نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 9 · 74 hadiths · Page 4 of 4

590Mishkaat-al-Masabih

نماز کے فضائل کا بیان

وَعْن اَبِیْ مُوْسٰی قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ صَلَّی الْبَرْدَےْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوموسی ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی ٹھنڈے وقت کی دونوں نمازیں (یعنی فجر و عشاء) پڑھتا رہا تو وہ جنت میں جائے گا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )

591Mishkaat-al-Masabih

نماز کے فضائل کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ّص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَتَعَاقَبُوْنَ فِےْکُمْ مَلَائِکَۃٌ بِاللَّےْلِ وَمَلَائِکَۃٌ بِالنَّھَارِ وَےَجْتَمِعُوْنَ فِی صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَصَلٰوۃِ الْعَصْرِ ثُمَّ ےَعْرُجُ الَّذِےْنَ بَاتُوْا فِےْکُمْ فَےَسْأَلُھُمْ رَبُّھُمْ وَھُوَ اَعْلَمُ بِھِمْ کَےْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِیْ فَےَقُوْلُوْنَ تَرَکْنٰھُمْ وَھُمْ ےُصَلُّوْنَ وَاٰتَےْنٰھُمْ وَھُمْ ےُصَلُّوْنَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس (آسمان سے) فرشتے رات دن آتے رہتے ہیں ( جو تمہارے اعمال لکھتے ہیں اور انہیں بارگاہ الوہیت میں پہنچاتے ہیں) اور فجر و عصر کی نماز میں سب جمع ہوتے ہیں اور جو فرشتے تمہارے پاس رہتے ہیں وہ (جس وقت) آسمان پر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بندوں کے احوال جاننے کے باوجود ان سے (بندوں کے احوال و اعمال) پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ پروردگار! ہم نے تیرے بندوں کو نماز پڑھتے ہوئے چھوڑا ہے اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تو اس وقت بھی وہ نماز ہی پڑھ رہے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ بندوں کے اعمال کو لکھنے اور انہیں اللہ تعالیٰ تک پہنچانے کے لئے (فرشتوں کی دو جماعتیں بندوں کے ہمراہ رہتی ہیں۔ ایک جماعت تو دن کے اعمال لکھتی ہے اور پھر عصر کے بعد واپس جا کر بارگاہ الوہیت میں اپنی رپورٹ پیش کردیتی ہے۔ دوسری جماعت رات کے اعمال لکھتی ہے۔ یہ فجر کی نماز کے بعد واپس جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو بندوں کے رات کے اعمال کی رپورٹ دیتی ہے چناچہ دن اور رات میں دو وقت ایسے ہوتے ہیں جب کہ یہ دونوں جماعتیں جمع ہوتی ہیں۔ ایک مرتبہ تو فجر کے وقت جب کہ رات کے فرشتے واپس جاتے ہیں اور دن کے فرشتے اپنی ڈیوٹی پر اتے ہیں۔ اسی طرح دوسری مرتبہ ان دونوں جماعتوں کا اجتماع عصر کے وقت ہوتا ہے جب کہ دن کے فرشتے اپنی ڈیوٹی پوری کر کے واپس جاتے ہیں اور رات کے فرشتے اپنے کام پر حاضر ہوتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اور اس کا علم زمین و آسمان کے ذرے ذرے کو محیط ہے۔ وہ زمین و آسمانوں کے رہنے والوں کے ایک ایک عمل کو جانتا ہے مگر جب فرشتے بندوں کے اعمال کی رپورٹ لے کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں تو ان سے پوچھتا ہے کہ جب تم اپنی ڈیوٹی پوری کر کے واپس لوٹ رہے تھے تو بتاؤ کہ اس وقت میرے بندے کیا کر رہے تھے؟ اور اس کا یہ پوچھنا (نعوذ با اللہ) علم حاصل کرنے کے لئے نہیں ہوتا بلکہ اس سوال سے اس کا مقصد فرشتوں کے سامنے اپنی بندوں کی فضیلت و عظمت کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں انسان کو بھیجنا چاہا تھا اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تھا تو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ سے کہا تھا کہ پروردگار کیا تو ایسی مخلوق کو پیدا کرنا چاہتا ہے جو دنیا میں فساد اور خون ریزی و غارت گری کا بازار گرم کرے گی۔ اور پھر انہوں نے اپنی برتری و بڑائی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ تیری عبادت کے لئے تو ہم ہی کافی ہیں اور ہم ہی تیری عبادت و پرستش کر بھی سکتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان سے یہ سوال کر کے ان پر ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ دیکھو! جس مخلوق کے بارے میں تمہارا یہ خیال تھا کہ دہ دنیا میں سوائے فتنہ و فساد پھیلانے کے اور کوئی کام نہیں کرے گی اب تم خود یکھ آئے ہو کہ وہ میری عبادت اور میری پرستش کس پابندی اور کس ذوق و شوق سے کرتی ہے۔ بہر حال! اس حدیث کے ذریعے رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو رغبت دلا رہے ہیں کہ ان دونوں اوقات میں ہمیشہ پابندی سے نماز پڑھتے رہو تاکہ وہ فرشتے اللہ کے سامنے تمہارے اچھے اور بہتر اعمال ہی پیش کرتے رہیں اور رب قدوس تمہاری فضیلت و بڑائی اسی طرح فرشتوں کے سامنے ظاہر کرتا رہے۔

