حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور موت کا فرشتہ :
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : جاء ملك الموت إلى موسى ابن عمران فقال له : أجب ربك . قال : فلطم موسى عين ملك الموت ففقأها قال : فرجع الملك إلى الله فقال : إنك أرسلتني إلى عبد لك لا يريد الموت وقد فقأ عيني قال : فرد الله إليه عينه وقال : ارجع إلى عبدي فقل : الحياة تريد ؟ فإن كنت تريد الحياة فضع يدك على متن ثور فما توارت يدك من شعرة فإنك تعيش بها سنة قال : ثم مه ؟ قال : ثم تموت . قال : فالآن من قريب رب أدنني من الأرض المقدسة رمية بحجر . قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والله لو أني عنده لأريتكم قبره إلى جنب الطريق عند الكثيب الأحمر . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (جب) حضرت موسیٰ ابن عمران (علیہ السلام) (کی موت کا وقت قریب آیا ان) کے پاس موت کا فرشتہ عزرائیل (علیہ السلام) آیا اور کہا کہ اپنے پروردگار کی طرف سے پیغام اجل قبول فرمائیے یعنی آپ کی روح قبل ہونے کا وقت آپہنچا ہے واصل الی اللہ ہونے کے لئے تیار ہوجائیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سن کر فرشتہ موت کے طمانچہ رسید کردیا جس سے اس کی آنکھ پھوٹ گئی آنحضرت ﷺ نے فرمایا موت کا فرشتہ دربار الہٰی میں واپس گیا اور عرض کیا کہ پروردگار تو نے مجھے روح قبض کرنے کے لئے اپنے ایک ایسے بندے کے پاس بھیجا جو موت نہیں چاہتا اور یہ کہ اس نے میری آنکھ بھی پھوڑ دی ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرشتہ موت کی یہ شکایت سن کر اس کی آنکھ درست کردی اور یہ حکم دیا کہ میرے بندہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس دوبارہ جاؤ اور ان کو میرا یہ پیغام پہنچاؤ کہ کیا تم طویل زندگی چاہتے ہو؟ اگر تم طویل زندگی چاہتے ہو تو کسی بیل کی کمر پر اپنا ہاتھ یا دونوں ہاتھ رکھ دو تمہارے اس ہاتھ یا دونوں ہاتھوں کے نیچے جتنے بال آجائینگے ان میں سے ہر ایک بال کے عوض تمہاری زندگی میں ایک سال کا اضافہ ہوجائے گا فرشتہ نے دوبارہ حاضر ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام سنایا تو انہوں نے کہا کہ اس طویل زندگی کا بھی آخری نتیجہ موت ہی ہے تو پھر وہ آج ہی کیوں نہ آجائے میں اسے وقت موت کی آغوش میں جانے کے لئے تیار ہوں لیکن میری یہ دعا ضرور ہے کہ رب کریم ( تدفین کے لئے مجھے ارض مقدس (یعنی بیت المقدس) سے قریب کردے اگرچہ ایک پھینکے ہوئے پتھرکے بقدر ہو اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اگر میں بیت المقدس کے قریب ہوتا تو تمہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر کا نشان دیکھا دیتا جو ایک راستے کے کنارے پر سرخ ٹیلے کے قریب ہے ( بخاری ومسلم) شریح رب کریم مجھے ارض مقدس سے قریب کردے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے آخری وقت میں یہ دعا اس لئے کی کہ وہ بیت المقدس کے قریب دفن ہونا چاہتے تھے اور اس زمانہ میں وہی جگہ سب جگہوں سے افضل و اشرف تھی کیونکہ انبیاء کا مدفن اور مزارات ہوسکتا ہے کہ مذکورہ واقعہ کے وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میدان تیہ (صحراسینا) میں ہونگے لہٰذا انہوں نے آخری وقت میں بیت الرب (یعنی بیت المقدس) کی قربت کی خواہش ظاہر کی اور اس خواہش کی شدت کو ظاہر کرنے کے لئے کہا کہ چاہے یہاں سے وہ قربت اتنے کم فاصلہ کے برابر ہی کیوں نہ ہو جو ایک پھینکا ہوا پتھر طے کرتا ہے نیز انہوں نے بیت المقدس کے قریب دفن ہونے کی خواہش ظاہر کی خود بیت المقدس میں دفن ہونے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا انہیں یہ خوف تھا کہ اگر میں نے بیت المقدس میں دفن ہونے کی خواہش کی تو میری قبر بہت مشہور اور زیارت گاہ خلائق ہوجائے گی اور ہوسکتا ہے کہ لوگ اس کی وجہ سے کتنے فتنہ اور برائی میں مبتلا ہوجائینگے۔ بعض محققین نے لکھا ہے کہ حدیث میں جس سرخ ٹیلے کا ذکر ہے وہ ایک بستی اریحاء کے قریب ہے اور بستی میدان تیہ کے سب کے قریب وادی مقدس کا علاقہ ہے بہرحال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صلحاء کے مزارات مدفن کے قریب متبرک جگہوں میں دفن ہونا مستحب ہے۔ یہ ذکر کردینا ضروری ہے کہ بعض لوگ جو عقل و قیاس کے اسیر ہیں انہوں نے اس حدیث کا انکار کیا ہے وہ کہتے ہیں فرشتہ موت کا آنکھوں سے ہاتھ دھوبیٹھنا کیا معنی رکھتا ہے روح قبض کرنے کے لئے آنے والے فرشتہ کے طمانچہ رسید کرنا انسانی طاقت کے لئے کیسے ممکن ہوسکتا ہے اور یہ کہ اس واقعہ سے موت کو غیر پسندیدہ اور غیر مرغوب شئے سمجھنا اور دنیا میں زیادہ دنوں تک باقی رہنے کی آرزو کرنا لازم آتا ہے اور یہ چیز اس انسان کے شایان شان نہیں ہوسکتی جو نبوت و رسالت جیسے عظیم الشان منصب پر فائز ہو۔ ان باتوں کا جواب الفاظ حدیث کی اس تعبیر میں مل جاتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت میں موت کا فرشتہ حاضر ہوا تو وہ انسانی شکل و صورت میں تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کو دیکھ کر پہچان نہ سکے کہ یہ موت کا فرشتہ ہے اور میری روح قبض کرنے آیا ہے، ان کو یہ ناگوار گذرا کہ ایک اجنبی شخص بغیر اجازت کیوں اس کے خلوت کدہ میں گھس آیا ہے، پھر اس نے ان کو موت کا پیغام دیا تو یہ خطرہ بھی ہوا کہ کہیں یہ شخض قتل کرنے کی نیت سے تو میرے پاس نہیں آیا اس لئے ان کو طیش بھی آیا اور انہوں نے اس کے خلاف اس کے خلاف دفاعی اقدام کرنا ضروری سمجھا، چناچہ اس کے منہ پر طمانچہ ماردیا، فرشتہ بشکل انسان تھا لہٰذا بشری اثرات نے کام کیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زبردست طمانچہ کی چوٹ سے اس کی آنکھ جاتی رہی۔ پھر یہ کہ انہوں نے اس کو ایک دروغ گو کی حیثیت میں بھی دیکھا کیونکہ اس نے روح قبض کرنے کا دعوی کیا تھا کہ کوئی انسان روح قبض کرنے والا نہیں ہوسکتا لہٰذا ان کو اس دروغ گوئی پر غصہ آیا اور دورغ گو پر غصہ للہ فی للہ ہوتا ہے اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر کوئی اعتراض کیسے ہوسکتا ہے اور یہی وجہ ہے ان کے اس اقدام پر بارگاہ حق سے کوئی عتاب بھی نہیں ہوا۔ بہرحال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس اقدام کے بعد بھی فرشتہ موت نے اپنی اصل حیثیت ظاہر نہ کی اور ان کو یہ بتائے بغیر کہ وہ موت کا فرشتہ ہی غائب ہوگیا اور درگاہ الہٰی میں جاپہنچا، اب اللہ تعالیٰ نے اس کو پھر ملکوتی ہیئت پر واپس کیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت میں دوبارہ بھیجا اور اس طرح وہ اس عیب و نقصان سے بری ہوگیا جو بشری شکل و صورت میں آنکھ مجروح ہوجانے سے پیدا ہوگیا تھا، ادھر فرشۃ موت نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خیالات سے آشنا ہوئے بغیر خود ہی یہ سمجھ لیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) موت کے نام سے خفا ہوگئے اور موت نہیں چاہتے اور دربار الہٰی میں جاکریہی شکایت بھی کی لیکن اللہ تعالیٰ تو اصل صورت حال جانتا تھا اس نے فرشتہ کی غلط فہمی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جلالت شان دونوں کے اظہار کے لئے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ فرشتہ موت دوبارہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ایک بلیغ انداز میں موت کا پیغام پہنچائے ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس اجنبی شخص کے یکایک غائب ہوجانے پر فورا محسوس کرلیا کہ درحقیقت یہ معاملہ عالم بالا کا ہے، چناچہ فرشتہ موت نے جب دوبارہ حاضر ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغام الہٰی سنایا تو ان کا طرز عمل اور طریقہ گفتگو فورا بدل گیا پھر انہوں نے پیغام اجل کو لبیک کہنے میں مزاج دیر نہیں کی اور رفیق اعلی سے جاملے، کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مزاج میں نہایت تیزی وشدت تھی وہ جلال کا مظہر تھے، مزاج اور اصول کے خلاف کوئی بات ان کے لئے ناقابل برداشت بن جاتی تھی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب وہ چلہ کشی اور تورات لینے کے لئے جبل طور یا حوراب پہاڑ پر تشریف لے گئے تو اپنے پیچھے بنی اسرائیل کا نگہبان اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بنا گئے تھے، جب ان کو گئے ہوئے ایک ماہ سے زائد گذر گیا تو بنی اسرائیل کو کھل کر کھیلنے کا موقع مل گیا اور ایک بدباطن شخص سامری کے بہکانے میں آکر قوم کے لوگ گوسالہ (بچھڑے) کی پرستش کرنے لگے، حضرت ہارون (علیہ السلام) نے قوم کو بہت سمجھایا اور اس مشرکانہ حرکت سے لاکھ منع کیا مگر کسی نے ان کی بات پر کان نہیں دھرا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس آئے اور قوم کو گوسالہ پرستی میں مبتلا دیکھا تو بپھر گئے اور یہ خیال کرکے کہ ہارون (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو شرک سے باز رکھنے میں کوتاہی کی ہے، ان کی گردن پکڑ لی اور ان کے سرکے نوچنے لگے اور ڈاڑھی تک پر ہاتھ ڈال دیا، حضرت ہارون (علیہ السلام) نے پوری صورت حال بتائی اور اپنا بےقصور ہوناثابت کردیا تب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جلال اور غصہ سے ان کی خلاصی ہوئی۔ بہرحال اس حدیث کی صحت میں کوئی شبہ نہیں ہے، اس پر عقیدہ رکھنا چاہے اور اگر اس کی کچھ باتیں خلاف قیاس معلوم ہوتی ہوں تو اپنے فہم کا تصور سمجھنا چاہئے اگرچہ مندرجہ بالا صحیح تعبیرات وتاویلات کی روشنی میں دیکھنے کے بعد اس حدیث میں کوئی بات قیاس کے خلاف معلوم ہی نہیں ہوسکتی۔
انبیاء (علیہ السلام) کے حلیے :
وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : عرض علي الأنبياء فإذا موسى ضرب من الرجال كأنه من رجال شنوءة ورأيت عيسى بن مريم فإذا أقرب من رأيت به شبها عروة بن مسعود ورأيت إبراهيم فإذا أقرب من رأيت به شبها صاحبكم - يعني نفسه - ورأيت جبريل فإذا أقرب من رأيت به شبها دحية بن خليفة . رواه مسلم
اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب انبیاء کرام میرے سامنے لائے گئے تو میں نے دیکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہلکے بدن کے ہیں جیسے وہ قبیلہ بنوشنوہ میں سے کوئی آدمی ہوں اور میں نے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو دیکھا تو وہ میرے دیکھے ہوئے لوگوں میں عروہ ابن مسعود ؓ سے بہت مشابہ نظر آئے اور میں نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا تو وہ میرے دیکھے ہوئے لوگوں میں دحیہ ابن خلیفہ سے بہت مشابہ نظر آئے۔ (مسلم)
تشریح
جب انبیاء کرام میرے سامنے لائے گئے۔ یہ شب معراج کا ذکر ہے جب آپ ﷺ نے اس رات میں مسجد اقصی میں یا آسمان پر ان انبیاء کرام سے ملاقات فرمائی اور ان کو دیکھا، اس ملاقات کے وقت ان انبیاء کرام کی ارواح مقدسہ کو ان کے ان اجسام کے ساتھ کہ جو وہ دنیا میں رکھتے تھے، آپ ﷺ کے سامنے لایا گیا، چناچہ آپ ﷺ نے ان انبیاء کرام کی شکل و صورت اور ان کے سراپا کا خاکہ اپنے صحابہ کرام کے سامنے رکھنے کے لئے ان افراد واشخاص کا ذکر فرمایا جن کو صحابہ نے دیکھ رکھا تھا اور جو جسم وبدن اور تن وتوش کے اعتبار سے ان انبیاء کرام کی مشابہت رکھتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آپ ﷺ نے ہلکے بدن کا بتایا اور ان کے سراپا کو قبیلہ بنو شنوہ کے لوگوں کی طرح قرار دیا، یہ قبیلہ یمن کی سر زمین سے تعلق رکھتا تھا اور اس کے لوگ دبلے جسم کے ہوتے تھے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آپ ﷺ نے اپنے ایک صحابی حضرت عروہ ابن مسعود کی طرح بتایا کہ عروہ ابن مسعود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بہت مشابہ ہیں، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مشابہت کے لئے آپ ﷺ نے خود اپنی ذات شریف کو پیش کیا، جس سے ثابت ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آنحضرت ﷺ میں بہت زیادہ مشابہت تھی اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے بارے میں بتایا کہ وہ دحیہ ابن خلیفہ کے بہت مشابہ تھے، حضرت دحیہ ایک مشہور صحابی ہیں اور بہت زیادہ خوبصورت تھے، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اکثر وبیشتر ان ہی کی شکل و صورت میں آنحضرت ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے اور شب معراج میں بھی آنحضرت ﷺ کے سامنے ان کو دحیہ ہی کی شکل و صورت میں پیش کیا گیا۔
انبیاء (علیہ السلام) کے حلیے :
وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : رأيت ليلة أسري بي موسى رجلا آدم طوالا جعدا كأنه شنوءة ورأيت رجلا مربوع الخلق إلى الحمرة والبياض سبط الرأس ورأيت مالكا خازن النار والدجال في آيات أراهن الله إياه فلا تكن في مرية من لقائه . متفق عليه
اور حضرت ابن عباس ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں شب معراج میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا وہ گندم گوں اور دراز قد تھے ان کے بال خمدار تھے اور (جسم وبدن کا اعتبار سے) قبیلہ شنوہ کے کسی آدمی کی طرح نظر آتے تھے اور میں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا وہ خلقی طور پر متوسط قدوقامت کے تھے (نہ بہت لمبے تھے نہ ٹھگنے اور نہ بہت موٹے تھے نہ دبلے) ان کا رنگ سرخ سفید تھا (جیسے خود حضور ﷺ کے جسم مبارک کا رنگ تھا) اور ان کے سر کے بال سیدھے (یعنی گھونگھریالے نہیں) تھے اور میں نے دوزخ کے دورغہ مالک کو اور دجال کو بھی دیکھا! اور آنحضرت ﷺ کا ان سب کو دیکھنا قدرت الہٰی کی ان نشانیوں اور علامتوں کے ضمن میں تھا جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو (شب معراج میں) دیکھائیں اس لئے (اے اس حدیث کو پڑھنے اور سننے والے) اس امر میں کوئی شک وشبہ نہ کر، آنحضرت ﷺ نے ان سب کو دیکھا اور ملاقات فرمائی۔ (بخاری)
