نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 9 · 74 hadiths · Page 3 of 4

570Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَےْسَ فِی النَّوْمِ تَفْرِےْطٌ اِنَّمَا التَّفرَےْطُ فِی الْےَقَظَۃِ فَاِذَا نَسِیَ اَحَدُکُمْ صَلٰوۃً اَوْ نَامَ عَنْھَا فَلْےُصَلِّھَا اِذَا ذَکَرَھَا فَاِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَالَ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ۔(پ ١٦ رکوع ١٠)۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت ابوقتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سوتے میں نماز کا رہ جانا قصور میں شمار نہیں بلکہ قصور تو جاگتے میں (شمار) ہوتا ہے (کہ وہ اس طرح سویا) لہٰذا جب تم میں سے کوئی پڑھنے سے رہ جائے یا نماز کے وقت (غافل ہو کر) سو جائے تو جس وقت بھی یاد آئے پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت ( وَاَ قِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ ) 20۔ طہ 14) (مجھے یاد کرنے کے وقت نماز پڑھ لیا کرو)۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی نماز سے پہلے غافل ہو کر سو جائے تو اس حالت میں نماز کی تاخیر کے قصور کی نسبت سونے والے کی طرف نہیں ہوتی کیونکہ وہ سونے کی حالت میں مکلف نہیں ہے بلکہ مجبور ہے البتہ اس کی طرف قصور کی نسبت جاگنے کی حالت میں ہوگی کہ اس نے ایسا طریقہ کیوں اختیار کیا جس کی وجہ سے وہ نماز پڑھے بغیر سو گیا مثلاً وقت سے پہلے سو گیا تو اس میں اس کی خطا ہے ایسے ہی اس نے ایسے کام کئے جو نیند کا سبب ہیں مثلاً لیٹ گیا یا شطرنج کے کھیل یا ایسے دوسرے کاموں میں مشغول رہا جو نسیان و بھول کا باعث ہوتے ہیں تو اس میں اس کا قصور ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ نماز کا یاد کرنا بمنزلہ اللہ کے یاد کرنے کے ہے اس لئے نماز یاد کرنے کو اللہ نے اپنا یاد کرنا قرار دے کر فرمایا کہ جب مجھے یاد کرو یعنی نماز جب تمہیں یاد آئے کہ وہ میرے یاد کرنے کا سبب ہے تو پڑھ لیا کرو۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ لذکری کے معنی یہ ہیں کہ میں جب تمہیں نماز یاد دلادوں اور اس وقت نماز پڑھ لیا کرو تمہارا کچھ قصور نہیں۔

571Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

عَنْ عَلِیِّ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ یَا عَلِیُّ ثَلَاثُ لَّا تُؤَ خِّرْھَا اَلصَّلٰوۃُ اِذَاَتَتْ وَالْجَنَازَۃُ اِذَا حَضَرَتْ وَالْاَ یِّمُ اِذَا وَجَدْتَ لَھَا کُفُوًا۔ (رواہ الترمذی)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علی! تین باتوں کے کرنے میں دیر نہ کیا کرنا۔ ایک تو نماز ادا کرنے میں جب کہ وقت ہوجائے، دوسرے جنازے میں جب تیار ہوجائے اور تیسری بےخاوند عورت کے نکاح میں جب کہ اس کا کفو (یعنی ہم قوم مرد) مل جائے۔ (جامع ترمذی ) تشریح لسان نبوت سے حضرت علی المرتضیٰ کو تین کاموں میں تاخیر نہ کرنے کی نصیحت فرمائی جا رہی ہے۔ پہلے تو نماز کے بارے میں فرمایا کہ جب نماز کا وقت مختار ہوجائے تو اس میں تاخیر نہ کرنی چاہئے بلکہ سب سے پہلے نماز پڑھو اس کے بعد کوئی دوسرا کام کرو۔ دوسرے نمبر پر جنازے کے بارے میں فرمایا ہے کہ جس وقت جنازہ تیار ہوجائے تو اس کی نماز اور تدفین میں قطعاً تاخیر نہ کرنی چاہئے۔ علامہ اشرف (رح) کا قول علامہ طیبی شافعی (رح) نقل کرتے ہیں کہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جنازے کی نماز اوقات مکروہہ ( یعنی آفتاب نکلنے ڈوبنے کے وقت اور نصف الہنار کے وقت) میں پڑھنی مکروہ نہیں ہے۔ ہاں اگر یہ صورت ہو کہ جنازہ ان اوقات سے پہلے آجائے تو پھر ان اوقات میں نماز پڑھنی مکروہ ہوگی۔ یہی سجدہ تلاوت کا حکم ہے بہر حال ان تینوں اوقات مکروہہ کے علاوہ تمام اوقات میں حتی کہ فجر کی نماز سے پہلے و بعد میں اور عصر کی نماز کے بعد بھی یہ دونوں چیزیں یعنی نماز جنازہ اور سجدہ تلاوت مطلقاً مکروہ نہیں ہیں۔ تیسری چیز آپ ﷺ نے یہ فرمائی کہ بےخاوند عورت کا کفو یعنی ہم قوم مرد جب بھی مل جائے اس کے نکاح میں تاخیر نہ کرنی چاہئے۔ ایم بےخاوند عورت کو کہتے ہیں خواہ وہ کنواری ہو یا مطلقہ، بیوہ ہو مگر علامہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ ایم اس کو فرماتے ہیں جس کا زوج (یعنی جوڑہ) نہ ہو، خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور عورت خواہ ثیبہ ہو یا باکرہ!۔ کفو کا مطلب یہ ہے کہ مرد ان جملہ اوصاف میں عورت کے ہم پلہ و برابر ہو۔ (١) نسب۔ (٢) اسلام (٣) حریت۔ (٤) دیانت۔ (٥) مال۔ (٦) پیشہ۔ اس موقعہ پر حدیث کی مناسبت سے ایک تکلیف دہ صورت حال کی طرف مسلمانوں کی توجہ دلا دینا ضروری ہے۔ آج کل یہ عام رواج سا ہوتا جا رہا ہے کہ لڑکیوں کی شادی میں بہت تاخیر کی جاتی ہے اکثر تاخیر تو تہذیب جدید کی اتباع اور رسم و رواج کی پابندی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یہ چیز نہ صرف یہ کہ پیغمبر اسلام ﷺ کے حکم و فرمان کے سراسر خلاف ہے لڑکیوں کی فطرت اور ان کے جذبات کا گلا گھونٹ کر ان پر ظلم کے مترادف بھی ہے چناچہ اس کے نتائج آج کل جس انداز سے سامنے آرہے ہیں اسے ہر آدمی جانتا ہے کہ زنا کی لعنت عام ہوگئی ہے، بےحیائی و بےغیرتی کا دور دورہ ہے اور اخلاق و کردار انتہائی پستیوں میں گرتے جا رہے ہیں۔ پھر نہ صرف یہ کہ کنواری لڑکیوں کی شادی میں تاخیر کی جاتی ہے بلکہ اگر کوئی عورت شوہر کے انتقال یا طلاق کی وجہ سے بیوہ ہوجاتی ہے تو اس کے دوبارہ نکاح کو انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے اس طرح اس بےچاری کے تمام جذبات و خواہشات کو فنا کے گھاٹ اتار کر اس کی پوری زندگی کو حرمان و یاس، رنج و الم اور حسرت و بےکیفی کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ یہ تو تقریباً سب ہی جانتے ہیں کہ تمام اہل سنت والجماعت کا متفقہ طور پر یہ عقیدہ ہے کہ جو آدمی کسی معمولی سنت کا بھی انکار کرے یا اس کی تحقیر کرے تو وہ کافر ہوجاتا ہے اور یہ سبھی لوگ جانتے ہی کہ عورت کا نکاح کرنا پیغمبر اسلام ﷺ کی وہ عظیم و مشہور سنت ہے جس کی تاکید بیشمار احادیث سے ثابت ہے۔ لیکن۔ افسوس ہے کہ مسلمان جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس سے محبت کا اقرار کرتے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ کی اس سنت پر پابندی کے ساتھ عمل کرنے کا کوئی جذبہ نہیں رکھتے۔ کتنے تعجب کی بات ہے کہ کوئی آدمی تو اپنی مجبوریوں کی آڑ لے کر لڑکیوں کی شادی میں تاخیر کرتا ہے، کوئی تہذیب جدید اور فیشن کا دلدادہ ہو کر اس سعادت سے محروم رہتا ہے اور کوئی آدمی طعن وتشنیع کے خوف سے بیوہ کی شادی کرنے سے معذوری ظاہر کرتا ہے گویا وہ لوگوں کے طعن وتشنیع کو رسول اللہ ﷺ کے حکم اور آپ ﷺ کی سنت پر ترجیح دیتا ہے حالانکہ دانش مندی کا تقاضتا تو یہ ہے گویا وہ لوگوں کے اس طعن وتشنیع کو اپنے لئے باعث سعادت اور قابل فخر جانے کہ انبیاء (علیہم السلام) اور اللہ کے نیک بندوں کے اچھے کاموں پر ہمیشہ ہی لوگوں نے طعن وتشنیع کی ہے مگر ان لوگوں نے اللہ کے حکم کی اطاعت و فرمانبرداری اور نیک کاموں میں کبھی کوتاہی یا قصور نہیں کیا۔ اس موقعہ پر ایک بزرگ کی دلچسپ حکایت سن لیجئے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بزرگ نے اپنی لڑکی کا نکاح اپنے ایک مرید سے جو اس لڑکی کے مناسب و لائق تھا کردیا اور اس کی خبر کو کسی نہ کسی طرح اپنی بیوی سے بھی پوشیدہ رکھا۔ بعد میں جب ان کی بیوی کو یہ معلوم ہوا تو جزبر ہوئی اور ان سے کہنے لگی کہ آپ نے اس کا بھی خیال کیا کہ آپ کے اس طرز عمل سے آپ کی ناک کٹ گئی اور پھر جیسا کہ ان ناقص العقل والدین عورتوں کی عادت ہے اس بےچارے بزرگ کو لاکھ صلواتیں سنائیں۔ وہ بزرگ یہ سمجھ کر کہ عورتوں کے منہ لگنا خواہ مخواہ اپنی عقل خراب کرنا ہے۔ خاموش ہوگئے پھر باہر آکر انہوں نے مریدوں سے پوچھا کہ کیوں بھائیو میرے منہ پر ناک بھی ہے یا نہیں؟ انہوں نے تعجب سے کہا کہ ہاں کیوں نہیں ہے! وہ کہنے لگے کہ میری بیوی تو کہتی ہے کہ میری ناک کٹ گئی ١۔ وہ عورت جس کا نکاح ہوا، مگر یا تو خاوند مرگیا یا خاوند نے طلاق دے دی ہو۔ اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ آدمی کو چاہئے کہ نیک کام کرنے میں کسی طعن وتشنیع کا خیال نہ کرے کیونکہ حقیقت میں جو بات بری نہیں ہوتی وہ کسی کے کہہ دینے سے بری نہیں ہوجاتی اور نہ اس کام کو کرنے والے کی ذات و آدمییت کو کوئی بٹہ لگتا ہے۔ حضرت مولانا الشاہ عبدالقادر (رح) نے آیت (وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ ) 24۔ النور 32) کے ضمن میں اس حدیث کا ترجمہ اس طرح کیا ہے۔ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا علی! تین کاموں میں دیر نہ کرو۔ (١) فرض نماز کی ادائیگی میں جب کہ اس کا وقت ہوجائے۔ (٢) جنازے میں جب کہ موجود ہو۔ (٣) بیوہ عورت (کے نکاح میں) جب کہ اس کی ذات (و مرتبہ) کا مرد مل جائے۔ جو شخص (بیوہ کو) دوسرا خاوند کرنے میں عیب لگائے (تو سمجھو کہ) اس کا ایمان سلامت نہیں ہے اور جو لونڈی و غلام نیک ہوں (یعنی شادی کردینے کے بعد ان کے مفرور ہوجانے کا خوف نہ ہو اور تمہیں اعتماد ہو کہ یہ نیک بخت ہیں شادی کے بعد ہمارا کام نہیں چھوڑیں گے) تو ان کا بھی نکاح کردو۔

572Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْوَقْتُ الْاَوَّلُ مِنَ الصَّلَاۃِ رِضْوَانُ اﷲِ وَالْوَقْتُ الْاٰخِرُ عَفْوُاﷲِ ۔ (رواہ الترمذی)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز کو اول وقت ادا کرنا اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا موجب ہے اور آخر وقت میں ادا کرنا اللہ تعالیٰ کی معافی کا سبب ہے۔ (جامع ترمذی ) تشریح اول وقت سے مراد اول وقت مختار ہے اور اس کی قید لگانے کی ضرورت یوں ہوئی کہ حنفیہ کے نزدیک بعض نمازوں میں تاخیر کی جاتی ہے جیسے فجر کی نماز میں اور گرمی میں ظہر کو مؤخر کر کے پڑھنا ہی مستحب ہے لہٰذا یہ نمازیں مستثنیٰ ہیں کیونکہ ان کا اول وقت مختار نہیں ہے بلکہ ان میں تاخیر ہی مختار ہے۔ آخر وقت سے مراد وقت مکروہ ہے مثلاً عصر کی نماز میں سورج کا متغیر ہوجانا یا عشاء کی نماز میں وقت کا آدھی رات سے زیادہ گزر جانا۔ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ آخر وقت میں نماز کی فرضیت تو بہر حال ادا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے اس وقت نماز پڑھنے والا ترک نماز کے گناہ سے تو بچ ہی جاتا ہے کہ اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔

573Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

وَعَنْ اُمِّ فَرْوَۃَ قَالَتْ سُئِلَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اَیُّ الْاَعْمَالِ اَفْضَلُ قَالَ الصَّلَاۃُ لِاَوَّلِ وَقْتِھَا رَوَاہُ اَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِّیُ وَاَبُوْدَاؤدَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ لَا یُرْ َوی الْحَدِیْثُ اِلَّامِنْ حَدِیْثِ عَبْدِاﷲِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِی وَھُوَ لَیْسَ بِالْقَوِی عِنْدَ اَھْلِ الْحَدِیْثِ۔

اور حضرت ام فردہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ (ثواب کی زیادتی کے اعتبار سے) کون سا عمل افضل ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز کو اس کے اول وقت میں پڑھنا۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی، سنن ابوداؤد) اور حضرت امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صرف حضرت عبداللہ ابن عمر عمری سے روایت کی جاتی ہے۔ اور وہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ ایمان کے بعد افضل ترین عمل یہی ہے کہ نماز کو اس کے اول وقت میں جماعت کے ساتھ پڑھا جائے۔ کتاب الصلوٰۃ کی حدیث نمبر پانچ کے فائدہ کے ضمن میں بتایا جا چکا ہے کہ افضل اعمال کے سلسلے میں بہت زیادہ حدیثیں وارد ہیں۔ جن میں مختلف اعمال کو افضل کہا گیا ہے۔ وہاں اس کی بھی وضاحت کردی گئی تھی کہ جن جن اعمال کو افضل کہا گیا ہے وہ اپنے اپنے موقع و مناسبت کی بناء پر یقینا افضل ہیں۔ چنانچہ یہاں پھر سمجھ لیجئے کہ دوسری احادیث میں جن اعمال کو افضل کہا گیا ہے وہاں ا فضیلت اضافی مراد ہے یعنی بعض اعمال بعض حیثیت سے افضل ہیں اور بعض اعمال کو دوسری وجوہ اور حیثیت سے دوسرے اعمال پر فضیلت حاصل ہے لیکن نماز علی الا طلاق یعنی بہمہ وجوہ ایمان کے بعد اعمال سے افضل و اشرف ہے۔ ترمذی نے اس حدیث کے بارے میں کہا ہے کہ اس کے راوی صرف ایک یعنی عبدا اللہ ابن عمر عمری ہیں اور وہ بھی محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں۔ عبداللہ ابن عمر عمری کے بارے میں غالباً پہلے بھی کسی حدیث کی تشریح میں بتایا جا چکا ہے کہ یہ حضرت عمر فاروق ؓ کے خاندان سے ہیں اس لئے انہیں عمری کہا جاتا ہے ان کا سلسلہ نسب یہ ہے عبداللہ ابن عمر ابن حفص ابن عاصم ابن عمر فاروق۔ بہر حال ترمذی کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ حدیث مرتبہ صحت کو نہیں پہنچتی حالانکہ دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

574Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

وَعَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ مَا صَلَّی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَاۃً لِّوَ قْتِھَا الْاٰخِرِ مَرَّتَیْنِ حَتّٰی قَبَضَہُ اﷲُ تَعَالٰی۔ (رواہ الترمذی)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کوئی نماز آخر وقت میں دو دفعہ بھی نہیں پڑھی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو وفات دے دی۔ (جامع ترمذی ) تشریح حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نمازوں کو ان کے مختار اوقات میں پڑھا کرتے تھے۔ مکروہ اوقات میں نہیں پڑھتے تھے۔ صرف ایک مرتبہ بیان جواز کے لئے آپ ﷺ نے نماز آخر وقت میں پڑھی تھی تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ نماز کا آخری وقت یہ ہے اور وقت کے اس حصے تک نماز جائز ہوسکتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اس نماز کو شمار نہیں کیا ہے جو آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ہمراہ آخر وقت میں پڑھی تھی کیونکہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے وقت معلوم کرنے کے لئے آخر وقت نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا اسی طرح ایک مرتبہ آپ ﷺ نے ایک سائل کو ایک دن اول وقت میں اور ایک دن آخر وقت میں پڑھ کر دکھائی تھی اسے بھی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے شمار نہیں کیا ہے اس لئے کہ تعلیم پر محمول ہے۔

575Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ یَزَالُ اُمَّتِیْ بِخَیْرٍ اَوْ قَالَ عَلَی الْفِطْرَۃِ مَالَمْ یُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ اِلٰی اَنْ تَشْتَبِکَ النُّجُوْمُ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَاہُ الدَّرِامِیُّ عَنِ الْعَبَّاسِ۔

اور حضرت ابوایوب ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے لوگ اگر مغرب کی نماز کو (اس قدر) دیر کر کے نہ پڑھا کریں کہ ستارے جگمگانے لگیں تو ہمیشہ بھلائی، یا فرمایا کہ فطرت (یعنی اسلام کے طریقے) پر رہیں گے، (سنن ابوداؤد) اور اس روایت کو دارمی نے حضرت عباس ؓ سے نقل کیا ہے۔ تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مغرب کے وقت فقط ستارے نظر آجانے سے کراہیت نہیں آتی البتہ ستارے گنجان ہو کر جگمگانے لگتے ہیں تو جب وقت مکروہ ہوجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ مغرب کی نماز تاخیر سے پڑھی تھی اور وہ بھی بیان جواز کے لئے ورنہ تو آپ ﷺ ہمیشہ اول وقت ہی مغرب کی نماز ادا فرماتے تھے۔

576Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ لَا اَنْ اَشُقَّ عَلٰی اُمَّتِیْ لَاَمَرْتُھُمْ اَنْ یُؤخِّرُو الْعِشَاءَ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ اَوْ نِصْفِہٖ۔ (رواہ احمد بن حنبل و الترمذی و ابن ماجہ)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت کے لوگوں کی تکلیف کا اندیشہ نہ ہوتا تو انہیں (وجوب کے طریقہ پر) یہ حکم دیتا کہ عشاء کی نماز کو تہائی رات تک یا آدھی رات تک مؤخر کر کے پڑھیں۔ (جامع ترمذی و سنن ابن ماجہ)

577Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

وَعَنْ مُعَاذِبْنِ جَبَلٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَعْتِمُوْا بِھٰذِہِ الصَّلَاۃِ فَاِنَّکُمْ قَدْ فُضِّلْتُمْ بِھَا عَلٰی سَائِرِ الْاُ مَمِ وَلَمْ تُصلِّھَا اُمَّۃٌ قَبْلَکُمْ۔ (رواہ ابوداؤد)

حضرت معاذ ابن جبل ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اس نماز (یعنی عشاء کی نماز) کو دیر کر کے پڑھا کرو کیونکہ تمہیں دوسری امتوں پر اس نماز کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی۔ (ابوداؤد) تشریح اس سے پہلے باب المواقیت کی حدیث نمبر تین میں گزر چکا ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ کو پانچوں وقت کی نماز پڑھائی اور کہا کہ (ھذا وقت الانبیاء من قبلک) اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے انبیاء (علیہم السلام) بھی عشاء کی نماز پڑھتے تھے مگر جو حدیث یہاں ذکر کی گئی ہے اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عشاء کی نماز صرف اسی امت پر فرض ہے پہلی امتوں پر فرض نہیں تھی۔ لہٰذا محدثین نے ان دونوں حدیثوں میں یہ تطبیق دی ہے کہ پہلی امتوں میں عشاء کی نماز صرف پیغمبر و رسول ہی پڑھتے تھے۔ کیونکہ یہ نماز ان کی امتوں پر واجب نہیں تھی بلکہ انہیں پر واجب تھی جیسا کہ بعض علماء کے قول کے مطابق تہجد کی نماز رسول اللہ ﷺ پر واجب تھی مگر آپ ﷺ کی امت پر واجب نہیں ہے اس لئے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ارشاد ھذا وقت الانبیاء سے پہلی امتوں پر عشاء کا وجوب ثابت نہیں ہوا بلکہ اس کا مفہوم یہ ہوا کہ یہ نماز انبیاء (علیہ السلام) ہی پڑھتے تھے اور اس کو حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی۔ تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پہلے انبیاء (علیہم السلام) بھی عشاء کی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ نماز پہلی امتوں کے لوگ نہیں پڑھتے تھے اور یہ نماز اسی امت کے لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ اسطرح ان دونوں حدیثوں میں کوئی تعارض باقی نہیں رہا۔ آخر میں اتنی بات اور سمجھ لیجئے کہ ھذا وقت الانبیاء من قبلک میں لفظ ھذا سے فجر کے وقت اسفار کی طرف اشارہ ہے کہ بخلاف دوسرے اوقات کے اس میں تمام انبیاء شریک ہیں۔

578Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ قَالَ اَنَااَعْلَمُ بِوَقْتِ ھٰذِہِ الصَّلَاۃِ صَلٰوۃِ الْعِشَاءِ الْاٰخِرَۃِ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّیْھَا لِسُقُوْطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَۃٍ۔ (رواہ ابوداؤد ، دارمی)

اور حضرت نعمان ابن بشیر ؓ فرماتے ہیں کہ میں اس نماز یعنی دوسری عشاء کے وقت کو خوب جانتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ اس نماز کو تیسری تاریخ کے چاند چھپنے کے وقت پڑھا کرتے تھے۔ (ابوداؤد، دارمی) تشریح تیسری تاریخ کی شب میں چاند رات کے تقریباً پانچویں حصہ میں غروب ہوتا ہے، اس طرح یہ حدیث بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عشاء کی نماز تاخیر ہی سے پڑھنا مستحب ہے۔ عشاء کی نماز کو دوسری عشاء اس لئے کہا گیا ہے کہ بسا اوقات مغرب کو بھی عشاء کہا جاتا ہے اس اعتبار سے یہ دوسری عشاء ہوئی۔

579Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَسْفِرُوْا بِالفَجْرِ فَاِنَّہ، اَعْظَمُ لِاَ جْرِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَاَبُوْدَاؤدَ وَا لدَّرِامِیُّ وَلَیْسَ عِنْدَ النِّسَائِی فَاِنّہ، اَعْظَمُ لِلْاَجْرِ۔

اور حضرت رافع ابن خدیج ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فجر کی نماز اجالے میں پڑھو کیونکہ اجالے میں نماز پڑھنے سے بہت زیادہ ثواب ہوتا ہے اور سنن نسائی کی روایت میں یہ الفاظ (فانہ اعظم للاجر) (یعنی اجالے میں نماز پڑھنے سے بہت زیادہ ثواب ہوتا ہے )۔ نہیں ہیں۔ (جامع ترمذی، ابوداؤد، دارمی، سنن نسائی) تشریح اس حدیث کے ظاہری الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ فجر کی نماز اسفار (اجالے) میں شروع کرنی چاہئے چناچہ حنفیہ کا ظاہری مسلک یہی ہے کہ فجر کی نماز کی ابتداء و اختتام دونوں ہی اسفار میں ہوں۔ مگر حضرت امام طحاوی (رح) جو حنفی مسلک کے ایک جلیل القدر امام ہیں فرماتے ہیں کہ ابتداء تو غلس (اندھیرے) میں ہونی چاہئے اور اختتام اسفار میں اور اس کا طریقہ یہ ہو کہ قرأت اتنی طویل کی جائے کہ پڑھتے پڑھتے اجالا پھیل جائے۔ چناچہ علماء کرام فرماتے ہیں کہ امام طحاوی (رح) کی یہ تاویل اولیٰ اور احسن ہے کیونکہ اس طرح ان تمام احادیث میں تطبیق ہوجاتی ہے جن میں سے بعض تو غلس میں نماز پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں اور بعض سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسفار میں نماز پڑھنا افضل ہے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا۔ ان احادیث میں ایک دوسری تطبیق کی وجہ خود ایک حدیث بھی ہے جو شرح السنہ میں منقول ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں موسم کا اعتبار ہوگا یعنی جاڑے کے موسم میں تو غلس میں نماز پڑھنا بہتر ہوگا اور گرمی کے موسم میں اسفار کرنا بہتر ہگا۔ چناچہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں الحدیث ( قَالَ مُعَاذٌ بَعْثَنِیْ رَسُوْلُ اللہ ﷺ اِلَی الْیَمَنِ فَقَالَ اِذَا کَانَ فِی الشِّتَاءِ فَغَلِّسْ بِالفَجْرِ وَاطِلٍ القِرَآءَ ۃُ قَدْرَ مَا یُطِیْقُ النَّاسُ وَلَا تُمِلَّھُمْ وَاِذَا کَانَ فِی الصَّیْفِ فَاسْفِرْ بِالفَجْرِ فَاِنَ اللَّیْلِ قَصِیْرٌ وَالنَّاسُ نِیَامٌ فَاَ مْھِلْھُمْ حَتّٰی اَدْرَکُوْا یَعْنِی الصَّلٰوۃَ )۔ حضرت معاذ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن بھیجا تو یہ (بھی) فرمایا کہ جب سردی کا موسم ہو تو فجر کی نماز غلس (اندھیرے) میں پڑھنا اور قرأت طویل کرنا (مگر اتنی کہ) لوگوں پر بھاری نہ ہو کہ وہ تنگ ہوجائیں اور جب گرمی کا موسم ہو تو فجر کی نماز اسفار (اجالے) میں پڑھنا کیونکہ (گرمی) میں رات چھوٹی ہونے کیوجہ سے لوگ سوئے رہتے ہیں اس لئے انہیں اتنا موقع دو کہ وہ نماز میں شریک ہو سکیں۔ بہر حال علماء حنفیہ کے نزدیک اسفار کی حد یہ ہے کہ طلوع آفتاب میں اتنا وقت رہے کہ اس میں قرأت مسنون (جو چالیس سے ساٹھ یا سو آیتوں تک ہے) ترتیل کے ساتھ پڑھی جاسکے۔ اور نماز کے بعد اگر طہارت میں کوئی خلل معلوم ہو تو طلوع آفتاب سے پہلے پہلے وضو اور مذکورہ بالا طریقہ پر نماز کا اعادہ ممکن ہو سکے۔

580Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

عَنْ رَّافِعِ بْنِ خَدِےْجٍ قَالَ کُنَّا نُصَلِّی الْعَصْرَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ثُمَّ ےُنْحَرُ الْجَزُوْرُ فَتُقْسَمُ عَشْرَ قِسَمٍ ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَاکُلُ لَحْمًا نَضِےْجًا قَبْلَ مَغِےْبِ الشَّمْسِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت رافع ابن خدیج ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ عصر کی نماز پڑھ کر اونٹوں کو ذبح کیا کرتے تھے اور پھر وہ دس حصوں پر تقسیم کیا جاتا، اس کے بعد اسے پکایا جاتا اور پھر ہم سورج چھپنے سے پہلے اس پکے ہوئے گوشت کو کھا کر فارغ ہوجایا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح بظاہر اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ عصر کی نماز جلدی یعنی ایک مثل سایہ ہونے کے وقت یا اس سے تھوڑی دیر کے بعد پڑھی جاتی ہوگی جیسا کہ آئمہ ثلثہ اور صاحبین کا مسلک ہے اور ایک روایت کے مطابق حضرت امام اعظم (رح) کا بھی یہی مسلک ہے اور بعض حضرات نے فتوی بھی اسی روایت پر دیا ہے مگر حضرت امام اعظم (رح) کا مشہور مسلک یہ ہے کہ عصر کا وقت دو مثل سائے کے بعد ہوتا ہے چناچہ ان کی طرف سے اس حدیث کی یہ تاویل کی جائے گی کہ ہوسکتا ہے کہ گرمیوں میں ایسا ہوتا ہو کیونکہ اس وقت دن بڑا ہوتا ہے۔ نیز حضرت ابن ہمام (رح) نے ہدایہ کی شرح میں لکھا ہے کہ اگر عصر کی نماز سورج کے متغیر ہونے سے پہلے پڑھی جائے تو غروب آفتاب تک بقیہ وقت میں حدیث میں مذکورہ عمل جیسا عمل بڑی آسانی سے کیا جاسکتا ہے چناچہ جن لوگوں نے امراء و حکام کے ہمراہ کھانا پکانے والے ماہرین کو سفر میں کھانا پکاتے ہوئے دیکھا ہوگا وہ اسے بعید نہیں جانیں گے۔

581Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ مَکَثْنَا ذَاتَ لَےْلَۃٍنَنْتَظِرُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلٰو ۃَ الْعِشَآءِ الْاٰخِرَۃِ فَخَرَجَ اِلَےْنَا حِےْنَ ذَھَبَ ثُلُثُ الَّلےْلِ اَوْ بَعْدَہُ فَلَا نَدْرِیْ اَشَےْئٌ شَغَلَہُ فِیْ اَھْلِہٖ اَوْ غَےْرُ ذَالِکَ فَقَالَ حِےْنَ خَرَجَ اِنَّکُمْ لَتَنْتَظِرُوْنَ صَلٰوۃً مَّا ےَنْتَظِرُھَا اَھْلُ دِےْنٍ غَےْرَکُمْ وَلَوْلَا اَنْ ےَّثْقُلَ عَلٰی اُمَّتِیْ لَصَلَّےْتُ بِھِمْ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ ثُمَّ اَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَصَلّٰی۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم عشاء کی نماز کے لئے بہت دیر تک بیٹھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرتے رہے۔ رسول اللہ ﷺ تہائی یا اس سے بھی زیادہ رات جانے کے بعد تشریف لائے اور ہمیں معلوم نہیں کہ آپ ﷺ گھر کے کام میں مشغول رہے تھے (کہ عادت کے مطابق سویرے نماز پڑھنے تشریف نہیں لائے) یا اس کے علاوہ (آپ ﷺ کی ذات اقدس کو کوئی عذر پیش آگیا تھا) آنحضور ﷺ نے آکر فرمایا تم لوگ نماز کا انتظار کر رہے تھے (اور تمہارے لئے یہ مناسب بھی تھا کیونکہ) نماز کا انتظار تو تم ہی لوگ کیا کرتے ہو۔ تمہارے سوا کسی اور دین والوں نے نماز کا انتظار نہیں کیا۔ اور اگر مجھے اپنی امت پر گراں گزرنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اس نماز کو ہمیشہ اسی وقت پڑھا کرتا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے (تکبیر کا) حکم دیا اس نے تکبیر کہی اور آپ ﷺ نے نماز پڑھائی۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ تمہارے سوا کسی بھی دین کے لوگ (یعنی یہود و نصاری) عشاء کی نماز کا انتظار نہیں کرتے تھے کیونکہ یہ نماز تو صرف اسی امت کے ساتھ مخصوص فرمائی گئی ہے اور کسی امت کو نصیب نہیں ہوئی ہے لہٰذا تم اس وقت جب کہ آرام کرنے کا وقت ہے اپنے نفس پر قابو پا کر اور مشقت اٹھا کر نماز کا جتنا زیادہ انتظار کرو گے اتنا ہی زیادہ ثواب پاؤ گے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عشاء کی نماز تہائی رات کے وقت پڑھنا افضل ہے جیسا کہ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک ہے مگر جہاں تک رسول اللہ ﷺ کے عمل کا تعلق ہے تو یہ بھی ثابت ہے کہ جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کا اکثر حصہ اول وقت جمع ہوجاتا تھا تو آپ ﷺ اول وقت ہی نماز پڑھ لیتے تھے اور جو حضرات تاخیر سے جمع ہوتے تھے وہ دیر سے پڑھتے تھے چناچہ حضرت امام احمد بن حنبل (رح) کا مسلک بھی یہی ہے کہ جو نمازی اوّل وقت جمع ہوجائیں اول وقت نماز پڑھ لیں اور جو نمازی تاخیر سے جمع ہوں وہ دیر کر کے پڑھیں۔

582Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَقَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّی الصَّلَوٰاتِ نَحْوًا مِنْ صَلٰوتِکُمْ وَکَانَ یُؤَخِّرُالْعَتَمَۃَ بَعْدَ صَلٰوتِکُمْ شَیْعًا وَکَانَ یُخَفِّفُ الصَّلٰوۃَ ( مسلم )

اور حضرت جابر ابن سمرہ ؓ نے (لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ تمہاری نمازوں کے قریب قریب (اوقات میں) نماز پڑھا کرتے تھے مگر عشاء کی نماز تمہاری نماز سے کچھ دیر کر کے پڑھتے تھے اور ہلکی نماز پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم) تشریح نہی کے باوجود حضرت جابر ؓ نے عشاء کو عتمہ اس لئے کہا ہے کہ شاید اس وقت تک ان کو نہی کا حکم معلوم نہیں ہوا ہوگا یا پھر یہ نام چونکہ اہل عرب میں پہلے سے جانا پہچانا جاتا تھا اس لئے انہوں نے یہ سوچ کر کہ اس نام سے لوگ اس نماز کو اچھی طرح پہچان لیں گے عتمہ ہی کہا۔ بہر حال یہ حدیث بھی اس بات پر بصراحت دلالت کرتی ہے کہ عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا ہی افضل و مستحب ہے۔ ہلکی نماز پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھا کرتے تھے مگر علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نماز میں چھوٹی چھوٹی سورتیں اس وقت پڑھتے تھے جب کہ امامت فرماتے اور ضعیف و کمزور لوگوں کی رعایت مد نظر ہوتی۔ اور ویسے بھی یہ بات باعتبار اکثر کے فرمائی گئی ہے کیونکہ یہ بھی ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے مغرب کی دونوں رکعتوں میں سورت اعراف بھی پڑھی ہے۔ اور میں تو کہتا ہوں کہ آپ ﷺ کا اتنی بڑی بڑی سورتیں پڑھنا بھی لوگوں پر گراں نہیں گزرتا تھا۔ یعنی آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ایسا کیف و سرور محسوس ہوتا تھا کہ طویل قرأت بھی انہیں ہلکی ہی معلوم ہوتی تھی اور ازراہ شوق طویل قرأت میں زیادتی کے طالب رہتے تھے اس کے برخلاف دوسرے لوگوں کی امامت میں یہ بات حاصل ہونا مشکل ہے۔

583Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ صَلَّیْنَا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَاۃَ العَتَمَۃِ فَلَمْ یَخْرُجْ حَتّٰی مَضٰی نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّیْلِ فَقَالَ خُذُوْامَقَاعِدَ کُمْ فَاَخَذْنَا مَقَاعِدَنَا فَقَالَ اِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُوا وَاَخَذُوْا مَضَا جِعَھُمْ وَ اِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوْ افِیْ صَلَاۃٍ مَا انْتَظَرْ تُمُ الصَّلَاۃَ وَلَوْ لَا ضَعْفُ الضَّعِیْفِ وَسَقْمُ السَّقِیْمِ لَاَ خَّرْتُ ھٰذِہِ الصَّلٰوۃَ اِلٰی شَطْرِ اللَّیْلِ۔ (رواہ ابوداؤ والنسائی )

اور حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں کہ ہم (ایک دن) رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جماعت کے ساتھ (باجماعت) نماز پڑھنے گئے۔ (اتفاق سے اس روز) رسول اللہ ﷺ آدھی رات کے قریب تک تشریف نہ لائے (بعد ازاں آکر ہم سے) ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہنا، چناچہ ہم اپنی جگہوں (سے اٹھے نہیں بلکہ وہیں) پر بیٹھے رہے (اس کے بعد) آپ ﷺ نے فرمایا دوسرے لوگوں نے نماز پڑھ کر اپنے اپنے بستر سنبھال لئے ہیں اور (تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ) جب تک تم نماز کے انتظار میں رہو گے تمہارا یہ سارا وقت نماز ہی میں شمار کیا جائے گا (یعنی تمہیں اس انتظار کی وجہ سے برابر نماز پڑھنے کا ثواب ملتا رہے گا) اور اگر مجھے ضعیفوں کی کمزوری اور بیماروں کی بیماری کا خیال نہ ہوتا تو میں ہمیشہ یہ نماز آدھی رات تک دیر کر کے پڑھا کرتا۔ (ابوداؤد، سنن نسائی) تشریح جیسا کہ پہلے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرز چکا ہے کہ (مسلمانوں کے علاوہ) کسی بھی دوسرے دین کے لوگ عشاء کی نماز کا انتظار نہیں کرتے، لہٰذا اس ارشاد کی روشنی میں حدیث کے الفاظ دوسرے لوگوں نے نماز پڑھ کر اپنے اپنے بستر سنبھال لئے ہیں، کی تشریح یہ کی جائے گی کہ دوسرے دین کے لوگ (مثلاً یہود و نصاری) تو شام کی نماز پڑھ کر یا اپنے مذہب کے مطابق عبادت کر کے اپنے اپنے بستروں پر جا کر نیند کی آغوش میں پہنچ گئے مگر چونکہ تمہارے نصیب میں اس نماز کی سعادت و فضیلت لکھی ہوئی ہے۔ اس لئے تم اب اس سعادت و فضیلت کی تکمیل کی خاطر نماز کی انتظار میں بیٹھے ہوئے ہو۔ اور چونکہ تم اپنا آرام اپنی نیند اور اپنا چین سب اپنے پروردگار کی عبادت کے انتظار میں لٹا چکے ہو اس لئے تمہارا پروردگار بھی اس محنت و مشقت کا صلہ اس طرح تمہیں دے گا کہ تمہارے اس انتظار کے ایک ایک لمحے کو سراپا عبادت و باعث سعادت بنا دے گا بایں طور پر کہ تمہارا یہ جتنا وقت انتظار میں گزرا ہے یا جتنا وقت گزرے گا تو سمجھو کہ وہ نماز ہی میں گزرا ہے یا گزرے گا یعنی جتنا ثواب نماز پڑھنے کا ملتا ہے اتنا ہی ثواب اس انتظار کا بھی ملے گا۔ یا پھر اس جملے کا مطلب یہ ہوگا کہ دوسرے محلوں کے مسلمان جو اس مسجد میں حاضر نہیں ہیں عشاء کی نماز پڑھ کر سو رہے ہیں اور تم لوگ اب تک نماز عشاء کے انتظار میں یہاں بیٹھے ہو اس طرح ان مسلمانوں کے مقابلے میں تم زیادہ ثواب و فضیلت کے حقدار بنو گے، یہی معنی ما بعد کے الفاظ ( وانکم لن ترالو الخ) کے زیادہ قریب اور مناسب ہیں۔ بہر حال۔ یہ حدیث بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عشاء کی نماز میں آدھی رات تک تاخیر جائز ہے بلکہ عبادت کے سلسلے میں زیادہ محنت و مشقت اٹھانے کی وجہ سے مستحب اور افضل ہے۔

584Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلماَشَدَّ تَعْجِیْلًا لِلظُّھْرِ مِنْکُمْ وَاَنْتُمْ اَشَدَّ تَعْجِیْلًا لِلْعَصْرِ مِنْہُ۔ (رواہ احمد بن حنبل الترمذی)

اور حضرت ام سلمہ ؓ نے (لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز (گرمی کے علاوہ دوسرے موسموں میں) تم سے بہت زیادہ جلدی پڑھتے تھے اور تم عصر کی نماز پڑھنے میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ جلدی کرتے ہو۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی ) تشریح حضرت ام سلمہ ؓ کا مقصد اتباع سنت پر لوگوں کو رغبت دلانا اور متوجہ کرنا ہے کہ ہر جگہ اور ہر موقع پر رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرنے میں ہی بھلائی وسعادت ہے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عصر کی نماز میں تاخیر کرنا مستحب ہے۔ جیسا کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک ہے۔

585Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا کَانَ الْحَرُّاَبْرَدَ بِالصَّلَاۃِ وَاِذَا کَانَ الْبَرْدُ عَجَّلَ۔ (رواہ النسائی )

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (ظہر کی) گرمی کے موسم میں ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے اور سردی کے موسم میں جلدی پڑھ لیتے تھے۔ (سنن نسائی) تشریح ظہر کے وقت کے سلسلے میں احادیث میں جو تعارض ہے کہ بعض حدیثوں سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ظہر کی نماز دیر (لیٹ) کر کے پڑھتے تھے اور بعض حدیثوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جلدی پڑھ لیتے تھے۔ اس حدیث سے یہ تعارض ختم ہوجاتا ہے بایں طور کہ گرمی کے موسم میں تو آپ ﷺ ظہر کی نماز تاخیر سے پڑھا کرتے تھے اور سردی کے موسم میں جلدی پڑھتے تھے۔

586Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

وَعَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلماِنَّھَا سَتَکُوْنُ عَلَیْکُمْ بَعْدِی اُمَرَاءُ یَشْغَلُھُمْ اَشْیَاءُ عَنِ الصَلَاۃِ لِوَ قْتِھَا حَتّٰی یَذْھَبَ وَقْتُھَا فَصَلُّوا الصَّلَاۃَ لِوَقْتِھَا فَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اُصَلِّیْ مَعَھُمْ قَالَ نَعَمْ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عبادہ ابن صامت ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ میرے بعد عنقریب تم پر ایسے (لوگ) حاکم ہوں گے جنہیں دنیا کے چیزیں (یعنی خواہشات نفسانی) وقت (مستحب) پر نماز پڑھنے سے باز رکھیں گی، یہاں تک کہ نماز کا وقت نکل جائے گا (یعنی وقت کراہت آجائے گا) لہٰذا تم اپنی نمازیں وقت پر پڑھتے رہنا (خواہ تنہا ہی کیوں نہ پڑھنی پڑے) ایک آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا پھر (دوبارہ) ان کے ساتھ بھی نماز پڑھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں! (ان کے ساتھ بھی پڑھ لیا کرنا تاکہ ثواب بھی زیادہ ملے اور حکام کی مخالفت کرنے کی وجہ سے فتنہ و فساد بھی پیدا نہ ہو)۔ (سنن ابوداؤد)

587Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

وَعَنْ قَبِیْصَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَکُوْنُ عَلَیْکُمْ اُمَرَاءُ مِنْ بَعْدِی یُؤَخِرُوْنَ الصَّلَاۃَ فَھِیَ لَکُمْ وَھِیَ عَلَیْھِمْ فَصَلُّوْا مَعَھُمْ مَا صَلُّوا الْقِبْلَۃَ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت قبیصہ ابن وقاص ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے بعد تم پر ایسے حاکم ہوں گے جو نماز (وقت مستحب سے) تاخیر کر کے پڑھیں گے اور وہ نماز تمہارے لئے تو مفید ہوگی اور ان کے لئے وبال ہوگی لہٰذا جب تک وہ قبلہ (یعنی کعبتہ اللہ) کی طرف نماز پڑھتے ہیں تم بھی ان کے ساتھ نماز پڑھتے رہنا۔ (ابوداؤد) تشریح فائدہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے وقت مستحب کی فضیلت حاصل کرنے کی خاطر ان کی نماز سے پہلے نماز پڑھ لی۔ اور پھر اس کے بعد ان کے ساتھ بھی پڑھی تو یہ دوسری نماز تمہارے لئے نفل ہوجائے گی جس کی وجہ سے تمہیں بہت زیادہ ثواب ملے گا اور اگر ان کی نماز سے پہلے نماز نہ پڑھی بلکہ ان کے ہمراہ پڑھی تو اس کے لئے تم پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا کیونکہ ان کے ساتھ وقت مکروہ میں تمہارا نماز پڑھنا فتنے کے خوف اور فساد کے دفعیہ کی غرض سے ہوگا۔ اسی طرح وبال کا مطلب یہ ہے کہ وہ نماز ان کے لئے مواخذہ کا باعث ہوگی کہ جب وہ وقت مختار میں نماز ادا کرنے پر قادر تھے تو وقت سے تاخیر کر کے غیر مطلوب وقت میں نماز کیوں پڑھی اور پھر یہ کہ امور دنیا نے انہیں امور عقبی کی انجام دہی سے باز رکھا جو یقینًا کسی مسلمان کے لئے مناسب نہیں۔

