Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 3 of 379

41Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنِي خَلِيفَةُ بْنُ مُوسَی قَالَ دَخَلْتُ عَلَی غَالِبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فَجَعَلَ يُمْلِي عَلَيَّ حَدَّثَنِي مَکْحُولٌ حَدَّثَنِي مَکْحُولٌ فَأَخَذَهُ الْبَوْلُ فَقَامَ فَنَظَرْتُ فِي الْکُرَّاسَةِ فَإِذَا فِيهَا حَدَّثَنِي أَبَانٌ عَنْ أَنَسٍ وَأَبَانُ عَنْ فُلَانٍ فَتَرَکْتُهُ وَقُمْتُ وَسَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيَّ يَقُولُا رَأَيْتُ فِي کِتَابِ عَفَّانَ حَدِيثَ هِشَامٍ أَبِي الْمِقْدَامِ حَدِيثَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ هِشَامٌ حَدَّثَنِي رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ يَحْيَی بْنُ فُلَانٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قُلْتُ لِعَفَّانَ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ هِشَامٌ سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ فَقَالَ إِنَّمَا ابْتُلِيَ مِنْ قِبَلِ هَذَا الْحَدِيثِ کَانَ يَقُولُ حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مُحَمَّدٍ ثُمَّ ادَّعَی بَعْدُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ

فضل بن موسیٰ، یزید بن ہارون، خلیفہ بن موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں غالب بن عبیداللہ کے پاس گیا تو وہ مجھے مکحول کی روایات لکھوانے لگا اتنے میں اسے پیشاب آگیا وہ چلا گیا میں نے اس کی اصل کتاب میں دیکھا تو اس میں وہ روایت اس طرح تھی کہ ابان نے انس سے روایت کی اور ابان نے فلاں شخص سے یہ دیکھ کر میں نے اس سے روایت کرنا چھوڑ دیا اور اٹھ کر چلا گیا اور امام مسلم کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن علی الحلوانی سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے عفان کی کتاب میں ہشام ابی المقدام کی روایت عمر بن عبدالعزیز کی سند سے دیکھی ہشام نے کہا مجھے ایک شخص نے جس کو یحییٰ کہا جاتا ہے ایک حدیث محمد بن کعب سے بیان کی میں نے عفان بن فلاں سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہشام نے خود اس حدیث کو محمد بن کعب سے سنا ہے عفان نے کہا ہشام اسی حدیث کی وجہ سے مصیبت میں پڑگیا کیونکہ پہلے کہتا تھا کہ مجھ سے یحییٰ نے محمد سے روایت کی پھر اس کے بعد اس نے دعوی کیا کہ اس نے اس روایت کو محمد سے سنا ہے اور واسطہ کو حذف کردیا۔

Al-Faḍl bin Sahl narrated to me, he said Yazīd bin Hārūn narrated to us, he said Khalīfah bin Mūsā informed me, he said: ‘I entered upon Ghālib bin Ubayd Allah so he began dictating to me ‘Mak’hūl narrated to me this’ and ‘Mak’hūl narrated to me that’. So he prepared to answer the call of nature and stood up, then I looked in his notebook and in it was ‘Abān narrated to me, on authority of Anas’ and ‘Abān on authority of so-and-so’. So I abandoned [listening to his Ḥadīth] and stood up [to leave]’. I heard al-Hasan bin Alī al-Hulwānī saying: ‘I saw in one of the books of Affān a Ḥadīth of Hishām Abīl-Miqdām meaning a Ḥadīth of Umar bin Abd il-Azīz. [In it was written] ‘Hishām said: ‘A man said to be Yahyā bin so-and-so narrated to me, on authority of Muhammad bin Ka’b…’ [Al-Hulwānī] said, I said to Affān: ‘They would say Hishām heard it [directly] from Muhammad bin Ka’b’. So [Affān] said: ‘Indeed Hishām was stricken [with accusations of lying] with regards to this Ḥadīth for he would say ‘Yahyā narrated to me on authority of Muhammad’, then he claimed afterwards that he heard it from Muhammad [directly]’.’

42Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ يَقُولُ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي رَوَيْتَ عَنْهُ حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يَوْمُ الْفِطْرِ يَوْمُ الْجَوَائِزِ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَجَّاجِ انْظُرْ مَا وَضَعْتَ فِي يَدِکَ مِنْهُ قَالَ ابْنُ قُهْزَاذَ وَسَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ زَمْعَةَ يَذْکُرُ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَکِ رَأَيْتُ رَوْحَ بْنَ غُطَيْفٍ صَاحِبَ الدَّمِ قَدْرِ الدِّرْهَمِ وَجَلَسْتُ إِلَيْهِ مَجْلِسًا فَجَعَلْتُ أَسْتَحْيِي مِنْ أَصْحَابِي أَنْ يَرَوْنِي جَالِسًا مَعَهُ کُرْهَ حَدِيثِهِ

محمد بن عبداللہ قہزاد، حضرت عبداللہ بن عثمان بن جبلہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے پوچھا کہ وہ شخص کون ہے جس سے آپ نے عبداللہ بن عمر کی یہ روایت بیان کی ہے کہ عبدالفطر تحفہ تحائف کا دن ہے ابن مبارک نے جواب دیا کہ وہ سلیمان بن حجاج ہے جو میں نے نقل کروائی ہیں اور تیرے پاس ہیں ان میں غور و فکر کرلو ابن قہزاد نے کہا کہ میں نے وہب بن زمعہ سے سنا وہ روایت کرتے تھے سفیان بن عبدالملک سے کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا کہ میں نے روح بن غطیف کو دیکھا اور اس کی مجلس میں بیٹھاہوں جس نے درہم سے کم خون کی نجاست معاف ہے والی حدیث روایت کی ہے پھر میں اپنے دوستوں سے شرمانے لگا کہ وہ مجھے اس کے پاس بیٹھا دیکھیں اس کی حدیث کی نا پسندیدگی کی وجہ سے اور اس کی روایت میں نا مقبولی کی وجہ سے۔

Muhammad bin Abd Allah bin Quhzādh narrated to me, he said I heard Abd Allah bin Uthmān bin Jabalah saying, I said to Abd Allah bin al-Mubārak: ‘Who is this man from whom you transmit the Ḥadīth of Abd Allah bin Amr, ‘The day of Fitr is the day of prizes…’?’ [Abd Allah] said: ‘Sulaymān bin al-Hajjāj. Look at what I placed in your hands [of praise] about him’. Ibn Quhzādh said I heard Wahb bin Zam’ah mentioning about Sufyān bin Abd il-Mālik, he said, Abd Allah –meaning Ibn al-Mubārak- said: ‘I saw Rawh bin Ghutayf, the companion of blood the amount of a Dirham , and I took a seat in one of his audiences. Then I began to become ashamed for my companions to see me sitting with him while his Ḥadīth are disapproved of.’

43Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي ابْنُ قُهْزَاذَ قَالَ سَمِعْتُ وَهْبًا يَقُولُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَکِ قَالَ بَقِيَّةُ صَدُوقُ اللِّسَانِ وَلَکِنَّهُ يَأْخُذُ عَمَّنْ أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ

ابن قہزاد، وہب، سفیان، حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ بقیہ بن ولید سچا آدمی ہے لیکن وہ ہر آنے جانے والے آدمی سے حدیث لے لیتا ہے۔

bn Quhzādh narrated to me, he said, I heard Wahb [bin Zam’ah] saying, on authority of Sufyān [bin Abd il-Mālik], on authority of Ibn al-Mubārak, he said: ‘Baqiyyah [bin al-Walīd] is truthful of tongue however he transmits [Ḥadīth] from those who approach [the Muhaddithīn, i.e. are trustworthy] and from those who turn their backs on [the Muhaddithīn, i.e. and are weak]’.

44Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ الْهَمْدَانِيُّ وَکَانَ کَذَّابًا

قتیبہ بن سعید، جریر، مغیرہ، شعبی بیان فرماتے ہیں کہ مجھے حارث اعور ہمدانی نے حدیث بیان کی اور وہ جھوٹا آدمی تھا۔

Qutaybah bin Sa’īd narrated to us, Jarīr narrated to us, on authority of Mughīrah, on authority of ash-Sha’bī, he said: ‘al-Hārith al-A’war ul-Hamdānī narrated to me, and he is a liar’.

45Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ مُفَضَّلٍ عَنْ مُغِيرَةَ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ وَهُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ أَحَدُ الْکَاذِبِينَ

ابوعامر عبداللہ بن براد اشعری، ابواسامہ، مفضل، حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے شعبی سے سنا وہ کہتے تھے کہ مجھے حارث اعور نے حدیث بیان کی اور شعبی اس بات کو گواہی دیتے تھے کہ اعور جھوٹوں میں سے ایک ہے۔

Abū Āmir Abd Allah bin Barrād al-Ash’arī narrated to us, Abū Usāmah narrated to us, on authority of Mufaḍḍal, on authority of Mughīrah, he said I heard ash-Sha’bī saying: ‘al-Hārith al-A’war narrated to me,’ and he [ash-Sha’bī] was testifying that he was one of the liars’.

46Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قَالَ عَلْقَمَةُ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فِي سَنَتَيْنِ فَقَالَ الْحَارِثُ الْقُرْآنُ هَيِّنٌ الْوَحْيُ أَشَدُّ

قتیبہ بن سعید، جریر، مغیرہ، ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے کہا کہ میں نے قرآن کریم دو سال میں پڑھا حارث نے کہا قرآن آسان ہے اور احادیث کو حاصل کرنا مشکل ہے۔

Qutaybah bin Sa’īd narrated to us, Jarīr narrated to us, on authority of Mughīrah, on authority of Ibrāhīm [bin Yazīd an-Nakhā’ī], he said, Alqamah said: ‘I memorized the Qur’ān in two years’. Al-Hārith said: ‘The Qur’ān is easy; the revelation [i.e. the secret revelation to Alī in the belief of the Shī’ah] is more difficult ’.

47Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ الْحَارِثَ قَالَ تَعَلَّمْتُ الْقُرْآنَ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ وَالْوَحْيَ فِي سَنَتَيْنِ أَوْ قَالَ الْوَحْيَ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ الْقُرْآنَ فِي سَنَتَيْنِ

حجاج بن شاعر، احمد بن یونس، حضرت ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ حارث نے کہا کہ میں نے قرآن تین سال میں سیکھا اور احادیث مبارکہ کو دو سال میں یا کہ حدیث تین سال میں اور قرآن دو سال میں۔

Hajjāj bin ash-Shā’ir narrated to me, Ahmad- meaning Ibn Yūnus- narrated to us, Zā’idah narrated to us, on authority of al-A’mash, on authority of Ibrāhīm that al-Hārith said: ‘I studied the Qur’ān for three years and the revelation for two years’; or he said: ‘…the revelation in three years and the Qur’ān in two years ’. وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ الْحَارِثَ، قَالَ تَعَلَّمْتُ الْقُرْآنَ فِي ثَلاَثِ سِنِينَ وَالْوَحْىَ فِي سَنَتَيْنِ - أَوْ قَالَ الْوَحْىَ فِي ثَلاَثِ سِنِينَ وَالْقُرْآنَ فِي سَنَتَيْنِ .

48Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ وَالْمُغِيرَةِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ الْحَارِثَ اتُّهِمَ

حجاج شاعر، احمد بن یونس، زائدہ، منصور، مغیرہ، حضرت ابراہیم نخعی سے روایت کرتے ہیں کہ حارث متہم تھا۔

Hajjāj narrated to me, he said Ahmad- and he is Ibn Yūnus- narrated to me, Zā’idah narrated to us, on authority of Mansūr and al-Mughīrah, on authority of Ibrāhīm that al-Hārith was imputed.

49Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ قَالَ سَمِعَ مُرَّةُ الْهَمْدَانِيُّ مِنْ الْحَارِثِ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ اقْعُدْ بِالْبَابِ قَالَ فَدَخَلَ مُرَّةُ وَأَخَذَ سَيْفَهُ قَالَ وَأَحَسَّ الْحَارِثُ بِالشَّرِّ فَذَهَبَ

قتیبہ بن سعید، جریر، حمزہ زیات سے روایت ہے کہ مرہ ہمدانی نے حارث سے کوئی حدیث سنی تو حارث کو کہا کہ دروازہ پر بیٹھ جاؤ مرہ اندر گئے اور تلوار لے آئے اور کہا کہ حارث نے آہٹ محسوس کی کہ کوئی شر ہونے والا ہے تو وہ چل دیا۔

Qutaybah bin Sa’īd narrated to us, Jarīr narrated to us, on authority of Hamzah az-Zayyāt, he said: ‘Murrah al-Hamdānī heard something from al-Hārith and said to him: ‘sit by the door’. [Hamzah] said: ‘So Murrah went inside and took his sword and al-Hārith sensed evil and left’.

50Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ قَالَ لَنَا إِبْرَاهِيمُ إِيَّاکُمْ وَالْمُغِيرَةَ بْنَ سَعِيدٍ وَأَبَا عَبْدِ الرَّحِيمِ فَإِنَّهُمَا کَذَّابَانِ

عبیداللہ بن سعید، عبدالرحمن بن مہدی، حماد بن زید، حضرت ابن عون سے روایت ہے کہ ہم نے ابراہیم سے کہا کہ مغیرہ بن سعید اور ابوعبدالرحیم سے بچو کیونکہ وہ دونوں جھوٹے آدمی ہیں۔

Ubayd Allah bin Sa’īd narrated to me, Abd ur-Rahman- meaning Ibn Mahdī- narrated to us, Hammād bin Zayd narrated to us, on authority of Ibn Awn, he said, Ibrāhīm said to us: ‘Beware of al-Mughīrah bin Sa’īd and Abū Abd ar-Rahīm for they are both liars’.

51Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ قَالَ کُنَّا نَأْتِي أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ وَنَحْنُ غِلْمَةٌ أَيْفَاعٌ فَکَانَ يَقُولُ لَنَا لَا تُجَالِسُوا الْقُصَّاصَ غَيْرَ أَبِي الْأَحْوَصِ وَإِيَّاکُمْ وَشَقِيقًا قَالَ وَکَانَ شَقِيقٌ هَذَا يَرَی رَأْيَ الْخَوَارِجِ وَلَيْسَ بِأَبِي وَائِلٍ

ابوکامل جحدری، حماد بن زید، عاصم بیان کرتے ہیں کہ ہم شباب کے زمانہ میں ابوعبدالرحمن سلمی کے پاس آیا کرتے تھے اور وہ ہمیں فرماتے تھے کہ ابوالاحوص کے علاوہ قصہ خوانوں کے پاس مت بیٹھا کرو اور بچو تم شقیق سے اور کہا کہ یہ شقیق خارجیوں کا سا اعتقاد رکھتا تھا یہ شقیقی ابو وائل نہیں ہے۔

Abū Kāmil al-Jahdarī narrated to us, Hammād- and he is Ibn Zayd- narrated to us, he said Āsim [bin Bahdalah] narrated to us, he said: ‘We would catch up with Abū Abd ar-Rahman as-Sulamī and at the time we were young men, so he would say to us: ‘Do not sit with story-tellers other than Abūl-Ahwas and beware of Shaqīq [Abū Abd ar-Rahīm]’. [Muslim] said: ‘This Shaqīq held the view of the Khawārij and is not Abū Wā’il [Shaqīq bin Salamah, the righteous Tabi’ī]’.

52Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرًا يَقُولُا لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ يَزِيدَ الْجُعْفِيَّ فَلَمْ أَکْتُبْ عَنْهُ کَانَ يُؤْمِنُ بِالرَّجْعَةِ

ابوغسان محمد بن عمرو رازی، حضرت جریر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن یزید سے رجعت کی لیکن میں نے اس سے کسی روایت کو نہیں لکھا وہ رجعت کا باطل عقیدہ رکھتا تھا۔

Abū Ghassān Muhammad bin Amr ar-Rāzī narrated to us, he said, I heard Jarīr [bin Abd al-Hamīd bin Qurt aḍ-Ḍabbī] saying: ‘I met Jābir bin Yazīd al-Ju’fī and did not write [Ḥadīth] from him; he believed in ar-Raj’ah’ [A Rāfiḍī belief regarding Alī returning].

53Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ قَبْلَ أَنْ يُحْدِثَ مَا أَحْدَثَ

حسن حلوانی، یحییٰ بن آدم، مسعر بیان کرتے ہیں کہ ہم سے جابر بن یزید نے حدیث نے بیان کی اختراع بدعت سے پہلے۔

Al-Hasan al-Hulwānī narrated to us, Yahyā bin Ādam narrated to us, Mis’ar narrated to us, he said: ‘Jābir bin Yazīd narrated to us before there took place what happened [i.e. before his false beliefs] ’.

54Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ کَانَ النَّاسُ يَحْمِلُونَ عَنْ جَابِرٍ قَبْلَ أَنْ يُظْهِرَ مَا أَظْهَرَ فَلَمَّا أَظْهَرَ مَا أَظْهَرَ اتَّهَمَهُ النَّاسُ فِي حَدِيثِهِ وَتَرَکَهُ بَعْضُ النَّاسِ فَقِيلَ لَهُ وَمَا أَظْهَرَ قَالَ الْإِيمَانَ بِالرَّجْعَةِ

سلمہ بن شبیب، حمیدی، سفیان بیان کرتے ہیں کہ لوگ جابر سے اس کے عقیدہ باطلہ کے اظہار سے پہلے احادیث بیان کرتے تھے لیکن جب اس کا عقیدہ باطل ظاہر ہوگیا اور لوگوں نے اس کو حدیث میں مہتم کیا اور بعض حضرات نے اس سے روایت ترک کردی سفیان سے کہا گیا کہ اس نے کس عقیدہ کا اظہار کیا تھا سفیان نے کہا رجعت کا۔

Salamah bin Shabīb narrated to me, al-Humaydī narrated to us, Sufyān narrated to us, he said: ‘The people would transmit from Jābir before there appeared what appeared, then when there appeared what appeared, the people imputed him in his Ḥadīth and some of the people abandoned him’. So it was said to [Sufyān]: ‘What appeared?’ [Sufyān] said: ‘Belief in ar-Raj’ah’.

55Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَی الْحِمَّانِيُّ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ وَأَخُوهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا الْجَرَّاحَ بْنَ مَلِيحٍ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُا عِنْدِي سَبْعُونَ أَلْفَ حَدِيثٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّهَا

حسن حلوانی، ابویحیی حمانی، قبیصہ، جراح بن ملیح کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن یزید سے سنا وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی ستر ہزار احادیث ابوجعفر سے مروی میرے پاس موجود ہیں۔

Hasan al-Hulwānī narrated to us, Abū Yahyā al-Himmānī narrated to us, Qabīsah and his brother [Sufyān bin Uqbah] narrated to us, that they heard al-Jarrāh bin Malīh saying, I heard Jābir say: ‘I have 70,000 Ḥadīth all of which are on authority of Abū Ja’far on authority of the Prophet, peace and blessings upon him’.

56Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ قَالَ سَمِعْتُ زُهَيْرًا يَقُولُ قَالَ جَابِرٌ أَوْ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُا إِنَّ عِنْدِي لَخَمْسِينَ أَلْفَ حَدِيثٍ مَا حَدَّثْتُ مِنْهَا بِشَيْئٍ قَالَ ثُمَّ حَدَّثَ يَوْمًا بِحَدِيثٍ فَقَالَ هَذَا مِنْ الْخَمْسِينَ أَلْفًا

حجاج بن شاعر، احمد بن یونس، حضرت زہیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر سے سنا وہ کہتے تھے کہ میرے پاس پچاس ہزار احادیث ہیں جن میں سے میں نے ابھی تک کوئی حدیث بیان نہیں کی زہیر کہتے ہیں پھر اس نے ایک دن ایک حدیث بیان کرنے کے بعد کہا یہ ان پچاس ہزار میں سے ہے۔

Hajjāj bin ash-Shā’ir narrated to me, Ahmad bin Yūnus narrated to us, he said, I heard Zuhayr saying, Jābir said, or, I heard Jābir saying: ‘Indeed I have fifty thousand Ḥadīth that I have not narrated from at all’. [Zuhayr] said: ‘Then that day he related a Ḥadīth and said, ‘This is from the fifty thousand’.

57Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْيَشْکُرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْوَلِيدِ يَقُولُ سَمِعْتُ سَلَّامَ بْنَ أَبِي مُطِيعٍ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرًا الْجُعْفِيَّ يَقُولُا عِنْدِي خَمْسُونَ أَلْفَ حَدِيثٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابراہیم بن خالد یشکری، ابو ولید، سلام بن ابی مطیع کہتے ہیں کہ میں نے جابر جعفی سے سنا وہ کہتے تھے کہ میرے پاس رسول اللہ ﷺ سے مروی پچاس ہزار احادیث مبارکہ (کا ذخیرہ موجود) ہے۔

Ibrāhīm bin Khālid al-Yashkurī narrated to me, he said, I heard Abūl-Walīd saying, I heard Sallām bin Abī Mutī’ saying, I heard Jābir al-Ju’fī saying: ‘I have fifty thousand Ḥadīth on authority of the Prophet, peace and blessings upon him’.

58Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ جَابِرًا عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ حَتَّی يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْکُمَ اللَّهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَاکِمِينَ فَقَالَ جَابِرٌ لَمْ يَجِئْ تَأْوِيلُ هَذِهِ قَالَ سُفْيَانُ وَکَذَبَ فَقُلْنَا لِسُفْيَانَ وَمَا أَرَادَ بِهَذَا فَقَالَ إِنَّ الرَّافِضَةَ تَقُولُ إِنَّ عَلِيًّا فِي السَّحَابِ فَلَا نَخْرُجُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مِنْ وَلَدِهِ حَتَّی يُنَادِيَ مُنَادٍ مِنْ السَّمَائِ يُرِيدُ عَلِيًّا أَنَّهُ يُنَادِي اخْرُجُوا مَعَ فُلَانٍ يَقُولُ جَابِرٌ فَذَا تَأْوِيلُ هَذِهِ الْآيَةِ وَکَذَبَ کَانَتْ فِي إِخْوَةِ يُوسُفَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سلمہ بن شبیب، حمیدی، سفیان بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ ایک آدمی نے جابر سے اللہ کے قول فلن ابرح الارض حتی یاذن لی ابی اویحکم اللہ لی وھو خیر الحاکمین کی تفسیر پوچھی تو جابر نے کہا کہ اس آیت کی تفسیر ابھی ظاہر نہیں ہوئی سفیان نے کہا کہ اس نے جھوٹ بولا ہم نے کہا کہ جابر کی اس سے کیا مراد تھی سفیان نے کہا کہ رافضی یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی بادلوں میں ہیں اور ہم ان کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ نہ نکلیں گے یہاں تک کہ آسمان سے حضرت علی آواز دیں گے کہ نکلو فلاں کے ساتھ جابر کہتا ہے کہ اس آیت کی تفسیر یہ ہے اور اس نے جھوٹ کہا ہے کہ یہ آیت یوسف کے بھائیوں کے متعلق ہے۔

