موت کے وقت اللہ تعالیٰ کی ذات سے اچھا گمان رکھنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُبْعَثُ کُلُّ عَبْدٍ عَلَی مَا مَاتَ عَلَيْهِ
قتیبہ بن سعید، عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ ہر بندے کو اس ( اسی حالت یا اسی نیت کے ساتھ) پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ مرا ہے۔
Jabir reported: I heard Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying. Every servant would be raised (in the same very state) in which he dies.
موت کے وقت اللہ تعالیٰ کی ذات سے اچھا گمان رکھنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ
ابوبکر بن نافع عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، حضرت اعمش (رض) اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح حدیث نقل کرتے ہیں کہ لیکن اس روایت میں انہوں نے عن النبی ﷺ کے الفاظ کہے ہیں اور سمعت کا لفظ نہیں کہا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Amash but with a slight variation of wording.
موت کے وقت اللہ تعالیٰ کی ذات سے اچھا گمان رکھنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ کَانَ فِيهِمْ ثُمَّ بُعِثُوا عَلَی أَعْمَالِهِمْ
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب حمزہ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب دینا چاہتا ہے تو جو لوگ اس قوم میں ہوتے ہیں ان سب پر عذاب ہوتا ہے پھر ان کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
Abdullah bin Umar (RA) reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: When Allah intends to chastise a people, He chastises all of them then they would be raised according to their deeds.
فتنوں کے قریب ہونے اور یاجوج ماجوج کی آڑ کھلنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ مِنْ نَوْمِهِ وَهُوَ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ وَعَقَدَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ عَشَرَةً قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِکُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ نَعَمْ إِذَا کَثُرَ الْخَبَثُ
عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، زہری، عروہ، زینب، ام سلمہ، ام حبیبہ، حضرت زینب بنت جحش سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی نیند سے یہ کہتے ہوئے بیدار ہوئے لا الہ الا اللہ عرب کے لئے اس شر سے ہلاکت ہو جو قریب آپہنچا یاجوج ماجوج کی آڑ آج اتنی کھل گئی ہے اور سفیان راوی نے اپنے ہاتھ سے دس کا عدد کا حلقہ بنایا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے اس حال میں کہ نیک لوگ ہم میں موجود ہوں گے آپ نے فرمایا جب فسق وفجور کی کثرت ہوجائے گی۔
Zainab bint Jahsh reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) got up from sleep saying: There is no god but Allah; there is a destruction in store for Arabia because of turmoil which is at hand, the barrier of Gog and Magog has opened so much. And Sufyan made a sign of ten with the help of his hand (in order to indicate the width of the gap) and I said: Allahs Messenger, would we be perished in spite of the fact that there would be good people amongst us? Thereupon he said: Of course, but only when the evil predominates.
فتنوں کے قریب ہونے اور یاجوج ماجوج کی آڑ کھلنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَسَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادُوا فِي الْإِسْنَادِ عَنْ سُفْيَانَ فَقَالُوا عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ حَبِيبَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، سعید بن عمرو اشعثی، زہیر بن حرب، ابن ابی عمر، سفیان، زہری، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zainab bint Jahsh with a slight variation in the chain of transmitters.
فتنوں کے قریب ہونے اور یاجوج ماجوج کی آڑ کھلنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَزِعًا مُحْمَرًّا وَجْهُهُ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِکُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ نَعَمْ إِذَا کَثُرَ الْخَبَثُ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، زینب بنت ابوسلمہ، ام حبیبہ بنت ابی سفیان، حضرت زینب بنت جحش (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ گھبرائے اس حال میں نکلے کہ آپ کا چہرہ سرخ تھا اور فرما رہے تھے لا الہ الا اللہ عرب کے لئے اس شر سے ہلاکت ہو جو قریب آچکا ہے آج یاجوج ماجوج کی آڑ اتنی کھل چکی ہے اور آپ ﷺ نے اپنے انگوٹھے اور اس کے ساتھ ملی ہوئی انگلی کا حلقہ بنا کر بتایا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم اپنے اندر موجود نیک لوگوں کے باوجود بھی ہلاک ہوجائیں گے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں جب فسق وفجور کی کثرت ہوجائے گی۔
Zainab bint Jahsh, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , reported that one day Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came out in a state of excitement with his face quite red. And he was saying: There is no god but Allah; there is a destruction in store for Arabia because of the turmoil which is near at hand as the barrier of Gog and Magog has been opened like it, and he (in order to explain it) made a ring with the help of his thumb and forefinger. I said: Allahs Messenger, would we be destroyed despite the fact that there would be pious people amongst us? He said: Yes, when the evil would predominate.
