Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 368 of 379

7352Sahih Muslimصحیح

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ فَقَالَ دَرْمَکَةٌ بَيْضَائُ مِسْکٌ خَالِصٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ جریر، ابی نضرہ (رض) حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ ابن صیاد نے نبی سے جنت کی مٹی کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا خالص سفید باریک مشک۔

Abu Said reported that Ibn Sayyad asked Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about the earth of Paradise. Whereupon he said: It is like white shining pure musk.

7353Sahih Muslimصحیح

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ قَالَ رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ صَائِدٍ الدَّجَّالُ فَقُلْتُ أَتَحْلِفُ بِاللَّهِ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَی ذَلِکَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْکِرْهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ، سعد بن ابراہیم، حضرت محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کو قسم کھا کر کہتے ہوئے دیکھا کہ ابن صائد دجال ہے تو میں نے کہا کیا تم اللہ کی قسم اٹھاتے ہو انہوں نے کہا میں نے عمر کو سنا وہ اس بات پر نبی ﷺ کے پاس قسم اٹھا رہے تھے اور نبی ﷺ نے انکار نہ فرمایا۔

Muhammad bin Munkadir reported: As I saw Jabir bin Abdullah taking an oath in the name of Allah that it was Ibn Said who was the Dajjal I said: Do you take an oath in the name of Allah? Thereupon he said: I heard Umar taking an oath in the presence of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to this effect but Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not disapprove of it.

7354Sahih Muslimصحیح

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّی وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّی ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَيَّادٍ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّکَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَرَفَضَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا تَرَی قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَکَاذِبٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلِّطَ عَلَيْکَ الْأَمْرُ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَکَ خَبِيئًا فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَکَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَکُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَکُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَکَ فِي قَتْلِهِ

حرملہ بن یحییٰ بن عبداللہ بن حرملہ بن عمران ابن وہب، یونس ابن شہاب سالم بن عبداللہ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک جماعت میں ابن صیاد کی طرف نکلے یہاں تک کہ اسے بنی مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا اور ابن صیاد ان دنوں قریب البلوغ تھا اور اسے کچھ معلوم نہ ہوسکا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس کی کمر پر ضرب ماری پھر رسول اللہ ﷺ نے ابن صیاد سے فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ابن صیاد نے آپ ﷺ کی طرف دیکھ کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ امیوں کے رسول ہیں پھر ابن صیاد نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کیا آپ ﷺ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا اور فرمایا میں ایمان لایا اللہ پر اس کے رسولوں پر پھر رسول ﷺ نے اس سے فرمایا تو کیا دیکھتا ہے ابن صیاد نے کہا میرے پاس سچا بھی آتا ہے اور جھوٹا بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تجھ پر اصل معاملہ تو پھر مشتبہ ہوگیا پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا میں نے تجھ سے پوچھنے کے لئے ایک بات چھپائی ہوئی ہے تو ابن صیاد نے کہا وہ دخ ہے رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا دور ہو تو اپنے اندازہ سے آگے نہیں بڑھ سکتا پھر عمر بن خطاب (رض) نے عرض کیا مجھے اجازت دیں اے اللہ کے رسول میں اس کی گردن مار دوں رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا اگر یہ وہی ہے تو تم اس پر مسلط نہ ہو سکو گے اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو اس کے قتل کرنے میں تمہارے لئے کوئی بھلائی نہیں ہے۔

