Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 256 of 379

5108Sahih Muslimصحیح

ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ لَا تَأْکُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ و قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَشَکَوْا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ لَهُمْ عِيَالًا وَحَشَمًا وَخَدَمًا فَقَالَ کُلُوا وَأَطْعِمُوا وَاحْبِسُوا أَوْ ادَّخِرُوا قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی شَکَّ عَبْدُ الْأَعْلَی

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی، جریر، ابونضرہ، ابوسعید خدری، محمد بن مثنی، عبدالاعلی، سعید، قتادہ، ابونضرہ، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے مدینہ والو تم قربانیوں کا گوشت تین دنوں سے زیادہ نہ کھاؤ اور ابن مثنی کی روایت میں تین دنوں کا ذکر ہے صحابہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی شکایت کی کہ ان کے عیال اور نوکر چاکر ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا تم کھاؤ بھی اور کھلاؤ بھی اور جمع بھی کرلو یا رکھ چھوڑو ابن مثنی کہتے ہیں کہ ان لفظوں میں عبدالاعلی کو شک ہے۔

Abu Said al-Khudri reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said: O people of Madinah, do not eat the flesh of sacrificed animals beyond three days. Ibn al-Muthanni said: Three days. They (the Companions of the Holy Prophet) complained to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace he upon him) that they had children and servants of theirs (to feed), whereupon he said: Eat, and feed others, and store, and make it a provision of food.

5109Sahih Muslimصحیح

ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ضَحَّی مِنْکُمْ فَلَا يُصْبِحَنَّ فِي بَيْتِهِ بَعْدَ ثَالِثَةٍ شَيْئًا فَلَمَّا کَانَ فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ کَمَا فَعَلْنَا عَامَ أَوَّلَ فَقَالَ لَا إِنَّ ذَاکَ عَامٌ کَانَ النَّاسُ فِيهِ بِجَهْدٍ فَأَرَدْتُ أَنْ يَفْشُوَ فِيهِمْ

اسحاق بن منصور، ابوعاصم، یزید بن ابی عبید، سلمہ بن اکوع، حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو آدمی قربانی کرے تو تین دنوں کے بعد اس کے گھر میں اس کی قربانی میں سے کچھ بھی نہ رہے تو جب اگلا سال آیا تو صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم اس طرح کریں جس طرح پچھلے سال کیا تھا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں کیونکہ اس سال ضرورت مند لوگ تھے تو میں نے چاہا کہ قربانیوں کے گوشت میں سے ان کو بھی مل جائے۔

Salama bin al-Akwa reported Allahs Messenger (way peace be upon him) having said: He who sacrifices (animal) among you nothing should be left in his house (out of its flesh) on the morning of the third day. When it was the next year they (his Companions) said: Should we do this year as we did daring the previous year? Thereupon he said: Dont do that, for that was a year when the people were hard pressed (on account of poverty). so I wanted that the (flesh) might be distributed amongst them.

5110Sahih Muslimصحیح

ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِيَّتَهُ ثُمَّ قَالَ يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ فَلَمْ أَزَلْ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّی قَدِمَ الْمَدِينَةَ

زہیر بن حرب، معن بن عیسی، معاویہ بن صالح، ابوزاہریہ، جبیر بن نفیر، حضرت ثوبان (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی قربانی ذبح فرمائی پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے ثوبان اس قربانی کے گوشت کو سنبھال کر رکھو۔ ( حضرت ثوبان (رض) کہتے ہیں) کہ میں اس قربانی کے گوشت میں سے لگاتار مدینہ منورہ پہنچنے تک آپ ﷺ کو گوشت کھلاتا رہا۔

Thauban reported that Allahs Messenger (way peace be upon him) slaughtered his sacrificial animal and then said: Thauban, make his meat usable (for journey), and I continuously served him that until he arrived in Madinah.

5111Sahih Muslimصحیح

ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

ابوبکر بن ابوشیبہ، ابن رافع، زید بن حباب، اسحاق بن ابرہیم حنظلی، عبدالرحمن بن مہدی، حضرت معاویہ بن صالح سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Muawiyah bin Salih with the same chain of transmitters.

