لغت میں صلوٰۃ دعا کو کہتے ہیں۔ اصطلاح شریعت میں صلوٰۃ چند مخصوص اقوال و افعال کو کہتے ہیں جن کی ابتداء تکبیر سے اور انتہاء سلام پر ہوتی ہے۔ صلوٰۃ کے مادہ اشتقاق کے بارے میں کئی اقوال نقل کئے جاتے ہیں۔ نووی نے مسلم کی شرح میں کہا ہے کہ صلوٰۃ کا مادہ اشتقاق صلوین ہے جو سرین کی دونوں ہڈیوں کو کہتے ہیں چونکہ نماز میں ان دونوں ہڈیوں کی رکوع و سجود کے وقت زیادہ حرکت ہوتی ہے اس لئے اس مناسبت سے نماز کو صلوٰۃ کہا گیا ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں صلوٰۃ مصلی سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں ٹیڑھی لکڑی کو آگ سے سینک کر سیدھا کرنا چناچہ نماز کو صلوٰۃ اس لئے کہا جاتا ہے کہ انسان کے مزاج میں نفس امارہ کی وجہ سے ٹیڑھا پن ہے لہٰذا جب کوئی آدمی نماز پڑھتا ہے۔ تو رب قدوس کی عظمت وہیبت کی گرمی جو اس عبادت میں انتہائی قرب الٰہی کی بناء پر حاصل ہوتی ہے اس کے ٹیٹرھے پن کو ختم کردیتی ہے گویا مصلی یعنی نمازی اس مادہ اشتقاق کی رو سے اپنے نفس امارہ کو عظمت الٰہی اور ہیبت زبانی کی تپش سے سینکنے والا ہوا۔ لہٰذا جو آدمی نماز کی حرارت سے سینکا گیا اور اس کا ٹیڑھا پن نماز کی وجہ سے دور کیا گیا تو اس کو آخرت کی آگ یعنی دوزخ سے سینکنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ اپنے اس بندے کو جس نے دنیا میں نماز کی پابندی کی اور کوئی ایسا فعل نہ کیا جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا موجب ہو تو اسے جہنم کی آگ میں نہ ڈالے گا۔ اس اصطلاحی تعریف کے بعد یہ سمجھ لیجئے کہ نماز اسلام کا وہ عظیم رکن اور ستون ہے جس کی اہمیت و عظمت کے بارے میں امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ اثر منقول ہے کہ جب نماز کا وقت آتا تو ان کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہوجاتا۔ لوگوں نے پوچھا کہ امیر المومنین! آپ کی یہ کیا حالت ہے؟ فرماتے ہیں کہ اب اس امانت ( یہ اشارہ ہے اس آیت قرآنی کی طرف آیت (اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُ اِنَّه كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا) 33۔ الاحزاب 72) کا وقت آگیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں، پہاڑوں اور زمین پر پیش فرمایا تھا اور وہ سب اس امانت کے لینے سے ڈر گئے اور انکار کردیا۔ (احیاء العلوم) نماز کی تاکید اور اس کے فضائل سے قرآن مجید کے مبارک صفحات مالا مال ہیں، نماز کو اداء کرنے اور اس کی پابندی کرنے کے لئے جس سختی سے حکم دیا گیا ہے وہ خود اس عبادت کی اہمیت و فضیلت کی دلیل ہے۔ ایمان کے بعد شریعت نے سب سے زیادہ نماز ہی پر زور دیا ہے چناچہ قرآن کریم کی یہ چند آیتیں ملاحظہ فرمائے۔ آیت ( اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا) 4۔ النساء 103) بیشک ایمان والوں پر نماز فرض ہے وقت مقرر پر۔ آیت (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى) 2۔ البقرۃ 238) نمازوں کی خصوصاً درمیانی نماز (عصر) کی پابندی کرو۔ آیت ( اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّ يِّاٰتِ ذٰلِكَ ذِكْرٰي لِلذّٰكِرِيْنَ ) 11۔ ہود 114) بیشک نیکیاں (یعنی نمازیں) برائیوں کو معاف کرا دیتی ہیں۔ آیت ( اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَا ءِ وَالْمُنْكَرِ ) 29۔ العنکبوت 45) بیشک نماز برے اور خراب کاموں سے انسان کو بچاتی ہے۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ کے ذکر کا بڑا مرتبہ بڑا ثر ہے۔ بہر حال! نماز ایک ایسی پسند اور محبوب عبادت ہے جس کی برکتوں اور سعادتوں سے خداوند کریم نے کسی بھی نبی کی شریعت کو محروم نہیں رکھا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی آخر الزمان سرکار دو عالم ﷺ تک تمام رسولوں کی امت پر نماز فرض تھی۔ ہاں نماز کی کیفیت اور تعینات میں ہر امت کے لئے تغیر ہوتا رہا۔ سرکار عالم ﷺ کی امت پر ابتدائے رسالت میں دو وقت کی نماز فرض تھی ایک آفتاب کے نکلنے سے قبل اور ایک آفتاب ڈوبنے سے بعد۔ ہجرت سے ڈیڑھ برس پہلے جب سرکار دو عالم ﷺ نے معراج میں ذات حق جل مجدہ کی قربت حقیقی کا عظیم و افضل ترین شرف پایا تو اس مقدس اور با سعادت موقعہ پر پانچ وقت کی نماز کا عظیم و اشرف ترین تحفہ بھی عنایت فرمایا گیا۔ چناچہ فجر، ظہر، مغرب، عشاء ان پانچ وقتوں کی نماز کا فریضہ صرف اسی امت کی امتیازی خصوصیت ہے اگلی امتوں پر صرف فجر کی نماز فرض تھی نیز کسی پر ظہر کی اور کسی پر عصر کی۔ اسلام کی تمام عبادات میں صرف نماز ہی وہ عبادت ہے جس کو سب سے افضل اور اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ چناچہ اس پر اتفاق ہے کہ نماز اسلام کا رکن اعظم ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ اسلام کا دارومدار اسی عبادت پر ہے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ ہر مسلمان عاقل بالغ پر ہر روز پانچ وقت نماز پڑھنا فرض عین ہے امیر ہو یا فقیر، تندرست ہو یا مریض اور مقیم ہو یا مسافر ہر ایک کو پانچوں وقت ان آداب و شرائط اور طریقوں کے ساتھ جو اللہ اور اللہ کے رسول نے نماز کے سلسلہ میں بتائے ہیں اللہ کے دربار میں حاضری دینا اور رب قدوس کی عظمت و بڑائی اور اپنی بےکسی و لاچاری اور عجز و انکساری کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے یہاں تک کہ جب میدان کار زار میں جنگ کے شعلے بھرک رہے ہوں اور عورت سب سے زیادہ اور شدید تکلیف درد زہ میں مبتلا ہو تب بھی نماز کو چھوڑنا جائز نہیں ہے بلکہ اس کی ادائیگی میں دیر کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے یہاں تک کہ اگر کسی عورت کے بچے کی پیدائش کے وقت بچے کا کوئی جزو نصف سے کم اس کے خاص حصے سے باہر آگیا ہو خواہ خون نکلا ہو یا نہ نکلا ہو اس وقت بھی اس کو نماز پڑھنے کا حکم ہے اور نماز میں توقف کرنا جائز نہیں ہے جو آدمی نماز کی فرضیت سے انکار کرے وہ کافر ہے اور اس کو ترک کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب اور فاسق و فاجر ہے بلکہ بعض جلیل القدر صحابہ کرام مثلاً حضرت عمر فاروق ؓ وغیرہ نماز چھوڑنے والے کو کافر کہتے ہیں امام احمد (رح) کا بھی یہی مسلک ہے امام شافعی و امام مالک رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما نماز چھوڑنے کو گردن زنی قرار دیتے ہیں۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اگرچہ اس کے کفر کے قائل نہیں تاہم ان کے نزدیک بھی نماز چھوڑنے والے کے لئے سخت تعزیر ہے۔ مصنف نے یہاں کتاب الصلوٰۃ کے نام سے جو عنوان قائم فرمایا ہے اس کے تحت نماز سے متعلق وہ تمام احادیث ذکر کی جا رہی ہیں جن سے نماز کی اہمیت و عظمت اور اس کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے اور نماز کے جو احکام و فضائل ہیں ان کا استنباط ہوتا ہے۔
عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَلصَّلَوٰتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِوَرَمَضَانُ اِلٰی رَمَضَانَ مُکَفِّرَاتٌ لِّمَا بَےْنَھُنَّ اِذَا اجْتُنِبَتِ الْکَبَائِرُ۔ (صحیح مسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی آدمی کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے تو پانچوں نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک اس کے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں جو ان کے درمیان ہوئے ہیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی پابندی کے ساتھ پانچوں وقت کی نماز پڑھے، جمعہ کی نماز پورے آداب کے ساتھ ادا کرے اور اسی طرح رمضان کے روزے رکھے تو ان کے درمیان جو صغیرہ گناہ صادر ہوئے ہیں سب ختم ہوجاتے ہیں البتہ کبیرہ گناہ نہیں بخشے جاتے ہاں اگر اللہ چاہے تو وہ کبرہ گناہ بھی معاف فرما سکتا ہے۔ یہاں ایک ہلکا سا خلجان واقع ہوتا ہے کہ جب ہر روز کی پانچوں وقت کی نمازیں ہی تمام گناہ مٹا دیتی ہیں تو پھر یہ جمعہ وغیرہ کون سے گناہ ختم کرتے ہیں؟ چناچہ اس خلجان کو رفع کرنے کے لئے ملا علی قاری (رح) فرماتے ہیں کہ ان سب میں گناہوں کو مٹانے اور ختم کرنے کی صلاحیت ہے چناچہ اگر گناہ صغیرہ ہوتے ہیں تو یہ تینوں ان کو مٹا دیتے ہیں ورنہ ان میں سے ہر ایک کے بدلے بیشمار نیکیاں لکھی جاتی ہیں جس کی وجہ سے درجات میں بلندی حاصل ہوتی ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رح) نے فرمایا کہ یہ تینوں صغیرہ گناہوں کے لئے کفارہ ہیں اور ان کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی ایک کسی گناہ کے لئے کفارہ بن سکے تو دوسرا کفارہ ہوجاتا ہے مثلاً نماز میں کسی تقصیر اور نقصان کی وجہ سے اگر وہ نماز گناہوں کے لئے کفارہ نہ ہو سکے تو ان کو جمعہ ختم کردیتا ہے اور جمعہ میں بھی کسی تقصیر کی وجہ سے کفارہ ہونے کی صلاحیت نہ رہے تو پھر رمضان ان کے لئے کفارہ ہوجاتا ہے اور اگر سب کے سب کفارہ بننے کی صلاحیت رکھیں تو یہ سب مل کر گناہوں کو اچھی طرح مٹا دیتے ہیں اور کفارے کی زیادتی کا باعث ہوتے ہیں چناچہ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کئی چراغوں کی۔ اگر کسی مکان میں ایک چراغ ہوگا تو اندھیرا تو ختم ہوجائے گا مگر روشنی کم ہوگی اور اگر چراغ زیادہ ہوں گے تو نور اور روشنی حیثیت سے زیادتی ہوگی۔
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَرَأَےْتُمْ لَوْ اَنَّ نَھْرًا بِبَابِ اَحَدِکُمْ ےَغْتَسِلُ فِےْہِ کُلَّ ےَوْمٍ خَمْسًا ھَلْ ےَبْقٰی مِنْ دَرَنِہٖ شَےْی ءٌ قَالُوْا لَا ےَبْقٰی مِنْ دَرَنِہٖ شَےْی ئٌقَالَ فَذَالِکَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ےَمْحُوا اللّٰہُ بِھِنَّ الْخَطَاےَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا تم بتاؤ کہ جس کے دروازے کے آگے پانی کی نہر چلتی ہو اور وہ روز اس میں پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر میل کا کوئی شائبہ بھی رہے گا؟ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ نہیں! میل بالکل باقی نہیں رہے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا (تم سمجھ لو کہ) پانچوں نمازوں کی مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام (صغیرہ) گناہوں کو ان نمازوں کے سبب سے اسی طرح مٹا دیتا ہے (جس طرح پانی میل کو اتار دیتا ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ص قَالَ اِنَّ رَجُلًا اَصَابَ مِنِ امْرَاَۃٍ قُبْلَۃً فَاَتَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَاَخْبَرَہُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی &&وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّےْلِ اِنَّ الْحَسَنَاتِ ےُذْھِبْنَ السَّےِّئَاتِ && (پ ١٢ رکوع ١٠) فَقَال الرَّجُلُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَلِیْ ھٰذَا ؟قَالَ لِجَمِےْعِ اُمَّتِیْ کُلِّھِمْ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ لِّمَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ اُمَّتِیْ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی (غیر) عورت کا بوسہ لے لیا پھر (احساس ندامت و شرمندگی کے ساتھ) رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر صورت واقعہ کی خبر دی (اور آپ ﷺ سے اس کا حکم پوچھا، رسول اللہ ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ وحی کے ذریعہ حکم الٰہی کے منتظر رہے اس اثناء میں اس آدمی نے نماز پڑھی جب ہی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت (وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّ يِّاٰتِ ) 11۔ ہود 114) اور نماز کو دن کے وقت اول و آخر اور رات کی چند ساعات میں پڑھا کرو کیونکہ نیکیاں (یعنی نمازیں) برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ آیت کے نازل ہونے کے بعد اس آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ حکم میرے لئے ہے ( یا پوری امت کے لئے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا (نہیں! یہ حکم) میری امت کے لئے ہے۔ ایک دوسری روایت میں آپ ﷺ کا جواب اس طرح مذکور ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) میری امت میں سے جو آدمی اس آیت پر عمل کرے اس کے لئے (یہی حکم ہے، یعنی جو آدمی بھی برائی کے بعد بھلائی کرے گا اسے یہی سعادت حاصل ہوگی کہ اس بھلائی کے نتیجے میں اس کی برائی ختم ہوجائے گی)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
جس صاحب کا یہ واقعہ ہے کہ انہوں نے ایک غیر عورت کا بوسہ لے لیا تھا ان کا نام ابوالیسر تھا۔ جامع ترمذی نے ان کی ایک روایت نقل کی ہے جس میں وہ خود راوی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت کھجوریں خریدنے کے لئے آئی میں نے اس سے کہا کہ میرے گھر میں اس سے زیادہ اچھی کھجوریں رکھی ہوئی ہیں ( اس لئے تم وہاں چل کر دیکھ لو) چناچہ وہ میرے ہمراہ مکان میں آگئی (وہاں میں شیطان کے بہکانے میں آگیا اور جذبات سے مغلوب ہو کر) اس اجنبی عورت سے بوس و کنار کیا۔ اس نے (میرے اس غلط اور نازیبا رویے پر مجھے تنبیہ کرتے ہوئے) کہا کہ بندہ خدا! اللہ (کے قہر و غضب) سے ڈرو چناچہ (خوف اللہ سے میرا دل تھرا گیا اور) میں نہایت ہی شرمندہ و شرمسار ہو کر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا۔ چناچہ بارگاہ رسالت میں ان کے ساتھ جو معاملہ ہوا وہی حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔ آیت کریمہ میں طرفی النھار یعنی دن کے اول و آخر سے دن کا ابتدائی حصہ اور انتہائی حصہ مراد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دن کے اول یعنی ابتدائی حصہ سے فجر کی نماز اور آخری حصہ سے ظہر و عصر کی نمازیں مراد ہیں اسی طرح زلفا من الیل یعنی رات کی چند ساعتوں سے مغرب و عشاء کا وقت مراد ہے۔ اس طرح اب آیت کریمہ کا مطلب یہ ہوگا فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز پڑھا کرو، کیونکہ نیکیاں (نمازیں) برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔
وَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ جَآءَ رَجُلٌ فَقَالَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ اَصَبْتُ حَدًّا فَاَقِمْہُ عَلَیَّ قَالَ وَلَمْ ےَسْئَلْہُ عَنْہُ وَحَضَرَتِ الصَّلٰوۃُ فَصَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَلَمَّا قَضَی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم الصَّلٰوۃَ قَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ اَصَبْتُ حَدًّا فَاَقِمْ فِیَّ کِتَابَ اللّٰہِ قَالَ اَلَےْسَ قَدْ صَلَّےْتَ مَعَنَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاِنَّ اللّٰہَ قَدْ غَفَرَ لَکَ ذَنْبَکَ اَوْحَدَّکَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھ سے ایسا فعل سرزد ہوگیا ہے جس کی وجہ سے مجھ پر حد واجب ہے اس لئے آپ ﷺ مجھ پر حد جاری فرمائیے راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حد کے متعلق کچھ دریافت نہیں فرمایا اور نماز کا وقت آگیا۔ اس آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوچکے تو وہ آدمی کھڑا ہوا اور پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھ سے ایک ایسا فعل سرزد ہوگیا ہے جو مستوجب حد ہے اس لئے آپ ﷺ میرے بارے میں اللہ کا حکم نافذ فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ اس نے کہا کہ جی ہاں! پڑھی ہے! آپ ﷺ نے فرمایا اللہ نے تمہاری خطاء یا فرمایا کہ تمہاری حد بخش دی ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہاں یہ نہ سمجھ بیٹھئے کہ اس آدمی کے الفاظ اَصَبْتُ حَدًّا (یعنی مجھ سے ایسا فعل سرزد ہوگیا ہے جس کی وجہ سے مجھ پر حد واجب ہے) سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کسی ایسے کبیرہ گناہ مثلا ًچوری وغیرہ کا ارتکاب کیا تھا جس پر حد واجب ہوتی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے نماز کی وجہ سے اس کی بخشش کی خوشخبری سنا دی لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ نماز کی وجہ سے کبیرہ گناہ بھی بخش دئیے جاتے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے کوئی ایسا گناہ صغیرہ سرزد ہوگیا تھا جو حقیقت میں تو ایسا نہیں تھا جس پر حد جاری ہوتی لیکن چونکہ وہ آدمی صحابیت جیسے مرتبہ پر فائز تھے جہاں معمولی سا گناہ بھی خوف الٰہی سے دل کو لرزاں کردیتا ہے اور ایک ہلکی سی معصیت بھی قلب و دماغ کے ہر گوشہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے اس لئے انہوں نے یہ گمان کرلیا کہ مجھ سے ایک فعل سرزد ہوگیا ہے۔ جس پر از روئے شریعت حد جاری ہوجائے گی لہٰذا انہوں نے بارگاہ رسالت میں آکر اس طرح ذکر کیا جس سے بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ ان سے واقعی کوئی ایسا بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہے جو سخت ترین سزا یعنی حد کا مستوجب ہے۔ یا پھر یہ کہا جائے گا کہ حد سے ان کی مراد تعزیر تھی۔ آپ ﷺ نے اس آدمی سے اس کے گناہ کی حقیقت اس لئے دریافت نہیں فرمائی کہ آپ ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا تھا کہ اس آدمی نے کس قسم کا گناہ کیا ہے اسی لئے آپ ﷺ نے اسے اس گناہ کی بخشش کی جو خوشخبری دی تھی اپنی طرف سے نہیں دی تھی بلکہ جب آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ اس کا گناہ کوئی ایسا گناہ نہیں ہے جس پر حد جاری کی جائے بلکہ ایسا گناہ ہے جو نماز کے ذریعے معاف ہوگیا ہے تو آپ ﷺ نے اسے یہ خوشخبری سنا دی۔
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ص قَالَ سَاَلْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم اَیُّ الْاَعْمَالِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی قَالَ اَلصَّلٰوۃُ لِوَقْتِھَا قُلْتُ ثُمَّ اَیٌّ ؟قَالَ بِرُّ الْوَالِدَےْنِ قُلْتُ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ اَلْجِھَادُ فِیْ سَبِےْلِ اللّٰہِ قَالَ حَدَّثَنِیْ بِھِنَّ وَلَوِاسْتَزَدْتُّہُ لَزَادَنِیْ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وقت پر نماز پڑھنے (یعنی وقت مکروہ میں نماز نہ پڑھی جائے) میں نے کہا کہ پھر کون سا عمل بہتر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ماں باپ کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا میں نے عرض کیا کہ پھر کون سا عمل بہتر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے یہی باتیں بیان فرمائی تھیں اگر میں کچھ زیادہ پوچھتا تو آپ ﷺ اس سے بھی زیادہ بیان فرماتے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اتنی بات معلوم ہونی چاہئے کہ بہترین و افضل اعمال کے بارے میں مختلف احادیث منقول ہیں، چناچہ اس حدیث سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ اور محبوب اعمال یہ تین ہیں مگر دوسری حدیثوں میں مذکور ہے کہ اسلام کے بہترین و افضل اعمال یہ ہیں کہ (غریبوں مسکینوں کو) کھانا کھلایا جائے۔ اسلام کی تبلیغ کی جائے اور رات کو اس وقت جب کہ لوگ آرام سے بستروں میں پڑے خواب شیریں سے ہمکنار ہوں اللہ کی عبادت کی جائے اور نماز پڑھی جائے۔ اسی طرح بعض احادیث میں منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا سب سے بہترین و افضل عمل یہ ہے کہ لوگ تمہاری زبان اور تمہارے ہاتھ (کی ایذا) سے محفوظ رہیں۔ نیز بعض حدیثوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ افضل ترین عمل اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ بہر حال اسی طرح دوسری احادیث میں دیگر اعمال کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ اعمال بہترین و افضل ہیں۔ تو۔ اب ان تمام احادیث میں تطبیق اسی طرح ہوگی کہ یہ کہا جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر ایک کی رضا ورغبت اور اس کے مزاج کے مطابق جواب دیا ہے یعنی جس نے بہترین عمل کے بارے میں سوال کیا اس کو وہی عمل بتایا جسے اس کے لائق سمجھا اور جو اس کی فطرت و مزاج اور اس کے حال کے مناسب معلوم ہوا۔ چناچہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ ہم اکثر کسی خاص چیز کے بارے میں کسی وقت کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ فلاں چیز تو سب سے اچھی ہے حالانکہ دل کے اندر اس کی اچھائی و فضیلت کے بارے میں یہ خیال نہیں ہوتا کہ یہ چیز ہمہ وقت اور ہر حال میں نیز ہر ایک کے لئے سب سے اچھی اور افضل ہوگی بلکہ دل میں یہی خیال ہوتا ہے کہ یہ چیز اس خاص وقت میں اچھی اور بہتر ہے نہ کہ ہمہ وقت مثلاً خاموشی اور سکوت کا معاملہ ہے کہ جہان مناسب ہوتا ہے کہا جاتا ہے کہ سکوت کے برابر کوئی چیز نہیں ہے یا خاموشی سے افضل کوئی چیز نہیں ہے غرض رسول اللہ ﷺ نے ہر ایک عمل کو حال اور مقام کے مناسب افضل فرمایا ہے۔ مثلاً ابتدائے اسلام میں جہاد ہی لوگوں کے حال مناسب تھا اس لئے جہاد کو فرمایا کہ یہ سب سے بہتر عمل ہے یا اسی طرح کسی آدمی کو یا کسی جماعت کو بھوکا ننگا دیکھا تو ان کی امداد و اعانت کی خاطر صدقہ خیرات کی طرف لوگوں کو رغبت دلائی اور فرمایا کہ صدقہ افضل ترین عمل ہے یا نماز کو باری تعالیٰ کے قرب حقیقی کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے سب سے اچھا اور بہتر عمل قرار دیا۔ بہر حال۔ ان میں سے ہر ایک عمل کو افضل ترین عمل کہنے کی وجوہ اور حیثیات مختلف ہیں۔ ہر ایک کی وجہ اور حیثیت اپنی اپنی جگہ دوسرے سے افضل و اعلیٰ ہے۔
وَعَنْ جَابِرٍ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَےْنَ الْعَبْدِ وَبَےْنَ الْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلٰوۃِ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز کا چھوڑنا بندہ مومن اور کفر کے درمیان (کی دیوار کو گرا دیتا) ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
یہاں لفظ بین کا متعلق محذوف ہے یعنی اس حدیث میں یہ عبارت مقدر ہے کہ تَرْکُ الصَّلٰوۃِ وُصْلَۃٌ بِیْنَ الْعَبْدِ الَمُسْلِمِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ جس کا مطلب یہ ہوا کہ بندہ مومن اور کفر کے درمیان نماز بمنزلہ دیوار کے ہے کہ بندہ اس کی وجہ سے کفر تک نہیں پہنچ سکتا مگر جب نماز ترک کردی گئی تو گویا درمیان کی دیوار اٹھ گئی لہٰذا نماز چھوڑنا اس بات کا سبب ہوگا کہ نماز چھوڑنے والا مسلمان کفر تک پہنچ جائے گا۔ بہر حال۔ اس حدیث میں نماز چھوڑنے والوں کے لئے سخت تہدید ہے اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ نماز کا چھوڑنے والا ممکن ہے کہ کافر ہوجائے کیونکہ جب اس نے اسلام و کفر کے درمیان کی دیوار کو ختم کردیا گویا وہ کفر کی حدتک پہنچ گیا ہے اور جب وہ کفر کی حد تک پہنچ گیا تو ہوسکتا ہے کہ یہی ترک نماز اس کو فسق و فجور اور اللہ سے بغاوت و سرکشی میں اس حد تک دلیر کر دے کہ وہ دائرہ کفر میں داخل ہوجائے۔ یہ شروع میں بتایا جا چکا ہے کہ تارک نماز کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں چناچہ اصحاب ظواہر تو یہ کہتے ہیں کہ تارک صلوۃ کافر ہوجاتا ہے۔ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ نماز چھوڑنے والا اگرچہ کافر نہیں ہوتا مگر وہ اس سرکشی و طغیانی کے پیش نظر اس قابل ہے کہ اس کی گردن اڑا دی جائے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ جو آدمی نماز چھوڑ دے اس کو اس وقت تک جب تک کہ نماز نہ پڑھے مارنا اور قید خانہ میں ڈال دینا واجب ہے۔
عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمخَمْسُ صَلَوَاتٍ اِفْتَرَضَھُنَّ اﷲُ تَعَالٰی مَنْ اَحْسَنَ وُضُوْ ئَھُنَّ وَصَلَّاھُنَّ لِوَقْتِھِنَّ وَاَتَمَّ رُکُوْعَھُنَّ وَخُشُوْعَھُنَّ کَانَ لَہ، عَلَی اﷲِ عَھْدٌ اَنْ یَّغْفِرْ لَہُ وَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ فَلَیْسَ لَہ، عَلَی اﷲِ عَھْدٌ اِنْ شَآءَ غَفَرَلَہ، وَاَنْ شَآءَ عَذَّبَہ،۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوادؤد و روی مالک والنسائی )
حضرت عبادہ ابن صامت ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے ان پانچوں نمازوں کے لئے جنہیں اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے (فرائض و مستحبات کی ادائیگی کے ساتھ) اچھی طرح وضو کیا اور ان کو وقت پر پڑھا نیز ان میں رکوع و خشوع کیا (یعنی نمازیں حضوری قلب کے ساتھ پڑھیں) تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ پر ذمہ (یعنی اللہ تعالیٰ کا وعدہ) یہ ہے کہ وہ اس کے (صغیرہ) گناہ بخشش دے گا اور جس آدمی نے ایسا نہ کیا (یعنی اس نے مذکورہ بالا طریقے سے یا مطلق نماز نہ پڑھی) تو اللہ تعالیٰ اس کا ذمہ دار نہیں ہے چاہے تو بخش دے چاہے اسے عذاب میں مبتلا کرے۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، مالک، سنن نسائی )
تشریح
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نماز چھوڑنے والا کافر نہیں ہوتا بلکہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ گناہ کبیرہ کے مرتکب کے بارے میں بھی یہ سمجھ لیجئے کہ اللہ تعالیٰ پر واجب نہیں ہے کہ وہ مرتکب کبیرہ کو عذاب دے بلکہ اس کا دارومدار سراسر اس کی مرضی پر ہے کہ اگر وہ چاہے تو عذاب میں مبتلا کرے اور اگر چاہے تو اپنے فضل و کرم سے اسے بخشش دے۔ اسی طرح یہ بھی جان لیجئے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ نہیں رہے گا بلکہ اللہ کے حکم سے اسے جس مدت کے لئے دوزخ میں ڈالا جائے گا اس کے بعد وہ اپنی سزا پوری کر کے جنت میں داخل ہونے کا مستحق ہوجائے گا۔ چناچہ اہل سنت والجماعت کا یہی مسلک ہے۔
وَعَنْ اَبِی اَمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلُّوْا خَمْسَکُمْ وَصُوْمُوْا شَھْرَکُمْ وَادُّوْازَ کَاۃَ اَمْوَالِکُمْ وَاطِیْعُوْاذَا اَمْرِکُمْ تَدْ خُلُوْا جَنَّۃَ رَبِّکُمْ۔ (رواہ احمد بن حنبل والترمذی)
اور حضرت ابی امامہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ (مسلمانو) پانچوں وقت اپنی نمازیں پڑھو اپنے (رمضان کے مہینے) کے روزے رکھو! اپنے مال کی زکوٰۃ دو! اور اپنے سردار کی (جب تک کہ وہ خلاف شرع چیزوں کا حکم نہ کرے) اطاعت کرو! (اگر ایسا کرو گے تو) اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے (یعنی بہشت میں بلند درجات کے حقدار بنو گے)۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی )
تشریح
سردار سے مراد بادشاہ، امیر اور حاکم ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بادشاہ اور امراء کے احکام کی تابعداری اور ان کے فرمان کی اطاعت کریں لیکن اس میں ایک شرط ہے کہ اطاعت و فرمانبرداری کا یہ حکم اسی وقت تک رہے گا۔ جب تک کہ ان کا کوئی حکم حدود و شریعت سے باہر اور خداوند کے رسول ﷺ کے فرمان کے خلاف نہ ہو، اگر ایسا ہو کہ امراء اور سلاطین حدود شریعت سے تجاوز کر کے غلط احکام دیں یا ایسے فرمان نافذ کریں جو قرآن و سنت کے خلاف ہوں تو پھر نہ صرف یہ کہ ان کی اطاعت و فرمانبرداری ضروری نہیں ہے بلکہ ایسے سلاطین و امراء کو راہ راست پر لانے اور ان کو قرآن و سنت کو بتائے ہوئے راستوں پر چلنے اور ملک و قوم کو چلانے کے لئے مجبور کیا جائے۔ یا پھر سردار سے مراد علماء ہیں کہ قرآن و سنت اور اسلامی شریعت کے علم کے حامل جب مسلمانوں کو کوئی شرعی حکم دیں اور انہیں دین و شریعت کی طرف بلائیں تو ان کی پیروی ہر ایک مسلمان پر ضروری اور لازم ہے اسی طرح سردار سے ہر وہ آدمی مراد ہوسکتا ہے جو کسی کام کے لئے حاکم اور کار ساز مقرر کیا گیا ہو یعنی اگر کوئی مسلمان کسی آدمی کو اپنے کسی معاملہ میں حاکم اور راہبر مقرر کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس حاکم یا راہبر کے مشوروں کو مانے اور وہ جو صحیح حکم دے اس کی پابندی کرے۔
وَعَنْ عَمْرِوْ بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہٖ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُرُوْا اَوْلَادَ کُمْ بِالصَّلٰوۃِ وَھُمْ اَبْنَآءُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْ ھُمْ عَلَیْھَا وَ ھُمْ اَبْنَاءُ عَشْرِ سِنِیْنَ وَ فَرِّ قَوْ ا بَیْنَھُمْ فِی الْمَضَاجِعِ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ کَذَا رَوَاہُ فِی شَرْحِ السُّنَّۃِ عَنْہُ وَفِی الْمَصَابِیْحِ عَنْ سَبْرَۃَ بْنِ مَعْبَدٍ۔
اور حضرت عمرو ابن شعیب (رح) اپنے والد مکرم سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے بچے سات برس کے ہوجائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس برس کے ہوجائیں (تو نماز چھوڑ نے پر) انہیں مارو۔ نیز ان کے بسترے علیحدہ کردو (ابوداؤد) اسی طرح السنہ میں عمرو سے اور مصابیح میں سبرہ ابن معبد سے یہ روایت نقل کی گئی ہے۔
تشریح
اس حدیث کے ذریعے مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ جب ان کے بچے سات برس کے ہوجائیں تو اسی وقت سے ان کو نماز کی تاکید شروع کردی جاے تاکہ انہیں نماز کی عادت کم سنی سے ہی ہو جاے اور جب وہ بالغ ہونے کے قریب (یعنی دس سال کی عمر میں) پہنچ جائیں تو اگر وہ کہنے سننے کے باوجود نماز نہ پڑھیں تو انہیں تاکیدا مار مار کر نماز پڑھانی چاہئے۔ نیز جس طرح ان عمروں میں نماز کی تاکید کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح انہیں نماز کی شرائط وغیرہ بھی سکھانی چاہئے تاکہ انہیں ساتھ ساتھ نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ معلوم ہوجائے۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ جب بچے اس عمر میں پہنچ جائیں تو انہیں علیحدہ علیحدہ سلانا چاہئے یعنی اگر دو بھائی بہن یا دو اجنبی لڑکا لڑکی ایک ہی بستر میں سوتے ہوں تو اس عمر میں ان کے بستر الگ کردینے چاہیں تاکہ وہ اکٹھے نہ سو سکیں۔
وَعَنْ بُرَیْدَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْعَھْدُا الَّذِی بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ اَلصَّلَاۃُ فَمَنْ تَرَکَھَا فَقَدْ کَفَرَ۔ (رواہ احمد بن حنبل والترمذی والنسائی و ابن ماجۃ)
اور حضرت بریدہ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہمارے اور منافقوں کے درمیان جو عہد ہے وہ نماز ہے لہذا جس نے نماز چھوڑی وہ کافر ہوگیا۔ (احمد۔ ترمذی نسائی و ابن ماجہ)
تشریح
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اور منافقین کے درمیان امن وامان کا جو معاہدہ ہوچکا ہے کہ ہم انہیں قتل نہیں کرتے اور اسلام کے احکام ان پر نافذ نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نماز پڑھنے، جماعت میں حاضر ہونے اور اسلام کے دوسرے ظاہری احکام کی تابعداری کرنے کے سبب سے مسلمانوں کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں لہٰذا جس نے نماز کو جو تمام عبادتوں میں سے افضل ترین ہے ترک کردیا گویا کہ وہ کافر کے برابر ہوگیا۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ نماز ترک کر کے کفر کو ظاہر نہ کریں۔ اس طرح اس جملے فَقَدْ کَفَرَ کے معنی یہ ہوئے کہ (جس نے نماز چھوڑ دی) اس نے کفر کو ظاہر کردیا۔
