جمعہ کے دن اس گھڑی کے بیان میں کہ جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ابن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون، محمد، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ ابوالقاسم ؓ نے اسی طرح ارشاد فرمایا ہے۔
A hadith like this has been narrated by Abu Hurairah (RA) .
جمعہ کے دن اس گھڑی کے بیان میں کہ جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔
حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
حمید بن مسعدہ باہلی، ابن مفضل، ابن علقمہ، محمد، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ابوالقاسم ﷺ نے اسی طرح ارشاد فرمایا ہے۔
This hadith has been narrated by Abu Hurairah (RA) by another chain of transmitters.
جمعہ کے دن اس گھڑی کے بیان میں کہ جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ قَالَ وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ
عبدالرحمن بن سلام جمحی، ابن مسلم، محمد بن زیاد، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ مسلمان اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ سے جو بھلائی بھی مانگے گا اللہ تعالیٰ اسے عطا فرما دیں گے اور وہ گھڑی بہت تھوڑی دیر رہتی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying. There is a time on Friday at which no Muslim would ask Allah for what is good but He would give it to him. And further said: This is a very short time.
جمعہ کے دن اس گھڑی کے بیان میں کہ جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ
ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح نقل فرمایا لیکن اس میں ساعت خفیفہ نہیں فرمایا۔
Hammam bin Munabbih reported this hadith from Abu Hurairah (RA) who reported from the Apostle of Allah ﷺ but he did not say: "That time is short."
جمعہ کے دن اس گھڑی کے بیان میں کہ جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُکَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا مَخْرَمَةُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَسَمِعْتَ أَبَاکَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ سَاعَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الْإِمَامُ إِلَی أَنْ تُقْضَی الصَّلَاةُ
ابوطاہر، علی بن خشرم، ابن وہب، مخرمہ بن بکیر، ح، ہارون بن سعید ایلی، احمد بن عیسی، ابن وہب، مخرمہ، ابوبردہ بن ابوموسی اشعری فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ کیا تو نے اپنے باپ سے جمعہ کی گھڑی کی شان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث سنی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے کہا ہاں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ گھڑی امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز پوری ہونے تک ہے۔
Abu Burda bin Abu Musa al-Ashari reported: Abdullah bin Umar (RA) said to me: Did you hear anything from your father narrating something from the Messenger of Allah ﷺ about the time on Friday? I said: Yes, I heard him say from the Messenger of Allah ﷺ (these words):" It is between the time when the Imam sits down and the end of the prayer."
جمعہ کے دن کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبدالرحمن اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بہترین دن جس میں سورج نکلتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے اسی دن میں حضرت آدم (علیہ السلام) پیدا کئے گئے اور اسی دن میں ان کو جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن میں ان کو جنت سے نکالا گیا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The best day on which the sun has risen is Friday; on it Adam علیہ السلامwas created, on it he was made to enter Paradise, on it he was expelled from it.
جمعہ کے دن کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ
قتیبہ بن سعید، مغیرہ حزامی، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ بہترین دن کہ جس میں سورج نکلتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے اسی دن میں حضرت آدم (علیہ السلام) پیدا کئے گئے اور اسی دن میں ان کو جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن میں ان کو جنت سے نکالا گیا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The best day on which the sun has risen is Friday; on it Adam علیہ السلامwas created, on it he was made to enter Paradise, on it he was expelled from it.
جمعہ کے دن اس امت کے لئے ہدایت ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ الْآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّ کُلَّ أُمَّةٍ أُوتِيَتْ الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ ثُمَّ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي کَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْنَا هَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَی بَعْدَ غَدٍ
عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم سب سے آخر والے ہیں اور قیامت کے دن ہم سب سے پہل کرنے والے ہوں گے ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد کتاب دی گئی پھر یہ دن جسے اللہ نے ہم پر فرض فرمایا ہے ہمیں اس کی ہدایت عطا فرمائی تو لوگ اس دن میں ہمارے تابع ہیں کہ یہودیوں کی عید جمعہ کے بعد اگلے دن اور نصاری کی عید اس سے بھی اگلے دن (یعنی اتوار)۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: We, who are the last shall be the first on the Day of Resurrection, except that every Ummah was given the Book before us and we were given it after them. It was this day which Allah prescribed for us and guided us to it and the people came after us with regard to it, the Jews observing the next day and the Christians the day following that.