5112Sahih Muslimصحیح

ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَصْلِحْ هَذَا اللَّحْمَ قَالَ فَأَصْلَحْتُهُ فَلَمْ يَزَلْ يَأْکُلُ مِنْهُ حَتَّی بَلَغَ الْمَدِينَةَ

اسحاق بن منصور، ابومسہر، یحییٰ بن حمزہ زبیدی، عبدالرحمن بن جبیربن نفیر، حضرت ثوبان (رض) مولیٰ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حجہ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا یہ گوشت سنبھال کر رکھ حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ میں نے اس گوشت کو بنا کر رکھا آپ ﷺ مدینہ منورہ پہنچنے تک اسی میں سے کھاتے رہے۔

Thauban, the freed slave of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to me on the occasion of Hajjat-al-Wada (the Farewell Pilgrimage): Make the flesh usable. So I made it usable (for him) and he ate it constantly until he reached Madinah.

5113Sahih Muslimصحیح

ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَقُلْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، محمد بن مبارک حضرت یحییٰ بن حمزہ (رض) اس سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور اس روایت میں حجہ الوداع کا ذکر نہیں ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Yabya bin Hamza with the same chain of transmitters, but he did not say: On the occasion of Hajjat-al-Wada.

5114Sahih Muslimصحیح

ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ عَنْ أَبِي سِنَانٍ و قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مُحَارِبٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ أَبُو سِنَانٍ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُکُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمْسِکُوا مَا بَدَا لَکُمْ وَنَهَيْتُکُمْ عَنْ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَائٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ کُلِّهَا وَلَا تَشْرَبُوا مُسْکِرًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، محمد بن فضیل، ابوبکر، ابی سنان، ابن مثنی، ضرار بن مرہ، محارب، ابن بریدہ، حضرت عبداللہ بن بریدہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا تو اب تم قبروں کی زیارت کرلیا کرو اور میں نے تمہیں تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے روکا تھا اب تم گوشت روکے رکھو جب تک تم چاہو اور میں نے تمہیں سوائے مشکیزے کے تمام برتنوں میں نبیذ کے استعمال سے روکا تھا تو اب تم تمام برتنوں میں پی لیا کرو اور نشے والی چیزیں نہ پیا کرو۔

Abdullah bin Buraida reported on the authority of his father that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said this: I prohibited you from visiting the graves, but (now) you may visit them, and I prohibited you (from eating) the flesh of sacrific- ed animals beyond three days, but now keep it as long as you like. I prohibited you from the use of Nabidh except (that preoared) in dry waterskins. Now drink (Nabidh prepared in any utensil), but do not drink when it becomes intoxicant.

5115Sahih Muslimصحیح

ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کے منسوخ ہونے اور پھر جب تک چاہئے قربانی کا گوشت کھاتے رہنے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کُنْتُ نَهَيْتُکُمْ فَذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي سِنَانٍ

حجاج بن شاعر، ضحاک بن مخلد، سفیان، علقمہ بن مرثد بن بریدہ، حضرت ابن بریدہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں منع کیا تھا اور پھر ابوسفیان کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی

Ibn Buraida, on the authority of his father, reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said this: I used to forbid you. The rest of the hadith is the same.

5116Sahih Muslimصحیح

فرع اور عتیرہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ کَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ فَيَذْبَحُونَهُ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، یحیی، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا نہ فرع کوئی چیز ہے اور نہ ہی عتیرہ کوئی چیز ابن رافع (رض) نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ فرع اونٹنی کا وہ پہلا بچہ ہے جسے مشرک لوگ ذبح کردیا کرتے تھے

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: (The sacrifice of Fara and Atira) has no (sanction in Islam). Ibn Rafi made this addition in his narration that Fara means the first-born young one of a camel.