فتنوں کے قریب ہونے اور یاجوج ماجوج کی آڑ کھلنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ
عبدالملک، شعیب، لیث، عقیل بن خالد، عمرو ناقد، یعقوب بن ابراہیم، بن سعد، ابی صلاح، ابن شہباب یونس، زہری، ان اسناد سے بھی یہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with a different chain of transmitters.
فتنوں کے قریب ہونے اور یاجوج ماجوج کی آڑ کھلنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ وَعَقَدَ وُهَيْبٌ بِيَدِهِ تِسْعِينَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، احمد بن اسحاق، وہیب، عبداللہ بن طاؤس، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا آج یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل گئی ہے اور وہیب راوی نے اپنے ہاتھ سے نوے کا حلقہ بنایا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Today the wall (barrier) of Gog and Magog has been opened so much, and Wuhaib (in order to explain it) made the figure of ninety with the help of his hand.
بیت اللہ کے ڈھانے کا ارادہ کرنے والے لشکر کے دھنسائے جانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ قَالَ دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ وَأَنَا مَعَهُمَا عَلَی أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَسَأَلَاهَا عَنْ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ وَکَانَ ذَلِکَ فِي أَيَّامِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ فَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ فَإِذَا کَانُوا بِبَيْدَائَ مِنْ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَکَيْفَ بِمَنْ کَانَ کَارِهًا قَالَ يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ وَلَکِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَی نِيَّتِهِ وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ هِيَ بَيْدَائُ الْمَدِينَةِ
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، قتیبہ، اسحاق، جریر، عبدالعزیز بن رفیع، عبید اللہ بن قبطیہ سے روایت ہے کہ میں، حارث بن ابی ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان کے ہمراہ ام المومنین ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان دونوں نے سیدہ سے اس لشکر کے بارے میں سوال کیا جسے ابن زبیر کی خلافت کے دوران دھنسایا گیا تھا تو سیدہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک پناہ لینے والا بیت اللہ کی پناہ لے گا پھر اس کی طرف لشکر بھیجا جائے گا وہ جب ہموار زمین میں پہنچے گا تو انہیں دھنسا دیا جائے گا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول جس کو زبرد ستی اس لشکر میں شامل کیا گا ہو اس کا کیا حکم ہے آپ نے فرمایا اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا لیکن قیامت کے دن اسے اس کی نیت پر اٹھایا جائے گا ابوجعفر نے کہا بیداء سے (میدان) مدینہ مراد ہے۔
Harith b Abi Rabiah and Abdullah bin Safwan both went to Umm Salamah, the Mother of the Faithful, and they asked her about the army which would be sunk in the earth, and this relates to the time when Ibn Zubair (was the governor of Makkah). She reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had said that a seeker of refuge would seek refuge in the Sacred House and an army would be sent to him (in order to kill him) and when it would enter a plain ground, it would be made to sink. I said: Allahs Messenger, what about who was forced to join them?? Thereupon he said: He would be made to sink along with them but he would be raised on the Day of Resurrection on the basis of his intention. Abu Jafar said. This plain ground means the plain ground of Madinah.