Abdullah bin Umar (RA) reported: Umar bin Khattab went along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the company of some persons to Ibn Sayyad that he found him playing with children near the battlement of Bani Maghala and Ibn Sayyad was at that time just at the threshold of adolescence and he did not perceive (the presence of Holy Prophet) until Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) struck his back with his hands. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Ibn Sayyad, dont you bear witness that I am the messenger of Allah? Ibn Sayyad looked toward him and he said: I bear witness to the fact that you are the messenger of the unlettered. Ibn Sayyad said to the Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : Do you bear witness to the fact that I am the messenger of Allah? Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) rejected this and said: I affirm my faith in Allah and in His messengers. Then Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: What do you see? Ibn Sayyad said: It us a Dukh. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: May you be disgraced and dishonoured, you would not not be able to go beyond your rank. Umar bin Khattab said: Allahs Messenger, permit me that I should strike his neck. Therupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: If he is the same (Dajjal) who would appear near the Last Hour, you would not be able to overpower him, and if he is not, then there is no good for you to kill him. Abdullah bin Umar further narrated that after some time Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and Ubayy bin Kab went towards the palm trees where Ibn Sayyad was. When Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) went near the tree he hid himself behind a tree with the intention of hearing something from Ibn Sayyad before Ibn Sayyad could see him, but Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saw him on a bed with a blanket around him from which a murmuring sound was being heard and Ibn Sayyads mother saw Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) behind the trunk of the palm tree. She said to Ibn Sayyad: Saf (that being his name), here is Muhammad. Thereupon Ibn Sayyad jumped up murmuring and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: If she had left him alone he would have made things clear. Abdullah bin Umar (RA) told that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stood up amongst the people and lauded Allah as He deserved, then he made a mention of the Dajjal and said: I warn you of him and there is no Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who has not warned his people against the Dajjal. Even Noah warned (against him) but I am going to tell you a thing which no Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) told his people. You must know that he (the Dajjal) is one-eyed and Allah, the Exalted and Glorious, is not one-eyed. Ibn Shihab said: Umar bin Thabit al-Ansari informed me that some of the Companions of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) informed him that the day when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) warned people against the Dajjal, he also said: There would be written between his two eyes (the word) Kafir (infidel) and everyone who would resent his deeds would be able to read or every Muslim would be about to read, and he also said: Bear this thing in mind that none amongst you would be able to see Allah, the Exalted and Glorious, until he dies.

7355Sahih Muslimصحیح

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

وَقَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ إِلَی النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّی إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَی فِرَاشٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ يَا صَافِ وَهُوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ هَذَا مُحَمَّدٌ فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَکَتْهُ بَيَّنَ

سالم بن عبداللہ ابن عمر (رض) حضرت سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ اس واقعہ کے بعد رسول اللہ اور حضرت ابی بن کعب انصاری (رض) اس باغ کی طرف چلے جس میں ابن صیاد تھا یہاں تک کہ جب رسول اللہ اس باغ میں داخل ہوئے تو کھجوروں کے تنوں میں چھپنے لگے تاکہ ابن صیاد کے دیکھنے سے پہلے اس کی کچھ گفتگو سن سکیں پس رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی ایک چادر میں لپٹا لیٹا ہوا ہے اور کچھ گنگنا رہا ہے پس ابن صیاد کی والدہ نے رسول اللہ کو کھجور کے تنوں کی آڑ میں چھپتے ہوئے دیکھ لیا تو اس نے ابن صیاد سے کہا اے صاف اور یہ ابن صیاد کا نام تھا یہ محمد ہیں تو ابن صیاد فورا اٹھ کھڑا ہوا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو وہ کچھ بیان کردیتا۔

Ibn Umar reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) happened to pass by Ibn Sayyad along with his Companions including Umar bin Khattab as he was playing with children near the battlement of Bani Maghala and he was also a child by that time. The rest of the hadith is the same as narrated by Ibn Umar (RA) (in which there is a mention of) setting out of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) along with Ubayy bin Kab towards the date-palm trees.

7356Sahih Muslimصحیح

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

قَالَ سَالِمٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَکَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنِّي لَأُنْذِرُکُمُوهُ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلَکِنْ أَقُولُ لَکُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعَلَّمُوا أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَيْسَ بِأَعْوَرَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حَذَّرَ النَّاسَ الدَّجَّالَ إِنَّهُ مَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ کَافِرٌ يَقْرَؤُهُ مَنْ کَرِهَ عَمَلَهُ أَوْ يَقْرَؤُهُ کُلُّ مُؤْمِنٍ وَقَالَ تَعَلَّمُوا أَنَّهُ لَنْ يَرَی أَحَدٌ مِنْکُمْ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّی يَمُوتَ

سالم بن عبداللہ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف اس کی شان کے مطابق بیان کی پھر دجال کا ذکر کیا تو فرمایا میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی (علیہم السلام) نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے تحقیق نوح بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرا چکے ہیں لیکن میں تمہیں ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی ﷺ نے اپنی قوم کو نہیں بتائی جان رکھو کہ وہ (دجال) بیشک کانا ہوگا اور اللہ تبارک وتعالی کانا نہیں ہے ابن شہاب نے کہا مجھے عمر بن ثابت انصاری نے خبر دی کہ اسے رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ نے خبر دی کہ آپ نے دجال سے ڈراتے ہوئے اس دن فرمایا اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا جسے وہی پڑھ سکے گا جو اس کے عمل کو ناپسند کرتا ہوگا یا ہر مومن اسے پڑھ سکے گا اور آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی اپنے رب العزت کو مرنے تک ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔

Abdullah b. Umar reported: Umar b. Khattab went along with Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) in the company of some persons to Ibn Sayyad that he found him playing with children near the battlement of Bani Maghala and Ibn Sayyad was at that time just at the threshold of adolescence and he did not perceive (the presence of Holy Prophet) until Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) struck his back with his hands. Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said: Ibn Sayyad, dont you bear witness that I am the messenger of Allah? Ibn Sayyad looked toward him and he said: I bear witness to the fact that you the messenger of the unlettered. Ibn Sayyad said to the Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ): Do you bear witness to the fact that I am the messenger of Allah? Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) rejected this and said: I affirm my faith in Allah and in His messengers علیہم السلام. Then Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said to him: What do you see? Ibn Sayyad said: It is a Dukh. Thereupon Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said: May you be disgraced and dishonoured, you would not not be able to go beyond your rank. Umar b. Khattabr said: Allahs Messenger, permit me that I should strike his neck. Thereupon Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said: If he is the same (Dajjal) who would appear near the Last Hour, you would not be able to overpower him, and if he is not that there is no good for you to kill him. Abdullah b. Umar further narrated that after some time Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) and Ubayy b. Kab went towards the palm trees where Ibn Sayyad was. When Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) went near the tree he hid himself behind a tree with the intention of hearing something from Ibn sayyad before Ibn Sayyad could see him, but Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) saw him on a bed with a blanket around him from which a murmuring sound was being heard and Ibn Sayyads mother saw Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) behind the trunk of the palm tree. She said to Ibn Sayyad: Saf (that being his name), here is Muhammad. Thereupon Ibn Sayyad jumped up murmuring and Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said: If she had left him alone he would have made things clear. Abdullah b. Umar told that Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) stood up amongst the people and lauded Allah as He deserved, then he made a mention of the Dajjal and said: I warn you of him and there is no Prophet who has not warned his people against the Dajjal. Even Noah warned (against him) but I am going to tell you a thing which no Prophet told his people. You must know that he (the Dajjal) is one-eyed and Allah, the Exalted and Glorious, is not one-eyed. Ibn Shihab said: Umar b. Thabit al-Ansari informed me that some of the Companions of Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) informed him that the day when Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) warned people against the Dajjal, he also said: There would be written between his two eyes (the word) Kafir (infidel) and everyone who would resent his deeds would be able to read or every Muslim would be about to read, and he also said: Bear this thing in mind that none amongst you would be able to see Allah, the Exalted and Glorious, until he dies.

7357Sahih Muslimصحیح

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّی وَجَدَ ابْنَ صَيَّادٍ غُلَامًا قَدْ نَاهَزَ الْحُلُمَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مُعَاوِيَةَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ إِلَی مُنْتَهَی حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ وَفِي الْحَدِيثِ عَنْ يَعْقُوبَ قَالَ قَالَ أُبَيٌّ يَعْنِي فِي قَوْلِهِ لَوْ تَرَکَتْهُ بَيَّنَ قَالَ لَوْ تَرَکَتْهُ أُمُّهُ بَيَّنَ أَمْرَهُ

حسن بن علی حلوانی بن حمید یعقوب بن ابراہیم، سعد ابوصالح ابن شہاب سالم بن عبداللہ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ چلے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ کی ایک جماعت تھی جن میں عمر بن خطاب (رض) بھی تھے یہاں تک کہ ابن صیاد بچے کو پایا جو کہ بلوغت کے قریب تھا اور بچوں کے ساتھ بنو معاویہ کے مکانوں کے پاس کھیل رہا تھا باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا کاش اس کی والدہ اسے چھوڑ دیتی تو اس کا سارا معاملہ واضح ہوجاتا۔

Abdullah b. Umar reported that Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) went along with him in the company of some persons and there was Umar b. Khattabrr also amongst them till they saw Ibn Sayyad as a young boy just on the threshold of adolescence playing with children near the battlement of Bani Muawiyah; the rest of the hadith is the same but with these concluding words: " Had his mother left him (to murmur) his matter would have become clear."

