عَنِ ابْنِ شِھَابٍ اَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِےْزِ اَخَّرَ الْعَصْرَ شَےْئًا فَقَالَ لَہُ عُرْوَۃُ اَمَا اِنَّ جِبْرَئِےْلَ قَدْ نَزَلَ فَصَلّٰی اَمَامَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ عُمَرُ اِعْلَمْ مَا تَقُوْلُ ےَا عُرْوَۃُ فَقَالَ سَمِعْتُ بَشِےْرَ بْنَ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ ےَّقُوْلُ سَمِعْتُ اَبَا مَسْعُوْدٍ ےَّقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ نَزَلَ جِبْرَئِےْلُ فَاَمَّنِیْ فَصَلَّےْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلَّےْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلَّےْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلَّےْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلَّےْتُ مَعَہُ ےَحْسِبُ بِاَصَابِعِہٖ خَمْسَ صَلَوٰتٍ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت ابن شہاب ( اسم گرامی محمد بن عبداللہ بن شہاب ہے زہری کی نسبت سے مشہور ہیں۔ آپ کی وفات ماہ رمضان ١٢٤ ھ میں ہوئی آپ جلیل القدر تابعی تھے) راوی ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے (ایک روز) عصر کی نماز (وقت مختار سے کچھ) تاخیر کر کے پڑھی حضرت عروہ نے (جب یہ دیکھا تو) کہا کہ سمجھ لیجئے! حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آکر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر (اوّل وقت) نماز پڑھائی تھی۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا عروہ! ذرا سوچ سمجھ کر کہو کیا کہتے ہو؟ عروہ نے کہا، میں نے حضرت ابومسعود ؓ کے صاحبزادے حضرت بشیر (رح) سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے حضرت ابومسعود ؓ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ جبرائیل (علیہ السلام) آکر میرے امام بنے اور میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، (راوی فرماتے ہیں کہ) رسول اللہ ﷺ نے پانچ نمازیں انگلیوں پر گن کر بتائیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت عروہ کا یہ مقصد تھا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کو یہ یاد دلائیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی امامت کے بارے میں جو حدیث وارد ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو پہلے دن اول وقت نمازیں پڑھائی تھیں تو اس سے معلوم ہوا کہ نمازوں کو اوّل وقت پڑھنا افضل ہے اس لئے آپ علیہ الرحمۃ نے اس وقت نماز میں تاخیر کر کے (اگرچہ یہ تاخیر زیادہ نہیں تھی) فضیلت کی سعادت کو کیوں ترک کیا؟۔ حضرت عمر ؓ نے جواب میں جو یہ کہا کہ عروہ! ذرا سوچ سمجھ کر کہو کیا کہتے ہو؟ اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو بیان کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ یہ اہم اور عظیم چیز ہے حدیث کو بیان کرنے میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیز حدیث کو بغیر سند کے بیان نہ کرنا چاہئے اس لئے سوچ سمجھ کر حدیث بیان کرو اور اس کی سند کے ساتھ بیان کرو۔ حضرت عروہ کی جلالت شان اور رفعت علم و فضل کا گو تقاضا تو یہ تھا کہ ان سے اس قسم کی بات نہ کہی جاتی مگر چونکہ روایت حدیث کی عظمت شان پیش نظر تھی اس لئے انہیں اس طرف توجہ دلائی گئی اور پھر عروہ نے بھی روایت حدیث کی اسی عظمت کے پیش نظر حضرت عمر ؓ کے توجہ دلانے کو نہ صرف یہ کہ اپنے علم و فضل کے منافی نہ سمجھا بلکہ اسے خیر و برکت کا باعث جان کر اس پر متنبہ ہوئے اور حدیث کی پوری سند یوں بیان کر کے اپنی قوت حفظ و ذہانت کا اظہار کرتے ہوئے یہ بات واضح کردی کہ میں جو بات کہہ رہا ہوں وہ کوئی معمولی درجہ کی نہیں ہے بلکہ اس کی صداقت کا میں یقینی علم رکھتا ہوں کیونکہ یہ وہ روایت ہے جس کو میں نے بشیر سے سنا ہے اور انہوں نے ایک جلیل القدر صحابی حضرت ابومسعود ؓ سے سنا اور انہوں نے خود رسول اللہ ﷺ کی لسان مقدس سے سنا ہے۔ اس حدیث میں راوی نے نماز کے اوقات تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ مخاطب کو چونکہ اوقات کی پوری تفصیل معلوم تھی اس لئے یہاں تو صرف صورت واقعہ بیان کئے گئے ہیں ہاں دوسری روایات میں اوقات کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ اَنَّہ، کَتَبَ اِلٰی عُمَالِہٖ اَنَّ اَھَمَّ اُمُوْرِکُمْ عِنْدِی الصَّلَاۃُ مَنْ حَفِظَھَا وَ حَافَظَ عَلَیْھَا حَفِظَ دِیْنَہ، وَمَنْ ضَیَّعَھَا فَھُوَ لِمَا سِوَاھَا اَضْیَعُ ثُمَّ کَتَبَ اَنْ صَلُّو ا الظُّھْرَ اِذَا کَانَ الْفَیْئُ ذِرَاعًا اِلٰی اَنْ یَکُوْنَ ظِلُّ اَحَدِ کُمْ مِثْلَہُ وَالْعَصْرُ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ بَیْضَاءُ نَقِیَّۃٌ قَدْرَ مَا یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فَرْسَخَیْنِ اَوْثَلَاثَۃً قَبْلَ مَغِیْبِ الشَّمْسِ وَالْمَغْرِبَ اِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ وَالعِشَاءَ اِذَا غَابَ الشَّفَقُ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ فَمَنْ نَامَ فَلَا نَامَتْ عَیْنُہ، وَالصُّبْحَ وَالنُّجُوْمُ بَادِیَۃٌ مُشْتَبِکَۃٌ۔ (رواہ موطا امام مالک)
اور امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے اپنے عاملوں (یعنی اسلامی سلطنت کے حکام) کے پاس یہ لکھ کر بھیجا تھا کہ تمہارے سب کاموں میں مہتم بالشان کام میرے نزدیک نماز کا پڑھنا ہے لہٰذا جس نے اس کی محافظت کی (یعنی ارکان و شرائط کے ساتھ نماز پڑھی اور اس پر نگہبانی رکھی (یعنی اسے ہمیشہ اداء کرتا رہا اور ریاء و نمائش کے سبب اسے باطل نہ کیا) تو گویا اس نے اپنے دین (کے بقیہ امور کی نگہبانی و محافظت کی اور جس نے اسے ضائع کردیا تو وہ اس چیز کو جو نماز کے علاوہ ہے بہت زیادہ ضائع کرنے والا ہے۔ پھر یہ لکھا کہ ظہر کی نماز ایک گز سایہ زوال ہونے سے لے کر ایک مثل سایہ تک (علاوہ سایہ اصلی کے) پڑھا کرو اور عصر کی نماز ایسے وقت پڑھا کرو کہ سورج اونچا اور سفید رہے اور سورج ڈوبنے میں) اتنا وقت رہے کہ کوئی سوار سورج ڈوبنے سے پہلے دو یا تین میل کا سفر طے کرسکے اور مغرب کی نماز سورج ڈوبنے کے بعد پڑھا کرو اور عشاء کی نماز شفق غائب ہونے کے وقت سے تہائی رات تک پڑھا کرو اور جو آدمی (عشاء سے پہلے) سو جائے (تو اللہ کرے) ان کی آنکھوں کو سونا نصیب نہ ہو (تین مرتبہ یہ دعا کی اور لکھا ہے کہ) صبح کی نماز ایسے وقت پڑھو جب کہ ستارے گنجان چمکتے ہوئے ہوں (یعنی تاریکی میں پڑھو۔ (مالک)
تشریح
