Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 2 of 379

20Sahih Muslim

ضعیف لوگوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت کے تحمل میں احتیاط کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا کُنَّا نَحْفَظُ الْحَدِيثَ وَالْحَدِيثُ يُحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا إِذْ رَکِبْتُمْ کُلَّ صَعْبٍ وَذَلُولٍ فَهَيْهَاتَ و حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغَيْلَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ جَائَ بُشَيْرٌ الْعَدَوِيُّ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَجَعَلَ يُحَدِّثُ وَيَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَأْذَنُ لِحَدِيثِهِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مَالِي لَا أَرَاکَ تَسْمَعُ لِحَدِيثِي أُحَدِّثُکَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَسْمَعُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّا کُنَّا مَرَّةً إِذَا سَمِعْنَا رَجُلًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَدَرَتْهُ أَبْصَارُنَا وَأَصْغَيْنَا إِلَيْهِ بِآذَانِنَا فَلَمَّا رَکِبَ النَّاسُ الصَّعْبَ وَالذَّلُولَ لَمْ نَأْخُذْ مِنْ النَّاسِ إِلَّا مَا نَعْرِفُ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ابن طاؤس، طاؤس، حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ہم حدیث یاد کیا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث یاد کی جاتی تھیں لیکن جب تم ہر اچھی اور بری راہ پر چلنے لگے تو اب اعتماد اور اعتبار ختم ہوگیا اور ہم نے اس فن کو چھوڑ دیا۔ ابوایوب، سلیمان بن عبداللہ غیلانی، ابوعامر، عقدی، رباح، قیس بن سعد، حضرت مجاہد بیان فرماتے ہیں کہ بشیر بن کعب عدوی ابن عباس کے پاس آئے اور احادیث بیان کرنا شروع کیں اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمایا لیکن ابن عباس نے نہ اس کی احادیث غور سے سنیں اور نہ ہی اس کی طرف دیکھا بشیر نے عرض کیا اے ابن عباس! کیا بات ہے کہ میں آپ کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی احادیث بیان کر رہا ہوں اور آپ سنتے ہیں نہیں؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ایک وہ وقت تھا کہ جب ہم کسی سے یہ سنتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو ہماری نگاہیں دفعتا بےاختیار اس کی طرف لگ جاتیں اور غور سے اس کی حدیث سنتے لیکن جب سے لوگوں نے ضعیف اور ہر قسم کی روایات بیان کرنا شروع کردیں تو ہم صرف اسی حدیث کو سن لیتے ہیں جس کو صحیح سمجھتے ہیں۔

Abū Ayyūb Sulaymān bin Ubayd Allah al-Ghaylānī narrated to us, Abū Āmir, meaning al-Aqadī, narrated to us, Rabāh narrated to us, on authority of Qays bin Sa’d, on authority of Mujāhid, he said Bushayr ul-Adawī came to Ibn Abbās then he set about narrating to him, saying: ‘The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, said…’, ‘the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, said…’. Then it seemed that Ibn Abbās was not listening to his Ḥadīth and not reflecting on them, so [Bushayr] said: ‘Oh Ibn Abbās, why is it that I see you not listening to my Ḥadīth? I narrate to you on authority of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, however you are not listening’. Ibn Abbās said: ‘Indeed once upon a time we would listen to a man saying, ‘the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, said…’ rushing towards him with our eyes and harkening towards him with our ears; then when the people took the difficult and the docile we no longer took from people except those whom we knew’.

22Sahih Muslim

ضعیف لوگوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت کے تحمل میں احتیاط کے بیان میں

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ کَتَبْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ أَنْ يَکْتُبَ لِي کِتَابًا وَيُخْفِي عَنِّي فَقَالَ وَلَدٌ نَاصِحٌ أَنَا أَخْتَارُ لَهُ الْأُمُورَ اخْتِيَارًا وَأُخْفِي عَنْهُ قَالَ فَدَعَا بِقَضَائِ عَلِيٍّ فَجَعَلَ يَکْتُبُ مِنْهُ أَشْيَائَ وَيَمُرُّ بِهِ الشَّيْئُ فَيَقُولُ وَاللَّهِ مَا قَضَی بِهَذَا عَلِيٌّ إِلَّا أَنْ يَکُونَ ضَلَّ