7358Sahih Muslimصحیح

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَهُوَ غُلَامٌ بِمَعْنَی حَدِيثِ يُونُسَ وَصَالِحٍ غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ لَمْ يَذْکُرْ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ فِي انْطِلَاقِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ إِلَی النَّخْلِ

عبد بن حمید سلمہ بن شبیب عبدالرزاق، معمر، زہری سالم حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جن میں حضرت عمر بن خطاب (رض) بھی تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے تو وہ بنی مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اور وہ بھی لڑکا تھا حضرت ابن عمر (رض) کی اس حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ نبی ﷺ ابی بن کعب کے ساتھ کھجوروں کے باغ کی طرف تشریف لے گئے۔

Ibn Umar reported that Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) happened to pass by Ibn Sayyad along with his Companions including Umar b. Khattab as he was playing with children near the battlement of Bani Maghala and he was also a child by that time. The rest of the hadith is the same as narrated by Ibn Umar (in which there is a mention of) setting out of Allahs Apostle (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) along with Ubayy b. Kab towards the date-palm trees.

7359Sahih Muslimصحیح

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَقِيَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَ صَائِدٍ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ قَوْلًا أَغْضَبَهُ فَانْتَفَخَ حَتَّی مَلَأَ السِّکَّةَ فَدَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَی حَفْصَةَ وَقَدْ بَلَغَهَا فَقَالَتْ لَهُ رَحِمَکَ اللَّهُ مَا أَرَدْتَ مِنْ ابْنِ صَائِدٍ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا يَخْرُجُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا

عبد بن حمید روح بن عبادہ، ہشام ایوب حضرت نافع (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) کی ابن صیاد سے مدینہ کے کسی راستہ میں ملاقات ہوگئی تو ابن عمر نے اس سے ایسی بات کہی جو اسے غصۃ دلانے والی تھی پس وہ اتنا پھولا کہ راستہ بھر گیا پھر ابن عمر (رض) ام المومنین سیدہ حفصہ کے پاس حاضر ہوئے اور انہیں یہ خبر مل چکی تھی تو انہوں نے ابن عمر (رض) سے کہا اللہ آپ پر رحم فرمائے تو نے ابن صائد کے بارے میں کیا ارادہ کیا تھا کیا تو نہیں جانتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دجال کسی پر غصہ کرنے کی وجہ سے ہی نکلے گا۔

Nafi reported that Ibn Umar met Ibn Siid on some of the paths of Madinah and he said to him a word which enraged him and he was so much swollen with anger that the way was blocked. Ibn Umar went to Hafsa and informed her about this. Thereupon she said: May Allah have mercy upon you, why did you incite Ibn Sayyad in spite of the fact that you knew it would be the extreme anger which would make Dajjal appear in the world?

7360Sahih Muslimصحیح

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَنِ بْنِ يَسَارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ کَانَ نَافِعٌ يَقُولُ ابْنُ صَيَّادٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ لَقِيتُهُ مَرَّتَيْنِ قَالَ فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ هَلْ تَحَدَّثُونَ أَنَّهُ هُوَ قَالَ لَا وَاللَّهِ قَالَ قُلْتُ کَذَبْتَنِي وَاللَّهِ لَقَدْ أَخْبَرَنِي بَعْضُکُمْ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ حَتَّی يَکُونَ أَکْثَرَکُمْ مَالًا وَوَلَدًا فَکَذَلِکَ هُوَ زَعَمُوا الْيَوْمَ قَالَ فَتَحَدَّثْنَا ثُمَّ فَارَقْتُهُ قَالَ فَلَقِيتُهُ لَقْيَةً أُخْرَی وَقَدْ نَفَرَتْ عَيْنُهُ قَالَ فَقُلْتُ مَتَی فَعَلَتْ عَيْنُکَ مَا أَرَی قَالَ لَا أَدْرِي قَالَ قُلْتُ لَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِکَ قَالَ إِنْ شَائَ اللَّهُ خَلَقَهَا فِي عَصَاکَ هَذِهِ قَالَ فَنَخَرَ کَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُ قَالَ فَزَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا کَانَتْ مَعِيَ حَتَّی تَکَسَّرَتْ وَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ قَالَ وَجَائَ حَتَّی دَخَلَ عَلَی أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَحَدَّثَهَا فَقَالَتْ مَا تُرِيدُ إِلَيْهِ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا يَبْعَثُهُ عَلَی النَّاسِ غَضَبٌ يَغْضَبُهُ