5117Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ جب ذی الحجہ کی پہلی تاریخ ہو اور آدمی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اس کے لئے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کا کٹوانا منع ہے۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَخَلَتْ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُکُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا قِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَا يَرْفَعُهُ قَالَ لَکِنِّي أَرْفَعُهُ

ابن ابی عمر مکی، سفیان، عبدالرحمن بن حمید بن عبدالرحمن بن عوف، سعید بن مسیب، حضرت ام سلمہ (رض) بیان فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب ماہ ذی الحجہ کا عشرہ شروع ہوجائے اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ لے حضرت سفیان سے کہا گیا کہ بعض حضرات تو اس حدیث کو مرفوع بیان نہیں کرتے تو انہوں نے فرمایا کہ میں تو اس حدیث کو مرفوع بیان کرتا ہوں۔

Umm Salamah reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said this: When any one of you intending to sacrifice the animal enters in the month (of Dhul-Hijja) he should not get his hair or nails touched (cut). It was said to Sufyan that some of the (scholars) did not deem this hadith to be Maffu. He said: But I deem it as Marfu (i. e. chain of narration traceable right up to the Holy Prophet).

5118Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ جب ذی الحجہ کی پہلی تاریخ ہو اور آدمی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اس کے لئے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کا کٹوانا منع ہے۔

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ تَرْفَعُهُ قَالَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَهُ أُضْحِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفُرًا

اسحاق بن ابراہیم، سفیان، عبدالرحمن بن حمید بن عبدالرحمن بن عوف، سعید بن مسیب، حضرت ام سلمہ (رض) سے مرفوعاً روایت ہے کہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب ماہ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہوجائے اور اس کے پاس قربانی کا جانور موجود ہو اور وہ اس کی قربانی بھی کرنا چاہتا ہو تو وہ اپنے بالوں کو نہ کٹوائے اور نہ ہی اپنے ناخنوں کو ترشوائے۔

Umm Salamah reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: If anyone of you intends to offer sacrifice he should not get his hair cut or nails trimmed.

5119Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ جب ذی الحجہ کی پہلی تاریخ ہو اور آدمی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اس کے لئے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کا کٹوانا منع ہے۔

و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ

حجاج بن شاعر، یحییٰ بن کثیر عنبر، ابوغسان، شعبہ، مالک بن انس، عمر بن مسلم، سعید بن مسیب، حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم ماہ ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو روکے رکھے۔

Umm Salamah reported (these words) directly from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : If anyone has in his possession a sacrificial animal to offer as a sacrifice (on Id al-Adha), he should not get his hair cut and nails trimmed after he has entered the first days of Dhul Hijja

5120Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ جب ذی الحجہ کی پہلی تاریخ ہو اور آدمی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اس کے لئے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کا کٹوانا منع ہے۔

و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَکَمِ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمَرَ أَوْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

احمد بن عبداللہ بن حکم ہاشمی، محمد بن جعفر، شعبہ، مالک بن انس، حضرت عمر (رض) یا حضرت عمرو بن مسلم (رض) سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Amr bin Muslim with the same chain of transmitters.

5121Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ جب ذی الحجہ کی پہلی تاریخ ہو اور آدمی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اس کے لئے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کا کٹوانا منع ہے۔

و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ أُکَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا أُهِلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّی يُضَحِّيَ

عبیداللہ بن معاذ عنبری، ابومحمد بن عمرولیثی، عمرو بن مسلم بن عمارہ بن اکیمہ لیثی، سعید بن مسیب، حضرت ام سلمہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی کے پاس (قربانی کا جانور) ذبح کرنے کے لئے ہو تو جب وہ ذی الحجہ کا چاند دیکھ لے تو وہ اس وقت تک اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کٹوائے جب تک کہ قربانی نہ کرلے۔

Umm Salamah, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to have said: He who has a sacrificial animal with him whom (he intends) to offer as sacrifice, and he enters the month of DhuI-Hijja, he should not get his hair cut or nails trimmed until he has sacrificed the animal.