داؤد بن عمرو ضبی، نافع بن عمر، ابن ابی ملیکہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس کو لکھا کہ میرے پاس کچھ احادیث لکھوا کر پوشیدہ طور پر بھجوادو ابن عباس نے فرمایا لڑکا خیر خواہ دین ہے میں اس کے لئے احادیث کے لکھے ہوئے ذخیرہ میں سے صحیح احادیث کو منتخب کروں گا اور چھپانے کی باتیں چھپالوں گا پھر ابن عباس نے سیدنا علی کے فیصلے منگوائے اور ان میں بعض باتیں لکھنے لگے اور بعضی باتوں کو دیکھ کر فرماتے اللہ کی قسم علی نے یہ فیصلہ نہیں کیا اگر کیا ہے تو وہ بھٹک گئے ہیں یعنی لوگوں نے فیصلہ جات علی میں خلط ملط کردیا ہے۔

Dāwud bin Amr aḍ-Ḍabbī narrated to us, Nāfi’ bin Umar narrated to us, on authority of Ibn Abī Mulaykah, he said: ‘I wrote to Ibn Abbās asking him to write something [pertaining to knowledge] for me and he withheld from me quite a bit, and said: ‘As [if he were] a sincere child, I will write for him something especially suited to his status withholding from him what would not benefit him’. [Ibn Abī Mulaykah] said: ‘So [Ibn Abbās] called for the judgment of Alī [bin Abī Tālib which was a book with which Alī would pass verdicts in Kuffah], and he began to write from it [with respect to the request of Ibn Abī Mulaykah] and he came upon something [not appropriate to the station of Alī regarding the science of verdicts]. So [Ibn Abbās] said: ‘By Allah, Alī did not give judgment according to this unless he was astray’.’

23Sahih Muslim

ضعیف لوگوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت کے تحمل میں احتیاط کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ أُتِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِکِتَابٍ فِيهِ قَضَائُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَحَاهُ إِلَّا قَدْرَ وَأَشَارَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بِذِرَاعِهِ

عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، ہشام، بن حجیر، حضرت طاؤس بیان فرماتے ہیں کہ ابن عباس کے پاس حضرت علی کے فیصلوں کی کتاب لائی گئی تو انہوں نے سب کو مٹا دیا سوائے چند سطور کے سفیان بن عیینہ نے اپنے ہاتھ کی انگلی سے اشارہ کیا۔

Amr an-Nāqid narrated to us, Sufyān bin Uyaynah narrated to us, on authority of Hishām bin Hujayr, on authority of Tāwus, he said: ‘A book was brought to Ibn Abbās which contained the verdicts of Alī, may Allah be pleased with him, and he effaced but a small amount,’ and Sufyān bin Uyaynah indicated with his arm [the amount].

24Sahih Muslim

ضعیف لوگوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت کے تحمل میں احتیاط کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ لَمَّا أَحْدَثُوا تِلْکَ الْأَشْيَائَ بَعْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ قَاتَلَهُمْ اللَّهُ أَيَّ عِلْمٍ أَفْسَدُوا

حسن بن علی حلوانی، یحییٰ بن آدم، ابن ادریس، اعمش، حضرت ابواسحاق فرماتے ہیں کہ جب لوگوں نے ان باتوں کو حضرت علی کے بعد نکالا تو علی کے ساتھیوں میں سے ایک نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان کو تباہ کرے کیسا علم کو بگاڑا۔

Hasan bin Alī al-Hulwānī narrated to us, Yahyā bin Ādam narrated to us, Ibn Idrīs narrated to us, on authority of al-A’mash, on authority of Abī Ishāq who said: ‘When they narrated these things after Alī (RA), may Allah be pleased with him, a man from the companions of Alī (RA) said: ‘May Allah curse them. Did they corrupt every [type of] knowledge!?’

25Sahih Muslim

ضعیف لوگوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت کے تحمل میں احتیاط کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ يَقُولُ لَمْ يَکُنْ يَصْدُقُ عَلَی عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْحَدِيثِ عَنْهُ إِلَّا مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ

علی بن خشرم، حضرت ابوبکر بن عیاش فرماتے ہیں کہ میں نے مغیرہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ لوگ حضرت علی ؓ سے جو روایت کرتے ہیں اس کی تصدیق نہ کی جائے سوائے عبداللہ بن مسعود کے ساتھیوں کے۔

Alī bin Khashram narrated to us, Abū Bakr, meaning Ibn Ayyāsh, informed us, he said ‘I heard al-Mughīrah saying: ‘There are no Ḥadīth on authority of Alī (RA), may Allah be pleased with him, that are confirmed except from the companions of Abd Allah bin Mas’ūd.’

26Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ وَحَدَّثَنَا فُضَيْلٌ عَنْ هِشَامٍ قَالَ وَحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَکُمْ

حسن بن ربیع، حماد بن زید، ایوب، ہشام، محمد، ح، فضیل، ہشام، مخلد بن حسین، ہشام، محمد بن سیرین مشہور تابعی نے فرمایا کہ علم حدیث دین ہے تو دیکھ کہ کس شخص سے تم اپنا دین حاصل کر رہے ہو۔

Hasan bin ur-Rabī’ narrated to us, Hammād bin Zayd narrated to us, on authority of Ayyūb and Hishām [bin Hassān], on authority of Muhammad [bin Sīrīn] ; and Fuḍayl [bin Īyāḍ] narrated to us on authority of Hishām [bin Hassān]; he said Mukhlad bin Husayn narrated to us, on authority of Hishām [bin Hassān], on authority of Muhammad bin Sīrīn , that he said: ‘Indeed this knowledge is faith, so carefully consider from whom you take your faith’.

27Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ زَکَرِيَّائَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ لَمْ يَکُونُوا يَسْأَلُونَ عَنْ الْإِسْنَادِ فَلَمَّا وَقَعَتْ الْفِتْنَةُ قَالُوا سَمُّوا لَنَا رِجَالَکُمْ فَيُنْظَرُ إِلَی أَهْلِ السُّنَّةِ فَيُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ وَيُنْظَرُ إِلَی أَهْلِ الْبِدَعِ فَلَا يُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ

ابوجعفر محمد بن صباح، اسماعیل بن زکریا، عاصم احول، حضرت بن سیرین نے فرمایا کہ پہلے لوگ اسناد کی تحقیق نہیں کیا کرتے تھے لیکن جب دین میں بدعات اور فتنے داخل ہوگئے تو لوگوں نے کہا کہ اپنی اپنی سند بیان کرو پس جس حدیث کی سند میں اہلسنت راوی دیکھتے تو ان کی حدیث لے لیتے اور اگر سند میں اہل بدعت راوی دیکھتے تو اس کو چھوڑ دیتے۔

Abū Ja’far Muhammad bin us-Sabbāh narrated to us, Ismā’īl bin Zakariyyā’ narrated to us, on authority of Āsim il-Ahwal, on authority of Ibn Sīrīn that he said: ‘They would not ask about the chains of narration, and when the Fitnah occurred, they said: ‘Name for us your men’. So Ahl us-Sunnah would be regarded, and their Ḥadīth were then taken, and Ahl ul-Bi’dah would be regarded, and their Ḥadīth were not taken’.

28Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَی قَالَ لَقِيتُ طَاوُسًا فَقُلْتُ حَدَّثَنِي فُلَانٌ کَيْتَ وَکَيْتَ قَالَ إِنْ کَانَ صَاحِبُکَ مَلِيًّا فَخُذْ عَنْهُ

اسحاق بن ابراہیم، حنظلی، عیسیٰ، ابن یونس، اوزاعی، سلیمان بن موسیٰ نے فرمایا کہ میں نے طاؤس سے کہا کہ فلاں شخص نے مجھ سے ایسی ایسی حدیث بیان کی ہے تو انہوں نے کہا کہ اگر تیرا ساتھی ثقہ ہے تو تو اس سے حدیث بیان کر۔

Ishāq bin Ibrāhīm al-Hanthalī narrated to us, Īsā, and he is Ibn Yūnus, informed us, al-Awzā’ī narrated to us, on authority of Sulyamān bin Mūsā, he said: ‘I came across Tāwus and said: ‘So-and-so narrated to me such-and-such’. Then he said: ‘If your companion is trustworthy, then take from him.’

29Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَی قَالَ قُلْتُ لِطَاوُسٍ إِنَّ فُلَانًا حَدَّثَنِي بِکَذَا وَکَذَا قَالَ إِنْ کَانَ صَاحِبُکَ مَلِيًّا فَخُذْ عَنْهُ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، مروان بن دمشقی، سعید بن عبدالعزیز، حضرت سلیمان بن موسیٰ نے فرمایا کہ میں نے طاؤس سے کہا کہ فلاں شخص نے مجھ سے ایسی ایسی حدیث بیان کی ہے تو انہوں نے کہا کہ اگر تیرا ساتھی ثقہ ہے تو تو اس سے حدیث بیان کر۔

Abd Allah bin Abd ir-Rahman ad-Dārimī narrated to us, Marwān, meaning Ibn Muhammad ad-Dimashqī informed us, Sa’īd bin Abd il-Azīz narrated to us, on authority of Sulaymān bin Mūsā, he said, I said to Tāwus: ‘So-and-so narrated to me like this-and-that’. He said: ‘If your companion is trustworthy, then take from him.’

30Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا الْأَصْمَعِيُّ عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَدْرَکْتُ بِالْمَدِينَةِ مِائَةً کُلُّهُمْ مَأْمُونٌ مَا يُؤْخَذُ عَنْهُمْ الْحَدِيثُ يُقَالُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِهِ

نصر بن علی جہضمی، اصمعی، حضرت ابن ابی الزناد عبداللہ بن ذکوان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے مدینہ میں سو آدمی ایسے پائے جو نیک سیرت تھے مگر انہیں روایت حدیث کا اہل نہیں سمجھا جاتا تھا اور ان سے حدیث نہیں لی جاتی تھی۔

Nasr bin Alī al-Jahdhamī narrated to us, al-Asma’ī narrated to us, on authority of Ibn Abī-Zinād, on authority of his father, he said: ‘I met one hundred [transmitters] in al-Madīnah, each of whom were reliable. Narrations were not taken from one about who it was said, ‘he is not from its people’.’

31Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ عَنْ مِسْعَرٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يَقُولُا لَا يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الثِّقَاتُ

محمد عمر مکی، سفیان، ح، ابوبکر بن خلاد باہلی، سفیان بن عیینہ، مسعر، مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابراہیم سے سنا وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوائے ثقہ لوگوں (راویوں) کے کسی کی حدیث نقل نہ کرو۔

Muhammad bin Abī Umar al-Makkī narrated to us, Sufyān narrated to us; and Abū Bakr bin Khallād al-Bāhilī narrated to us – and the wording is his, he said, I heard Sufyān bin Uyaynah, on authority of Mis’ar, he said, I heard Sa’d bin Ibrāhīm saying: ‘There is to be no narrating on authority of the Messenger of Allah, may Allah send blessings and peace upon him, except by trustworthy narrators (Thiqāt)’.

32Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَانَ بْنَ عُثْمَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَکِ يَقُولُا الْإِسْنَادُ مِنْ الدِّينِ وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَائَ مَا شَائَ و قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ أَبِي رِزْمَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْقَوَائِمُ يَعْنِي الْإِسْنَادَ و قَالَ مُحَمَّدُ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عِيسَی الطَّالَقَانِيَّ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَدِيثُ الَّذِي جَائَ إِنَّ مِنْ الْبِرِّ بَعْدَ الْبِرِّ أَنْ تُصَلِّيَ لِأَبَوَيْکَ مَعَ صَلَاتِکَ وَتَصُومَ لَهُمَا مَعَ صَوْمِکَ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَا أَبَا إِسْحَقَ عَمَّنْ هَذَا قَالَ قُلْتُ لَهُ هَذَا مِنْ حَدِيثِ شِهَابِ بْنِ خِرَاشٍ فَقَالَ ثِقَةٌ عَمَّنْ قَالَ قُلْتُ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ ثِقَةٌ عَمَّنْ قَالَ قُلْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا أَبَا إِسْحَقَ إِنَّ بَيْنَ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَفَاوِزَ تَنْقَطِعُ فِيهَا أَعْنَاقُ الْمَطِيِّ وَلَکِنْ لَيْسَ فِي الصَّدَقَةِ اخْتِلَافٌ وَقَالَ مُحَمَّدٌ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ شَقِيقٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَکِ يَقُولُا عَلَی رُئُوسِ النَّاسِ دَعُوا حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ فَإِنَّهُ کَانَ يَسُبُّ السَّلَفَ

محمد بن عبداللہ قہزاد، حضرت عبداللہ بن عثمان فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک کو فرماتے ہوئے سنا کہ اسناد حدیث امور دین سے ہیں اور اگر اسناد نہ ہوتیں تو آدمی جو چاہتا کہہ دیتا اور عباس بن رزمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمارے اور لوگوں کے درمیان اسناد ستونوں کی طرح ہیں اور ابواسحاق ابراہیم بن عیسیٰ الطالقانی فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے کہا اے ابوعبدالرحمن اس حدیث کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ سے روایت کی گئی ہے کہ نیکی کے بعد دوسری نیکی یہ ہے کہ تو اپنی نماز کے ساتھ اپنے والدین کے لئے نماز پڑھے اور اپنے روزے کے ساتھ ان کے لئے روزہ رکھے ابن مبارک نے فرمایا کہ یہ حدیث کس کی روایت کردہ ہے؟ میں نے کہا کہ یہ حدیث شہاب بن خراش سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تو ثقہ ہے پھر انہوں نے کہا کہ انہوں نے کس سے روایت کی ہے میں نے کہا حجاج بن دینار سے انہوں نے فرمایا کہ وہ بھی ثقہ ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اس نے کس سے روایت کی ہے میں نے کہا کہ وہ کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت ابن مبارک نے فرمایا اے ابواسحاق! حجاج اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان تو اتنا طویل زمانہ ہے جس کو طے کرنے کے لئے اونٹوں کی گردنیں تھک جائیں گی (یہ حدیث منقطع ہے کیونکہ حجاج بن دینار تبع تابعین ہے) البتہ صدقہ دینے میں کسی کا اختلاف نہیں علی بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے برسر عام سنا وہ فرما رہے تھے کہ عمرو بن ثابت کی روایت کو چھوڑ دو کیونکہ یہ شخص اسلاف کو گالیاں دیتا ہے۔