جمعہ کے دن اس امت کے لئے ہدایت ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ الْآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمِثْلِهِ
ابن ابی عمر، سفیان، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم سب سے آخر میں آنے والے ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہل کرنے والے ہوں گے۔
A hadith like this has been narrated by Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: We are the last and would be the first on the Day of Resurrection.
جمعہ کے دن اس امت کے لئے ہدایت ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَنَحْنُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ فَاخْتَلَفُوا فَهَدَانَا اللَّهُ لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنْ الْحَقِّ فَهَذَا يَوْمُهُمْ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ هَدَانَا اللَّهُ لَهُ قَالَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فَالْيَوْمَ لَنَا وَغَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَی
قتیبہ بن سعید، زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم سب سے آخر میں آنے والے ہیں قیامت کے دن سب سے پہل کرنے والے ہوں گے اور ہم سے پہلے جنت میں کون داخل ہوگا ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد کتاب دی گئی پس انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس حق کے معاملہ میں ہمیں ہدایت عطا فرمائی کہ جس میں انہوں نے اختلاف کیا یہ وہی دن ہے کہ جس میں انہوں نے اختلاف کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی آپ ﷺ نے جمعہ کے دن کے بارے میں فرمایا کہ یہ ہمارا دن اور کل کا دن (یعنی ہفتہ) یہودیوں کا اور اس کے بعد کا دن (یعنی اتوار کا دن) نصاری کا دن ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: We are the last (but) we would be the first on the Day of Resurrection, and we would be the first to enter Paradise, but that they were given the Book before us and we were given after them. They disagreed and Allah guided us aright on whatever they disagreed regarding the truth. And it was this day of theirs about which they disagreed, but Allah guided us to it, and that is Friday for us; the next day is for the Jews and the day following for the Christians.
جمعہ کے دن اس امت کے لئے ہدایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ وَهَذَا يَوْمُهُمْ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَهُمْ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ فَالْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَی بَعْدَ غَدٍ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، وہب بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم سب سے آخر میں آنے والے ہیں قیامت کے دن سب سے پہل کرنے والے ہوں گے لیکن ان کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد کتاب دی گئی تو یہ ان کا وہ دن ہے جو ان پر فرض کیا گیا اور جس میں انہوں نے اختلاف کیا اللہ نے اس کے لئے ہمیں ہدایت عطا فرمائی وہ لوگ اس دن میں ہمارے تابع ہیں یہودیوں کا کل کا دن (یعنی ہفتہ کا دن) ہے اور نصاری کا کل کے دن (یعنی اتوار کا دن) ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Muhammad, the Messenger of Allah ﷺ , as saying: We who are the last would be the first on the Day of Resurrection but they (other Ummahs) were given the Book before us and we were given after them, and this was the day that was prescribed for them but they disagreed on it. And Allah guided us to it. and they came after us with regard to it, the Jews observing the next day and the Christians the day following that.
جمعہ کے دن اس امت کے لئے ہدایت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَضَلَّ اللَّهُ عَنْ الْجُمُعَةِ مَنْ کَانَ قَبْلَنَا فَکَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ وَکَانَ لِلنَّصَارَی يَوْمُ الْأَحَدِ فَجَائَ اللَّهُ بِنَا فَهَدَانَا اللَّهُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ فَجَعَلَ الْجُمُعَةَ وَالسَّبْتَ وَالْأَحَدَ وَکَذَلِکَ هُمْ تَبَعٌ لَنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ وَفِي رِوَايَةِ وَاصِلٍ الْمَقْضِيُّ بَيْنَهُمْ
ابوکریب، واصل بن عبدالاعلی، ابن فضیل، ابومالک اشجعی، ابوحازم، حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو ہم سے پہلے تھے جمعہ کے دن کے بارے میں گمراہ کیا تو یہودیوں کے لئے ہفتہ کا دن اور نصاری کے لئے اتوار کا دن مقرر فرمایا تو اللہ تعالیٰ ہمیں لایا اللہ نے جمعہ کے دن کے لئے ہدایت عطا فرمائی اور کردیا جمعہ ہفتہ اور اتوار کو اور اسی طرح ان لوگوں کو قیامت کے دن ہمارے تابع فرما دیا ہم دنیا والوں میں سے سب سے آخر میں آنے والے ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے آنے والے ہیں کہ جن کا فیصلہ ساری مخلوق سے پہلے ہوگا۔
It is narrated by Abu Hurairah (RA) and Hurairah that the Messenger of Allah ﷺ said: It was Friday from which Allah diverted those who were before us. For the Jews (the day set aside for prayer) was Sabt (Saturday), and for the Christians it was Sunday. And Allah turned towards us and guided us to Friday (as the day of prayer) for us. In fact, He (Allah) made Friday, Saturday and Sunday (as days of prayer). In this order would they (Jews and Christians) come after us on the Day of Resurrection. We are the last of (the Ummahs) among the people in this world and the first among the created to be judged on the Day of Resurrection. In one narration it is: "to be judged among them".