592Mishkaat-al-Masabih

نماز کے فضائل کا بیان

وَعَنْ جُنْدُبِ الْقَسْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ صَلّٰی صَلٰوۃَ الصُّبْحِ فَھُوَ فِیْ ذِمَّۃِ اللّٰہِ فَلَا ےَطْلُبَنَّکُمُ اللّٰہُ مِنْ ذِمَّتِہٖ بِشَےْئٍ فَاِنَّہ ُ مَنْ ےَّطْلُبُہ ُ مِنْ ذِمَّتِہٖ بِشَئٍْ ےُّدْرِکْہُ ثُمَّ ےَکُبُّہُ عَلٰی وَجْھِہٖ فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ (رَوَاہُ مُسْلِمٌ)

اور حضرت جندب قسری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے صبح کی نماز پڑھی وہ (دنیا و آخرت میں) اللہ تعالیٰ کے عہد وامان میں ہے لہٰذا ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنے عہد میں کچھ مواخذہ کرے کیونکہ جس سے اس نے عہد وامان میں مواخذہ کیا تو (اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ) کہ اسے پکڑ کر دوزخ کی آگ میں اوندھے منہ ڈال دے گا۔ (صحیح مسلم) اور مصابیح کے بعض نسخوں میں قسری کے بجائے قشیری ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ جس آدمی نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ اللہ تعالیٰ کے عہد وامان میں ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس آدمی سے بدسلوکی نہ کریں، اس کو قتل نہ کریں۔ اس کا مال نہ چھینیں، اس کی غیبت نہ کریں اور اس کو بےآبروئی نہ کریں۔ اگر کسی آدمی نے اس کے ساتھ بدسلوکی کی یا اس کے ساتھ کوئی ایسا رویہ اختیار کیا جو اس کی جان و مال اور اس کی آبرو کے لئے نقصان دہ ہو تو اس کا مطلب ہوگا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے عہد وامان میں خلل ڈالا لہٰذا اللہ تعالیٰ ایسے آدمی سے سخت مواخذہ کرے گا اور جس بدنصیب سے اللہ تعالیٰ نے مواخذہ کیا اس کے لئے نجات کا کوئی ذریعہ نہ ہوگا۔ یا پھر عہد وامان سے مراد نماز ہے کہ صبح کی نماز پڑھنے سے اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں امن دینے کا وعدہ کرلیا ہے، لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ صبح کی نماز ہرگز قضا نہ کریں ورنہ ان کے اور پروردگار کے درمیان جو عہد ہے وہ ٹوٹ جائے گا جس پر اللہ تعالیٰ مواخذہ کرے گا اور اس کے مواخذے سے بچانے کی کوئی ہمت بھی نہیں کرسکتا۔