Muhammad bin Abd Allah bin Quhzādh from the people of Marw narrated to us, he said I heard Abdān bin Uthmān saying, I heard Abd Allah bin al-Mubārak saying: ‘The chain of narration is from the Dīn, and were it not for the chain of narration whoever wished could say what he wanted’. Muhammad bin Abd Allah said, al-Abbās bin Abī Rizmah narrated to me, he said I heard Abd Allah [bin al-Mubārak] saying: ‘Between us and the people are ‘the legs’ (meaning the chain of narration, i.e. if a Ḥadīth was like a creature)’. Muhammad said, I heard Abā Ishāq Ibrāhīm bin Īsā at-Tālqānī say, I said to Abd Allah bin al-Mubārak: ‘Oh Abā Abd ir-Rahman! How is the Ḥadīth which goes ‘Indeed from al-Birr after al-Birr is that you pray for your parents after you pray for yourself and you fast for them both after you fast for yourself’? So [Ibn al-Mubārak] said: ‘Oh Abā Ishāq! On whose authority is this?’ I said to him: ‘This is a Ḥadīth from Shihāb bin Khirāsh’. [Ibn al-Mubārak] said: ‘[He is] trustworthy. On whose authority [did he transmit]?’ I said: ‘on authority of al-Hajjāj bin Dīnār’. [Ibn al-Mubārak] said: ‘[He is] trustworthy. On whose authority [did he transmit]?’ I said: ‘He [al-Hajjāj said] the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, said…’ [Ibn al-Mubārak] said: ‘Oh Abā Ishāq! Indeed between al-Hajjāj bin Dīnār and the Prophet, peace and blessings of Allah upon him, is a wilderness in which the necks of the mounts are severed, however, there is no difference of opinion regarding charity [offered on behalf of one’s parents]’ Muhammad said, I heard Alī bin Shaqīq saying, I heard Abd Allah bin al-Mubārak saying in front of the people: ‘Abandon the Ḥadīth of Amr bin Thābit for indeed he would curse the Salaf [i.e., the Companions, may Allah be pleased with them]’.

33Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ صَاحِبُ بُهَيَّةَ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ الْقَاسِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَيَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ فَقَالَ يَحْيَی لِلْقَاسِمِ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّهُ قَبِيحٌ عَلَی مِثْلِکَ عَظِيمٌ أَنْ تُسْأَلَ عَنْ شَيْئٍ مِنْ أَمْرِ هَذَا الدِّينِ فَلَا يُوجَدَ عِنْدَکَ مِنْهُ عِلْمٌ وَلَا فَرَجٌ أَوْ عِلْمٌ وَلَا مَخْرَجٌ فَقَالَ لَهُ الْقَاسِمُ وَعَمَّ ذَاکَ قَالَ لِأَنَّکَ ابْنُ إِمَامَيْ هُدًی ابْنُ أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ قَالَ يَقُولُ لَهُ الْقَاسِمُ أَقْبَحُ مِنْ ذَاکَ عِنْدَ مَنْ عَقَلَ عَنْ اللَّهِ أَنْ أَقُولَ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَوْ آخُذَ عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ قَالَ فَسَکَتَ فَمَا أَجَابَهُ

ابوبکر بن نضر بن ابی نضر، ابونضر، ہاشم، حضرت ابوعقیل (یحیی بن متوکل ضریر) جو کہ مولیٰ تھا بہیہ کا (بہیہ ایک عورت ہے جو حضرت عائشہ ؓ روایت کرتی ہیں) نے فرمایا کہ میں قاسم بن عبیداللہ اور یحییٰ بن سعید کے پاس بیٹھا تھا یحییٰ نے قاسم سے کہا کہ اے ابومحمد آپ جیسے عظیم الشان عالم دین کے لئے یہ بات باعث عار ہے کہ آپ سے دین کا کوئی مسئلہ پوچھا جائے اور آپ کو اس کا نہ کچھ علم ہو نہ اس کا حل اور نہ ہی اس کا جواب۔ قاسم نے پاچھا کیوں باعث عار ہے؟ یحییٰ نے کہا اس لئے کہ آپ دو بڑے بڑے اماموں ابوبکر وعمر کے بیٹے ہیں (قاسم ابوبکر کے نواسے اور فاروق اعظم کے پوتے ہیں) قاسم نے کہا کہ یہ بات اس سے بھی زیادہ باعث عار ہے اس شخص کے لئے جس کو اللہ نے عقل عطاء فرمائی ہو کہ میں بغیر علم کوئی بات کہوں یا میں اس شخص سے روایت کروں جو ثقہ نہ ہو یہ سن کر یحییٰ خاموش ہوگئے اور اس کا کوئی جواب نہ دیا۔