جمعہ کے دن اس امت کے لئے ہدایت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُدِينَا إِلَی الْجُمُعَةِ وَأَضَلَّ اللَّهُ عَنْهَا مَنْ کَانَ قَبْلَنَا فَذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ فُضَيْلٍ
ابوکریب، ابن ابی زائدہ، سعد بن طارق، ربعی بن خراش، حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ہمیں جمعہ کے دن کی ہدایت کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے گمراہ فرمایا ان کو جو ہم سے پہلے تھے باقی حدیث ابن فضیل کی حدیث کی طرح ذکر فرمائی۔
Hurairah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: We were guided aright to Friday (as a day of prayer and meditation), but Allah diverted those who were before us from it. The rest of the hadith is the same.
جمعہ کے دن جلدی جانے والوں کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ کَانَ عَلَی کُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِکَةٌ يَکْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوْا الصُّحُفَ وَجَائُوا يَسْتَمِعُونَ الذِّکْرَ وَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ کَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي الْبَدَنَةَ ثُمَّ کَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ کَالَّذِي يُهْدِي الْکَبْشَ ثُمَّ کَالَّذِي يُهْدِي الدَّجَاجَةَ ثُمَّ کَالَّذِي يُهْدِي الْبَيْضَةَ
ابوطاہر، حرملہ، عمرو بن سواد عامری، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوعبداللہ اغر، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے پہلے پہلے لکھتے ہیں پس جب امام بیٹھتا ہے تو فرشتے صحیفے لپیٹ لیتے ہیں اور ذکر سننے کے لئے آکر بیٹھ جاتے ہیں اور جلدی آنے والے کی مثال اونٹ کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے پھر اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے پھر اس کے بعد آنے والا دنبہ کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے پھر اس کے بعد آنے والا مرغی پھر اس کے بعد آنے والا انڈا قربان کرنے والے کی طرح ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When it is Friday, the angels stand at every door of the mosque and record the people in the order of their arrival, and when the Imam sits (on the pulpit for delivering the sermon) they fold up their sheets (manuscripts of the Quran) and listen to the mention (of Allah). And he who comes early is like one who offers a she-camel as a sacrifice, the next like one who offers a cow, the next a ram, the next a hen, the next an egg.
جمعہ کے دن جلدی جانے والوں کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَعَمْرٌو النَّاقِدُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
یحییٰ بن یحیی، عمر وناقد، سفیان، زہری، سعید، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمایا۔
This hadith has been narrated by Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
جمعہ کے دن جلدی جانے والوں کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَی کُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَکٌ يَکْتُبُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ مَثَّلَ الْجَزُورَ ثُمَّ نَزَّلَهُمْ حَتَّی صَغَّرَ إِلَی مَثَلِ الْبَيْضَةِ فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طُوِيَتْ الصُّحُفُ وَحَضَرُوا الذِّکْرَ
قتیبہ بن سعید، ابن عبدالرحمن، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسجد کے دروازوں میں سے ہر ایک دروازے پر ایک فرشتہ ہوتا ہے جو سب سے پہلے آنے والوں کے نام لکھتا ہے تو سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ہے پھر درجہ بدرجہ یہاں تک کہ انڈہ قربان کرنے والے کی طرح پھر جب امام پڑھنے بیٹھتا ہے تو وہ فرشتہ اپنے صحیفے کو لپیٹ لیتا ہے اور ذکر سننے کے لئے حاضر ہوجاتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allah Messenger ﷺ as saying: There is an angel on every door of the mosque recording him first who (conies) first (at the mosque for Friday prayer). And he [the Prophet] likened him as one who offers a camel as a sacrifice and then he went on in the descending order till he reached the point at which the minimum (sacrifice) is that of an egg. And when the Imam sits (on the pulpit) the sheets are folded and they (the angels) attend to the mention of Allah.