593Mishkaat-al-Masabih

نماز کے فضائل کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَوْ ےَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِی النِّدَآءِ وَالصَّفِّ الْاَوَّلِ ثُمَّ لَمْ ےَجِدُوْا اِلَّا اَنْ ےَّسْتَھِمُوْا عَلَےْہِ لَاسْتَھَمُوْا وَلَوْ ےَعْلَمُوْنَ مَا فِی التَّھْجِےْرِ لَا سْتَبَقُوْا اِلَےْہِ وَلَوْ ےَعْلَمُوْنَ مَا فِی الْعَتَمَۃِ وَالصُّبْحِ لَاَتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر لوگوں کو اذان کہنے اور (نماز میں) پہلی صف میں کھڑے ہونے کا ثواب معلوم ہوجائے اور بغیر قرعہ ڈالے انہیں یہ حاصل نہ ہو سکے تو وہ ضرور قرعہ ہی ڈالیں (یعنی اگر لوگ اذان دینے اور پہلی صف میں کھڑے ہونے کے لئے آپس میں نزاع کریں اور قرعہ ڈال کر دیکھیں کہ کس کا نام نکلتا ہے تو یہ مناسب ہے) اور اگر ظہر کی نماز کے لئے جلدی آنے کا ثواب جان لیں تو اس نماز میں دوڑتے ہوئے آیا کریں اور اگر عشاء و صبح کی نماز کی فضیلت معلوم ہوجائے (تو فوت نہ ہونے کی حالت میں بھی ان نمازوں کے لئے) سرین کے بل چل کر آئیں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح اگر تھجیر کے معنی وہی لئے جائیں جو ترجمہ سے ظاہر ہیں یعنی ظہر کی نماز کے لئے جلدی آنا، تو اس فضیلت کا تعلق گرمی کے علاوہ دوسرے موسموں کی ظہر کی نماز سے ہوگا کیونکہ گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت پڑھنا مستحب ہے۔ یا پھر تہجیر کے معنی طاعت کی طرف جلدی کرنا، ہوں گے اور بعض حضرات نے اس کے معنی نماز جمعہ کے لئے دوپہر کو جانا بھی لکھے ہیں۔ وا اللہ اعلم۔ سرین کے بل چل کر آنے، کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی پاؤں سے چلنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس نماز کی فضیلت حاصل کرنے کے لئے اس طرح گھسٹتا ہوا آئے جس طرح ضعیف و معذور چل کر آتے ہیں۔

594Mishkaat-al-Masabih

نماز کے فضائل کا بیان

وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَےْسَ صَلٰوۃٌ اَثْقَلَ عَلَی الْمُنَافِقِےْنَ مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَآءِ وَلَوْ ےَعْلَمُوْنَ مَافِےْھِمَا لَاتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافقین پر عشاء اور فجر سے زیادہ بھاری کوئی نماز نہیں۔ اگر دونوں کے ثواب وہ جان لیں تو سرین کے بل چلتے ہوئے آیا کریں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح منافقین کے مزاج میں عبادت کے سلسلے میں کسل و سستی بہت ہوتی ہے پھر جو نمازیں وہ پڑھتے ہیں وہ بھی محض اپنی جان بچانے اور مسلمانوں کو دکھانے سنانے کے لئے پڑھتے ہیں۔ فجر اور عشاء یہ دو وقت ایسے ہیں جو اول تو آرام و استراحت اور نیند کی لذت حاصل کرنے کے ہیں۔ نیز جاڑوں کے موسم میں سردی کے ہیں دوسرے یہ کہ ان اوقات میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے کوئی کسی کو کم ہی پہچانتا ہے اس لئے یہ دونوں نمازیں ان بدبختوں پر بہت گراں ہوتی ہیں۔ لہٰذا یہ حدیث اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ مخلص و صادق مومنین کو چاہئے کہ وہ اس خصلت سے بچیں تاکہ منافقین کے ساتھ مشابہت نہ ہو۔