چونکہ نماز دین کا ستون اور بنیاد ہے نیز یہی وہ عبادت ہے جو برائیوں سے روکتی اور بھلائی وسعادت کے راستہ پر لگاتی ہے اس لئے حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ جس نے نماز کی محافظت کی گویا اس نے دین کے تمام امور کی محافظت کی۔ اسی طرح فرمایا کہ جس نے نماز کو ضائع کیا یعنی نماز یا تو بالکل پڑھی ہی نہیں اور اگر پڑھی تو شرائط و واجبات کا قطعًا لحاظ نہ کیا تو وہ نماز کے علاوہ دیگر واجبات و مستحبات اور دینی امور کو بہت زیادہ ضائع کرنے والا ہے کیونکہ نماز ہی عبادات کی اصل ہے جب اس نے اسی کا خیال نہ رکھا تو اس سے دوسرے امور دین کے خیال رکھنے اور ان پر عمل کرنے کی کیا امید کی جاسکتی ہے۔ حضرت عمر ؓ کا یہ حکم کہ ظہر کی نماز ایک گز سایہ زوال ہونے کے وقت یعنی اس کے فورا بعد (کہ وہ ظہر کا اول وقت ہوگا) پڑھو۔ ان مقامات کے لئے ہے جہاں سایہ اصلی اسی قدر ہوتا ہے جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ سایہ اصلی مقامات اور وقت کے اعتبار سے ہوتا ہے کہ کہیں تو زیادہ ہوتا ہے اور کہیں کم ہوتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے عشاء سے پہلے سونے والے کے بارے میں تین مرتبہ بد دعا تاکید و تہدید کے لئے فرمائی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ عشاء سے پہلے نماز پڑھے بغیر جو آدمی سو جائے اللہ اس کی آنکھوں کو سونا نصیب نہ کرے وہ بےآرامی و بےقراری میں مبتلا رہے۔ چنانچہ حضرت ابن حجر شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عشاء کی نماز سے پہلے سونا حرام ہے مگر حنفیہ کے نزدیک یہ حکم تفصیل پر محمول ہے یعنی اگر کوئی نماز کا وقت شروع ہوجانے کے بعد نماز پڑھنے سے پہلے سوئے اور اسے اس بات کا گمان بھی ہو کہ میں نماز کے آخر وقت تک سوتا ہی رہوں گا تو اس کے لئے یہ سونا جائز نہ ہوگا۔ اور اگر اسے اپنے اوپر کامل اعتماد ہو کہ میں بغیر جگائے ایسے وقت اٹھ جاؤں گا کہ وقت کے اندر اندر پوری نماز پڑھ لوں گا تو اس کے لئے سونا جائز ہوگا۔ مذکورہ بالا حکم وقت شروع ہوجانے کے بعد سونے کے سلسلہ میں ہے لیکن وقت شروع ہونے سے پہلے سونے کے بارے میں بھی علماء کا اختلاف ہے، چناچہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس بارے میں بھی وہی پہلی تفصیل کی جائے گی۔ اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ وقت شروع ہونے سے پہلے سو جانا مطلق حرام نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی آدمی وقت شروع ہونے سے پہلے نماز کے لئے مکلف نہیں ہوتا۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ کَانَ قَدْ رُصَلَاۃِ رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الظُّھْرَ فِی الصَّیْفِ ثَلَاثَۃَ اَقْدَامٍ اِلٰی خَمْسَۃِ اَقْدَامٍ وَفِی الشِّتَاءِ خَمْسَۃ اَقْدَامٍ اِلٰی سَبْعَۃٍ اَقْدَامٍ۔ (رواہ ابوداؤدوالنسائی )
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز ظہر کا اندازہ گرمیوں میں تین قدم سے پانچ قدم تک اور جاڑوں میں پانچ قدم سے سات قدم تک تھا۔ (ابوداؤد، سنن نسائی)
تشریح
دونوں موسم میں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ سردی کے موسم میں سایہ اصلی زیادہ ہوتا ہے اور گرمی کے موسم میں سایہ اصلی کم ہوتا ہے خصوصاً حرمین میں ورنہ یہ دونوں وقت برابر ہیں یہ حدیث بہر صورت زوال کے بعد ظہر کی نماز کو تاخیر کرنے پر دلالت کرتی ہے قدم سے مراد ہر آدمی کے قد کا سا تو اں حصہ ہے چناچہ اس اعتبار سے کہ ہر آدمی کے قد کا طول اس کے سات قدم (یعنی سات پاؤں) کے برابر ہوتا ہے ہر چیز کا طول سات قدم مقرر ہے۔
ارشاد ربانی ہے آیت (فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰت) 2۔ البقرۃ 148) یعنی بھلائیوں میں جلدی کرو۔ آیت سے معلوم ہوا کہ نماز کے بارے میں اصل یہی ہے کہ اسے جلدی یعنی اوّل وقت ادا کرلیا جائے لیکن اتنی بات سمجھ لیجئے کہ آیت کا مفہوم تو یہی ہے کہ بھلائی کے تمام کاموں کو جن میں نماز بھی شامل ہے جلدی کر ڈالنا بہتر اور مناسب ہے مگر جن مواقع کے لئے شارع (علیہ السلام) نے تاخیر کا حکم فرمایا ہے وہاں تاخیر کرنا اولیٰ و افضل ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک تمام نمازوں کو ان کے اوّل وقت میں ادا کرنا مطلقا مستحب ہے مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں کچھ تفصیل ہے چناچہ وہ فرماتے ہیں کہ سردی کے موسم میں تو ظہر کی نماز اوّل وقت پڑھ لینی چاہئے مگر گرمی کے موسم میں ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھنا چاہئے۔ اسی طرح فجر کی نماز ہر موسم میں اجالے میں پڑھنی چاہئے اور عشاء کی نماز تاخیر کے ساتھ پڑھنی چاہئے نیز عصر کی نماز بھی تاخیر کر کے پڑھنی چاہئے مگر اس میں اتنی تاخیر نہ ہو کہ آفتاب متغیر ہوجائے نمازوں کو جلدی پڑھنے کی حدیہ ہے کہ ان کے اوّل وقت کے پہلے نصف حصہ میں ادا کی جائیں۔
عَنْ سَےَّارِ بْنِ سَلَامَۃَ قَالَ دَخَلْتُ اَنَا وَاَبِیْ عَلٰی اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ص فَقَالَ لَہُ اَبِیْ کَےْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّی الْمَکْتُوْبَۃَ فَقَالَ کَانَ ےُصَلِّی الْھَجِےْرَ الَّتِیْ تَدْعُوْنَھَا الْاُوْلٰی حِےْنَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَےُصَلِّی الْعَصْرَ ثُمَّ ےَرْجِعُ اَحَدُنَا اِلٰی رَحْلِہٖ فِیْ اَقْصَی الْمَدِےْنَۃِ وَالشَّمْسُ حَےَّۃٌ وَّنَسِےْتُ مَاقَالَ فِی الْمَغْرِبِ وَکَانَ ےَسْتَحِبُّ اَنْ ےُّؤَخِّرَ الْعِشَآءَ الَّتِیْ تَدْعُوْنَھَا الْعَتَمَۃَ وَکَانَ ےَکْرَہُ النَّوْمَ قَبْلَھَا وَالْحَدِےْثَ بَعْدَھَا وَکَانَ ےَنْفَتِلُ مِنْ صَلٰوۃِ الْغَدَاۃِ حِےْنَ ےَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِےْسَہُ وَےَقْرَأُ بِالسِّتِّےْنَ اِلَی الْمِائَۃِ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ وَّلَا ےُبَالِیْ بِتَأْخِےْرِ الْعِشَآءِ اِلٰی ثُلُثِ الَّلےْلِ وَلَا ےُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَھَا وَالْحَدِےْثَ بَعْدَھَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت سیار ابن سلامہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد (ہم دونوں) حضرت ابوبرزہ اسلمی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، میرے والد نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ فرض نمازیں کس طرح (یعنی کس کس وقت) پڑھتے تھے، انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ ظہر کی نماز جسے پہلی نماز کہا جاتا ہے سورج ڈھلنے کے وقت پڑھتے تھے اور عصر کی نماز (ایسے وقت) پڑھتے تھے کہ ہم میں سے کوئی نماز پڑھ کر مدینہ کے کنارے اپنے مکان پر جا کر سورج روشن ہوتے ہوئے ( یعنی اس کے متغیر ہونے سے پہلے) واپس آجاتا تھا۔ سیار فرماتے ہیں کہ مغرب کے بارے میں ابوبرزہ ؓ نے جو کچھ بتایا تھا وہ میں بھول گیا اور (ابوبرزہ ؓ کہتے تھے کہ عشاء کی نماز جسے تم عتمہ کہتے ہو رسول اللہ ﷺ تاخیر سے پڑھنے کو بہتر سمجھتے تھے اور عشاء کی نماز سے پہلے سونے اور عشاء کی نماز کے بعد (دنیاوی) باتیں کرنے کو آپ ﷺ مکروہ سمجھتے تھے اور صبح کو نماز ایسے وقت پڑھ ( کر فارغ ہو) لیتے تھے کہ ہر آدمی اپنے پاس بیٹھنے والے کو پہچان لیتا تھا اور (نماز میں) ساٹھ آیتوں سے لے کر سو آیتوں تک پڑھ لیا کرتے تھے، ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تہائی رات تک عشاء میں دیر کرنے میں تامل نہ فرماتے تھے اور عشاء کی نماز سے پہلے سونے اور عشاء کی نماز کے بعد باتیں کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہاں ظہر کے بارے میں جو وقت ذکر گیا ہے اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ سردی کے موسم میں ظہر کی نماز اوّل وقت پڑھتے ہوں گے کیونکہ یہ قولا اور فعلا ثابت ہوچکا ہے کہ آپ ﷺ گرمی کے موسم میں ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ عتمہ اس تاریکی کو کہتے ہیں جو شفق غائب ہونے کے بعد ہوتی ہے چناچہ پہلے عرب میں عتمہ عشاء کو کہتے تھے مگر بعد میں رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو منع کردیا کہ عشاء کو عتمہ نہ کہا جائے۔ یہاں تاخیر سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ عشاء کی نماز تہائی رات تک تاخیر کر کے پڑھتے تھے۔ آپ ﷺ عشاء کی نماز کے بعد دنیا کی باتیں کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اعمال کا خاتمہ عبادت اور ذکر اللہ پر ہونا چاہئے کیونکہ نیند بمنزلہ موت ہے۔ شرح السنۃ میں منقول ہے کہ عشاء سے پہلے سونے کو اکثر علماء نے مکروہ کہا ہے اور بعض حضرات نے سونے کی اجازت دی ہے چناچہ حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عشاء سے پہلے سوتے اور بعض علماء کے نزدیک صرف رمضان میں عشاء سے پہلے سونا جائز ہے۔ حضرت امام نووی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر نیند کا غلبہ ہو اور یہ خوف نہ ہو کہ عشاء کی نماز کا وقت سونے کی نذر ہوجائے گا تو سونا مکروہ نہیں ہے۔ عشاء کے بعد باتوں میں مشغول ہونے کو علماء کی ایک جماعت نے مکروہ کہا ہے چناچہ حضرت سعید ابن مسیب کے بارے میں بھی منقول ہے کہ وہ کہتے تھے کہ میرے نزدیک بغیر عشاء کی نماز پڑھے سو رہنا اس سے بہتر ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد کوئی آدمی لغو کلام اور دنیاوی باتوں میں مشغول ہو۔ بعض علماء نے عشاء کے بعد علم کی باتیں کرنے کی اجازت دی ہے اسی طرح ضرورت اور حاجت کے سلسلے میں یا گھر والوں اور مہمان کے ساتھ باتیں کرنے کی بھی اجازت دی ہے۔ (ملا علی قاری) حضرت شٰخ عبدالحق محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں چیزیں جائز ہیں، یعنی اگر کوئی آدمی عشاء کی نماز سے پہلے سستی اور کاہلی کو دور کرنے اور نشاط و تازگی حاصل کرنے کے لئے سونا چاہے تو اس کے لئے سونا جائز ہے، اسی طرح عشاء کی نماز کے بعد ایسی باتیں کرنا جو ضروری ہوں اور بےمعنی نہ ہوں جائز ہے۔
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِوبْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ صَلٰوۃِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ کَانَ ےُصَلِّی الظُّہْرَ بِالْھَاجِرَۃِ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَےَّۃٌ وَالْمَغْرِبَ اِذَا وَجَبَتْ وَالْعِشَآءَ اِذَا کَثُرَالنَّاسُ عَجَّلَ وَاِذَا قَلُّوْا اَخَّرَ وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت محمد بن ابن عمرو ابن حسن ابن علی (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت جابر ابن عبداللہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز دوپہر ڈھلے پڑھتے تھے اور عصر کی نماز ایسے وقت پڑھتے تھے کہ سورج زنار (یعنی روشن) ہوتا تھا اور مغرب کی نماز آفتاب غروب ہونے کے بعد پڑھتے تھے اور عشاء کی نماز میں جب لوگ زیادہ آجاتے تو جلدی ہی پڑھ لیتے تھے اور جب لوگ کم ہوتے تو تاخیر کر کے پڑھتے تھے اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھ لیتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
عشاء کی نماز کے بارے میں یہاں وضاحت کردی گئی ہے کہ اگر لوگ زیادہ آجاتے تو آپ ﷺ نماز جلدی پڑھ لیتے اور اگر کم آتے تو تاخیر کر کے پڑھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جماعت کی کثرت کی پیش نظر نماز کو اوّل وقت سے تاخیر کر کے پڑھنا جائز ہے بلکہ مستحب ہے۔ چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے متبعین نے اوّل وقت نماز پڑھنے کا التزام اسی لئے نہیں کیا ہے کہ تاخیر سے نماز پڑھنے میں جماعت میں کثرت ہوجاتی ہے نہ یہ کہ ان حضرات کے نزدیک اوّل وقت افضل نہیں ہے۔ اوّل وقت تو بہر صورت افضل ہے لیکن بعض خارجی عوارض جیسے جماعت کی کثرت وغیرہ کی بناء پر تاخیر ہی اولیٰ ہوتی ہے۔ صبح کی نماز تاریکی میں پڑھنے کا سبب بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ صحابہ کرام رات بھر سونے کے بجائے ذکر و عبادت میں مشغول رہنے کی وجہ سے صبح سویرے ہی مسجد میں موجود رہتے تھے اس لئے آپ ﷺ جماعت کی کثرت کے پیش نظر جلدی پڑھ لیتے تھے۔ آخر میں اتنی بات سمجھ لیجئے کہ اس حدیث سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ مستقلاً تاریکی ہی میں فجر کی نماز پڑھتے تھے اور اگر بفرض محال اسے مان بھی لیا جاے تو یہ ثابت ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز روشنی میں پڑھنے کا حکم دیا ہے اور حنفیہ کے نزدیک فعل کے مقابلے میں امر (یعنی حکم) کو ترجیح دی جاتی ہے۔
وَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ کُنَّا اِذَا صَلَّےْنَا خَلْفَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم بِالظَّھَآئِرِسَجَدْنَا عَلٰی ثِےَابِنَا اتِّقَآءَ الْحَرِّ (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَلَفْظُہُ لِلْبُخَارِیِّ۔)