588Mishkaat-al-Masabih

جلدی نماز پڑھنے کا بیان

عَنْ عُبَےْدِاللّٰہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخَےَّارِ اَنَّہُ دَخَلَ عَلٰی عُثْمَانَ وَھُوَ مَحْصُوْرٌ فَقَالَ اِنَّکَ اِمَامُ عَآمَّۃٍ وَّنَزَلَ بِکَ مَا تَرٰی وَےُصَلِّیْ لَنَااِمَامُ فِتْنَۃٍ وَنَتَحَرَّجُ فَقَالَ الصَّلٰوۃُ اَحْسَنُ مَا ےَعْمَلُ النَّاسُ فَاِذَا اَحْسَنَ النَّاسُ فَاَحْسِنْ مَعَھُمْ وَاِذَا اَسَآءُ وا فَاجْتَنِبْ اِسَآءَ تَھُمْ۔ (صحیح البخاری)

اور حضرت عبیداللہ ابن عدی ابن خیار کے بارے میں منقول ہے کہ وہ حضرت عثمان غنی ؓ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب کہ وہ (اپنی شہادت سے پہلے بغاوت کے ایام میں اپنے مکان کے اندر) محصور تھے چناچہ (عبیدا اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ سے) میں نے عرض کیا کہ آپ ہم سب کے امام (اور امیر) ہیں اور آپ پر جو کچھ مصائب و پریشانیاں) نازل ہوئی ہیں وہ آپ بھی دیکھ رہے ہیں اور (ہمارا حال یہ ہے کہ) ہمیں فتنے و فساد کا ایک امام نماز پڑھاتا ہے (جس کے پیچھے نماز پڑھنا) گناہ سمجھتے ہیں، (یہ سن کر) حضرت عثمان غنی ؓ نے فرمایا کہ نماز پڑھنا لوگوں کے تمام اعمال سے بہتر و افضل ہے۔ لہٰذا جب لوگ نیکی و بھلائی کریں تو تم بھی ان کے ساتھ نیکی و بھلائی کرو اور اگر وہ برائی کریں تو تم ان کی برائیوں سے بچو۔ (صحیح البخاری ) تشریح فتنہ و فساد کے امام سے مراد باغیوں کا سردار ہے جس کا نام کنانۃ ابن بشیر تھا۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی نیکیوں میں تو شریک رہو یعنی اگر وہ نیک کام کریں تو تم بھی ان کے ساتھ مل کر وہی نیک کام کرو البتہ ان کی بدی میں شریک نہ رہو۔ اور نماز کا پڑھنا نیک ہی عمل ہے اس لئے باغیوں کے سردار کے پیچھے تمام پڑھ سکتے ہو اسے گناہ کی بات نہ سمجھو۔ حضرت عثمان غنی ؓ کے اس ارشاد سے ان کے عدل و انصاف اور ان کے حلم و بردباری کے عظیم وصف پر روشنی پڑتی ہے کہ انہوں نے ایک ایسے سخت موقعہ پر جب کہ باغیوں نے اپنے ظلم و ستم کی انتہا کرتے ہوئے انہیں مکان میں محصور کر رکھا تھا اور ان کے اوپر تکالیف و پریشانیوں کے پہاڑ توڑ رہے تھے تو انہوں نے اس وقت بھی ان کی نیکی اور بھلائی کو از راہ بغض و انتقام برائی سے تعبیر نہیں کیا بلکہ اسے اچھا ہی کہا۔ یہ ارشاد اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ ہر نیک و بد آدمی کے پیچھے نماز جائز ہوجاتی ہے جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے۔

589Mishkaat-al-Masabih

نماز کے فضائل کا بیان

وَعَنْ عُمَارَۃَ بْنِ رُوَےْبَۃَ ص قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ لَنْ ےَّلِجَ النَّارَ اَحَدٌ صَلّٰی قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَاےَعْنِی الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ۔ (صحیح مسلم)

حضرت عمارہ ابن رویبہ ؓ ( حضرت عمیرہ رویبہ کے صاحبزادے اور قبیلہ بنی جثم بن ثقیف سے ہیں اور کوفی ہیں ١٢)۔ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے سورج نکلنے اور چھپنے سے پہلے ( دو نمازیں) یعنی فجر اور عصر کی پڑھیں تو وہ دوزخ میں ہرگز داخل نہیں ہوگا۔ (رواہ صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو آدمی ان دونوں نمازوں کو پابندی سے پڑھتا رہے تو وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا۔ بظاہر یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو آدمی ان دونوں نمازوں پر مداومت کرے گا، وہ دوسری نمازوں کو چھوڑنے یا دوسرے گناہوں کے صدور کے سبب دوززخ میں داخل نہیں کیا جائے گا حالانکہ جمہور علماء کرام کے نزدیک یہ بات ثابت ہے کہ نمازیں صغیرہ گناہوں کا کفارہ تو ہوجاتی ہیں۔ کبیرہ گناہوں کا نہیں ہوتیں۔ چناچہ علامہ طیبی نے اس حدیث کی توجیہہ یہ بیان کی ہے کہ چونکہ صبح کا وقت عام طور پر آرام کا ہوتا ہے اسی طرح شام کا تجار وغیرہ کی مشغولیت کا ہوتا ہے لہٰذا جو آدمی ان دونوں موانع کے باجود ان دونوں نمازوں کی مخافظت کرتا ہے تو وہ بزبان حال اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ وہ دوسرے اعمال میں بھی کمی زیادتی کرنے والا نہیں ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔ آیت ( اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَا ءِ وَالْمُنْكَرِ ) 29۔ العنکبوت 45) (بےشک نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے) لہٰذا اس بناء پر وہ بخشش کی سعادت سے نوازا جائے گا اور دوزخ میں داخل نہیں کیا جائے گا۔ اور ظاہر یہ ہے کہ اس حدیث سے ان دونوں نمازوں کی فضیلت و عظمت کے بیان میں مبالغہ مراد ہے کہ ان دونوں نمازوں کی فضیلت و عظمت اس بات کی متقاضی ہے کہ ان کی محافظت کرنے والا آدمی دوزخ میں داخل نہ کیا جائے گا اور باوجودیکہ اللہ تعالیٰ بندوں کے ہر عمل پر جزاء و سزا کا ترتب کرتا ہے مگر وہ چاہے تو ان دونوں نمازوں کے ادا کرنے کے سبب وہ گناہ جو اس کے بندوں سے سرزد ہوئے ہوں بخش سکتا ہے