595Mishkaat-al-Masabih

نماز کے فضائل کا بیان

وَعَنْ عُثْمَانَّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ صَلَّی الْعِشَآءَ فِیْ جَمَاعَۃٍ فَکَاَنَّمَا قَامَ نِصْفَ الَّلےْلِ وَمَنْ صَلَّی الصُّبْحَ فِیْ جَمَاعَۃٍ فَکَاَنَّمَا صَلَّی الَّلےْلَ کُلَّہُ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت عثمان غنی ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے عشاء کی نماز جماعت سے پڑھ لی تو گویا اس نے نصف رات کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور جس آدمی نے صبح کی نماز جماعت سے پڑھ لی تو گویا اس نے تمام رات کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ (صحیح مسلم) تشریح اگر حدیث کے ظاہری الفاظ کو دیکھا جائے تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صبح کی نماز کا ثواب عشاء کی نماز کے ثواب سے زیادہ ہے کہ جب ہی تو کہا گیا ہے کہ عشاء کی نماز جماعت سے پڑھنے والا، نصف رات تک نماز پڑھنے والے کے برابر ہوتا ہے اور فجر کی نماز جماعت سے پڑھنے والا پوری رات تک نماز پڑھنے والے کے برابر ہوتا ہے۔ یا پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس آدمی نے عشاء کی نماز جماعت سے پڑھی تو اسے آدھی رات تک نماز پڑھنے کا ثواب ملا پھر فجر کی نماز بھی جماعت سے ادا کرلی تو بقیہ نصف رات تک کا ثواب مل گیا اس طرح دونوں نمازوں کے پڑھنے سے پوری رات تک عبادت کرنے والے کے ثواب کا وہ حقدار ہوگیا۔

596Mishkaat-al-Masabih

نماز کے فضائل کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ّص قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا ےَغْلِبَنَّکُمُ الْاَعْرَابُ عَلَی اسْمِ صَلٰوتِکُمُ الْمَغْرِبِ قَالَ وَتَقَوْلُ الْاَعْرَابُ ھِیَ الْعِشَآءُ وَقَالَ لَا ےَغْلِبَنَّکُمُ الْاَعْرَابُ عَلَی اسْمِ صَلٰوتِکُمُ الْعِشَآئئِ فَاِنَّھَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ الْعِشَآءُ فَاِنَّھَا تُعْتِمُ بِحِلَابِ الْاِبِلِ ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دیہاتی لوگ نماز مغرب کے نام لینے میں تم پر غالب نہ آجائیں راوی فرماتے ہیں کہ دیہاتی لوگ ( مغرب کو) عشاء کہتے تھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نماز عشاء کے نام لینے میں بھی دیہاتی لوگ تم پر غالب نہ آجائیں۔ اس نماز کا نام کتاب اللہ میں عشاء ہے (چنانچہ ارشاد ربانی ہے آیت ( وَمِنْ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَا ءِ ) 24۔ النور 58) اور وہ دیہاتی لوگ اونٹنیوں کے دودھ دوہنے کی وجہ سے اس نماز میں تاخیر کردیتے تھے۔ (صحیح مسلم) تشریح دیہاتی لوگوں سے مراد ایام جاہلیت کے دیہاتی لوگ ہیں جو مغرب کو تو عشاء کہتے تھے اور عشاء کو عتمہ، چناچہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو منع فرما دیا کہ یہ نام نہ لئے جائیں کیونکہ اس میں ان کا غالب ہونا لازم آتا ہے اس لئے کہ جب ان لوگوں کا رکھا نام استعمال کیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم نے ان کی زبان کو اپنایا جس کی بناء پر وہ تم پر غالب رہے لہٰذا تم وہی نام استعمال کرو جو قرآن و حدیث میں مذکور ہیں یعنی مغرب اور عشاء۔ لہٰذا۔ بظاہر تو اس نہی کا تعلق دیہاتی لوگوں سے ہے کہ وہ غالب نہ ہوں لیکن حقیقت میں اس نہی کا تعلق تمام مسلمانوں سے ہے کہ وہ ان نمازوں کے ناموں کے سلسلے میں دیہاتی لوگوں کی موافقت نہ کریں تاکہ مسلمانوں پر ان کا غالب ہونا لازم نہ آئے۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی زبان اور اپنا کلام اصطلاح شریعت کے مطابق درست کریں اور جو باتیں کفار و فجار کی زبان زد ہوں ان سے پرہیز کریں۔ نہی اور علت نہی بیان فرمانے کے بعد فَاِنَّھَا بِحَلَابِ الْاِبِلِ کہہ کر آپ ﷺ نے عشاء کو عتمہ کہنے کی وجہ کی طرف بھی اشارہ فرما دیا ہے۔ تعتم صحیح روایت میں صیغہ معروف کے ساتھ ہے اور یہ بتایا جا چکا ہے کہ عتمہ تاریکی کو کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ دیہاتی لوگ اونٹنیوں کے دودھ دوہنے کی وجہ سے عشاء کو تاریکی میں پڑھتے تھے بایں طور پر کہ وہ شفق غائب ہونے کے بعد دودھ شروع کرتے تھے پھر اس کے بعد عشاء پڑھتے۔ ایک دوسری روایت میں یہ لفظ صیغہ مجہول کے ساتھ مذکور ہے جس کے معنی یہ ہوں گے۔ اونٹنیوں کا دودھ دوہنے کی وجہ سے عشاء کی نماز تاریکی میں پڑھی جاتی تھی۔ بہر حال ایام جاہلیت میں عرب کے لوگ عتمہ تاریکی کو کہتے تھے۔ جب اسلام کی مقدس روشنی نے عرب کی سر زمین کو کفر و شرک کے اندھیروں سے صاف کیا اور نمازیں مشروع ہوئیں تو عشاء کی نماز کو دیہاتی لوگ صلوۃ العتمہ کہنے لگے چناچہ اس نام سے مسلمانوں کو روکا گیا اور اہل جاہلیت سے مشابہت کی بناء پر اس نام کو مکروہ قرار دے دیا گیا۔ یہ پہلے بھی کئی جگہ بتایا جا چکا ہے کہ جن روایتوں میں بجائے عشاء کی عتمہ کا لفظ آیا ہے وہ روایتیں اس نہی سے قبل کی ہوں گی۔