Abū Bakr ibn in-Naḍr bin Abīn-Naḍr narrated to me, he said Abūn-Naḍr Hāshim bin ul-Qāsim narrated to me, Abū Aqīl, companion of Buhayyah, narrated to us, he said: ‘I was sitting near al-Qāsim bin Ubayd Allah and Yahyā bin Sa’īd [bin Qays al-Madanī al-Qāḍī], when Yahyā said to al-Qāsim: ‘Oh Abā Muhammad! Indeed it is gravely harmful for the likes of you to be asked about something from the affair of this Dīn, and then knowledge of it is not found with you, and no relief [in the form of an answer]’ -or- ‘…knowledge and no articulation’. So al-Qāsim said [to Yahyā bin Sa’īd]: ‘Where did that come from?’ [Yahyā] said: ‘It is because you are the son of two Imāms of guidance- a descendent of Abu Bakr and Umar.’ [al-Qāsim] said to him: ‘More harmful than that- according to whoever reflects about Allah- is to speak without knowledge or to take [Ḥadīth] from someone who is not trustworthy’. [Abū Aqīl] said: ‘So [Yahyā bin Sa’īd] was quiet and did not respond to him’.

34Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَکَمِ الْعَبْدِيُّ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ أَخْبَرُونِي عَنْ أَبِي عَقِيلٍ صَاحِبِ بُهَيَّةَ أَنَّ أَبْنَائً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ سَأَلُوهُ عَنْ شَيْئٍ لَمْ يَکُنْ عِنْدَهُ فِيهِ عِلْمٌ فَقَالَ لَهُ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُعْظِمُ أَنْ يَکُونَ مِثْلُکَ وَأَنْتَ ابْنُ إِمَامَيْ الْهُدَی يَعْنِي عُمَرَ وَابْنَ عُمَرَ تُسْأَلُ عَنْ أَمْرٍ لَيْسَ عِنْدَکَ فِيهِ عِلْمٌ فَقَالَ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِکَ وَاللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ مَنْ عَقَلَ عَنْ اللَّهِ أَنْ أَقُولَ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَوْ أُخْبِرَ عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ قَالَ وَشَهِدَهُمَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَی بْنُ الْمُتَوَکِّلِ حِينَ قَالَا ذَلِکَ

بشربن حکم عبدی، سفیان، ابوعقیل صاحب بہیہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کے بیٹے سے کسی نے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جس کے بارے میں انہیں علم نہ تھا یہ دیکھ کر یحییٰ بن سعید نے ان سے کہا کہ یہ امر مجھ پر گراں گزرا کہ آپ جیسے شحص سے جو بیٹا ہے دو جلیل القدر ائمہ عمر اور ابن عمر سے کوئی بات پوچھ جائے اور آپ اس کے جواب سے لا علم ہوں انہوں نے کہا اللہ کی قسم اس سے بڑھ کر یہ بات زیادہ بری ہے اللہ کے نزدیک اور جس کو اللہ نے عقل دی ہے کہ وہ بغیر علم کے کوئی بات بتلائے یا میں جواب دوں کسی غیر ثقہ کی روایت سے سفیان نے کہا یحییٰ بن متوکل اس گفتگو کے وقت موجود تھے جب انہوں نے کہا۔

Bishr bin ul-Hakam al-Abdī narrated to me, he said, I heard Sufyān bin Uyaynah saying, they informed me on authority of Abī Aqīl, companion of Buhayyah, that a descendent of Abd Allah bin Umar was asked about something that he did not have knowledge about, so Yahyā bin Sa’īd said to him: ‘By Allah, indeed it is a grave matter that the likes of you, a descendent of two Imāms of guidance – meaning Umar and Ibn Umar – is asked about a matter and you have no knowledge of it’. So [al-Qāsim] said: ‘By Allah, more grave than that according to Allah, and to whoever reflects about Allah, is to speak without knowledge or to report on authority of one who is not trustworthy’. [Ibn Uyaynah] said that Abū Aqīl Yahyā bin al-Mutawakkil witnessed them both when they said that.

35Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ قَالَ سَأَلْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ وَشُعْبَةَ وَمَالِکًا وَابْنَ عُيَيْنَةَ عَنْ الرَّجُلِ لَا يَکُونُ ثَبْتًا فِي الْحَدِيثِ فَيَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيَسْأَلُنِي عَنْهُ قَالُوا أَخْبِرْ عَنْهُ أَنَّهُ لَيْسَ بِثَبْتٍ

عمرو بن علی، ابوحفص، یحییٰ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں نے سفیان ثوری شعبہ، مالک اور ابن عیینہ سے پوچھا کہ لوگ مجھ سے ایسے شخص کی روایت کے بارے میں پوچھتے ہیں جو روایت حدیث میں ثقہ و معتبر نہیں ہے ان سے ائمہ حدیث نے فرمایا کہ لوگوں کو بتادو کہ وہ راوی ناقابل اعتبار ہے۔ (اس میں گناہ غیبت نہ ہوگا کیونکہ مقصود حفاظت دین ہے نہ کہ توہین راوی)۔

Amr bin Alī Abū Hafs narrated to us, he said I heard Yahyā bin Sa’īd, he said: ‘I asked Sufyān ath-Thawrī , Shu’bah, Mālik, and Ibn Uyaynah about a man who is not reliable (Thabt) in Ḥadīth, and someone comes and asks me about him, and they said: ‘Inform [others] against him that he is not reliable’.’

36Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّضْرَ يَقُولُ سُئِلَ ابْنُ عَوْنٍ عَنْ حَدِيثٍ لِشَهْرٍ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَی أُسْکُفَّةِ الْبَابِ فَقَالَ إِنَّ شَهْرًا نَزَکُوهُ إِنَّ شَهْرًا نَزَکُوهُ قَالَ مُسْلِم رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ أَخَذَتْهُ أَلْسِنَةُ النَّاسِ تَکَلَّمُوا فِيهِ

عبیداللہ بن سعید، حضرت نضر بن شمیل سے مروی ہے کہ ابن عون اپنے دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے تھے کسی نے ان سے شہر بن حوشب کی روایات کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ شہر کو لوگوں نے طعن کیا اور طعن کے نیزوں نے زخمی کیا امام مسلم فرماتے ہیں کہ لوگوں نے اس کی تضعیف کر کے اس میں کلام کیا اور کلام کے نیزوں سے اس کو گھائل کیا ہے۔

Ubayd Allah bin Sa’īd narrated to us, he said, I heard an-Naḍr saying: ‘Ibn Awn was asked about the Ḥadīth of Shahr and he was standing at the threshold of the door, so [Ibn Awn] said: ‘Indeed they criticized Shahr, indeed they criticized Shahr’. Muslim, may Allah have mercy on him, said ‘He means- the tongues of men were busy criticizing him’.’

37Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ قَالَ قَالَ شُعْبَةُ وَقَدْ لَقِيتُ شَهْرًا فَلَمْ أَعْتَدَّ بِهِ

حجاج بن شاعر، شبابہ، شعبہ فرماتے ہیں کہ میری شہر سے ملاقات ہوئی لیکن میں نے ان کی روایت کو قابل اعتبار نہیں سمجھا۔

Hajjāj bin ush-Shā’ir narrated to me, Shabābah narrated to us, he said, Shu’bah said: ‘I had met Shahr then abandoned transmitting from him’.

38Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ قُلْتُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ إِنَّ عَبَّادَ بْنَ کَثِيرٍ مَنْ تَعْرِفُ حَالَهُ وَإِذَا حَدَّثَ جَائَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ فَتَرَی أَنْ أَقُولَ لِلنَّاسِ لَا تَأْخُذُوا عَنْهُ قَالَ سُفْيَانُ بَلَی قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَکُنْتُ إِذَا کُنْتُ فِي مَجْلِسٍ ذُکِرَ فِيهِ عَبَّادٌ أَثْنَيْتُ عَلَيْهِ فِي دِينِهِ وَأَقُولُ لَا تَأْخُذُوا عَنْهُ وَقَالَ مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ قَالَ أَبِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ انْتَهَيْتُ إِلَی شُعْبَةَ فَقَالَ هَذَا عَبَّادُ بْنُ کَثِيرٍ فَاحْذَرُوهُ

محمد بن عبداللہ قہزاد، حضرت علی بن حسین بن واقد بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا کہ میں نے سفیان ثوری سے کہا کہ تم عباد بن کثیر کے حالات سے واقف ہو کہ وہ جب کوئی حدیث بیان کرتا ہے تو عجیب و غریب بیان کرتا ہے آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے کہ میں لوگوں کو ان سے احادیث بیان کرنے سے روک دوں؟ حضرت سفیان نے کہا کیوں نہیں ابن مبارک نے فرمایا کہ جس مجلس میں میری موجودگی میں عباد بن کیثر کا ذکر آتا تو میں اس کی دینداری کی تعریف کرتا لیکن یہ بھی کہہ دیتا کہ اس کی احادیث نہ لو عبداللہ بن عثمان بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ نے کہا کہ عبداللہ بن مبارک نے فرمایا کہ میں شعبہ کے پاس گیا کہ عباد بن کثیر سے روایت حدیث میں بچو۔