بیت اللہ کے ڈھانے کا ارادہ کرنے والے لشکر کے دھنسائے جانے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِ قَالَ فَلَقِيتُ أَبَا جَعْفَرٍ فَقُلْتُ إِنَّهَا إِنَّمَا قَالَتْ بِبَيْدَائَ مِنْ الْأَرْضِ فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ کَلَّا وَاللَّهِ إِنَّهَا لَبَيْدَائُ الْمَدِينَةِ
احمد بن یونس، زہیر، عبدالعزیز بن رفیع، ابوجعفر اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں راوی کہتا ہے کہ میں ابوجعفر سے ملا تو میں نے کہا سیدہ نے تو زمین کا ایک میدان کہا تو ابوجعفر نے کہا ہرگز نہیں اللہ کی قسم وہ میدان مدینہ منورہ کا ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abdullah bin Rufai, with the same chain of transmitters (but with the addition of these words):"When I met Abu Jafar I told him that she (simply) meant the plain ground. Thereupon Abu Jafar said: No, by God, she meant the plain ground of Madinah.
بیت اللہ کے ڈھانے کا ارادہ کرنے والے لشکر کے دھنسائے جانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ حَتَّی إِذَا کَانُوا بِبَيْدَائَ مِنْ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوْسَطِهِمْ وَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ آخِرَهُمْ ثُمَّ يُخْسَفُ بِهِمْ فَلَا يَبْقَی إِلَّا الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ فَقَالَ رَجُلٌ أَشْهَدُ عَلَيْکَ أَنَّکَ لَمْ تَکْذِبْ عَلَی حَفْصَةَ وَأَشْهَدُ عَلَی حَفْصَةَ أَنَّهَا لَمْ تَکْذِبْ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عمرو ناقد، ابن ابی عمرو، سفیان، ابن عیینہ، امیہ بن صفوان، عبداللہ بن صفوان، حضرت ام المومنین سیدہ حفصہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اس گھر (بیت اللہ) والوں سے لڑنے کے ارادہ سے ایک لشکر چڑھائی کرے گا یہاں تک کہ جب وہ زمین کے ہموار میدان میں ہوں گے تو ان کے درمیانی لشکر کو دھنسا دیا جائے گا اور ان کے آگے والے پیچھے والوں کو پکاریں گے پھر انہیں بھی دھنسا دیا جائے گا اور سوائے ایک آدمی کے جو بھاگ کر ان کے بارے میں اطلاع دے گا کوئی بھی باقی نہ رہے گا ایک آدمی نے کہا میں گواہی دیتا ہوں تیری اس بات پر کہ تو نے حفصہ (رض) پر جھوٹ نہیں باندھا اور حفصہ (رض) پر بھی میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے بھی نبی ﷺ پر جھوٹ نہیں باندھا۔
Abdullah bin Safwan reported that Hafsa told him that she had heard Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: An army would attack this House in order to fight against the inhabitants of this House and when it would be at the plain ground the ranks in the centre of the army would be sunk and the vanguard would call the rear flanks of the army and they would also be sunk and no flank would be left except some people who would go to inform them (their kith and kin). A person (who had been listening to this hadith from Abdullah bin Safwan) said: I bear testimony in regard to you that you are not imputing a lie to Hafsa. And I bear testimony to the fact that Hafsa is not telling a lie about Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .
بیت اللہ کے ڈھانے کا ارادہ کرنے والے لشکر کے دھنسائے جانے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ الْعَامِرِيِّ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَکَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيَعُوذُ بِهَذَا الْبَيْتِ يَعْنِي الْکَعْبَةَ قَوْمٌ لَيْسَتْ لَهُمْ مَنَعَةٌ وَلَا عَدَدٌ وَلَا عُدَّةٌ يُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ حَتَّی إِذَا کَانُوا بِبَيْدَائَ مِنْ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ قَالَ يُوسُفُ وَأَهْلُ الشَّأْمِ يَوْمَئِذٍ يَسِيرُونَ إِلَی مَکَّةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ أَمَا وَاللَّهِ مَا هُوَ بِهَذَا الْجَيْشِ قَالَ زَيْدٌ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ الْعَامِرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ مَاهَکَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ فِيهِ الْجَيْشَ الَّذِي ذَکَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ
محمد بن حاتم، ابن میمون، ولید بن صالح، عبیداللہ بن عمرو، زید بن ابی انیسہ، عبدالملک عامری، یوسف بن ماہک، عبداللہ بن صفوان، سیدہ ام المومنین سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب ایک قوم اس گھر یعنی خانہ کعبہ کی پناہ لے گی جن کے پاس کوئی رکاوٹ نہ ہوگی نہ آدمیوں کی تعداد ہوگی اور نہ ہی سامان (ضروریات زندگی) ہوگا ان کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا جب وہ زمین کے ایک ہموار میدان میں ہوں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا یوسف نے کہا شام والے (یعنی حجاج کا لشکر) ان دنوں مکہ والوں سے لڑنے کے لئے روانہ ہوچکے تھے عبداللہ بن صفوان نے کہا اللہ کی قسم وہ لشکر یہ نہیں۔
Abdullah bin Safwan reported the Mother of the Faithful as saying that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: They would soon seek protection in this House, viz. Ka’bah (the defenceless), people who would have nothing to protect themselves in the shape of weapons or the strength of the people. An army would be sent to fight (and kill) them and when they would enter a plain ground the army would be sunk in it. Yusuf (one of the narrators) said: It was a people of Syria (hordes of Hajjaj) who had been on that day coming towards Makkah for an attack (on Abdulllah bin Zubair) and Abdullah bin Safwan said: By God, it does not imply this army.
بیت اللہ کے ڈھانے کا ارادہ کرنے والے لشکر کے دھنسائے جانے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ عَبَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَنَعْتَ شَيْئًا فِي مَنَامِکَ لَمْ تَکُنْ تَفْعَلُهُ فَقَالَ الْعَجَبُ إِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ بِالْبَيْتِ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ لَجَأَ بِالْبَيْتِ حَتَّی إِذَا کَانُوا بِالْبَيْدَائِ خُسِفَ بِهِمْ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الطَّرِيقَ قَدْ يَجْمَعُ النَّاسَ قَالَ نَعَمْ فِيهِمْ الْمُسْتَبْصِرُ وَالْمَجْبُورُ وَابْنُ السَّبِيلِ يَهْلِکُونَ مَهْلَکًا وَاحِدًا وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّی يَبْعَثُهُمْ اللَّهُ عَلَی نِيَّاتِهِمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یونس بن محمد، قاسم بن فضل، محمد بن زیاد، عبداللہ بن زبیر، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نیند میں اپنے ہاتھ پاؤں کو ہلایا تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ نے اپنی نیند میں وہ عمل کیا جو پہلے نہ فرمایا کرتے تھے تو آپ نے فرمایا تعجب ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ بیت اللہ کا ارادہ کریں گے قریش کے ایک آدمی کو پکڑنے کے لئے جس نے بیت اللہ میں پناہ لی ہوگا یہاں تک کہ جب وہ ایک ہموار میدان میں پہنچیں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول راستے میں تو سب لوگ جمع ہوتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ان میں با اختیار مجبور اور مسافر بھی ہوں گے جو ایک ہی دفعہ ہلاک ہوجائیں گے اور مختلف طریقوں سے نکلیں گے اور انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was startled in the state of sleep. We said: Allahs Messenger, you have done something in the state of your sleep which you never did before. Thereupon he said: Strange it is that some people of my Ummah would attack the House (Ka’bah) (for killing) a person who would belong to the tribe of the Quraish and he would try to seek protection in the House. And when they would reach the plain ground they would be sunk. We said: Allahs Messenger, all sorts of people throng the path. Thereupon he said: Yes, there would be amongst them people who would come with definite designs and those who would come under duress and there would be travellers also, but they would all be destroyed through one (stroke) of destruction, though they would be raised in different states (on the Day of Resurrection). Allah would, however, raise them according to their intention.
فتنوں کا بارش کے قطروں کی طرح نازل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أُسَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ عَلَی أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ قَالَ هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَی إِنِّي لَأَرَی مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلَالَ بُيُوتِکُمْ کَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، زہری، عروہ حضرت اسامہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مدینہ منورہ کے قلعوں میں سے ایک قلعہ پر چڑھے پھر ارشاد فرمایا کیا تم وہ دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں کی جگہوں میں فتنے ایسے گر رہے ہیں جیسے بارش کے قطرات گرتے ہیں۔
Usama reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) climbed up a battlement amongst the battlements of Madinah and then said: You do not see what I am seeing and I am seeing the places of turmoil between your houses as tile places of rainfall.