597Mishkaat-al-Masabih

نماز کے فضائل کا بیان

وَعَنْ عَلِیٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ےَوْمَ الْخَنْدَقِ حَبَسُوْنَا عَنْ صَلٰوۃِ الْوُسْطٰی صَلٰوۃِ الْعَصْرِ مَلَأ اللّٰہُ بُےُوْتَھُمْ وَقُبُوْرَھُمْ نَارًا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ خندق کے روز فرماتے تھے کہ (کافروں نے) ہمیں درمیانی نماز یعنی عصر کے پڑھنے سے روکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں میں آگ بھرے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح غزوہ خندق کو غزوہ احزاب بھی کہتے ہیں جو ٤ ھ یا ٥ ھ میں ہوا تھا۔ اس جنگ کو غزوہ خندق اس لئے کہا جاتا ہے کہ اسی غزوہ کے موقعہ پر حضرت سلمان فارسی ؓ کے مشورہ سے دشمنوں سے بچاؤ کی خاطر مدینہ کے گرد خندق کھودی گئی تھی۔ خندق کھود نے میں تمام مسلمانوں کے ہمراہ خود سرکار دو عالم ﷺ (فداہ ابی وامی) بھی بنفس نفیس شریک تھے۔ جس طرح دیگر مخلص مومنین دن بھر بھوکے پیاسے رہ کر اللہ کے دین کی حفاظت اور اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کے مشن کی کامیابی کے لئے اس محنت و مشقت میں مصروف رہتے تھے اسی طرح آقائے نامدار سرور کائنات فخر دو عالم جناب محمد رسول اللہ ﷺ بھی بڑی بڑی تکالیف برداشت فرما کر مصائب و رنج اٹھا کر بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ کر سردی کی شدید پریشانی اور زمین کو کھودنے پتھر اکھاڑنے کی سخت محنت جھیل کر اپنے جانثار رفقاء کے ہمراہ خندق کھودتے تھے۔ اسی جنگ میں بسبب تردد اور تیر اندازی رسول اللہ ﷺ کی چار نمازیں قضا گئی تھیں انہیں میں عصر کی نماز بھی تھی رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز کی فضیلت ظاہر کرنے کے لئے یہ بد دعا فرمائی جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح ان کفار و مشرکین نے ہماری نمازیں قضا کرا کر ہمیں سخت روحانی تکلیف و ازیت میں مبتلا کیا ہے، اللہ کرے وہ بھی دنیا و آخرت کے شدید عذاب میں مبتلا کئے جائیں۔ ایک معمولی سا خلجان یہاں واقع ہوسکتا ہے کہ جنگ احد کے موقع پر آپ ﷺ کی ذات اقدس کو جبکہ کفار کی جانب سے بےانتہا تکلیف پہنچائی گئی تو آپ ﷺ نے وہاں بددعا نہیں کی اور یہاں بدعا فرمائی اس کی وجہ کیا ہے؟۔ اس کا مختصر ترین جواب یہ ہے کہ جنگ احد میں رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کا معاملہ تھا وہاں آپ ﷺ کی شان رحمت کا تقاضا تھا کہ اپنے نفس کے معاملہ میں کسی کے لئے بددعا نہ کریں مگر یہاں نماز کا سوال تھا جس کا تعلق آپ ﷺ کی ذات سے نہ تھا بلکہ حقوق اللہ سے تھا اس لئے آپ ﷺ نے بد دع فرمائی۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ صلوٰۃ وسطی عصر کی نماز ہے چناچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین اور تابعین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم میں سے اکثر جلیل القدر حضرات، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام احمد رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم وغیرہ کا قول یہی ہے لہٰذا قرآن شریف کی آیت کریمہ آیت (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى) 2۔ البقرۃ 238) (یعنی محافظت کرو تم سب نمازوں کی اور درمیانی نماز کی) میں وسطی سے عصر کی نماز ہی مراد لی جائے گی۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اس کے تعین میں اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا اختلاف رہا ہے تو اس کی وجہ بظاہر یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت تک ان حضرات تک رسول اللہ ﷺ کی وہ حدیث (جو آئندہ فصل میں آرہی ہے) نہیں پہنچی ہوگی جس سے بصراحت معلوم ہوتا ہے کہ صلوٰۃ وسطیٰ سے عصر کی نماز مراد ہے۔ اس لئے وہ حضرات اپنے اجتہاد اور رائے کی بناء پر اس کے تعین میں اختلاف کرتے ہوں گے چناچہ اس حدیث کے صحت کے بعد یہ متعین ہوگیا کہ اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ وا اللہ اعلم۔

598Mishkaat-al-Masabih

نماز کے فضائل کا بیان

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ وَسَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاۃُ الْوُسْطٰی صَلَاۃُ الْعَصْرِ۔ (رواہ الترمذی)

حضرت عبداللہ ابن مسعود اور حضرت سمرہ ابن جندب ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا درمیانی نماز (یعنی قرآن مجید میں جو والصلوۃ الوسطی مذکور ہے وہ) عصر کی نماز ہے۔ (جامع ترمذی ) تشریح صلوٰۃ وسطیٰ ( یعنی درمیانی نماز) سے عصر کی نماز اس لئے مراد لی جاتی ہے کہ یہی نماز دن کی دونوں نمازوں (یعنی فجر اور ظہر) اور رات کی دونوں نمازوں) یعنی مغرب و عشاء کے درمیان آتی ہے)۔

599Mishkaat-al-Masabih

نماز کے فضائل کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرۃَ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُوْدً ا قَالَ تَشْھَدُ ہ، مَلَآئِکَۃُ اللَّیْلِ وَمَلَآئِکَۃُ النَّھَارِ۔ (رواہ الترمذی)

حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے قول آیت ( اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا) 17۔ الاسراء 78) (یعنی فجر کی نماز فرشتوں کے حاضر ہونے کا وقت ہے) کی تفسیر میں فرماتے تھے کہ صبح کی نماز میں دن اور رات کے فرشتے حاضر (یعنی جمع) ہوتے ہیں۔ (جامع ترمذی ) تشریح آیت ( اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا) 17۔ الاسراء 78) کے معنی قرأت قرآن فجر ہیں اور اس سے مراد فجر کی نماز ہے۔ اسے قرآن اس لئے کہا ہے کہ قرأت نماز کا ایک رکن ہے جیسے کہ بعض مقامات پر نماز کو سجدہ یا رکوع کہا گیا ہے۔ بہر حال۔ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں مشہود سے مراد یہ ہے کہ بندوں کے دن اور رات کے اعمال لکھنے والے فرشتے اس نماز میں جمع ہوتے ہیں جیسا کہ اسی باب کی حدیث نمبر تین میں اس کی تفصیل بیان کی جاچکی ہے۔