5122Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ جب ذی الحجہ کی پہلی تاریخ ہو اور آدمی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اس کے لئے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کا کٹوانا منع ہے۔

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارٍ اللَّيْثِيُّ قَالَ کُنَّا فِي الْحَمَّامِ قُبَيْلَ الْأَضْحَی فَاطَّلَی فِيهِ نَاسٌ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَمَّامِ إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَکْرَهُ هَذَا أَوْ يَنْهَی عَنْهُ فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي هَذَا حَدِيثٌ قَدْ نُسِيَ وَتُرِکَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو

حسن بن علی حلوانی، ابواسامہ، محمد بن عمر، لیث، حضرت عمر بن مسلم عمار لیثی (رض) فرماتے ہیں کہ عیدالاضحی سے کچھ پہلے ہم حمام میں تھے کہ اس میں کچھ لوگوں نے چونے سے اپنے بالوں کو صاف کرلیا تو حمام والوں میں سے بعض لوگ کہنے لگے کہ حضرت سعید (رض) بن مسیب تو اس کو ناپسند سمجھتے ہیں یا اس سے روکتے ہیں کہتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن مسیب (رض) سے ملا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا اے میرے بھتیجے یہ تو حدیث ہے جسے لوگوں نے بھلا دیا ہے یا اسے چھوڑ دیا ہے مجھ سے حضرت ام سلمہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ نے بیان کیا ہے جس طرح کہ معاذ عن محمد بن عمرو کی روایت میں گزر چکا ہے۔

Amr bin Muslim bin Ammar al-Laithi reported: While we were in a bathroom just before Id al-Adha some of the persons tried to remove the hair with the help of hair-removing chemicals. Thereupon some of the people owning the bath (or some of the people sitting therein) said that Said bin Musayyib did not approve of it, or he prohibited it. Then I met Said bin Musayyib and made a mention of that to him, whereupon he said: O my nephew, this is the hadith which has been forgotten, and abandoned. Umm Salamah, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , narrated to me Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said as narrated above.

5123Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ جب ذی الحجہ کی پہلی تاریخ ہو اور آدمی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اس کے لئے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کا کٹوانا منع ہے۔

و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ الْجُنْدَعِيِّ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ وَذَکَرَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِهِمْ

حرملہ بن یحیی، احمد بن عبدالرحمن بن اخی بن وہب، عبداللہ بن وہب، حیوہ، خالد بن یزید، سعید بن ابی ہلال، حضرت عمر بن مسلم جندعی سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسیب (رض) خبر دیتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ خبر دیتی ہیں اور نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح ذکر کیا۔

Amr bin Muslim al-Jundani reported that Ibn Musayyib had told him that it was Umm Salamah, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , who had informed him of that as narrated above.

5124Sahih Muslimصحیح

غیر اللہ کی تعظیم کے لئے ذبح کرنے کی حرمت اور اس طرح کرنے والے کے ملعون ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ مَرْوَانَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ مَا کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيْکَ قَالَ فَغَضِبَ وَقَالَ مَا کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيَّ شَيْئًا يَکْتُمُهُ النَّاسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ حَدَّثَنِي بِکَلِمَاتٍ أَرْبَعٍ قَالَ فَقَالَ مَا هُنَّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَی مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الْأَرْضِ

زہیر بن حرب، سریج بن یونس، مروان، زہیر، مروان بن معاویہ فزاری، منصور بن حیان، حضرت ابوالطفیل عامر بن واثلہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی (رض) بن ابی طالب کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا نبی ﷺ آپ کو چھپا کر کیا بتاتے تھے ؟ حضرت علی (رض) غصہ میں آگئے اور فرمایا نبی ﷺ نے مجھے مخفی طور پر کوئی ایسی چیز نہیں بتائی تھی کہ جو دوسرے لوگوں کو نہ بتائی ہو سوائے اس کے کہ آپ ﷺ نے مجھے چار باتیں ارشاد فرمائی ہیں اس آدمی نے عرض کیا اے امیر المومنین وہ کیا ہیں ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا ایسے آدمی پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے کہ جو آدمی اپنے والدین پر لعنت کرتا ہے ایسے آدمی پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی تعظیم کے لئے ذبح کرے اور ایسے آدمی پر بھی اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے کہ جو کسی بدعتی آدمی کو پناہ دیتا ہے اور ایسے آدمی پر بھی اللہ کی لعنت ہوتی ہے کہ جو آدمی زمین کی حدبندی کے نشانات کو مٹاتا ہے۔

