جمعہ کی نماز سورج کے ڈھلنے کے وقت پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ وَيَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلٍ قَالَ مَا کُنَّا نَقِيلُ وَلَا نَتَغَدَّی إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ زَادَ ابْنُ حُجْرٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، یحییٰ بن یحیی، علی بن حجر، عبدالعزیز بن ابی حازم، حضرت سہل فرماتے ہیں کہ ہم قیلولہ اور دوپہر کا کھانا جمعہ کی نماز کے بعد کھاتے تھے ابن حجر نے اتنا اضافہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں۔
Sahl bin Said said: We did not have a siesta or lunch till after the Friday prayer. (Ibn Hujr added: )" During the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ ."
جمعہ کی نماز سورج کے ڈھلنے کے وقت پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ عَنْ يَعْلَی بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيِّ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا نُجَمِّعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ نَرْجِعُ نَتَتَبَّعُ الْفَيْئَ
یحییٰ بن یحیی، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، یعلی بن حارث محاربی، ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا پھر ہم سایہ تلاش کرتے ہوئے واپس آتے تھے۔
Iyas bin Salama bin al-Akwa reported on the authority of his father: We used to observe the Friday prayer with the Messenger of Allah ﷺ when the sun passed the meridian. and we then returned and tried to find out afternoon shadow (of the walls for protecting themselves from the heat of the sun).
جمعہ کی نماز سورج کے ڈھلنے کے وقت پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا يَعْلَی بْنُ الْحَارِثِ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ فَنَرْجِعُ وَمَا نَجِدُ لِلْحِيطَانِ فَيْئًا نَسْتَظِلُّ بِهِ
اسحاق بن ابراہیم، ہشام بن عبدالملک، یعلی بن حارث، ایاس بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے پھر ہم واپس ہوتے تو ہم دیواروں کا سایہ نہ پاتے جس کی وجہ سے ہم سایہ حاصل کرتے۔
Iyas bin Salama bin Akwa reported on the authority of his father, saying: We used to observe the Friday prayer with the Messenger of Allah ﷺ , and when we returned we did not find the shadow of the walls in which we could take protection (from the heat of the sun).
نماز جمعہ سے پہلے دو خطبون کے ذکر اور ان کے درمیان بیٹھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ جَمِيعًا عَنْ خَالِدٍ قَالَ أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ قَالَ کَمَا يَفْعَلُونَ الْيَوْمَ
عبیداللہ بن عمر قواریری، ابوکامل جحدری، خالد، عبیداللہ بن نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن خطبہ کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا کرتے تھے پھر آپ ﷺ بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے انہوں نے کہا جیسا کہ آج تم کرتے ہو۔
Ibn Umar said that the Messenger of Allah ﷺ used to deliver the sermon on Friday while standing. He would then sit and then stand (for the second sermon) as they (the Muslims) do nowadays.
نماز جمعہ سے پہلے دو خطبون کے ذکر اور ان کے درمیان بیٹھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ کَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيُذَکِّرُ النَّاسَ
یحییٰ بن یحیی، حسن بن ربیع، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحیی، ابوالاحوص، سماک، حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ دو خطبے ارشاد فرمایا کرتے تھے اور ان دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھا کرتے تھے ان خطبوں میں آپ ﷺ قرآن پڑھا کرتے اور لوگوں کو نصیحت فرمایا کرتے تھے۔
Jabir bin ahadeeth said: The Apostle of Allah ﷺ gave two sermons between which he sat, recited the Quran and exhorted the people.