600Mishkaat-al-Masabih

نماز کے فضائل کا بیان

عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَّعَائِشَۃَ قَالَا اَلصَّلٰوۃُ الْوُسْطٰی صَلَاۃُ الظُّھْرِ رَوَاہُ مَالِکٌ عَنْ زَیْدٍ وَالتِّرْمِذِیٌّ عَنْھُمَا تَعْلِیْقًا۔

حضرت زید ابن ثابت ؓ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ دونوں فرماتے ہیں کہ صلوٰۃ وسطی (یعنی درمیانی نماز) ظہر کی نماز ہے۔ اس روایت کو امام مالک (رح) نے صرف حضرت زید ؓ سے روایت کیا ہے اور امام ترمذی (رح) نے دونوں (یعنی حضرت زید و حضرت عائشہ) سے بطریق تعلیق یعنی بلا سند روایت کیا ہے۔ تشریح حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت زید ابن ثابت ؓ صلوٰۃ وسطی سے ظہر کی نماز اس لئے مراد لیتے تھے کہ یہ نماز دن کے درمیانی حصہ میں ادا کی جاتی ہے۔

601Mishkaat-al-Masabih

نماز کے فضائل کا بیان

وَعَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلَّی الظُّھْرَ بِالْھَا جِرَۃِ وَلَمْ یَکُنْ یُصَلِّی صَلَاۃً اَشَدُّ عَلٰی اَصْحَابِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلممِنْھَا فَنَزََلَتْ حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَقَالَ اِنَّ قَبْلَھَا صَلَ تَیْنِ وَ بَعْدَ ھَا صَلَاتَیْنِ۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد)

اور حضرت زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز سویرے ( یعنی دن ڈھلتے ہی) پڑھ لیتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام پر ان تمام نمازوں میں جو وہ پڑھتے تھے ظہر کی نماز سے زیادہ سخت کوئی نماز نہ تھی چناچہ یہ آیت نازل ہوئی (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی) 2۔ البقرۃ 238) یعنی! تم سب نمازوں کی خصوصاً درمیانی نماز کی محافظت کرو۔ اور حضرت زید ابن ثابت ؓ فرمایا کرتے تھے کہ ظہر کی نماز سے پہلے بھی دو نمازیں ہیں اور بعد بھی دو نمازیں ہیں۔ (مسند احمد بن حنبل و ابوداؤد) تشریح حدیث کے آخری جز سے راوی کا مقصد یہ ہے کہ درمیانی نماز سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ لہٰذا بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زید ؓ کا یہ ثابت کرنا کہ درمیانی نماز سے مراد ظہر کی نماز ہے ان کا اپنا ذاتی اجتہاد ہے۔ اس لئے ان کا یہ قول رسول اللہ ﷺ کی حدیث سے متعارض نہیں ہے کیونکہ آپ ﷺ نے تو صراحت کے ساتھ فرما دیا ہے۔ کہ درمانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے۔

602Mishkaat-al-Masabih

نماز کے فضائل کا بیان

وَعَنْ مَالِکٍ بَالَغَۃُ اَنَّ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ وَ عَبْدَاﷲِ بْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یَقُوْ لَا نِ الصَّلٰوۃُ الْوُسْطٰی صَلَاۃُ الصُّبْحِ رَوَاہُ فِی الْمُوطَّا وَرَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ تَعْلِیْقًا۔