فتنوں کا بارش کے قطروں کی طرح نازل ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ روایت کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
فتنوں کا بارش کے قطروں کی طرح نازل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَتَکُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْمَاشِي وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنْ السَّاعِي مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفُهُ وَمَنْ وَجَدَ فِيهَا مَلْجَأً فَلْيَعُذْ بِهِ
عمرو ناقد، حسن حلوانی، عبد بن حمید، عبد یعقوب بن ابراہیم بن سعد ابوصالح ابن شہاب ابن مسیب ابوسلمہ ابن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب فتنے (ظاہر) ہوں گے ان میں بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے افضل ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اور جو آدمی گردن اٹھا کر انہیں دیکھے گا تو وہ اسے ہلاک کردیں گے اور جسے ان میں کوئی پناہ کی جگہ مل جائے تو چاہئے کہ وہ پناہ لے لے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There will be soon a period of turmoil in which the one who sits will be better than one who stands and the one who stands will be better than one who walks and the one who walks will be better than one who runs. He who would watch them will be drawn by them. So he who finds a refuge or shelter against it should make it as his resort.
فتنوں کا بارش کے قطروں کی طرح نازل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ هَذَا إِلَّا أَنَّ أَبَا بَکْرٍ يَزِيدُ مِنْ الصَّلَاةِ صَلَاةٌ مَنْ فَاتَتْهُ فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ
عمرو ناقد حسن حلوانی عبد بن حمید عبد یعقوب ابوصالح ابن شہاب ابوبکر بن عبدالرحمن عبدالرحمن بن مطیع بن اسود نوفل بن معاویہ ابوہریرہ (رض) اس سند سے بھی یہ حدیث روایت کی گئی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ نمازوں میں سے ایک نماز ایسی ہے جس سے وہ نماز قضاء ہوجائے تو ایسا ہے گویا کہ اس کا گھر اور مال سب لوٹ لیا گیا ہو۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) but with this variation of wording that in the hadith transmitted on the authority of Abu Bakr, there is an addition of these words: "There is a prayer among prayers (Asr) and one who misses it is as if his family and property have been ruined."
فتنوں کا بارش کے قطروں کی طرح نازل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَکُونُ فِتْنَةٌ النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْيَقْظَانِ وَالْيَقْظَانُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ السَّاعِي فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْيَسْتَعِذْ
اسحاق بن منصور ابوداؤد طیالسی ابراہیم، بن سعد ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا فتنے ہوں گے تو ان میں سونے والا بیدار رہنے والے سے بہتر ہوگا اور بیدار کھڑا ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا پس جس آدمی کو کوئی پناہ کی جگہ یا حفاظت کی جگہ مل جائے تو اسے چاہئے کہ وہ پناہ حاصل کرے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There would be turmoil and the one who would sleep would be better than who would be awake and the one who would be awake would be better than one who would stand and one who would stand would be better than one who would run. So he who finds refuge or shelter should take that refuge or shelter.