نماز جمعہ سے پہلے دو خطبون کے ذکر اور ان کے درمیان بیٹھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ سِمَاکٍ قَالَ أَنْبَأَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا فَمَنْ نَبَّأَکَ أَنَّهُ کَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ کَذَبَ فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَکْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ
یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، سماک، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے پھر آپ ﷺ بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے جس آدمی نے تجھے بتایا کہ آپ ﷺ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے اس نے جھوٹ بولا اللہ کی قسم میں نے آپ ﷺ کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھی ہیں۔
Jabir bin Abdullah (RA) said that the Messenger of Allah ﷺ used to deliver the sermon while standing. He would then sit down and then stand up and address in a standing posture; and whoever informed you that he (the Holy Prophet) delivered the sermon while sitting told a lie. By Allah. I prayed with him more than two thousand times
اور جب وہ لوگ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَجَائَتْ عِيرٌ مِنْ الشَّامِ فَانْفَتَلَ النَّاسُ إِلَيْهَا حَتَّی لَمْ يَبْقَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَکُوکَ قَائِمًا
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، عثمان، جریرعن حصین بن عبدالرحمن، سالم بن ابی الجعد، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے ایک مرتبہ ملک شام سے اونٹوں کا قافلہ آیا تو لوگ اس کی طرف چلے گئے یہاں تک کہ بارہ آدمیوں کے علاوہ کوئی بھی باقی نہیں رہا تو سورت الجمعہ میں یہ آیت نازل ہوئی اور جب ان لوگوں نے تجارت یا تماشہ وغیرہ کی چیز دیکھی تو اس کی طرف چلے گئے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ گئے۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported that the Apostle ﷺ was delivering the sermon on Friday in a standing posture when a caravan from Syria arrived. The people flocked towards it till no one was left (with the Holy Prophet) but twelve persons, and it was on this occasion that this verse in regard to Jumua was revealed."And when they see merchandise or sport. They break away to it and leave thee standing."
اور جب وہ لوگ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَلَمْ يَقُلْ قَائِمًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، حصین یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے جس میں کہا کہ رسول اللہ خطبہ دے رہے تھے اور یہ نہیں کہا کہ کھڑے ہو کر۔
This hadith has been narrated by Husain with the same chain of transmitters but with this alteration that he did not make mention of the standing position.
اور جب وہ لوگ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمٍ وَأَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدِمَتْ سُوَيْقَةٌ قَالَ فَخَرَجَ النَّاسُ إِلَيْهَا فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا أَنَا فِيهِمْ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَکُوکَ قَائِمًا إِلَی آخِرِ الْآيَةِ
رفاعہ بن ہیثم واسطی، طحان، حصین، سالم، ابوسفیان، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم جمعہ کے دن نبی ﷺ کے ساتھ تھے بازار میں ایک قافلہ (سامان تجارت) لے کر آیا لوگ اس کی طرف نکل گئے اور بارہ آدمیوں کے سوا کوئی باقی نہ رہا میں بھی ان میں تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جب انہوں نے تجارت یا کھیل وغیرہ کی کوئی چیز دیکھی تو اس کی طرف چلے گئے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ گئے۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported: I was along with the Apostle of Allah ﷺ on Friday when a caravan arrived. The people went to it, and none but twelve persons were left behind and I was one of them; and it was on this occasion that this verse was revealed:" And when they see merchandise or sport they break away to it, and leave thee standing" (lxii. 1 1).
اور جب وہ لوگ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَدِمَتْ عِيرٌ إِلَی الْمَدِينَةِ فَابْتَدَرَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی لَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا فِيهِمْ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ قَالَ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا
اسماعیل بن سالم، ہشیم، حصین، ابوسفیان، سالم بن ابی الجعد، حضرت جابر ؓ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر ہمیں بیان فرما رہے تھے تو مدینہ منورہ کی طرف ایک قافلہ آیا تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اس کی طرف بڑھے یہاں تک کہ بارہ آدمیوں کے سوا ان میں کوئی بھی آپ ﷺ کے ساتھ باقی نہ رہا ان بارہ آدمیوں میں حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ بھی تھے اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور جب کوئی تجارت یا کھیل وغیرہ کی چیز دیکھتے ہیں تو اس کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported: While the Apostle of Allah ﷺ was delivering (a sermon) on Friday, a caravan of merchandise came to Madinah. The Companions of the Messenger of Allah ﷺ rushed towards it till only twelve persons were left with him including Abu Bakr (RA) and Umar; and it was at this occasion that this verse was revealed." And when they see merchandise or sport, they break away to it."
اور جب وہ لوگ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أُمِّ الْحَکَمِ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَالَ انْظُرُوا إِلَی هَذَا الْخَبِيثِ يَخْطُبُ قَاعِدًا وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَی وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَکُوکَ قَائِمًا
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، منصور، عمرو بن مرہ، ابوعبیدہ سے روایت ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ ؓ مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت عبدالرحمن ابن ام حکم بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے تو حضرت کعب ؓ فرمانے لگے اس خبیث کی طرف دیکھو بیٹھ کر خطبہ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب انہوں نے تجارت کے قافلے یا کھیل وغیرہ کی چیز کو دیکھا تو اس کی طرف دوڑ پڑے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ گئے۔
Kab bin Ujra reported that he entered the mosque and saw Abdul Rahman bin Umm Hakam delivering the sermon in a sitting posture. Upon this he said: Look at this wretched person; he delivers the sermon while sitting, whereas Allah said:" And when they see merchandise or sport, they break away to it and leave thee standing."