تشریح
جعد کے معنی ہیں بالوں کا گھونگھریالہ ہونا۔ اور اس کے مقابلہ پر سبط کے معنی ہیں بالوں کا سیدھا ہونا پس یہاں مراد یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بال سیدھے نہیں تھے بلکہ خمدار تھے یعنی گھونگھریالے نظر آتے تھے اور حضرت شیخ عبد الحق دہلوی (رح) نے اپنی شرح میں جعد کے تحت لکھا ہے کہ اس لفظ (جعد) کا اکثر اطلاق گھونگھریالے بالوں پر ہوتا ہے مگر کبھی کبھی یہ لفظ مضبوط اور گٹھے ہوئے بدن کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور یہاں حدیث میں یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک گٹھے ہوئے بدن کے آدمی تھے۔ حضرت شیخ نے جعد کے یہ معنی مراد لینے کی وجہ یہ لکھی ہے کہ اگلی حدیث میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں منقول ہے کہ وہ رجل الشعر تھے اور رجل کا اطلاق ایسے بالوں پر ہوتا ہے جو گھونگھریالے نہ ہوں۔ اس کی وضاحت اگلی حدیث میں آرہی ہے۔ روایت کا یہ جملہ فی ایات ارہن اللہ ایاہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا جزء نہیں ہے، نیز یہ ذریعہ قرآن کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ ولقد اتینا موسیٰ الکتب فلاتکن فی مریۃ من لقاہ اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی، سو (اے محمد ﷺ آپ شب معراج میں) موسیٰ (علیہ السلام) کے ملنے میں کچھ شک نہ کیجئے۔ یعنی آپ موسیٰ (علیہ السلام) سے شب معراج میں ملے تھے، وہ سچی حقیقت ہے کوئی دھوکا یا نظر بندی نہیں۔ لہٰذا مذکورہ جملہ سے اس آیت کی طرف اشارہ کرکے ہر ایک کو آگاہ کیا گیا کہ جب قرآن سے بھی یہ ثابت ہے کہ شب معراج میں آنحضرت ﷺ کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملنا ایک سچی حقیقت ہے تو کوئی بھی اس شک وشبہ کا شکار نہ ہو۔
شب معراج میں انبیاء سے ملاقات اور آنحضرت ﷺ کا پیالہ شراب قبول کرنے سے انکار :
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليلة أسري بي لقيت موسى - فنعته - : فإذا رجل مضطرب رجل الشعر كأنه من رجال شنوءة ولقيت عيسى ربعة أحمر كأنما خرج من ديماس - يعني الحمام - ورأيت إبراهيم وأنا أشبه ولده به قال : فأتيت بإناءين : أحدهما لبن والآخر فيه خمر . فقيل لي : خذ أيهما شئت . فأخذت اللبن فشربته فقيل لي : هديت الفطرة أما أنك لو أخذت الخمر غوت أمتك . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں نے شب معراج میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات کی اس کے بعد آپ ﷺ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایک مضطرب شخص نظر آئے، ان کے سر کے بال گھونگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے اور ایسے لگتے تھے جیسے وہ قبیلہ شنوہ کے کوئی مرد ہوں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے بھی میری ملاقات ہوئی، ان کا قد میانہ اور رنگ سرخ تھا اور (ایسا لگتا تھا) جیسے (ابھی نہا کر) دیم اس یعنی حمام سے نکلے ہوں۔ اور میں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھا اور میں ان کی اولاد میں سے سب سے زیادہ ان کے مشابہ ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر میرے سامنے دو پیالے پیش کئے گئے۔ جن میں سے ایک میں دودھ تھا اور ایک میں شراب تھی اور مجھ سے کہا گیا کہ ان میں سے جس کو پسند کرو، لے لو (چاہے شراب پسند کرلو چاہے دودھ) میں نے دودھ کا پیالہ لے لیا اور پی لیا، تب مجھ سے کہا گیا (یعنی فرشتوں نے کہا) یہ کہ تمہیں راہ فطرت دکھائی گئی (یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین اسلام کی وہ راہ سمجھا دی جو اصل میں انسانی فطرت اور جس پر ہر شخص پیدا ہوتا ہے) جان لو اگر تم (اس وقت) شراب پی لیتے تو تمہاری امت گمراہ ہوجاتی۔ (بخاری ومسلم)۔
تشریح
وہ ایک مضطرب شخص نظر آئے۔ کی وضاحت میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، بعض نے یہ کہا کہ یہاں مضطرب دراز قد کے معنی میں ہے یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لمبے قد کے تھے۔ بعض نے کہا ہے کہ مضطرب کے معنی کم گوشت کے ہیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دبلے پتلے، کم گوشت چھریرے بدن کے تھے۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ اس جملہ میں مضطرب کا لفظ خوف الہٰی سے دہلنے کانپنے والے کے معنی میں ہے، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں منقول ہے کہ وہ نماز اور عبادت الہٰی کے دوران خوف اللہ سے تھر تھرکانپتے رہتے تھے۔ رجل الشعر میں لفظ رجل ج کے زیر کے ساتھ ہے اور ج کے جزم اور زبر کے ساتھ بھی منقول ہے، اس لفظ کا اطلاق ان بالوں پر ہوتا ہے جو نہ بالکل سیدھے ہوں جن کو سبط کہتے ہیں اور نہ بالکل گھونگھریالے ہوں جن کو جعد کہا جاتا ہے، بلکہ ہلکا سا خم لئے ہوں لیکن ملا علی قاری (رح) نے لکھا ہے کہ یہ کہنا زیادہ موزوں ہے کہ رجل سے مراد وہ بال ہیں جن میں خمی غالب ہو یعنی گھونگھریالے کے قریب ہوں، انہوں نے یہ معنی اس لئے مراد لئے ہیں تاکہ یہ روایت پچھلی حدیث کے منافی نہ ہو جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بالوں کا خم دار ہونا مذکور ہے۔ اس حدیث میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رنگت کو سرخ بتایا گیا ہے جب کہ پیچھے کی روایت میں سرخ سفید فرمایا گیا ہے لیکن دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ جہاں تک ان کی اصل رنگت کا تعلق ہے وہ سرخ سفید ہی تھے اور اس اعتبار سے کہ ان پر سرخی غالب ہوگی، ان کی رنگت پر سرخ کا اطلاق درست ہوا۔ من دیم اس یعنی الحمام میں یعنی الحمام کے الفاظ اصل حدیث کے نہیں بلکہ ایک راوی عبدالرزاق کے ہیں جنہوں نے ان الفاظ کے ذریعہ دیم اس کی وضاحت کی ہے کہ اس لفظ سے آنحضرت ﷺ نے حمام مراد لیا تھا۔ بہرحال جیسے ابھی حمام سے نکلے ہوں کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے دراصل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی رنگت کے نکھار، بدن کی تروتازگی وشادابی اور روئے مبارک کی تابانی وشگفتگی کی طرف اشارہ کیا جو روحانیت کے غلبہ کا پر تو تھی۔ لبن کے ساتھ فی استعمال نہ کرنا اور خمر کے ساتھ استعمال کرنا بظاہر تو از راہ تفنن ہے، لیکن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ شراب تو کم تھی اور دودھ زیادہ تھا۔ نیز آنحضرت ﷺ کے سامنے ان دونوں چیزوں کے پیش کئے جانے سے مقصود یہ تھا کہ فرشتوں پر آپ کی یہ فضیلت و عظمت ظاہر ہوجائے کہ آپ ہر حالت میں وہی چیز پسند کرتے اور اختیار کرتے ہیں جو بھلائی و بہتری کی ضامن ہوتی ہے اور جو چیز اپنے اندر کسی بھی طرح کی خرابی اور برائی رکھتی ہے اس کو از خود آپ ﷺ کی طبیعت قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ تمہیں راہ فطرت دکھائی گئی دودھ کا پیالہ پسند اور اختیار کرنے کو راہ فطرت یعنی نور ہدایت سے اس لئے تعبیر کیا گیا کہ اس عالم سفلی میں دودھ ایک ایسی چیز ہے جو پاک وصاف، خالص ولطیف اور سفید وشرین ہونے کے اعتبار سے امتیازی حیثیت رکھتی ہے اور بچے کو سب سے پہلی پرورش اور سب سے پہلی غذا دودھ ہی سے حاصل ہوتی ہے، پس عالم بالا میں دودھ کی مثال ہدایت اور فطرت کو قرار دیا گیا جس سے قوت و توانائی اور غذائے روحانی ملتی ہے اس لئے معلوم ہوا کہ عالم بالا میں اس دنیا کی چیزوں کی مثالیں اور صورتیں مقرر ہیں جن سے مناسب معانی اور اشارے اخذ کئے جاتے ہیں علم تعبیر الرویاء کی مستند کتابوں میں لکھا ہے کہ جو شخص خواب میں دودھ دیکھے یا خود دودھ پینا دیکھے تو اس کی تعبیر علم، دین اور ہدایت ہے جب کہ شراب کا معاملہ اس کے برعکس ہے جو اس دنیا میں تمام برائیوں خباثتوں اور فتنوں اور ہر طرح کے نقصان کی جڑ ہے۔ اگر تم شراب پی لیتے تو تمہاری امت گمراہ ہوجاتی۔ یہ اس لئے کہا گیا کہ آنحضرت ﷺ اس وقت شراب کے پیالہ کو اختیار کرلیتے تو آپ ﷺ کی امت کے لئے بھی شراب حلال ہوجاتی اور اس طرح اس امت کے لوگوں میں شراب نوشی کی برائی اور اس کے مضرات داخل ہوجاتے۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کی ذات پاک چونکہ کسی بھی برائی میں مبتلا ہونے سے ازلی وابدی طور پر محفوظ تھی اور آپ ﷺ کا کسی بھی گمراہی میں پڑنا متصور ہی نہیں ہوسکتا، اس لئے آپ ﷺ سے یہ کہا گیا کہ اگر آپ شراب پی لیتے تو تم گمراہ ہوجاتے، بلکہ گمراہی کی نسبت آپ ﷺ کی امت کے لوگوں کی طرف کی گئی۔ حدیث کے اس جملہ سے یہ نکتہ معلوم ہوا کہ رہبر و پیشوا خواہ نبی ہو یا عالم ہو یا کسی قوم و ملک کا بادشاہ وسرابراہ ہو، کی استقامت واولوالعزمی، اس کے پیرؤوں اور اس کے ماننے والوں کی استقامت واولوالعزمی کا ذریعہ وسبب ہے کیونکہ اس کو وہی حیثیت حاصل ہوتی ہے جو کسی جسم میں دوسرے اعضاء کی نسبت سے دل کو حاصل ہوتی ہے۔
انبیاء اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بھی اعمال خیر کرتے ہیں :
وعن ابن عباس قال : سرنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بين مكة والمدينة فمررنا بواد فقال : أي واد هذا ؟ . فقالوا : وادي الأزرق . قال : كأني أنظر إلى موسى فذكر من لونه وشعره شيئا واضعا أصبعيه في أذنيه له جؤار إلى الله بالتلبية مارا بهذا الوادي . قال : ثم سرنا حتى أتينا على ثنية . فقال : أي ثنية هذه ؟ قالوا : هرشى - أو لفت - . فقال : كأني أنظر إلى يونس على ناقة حمراء عليه جبة صوف خطام ناقته خلبة مارا بهذا الوادي ملبيا رواه مسلم
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک سفر میں جو مکہ اور مدینہ کے درمیان تھا، ہم رسول کریم ﷺ کے ہمراہ تھے، جب ہم ایک جنگل سے گذرنے لگے تو آپ ﷺ نے پوچھا کہ یہ کونسا جنگل ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ وادی ازرق ہے۔ آنحضرت ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ گویا میں موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ رہا ہوں پھر آپ ﷺ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے رنگ اور بالوں کا ذکر کیا (کہ ان کا رنگ گندمی اور بال خمدار ہیں اور سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے آگے فرمایا کہ) انہوں نے اپنی انگلیاں کانوں میں دے رکھی ہیں (جس طرح کہ مؤذن اپنی آواز بلند کرنے کے لئے اذان دیتے وقت اپنی انگلیاں کانوں میں دئیے رہتا ہے) اور روتے گڑ گڑاتے، بآواز بلند اپنے پروردگار کے حضور لبیک لبیک کہتے اس جنگل سے گذر رہے ہیں (جس طرح کہ کوئی احرام باندھے ہوئے شخص نہایت فروتنی و عاجزی کے ساتھ لبیک لبیک کہتا ہوا حرم کی طرف چلتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد وہاں سے گذر کر ہم آگے چلے اور ایک گھاٹی میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے پوچھا کہ یہ کونسی گھاٹی اور پہاڑ ہے؟ لوگوں نے بتایا یہ ہر شا پہاڑ ہے۔ یا لفت پہاڑ ہے! آپ ﷺ نے یہ (سن کر) فرمایا گویا میں یونس (علیہ السلام) کو دیکھ رہا ہوں جو سرخ اونٹنی پر سوار ہیں اور موٹے اون کا جبہ پہنے ہوئے ہیں، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کی رسی کی ہے اور وہ لبیک لبیک کہتے ہوئے اس گھاٹی سے گذر رہے ہیں (مسلم)
تشریح
اس حدیث سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) بعد از موت بھی اعمال خیر کرتے ہیں وہیں حج کی اہمیت بھی ثابت ہوئی کہ یہ عبادت اللہ اور اس کے انبیاء کے شعائر میں سے ہے اور انبیاء (علیہم السلام) اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بھی اس کو ترک نہیں کرتے لہٰذا جو بھی شخص حج کی استطاعت وقدرت رکھتا ہو اس کو اس فریضہ کی ادائیگی سے غافل نہ ہونا چاہئے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہ السلام) کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ حج کرتے ہیں اور تلبیہ کہتے ہوئے محو سفر ہوتے ہیں (جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے) کیونکر ممکن ہے کیونکہ وہ وفات پاچکے ہیں اور یہ دنیا، دار آخرت نہیں ہے، دارالعمل ہے جہاں سے ان کا جسمانی تعلق منقطع ہوچکا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) بھی شہداء کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی افضل ہیں اور شہداء کے بارے میں یہ ہے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اللہ کے ہاں زندہ ہیں تو کیا بعید ہے وہ حج کریں، نماز پڑھیں اور دوسرے جو اعمال خیر چاہیں اختیار کرکے اپنے اللہ کا تقرب اور اس کی خوشنودی حاصل کریں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان نبیوں کو دیکھنے کا جو ذکر کیا وہ کھلی آنکھوں دیکھنے یا شب معراج کا واقعہ نہیں ہے بلکہ دراصل آپ ﷺ نے اپنے خواب کا ذکر کیا جس میں ان نبیوں کو مذکورہ حالت و کیفیت میں دیکھا، یہ اور بات ہے کہ انبیاء کا خواب بھی اتناہی سچا ہوتا ہے جتنا کھلی آنکھوں دیکھنا اور حضرت شیخ عبد الحق نے یہ لکھا ہے کہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ تمام انبیاء کرام صلوۃ اللہ علیہم اجمعین حقیقی اور دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں گوان کی اس حیات کو عام نظروں سے پوشیدہ رکھا گیا ہے اور جب یہ بات حقیقت ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو حیات دنیا حاصل ہے تو اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب محمد ﷺ کو کسی خواب وغیرہ کے واسطہ و ذریعہ کے بغیر کھلی آنکھوں سے ان انبیاء کا مشاہدہ کرادیا۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ذکر :