محمد بن مثنی حسین ابن حسن بن یسار ابن عون حضرت نافع (رض) سے روایت ہے کہ ابن عمر نے کہا میں نے ابن صیاد سے دو مرتبہ ملاقات کی میں اس سے ملا تو میں نے بعض لوگوں سے کہا کیا تم بیان کرتے ہو کہ وہ وہی (دجال) ہے انہوں نے کہا اللہ کی قسم نہیں میں نے کہا تم نے مجھے جھوٹا کردیا اللہ کی قسم تم میں سے بعض نے مجھے خبر دی کہ وہ ہرگز نہیں مرے گا یہاں تک کہ تم میں سے زیادہ مالدار اور صاحب اولاد ہوجائے گا پس وہ ان دنوں لوگوں کے گمان میں ایسا ہی ہے پھر ابن صیاد ہم سے باتیں کر کے جدا ہوگیا پھر میں اس سے دوسری مرتبہ ملا تو اس کی آنکھ پھول چکی تھی تو میں نے اس سے کہا میں تیری آنکھ جو اس طرح دیکھ رہا ہوں یہ کب سے ہوئی ہے اس نے کہا میں نہیں جانتا میں نے کہا تو جانتا ہی نہیں حالانکہ یہ تو تیرے سر میں موجود ہے اس نے کہا اگر اللہ نے چاہا تو وہ تیری لاٹھی میں اسے پیدا کر دے گا پھر اس نے گدھے کی طرح زور سے آواز نکالی اس سے زیادہ سخت آواز میں نے نہیں سنی تھی اور میرے بعض ساتھیوں نے اندازہ لگایا کہ میں نے اسے اپنے پاس موجود لاٹھی سے مارا ہے یہاں تک کہ وہ ٹوٹ گئی ہے حالانکہ اللہ کی قسم مجھے اس کا علم تک نہ تھا یہاں تک کہ ام المومنین کے پاس حاضر ہوئے تو انہیں یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے کہا تیرا اس سے کیا کام تھا کیا تو جانتا نہ تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا لوگوں کے پاس دجال کو بھیجنے والی سب سے پہلے وہ غصہ ہوگا جو اسے کسی پر آئے گا۔

Nafi reported that Ibn Umar said: I met ibn Sayyad twice and said to some of them (his friends): You state that it was he (the Dajjal). He said: By Allah, it is not so. I said: You have not told me the truth; by Allah some of you informed me that he would not die until he would have the largest number of offspring and huge wealth and it is he about whom it is thought so. Then Ibn Sayyad talked to us. I then departed and met him again for the second time and his eye had been swollen. I said: What has happened to your eye? He said: I do not know. I said: This is in your head and you do not know about it? He said: If Allah so wills He can create it (eye) in your staff. He then produced a sound like the braying of a donkey. Some of my companions thought that I had struck him with the staff as he was with me that the staff broke into pieces, but, by Allah, I was not conscious of it. He then came to the Mother of the Faithful (Hafsa) and narrated it to her and she said: What concern do you have with him? Dont you know that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said that the first thing (by the incitement of which) he would come out before the public would be his anger?

7361Sahih Muslimصحیح

مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ الدَّجَّالَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ النَّاسِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی لَيْسَ بِأَعْوَرَ أَلَا وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَی کَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِئَةٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، محمد بن بشر عبیداللہ نافع حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا تو ارشاد فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اور مسیح دجال آنکھ سے کانا ہوگا گویا کہ اس کی آنکھ پھولے ہوئے انگور کی طرح ہوگی۔

Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) made a mention of Dajjal in the presence of the people and said: Allah is not one-eyed and behold that Dajjal is blind of the right eye and his eye would be like a floating grape.

7362Sahih Muslimصحیح

مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

ابوربیع ابوکامل حماد ابن زید ایوب محمد بن عباد حاتم ابن اسماعیل موسیٰ بن عقبہ نافع ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar through another chain of transmitters.

7363Sahih Muslimصحیح

مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْکَذَّابَ أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّکُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَمَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ک ف ر

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو کانے دجال سے ڈرایا ہے آگاہ رہو بیشک وہ کانا ہوگا اور بیشک تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے اس کی آنکھوں کے درمیان ک، ف، ر، لکھا ہوا ہوگا۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: There is never a prophet who has not warned the Ummah of that one-eyed liar; behold he is one-eyed and your Lord is not one-eyed. On his forehead are the letters k. f. r. (Kafir).