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھتے ہوئے گرمی سے بچنے کے لئے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرلیا کرتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حنفیہ کے نزدیک چونکہ نمازی اپنے پہنے ہوئے کپڑے پر سجدہ کرسکتا ہے اس لئے یہ حضرات اس حدیث کو اپنے مسلک کی دلیل میں پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ نمازی کے لئے پہنے ہوئے کپڑے پر سجدہ کرنا درست ہے۔ حضرات شوافع کے نزدیک چونکہ ایسے کپڑے پر جو نمازی کے ہلنے سے حرکت کرتے ہوں سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔ اس لئے وہ حضرات اس حدیث کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کپڑوں پر سجدہ کرتے تھے وہ ان کے بدن پر نہیں ہوتے تھے بلکہ گرمی سے بچاؤ کی خاطر انہیں علیحدہ فرش پر بچھائے رکھتے تھے۔ اس حدیث کو مصنف مشکوٰۃ نے باب تعجیل الصلوٰۃ میں نقل کیا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ زمین پر گرمی کی تپش اوّل وقت ہی رہتی ہے لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ گرمی کے موسم میں بھی ظہر کی نماز اوّل وقت ہی میں پڑھا کرتے تھے۔ حالانکہ یہ بات اس حدیث سے معلوم نہیں ہوتی کیونکہ بسا اوقات (بلکہ زیادہ گرمی کے موسم میں) اوّل وقت کی بہ نسبت بعد میں زیادہ گرمی ہوجاتی ہے۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَاَبْرِدُوْا بِالصَّلٰوۃِ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ لِّلْبُخَارِیِّ عَنْ اَبِیْ سَعِےْدٍ بِالظُّھْرِ فَاِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَےْحِ جَھَنَّمَ وَاشْتَکَتِ النَّارُ اِلٰی رَبِّھَا فَقَالَتْ رَبِّ اَکَلَ بَعْضِیْ بَعْضًا فَاَذِنَ لَھَا بِنَفَسَےْنِ نَفَسٍ فِی الشِّتَآءِ وَنَفْسٍ فِی الصَّےْفِ اَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ مِنَ الْحَرِّ وَاَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ مِنَ الزَّمْھَرِےْرِ (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ) وَفِی رِوَاےَۃٍ لِّلْبُخَارِیِّ فَاَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ مِنَ الْحَرِّ فَمِنْ سَمُوْمِھَا وَاَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ مِنَ الْبَرْدِ فَمِنْ زَمْھَرِےْرِھَا۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب گرمی کی شدت ہو تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔ اور صحیح البخاری کی ایک روایت میں ابوسعید ؓ سے منقول ہے کہ ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت پڑھا کرو ( یعنی ابوہریرہ ؓ کی روایت میں تو بالصلوٰۃ کا لفظ آیا ہے اور ابوسعید کی روایت میں بالظہر کا لفظ آیا ہے نیز اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ) کیونکہ گرمی کی شدت دوزخ کی بھاپ سے ہوتی ہے اور (دوزخ کی) آگ نے اپنے رب سے شکایۃ عرض کیا کہ میرے پروردگا! میرے بعض (شعلے) بعض کو کھائے لیتے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دے دی ہے۔ اب وہ ایک سانس جاڑے میں لیتی ہے اور ایک سانس گرمی میں۔ گرمی میں جس وقت تمہیں زیادہ گرمی معلوم ہوتی ہے اور جاڑے میں جس وقت تمہیں زیادہ سردی معلوم ہوتی ہے (تو اس کا سبب یہی ہوتا ہے کہ وہ ایک سانس گرمی میں اور ایک سانس سردی میں لیتی ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اور صحیح البخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جس وقت تم گرمی کی شدت محسوس کرتے ہو تو اس کا سبب دوزخ کا گرم سانس ہوتا ہے اور جس وقت تم سردی کی شدت محسوس کرتے ہو تو اس کا سبب دوزخ کا ٹھنڈا سانس ہوتا ہے۔
تشریح
پروردگار سے دوزخ کی آگ کی نے یہ شکایت کی کہ میرے بعض (شعلے) بعض کو کھائے لیتے ہیں۔ کنایہ ہے اجزاء آگ کی کثرت سے اور آپس کے اختلاط سے یعنی آگے کے شعلے اتنے زیادہ ہوتے ہیں اور اس شدت سے بھڑکتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ دوسرے شعلے کو فنا کر گھاٹ اتار کر اس کی جگہ بھی خود لے لے۔ چناچہ پروردگار نے اسے سانس لینے کی اجازت دے دی یعنی سانس سے مراد شعلے کو دبانا اور اس کا دوزخ سے باہر نکلنا ہے۔ جس طرح کہ جاندار سانس لیتا ہے تو ہوا باہر نکلتی ہے۔ بہر حال ایسے وقت باوجود یہ کہ مشقت بہت ہوتی ہے نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ ایسے سخت وقت میں جب کہ گرمی اپنی شدت پر ہوتی ہے دل و دماغ تپش کی وجہ سے بےچین ہوتے ہیں نیز خشوع اور سکون وا طمینان حاصل نہیں ہوتا جو نماز کی روح ہیں۔ اس موقع پر عقلی طور پر چند اشکال پیدا ہوتے ہیں ان کی وضاحت کر دینی ضروری ہے۔ پہلا اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ گرمی اور سردی کی شدت زمین کی حرکت، عرض البلد اور آفتاب کی وجہ سے ہوتی ہے اس لئے یہاں یہ کیسے کہا گیا کہ گرمی کی شدت دوزخ کی بھاپ سے ہوتی ہے؟ اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ یہاں دوزخ کی بھاپ کو گرمی کی شدت کا سبب بتایا گیا ہے نہ کہ اصل گرمی کا۔ اس پر یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ گرمی اور سردی کی شدت بھی آفتاب کے قرب و بعد کی بناء پر ہوتی ہے کیونکہ اس کے باوجود ہوسکتا ہے کہ دوزخ کا سانس اس میں مزید شدت پیدا کرتا ہو لہٰذا اس کا انکار مخبر صادق کی خبر کے ہوتے ہوئے طریقہ اسلام کے منافی ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اتنی بات تو طے ہے کہ زمین میں حرارت کی علت سورج کا مقابلہ اور اس کی شعاعیں پڑنا ہے اور یہ کہیں ثابت نہیں ہوا ہے کہ سورج دوزخ نہیں ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ ہمارے نظام کی دوزخ یہی ہو جسے ہم سورج کہتے ہیں کیونکہ سورج میں ناریت کا تموج اور اشتعال اس قدر ہے کہ دوزخ کی تمام صفات اس پر منطبق ہوتی ہیں اور اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ سورج دوزخ نہیں ہے تو یہ بالکل بعید اور ناممکن نہیں ہے کہ دوزخ علیحدہ ہو اور اس کی گرمی کا اثر زمین پر پڑتا ہو۔ دوسرا اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوزخ نے شکایت کیسے کی کیونکہ دوزخ بےزبان ہے اور بےزبان اظہار مدعا کیسے کرسکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح زبان کے لئے تلفظ ضروری نہیں ہے اسی طرح تلفظ کے لئے زبان بھی ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ اکثر جانوروں کی زبان ہوتی ہے مگر وہ تلفظ نہیں کرتے ایسے ہی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کے زبان نہیں ہوتی مگر وہ بات کرتی ہیں۔ لہٰذا یہ اشکال پیدا کرنا کہ بغیر زبان کے بات کرنا ناممکن ہے کم فہمی کی بات ہے۔ کیونکہ اگر کوئی یہ پوچھنے بیٹھ جائے کہ زبان سے بات کیوں کی جاتی ہے اس سے سننے کا کام کیوں نہیں لیا جاتا؟ آنکھ سے دیکھتے اور کان سے سنتے کیوں ہو ان سے بات کیوں نہیں کرتے جب کہ یہ سب اعضاء بظاہر ایک ہی مادہ سے بنتے ہیں جو نطفہ ہے تو ہر ایک قوت کی تخصیص کی وجہ ایک خاص چیز سے کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہی دیا جائے گا کہ یہ صانع مطلق کی قدرت ہے کہ بولنا زبان سے مختص کیا، دیکھنا آنکھ سے اور سننا کان سے ورنہ یہ سب اعضاء گوشت کا ایک حصہ ہونے میں برابر ہیں۔ ٹھیک اسی طرح یہاں بھی یہی کہا جائے گا کہ کیا صانع مطلق کی یہ قدرت نہیں ہوسکتی کہ وہ اپنی ایک مخلوق کو گویائی کی قوت دے دے اور جب کہ حکماء کی ایک جماعت تو یہ بھی کہتی ہے کہ اجرام فلکیہ میں نفوس ہیں اور ان میں احساس و ادراک کی قوت ہے تو اس صورت میں بولنا بعید ہے؟۔ تیسرا اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوزخ جاندار نہیں ہے وہ سانس کیسے لیتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دوزخ میں نفس ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہے اور جب مذکورہ بالا بحث کی رو سے اس سے تکلم ثابت ہوسکتا ہے تو سانس لینے میں کیا اشکال باقی رہ جائے گا!۔ چوتھا اشکال یہ ہے کہ آگ کے ٹھنڈا سانس لینے کے کیا معنی؟۔ اس کا مختصر سا جواب یہ ہے کہ آگ سے مراد اس کی جگہ یعنی دوزخ ہے اور اس میں ایک طبقہ زمہریر بھی ہے۔ پانجواں اشکال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ اس حدیث کے مفہوم کے مطابق تو یہ چاہئے تھا کہ سخت سردی کے موسم میں فجر کو بھی تاخیر سے پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سردی میں صبح کو سورج نکلتے تک اسی شدت کے ساتھ رہتی ہے اگر طلوع آفتاب تک نماز میں تاخیر کی جاتی ہے تو وہاں سرے سے وقت ہی جاتا رہتا۔ بہر حال۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز تاخیر سے پڑھنا مستحب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود صحابہ بھی گرمی کے موسم میں ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ چناچہ صحیح البخاری کی ایک روایت میں منقول ہے کہ صحابہ ظہر کی نماز (تاخیر سے) ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے یہاں تک کہ ٹیلوں کے سائے زمین پر پڑنے لگتے تھے۔ اور یہ سب ہی جانتے ہیں کہ ٹیلے چونکہ پھیلے ہوئے ہوتے ہیں اس لئے ان کے سائے زمین پر بہت دیر کے بعد پڑتے ہیں بخلاف دراز چیزوں مثلاً مینار وغیرہ کے ان کے سائے جلدی ہی پڑنے لگتے ہیں۔ بعض روایتوں میں منقول ہے کہ صحابہ ظہر کی نماز کے لئے دیواروں کے سائے میں ہو کر جاتے تھے۔ اور دیواروں کے بارے میں تحقیق ہوچکی ہے کہ اس وقت دیواریں عام طور پر سات سات گز کی ہوتی تھی۔ لہٰذا ان کے سائے میں چلنا اس وقت کار آمد ہوتا ہوگا جب کہ سورج کافی نیچے ہوتا ہو۔ بعض حضرات نے تاخیر کی حد آدھا وقت مقرر کی ہے یعنی کچھ علماء یہ فرماتے ہیں کہ گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز آدھے وقت تک مؤخر کر کے پڑھنی چاہئے۔ بعض شوافع حضرات حدیث سے ثابت شدہ ابراد (یعنی نماز کو ٹھنڈا کر کے) کا محمول وقت زوال کو بتاتے ہیں یعنی ان کا کہنا یہ ہے کہ اس ابراد کا مقصد نماز ظہر میں اتنی تاخیر نہیں ہے جو حنفیہ بتاتے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت استواء کی شدید گرمی سے بچنے کے لئے زوال کی وقت ظہر کی نماز پڑھنی چاہئے۔ ان حضرت کی یہ تاویل نہ صرف یہ کہ بعیداز مفہوم ہے بلکہ خلاف مشاہدہ بھی ہے کیونکہ وقت استواء کے مقابلہ میں زوال کے وقت گرمی کی شدت میں کمی آجانے کا خیال تجربہ و مشاہدہ ہے۔ ہدایہ میں مذکور ہے کہ جن شہروں میں گرمی کی شدت آفتاب کے ایک مثل سایہ پہنچنے کے وقت ہوتی ہے وہاں تو ابراد کا مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب کہ نماز ایک مثل سایہ ہونے کے بعد پڑھی جائے۔ الحاصل۔ ظہر کی نماز کو ابراد میں یعنی ٹھنڈا کر کے پڑھنے کے بارے میں بہت زیادہ حد یثیں وارد ہیں جن سے متفقہ طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ گرمی میں ظہر کی نماز ٹھنڈا کر کے پڑھنا ہی افضل و اولیٰ ہے۔ جہاں تک حدیث حباب ؓ کا تعلق ہے جس میں مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے گرمی کے موسم میں دوپہر کی شدت کے بارے میں شکایت کی تو آپ ﷺ نے ہماری درخواست قبول نہیں کی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز کو پورے وقت تک موخر کرنے کی درخواست کی تھی اس لئے آپ ﷺ نے اسے قبول نہیں فرمائی کہ اگر اتنی تاخیر کی جائے گی تو نماز کا وقت بھی نکل جائے گا۔ حضرت امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ابراد رخصت ہے اور وہ بھی سب کے لئے نہیں بلکہ ان لوگوں کے لئے ہے جو جماعت کے لئے مسجدوں میں جانے کے لئے مشقت و محنت کا سامنا کرتے ہیں۔ جو لوگ تنہا نماز پڑھتے ہوں یا اپنے پڑوس و محلہ کی مسجد میں نماز کے لئے آتے ہوں ان کے لئے میرے نزدیک یہ پسندیدہ ہے کہ وہ اول وقت سے تاخیر نہ کریں، یہ قول ظاہر حدیث کے خلاف ہے اس لئے اس کی اتباع نہیں کی جاسکتی۔ حضرت امام ترمذی (رح) نے ایک حدیث نقل کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں بھی باوجود یہ کہ سب یکجا رہتے تھے ابراء کا حکم فرمایا کرتے تھے، نیز امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں کہ جو آدمی گرمی کی شدت سے بچنے کے لئے ظہر کی نماز کو تاخیر سے پڑھنے کے لئے کہتا ہے اس مسلک کی اتباع سنت کی وجہ سے اولیٰ و افضل ہے۔
وَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ حَےَّۃٌ فَےَذْھَبُ الذَّاھِبُ اِلَی الْعَوَالِیْ فَےَاْتِےْھِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ وَّبَعْضُ الْعَوَالِیْ مِنَ الْمَدِےْنَۃِ عَلٰی اَرْبَعَۃِ اَمْےَالٍ اَوْ نَحْوِہٖ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز ایسے وقت پڑھتے تھے کہ سورج اونچا اور زندہ (یعنی روشن) ہوتا تھا اور کوئی جانے والا عوالی جا کر واپس آجایا کرتا تھا اور سورج اونچا ہی رہتا تھا اور بعض عوالی مدینہ سے چار میل تقریباً چار میل کے فاصلے پر ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
عوالی عالیہ کی جمع ہے، مدینہ شہر کے باہر بلندی پر جو بستیاں ہیں انہیں عوالی کہا جاتا ہے۔ مسجد بنی قریظہ بھی اسی طرف ہے۔
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم تِلْکَ صَلٰوۃُ الْمُنَافِقِ ےَجْلِسُ ےَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتّٰی اِذَا اصْفَرَّتْ وَکَانَتْ بَےْنَ قَرْنَیِ الشَّےْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ اَرْبَعًا لَّا ےَذْکُرُ اللّٰہَ فِےْھَا اِلَّا قَلِےْلًا۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ (عصر کی نماز جو آخر وقت میں پڑھی جاتی ہے) منافق کی نماز ہے وہ بیٹھا ہوا سورج کو دیکھتا رہتا ہے جب سورج زرد ہو کر شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان (چھپنے کے قریب) ہوجاتا ہے تو جلدی سے اٹھ کر چار ٹھونگیں مار لیتا ہے اور اللہ کا ذکر بھی اس نماز میں قدرے کم ہی کرتا ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