جمعہ کی نماز چھوڑنے کی وعید کے بیان میں
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي أَخَاهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ مِينَائَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَی أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَی قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَکُونُنَّ مِنْ الْغَافِلِينَ
حسن بن علی حلوانی، ابوتوبہ، ابن سلام، زید، حکم بن میناء بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر کی سیڑھیوں پر فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ جمعہ کی نماز چھوڑنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دیں گے پھر وہ غافلوں میں سے ہوجائیں گے۔
Abdullah bin Umar (RA) and Abu Hurairah (RA) said that they heard Allahs Messenger ﷺ say on the planks of his pulpit: People most cease to neglect the Friday prayer or Allah will seal their hearts and then they will be among the negligent.
خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ کُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا
حسن بن ربیع، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوالاحوص، سماک، حضرت جابر بن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ نمازیں پڑھیں آپ ﷺ کی نمازیں درمیانی ہوتی تھیں اور آپ ﷺ کا خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔
Jabir bin ahadeeth reported: I used to pray with the Messenger of Allah ﷺ and both his prayer and sermon were of moderate length.
خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ حَدَّثَنِي سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ کُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَوَاتِ فَکَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ زَکَرِيَّائُ عَنْ سِمَاکٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، محمد بن بشر، زکریا، سماک بن حرب، جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ نمازیں پڑھیں آپ ﷺ کی نمازیں درمیانی ہوتی تھیں اور آپ ﷺ کا خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا اور ابوبکر کی روایت میں زکریا بن سماک کا ذکر ہے۔
Jabir bin ahadeeth reported: I used to observe prayer with the Apostle of Allah ﷺ and his prayer was of moderate length and his sermon too was of moderate length.
خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّی کَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ صَبَّحَکُمْ وَمَسَّاکُمْ وَيَقُولُ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ کَهَاتَيْنِ وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَی وَيَقُولُ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ کِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرُ الْهُدَی هُدَی مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَکُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا أَوْلَی بِکُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ مَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَکَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ
محمد بن مثنی، عبدالوہاب بن عبدالمجید، جعفربن محمد، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب خطبہ ارشاد فرماتے تھے تو آپ ﷺ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں اور آپ ﷺ کی آواز بلند ہوجاتی اور غصہ شدید ہوجاتا (اور یوں معلوم ہوتا) گویا کہ آپ ﷺ کسی ایسے لشکر سے ڈرا رہے ہوں کہ وہ صبح یا شام حملہ کرنے والا ہے اور فرماتے ہیں کہ قیامت کو اور مجھے اس طرح بھیجا گیا جس طرح یہ دو انگلیاں اور شہادت والی اور درمیانی انگلی ملا کر فرماتے اما بعد کہ بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین سیرت محمد ﷺ کی سیرت ہے اور سارے کاموں میں بدترین کام نئے نئے طریقے ہیں (یعنی دین کے نام سے نئے طریقے جاری کرنا) اور ہر بدعت گمراہی ہے پھر فرماتے ہیں کہ میں ہر مومن کو اس کی جان سے زیادہ عزیز ہوں جو مومن مال چھوڑ کر مرا وہ اس کے گھر والوں کے لئے ہے اور جو مومن قرض یا بچے چھوڑ جائے اس کی تر بیت و پرورش اور ان کے خرچ کی ذمہ داری مجھ محمد ﷺ پر ہے۔
Jabir bin Abdullah (RA) said: When Allahs Messenger (may peace he upon him) delivered the sermon, his eyes became red, his voice rose. And his anger increased so that he was like one giving a warning against the enemy and saying:" The enemy has made a morning attack on you and in the evening too." He would also say:" The last Hour and I have been sent like these two." and he would join his forefinger and middle finger; and would further say:" The best of the speech is embodied in the Book of Allah, and the best of the guidance is the guidance given by Muhammad. And the most evil affairs are their innovations; and every innovation is error." He would further say: "I am more dear to a Muslim even than his self; and he who left behind property that is for his family, and he who dies under debt or leaves children (in helplessness), the responsibility (of paying his debt and bringing up his children) lies on me."
خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا کَانَتْ خُطْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ عَلَی إِثْرِ ذَلِکَ وَقَدْ عَلَا صَوْتُهُ ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ
عبد بن حمید، خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال، جعفربن محمد، حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء سے فرماتے تھے پھر آپ ﷺ کی آواز بلند ہوجاتی پھر اسی طرح حدیث بیان کی جیسے گزر چکی۔
Jafar bin Muhammad said on the authority of his father: I heard Jabir bin Abdullah saying that in the sermon of the Apostle of Allah ﷺ he praised Allah, lauded Him (and subsequently said [other words] and raised his voice, and the rest of the hadith is the same).
خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ يَقُولُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَخَيْرُ الْحَدِيثِ کِتَابُ اللَّهِ ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، جعفر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو خطبہ دیا کرتے تھے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی وہ حمد و ثنا بیان فرماتے جو اس کے شایان شان ہے پھر فرماتے کہ جس کو اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور بہترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے پھر آگے حدیث اسی طرح ہے جیسے گزری۔
Jabir reported that the Messenger of Allah ﷺ , while delivering the sermon to the people, praised Allah, and lauded Him for what He deserves, and would then say: "He whom Allah guides aright, there is none to mislead him, and he who is led astray, there is none to guide him (aright)", and the best of the talk is embodied in the Book of Allah. And the rest of the hadith is the same.
خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی وَهُوَ أَبُو هَمَّامٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَکَّةَ وَکَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوئَةَ وَکَانَ يَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ فَسَمِعَ سُفَهَائَ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ يَقُولُونَ إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ فَقَالَ لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللَّهَ يَشْفِيهِ عَلَی يَدَيَّ قَالَ فَلَقِيَهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ وَإِنَّ اللَّهَ يَشْفِي عَلَی يَدِي مَنْ شَائَ فَهَلْ لَکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ قَالَ فَقَالَ أَعِدْ عَلَيَّ کَلِمَاتِکَ هَؤُلَائِ فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ فَقَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْکَهَنَةِ وَقَوْلَ السَّحَرَةِ وَقَوْلَ الشُّعَرَائِ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ کَلِمَاتِکَ هَؤُلَائِ وَلَقَدْ بَلَغْنَ نَاعُوسَ الْبَحْرِ قَالَ فَقَالَ هَاتِ يَدَکَ أُبَايِعْکَ عَلَی الْإِسْلَامِ قَالَ فَبَايَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَی قَوْمِکَ قَالَ وَعَلَی قَوْمِي قَالَ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَمَرُّوا بِقَوْمِهِ فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِيَّةِ لِلْجَيْشِ هَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ هَؤُلَائِ شَيْئًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَصَبْتُ مِنْهُمْ مِطْهَرَةً فَقَالَ رُدُّوهَا فَإِنَّ هَؤُلَائِ قَوْمُ ضِمَادٍ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، عبدالاعلی، ابوہمام، داؤد، عمرو بن سعید، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ضماد مکہ مکرمہ میں آیا اس کا تعلق قبیلہ ازد شنوء سے تھا اور جنون اور آسیب وغیرہ کے لئے جھاڑ پھونک کرتا تھا اور اس نے مکہ کے بیوقوفوں سے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ محمد (العیاذ باللہ) مجنون ہیں تو اس نے کہا کہ میں اس آدمی کو دیکھتا ہوں شاید کہ اللہ تعالیٰ اسے میرے ہاتھ سے شفا دے دے اس حماد نے آپ ﷺ سے ملاقات کی اور کہا کہ اے محمد میں جنوں وغیر کے لئے جھاڑ پھونک کرتا ہوں اور اللہ جسے چاہتا ہے میرے ہاتھ سے شفا دیتا ہے تو آپ ﷺ کیا چاہتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ) بعد! تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں بعد حمد وصلوہ کہنے لگے کہ اپنے ان کلمات کو دوبارہ پڑھیئے رسول اللہ ﷺ نے ان کلمات کو تین مرتبہ دہرایا ضماد نے کہا کہ میں نے کاہنوں کا کلام سنا جادو گروں کا کلام سنا شاعروں کا کلام سنا لیکن آپ ﷺ کے کلام کی طرح کا کلام نہیں سنا یہ کلام تو سمندر کی بلا غت تک پہنچ گیا ہے ضماد نے کہا کہ اپنا ہاتھ بڑھائیے میں آپ ﷺ کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کرتا ہوں پھر اس نے بیعت کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم سے اور تمہاری قوم کی طرف سے بھی بیعت لیتا ہوں ضماد نے کہا کہ میں اپنی قوم کی طرف سے بھی بیعت کرتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے ایک چھوٹا سالشکر بھیجا وہ لشکر اس کی قوم میں سے گزرا تو اس لشکر کے سردار نے کہا کہ کیا تم نے اس قوم والوں سے کچھ لیا ہے تو جماعت کے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے ان سے لیا ہے، اس لشکر کے سردار نے کہا جاؤ اسے واپس کرو کیونکہ یہ ضماد کی قوم کا ہے (اور یہ لوگ ضماد کی بیعت کی وجہ سے اس میں آگئے ہیں)۔