اور حضرت امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت ابن عباس ؓ دونوں کہا کرتے تھے کہ درمیانی نماز (سے مراد) صبح کی نماز ہے۔ (موطا امام مالک) اور یہ روایت حضرت امام ترمذی (رح) نے حضرت عبداللہ ابن عباس اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے بطریق تعلیق نقل کی ہے۔ تشریح یہ بھی ان دونوں حضرات کا اپنا اجتہاد ہے کہ ان حضرات تک رسول اللہ ﷺ کی حدیث نہ پہنچی ہوگی اس لئے انہوں نے بطریق احتمال کہا کہ درمیانی نماز سے مراد صبح کی نماز ہے۔ بہر حال۔ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کا مسلک یہی ہے یہ درمیانی نماز سے مراد صبح کی نماز ہے مگر حضرت امام نووی (رح) جو شافعی المسلک ہیں فرماتے ہیں کہ اس سلسلے میں صحیح احادیث منقول ہیں کہ درمیانی نماز سے مراد نماز عصر ہے۔ گو حضرت ماوردی (رح) نے جو شوافع کے ائمہ میں شمار کئے جاتے ہیں یہ وضاحت کی ہے کہ حضرت امام شافعی (رح) نے یہ تصریح کردی ہے کہ صبح کی نماز درمیانی نماز ہے۔ تاہم ان صحیح احادیث کو دیکھتے ہوئے جن سے بصراحت ثابت ہے کہ عصر کی نماز ہی درمیانی نماز ہے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شافعی مسلک میں بھی یہی ہوگا کیونکہ حضرت امام شافعی (رح) نے یہ وصیت فرمائی تھی کہ اگر تم ایسی حدیث پاؤ جس کے برخلاف میں نے حکم دے رکھا ہو تو میرا صحیح مسلک وہی سمجھنا جو صحیح حدیث سے ثابت اور میرا پہلا حکم دیوار پر پھینک مارنا۔

603Mishkaat-al-Masabih

نماز کے فضائل کا بیان

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ مَنْ غَدَاِلٰی صَلَاۃِ الصُّبْحِ غَدَابَرَاْیَۃِ لینان وَمَنْ غَدَراِلٰی اَلسَّوْقِ غَدَابَرَایَۃِ اِبْلِیْسَ۔(رواہ ابن ماجۃ)

اور حضرت سلمان ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی صبح کی نماز کے لئے جاتا ہے وہ گویا وہ ایمان کا جھنڈا لے کر چلتا ہے اور جو آدمی صبح بازار جاتا ہے تو گویا وہ شیطان کا جھنڈا لے کر چلتا ہے۔ (ابن ماجہ) تشریح علامہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے لشکر اور شیطان کو بیان کرنے کے لئے تمثیل ہے کہ جو آدمی فجر کی نماز پڑھنے کے لئے صبح سویرے مسجد کی طرف چلتا ہے تو گویا وہ ایمان کا جھنڈا اٹھا کر شیطان سے جنگ کرنے کے لئے چلتا ہے جس طرح غازی اور مجاہدین دشمناں اسلام سے برسر پیکار ہونے کے لئے اسلامی جھنڈا لے کر چلتے ہیں لہٰذا صبح سویرے فجر کی نماز کو جانے والا آدمی اللہ تعالیٰ کے لشکر کا ایک فرد ہوتا ہے اور جو آدمی صبح سویرے حصول دنیا کے چکر میں بازار کی طرف چلتا ہے تو وہ شیطان کے لشکر کا ایک فرد ہوتا ہے۔ بایں طور کہ وہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نماز کو جانے کی بجائے شیطان کی خواہش پر عمل کرتا ہے اور اس طرح وہ اپنے دین کو کمزور کر کے شیطان کی پیروی اور تابعداری کا جھنڈا اٹھا کر اس کی شان و شوکت بڑھاتا ہے لیکن یہ سمجھ لیجئے کہ یہ تمثیل اس آدمی کے حق میں ہے جو فجر کی نماز اور وظائف پڑھے بغیر بازار جاتا ہے۔ ہاں اگر کوئی آدمی نماز و تلاوت اور وظائف سے فارغ ہو کر حلال رزق طلب کرنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے سامان حیثیت کی فراہمی کی خاطر بازار جاتا ہے تو وہ اس تمثیل کی رو سے شیطان کے لشکر کا فرد نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کے لشکر کا فرد ہوتا ہے۔