Abu Tufail Amir bin Wathila reported: I was in the company of Ali Ibn Abi Talib (RA) , when a person came to him, and said: What was it that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) told you in secret? Thereupon he (liadrat All) was enraged and said: Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not tell me anything in secret that he hid from people, except that he told me four things. He said: Com- mader of Faithful, what are these? He said: Allah cursed him who cursed his father; Allah cursed him who sacrificed for anyone besides Allah; and Allah cursed him who accommodates an innovator (in religion) ; and Allah cursed him who changed the minarets (the boundary lines) of the land.

5125Sahih Muslimصحیح

غیر اللہ کی تعظیم کے لئے ذبح کرنے کی حرمت اور اس طرح کرنے والے کے ملعون ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْنَا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبِرْنَا بِشَيْئٍ أَسَرَّهُ إِلَيْکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا کَتَمَهُ النَّاسَ وَلَکِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَی مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ الْمَنَارَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمر، سلیمان بن حیان، منصور بن حیان، ابی طفیل، حضرت ابوالطفیل فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی (رض) سے عرض کیا کہ ہمیں اس چیز کی خبر دیں کہ جو رسول اللہ ﷺ نے آپ کو خفیہ طور پر بتائی ہے تو حضرت علی (رض) نے فرمایا آپ ﷺ نے مجھے کوئی ایسی بات نہیں بتائی کہ جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو لیکن میں نے آپ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ایسے آدمی پر جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی تعظیم کے لئے ذبح کرے اور ایسے آدمی پر بھی اللہ کی لعنت ہو کہ جو کسی بدعتی آدمی کو ٹھکانہ دے اور ایسے آدمی پر بھی اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو کہ جو اپنے والدین پر لعنت کرتا ہو اور ایسے آدمی پر بھی اللہ تعالیٰ لعنت فرمائے کہ جو آدمی زمین کے نشانات بدل ڈالے۔

Abu Tufail reported: We said to Ali Ibn Abi Talib (RA) : Inform us about something which Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) told you in secret, whereupon he said: He told me nothing in secret which he bid from people, but I heard him say: Allah cursed him who sacrificed for anyone besides Allah; and cursed him who accommodated an innovator; and Allah cursed him who cursed his parents and Allah cursed him who changed the boundary lines (of the land possessed by him).

5126Sahih Muslimصحیح

غیر اللہ کی تعظیم کے لئے ذبح کرنے کی حرمت اور اس طرح کرنے والے کے ملعون ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ سُئِلَ عَلِيٌّ أَخَصَّکُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْئٍ فَقَالَ مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْئٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ کَافَّةً إِلَّا مَا کَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا قَالَ فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَکْتُوبٌ فِيهَا لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَی مُحْدِثًا

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قاسم بن ابی بزہ، ابی طفیل (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو کسی چیز کے ساتھ مخصوص فرمایا ہے تو حضرت علی (رض) نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کسی ایسی چیز کے ساتھ مخصوص نہیں فرمایا کہ جو باقی تمام لوگوں سے نہ فرمایا ہو سوائے اس کے کہ چند باتیں میری تلوار کے نیام میں ہیں راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ایک کاغذ نکالا جس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ایسے آدمی پر کہ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لئے تعظیما جانور ذبح کرے اور اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ایسے آدمی پر کہ جو آدمی زمین کے نشان چوری کرے اور اللہ کی لعنت ہو ایسے آدمی پر کہ جو اپنے والدین پر لعنت کرے اور اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ایسے آدمی پر کہ جو کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے۔

Abu Tufail reported: Ali was asked whether Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had showed special favour (by disclosing to him) a thing (which he kept secret from others). Thereupon he said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) singled us not for (disclosing to us) anything (secret) which he did not make public, (but those few things) which lie in the sheath of my sword. He drew out the written document contained in it and on that (it was mentioned): Allah cursed him who sacrificed for anyone else besides Allah; and Allah cursed him who stole the signposts (demarcating the boundary lines of the) land; and Allah cursed him who cursed his father; and Allah cursed him who accommodated an innovator (in religion).