فتنوں کا بارش کے قطروں کی طرح نازل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَفَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ إِلَی مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ وَهُوَ فِي أَرْضِهِ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا هَلْ سَمِعْتَ أَبَاکَ يُحَدِّثُ فِي الْفِتَنِ حَدِيثًا قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرَةَ يُحَدِّثُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَکُونُ فِتَنٌ أَلَا ثُمَّ تَکُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْمَاشِي فِيهَا وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنْ السَّاعِي إِلَيْهَا أَلَا فَإِذَا نَزَلَتْ أَوْ وَقَعَتْ فَمَنْ کَانَ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ وَمَنْ کَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ وَمَنْ کَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَکُنْ لَهُ إِبِلٌ وَلَا غَنَمٌ وَلَا أَرْضٌ قَالَ يَعْمِدُ إِلَی سَيْفِهِ فَيَدُقُّ عَلَی حَدِّهِ بِحَجَرٍ ثُمَّ لِيَنْجُ إِنْ اسْتَطَاعَ النَّجَائَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ أُکْرِهْتُ حَتَّی يُنْطَلَقَ بِي إِلَی أَحَدِ الصَّفَّيْنِ أَوْ إِحْدَی الْفِئَتَيْنِ فَضَرَبَنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ أَوْ يَجِيئُ سَهْمٌ فَيَقْتُلُنِي قَالَ يَبُوئُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِکَ وَيَکُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ
ابوکامل جحدری فضیل بن حسین بن حماد بن زید عثمان شحام حضرت عثمان بن الشحام سے روایت ہے کہ میں اور فرقد سنجی مسلم بن ابوبکر کی طرف چلے اور وہ اپنی زمین میں تھے ہم ان کے پاس حاضر ہوئے تو ہم نے کہا کیا آپ نے اپنے باپ سے فتنوں کے بارے میں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے انہوں نے کہا ہاں میں نے ابوبکرہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ فرمایا عنقریب فتنے برپا ہوں گے آگاہ رہو پھر فتنے ہوں گے ان میں بیٹھنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا ان کی طرف دوڑنے والے سے بہتر ہوگا آگاہ رہوجب یہ نازل ہوں یا واقع ہوں تو جس کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے ساتھ ہی لگا رہے اور جس کی زمین ہو وہ اپنی زمین سے ہی چمٹا رہے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں جس کے پاس نہ اونٹ ہوں اور نہ بکریاں نہ ہی زمین آپ ﷺ نے فرمایا وہ اپنی تلوار لے کر اس کی دھار پتھر کے ساتھ رگڑ کر کند اور ناکارہ کر دے پھر اگر وہ نجات حاصل کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو نجات حاصل کرے اے اللہ میں نے تیرا حکم پہنچا دیا ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں کہ اگر مجھے ناپسندیدگی اور ناگواری کے باوجود ان دونوں صفوں میں سے ایک صف یا ایک گروپ میں کھڑا کردیا جائے پھر کوئی آدمی اپنی تلوار سے مجھے مار دے یا کوئی تیر میری طرف آجائے جو مجھے قتل کر ڈالے آپ ﷺ نے فرمایا وہ آدمی اپنے گناہ اور تیرے گناہ کے ساتھ لوٹے گا اور دوزخ والوں میں سے ہوگا۔
Abu Bakr (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There would soon be turmoil. Behold! there would be turmoil in which the one who would be seated would be better than one who would stand and the one who would stand would be better than one who would run. Behold! when the turmoil comes or it appears, the one who has camel should stick to his camel and he who has sheep or goat should stick to his sheep and goat and he who has land should stick to the land. A person said: Allahs Messenger, what is your opinion about one who has neither camel nor sheep nor land? Thereupon, he said: He should take hold of his sword and beat its edge with the help of stone and then try to find a way of escape. O Allah, I have conveyed (Thy Message) ; O Allah, I have conveyed (Thy Message) ; O Allah, I have conveyed (Thy Message). A person said: Allahs Messenger, what is your opinion if I am drawn to a rank in spite of myself, or in one of the groups and made to march and a man strikes with his sword or there comes an arrow and kills me? Thereupon he said: He will bear the punishment of his sin and that of yours and he would be one amongst the denizens of Hell.
فتنوں کا بارش کے قطروں کی طرح نازل ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ حَدِيثُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادٍ إِلَی آخِرِهِ وَانْتَهَی حَدِيثُ وَکِيعٍ عِنْدَ قَوْلِهِ إِنْ اسْتَطَاعَ النَّجَائَ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب وکیع، محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، عثمان شحام ابن ابی عدی، حماد ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ وکیع کی حدیث آپ ﷺ کے ارشاد اگر وہ نجات کی طاقت رکھتا ہو تک ہے۔ آگے مذکور نہیں۔
This hadith has been transmitted on the authority of Waki with a slight variation of wording.