ٹھونگیں مارنے کا مطلب یہ ہے وہ بغیر طمانیت و سکون کے اس طرح جلدی جلدی سجدے کرتا ہے جیسے جانور دانہ چگتا ہے عصر کی نماز میں سجدے آٹھ ہوتے ہیں مگر یہاں چار اس لئے فرمائے ہیں کہ جب اس نے پہلا سجدہ کر کے اچھی طرح سر نہیں اٹھایا تو گویا دونوں سجدے ایک سجدہ کے حکم میں آگئے یا دونوں سجدوں کو ایک ہی رکن مانتے (سمجھتے) ہوئے بجائے آٹھ کے چار کا ذکر فرمایا ہے۔ یہاں صرف عصر کی نماز کا ذکر کیا گیا ہے دوسری نمازوں کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نماز وسطی ہے اور یوں تو سب ہی نمازوں میں ارکان و آداب کا لحاظ نہ کرنا بری بات ہے مگر دوسری نمازوں کی بہ نسبت اس نماز کو دل جمعی اور سکون خاطر کے ساتھ نہ پڑھنا اور اس کے ارکان و آداب کا لحاظ نہ کرنا بہت ہی بری بات ہے۔ مولانا مظہر فرماتے ہیں کہ جس آدمی نے عصر کی نماز کو سورج کے زرد ہونے تک موخر کیا تو اس نے اپنے آپ کو منافقین کے مشابہ ظاہر کیا کیونکہ منافق نماز کی صحت و تکمیل کا کوئی خیال نہیں کرتا وہ تو صرف ظاہری طور پر مسلمان بن کر تلوار سے بچنے کے لئے نماز پڑھتا ہے اور اسے نماز میں اتنی زیادہ تاخیر کی قطعاً پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ اسے اجر وثواب کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ منافقین کی عملاً و فعلاً مخالفت کرتے ہوئے عصر کی نماز کو وقت مختار میں پڑھ لیا کریں۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم الَّذِیْ یَفُوْتُہُ صَلٰوۃُ الْعَصْرِ فَکَاَنَّمَا وُتِرَ اَھْلہُ وَمَالہُ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کی نماز عصر قضا ہوگئی تو گویا کہ مال اس کے اہل و عیال سب لٹ گئے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کی عصر کی نماز قضا ہوجائے تو وہ ایسا ہے جیسے کہ اس کا گھر بار اور مال و اولاد سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں۔ یا ان میں کمی واقع ہوجائے لہذا جس طرح کوئی آدمی اپنے اہل و عیال کی تباہی و بربادی سے ڈرتا رہتا ہے جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے۔ یہاں بھی صرف نماز عصر کے ذکر کی وجہ سے یہ ہے کہ یہ نماز وسطی ہے اس کو چھوڑنا دوسری نمازوں کو چھوڑنے کے مقابلے میں زیادہ سخت گناہ ہے۔
وَ عَنْ بُرَیْدَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ َترَکَ صَلَاۃَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہُ۔
اور حضرت بریدہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے عصر کی نماز چھوڑ دی (گویا) اس کے تمام (نیک) اعمال برباد ہوگئے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
اس حدیث سے بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس آدمی نے عصر کی نماز چھوڑ دی اس کے تمام نیک اعمال برباد ہوجائیں گے، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ تمام اعمال کے برباد ہوجانے کی بدبختی تو صرف اس آدمی کے حصہ میں آتی ہے جو مرتد مرتا ہے لہٰذا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے عصر کی نماز چھوڑ دی تو اس نماز کی وجہ سے اسے جو اجر وثواب ملتا اور اس کی نیکیوں میں جو زیادتی ہوتی ہے وہ اس سے محروم رہا یا یہ کہ اس دن کے اعمال میں جو کمال اسے نماز عصر کی بناء پر حاصل ہوتا وہ ضائع ہوگیا جس سے اس کے اعمال میں کمی واقع ہوگئی۔ حنفیہ کے نزدیک صرف مرتد ہوجانے سے تمام اعمال باطل ہوجاتے ہیں ان کے نزدیک موت کی قید نہیں ہے حتی کہ اگر کسی آدمی پر حج واجب تھا اور وہ حج کرنے کے بعد (نعوذ با اللہ) مرتد ہوگیا پھر بعد میں اللہ نے اسے ہدایت بخشی اور وہ اسلام میں داخل ہوگیا تو اسے حج دوبارہ کرنا ہوگا معتزلہ کے نزدیک کبیرہ گناہوں کے صدور سے بھی اعمال باطل ہوجاتے ہیں۔ وا اللہ اعلم۔
وَعَنْ رَّافِعِ بْنِ خَدِےْجٍص قَالَ کُنَّا نُصَلِّی الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَےَنْصَرِفُ اَحَدُنَا وَاِنَّہُ لَےُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِہٖ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت رافع ابن خدیج ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز (ایسے وقت) پڑھتے تھے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد کوئی اپنے تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ مغرب کی نماز ایسے (اول) وقت پڑھ لیتے تھے کہ نماز پڑھ کر واپس آنے کے بعد اگر کوئی آدمی تیر پھینکتا تو وہ یہ دیکھ لیتا تھا کہ وہ تیر جا کر کہاں گرا ہے۔ بہر حال۔ تمام علماء کے نزدیک بالاتفاق مغرب کی نماز اول وقت پڑھنا مستحب ہے۔
وَ عَنْ عَآئِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ کَانُوْا ےُصَلُّوْنَ الْعَتَمَۃَ فِےْمَا بَےْنَ اَنْ ےَّغِےْبَ الشَّفَقُ اِلٰی ثُلُثِ الَّلےْلِ الْاَوَّلِ ۔(مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عشاء کی نماز شفق کے غائب ہونے کے بعد سے اول تہائی رات تک پڑھتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس سے پہلے بتایا جا چکا ہے کہ پہلے عرب میں لوگ عشاء کو عتمہ کہتے تھے مگر آنحضور ﷺ نے جب عشاء کو عتمہ کہنے سے منع کردیا تو یہ نام ترک کردیا گیا، مگر یہاں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے عشاء کو عتمہ ہی کہا ہے تو اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ اس وقت تک حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو یہ معلوم نہیں ہوا ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء کو عتمہ کہنے سے منع کردیا ہے۔ عشاء کے وقت کے سلسلے میں بھی پہلے بتایا جا چکا ہے کہ تہائی رات تک تو وقت مختار ہے اور طلوع صبح سے پہلے پہلے تک وقت جواز رہتا ہے۔
وَعَنْھَا قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَےُصَلِّی الصُّبْحَ فَتَنْصَرِفُ النِّسَآئَُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوْطِہِنَّ مَا ےُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ (جب) رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے تو (وہ) عورتیں (جو آپ کے ہمراہ نماز پڑھتی تھیں) چادروں میں لپٹی ہوئی واپس چلی جاتی تھیں اور اندھیرے کی وجہ سے انہیں کوئی شناخت نہیں کرسکتا تھا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
وَعَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَزَےْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سُحُوْرِھِمَا قَامَ نَبِیُّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِلَی الصَّلٰوۃِ فَصَلّٰی قُلْنَا لِاَنَسٍ کَمْ کَانَ بَےْنَ فَرَاغِھِمَا مِنْ سُحُوْرِھِمَا وَدُخُوْلِھِمَا فِی الصَّلٰوۃِ قَالَ قَدْرُ مَا ےَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِےْنَ اٰےَۃً۔ (صحیح البخاری)
اور حضرت قتادہ ؓ حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت زید ابن ثابت ؓ نے (روزہ رکھنے کے لئے) سحری کھائی۔ سحری سے فراغت کے بعد رسول اللہ ﷺ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور نماز پڑھی (قتادہ فرماتے ہیں کہ) ہم نے حضرت انس ؓ سے پوچھا کہ ان دونوں کے سحری سے فارغ ہونے اور نماز شروع کرنے کے درمیان کتنے وقت کا وقفہ تھا۔ حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ اتنے وقت کا وقفہ تھا کہ ایک آدمی پچاس (متوسط) آیتیں پڑھ لے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
علامہ تور پشتی فرماتے ہیں کہ یہاں وقت کا جو اندازہ بیان کیا گیا ہے اس پر عام مسلمان کو عمل کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل براہ راست بارگاہ الوہیت سے مطلع ہوجانے کے بعد تھا۔ دوسرے یہ کہ رسول اللہ ﷺ تو دین کے معاملہ میں معصوم عن الخطا تھے کہ آپ سے کسی دینی معمولی لغزش کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور ظاہر ہے کہ یہ مرتبہ ہر ایک کو کہاں نصیب!۔
وَعَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَےْفَ اَنْتَ اِذَا کَانَتْ عَلَےْکَ اُمَرَآءُ ےُمِےْتُوْنَ الصَّلٰوۃَ اَوْ ےُؤَخِّرُوْنَ عَنْ وَقْتِھَا قُلْتُ فَمَا تَاْمُرُنِیْ قَالَ صَلِّ الصَّلٰوۃَ لِوَقْتِھَا فَاِنْ اَدْرَکْتَھَا مَعَھُمْ فَصَلِّ فَاِنَّھَا لَکَ نَافِلَۃٌ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اس وقت تم کیا کرو گے جب کہ تمہارے امراء (احکام) نماز کو وقت مختار سے ٹال کر، یا وقت مختار سے مؤخر کر کے پڑھیں گے۔ میں نے عرض کیا، ایسے وقت کے لئے آپ ﷺ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔ اس وقت تم اپنی نماز کو وقت پر پڑھ لو پھر اگر ان کے ساتھ بھی نماز مل جائے تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لو، یہ نماز تمہارے لئے نفل ہوجائے گی۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کے الفاظ (او کانوا یوخرون عن وقتھا) لفظ اور اوی کا شک ہے یعنی حدیث کے کسی راوی کو شک ہوا ہے کہ اس سے پہلے کے راوی نے لفظ یمیتون کہا ہے یا یو خرون۔ ویسے معنی کے اعتبار سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے اس وقت تم کیا کرو گے جب کہ تم یہ دیکھو گے کہ وہ آدمی جو تمہارا حاکم و سردار ہوگا نماز میں سستی و کاہلی کرے گا نماز کو اس کے اول وقت میں نہ پڑھے گا بلکہ غیر مختار طور پر مؤخر کرے گا اور چونکہ وہ تمہارا حاکم ہوگا اس لئے اس پر قادر نہیں ہو سکو گے کہ اس کی مخالفت کر کے اسے سیدھی راہ پر لگا دو تمہیں یہ خوف ہوگا کہ اگر نماز اس کے ہمراہ پڑھتے ہو تو اول وقت نماز پڑھنے کی فضیلت ہاتھ سے جاتی ہے اور اگر اس کی مخالفت کرتے ہو تو نہ صرف یہ کہ اس کی طرف سے تکلیف و ایذاء پہنچنے کا بلکہ جماعت کی فضیلت سے محروم ہونے کا بھی خدشہ رہے گا۔ چناچہ حضرت ابوذر ؓ نے لگے ہاتھوں ایسے موقع کے لئے حکم بھی پوچھ لیا کہ جب ایسی صورت پیش آئے تو مجھے کیا طریقہ عمل اختیار کرنا چاہئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں یہ سیدھا راستہ بتادیا کہ جب بھی ایسا موقع ہو تو کم سے کم تم اپنی نماز تو صحیح وقت پر ادا کر ہی لینا پھر اس کے بعد اگر تمہیں اتفاق سے ان کی نماز میں بھی شامل ہوجانے کا موقع مل جائے تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لینا تمہاری یہ نماز نفل ہوجائے گی، اس طرح تمہیں دوہرا ثواب مل جائے گا۔ چنانچہ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی امام نماز میں تاخیر کرے تو مقتدیوں کو چاہئے کہ وہ اول وقت اپنی نماز ادا کرلیں پھر بعد میں امام کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیں تاکہ اس طرح وقت اور جماعت دونوں کی فضیلت پاسکیں لیکن یہ جان لینا چاہئے کہ یہ حکم صرف ظہر اور عشاء کے بارے میں ہے۔ کیونکہ فجر اور عصر میں تو فرض ادا کرلینے کے بعد نفل نماز پڑھنی مکروہ ہے اور مغرب کی چونکہ تین رکعت فرض ہیں اور تین رکعت نفل مشروع نہیں ہے اس لئے مغرب میں بھی یہ طریقہ اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ جہاں تک حدیث کے اطلاق کا تعلق ہے اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ یہ ضرورت کی بناء پر ہے کہ امراء و حکام کے ہمراہ چونکہ نماز نہ پڑھنے اور ان کے خلاف کرنے کی وجہ سے فتنے و فساد میں مبتلا ہونے کا خدشہ تھا اس لئے آپ ﷺ نے ظہر اور عشاء کی قید نہیں لگائی کہ مکروہات کا ارتکاب اس سے بہتر ہے کہ فتنہ و فساد کو جنم دیا جائے پھر یہ کہ اسے مواقع پر مکروہات بھی مباح ہوجاتے ہیں۔ آخر میں اتنی بات اور سمجھ لیجئے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ سے جو یہ فرمایا تھا وہ محض پیش بندی کے طور پر نہیں فرمایا تھا بلکہ در اصل آپ ﷺ نے معجزے کے طور پر آئندہ پیش آنے والے یقینی حالات کی پیشین گوئی فرمائی تھی۔ چناچہ جاننے والے جانتے ہیں کہ بنی امیہ کے دور میں یہ پیشین گوئی پوری صداقت کے ساتھ صحیح ہوئی کہ اس زمانے کے امراء و حکام نماز میں انتہائی سستی و کاہلی کرتے تھے اور نماز کو وقت مختار سے مؤخر کر کے پڑھا کرتے تھے۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ اَدْرَکَ رَکْعَۃً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ اَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ اَدْرَکَ الصُّبْحَ وَمَنْ اَدْرَکَ رَکْعَۃً مِّنَ الْعَصْرِ قَبْلَ اَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ اَدْرَکَ الْعَصْرَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جس آدمی نے آفتاب طلوع ہونے سے پہلے صبح کی نماز کی ایک رکعت پالی تو اس نے صبح کی نماز کو پا لیا اور جس نے آفتاب غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز کی ایک رکعت پا لی تو اس نے عصر کی نماز کو پالیا (یعنی اس کی نماز ضائع نہیں ہوگی لہٰذا اسے چاہئے کہ بقیہ رکعتیں پڑھ کر نماز پوری کرلے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