Salamah bin Shabīb narrated to me, al-Humaydī narrated to us, Sufyān narrated to us, he said, I heard a man ask Jābir about the verse: {Thus I will never depart from the land until my father permits me or Allah decides for me, and He is the best of Judges}[Yūsuf: 80]. Jābir said: ‘An interpretation has not come to me about these [verses]’. Sufyān said: ‘He lied’. We said to Sufyān: ‘What did he mean by this?’ [Sufyān] said: ‘Indeed the Rāfiḍah say, ‘Alī is in the clouds and we will not emerge along with he who will emerge from his children [the Khalīfah] until a caller calls from the heaven, meaning Alī: ‘Ride out along with so-and-so [meaning the promised Mahdī]’. Jābir said, ‘that is an interpretation for these verses’, and he would lie as they were regarding the brothers of Yūsuf, peace be upon him’.

59Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يُحَدِّثُ بِنَحْوٍ مِنْ ثَلَاثِينَ أَلْفَ حَدِيثٍ مَا أَسْتَحِلُّ أَنْ أَذْکُرَ مِنْهَا شَيْئًا وَأَنَّ لِي کَذَا وَکَذَاقَالَ مُسْلِم وَسَمِعْتُ أَبَا غَسَّانَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو الرَّازِيَّ قَالَ سَأَلْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ فَقُلْتُ الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ لَقِيتَهُ قَالَ نَعَمْ شَيْخٌ طَوِيلُ السُّکُوتِ يُصِرُّ عَلَی أَمْرٍ عَظِيمٍ

سلمہ، حمیدی، سفیان بیان کرتے ہیں میں نے جابر سے تیس ہزار ایسی احدیث سنی ہیں کہ ان میں سے کسی ایک حدیث کو بھی میں ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھتا خواہ اس کے بدلے مجھے کتنا ہی مال وعزت ملے اور سفیان کہتے ہیں میں نے ابوغسان محمد بن عمرو رازی سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے جریر بن عبدالحمید سے پوچھا کہ کیا آپ حارث بن حصیرہ سے ملے ہیں؟ کہا ہاں وہ ایک بوڑھا شخص ہے اکثر خاموش رہتا ہے لیکن بہت بڑی بات پر اصرار کرتا ہے۔

Salamah narrated to me, al-Humaydī narrated to us, Sufyān narrated to us, he said: ‘I heard Jābir talking about something like 30,000 Ḥadīth [that] I did not regard as permissible to mention anything from, and that to me was like this and that [Ḥadīth].’ Muslim said, I heard Abū Ghassān Muhammad bin Amr ar-Rāzī say, ‘I asked Jarīr bin Abd il-Hamīd: ‘Did you meet al-Hārith bin Hasīrah? He said: ‘Yes, [he is a] Shaykh of lengthy silence; he persisted in a grave matter.’

60Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ ذَکَرَ أَيُّوبُ رَجُلًا يَوْمًا فَقَالَ لَمْ يَکُنْ بِمُسْتَقِيمِ اللِّسَانِ وَذَکَرَ آخَرَ فَقَالَ هُوَ يَزِيدُ فِي الرَّقْمِ

احمد بن ابراہیم دورقی، عبدالرحمن بن مہدی، حضرت حماد بن زید سے روایت ہے کہ ایوب نے ایک شخص ابوامیہ عبدالکریم کے بارے میں فرمایا کہ وہ راست گو نہیں اور دوسرے کا ذکر فرمایا کہ وہ تحریر میں زیادتی کرتا ہے۔

Ahmad bin Ibrāhīm ad-Dawraqī narrated to me, he said Abd ur-Rahman bin Mahdī narrated to me, on authority Hammād bin Zayd, he said, Ayyūb mentioned a man one day and said [about him]: ‘He is not upright in speech [i.e. he lies]’, and he mentioned another [person] and said: ‘He adds to records [i.e. he lies]’.