7364Sahih Muslimصحیح

مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الدَّجَّالُ مَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ک ف ر أَيْ کَافِرٌ

ابن مثنی ابن بشار ابن مثنی معاذ بن ہشام ابوقتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کفر یعنی کافر لکھا ہوا ہوگا۔

Anas b. Malik reported that Allahs Messenger (ﷺ) said: There would be written three letters k. f. r., i. e. Kafir, between the eyes of the Dajjal.

7365Sahih Muslimصحیح

مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ کَافِرٌ ثُمَّ تَهَجَّاهَا ک ف ر يَقْرَؤُهُ کُلُّ مُسْلِمٍ

زہیر بن حرب عفان عبدالوارث شعیب بن حبحاب حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دجال کی ایک آنکھ اندھی ہے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہے پھر اس کے ہجے کئے یعنی ک، ف، ر اور ہر مسلمان اسے پڑھ لے گا۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Dajjal is blind of one eye and there is written between his eyes the word "Kafir". He then spelled the word as k. f. r., which every Muslim would be able to read.

7366Sahih Muslimصحیح

مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُسْرَی جُفَالُ الشَّعَرِ مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن علاء، اسحاق بن ابراہم اسحاق ابومعاویہ اعمش، شقیق حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی گھنے بالوں والا ہوگا اور اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی اور (در حقیقت) اس کی دوزخ جنت اور اس کی جنت جہنم ہے۔

Hudhaifa reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Dajjal is blind of left eye with thick hair and there would be a garden and fire with him and his fire would be a garden and his garden would be fire.

7367Sahih Muslimصحیح

مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنْهُ مَعَهُ نَهْرَانِ يَجْرِيَانِ أَحَدُهُمَا رَأْيَ الْعَيْنِ مَائٌ أَبْيَضُ وَالْآخَرُ رَأْيَ الْعَيْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ فَإِمَّا أَدْرَکَنَّ أَحَدٌ فَلْيَأْتِ النَّهْرَ الَّذِي يَرَاهُ نَارًا وَلْيُغَمِّضْ ثُمَّ لْيُطَأْطِئْ رَأْسَهُ فَيَشْرَبَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مَائٌ بَارِدٌ وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ مَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ کَافِرٌ يَقْرَؤُهُ کُلُّ مُؤْمِنٍ کَاتِبٍ وَغَيْرِ کَاتِبٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون ابی مالک اشجعی ربعی بن حراش حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں خوب جانتا ہوں کہ دجال کے ساتھ کیا ہوگا اس کے ساتھ بہتی ہوئی نہریں ہوں گی ان میں سے ایک کا پانی دیکھنے میں سفید ہوگا اور دوسری دیکھنے میں بھڑکتی ہوئی آگ ہوگی پس اگر کوئی آدمی اس کو پالے تو اس نہر میں جائے جسے بھڑکتی ہوئی آگ تصور کرے اور آنکھ بند کر کے اپنے سر کو جھکائے پھر اس سے پئے بیشک وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور بیشک دجال بالکل بند آنکھ والا ہوگا اس پر ایک موٹی پھلی ہوگی اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا اور ہر لکھنے والا اور جاہل مومن اسے پڑھے گا۔

Hudhaifa reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: the Dajjal would have with him water and fire and his fire would have the effect of cold water and his water would have the effect of fire, so dont put yourself to ruin. Abu Masud reported: I also heard it from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .

7368Sahih Muslimصحیح

مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَّالِ إِنَّ مَعَهُ مَائً وَنَارًا فَنَارُهُ مَائٌ بَارِدٌ وَمَاؤُهُ نَارٌ فَلَا تَهْلِکُوا

عیبد اللہ بن معاذ ابی شعبہ، محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدالملک بن عمیر ربعی حراش حضرت حذیفہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دجال کے بارے میں فرمایا کہ اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی پس اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہوگا اور اس کی پانی آگ ہوگی پس تم ہلاک نہ ہونا۔

Hudhaifa reported Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) as saying: the Dajjal would have with him water and fire and his fire would have the effect of cold water and his water would have the effect of fire, so dont put yourself to ruin. Abu Masud reported: I also heard it from Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ).