جمعہ کا خطبہ سننے اور خاموش رہنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَی الْجُمُعَةَ فَصَلَّی مَا قُدِّرَ لَهُ ثُمَّ أَنْصَتَ حَتَّی يَفْرُغَ مِنْ خُطْبَتِهِ ثُمَّ يُصَلِّي مَعَهُ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَی وَفَضْلُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
امیہ بن بسطام، ابن زریع، روح، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی غسل کرے پھر جمعہ پڑھنے کے لئے آئے تو جتنی نماز اس کے لئے مقدر تھی اس نے پڑھی پھر وہ خاموش رہا یہاں تک کہ امام اپنے خطبہ سے فارغ ہوگیا پھر امام کے ساتھ نماز پڑھی تو اس کے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ کے درمیان کے سارے گناہ معاف کردیئے گئے اور مزید تین دنوں کے گناہ بھی معاف کردیئے گئے۔
Abu-Hurairah reported Allahs Apostle ﷺ as saying: He who took a bath and then came for Jumua prayer and then prayed what was fixed for him, then kept silence till the Imam finished the sermon, and then prayed along with him, his sins between that time and the next Friday would be forgiven, and even of three days wore.
جمعہ کا خطبہ سننے اور خاموش رہنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ ثُمَّ أَتَی الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَمَنْ مَسَّ الْحَصَی فَقَدْ لَغَا
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی وضو کرے اور خوب اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے آئے اور خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے درمیان کے سارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اور مزید تین دن کے بھی گناہ معاف کردیئے گئے اور جو آدمی کنکریوں کو چھوئے تو اس نے لغو کام کیا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who performed ablution well, then came to Friday prayer, listened (to the sermon), kept silence, all (his sins) between that time and the next Friday would be forgiven with three days extra, and he who touched pebbles caused an interruption.
جمعہ کی نماز سورج کے ڈھلنے کے وقت پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا قَالَ حَسَنٌ فَقُلْتُ لِجَعْفَرٍ فِي أَيِّ سَاعَةٍ تِلْکَ قَالَ زَوَالَ الشَّمْسِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، یحییٰ بن دم، حسن بن عیاش، جعفربن محمد، حضرت جابر ؓ بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے پھر ہم واپس لوٹ کر اپنے اونٹوں کو آرام دلاتے تھے راوی حسن نے کہا کہ میں نے جعفر سے پوچھا کہ کس وقت تک تو انہوں نے فرمایا کہ سورج ڈھلنے تک۔
Jabir bin Abdullah reported: We used to observe (Jumua) prayer with the Messenger of Allah ﷺ and then we returned and gave rest to our camels used for carrying water. Hassan (one of the narrators) said: I asked Jafar what time that was. He said.. It is the time when the sun passes the meridian.
جمعہ کی نماز سورج کے ڈھلنے کے وقت پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ مَتَی کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ قَالَ کَانَ يُصَلِّي ثُمَّ نَذْهَبُ إِلَی جِمَالِنَا فَنُرِيحُهَا زَادَ عَبْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ يَعْنِي النَّوَاضِحَ
قاسم بن زکریا، خالد بن مخلد، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، سلیمان بن بلال، حضرت جعفر ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضرت جابر ؓ بن عبداللہ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کی نماز کب پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ جب آپ ﷺ جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تھے پھر ہم اپنے اونٹوں کو آرام دلانے کے لئے لے جاتے تھے راوی عبداللہ نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ سورج کے ڈھلنے تک۔
Jafar reported on the authority of his father that he asked Jabir bin Abdullah when the Messenger of Allah ﷺ observed Jumua prayer. Re said: He used to observe prayer, and we then went (back) to our camels and gave them rest. Abdullah made this addition in his narration:" Till the sun passed the meridian. and the camels used for carrying water (took rest)."