَانَ أَنَسٌ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدَعْوَةٍ دَعَا بِهَا فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدُعَائٍ دَعَا بِهَا فِيهِ
زہیر بن حرب، اسماعیل ابن علیہ، حضرت عبدالعزیز ؓ سے روایت ہے کہ قتادہ نے حضرت انس ؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ اکثر اوقات کونسی دعا مانگا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا آپ ﷺ کی اکثر دعا جو آپ ﷺ مانگتے تھے وہ یہ تھی کہ اے اللہ ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرمایا اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا اور حضرت انس ؓ جب بھی کوئی دعا مانگتے تو ان الفاظ سے دعا کرتے اور جب کوئی اور دعا مانگنے کا ارادہ کرتے تو اس میں یہ دعا بھی مانگتے تھے۔
Qatada asked Anas which Supplication Allahs Apostle ﷺ frequently made. He said: The supplication that he (the Holy Prophet) made very frequently is this: "O Allah, grant us the good in this world and the good in the Hereafter and save us from the torment of Hell-Fire." He (Qatada) said that whenever Anas had to supplicate he made this very supplication, and whenever he (intended) to make another supplication he (inserted) this very supplication in that.
آپ ﷺ اکثر اوقات کون سی دعا مانگتے تھے ؟
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ، ثابت حضرت انس ؓ سے رایت ہے کہ رسول اللہ یہ دعا مانگتے تھے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ اے ہمارے پروردگار ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔
Anas reported that Allahs Messenger ﷺ used to supplicate (in these words): "Our Lord, grant us the good in this world and the good in the Hereafter and save us from the torment of Hell Fire."
لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ کَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ وَکُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ وَکَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنْ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِکَ حَتَّی يُمْسِيَ وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِمَّا جَائَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ وَمَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَلَوْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ
یحییٰ بن یحیی، مالک ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے دن میں سو مرتبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ پڑھا اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے اور اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کی سو برائیاں مٹائی جاتی ہیں اور اس دن شیطان سے حفاظت کا ذریعہ بن جاتا ہے یہاں تک کہ شام کرتا ہے اس حال میں کہ کوئی آدمی بھی اسے افضل عمل نہیں کرتا سوائے اس آدمی کے جس نے ان کلمات کو اس سے زیادہ مرتبہ پڑھا ہو اور جس نے سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ دن میں سو دفعہ پڑھا تو اس کی تمام خطائیں مٹا دی جاتی ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who uttered these words: "There is no god but Allah, the One, having no partner with Him. Sovereignty belongs to Him and all the praise is due to Him, and He is Potent over everything" one hundred times every day there is a reward of emancipating ten slaves for him, and there are recorded hundred virtues to his credit, and hundred vices are blotted out from his scroll, and that is a safeguard for him against the Satan on that day till evening and no one brings anything more excellent than this, except one who has done more than this (who utters these words more than one hundred times and does more good acts) and he who utters: "Hallowed be Allah, and all praise is due to Him," one hundred times a day, his sins are obliterated even if they are equal to the extent of the foam of the ocean.
لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَائَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ
محمد بن عبدالملک اموی عبدالعزیز بن مختار سہیل بن سمی ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی صبح و شام سو مرتبہ ( یہ دعا) پڑھتا ہے قیامت کے دن کوئی اس سے زیادہ افضل عمل نہیں لاسکتا سوائے اس کے جس نے اس کے برابر یا اس سے زیادہ پڑھا ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who recites in the morning and in the evening (these words): "Hallowed be Allah and all praise is due to Him" one hundred times, he would not bring on the Day of Resurrection anything excellent than this except one who utters these words or utters more than these words.
لا الہ الا اللہ، سبحان اللہ کہنے اور دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ حَدَّثَنَا عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مِرَارٍ کَانَ کَمَنْ أَعْتَقَ أَرْبَعَةَ أَنْفُسٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَعِيلَ
سلیمان بن عبیداللہ ابوایوب غیلانی ابوعامر عقدی عمر ابن ابی زائدہ ابواسحاق حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ جس نے دس مرتبہ (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ) پڑھا وہ ایسا ہے جیسا کہ اولاد اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے والا۔
Amr bin Maimun reported: He who uttered: "There is no god but Allah, the One, having no partner with Him, His is the Sovereignty and all praise is due to Him and He is Potent over everything" ten times, he is like one who emancipated four slaves from the progeny of Ismail. Rabi bin Khuthaim narrated a hadith like this. Shabi reported: I said to Rabi: From whom did you hear it? He said: From Amr bin Maimun. I came to Amr bin Maimun and said to him: From whom did you hear this hadith? He said: from Ibn Abi Laila. I came to Ibn Abi Laila and said to him: From whom did you hear this hadith? He said: From Abu Ayyub Ansari, who narrated from Allahs Messenger ﷺ .