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : خفف على داود القرآن فكان يأمر بدوابه فتسرح فيقرأ القرآن قبل أن تسرح دوابه ولا يأكل إلا من عمل يديه . رواه البخاري
اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا حضرت داؤد (علیہ السلام) پر زبور کی تلاوت آسان کردی گئی تھی، وہ اپنے جانوروں پر زین کسنے کا حکم دیتے اور قبل اس کے کہ زین کسنے کا کام پورا ہو، وہ زبور کی تلاوت مکمل کرلیتے تھے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے ہاتھ کی محنت کی روٹی کھاتے تھے۔ (بخاری)
تشریح
حدیث سے گویہ واضح نہیں ہوتا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس کتنے جانور تھے اور ان جانوروں پر زین کسنے کا کام کتنے عرصہ میں مکمل ہوتا تھا، لیکن یہ ثابت ہوا کہ وہ عرصہ بہرحال اتنا طویل نہیں ہوتا تھا جس میں پوری زبور کی تلاوت مکمل کرلینا عام طور پر ممکن ہوتا، یہ صرف حضرت داؤد (علیہ السلام) کا وصف تھا کہ وہ تھوڑے عرصہ میں زبور جیسی کتاب کی تلاوت کرلیتے تھے۔ حاصل یہ کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو یہ وصف فوق العادت کمال کے طور پر حاصل تھا اور اس خصوصی عطیہ الٰہی سے تعلق رکھتا تھا کہ رب کریم اپنے نیک اور مخصوص بندوں کے لئے زمانہ اور وقت کی طناب کھینچ بھی دیتا ہے اور ڈھیلی بھی کردیتا ہے، کبھی ایک مختصر ساعرصہ ان بندگان خاص کے حق میں طویل عرصہ کے برابر ہوجاتا ہے اور کبھی ایک طویل عرصہ ایک مختصر عرصہ کے برابر کردیا جاتا ہے۔ سیدنا امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اپنی سواری کے ایک رکاب میں پیر رکھتے وقت قرآن کریم پڑھنا شروع کرتے اور دوسرے رکاب میں پیر ڈالنے تک پورے قرآن کی تلاوت ختم کرلیتے تھے حدیث کے آخر میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ایک دوسرا وصف یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ باوجود سلطنت وحکمرانی کے اپنی روزی اپنے ہاتھ کی محنت سے حاصل کرتے تھے، زرہ سازی ان کا جزوقتی مشغلہ اور ہنر تھا، اسی کی آمدنی سے ان کا خرچ چلتا تھا۔
ایک قضیہ میں حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے الگ الگ فیصلے :
وعنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : كانت امرأتان معهما ابناهما جاء الذئب فذهب بابن إحداهما فقالت صاحبتها : إنما ذهب بابنك . وقالت الأخرى : إنما ذهب بابنك فتحاكما إلى داود فقضى به للكبرى فخرجتا على سليمان بن داود فأخبرتاه فقال : ائتوني بالسكين أشقه بينكما . فقالت الصغرى : لا تفعل يرحمك الله هو ابنها فقضى به للصغرى متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے (حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ کا یہ قصہ بیان فرمایا کہ دو عورتیں تھیں اور ان دونوں کے پاس ایک ایک لڑکا تھا، (ایک دن) ایک بھڑیا آیا اور ان میں سے ایک عورت کے لڑکے کو اٹھا کرلے گیا، (اب دونوں نے آپس میں جگڑنا شروع کیا، ایک نے کہا کہ بھڑیا جس لڑکے کو لے گیا ہے وہ تیرا تھا اور دوسری نے کہا کہ نہیں وہ تیرا لڑکا تھا، آخر کار دونوں اپنا مقدمہ لے کر حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس پہنچیں اور حضرت داؤد (علیہ السلام) نے (دونوں کے بیانات سن کر) موجود لڑکا بڑی عمر کی عورت کو دلوادیا، پھر وہ دونوں عورتیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس آئیں اور ان سے (پورا قضیہ اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کا فیصلہ) بیان کیا (نیز انہوں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے اپنا فیصلہ دینے کا کہا) حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے (صورت واقعہ کی نزاکت اور پیچدگی کو سمجھ کر (اپنے خادموں سے) کہا کہ ذرا چھری اٹھا لاؤ میں اس لڑکے کو بیچ میں سے دو ٹکڑے کر کے ان دونوں عورتوں میں بانٹ دوں گا۔ چھوٹی عمر کی عورت (نے ان کا یہ فیصلہ سنا تو تڑپ اٹھی اور کہنے لگی اللہ آپ پر رحم کرے ایسا نہ کیجئے لڑکا بڑی عمر والی عورت ہی کو دے دیجئے، یہ اسی کا ہے (یہ دیکھ کر) حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے چھوٹی عمر والی عورت کے حق میں فیصلہ کیا اور اس کو لڑکا دلوادیا۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
اس قضیہ کی بنیاد یہ تھی کہ دونوں عورتیں جو عمر میں ایک دوسرے سے چھوٹی بڑی تھیں ایک ہی جگہ رہتی تھیں، ان دونوں کے پاس ایک ایک بچہ تھا اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ دونوں بچے ہم عمر بھی تھے اور ہم شکل بھی، اس لئے جب بھیڑیا ان میں سے ایک بچہ کو اٹھا کرلے گیا تو دونوں عورتوں کے درمیان یہ نزاع پیدا ہوگیا کہ بھیڑیا جس بچہ کو اٹھا کرلے گیا ہے وہ کس کا تھا؟ ہر ایک عورت یہ کہتی تھی کہ وہ بچہ اس کا نہیں تھا بلکہ دوسری عورت کا تھا۔ یا یہ کہ وہ بچے ہم عمر اور ہم شکل نہیں تھے اور دونوں عورتیں خوب جانتی تھیں کہ بھیڑیا کس کے بچہ کو لے گیا ہے لیکن اس بچہ کی ماں یا تو بد حواسی میں یہ ماننے کو تیار نہیں تھی کہ اس کا بچہ جاتا رہے یا وہ دوسرے بچہ کو جو موجود تھا، اس لئے ہتھیانا چاہتی تھی کہ اس کو اپنے پاس رکھ کر اپنے اصل بچہ کا غم ہلکا کرسکے اور یا اس کے اس دعوے کے پیچھے کوئی اور فاسد غرض کار فرما ہوگی، بہرحال جب یہ قضیہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جس بچہ کو بھیڑیا اٹھا کرلے گیا ہے وہ اس عورت کا تھا جو چھوٹی عمر کی ہے اور موجود لڑکے کو بڑی عمر والی عورت کے حوالہ کرنے کا حکم دیا حضرت داؤد (علیہ السلام) نے یہ فیصلہ یا تو اس بنیاد پر کیا کہ وہ بچہ بڑی عمر والی عورت ہی کے پاس تھا اور شرعی قاعدہ یہ ہے کہ اگر کسی چیز کی ملکیت کے بارے میں کوئی واضح اور یقینی ثبوت نہ ہو تو اس چیز کا زیادہ حق دار وہ شخص مانا جائے گا جس کے قبضے میں وہ چیز ہوگی۔ یا یہ کہ وہ بچہ بڑی عمر والی عورت سے کچھ مناسبت رکھتا تھا لہٰذا حضرت داؤد (علیہ السلام) نے علمی قیافہ سے کام لے کر مذکورہ فیصلہ صادر کیا بہرحال ان کے اس فیصلہ کی بنیاد ان دونوں میں سے کوئی بات ہو یا ان کے علاوہ کسی اور قرینہ اور دلیل کو انہوں نے مدنظر رکھا ہو یہ بات طے ہے کہ ان کا یہ فیصلہ ان کے اپنے اجتہاد کا نتیجہ تھا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی نہیں تھا کیونکہ اگر اس سلسلہ میں ان پر کوئی وحی آئی ہوتی اور ان کو یہ فیصلہ اسی وحی کے تحت ہوتا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) ان کے فیصلے کے خلاف الگ فیصلہ نہ دیتے۔ جب یہ قضیہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے اس کا فیصلہ کرنے کا بالکل نفسیاتی طریقہ اختیار کیا انہوں نے دونوں کے دعوے سن کر کہا کہ ایک چھری لاؤ میں اس بچہ کو بیچ سے کاٹ کردو ٹکڑے کئے دیتا ہوں اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک ٹکڑا دے دوں گا ان کا مقصد یہ تھا کہ دونوں عورتوں کی مامتا کا امتحان ہوجائے اس بات پر ان دونوں طرف سے جس ردعمل کا اظہار ہوگا وہ صحیح نتیجہ تک پہنچنے میں مدد دے گا ظاہر ہے جو عورت اس بچہ کی اصل ماں ہوگی وہ چاہے اس بچہ کو اپنے سے جدا کرنے پر راضی ہوجائے مگر اپنی آنکھوں کے سامنے اس کے دو ٹکڑے کئے جانے کو کسی حال میں برداشت نہیں کرے گی چناچہ یہی ہوا جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان دونوں کو پرکھنے کے لئے یہ بات کہی تو بڑی عمر والی عورت خاموش رہی مگر چھوٹی عمر والی عورت تڑپ گئی اور کہنے لگی کہ ایسا ظلم نہ کیجئے میں اس پر راضی ہوں کہ آپ اس بچہ کو اس بڑی عمر والی عورت کے حوالے کردیں اور یہ بچہ جیتا رہے لیکن مجھے یہ گوارہ نہیں کہ اس بچہ کو چیر کردو ٹکڑے کردیا جائے اور موت کی آغوش میں پہنچا دیا جائے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کہنے کا جو مقصد تھا وہ پورا ہوگیا انہوں نے اس بچہ کے تئیں چھوٹی عمر والی عورت کی ظاہر کردہ شفقت و محبت کو اس کی ممتا اور بڑی عمر والی عورت کی خاموشی کو اس کی سنگدلی اور بچہ سے بےتعلقی پر محمول کر کے نتیجہ اخذ کرلیا کہ یہ بچہ چھوٹی عمر والی ہی عورت کا ہے اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں بڑی عمر والی عورت نے اقرار بھی کیا ہوگا کہ وہ بچہ اس کا نہیں ہے بلکہ دوسری عورت کا ہے، لہٰذا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بچہ کو اس کی اصل ماں یعنی چھوٹی عمر والی عورت کے حوالہ کردیا! اب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے اس فیصلہ کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے فیصلہ کو کیسے توڑا، جب کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا فیصلہ ایک نبی کا فیصلہ تھا اور کسی نبی کے فیصلہ کو توڑا نہیں جاسکتا، چاہے وہ فیصلہ اس نبی کے اپنے اجتہاد ہی کا نتیجہ کیوں نہ ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اس بڑی عمر والی عورت کے حق میں حتمی اور یقینی فیصلہ صادر نہیں کردیا تھا بلکہ حدیث میں جس فیصلہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ احتمالی نوعیت رکھتا ہے اور اس کی حیثیت انتظامی حکم کی تھی اور اس سے ان کا مقصد اس معاملہ کو محض رفع دفع کرنا تھا اور ممکن ہے کہ ان کی شریعت میں پائی جانے والی کسی گنجائش کے تحت کسی ایسے حکم کو منسوخ کیا جانا جائز ہو جس کا تعلق وحی الہٰی یا نص شرعی کے بجائے اجتہاد سے ہو۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ایک واقعہ :
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال سليمان : لأطوفن الليلة على تسعين امرأة - وفي رواية : بمائة امرأة - كلهن تأتي بفارس يجاهد في سبيل الله . فقال له الملك : قل إن شاء الله . فلم يقل ونسي فطاف عليهن فلم تحمل منهن إلا امرأة واحدة جاءت بشق رجل وأيم الذي نفس محمد بيده لو قال : إن شاء الله لجاهدوا في سبيل الله فرسانا أجمعون . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (ایک دن) حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ کہا (یعنی یہ عزم و ارادہ کیا) کہ آج رات میں اپنی نوے بیویوں سے اور ایک روایت میں یہ ہے کہ اپنی سو بیویوں کے ساتھ مباشرت کروں گا ان میں سے ہر بیوی، ایک سوار (بہادر مرد) جنے گی جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا۔ ( چونکہ انہوں نے اس عزم و ارادہ کے وقت، جو اگرچہ نیک مقصد کے لئے تھا، انشاء اللہ نہ کہا اس لئے اس) فرشتہ نے جو دائیں طرف رہتا ہے یا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اور یا کسی بھی فرشتہ نے ان سے کہا کہ انشاء اللہ کہہ لیجئے! لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہنا بھول گئے، پھر انہوں نے (اپنے ارادہ کے مطابق) ان سب بیویوں کے ساتھ مباشرت کی اور ان میں سے صرف ایک عورت کے علاوہ کوئی بھی حاملہ نہیں ہوئی اور اس نے بھی آدھا مرد یعنی ناقص الخلقۃ بچہ جنا۔ (اور پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا) قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، سلیمان (علیہ السلام) اگر انشاء اللہ کہہ لیتے تو یقینا ہر عورت سے بیٹا پیدا ہوتا اور سب اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے اور سوار (بہادر مرد) ثابت ہوتے۔
تشریح
انشاء اللہ کہہ لیجئے۔ اس سے کسی بھی کام کے عزم و ارادہ کے وقت انشاء اللہ کہنے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے، کہ جب بھی کوئی عزم و ارادہ کیا جائے تو اس کو انشاء اللہ کہہ کر مضبوط بنا لینا چاہئے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں یہ کام کروں گا اور اگر اللہ نے چاہا تو یہ کام ہوگا اور یہ کہنا ضروری اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ کے چاہے بغیر کوئی بھی چیز وجود میں نہیں آتی اور بندے کی وہی خواہش بارآور ہوتی ہے جس میں مشیت الہٰی بھی شامل ہو لہٰذا اس فرشتے نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو گویا یاد دلایا کہ آپ نے جو عزم و ارادہ کیا ہے اس کو اللہ کی مشیت سے وابستہ نہیں کیا جس کی وجہ سے اس عزم و ارادہ کی بار آوری غیر یقینی ہوگئی ہے۔ آپ اب بھی انشاء اللہ کہہ لیجئے تاکہ آپ کا یہ عزم و ارادہ اب سے بارآور ہونے کا مستحق ہوجائے۔ لیکن جیسا کہ شیخ عبدالحق نے اپنی شرح میں حدیث کے مذکورہ جملہ کے تحت لکھا ہے، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ کہ بھول جانے کی وجہ سے اس وقت انشاء اللہ نہیں کہا، جب فرشتہ نے انہیں یاد دلایا تھا بلکہ بعد میں بھی نہیں کہا۔ ملا علی قاری نے اس موقع پر یہ لکھا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرشتہ کے کہنے کے باوجود انشاء اللہ اس لئے نہیں کہا کہ وہ یہ سمجھے کہ جب دل میں انشاء اللہ کی نیت کرلی ہے تو زبان سے انشاء اللہ کہنا ضروری نہیں ہے، اس اعتبار سے نسی کا لفظ علم کے معنی میں ہوگا۔ نیز ایک روایت میں نسی کا لفظ ن کے پیش اور اس کی تشدید کے ساتھ نقل ہوا ہے اور یہی زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے، اس صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ ان کے ذہن سے یہ بات فراموش کردی گئی کہ انشاء اللہ کہنے میں قلب اور زبان دونوں کا جمع ہونا ارباب جمع اور اہل عرفان کے نزدیک اصل درجہ رکھتا ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا انشاء اللہ نہ کہنا ان کی لغزش قرار پایا اور یہ حق تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے ایک ابتلاء تھا اس لئے انہوں نے بعد میں حق تعالیٰ کے حضور اپنی اس لغزش کا اعتراف و اقرار اور توبہ و استغفار کیا جیسا کہ قرآن کریم میں مذکور ہے۔ بہرحال حدیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کسی بھی کام کے ارادے وعزم کے اظہار کے وقت یہ کہنا مستحب ہے کہ میں فلاں کام کروں گا انشاء اللہ تعالیٰ تاکہ اس کام میں حق تعالیٰ کی طرف سے مدد و برکت حسن تکمیل اور آسانی و سہولت میسر ہو چناچہ قرآن کریم میں یہی حکم دیا گیا ہے۔ ولاتقولن لشئی انی فاعل ذلک غدا الا ان یشاء اللہ۔ اور آپ کسی کام کی نسبت یوں نہ کہا کیجئے کہ میں اس کو کل کروں گا مگر اللہ کے چاہنے کو ملا دیا کیجئے (یعنی اس طرح کی بات کہتے وقت انشاء اللہ ضرور کہا کیجئے۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) میں قوت مردی اور جنسی طاقت کمال درجہ کی تھی اور اس طاقت کا زیادہ ہونا مردوں کے لئے خوبی اور فضیلت کی بات ہے جب کہ اس طاقت کا کم ہونا کمی اور نقصان میں شمار کیا جاتا ہے۔
وعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كان زكرياء نجارا . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حضرت زکریا (علیہ السلام) نجار (یعنی بڑھئی) تھے (مسلم)
تشریح
مطلب یہ کہ وہ بڑھئی کا کام کرتے تھے اور اپنی روزی اپنے ہاتھ کی محنت سے پیدا کرتے تھے۔ پس اس حدیث میں اور اس حدیث میں جو اوپر حضرت داؤد (علیہ السلام) سے متعلق گذری، یہ دلیل ہے کہ کمانا اور محنت ومشقت کے ذریعہ اپنا حلال رزق حاصل کرنا انیباء (علیہم السلام) کی سنت میں سے ہے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آنحضرت کا باہمی قرب وتعلق :
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنا أولى الناس بعيسى بن مريم في الأولى والآخرة الأنبياء إخوة من علات وأمهاتهم شتى ودينهم واحد وليس بيننا نبي . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دنیا اور آخرت میں (یا آغاز و انجام میں) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سب سے زیادہ قریب اور متعلق میں ہوں اور تمام انبیاء (علیہم السلام) آپس میں سوتیلے بھائی ہیں جن کا باپ ایک ہے اور مائیں الگ الگ ہیں، ان سب کا اصل دین ایک ہے اور ہمارے (یعنی میرے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے) درمیان کوئی نبی نہیں ہے (بخاری ومسلم )
تشریح
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سب سے زیادہ قریب و متعلق میں ہوں اس اعتبار سے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان کوئی پیغمبر نہیں ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہی نے آنحضرت ﷺ کے اس دنیا میں مبعوث ہونے کی واضح بشارت دی آنحضرت کے دین و شریعت کی تمہید بھی انہوں نے ہی قائم کی اور آخر زمانہ میں آنحضرت ﷺ کے نائب اور خلیفہ بھی وہی ہوں گے۔ انبیاء کو ایک دوسرے کا سوتیلا بھائی قرار دینے کا مقصد ان کے درمیان باہمی تعلق اور مناسبت کی ایک خاص نوعیت کو ظاہر کرتا ہے اور ان کے باپ سے مراد وہ چیز ہے جو اس دنیا میں ان کی بعثت کا سبب بنی ہے یعنی مخلوق اللہ کی ہدایت اور ان کو صحیح راستے پر لگانے کی ذمہ داری اور ان کی ماؤں سے مراد ان کی اپنی اپنی شریعتیں ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف اور الگ الگ ہیں۔ ان کا سب کا اصل دین ایک ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ لوگوں کی ہدایت اور ان کے مفاد کی مصلحت و حکمت اور قوم وملت کے حالات کی رعایت کے پیش نظر ہر نبی کو الگ الگ شریعت دے کر اس دنیا میں بھیجا گیا لیکن سب کا اصل دین ایک ہی ہے، یعنی تو حید۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی فضیلت :
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل بني آدم يطعن الشيطان في جنبيه بأصبعيه حين يولد غير عيسى بن مريم ذهب يطعن فطعن في الحجاب . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب بھی کوئی انسان پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کی دونوں کوکھ میں اپنی انگلیوں سے کونچا مارتا ہے، لیکن عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) اس سے محفوظ رہے، اس نے ان کی کوکھ میں بھی کونچا مارنا چاہا تھا مگر وہ صرف پردے میں کونچا مارسکا۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) شیطان لعین کی تکلیف پہنچانے والی اس حرکت سے محفوظ رہے کہ ان کی نانی اور مریم (علیہ السلام) کی ماں حنہ نے اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کردیا تھا کہ وانی سمیتہا مریم وانی اعیذہا بک وذریتہا من الشیطان الرجیم۔ (پروردگار) میں نے اپنی اس بچی کا نام مریم (علیہ السلام) رکھا اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو مردود شیطان سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ پردے سے مراد وہ جھلی ہے جس میں بچہ پیدائش کے وقت لپٹا ہوا ہوتا ہے اور جس کو عربی میں مشیمہ کہا جاتا ہے مطلب یہ کہ شیطان نے اپنی عادت کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی کوکھ میں بھی کونچا مارنا چاہا اور اپنی انگلیاں چلائیں لیکن وہ انگلیاں ان کے جسم تک نہیں پہنچ سکیں، اسی جھلی میں اٹک کر رہ گئیں، اس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس کی اذیت سے محفوظ رہے۔ واضح رہے کہ حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ جب بھی انسان پیدا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ الخ۔ تو اس سے آنحضرت ﷺ مستثنیٰ اور خارج ہیں، آپ ﷺ نے اپنے علاوہ اور تمام بنی آدم کے بارے میں یہ فرمایا ہے چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح خود آپ کی ذات بھی شیطان کی اس ایذاء رسانی سے محفوظ رہی تھی۔
وعن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : كمل من الرجال كثير ولم يكمل من النساء إلا مريم بنت عمران وآسية امرأة فرعون وفضل عائشة على النساء كفضل الثريد على سائر الطعام . متفق عليه وذكر حديث أنس : يا خير البرية . وحديث أبي هريرة : أي الناس أكرم وحديث ابن عمر : الكريم بن الكريم : . في باب المفاخرة والعصبية