صورت مسئلہ یہ ہے کہ مثلاً ایک آدمی عصر کی نماز بالکل آخری وقت میں پڑھنے کھڑا ہوا، ابھی اس نے ایک ہی رکعت نماز پڑھ پائی تھی۔ کہ سورج ڈوب گیا اسی طرح ایک آدمی فجر کی نماز بالکل آخری وقت میں پڑھنے کھڑا ہوا حتی کہ ایک رکعت پڑھنے کے بعد سورج نکل آیا تو اس حدیث کی رو سے دونوں کی نمازیں صحیح ہوجائیں گی۔ مگر اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے چناچہ اکثر علماء کے نزدیک اس حدیث کے مطابق آفتاب کے طلوع و غروب کی بناء پر فجر، عصر کی نماز باطل نہیں ہوتی لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اور ان کے متبعین فرماتے ہیں کہ عصر کی نماز میں تو یہ شکل صحیح ہے کہ غروب آفتاب کی بناء پر عصر کی نماز باطل نہیں ہوتی لیکن فجر کے بارے میں معاملہ بالکل مختلف ہوگا بایں طور کہ طلوع آفتاب کے بعد فجر کی نماز باطل ہوجائے گی۔ اس طرح یہ حدیث چونکہ حضرت امام اعظم (رح) کے خلاف ہوگی اس لئے اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اس حدیث اور ان احادیث میں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آفتاب کے طلوع و غروب کے وقت نماز خواہ نفل ہوں یا فرض پڑھنا ممنوع ہے۔ تعارض واقع ہو رہا ہے اس لئے ہم نے اصول فقہ کے اس قاعدے کے مطابق کہ جب دو آیتوں میں تعارض ہو تو حدیث کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور جب دو حدیثوں میں تعارض ہو تو قیاس کا سہارا لینا چاہئے، قیاس پر عمل کیا ہے چناچہ قیاس نے اس حدیث کے حکم کو تو نماز عصر میں ترجیح دی اور احادیث نہی کو فجر کی نماز میں ترجیح دی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فجر میں طلوع آفتاب تک پورا وقت کامل ہوتا ہے لہٰذا طلوع آفتاب سے پہلے پہلے جب نماز شروع کی جاتی ہے تو وہ اسی صفت کمال کے ساتھ واجب ہوتی ہے جس کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ جس طرح ابتداء صفت کمال سے ہوئی ہے اسی طرح اختتام بھی صفت کمال کے ساتھ یعنی وقت کے اندر اندر ہو۔ مگر جب ایک رکعت کے بعد آفتاب طلوع ہوگیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وقت ختم ہوجانے کی وجہ سے نماز میں نقصان پیدا ہوگیا لہٰذا یہ نماز جس طرح صفت کمال کے ساتھ واجب ہوئی تھی اس طرح اداء نہیں ہوئی اور جب صفت کمال کے ساتھ ادا نہیں ہوئی تو گویا پوری نماز باطل ہوگئی۔ اس کے برعکس عصر میں دوسری شکل ہے وہ یہ کہ عصر میں غروب آفتاب تک پورا وقت کامل نہیں ہوتا یعنی جب تک کہ آفتاب زرد نہ ہوجائے اس وقت تک تو وقت مختار یا وقت کامل رہتا ہے مگر آفتاب کے زرد ہوجانے کے بعد آخر میں وقت مکروہ ہوجاتا ہے لہٰذا عصر کی نماز جب بالکل وقت آخر یعنی ناقص میں شروع کی جائے گی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کی ابتداء چونکہ وقت ناقص میں ہوئی اس لئے اس کا وجوب بھی صفت نقصان کے ساتھ ہو لہٰذا اس کا اختتام جب غروب آفتاب پر ہوگا تو کہا جائے گا کہ غروب آفتاب سے نماز میں نقصان پیدا ہوجانے کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوئی۔ کیونکہ جس طرح اس کی ابتداء وقت ناقص میں ہوئی تھی اسی طرح اس کی انتہاء بھی وقت ناقص میں ہوئی گویا جس صفت کے ساتھ نماز واجب ہوئی تھی اسی صفت کے ساتھ (یعنی ناقص سے) ادا ہوئی۔ جن احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ طلوع آفتاب اور نصف النہار کے وقت نماز پڑھنا ممنوع ہے ان کے بارے میں حضرت امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا تعلق نوافل کے ساتھ ہے یعنی اگر کوئی آدمی ان تینوں اوقات میں نفل نماز پڑھنا چاہئے تو اس کے لئے یہ جائز نہ ہوگا البتہ فرض نمازیں ان تینوں اوقات میں بھی جائز ہوں گی لیکن احادیث کے الفاظ امام شافعی (رح) کے مسلک کی تائید نہیں کرتے ہیں کیونکہ حدیث میں فرض و نفل کی کوئی تخصیص نہیں کی گئی بلکہ عمومی طور پر تمام نمازوں کے بارے میں کہا گیا ہے۔ لہٰذا اگر اس بارے میں کسی نماز کی تخصیص کی جاتی ہے تو یہی کہنا پڑے گا کہ یہ حدیث کے ظاہری منشاء اور مفہوم کے سراسر خلاف ہے۔ ابن ملک فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے پہلے جملے کا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی نے طلوع آفتاب سے پہلے صبح کی نماز کی ایک رکعت پالی تو بیشک اس نے نماز کا وقت پا لیا اگرچہ وہ وقت نماز کے مناسب نہیں تھا لیکن پھر وہ وقت نماز کے مناسب اس لئے ہوگیا کہ ایک رکعت کی مقدار وقت بہر حال باقی رہا تھا لہٰذا وہ نماز اس آدمی کے لئے لازم ہوگی۔
ووَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اَدْرَکَ اَحَدُکُمْ سَجْدَۃً مِّنْ صَلٰوۃِ الْعَصْرِ قَبْلَ اَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلْےُتِمَّ صَلٰوتَہُ وَاِذَا اَدْرَکَ سَجْدَۃً مِّنْ صَلٰوۃِ الصُّبْحِ قَبْلَ اَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلْےُتِمَّ صَلٰوتَہُ (صحیح البخاری)
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی آدمی آفتاب غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز کی ایک رکعت پالے تو اسے نماز پوری کر لینی چاہئے اور اگر آفتاب نکلنے سے پہلے فجر کی نماز کی ایک رکعت پائے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی نماز پوری پڑھے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
اسے چاہئے کہ وہ اپنی نماز پوری پڑھے۔ حنفیہ تو اس جملے کے معنی یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنی نماز کا اعادہ کرے یعنی اس کی قضاء پڑھے اور شوافع کے نزدیک وہی معنی ہیں جو اس سے پہلی حدیث میں ذکر کئے گئے ہیںَ
عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ نَسِیَ صَلٰوۃً اَوْنَامَ عَنْھَا فَکَفَّارَتُھَا اَنْ ےُّصَلِّےَھَا اِذَا ذَکَرَھَا وَفِیْ رِوَاےًۃٍ لَّا کَفَّارَۃَ لَھَا اِلَّا ذَالِکَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی نماز پڑھنی بھول جائے یا نماز کے وقت (غافل ہو کر) سو جائے (اور وہ نماز رہ جائے) تو اس کا بدل یہی ہے کہ جس وقت یاد آئے پڑھ لے اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اس نماز کے پڑھ لینے کے سوا اس کا اور کوئی بدل نہیں ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اگر کوئی آدمی نماز پڑھنی بھول جائے یا نماز کے وقت ایسا غافل ہو کر سو جائے کہ نماز کا وقت نکل جائے اور نماز نہ پڑھ سکے تو اس کا کفارہ صرف یہی ہے کہ اسے جب بھی یاد آجائے یا جب بھی سو کر اٹھے نماز قضاء پڑھ لے۔ یہ نہیں کہ جس طرح بغیر عذر کے رمضان کے روزے چھوڑنے کا کفارہ صدقہ وغیرہ ہوتا ہے نماز کے ترک کرنے پر بھی کفارہ کے طور پر کئی پڑھنی پڑیں گی یا صدقہ وغیرہ دینا ہوگا۔ ابن ملک (رح) فرماتے ہیں کہ۔ اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جو نماز پڑھنے سے رہ گئی ہو وہ جب بھی یاد آئے اس کے پڑھنے میں تاخیر وغیرہ کرنی چاہئے۔