5127Sahih Muslimصحیح

شراب کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ شراب انگور اور کھجور سے تیار ہوتی ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغْنَمٍ يَوْمَ بَدْرٍ وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَی فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ فَأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَی وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِکَ الْبَيْتِ مَعَهُ قَيْنَةٌ تُغَنِّيهِ فَقَالَتْ أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَائِ فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَکْبَادِهِمَا قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ وَمِنْ السَّنَامِ قَالَ قَدْ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ عَلِيٌّ فَنَظَرْتُ إِلَی مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَی حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ فَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِآبَائِي فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّی خَرَجَ عَنْهُمْ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، حجاج بن محمد بن جریج، ابن شہاب، علی بن حسین ابن علی، حسین بن علی، حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے مال غنیمت میں سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مجھے ایک اونٹنی ملی اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک اور اونٹنی عطاء فرما دی میں نے ان دونوں اونٹنیوں کو انصار کے ایک آدمی کے دروازہ پر بٹھا دیا اور میں یہ چاہتا تھا کہ میں ان پر اذخر لاد کر لاؤں تاکہ میں اسے بیچوں اور میرے ساتھ بنی قینقاع کا ایک سنار بھی تھا الغرض میرا حضرت فاطمہ (رض) کے ولیمہ کی تیاری کا ارادہ تھا اور اسی گھر میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب (رض) شراب پی رہے تھے ان کے ساتھ ایک باندی تھی جو کہ شعر پڑھ رہی تھی اور کہہ رہی تھی اے حمزہ ان موٹی اونٹنیوں کو ذبح کرنے کے لئے اٹھو حضرت حمزہ یہ سن کر اپنی تلوار لے کر ان اونٹنیوں پر دوڑے اور ان کی کوہان کاٹ دی اور ان کی کھوکھوں کو پھاڑ ڈالا پھر ان کا کلیجہ نکال دیا میں نے ابن شہاب سے کہا کیا کوہان بھی لے گئے ؟ انہوں نے کہا ہاں کوہان بھی تو کاٹ لئے ابن شہاب کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا جب میں نے یہ خطرناک منظر دیکھا تو میں اسی وقت اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں آیا تو حضرت زید بن حارثہ بھی آپ ﷺ کے پاس تھے میں نے آپ کو اس سارے واقعہ کی خبر دی تو آپ ﷺ باہر نکلے اور حضرت زید بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے اور میں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا آپ حضرت حمزہ کے پاس تشریف لے گئے اور ان پر ناراضگی کا اظہار فرمایا حضرت حمزہ نے آپ ﷺ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور کہنے لگے کہ آپ لوگ تو میرے آباؤ اجداد کے غلام ہو، رسول اللہ ﷺ الٹے پاؤں واپس لوٹ پڑے یہاں تک کہ وہاں سے چلے آئے۔

Ali bin Abu Talib reported; There fell to my lot along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) an old she-camel from the spoils of Badr. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) granted me another camel. I made them kneel down one day at the door of an Ansari, and I wanted to carry on them Idhkhir (a kind of grass) in order to sell that. There was with me a goldsmith of the tribe of Qainuqa. I saught to give a wedding feast (on the occasion of marriage with) Fatima with the help of that (the price accrued from the sale of this grass). And Hamza bin Abdul Muttalib was busy in drinking in that house in the company of a singing girl who was singing to him. She said: Hamza, get up for slaughtering the fat she-camels. Hamza attacked them with the sword and cut off their humps and ripped their haunches, and then took out their livers. I said to Ibn Shihab: Did he take out anything from the hump? He said: He cut off the humps altogether. Ibn Shihab reported Ali having said: I saw this (horrible) sight and it shocked me, and I came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and there was Zaid bin Haritha with him and communicated to him this news. He came in the company of Zaid and I also went along with him and he went to Hamza and he expressed anger with him. Hamza raised his eyes and said: Are you (not) but the servants of my father? Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) turned back on his heels (on hearing this) until he went away from them.