Muhammad bin Abd Allah bin Quhzādh, from the people of Marw, narrated to me, he said Alī bin Husayn bin Wāqid informed me, he said Abd Allah bin al-Mubārak said, I said to Sufyān ath-Thawrī: ‘Indeed Abbād bin Kathīr, about whose condition you are aware, when he related [narrations] he introduced a grave matter- do you believe that it should be said to the people ‘Do not take from him?’ Sufyān said: ‘Indeed!’ Abd Allah [bin al-Mubārak] said: ‘So when I was in an assembly and Abbād was mentioned there, I praised him regarding his Dīn and said: ‘Do not take from him.’ Muhammad said, Abd Allah bin Uthmān narrated to us, he said, my father said, Abd Allah bin al-Mubārak said: ‘I ended up in an assembly of Shu’bah, and he said: ‘This is Abbād bin Kathīr so be warned against him.’

39Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ قَالَ سَأَلْتُ مُعَلًّی الرَّازِيَّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الَّذِي رَوَی عَنْهُ عَبَّادٌ فَأَخْبَرَنِي عَنْ عِيسَی بْنِ يُونُسَ قَالَ کُنْتُ عَلَی بَابِهِ وَسُفْيَانُ عِنْدَهُ فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ کَذَّابٌ

حضرت فضل بن سہل نے بیان کیا کہ میں نے معلی رازی سے محمد بن سعید کے متعلق سوال کیا جس سے عباد بن کثیر روایت کرتا ہے تو انہوں نے کہا کہ مجھے عیسیٰ بن یونس نے خبر دی کہ میں ایک دن عباد کے دروازہ پر کھڑا تھا اور سفیان اس کے پاس تھے جب سفیان باہر نکلے تو میں نے ان سے عباد کے متعلق پوچھا تو انہوں نے مجھے خبر دی کہ یہ بہت جھوٹا آدمی ہے۔

Al-Faḍl bin Sahl narrated to me, he said, I asked Mu’allā ar-Rāzī about Muhammad bin Sa’īd whom Abbād transmitted from, so he informed me about what Īsā bin Yūnus said: ‘I was at his door and Sufyān was with [Muhammad bin Sa’īd], then when he came out I asked [Sufyān] about him. So he informed me that he was a liar.’

40Sahih Muslim

اسناد حدیث کی ضرورت کے بیان میں اور راویوں پر تنقید کی اہمیت کے بارے میں کہ وہ غیبت محرمہ نہیں ہے۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَفَّانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمْ نَرَ الصَّالِحِينَ فِي شَيْئٍ أَکْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ قَالَ ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ فَلَقِيتُ أَنَا مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَقَالَ عَنْ أَبِيهِ لَمْ تَرَ أَهْلَ الْخَيْرِ فِي شَيْئٍ أَکْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ قَالَ مُسْلِم يَقُولُ يَجْرِي الْکَذِبُ عَلَی لِسَانِهِمْ وَلَا يَتَعَمَّدُونَ الْکَذِبَ

محمد بن ابی عتاب، عفان، حضرت سعید بن قطان اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے نیک لوگوں کا کذب فی الحدیث سے بڑھ کر کوئی جھوٹ نہیں دیکھا ابن ابی عتاب نے کہا کہ میری ملاقات سعید بن قطان کے بیٹے سے ہوئی میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میرے باپ کہتے تھے کہ ہم نے نیک لوگوں کا جھوٹ حدیث میں کذب سے بڑھ کر کسی بات میں نہیں دیکھا امام مسلم نے اس کی تاویل یوں ذکر کی ہے کہ جھوٹی حدیث ان کی زبان سے نکل جاتی ہے وہ قصدا جھوٹ نہیں بولتے۔

Muhammad bin Abī Attāb narrated to me, he said Affān narrated to me, on authority of Muhammad bin Yahyā bin Sa’īd al-Qattān, on authority of his father, he said: ‘We do not see the righteous more false in anything than they are regarding Ḥadīth’. Ibn Abī Attāb said: ‘So Muhammad bin Yahyā bin Sa’īd al-Qattān and I met and I asked him about it and he said on authority of his father: ‘You will not see the people of good (Ahl ul-Khayr) more false in anything than they are regarding Ḥadīth.’ Muslim said: ‘He was saying that falsehood flows upon their tongues although they do not intend to lie’.