7369Sahih Muslimصحیح

مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں

قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابومسعود (رض) سے روایت ہے کہ میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی۔

This Arabic text is part of previous Hadeeth and not translated there.

7370Sahih Muslimصحیح

مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَی حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ فَقَالَ لَهُ عُقْبَةُ حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدَّجَّالِ قَالَ إِنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ وَإِنَّ مَعَهُ مَائً وَنَارًا فَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ مَائً فَنَارٌ تُحْرِقُ وَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ نَارًا فَمَائٌ بَارِدٌ عَذْبٌ فَمَنْ أَدْرَکَ ذَلِکَ مِنْکُمْ فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَاهُ نَارًا فَإِنَّهُ مَائٌ عَذْبٌ طَيِّبٌ فَقَالَ عُقْبَةُ وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ تَصْدِيقًا لِحُذَيْفَةَ

علی بن حجر شعیب بن صفوان عبدالملک بن عمیر ربعی حراش عقبہ بن عمرو ابی مسعود انصاری (رض) حضرت ربعی بن حراش (رض) سے روایت ہے کہ میں عقبہ بن عمرو بن ابی مسعود انصاری (رض) کے ساتھ حذیفہ بن یمان کی طرف چلا تو عقبہ نے ان سے کہا مجھ سے وہ حدیث روایت کریں جو آپ ﷺ نے دجال کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سنی کہا بیشک دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی پس لوگ جسے آگ تصور کریں گے وہ ٹھنڈا میٹھا پانی ہوگا پس تم میں سے جو اسے پالے تو اسی میں کود جائے جسے آگ تصور کرے کیونکہ وہ ٹھنڈا میٹھا اور پاکیزہ پانی ہوگا تو عقبہ نے حذیفہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی آپ ﷺ سے اسی طرح سنا۔

Uqba bin Amr Abu Masud al-Ansari reported: I went to Hudhaifa bin Yaman and said to him: Narrate what you have heard from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) pertaining to the Dajjal. He said that the Dajjal would appear and there would be along with him water ant fire and what the people would see as water that would be fire and that would burn and what would appear as fire that would be water and any one of you who would see that should plunge in that which he sees as fire for it would be sweet, pure water, and Uqba said: I also heard it, testifying Hudhaifa.

7371Sahih Muslimصحیح

مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْمُغِيرَةِ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ حُذَيْفَةُ لَأَنَا بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ أَعْلَمُ مِنْهُ إِنَّ مَعَهُ نَهْرًا مِنْ مَائٍ وَنَهْرًا مِنْ نَارٍ فَأَمَّا الَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ نَارٌ مَائٌ وَأَمَّا الَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ مَائٌ نَارٌ فَمَنْ أَدْرَکَ ذَلِکَ مِنْکُمْ فَأَرَادَ الْمَائَ فَلْيَشْرَبْ مِنْ الَّذِي يَرَاهُ أَنَّهُ نَارٌ فَإِنَّهُ سَيَجِدُهُ مَائً قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَکَذَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ

علی بن حجر اسحاق ابن حجر جریر، مغیرہ، نعیم، ابی ہند، ربعی بن حراش سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ اور ابومسعود (رض) اکٹھے ہوگئے تو حذیفہ نے کہا میں ان سے زیادہ جانتا ہوں کہ دجال کے ساتھ کیا ہوگا ؟ بیشک اس کے ساتھ ایک نہر پانی کی اور ایک نہر آگ کی ہوگی پس جسے تم آگ تصور کرو گے وہ پانی ہوگا اور جسے تم پانی تصور کرو گے وہ آگ ہوگی پس تم میں سے جو اسے پالے اور پانی کا ارادہ کرے تو چاہے کہ وہ اسی سے پیے جسے آگ تصور کرے کیونکہ وہ اسے پانی ہی پائے گا ابومسعود نے کہا کہ میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح فرماتے ہوئے سنا۔

Hudhaifa and Ibn Masud met together. Hudhaifa said: I know more than you as to what there would be along with the Dajjal. There would be along with him two canals (one flowing with water) and the other one (having) fire (within it), and what you would see as fire would be water and what you would see as water would be fire. So he who amongst you is able to see that and is desirous of water should drink out of that which he sees as fire.