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍص قَالَ جَآءَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ عَالَجْتُ امْرَاَۃً فِیْ اَقْصَی الْمَدِےْنَۃِ وَاِنِّیْ اَصَبْتُ مِنْھَا مَا دُوْنَ اَنْ اَمَسَّھَا فَاَنَا ھٰذَا فَاقْضِ فِیَّ مَا شِئْتَ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ لَقَدْ سَتَرَکَ اللّٰہُ لَوْسَتَرْتَ عَلٰی نَفْسِکَ قَالَ وَلَمْ ےَرُدَّ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلمعَلَیْہٖ شَےْئًا وَّقَامَ الرَّجُلُ فَانْطَلَقَ فَاَتْبَعَہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلًا فَدَعَاہُ وَتلَاَ عَلَےْہِ ھٰذِہِ الْاٰےَۃَ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّےْلِ اِنَّ الْحَسَنَاتِ ےُذْھِبْنَ السَّےِّئَاتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذَّاکِرِےْنَ (پ ١٢ رکوع ١٠)فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ ےَا نَبِیَّ اللّٰہِ ھٰذَالَہُ خَآصَّۃً فَقَالَ بَلْ لِّلنَّاسِ کَآفَّۃً۔ (صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مدینہ کے کنارے میں نے ایک عورت کو گلے لگا کر سوائے صحبت کے اور سب کچھ کرلیا ہے، (یعنی صحبت تو نہیں کی لیکن بوس و کنار ہوگیا ہے اس لئے) میں حاضر ہوگیا ہوں جو کچھ آپ ﷺ چاہیں میرے بارے میں حکم فرمائیں۔ (یعنی آپ ﷺ میرے لئے جو سزا بھی تجویز فرمائیں گے مجھے منظور ہوگی) حضرت عمر ؓ نے (جو اس وقت مجلس نبوی میں حاضر تھے یہ سن کر) فرمایا اللہ نے تو تمہارے عیب کی پردہ پوشی فرمائی تھی اگر تم بھی اپنے عیب کو چھپالیتے تو (اچھا تھا) حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (اللہ کے حکم کے انتظار میں) اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ چناچہ وہ آدمی کھڑا ہوا اور چلا گیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے بلانے کے لئے ایک آدمی بھیجا جو اسے بلا لایا آپ ﷺ نے اس کے سامنے یہ آیت پڑھی۔ آیت (وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّ يِّاٰتِ ) 11۔ ہود 114) دن کے اول و آخر اور رات کی چند ساعتوں میں نماز پڑھا کرو کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں اور یہ نصیحت، نصیحت ماننے والوں کے لئے ہے۔ لوگوں میں سے ایک آدمی (حضرت عمر فاروق ؓ یا حضرت معاذ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم)! کیا یہ حکم خاص طور پر اسی کے لئے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں سب لوگوں کے لئے یہی حکم ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اسی باب کی پہلی فصل کی تیسری حدیث میں بھی اس آیت کے بارے میں بتایا جا چکا ہے کہ دن کے اول سے فجر اور آخر سے ظہر و عصر مراد ہیں اسی طرح، رات کی چند ساعتوں سے مراد مغرب و عشاء ہیں۔ حضرت ابن حجر (رح) نے لکھا ہے کہ پہلی فصل میں اسی طرح کی جو حدیث نمبر تین گزری ہے وہ تو ایک آدمی (ابوالیسر) کا واقعہ ہے اور یہ حدیث جو یہاں ذکر کی گئی ہے یہ کسی دوسرے صاحب کا واقعہ ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ یہ آیت بھی اس آدمی کے لئے دوسری مرتبہ نازل ہوئی ہو۔ مگر محققین نے لکھا ہے کہ تعدد واقعہ سے یہ لازم نہیں آتا کہ آیت بھی مکرر نازل ہوئی ہو اور نہ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ نے وہی آیت جو پہلے آدمی کے بارے میں نازل ہوئی تھی بطور سند کے اس آدمی کے سامنے بھی تلاوت فرما دی۔
وَعَنْ اَبِی ذَرٍّاَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَآءِ وَالْوَرَقُ یَتَھَافَتُ فَاَخَذَ بِغُصْنَیْنِ مِنْ شَجَرَۃٍ قَالَ فَجَعَلَ ذٰلِکَ الْوَرَقُ یَتَھَا فَتُ قَالَ فَقَالَ یَا اَبَاذَرٍّ قُلْتُ لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلُ اﷲِ قَالَ اِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمْ لَیُصَلِّی الصَّلَاۃَ یُرِیْدُ بِھَا وَجْہَ اﷲِ فَتَھَا فَتُ عَنْہُ ذُنُوْبُہ، کَمَا تَھَافَتُ ھٰذَا الْوَرَقُ عَنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ۔ (رواہ احمد بن حنبل)
اور حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ جاڑے کے موسم میں جبکہ پت جھڑ کا وقت تھا باہر تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ نے ایک درخت کی دو شاخیں پکڑیں۔ راوی فرماتے ہیں کہ جس طرح حسب معمول پت جھڑ کے موسم میں کسی شاخ کو ہلانے سے پتے بہت زیادہ گرنے لگتے ہیں اسی طرح جب آپ ﷺ نے شاخیں پکڑیں تو ان سے پتے جھڑنے لگے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ابوذر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم)! میں حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب بندہ مومن خالصًا اللہ کیلئے نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ بھی ایسے ہی جھڑتے ہیں، جس طرح اس درخت سے یہ پتے جھڑ رہے ہیں۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
خالصاً اللہ تعالیٰ کیلئے نماز پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز کسی کو دکھلانے یا کسی دوسری غرض و مقصد کے لئے نہ پڑھی جائے بلکہ محض اپنے پروردگار کی خوشنودی اور فرمانبرداری اور اس کی رضا کی طلب کے لئے پڑھی جائے۔
وَعَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدِنِ الجُھَنِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی سَجْدَ تَیْنِ لَا یَسْھُوْ فِیْھِمَا غَفَرَ اﷲُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔ (رواہ احمد بن حنبل)
اور حضرت زید ابن خالد جہنی ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے دو رکعت نماز ( غافل ہو کر نہیں بلکہ اس درجہ حضوری قلب کے ساتھ) پڑھیں کہ ان میں سہو نہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہوں کو بخش دے گا۔ (مسند احمد بن حنبل)
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرِ و بْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَّہُ ذَکَرَ الصَّلَاۃَ یَوْمًا فَقَالَ مَنْ حَافَظَ عَلَیْھَا کَانَتْ لَہ، نُوْرًا وَبُرْھَانًا وَ نَجَاۃَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ لَّمْ یُحَافِظْ عَلَیْھَا لَمْ تَکُنْ لَہ، نُوْرًا وَلَا بُرْھَانَا وَلَا نَجَاۃً وَکَانَ یَوْمَ القِیَامَۃِ مَعَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ اُبَیِّ بْنِ خَلَفٍ۔ (رواہ احمد بن حنبل و الدارمی والبیھقی فی شعب الایمان)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر و ابن عاص ؓ راوی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے نماز کا ذکر کیا ( یعنی نماز کی فضیلت و اہمیت کو بیان کرنے کا ارادہ فرمایا) چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا جو آدمی نماز پر محافظت کرتا ہے (یعنی ہمیشہ پابندی سے پڑھتا ہے) تو اس کے لئے یہ نماز ایمان کے نور (کی زیادتی کا سبب) اور ایمان کے کمال کی واضح دلیل ہوگی، نیز قیامت کے روز مغفرت کا ذریعہ بنے گی اور جو آدمی نماز پر محافظت نہیں کرتا تو اس کے لئے نماز نہ (ایمان کے) نور (کی زیادتی کا سبب بنے گی، نہ (کمال ایمان کی) دلیل اور نہ (قیامت کے روز) مغفرت کا ذریعہ بنے گی بلکہ ایسا آدمی قیامت کے روز قارون، فرعون، ہامان اور ابی ابن خلف کے ساتھ (عذاب میں مبتلا) ہوگا۔ (مسند احمد بن حنبل، دارمی، بیہقی)
تشریح