Ibn Abbas reported: Dimad came to Makkah and he belonged to the tribe of Azd Shanua, and he used to protect the person who was under the influence of charm. He heard the foolish people of Makkah say that Muhammad ﷺ was under the spell. Upon this he said: "If I were to come across this man, Allah might cure him at my hand.". He met him and said: Muhammad, I can protect (one) who is under the influence of charm, and Allah cures one whom He so desires at my hand. Do you desire (this)? Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: "Praise is due to Allah, we praise Him, ask His help; and he whom Allah guides aright there is none to lead him astray, and he who is led astray there is none to guide him, and I bear testimony to the fact that there is no god but Allah, He is One, having no partner with Him, and that Muhammad is His Servant and Messenger". Now after this he (Dimad) said: "Repeat these words of yours before me", and the Messenger of Allah ﷺ repeated these to him thrice; and he said: "I have heard the words of soothsayers and the words of magicians, and the words of poets, but I have never heard such words as yours, and they reach the depth (of the ocean of eloquence) ; bring forth your hand so that I should take oath of fealty to you on Islam". So he took an oath of allegiance to him. The Messenger of Allah ﷺ said: "It (this allegiance of yours) is on behalf of your people too". He said: It is on behalf of my people too. The Messenger of Allah ﷺ sent an expedition and the flying column passed by his people. The leader of the flying column said to the detachment: Did you find anything from these people? One of the people said: I found a utensil for water. Upon this he (the commander) said: Return it, for he is one of the people of Dimad.
خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبْجَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ خَطَبَنَا عَمَّارٌ فَأَوْجَزَ وَأَبْلَغَ فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا يَا أَبَا الْيَقْظَانِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ فَلَوْ کُنْتَ تَنَفَّسْتَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ وَإِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا
سریج بن یونس، عبدالرحمن بن عبدالملک بن ابجر، واصل بن حیان نے کہا کہ ہمارے سامنے حضرت عمار ؓ نے خطبہ دیا جو مختصر اور نہایت بلیغ تھا جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے عرض کیا اے ابوالیقطان آپ نے نہایت مختصر اور نہایت بلیغ خطبہ دیا اگر میں خطبہ دیتا تو ذرا لمبا دیتا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی کا لمبی نماز اور خطبہ کو مختصر پڑھنا یہ اس کی سمجھداری کی علامت ہے پس نماز کو لمبا کرو اور خطبہ کو مختصر کرو کیونکہ بعضے بیان جادو جیسے اثر رکھتے ہیں۔
Abu Wail reported: Ammar delivered to us the sermon. It was short and eloquent. When he (Ammar) descended (from the pulpit) we said to him: O Abdul Yaqzn, you have delivered a short and eloquent sermon. Would that you had lengthened (the sermon). He said: I have heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: The lengthening of prayer by a man and the shortness of the sermon is the sign of his understanding (of faith). So lengthen the prayer and shorten the sermon, for there is charm (in precise) expression.
خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ مختصر پڑھانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّ رَجُلًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ يُطِعْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَی فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ قُلْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فَقَدْ غَوِيَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، سفیان، عبدالعزیزبن رفیع، تمیم بن طرفہ، عدی بن حاتم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے سامنے خطبہ دیا اور کہا کہ جو آدمی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا وہ ہدایت یافتہ ہوجائے گا اور جو ان دونوں کی نافرنانی کرے گا وہ گمراہ ہوجائے گا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو برا خطیب ہے تو کہہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گا ابن نمیر نے کہا کہ وہ گمراہ ہوجائے گا۔
Adi bin Hatim reported that a person recited a sermon before the Apostle of Allah ﷺ thus: He who obeys Allah and His Apostle, he in fact follows the right path, and he who disobeys both of them, he goes astray. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: "What a bad speaker you are; say: He who disobeys Allah and His Apostle". Ibn Numair added: He in fact went astray.