نماز کی محافظت کا مطلب یہ ہے کہ نماز باقاعدگی اور پوری پابندی سے پڑھی جائے۔ کبھی ناغہ نہ ہو، نیز نماز کے تمام فرائض واجبات سنن اور مستحبات اداء کئے جائیں، اس طرح جب کوئی نماز پڑھے گا تو کہا جائے گا کہ اس نے نماز کی محافظت کی اور یہ مذکورہ ثواب کا حقدار ہوگا اور جو آدمی اس کے برعکس عمل اختیار کرے گا کہ نہ تو نماز باقاعدگی اور پابندی کے ساتھ پڑھے اور نہ نماز کے فرائض واجبات اور سنن و مستحبات کی رعایت کرے تو اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ ان چیزوں کو ترک کرنے کی وجہ سے مذکورہ عذاب کا مستحق ہوگا۔ لہٰذا غور کرنا چاہئے کہ نماز کی محافظت اور اس پر دوام اختیار کرنے کی کس قدر تاکید ہے اس لئے اس میں کوتاہی کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اپنی بربادی کو دعوت دینا ہے۔ نیز یہ بھی خیال کرنا چاہئے کہ جب نماز کی محافظت نہ کرنے پر اس قدر و عید ہے کہ ایسے آدمی کا حشر مذکورہ لوگوں جیسے لعین و بدبخت کفار کے ساتھ ہونے کی خبر دی جا رہی ہے تو اس آدمی کا کیا حال ہوگا جو نماز ترک کرتا ہے اور کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوتا۔ قارون و فرعون جیسے مشہور لعین اور بدبختوں کو تو سب ہی جانتے ہیں۔ ہامان فرعون کا وزیر تھا ابی بن خلف وہ مشہور مشرک ہے جو رسول اللہ ﷺ کا جانی دشمن تھا اور جسے رسول اللہ ﷺ نے جنگ احد میں اپنے دست مبارک سے موت کے گھاٹ اتار کر جہنم رسید کیا تھا چناچہ اسی وجہ سے اس لعین کو امت کے بدبختوں میں سے سب سے بڑا بدبخت کہا جاتا ہے۔ آخر میں اتنی بات اور سمجھ لیجئے کہ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو آدمی محافظت کرے گا یعنی پورے خلوص اور تمام فرائض واجبات اور سنن و مستحبات کے ساتھ نماز ہمیشہ پابندی سے پڑھتا رہے گا تو قیامت کو وہ انبیاء کرام، صدیقین، شہداء اور صلحاء کے ہمراہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نماز کی پابندی اور پورے ذوق و شوق کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم سب اس سعادت سے بہرہ ور ہو سکیں۔
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ کَانَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا یَرَوْنَ شَیْئًا مِنَ الْاَ عْمَالِ تُرْکَہ، کُفْرٌ غَیْرَ الصَّلَاۃِ۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت عبدا اللہ شقیق فرماتے ہیں کہ تمام افعال و اعمال میں صرف نماز ہی ایسا عمل تھا جس کے چھوڑنے کو رسول اللہ ﷺ کے محترم صحابہ کرام کفر سمجھتے تھے۔ (جامع ترمذی )
تشریح
یہاں جو حصر کے ساتھ یہ فرمایا گیا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سوائے نماز کے کسی دوسرے عمل کے چھوڑنے کو کفر نہ سمجھتے تھے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک نہ صرف یہ کہ نماز چھوڑنا بڑے سخت گناہ کی بات تھی بلکہ وہ اسے کفر کے بہت قریب سمجھتے تھے۔
وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَآءِ قَالَ اَوْصَانِی خَلِیْلِیْ اَنْ لَّا تُشْرِکَ بِاﷲِ شَیْئًا وَاَنْ قُطِّعْتَ وَ حُرِّقْتَ وَ لَا تَتْرُکَ صَلَاۃً مَکْتُوْبَۃً مُتَعَمِّدًا فَمَنْ تَرَکَھَا مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ الزِّمَّۃُ وَلاَ تَشْرَبَ الخَمْرَ فَاِنَّھَا مِفْتَاحُ کُلٍّ شَرٍّ۔ (رواہ ابن ماجۃ)
اور حضرت ابودرداء ؓ فرماتے ہیں کہ میرے دوست (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم) نے مجھے یہ وصیت (فرمائی تھی کہ تم کسی کو اللہ کا شریک نہ بنانا خواہ تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر کے تمہیں جلا کیوں نہ دیا جائے اور جان بوجھ کر فرض نماز نہ چھوڑنا جس نے قصدًا نماز چھوڑ دی تو اس سے ذمہ بری ہوگیا نیز کبھی شراب نہ پینا کیونکہ یہ ہر برائی کی کنجی ہے۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابودرداء ؓ کو افضل بات کی تعلیم دی کہ اگر تم ٹکڑے ٹکڑے کر کے جلا بھی دیئے جاؤ تو شرک نہ کرنا، ورنہ تو جبر کی حالت میں جب کہ گردن تلوار کی زد میں ہو تو دل میں ایمان و ایقان کی پوری دولت لئے زبان سے کلمہ کفر ادا کرلینا جائز ہے۔ ذمہ کے بری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی نے قصدًا نماز ترک کردی تو گویا اس نے اسلام کے ایک بڑے اور بنیادی قانون و حکم سے بغاوت کی جس کی بناء پر اسلام کا عہد اس سے ختم ہوگیا اور وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا۔ اس مطلب کی وضاحت کرنے کے بعد کہا جائے گا کہ آپ ﷺ کا یہ ارشاد ازراہ تغلیظ یعنی نماز چھوڑنے والے کے لئے انتہائی تہدید اور تنبیہ ہے۔ یا پھر (اس سے ذمہ بری ہوا) کی مراد یہ ہے کہ ایمان لانے اور اسلام کی اطاعت قبول کرنے کی وجہ سے اسلام نے اس کے جان و مال کی حفاظت کی جو ضمانت لی تھی اور اسلامی اسٹیٹ میں اسے جو امان حاصل تھا اب وہ نماز کے ترک کی وجہ سے اسلام کی امان اور ضمانت سے نکل گیا۔ شراب کو تمام برائیوں کی کنجی اس لے فرمایا گیا ہے کہ شراب بنیادی طور پر انسان کے دل و دماغ اور ذہن و فکر کو بالکل ماؤف کردیتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شراب پینے والا آدمی جب نشہ کی وجہ سے اپنی عقل سے ہاتھ دھو لیتا ہے تو دنیا بھر کی برائیاں اس سے سرزد ہونے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شراب کو ام الخبائث کہا گیا ہے۔
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَقْتُ الظُّہْرِ اِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ کَطُوْلِہٖ مَالَمْ ےَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَالَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ صَلٰوۃِ الْمَغْرِبِ مَالَمْ ےَغِبِ الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلٰوۃِ الْعِشَآءِ اِلٰی نِصْفِ الَّےْلِ الْاَوْسَطِ وَوَقْتُ صَلٰوۃِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوْعِ الْفَجْرِ مَالَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ فَاِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَاَمْسِکْ عَنِ الصَّلٰوۃِ فَاِنَّھَا تَطْلُعُ بَےْنَ قَرْنَیِ الشَّےْطَانِ۔(صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ ابن عمرو ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ظہر کا وقت زوال آفتاب کے بعد ہے اور اس کا آخری وقت جب تک ہے کہ آدمی کا سایہ اس کے طول کے برابر ہوجائے عصر کے آنے کے وقت تک۔ اور عصر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ آفتاب زرد نہ ہوجائے اور مغرب کی نماز کا وقت اس وقت تک ہے جب تک شفق غائب نہ ہوجائے اور نماز عشاء کا وقت ٹھیک آدھی رات تک ہے اور نماز فجر کا وقت طلوع فجر سے اس وقت تک ہے جب تک سورج نہ نکل آئے اور جب سورج نکل آئے تو نماز سے باز رہو کیونکہ سورج شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس سے پہلے کہ حدیث کی تشریح کرتے ہوئے نماز کے اوقات کے بارے میں عرض کیا جائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان چند اصطلاحی الفاظ کے معنی بیان کر دے جائیں جن کو سمجھنے کے بعد مقصد تک پہنچے میں بڑی آسانی ہوجائے گی۔ زوال۔۔۔ آفتاب کے ڈھلنے کو کہتے جسے ہماری عرف میں دوپہر ڈھلنا کہا جاتا ہے۔ سایہ اصلی۔۔۔ اس سایہ کو کہتے ہیں جو زوال کے وقت باقی رہتا ہے۔ یہ سایہ ہر شہر کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے کسی جگہ بڑا ہوتا ہے، کسی جگہ چھوٹا ہوتا ہے اور کہیں بالکل نہیں ہوتا، جیسے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں۔ زوال اور سایہ اصلی کے پہچاننے کی آسان ترکیب یہ ہے کہ ایک سیدھی لکڑی ہموار زمین پر گاڑی جائے اور جہاں تک اس کا سایہ پہنچے اس مقام پر ایک نشان بنادیا جائے پھر دیکھا جائے کہ وہ سایہ اس نشان کے آگے بڑھتا ہے یا پیچھے ہٹتا ہے۔ اگر آگے بڑھتا ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ ابھی زوال نہیں ہو اور اگر پیچھے ہٹے تو زوال ہوگیا۔ اگر یکساں رہے نہ پیچھے ہٹے نہ آگے بڑھے تو ٹھیک دوپہر کا وقت ہے اس کو استواء کہتے ہیں۔ ایک مثل۔۔۔ سایہ اصلی کے سوا جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوجائے۔ دو مثل۔۔۔ سایہ اصلی کے سوا جب ہر چیز کا سایہ اس سے دو گنا ہوجائے۔ ان اصطلاحی تعریفات کو سمجھنے کے بعد اب حدیث کی طرف آئیے سرکار دو عالم ﷺ نے اوقات نماز کے سلسلے میں سب سے پہلے ظہر کا ذکر کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے وقت نماز کی تعلیم کے سلسلے میں سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو یہی نماز پڑھائی تھی، یہی وجہ ہے کہ نماز ظہر کی نماز کو پیشین کہا جاتا ہے۔ نماز ظہر کا اول وقت اسی وقت شروع ہوجاتا ہے جب کہ آسمان کہ درمیان آفتاب مغرب کی طرف تھوڑا سامائل ہوتا ہے جس کو زوال کہتے ہیں اور اس کا آخری وقت وہ ہوتا ہے جب کہ آدمی کا سایہ اس کے طول کے برابر علاوہ سایہ اصلی کے ہوجاتا ہے۔ سایہ اصلی کے بارے میں بتایا جا چکا ہے کہ یہ وہ سایہ ہوتا ہے جو زوال کے وقت ہوتا ہے یعنی اکثر مقامات پر جب کہ آفتاب سمت راس پر نہیں آتا وہاں ٹھیک دوپہر کے وقت ہر چیز کا تھوڑا سا سایہ ہوتا ہے اس سائے کو چھوڑ کر جب تک کسی چیز کے طول کے برابر سایہ رہے گا ظہر کا وقت باقی رہے گا۔ مالم یحضر العصر (عصر کا وقت آنے تک) یہ جملہ دراصل پہلے جملہ کی تاکید ہے کیونکہ جب ایک مثل تک سایہ پہنچ گیا تو وقت ظہر ختم ہوگیا۔ اور عصر کا وقت شروع ہوگیا چونکہ اس جملے کا مطلب پہلے ہی جملے سے ادا ہوگیا تھا اس لئے یہی کہا جائے گا کہ یہ جملہ پہلے جملے کی تاکید کے لئے لایا گیا ہے ہاں اتنی بات اور کہی جاسکتی ہے کہ یہ جملہ اس چیز کی دلیل ہے کہ ظہر اور عصر کے درمیان وقت مشترک نہیں ہے جیسا کہ امام مالک (رح) کا مسلک ہے۔ عصر کے وقت کی ابتداء تو معلوم ہوگئی کہ جب ظہر کا وقت ختم ہوجائے گا عصر کا وقت شروع ہوجائے گا۔ آخری وقت کی بات یہ ہے کہ جب تک آفتاب زرد نہیں ہوجاتا عصر کا وقت بلا کراہیت باقی رہتا ہے چناچہ حدیث میں اسی طرف اشارہ ہے۔ البتہ اس کے بعد سے غروب آفتاب تک وقت جو از باقی رہتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آفتاب کی زردی سے کیا مراد ہے تو بعض حضرات کہتے ہیں کہ آفتاب کے زرد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آفتاب اتنا بدل جائے کہ اس کی طرف نظر اٹھانے سے آنکھوں میں خیرگی نہ ہو۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ غروب آفتاب کی جو شعاعیں دیوار وغیرہ پڑتی ہیں اس میں تغیر ہوجائے۔ لگے ہاتھوں اتنی بات اور جانتے چلئے کہ حضرت امام شافعی، حضرت امام مالک، حضرت امام احمد اور صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم نیز حضرت امام زفر (رح) وغیرہ کا مسلک یہ ہے کہ ظہر کا وقت ایک مثل تک باقی رہتا ہے اس کے بعد عصر کا وقت شروع ہوجاتا ہے چناچہ ان حضرات کی دلیل یہی حدیث ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہر کا آخری وقت ایک مثل تک رہتا ہے۔ جہاں تک امام ابوحنیفہ (رح) کا تعلق ہے تو ایک روایت کے مطابق ان کا بھی وہی مسلک ہے جو جمہور علماء کا ہے بلکہ بعض نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ امام اعظم کا فتویٰ بھی اسی مسلک پر ہے۔ چناچہ درمختار میں بہت سی کتابوں کے حوالوں سے اسی مسلک کو ترجیح دی گئی ہے۔ مگر ان کا مشہور مسلک یہ ہے کہ ظہر کا وقت دو مثل تک رہتا ہے ان کے دلائل ہدایہ وغیر میں مذکور ہیں۔ بہر حال علماء نے اس سلسلہ میں ایک صاف اور سیدھی راہ نکالی ہے وہ فرماتے ہیں کہ مناسب یہ ہے کہ ظہر کی نماز تو ایک مثل کے اندر اندر پڑھ لی جاے اور عصر کی نماز دو مثل کے بعد پڑھی جائے تاکہ دونوں نمازیں بلا اختلاف ادا ہوجائیں۔ مغرب کا وقت آفتاب چھپنے کے بعد شروع ہوتا ہے اور شفق غائب ہوجانے کے وقت ختم ہوجاتا ہے۔ اکثر ائمہ کے نزدیک شفق اس سرخی کو کہتے ہیں جو آفتاب چھپنے کے بعد ظاہر ہوتی ہے چناچہ اہل لغت کا کہنا بھی یہی ہے۔ مگر حضرت امام اعظم اور علماء کی ایک دوسری جماعت کا قول یہ ہے کہ شفق اس سفیدی کا نام ہے جو سرخی ختم ہونے کے بعد نمودار ہوتی ہے۔ اہل لغت و دیگر ائمہ کے قول کے مطابق حضرت امام اعظم کا بھی ایک قول یہ ہے کہ شفق سرخی کا نام ہے چناچہ شرح وقایہ میں فتوی اسی قول پر مذکور ہے۔ لہٰذا احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ مغرب کی نماز تو سرخی غائب ہونے سے پہلے پڑھی جائے اور عشاء کی نماز سفیدی غائب ہونے کے بعد پڑھی جائے تاکہ دونوں نمازیں بلا اختلاف ادا ہوں۔ عشاء کے بارے میں مختار مسلک اور فیصلہ یہ ہے کہ اس کا وقت شفق غائب ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے اور ٹھیک آدھی رات تک بلا کراہت باقی رہتا ہے البتہ وقت جو طلوع فجر سے پہلے تک رہتا ہے۔ فجر کا وقت طلوع صبح صادق کے بعد شروع ہوتا ہے اور طلوع آفتاب پر ختم ہوجاتا ہے۔ بظاہر تو حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ طلوع صبح صادق کے بعد سے طلوع آفتاب تک تمام وقت نماز فجر کے لئے مختار ہے مگر بعض حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کی نماز کا وقت مختار اسفار تک ہے اس کے بعد وقت جواز رہتا ہے۔ نماز کے اوقات کی تفصیل جان لینے کے بعد اب حدیث کے آخری جملہ کا مطلب بھی سمجھ لیجئے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب کہ سورج نکل آئے تو نماز سے باز رہو کیونکہ سورج شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سورج نکلنے کی جگہ شیطان کے دونوں سینگ ہیں کہ سورج اس کے اندر سے طلوع ہوتا ہے بلکہ اس کا مطلب خود ایک روایت نے بتادیا ہے کہ طلوع آفتاب کے وقت شیطان آفتاب کے سامنے آکر کھڑا ہوجاتا ہے اور اپنا سر آفتاب کے نزدیک کرلیتا ہے اسی طرح غروب آفتاب کے وقت کرتا ہے اس کے اس طرز عمل کا سبب یہ ہے کہ جو لوگ آفتاب کو پوجتے ہیں اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں ان کفار کے اس طرز عمل کے ذریعہ وہ اپنا گمان یہ رکھتا ہے کہ لوگ میری عبادت کر رہے ہیں اسی طرح وہ اپنے تابعداروں کے ذہن میں یہ بات بٹھاتا ہے کہ یہ لوگ آفتاب کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہیں بلکہ درحقیقت میری عبادت کر رہے ہیں اور میرے سامنے ماتھے ٹیکتے ہیں۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ ان اوقات میں نماز نہ پڑھا کریں تاکہ مسلمانوں کی عبادت شیطان کو پوجنے والوں کی عبادت کے اوقات میں نہ ہو۔
وَعَنْ بُرَےْدَۃَص قَالَ اِنَّ رَجُلًا سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ وَقْتِ الصَّلٰوۃِ فَقَالَ لَہُ صَلِّ مَعَنَا ھٰذَےْنِ ےَعْنِی الْےَوْمَےْنِ فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ اَمَرَ بِلَالًا فَاَذَّنَ ثُمَّ اَمَرَہُ فَاَقَامَ الظُّہْرَ ثُمَّ اَمَرَہُ فَاَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ بَےْضَآءُ نَقِےَّۃٌ ثُمَّ اَمَرَہُ فَاَقَامَ الْمَغْرِبَ حِےْنَ غَابَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ اَمَرَہُ فَاَقَامَ الْعِشَآءَ حِےْنَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ اَمَرَہُ فَاَقَامَ الْفَجْرَ حِےْنَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَلَمَّا اَنْ کَانَ الْےَوْمُ الثَّانِیْ اَمَرَہُ فَاَبْرِدْ بِالظُّہْرِ فَاَبْرَدَبِھَا فَاَنْعَمَ اَنْ ےُبْرِدَ بِھَا وَصَلَّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌاَخَّرَھَا فَوْقَ الَّذِیْ کَانَ وَصَلَّی الْمَغْرِبَ قَبْلَ اَنْ ےَّغِےْبَ الشَّفَقُ وَصَلَّی الْعِشَآءَ بَعْدَ مَا ذَھَبَ ثُلُثُ الَّلےْلِ وَصَلَّی الْفَجْرَ فَاَسْفَرَبھِاَ ثُمَّ قَالَ اَےْنَ السَّآئِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلٰوۃِ فَقَالَ الرَّجُلُ اَنَا ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ وَقْتُ صَلٰوتِکُمْ بَےْنَ مَا رَأَےْتُمْ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت بریدہ ؓ راوی ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے نماز کا وقت دریافت کیا (کہ نماز کا اوّل و آخر وقت کیا ہے) آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ دنوں میں تم ہمارے ساتھ نماز پڑھو (تاکہ میں تمہیں نماز کے اوقات دکھا دوں) چناچہ جب سورج ڈھل گیا آپ ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو (اذان کا) حکم دیا، حضرت بلال ؓ نے اذان دی۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں (تکبیر کہنے کا، حکم دیا، انہوں نے ظہر کی تکبیر کہی اور آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی) پھر آپ ﷺ نے عصر کی اقامت کا حکم دیا جب کہ سورج بلند اور سفید و صاف تھا (اور عصر کی نماز پڑھائی، پھر مغرب کی اقامت کا حکم دیا جب کہ سورج غروب ہی ہوا تھا، (اور مغرب کی نماز پڑھائی) پھر عشاء کی اقامت کا حکم دیا جب کہ شفق غائب ہوئی تھی اور عشاء کی نماز پڑھائی) پھر فجر نمودار ہوتے ہیں آپ ﷺ نے تمام نمازیں اوّل وقت پڑھا کر دکھا دیں کہ نمازوں کا اول وقت یہ ہے) پھر جب دوسرا دن ہوا تو آپ ﷺ نے بلال ؓ کو ظہر کو ٹھنڈا کر کے اذان دینے کا حکم دیا اور خوب ٹھنڈا کر کہ ظہر کی نماز کو پڑھایا اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ سورج بلند تھا لیکن کل کے وقت سے دیر کر کے نماز پڑھائی اور مغرب کی نماز شفق غائب ہونے سے پہلے (یعنی شفق غائب ہونے کے قریب) پڑھائی اور عشاء کی نماز تہائی رات گزر جانے پر پڑھائی اور فجر کی نماز خوب روشنی ہوجانے پر پڑھائی اور اس کے بعد فرمایا نماز کے اوقات دریافت کرنے والا آدمی کہاں ہے؟ اس آدمی نے سامنے (آکر عرض کیا یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں! آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری نماز کے اوقات ان اوقات کے درمیان ہیں جو تم ان دنوں میں) دیکھ چکے ہو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
سائل کا مطلب یہ تھا کہ نمازوں کے اوقات کے سلسلہ میں یہ بتادیا جائے کہ نماز کا اوّل وقت کیا ہوتا ہے اور آخر وقت کون سا ہوتا ہے؟ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے نمازوں کے اوقات کو زبانی سمجھانے سے زیادہ بہتر یہ سمجھا کہ اسے عملی طور پر دیکھا جائے تاکہ اوقات اس کے ذہن نشین ہو سکیں اس لئے آپ ﷺ نے اسے نماز کا اوّل و آخر دونوں وقت بتانے کے لئے پہلے دن تو نمازیں اوّل وقت پڑھیں اور دوسرے دن آخر وقت میں پڑھیں۔ حدیث میں پہلے ظہر کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب آفتاب ڈھل گیا تو آپ ﷺ نے بلال ؓ کو اذان دینے کا حکم دیا چناچہ انہوں نے اذان دی پھر آپ ﷺ نے اقامت کا حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی۔ اس کے بعد عصر کا ذکر کیا گیا ہے لیکن نہ تو عصر کی نماز کا وقت ذکر کیا گیا ہے اور نہ عصر ہی اور نہ اس کے بعد کی اذانوں کا ذکر کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ معروف ہے۔ دوسرے دن آپ ﷺ نے ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھا یعنی پہلے روز کے مقابلے میں دوسرے دن ظہر کی نماز اتنی تاخیر سے پڑھی کہ گرمی کی شدت اور تپش کی سختی جاتی رہی تھی۔ عصر کی نماز آپ ﷺ نے پہلے روز کی تاخیر کے مقابلے میں زیادہ تاخیر سے یعنی دو مثلین کے بعد پڑھائی لیکن پہلے روز کی تاخیر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عصر کی نماز میں پہلے روز تاخیر کی گئی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز ظہر سے تاخیر کی گئی تھی۔ دوسرے روز آپ ﷺ نے تمام نمازوں کو تاخیر سے یعنی ان کے آخری اوقات میں ادا کیا جیسا کہ ابھی ذکر کیا گیا۔ مگر آپ ﷺ نے عشاء کو آخر وقت تک موخر نہ کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر آپ ﷺ عشاء کو اس کے آخر وقت مختار یعنی آدھی رات تک موخر کرتے تو اس سے لوگوں کو دیر تک جاگنے کی وجہ سے تکلیف اور پریشانی ہوتی اور اگر آپ ﷺ عشاء سے پہلے سو رہتے تو مناسب نہ ہوتا کیونکہ عشاء کی نماز سے پہلے سونا مکروہ ہے۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ تم نے ان دو دنوں میں ہمارے ساتھ نماز پڑھ کر یہ دیکھ لیا ہے کہ نمازوں کا اوّل وقت کیا ہے اور آخری وقت کیا ہے لہٰذا شروع سے لے کر آخر تک اوّل وقت بھی ہے اور اوسط بھی اور آخر وقت بھی ہے لہٰذا اس کے درمیان تم جب چاہو نماز پڑھ سکتے ہو۔ آخر وقت سے مراد وقت مختار ہے نہ کہ وقت جواز۔ اس لئے کہ نمازوں کے جو آخری وقت آپ ﷺ نے بیان فرمائے ہیں۔ ان کے بعد بھی نماز کا وقت باقی رہتا ہے تاہم وہ وقت جواز ہوتا ہے وقت مختار نہیں ہوتا۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَمَّنِیْ جِبْرِیْلُ عِنْدَالْبَیْتِ مَرَّتَیْنِ فَصَلّٰی بِیَ الظُّھْرَ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَ کَانَتْ قَدْرَ الشِّرَاکِ وَصَلّٰی بِیَ الْعَصْرَحِیْنَ صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلُہُ وَصَلَّی بِیَ الْمَغْرِبَ حِیْنَ اَفْطَرَ الصَّائِمُ وَصَلّٰی بِیَ الْعِشَآءَ حِیْنَ غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّی بِیَ الْفَجْرَ حِیْنَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَی الصَّائِمِ فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ صَلَّی بِیَ الظُّھْرَ حِیْنَ کَانَ ظِلُہ، مِثْلُہ، وَصَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حِیْنَ کَانَ ظِلُّہ، مِثْلَیْہِ وَصَلَّی بِیَ الْمَغْرِبَ حِیْنَ اَفْطَرَ الصَّائِمُ وَصَلَّی بِیَ الْعِشَاءِ اِلٰی ثُلُثِ الَّیْلِ وَصَلَّی بِیَ الْفَجْرَ فَاَسْفَرَ ثُمَّ الْتَفَتَ اِلَیَّ فَقَالَ یَا مُحَمَّد ھٰذَا وَقْتُ الْاَنْبِیَاءِ مِنْ قَبْلِکَ وَالْوَقْتُ مَا بَیْنَ ھٰذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ۔ (رواہ ابوداؤد والترمذی)
حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے (نماز کی کیفیت اور اوقات بتانے کے لئے) امام بن کر خانہ کعبہ کے نزدیک مجھے دو مرتبہ (دو روز) نماز پڑھائی چناچہ (پہلے روز جس وقت سورج ڈھل گیا اور سایہ تسمے کے مانند تھا تو مجھے ظہر کی نماز پڑھائی اور جب ہر چیز کا سایہ (علاوہ سایہ اصلی کے) اس کے برابر ہوگیا تو مجھے عصر کی نماز پڑھائی اور جس وقت روزہ دار روز افطار کرتا ہے (یعنی سورج چھپنے کے بعد) تو مجھے مغرب کی نماز پڑھائی اور شفق غائب ہونے کے وقت مجھے عشاء کی نماز پڑھائی اور جس وقت روزہ دار کے لئے کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے (یعنی صبح صادق کے بعد) تو مجھے فجر کی نماز پڑھائی۔ اور جب اگلا روز ہوا تو انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ سایہ ایک مثل ( کے قریب ہوگیا اور مجھے عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہوجاتا ہے اور مجھے مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ روزہ دار افطار کرتا ہے اور مجھے عشاء کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ تہائی رات ہوگئی تھی اور مجھے فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ خوب روشنی ہوگئی اور پھر (جبریل (علیہ السلام) نے) میری طرف متوجہ ہو کر کہا۔ اے محمد ﷺ! یہ وقت آپ ﷺ سے پہلے کے نبیوں (کی نماز) کا ہے اور نماز انہیں دو وقتوں کے درمیان ہے۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی )
تشریح
جگہ اور وقت کے اعتبار سے سایہ اصلی مختلف ہوتا ہے چناچہ بعض جگہ تو سایہ زیادہ ہوتا ہے اور بعض جگہ کم ہوتا ہے اور بعض وقت سایہ اصلی ہوتا ہی نہیں جیسا کہ مکہ معظمہ میں انیسویں سرطان کو سایہ اصلی نہیں ہوتا۔ اس لئے سرکار دو عالم ﷺ نے پہلے روز کی نماز طہر کی وقت کے بارے میں فرمایا ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے پہلے دن مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ان دنوں میں مکہ معظمہ میں سایۂ اصلی جوتوں کے تسموں کی چوڑائی کے برابر تھا گویا وہ ظہر کا اوّل وقت تھا۔