اور حضرت ابوموسی ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مردوں میں تو بہت باکمال پیدا ہوئے، ( جیسے انبیاء خلفاء علماء اور اولیاء اللہ) لیکن عورتوں میں چند ہی کو باکمال ہونا نصیب ہوا اور وہ مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون ہیں نیز اور تمام عورتوں پر عائشہ کو وہ فضیلت حاصل ہے دوسرے کھانوں پر ثرید کو۔ (بخاری ومسلم) اور حضرت انس ؓ کی روایت یا خیر البریہ الخ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ای الناس اکرم الخ اور حضرت ابن عمر کی روایت الکریم ابن الکریم الخ باب المفاخرۃ والعصبیۃ میں نقل ہوچکی ہے۔
تشریح
اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں خواتین۔ مریم بنت عمران جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ہیں اور آسیہ زوجہ فرعون۔ دنیا کی تمام اگلی پچھلی عورتوں پر برتری اور فضیلت رکھتی ہیں، یہاں تک کہ حضرت فاطمہ، حضرت خدیجہ، حضرت عائشہ ؓ اور دیگر ازواج مطہرات پر بھی؟ لیکن یہ بات چونکہ اس طرح نہیں ہے اس لئے حدیث کی یہ توجیہ و تاویل کی جاتی ہے کہ مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کو جن عورتوں پر فضیلت دی گئی ہے ان سے امت محمدیہ سے پہلے کی امتوں کی عورتیں مراد ہیں کہ پچھلی تمام امتوں کی عورتوں میں سب سے زیادہ افضل اور سب سے برتر یہ دو عورتیں ہیں! یا یہ کہ آنحضرت ﷺ نے یہ حدیث اس زمانے میں ارشاد فرمائی تھی جب کہ حضرت فاطمہ، حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ ؓ افضلیت واکملیت کی ظاہر کرنے والی وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔ اور یا یہ کہ آنحضرت ﷺ نے امت محمد کی ان افضل خواتین کو مستثنیٰ! کر کے باقی تمام عورتوں کے بارے میں فرمایا کہ ان سب پر فضیلت و برتری مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کو حاصل ہے اور اس استثناء کا قرینہ وہ دوسری احادیث ہیں جن میں حضرت فاطمہ ؓ، وغیرہ کے مناقب و اوصاف کا ذکر ہے جیسے ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے فاطمہ زہرا تمام جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔ حدیث کا آخری جزء جس میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی فضیلت مذکور ہے، کئی احتمال رکھتا ہے اس میں عورتوں سے یا تو بلا استثناء دنیا کی تمام عورتیں مراد ہیں یا حدیث میں مذکورہ دونوں خواتین، مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون ؓ کا استثناء کرکے باقی تمام عورتیں مراد ہیں اور ترجمہ میں اسی احتمال کو ترجیح دی گئی ہے، یا جنتی عورتیں مراد ہیں، یا اس امت کی عورتیں مراد ہیں اور یا ازواج مطہرات مراد ہیں، واضح رہے کہ ثرید اس کھانے کو کہتے ہیں جو روٹی کو شوربے میں چور کر بنایا جاتا ہے اس زمانہ میں اہل عرب کا سب سے مرعوب کھانا ثرید ہی تھا، کیونکہ یہ کھانا اول تو بہت نرم اور لذیذ ہوتا ہے، دوسرے نہایت زود ہضم اور مقوی سمجھا جاتا ہے علماء کے یہاں اس بارے اختلاف ہے کہ حضرت عائشہ، حضرت خدیجہ اور حضرت فاطمہ ؓ سے کون سب سے افضل ہیں؟ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) سے یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ حضرت خدیجہ ؓ کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ ؓ دنیا کی تمام عورتوں سے افضل ہے ابن حجر نے لکھا ہے کہ حضرت فاطمہ کو حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ ؓ پر فضیلت حاصل ہے اور سب سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ سب سے افضل حضرت فاطمہ بنت محمد ﷺ ہیں ان کے بعد ان کی والدہ حضرت خدیجہ اور ان کے بعد حضرت عائشہ۔ مولف کتاب نے مذکورہ بالا مسئلہ میں اپنا قول فیصل اس طرح لکھا ہے بعض روایتوں سے جو ابن شیبہ وغیرہ سے منقول ہیں یہ معلوم ہوتا ہے حضرت فاطمہ زہرا مریم بنت عمران آسیہ زوجہ فرعون اور حضرت خدیجۃ الکبری ؓ کے بعد تمام جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حضرت خدیجۃ الکبری کو حضرت عائشہ پر فضیلت حاصل ہے اور سبکی نے اپنے زمانے کے بعض ائمہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت فاطمہ حضرت حسن اور حضرت حسین جگر گوشہ رسول اور آپ ﷺ کا ایک حصہ ہونے کی حیثیت سے خلفاء اربعا (حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی) سے افضل ہیں لیکن یہ افضلیت علی الاطلاق نہیں ہے کیونکہ یہ خلفاء اربعہ اپنے علم وفضل کی جلالت اور دین و ملت کی راہ میں اپنے بےمثال کار ناموں کی بنا پر سب سے زیادہ اجروثواب کے حامل ہونے کے اعتبار سے حضرت فاطمہ حضرت حسن اور حضرت حسین سے افضل ہیں جیسا کہ ابن حجر نے شمائل ترمذی کی شرح میں بیان کیا ہے پس معلوم ہوا کہ جس طرح خلفاء اربعہ اور یہ جگر گوشہ رسول اپنی اپنی مخصوص جہت و حیثیت کے اعتبار سے ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں اسی طرح مذکورہ عورات مطہرات (حضرت خدیجہ، حضرت عائشہ، حضرت فاطمہ ؓ میں سے کسی کو بھی مجموعی کلی طور پر باقی دونوں پر یا ان میں سے کسی ایک پر فضیلت و برتری حاصل نہیں ہے بلکہ تینوں اپنی الگ الگ خصوصیات کے اعتبار سے آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت رکھتی ہیں چناچہ حضرت عائشہ کو بلند تر علمی مقام حاصل تھا اور ان کی جو خصوصیت حاصل تھی کہ اکثر وبیشتر وحی آپ پر اس وقت نازل ہوتی تھی جب آپ کے بستر پر یا ان کے حجرہ میں ہوتے تھے تو اس اعتبار سے ان کو حضرت فاطمہ پر فضیلت و برتری حاصل ہے اس کے برخلاف آنحضرت ﷺ کی ذات مبارک کا ایک حصہ اور آپ کا جگر گوشہ ہونے کا شرف چونکہ حضرت فاطمہ کو حاصل ہے اس اعتبار سے وہ حضرت عائشہ پر فضیلت رکھتی ہیں اور مریم وآسیہ اپنے اپنے زمانہ کی تمام عورتوں پر فضیلت رکھتی ہیں نیز حضرت خدیجۃ الکبری اس اعتبار سے فضیلت رکھتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی پہلی زوجہ مطہرہ ہونے کا شرف ان ہی کو حاصل ہے آنحضرت ﷺ کی سب سے زیادہ خدمت ومعاونت انہوں نے ہی کی اور آنحضرت ﷺ کی اکثر اولاد ان ہی کے بطن سے ہے۔
خدا کے بارے میں ایک سوال :
عن أبي رزين قال : قلت : يا رسول الله أين ربنا قبل أن يخلق خلقه ؟ قال : كان في عماء ما تحته هواء وما فوقه هواء وخلق عرشه على الماء . رواه الترمذي وقال : قال يزيد بن هارون : العماء : أي ليس معه شيء
اور حضرت ابورزین بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول ﷺ ہمارا پروردگار اپنی مخلوقات کو پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا عماء میں تھے نہ اس کے نیچے ہوا تھی اور نہ اس کے اوپر اس نے اپنا عرش پانی پر پیدا کیا اس روایت کو امام ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا یزید ابن ہارون نے وضاحت کی ہے عماء سے مراد یہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی چیز نہیں تھی۔
تشریح
عماء کے اصل معنی ابر (بادل) کے ہیں خواہ ہلکا ہو یا گہرا لیکن یہاں یہ اصل معنی مراد نہیں ہے کہ پروردگار اپنی مخلوقات پیدا کرنے سے پہلے ابر میں تھا بلکہ اس لفظ سے ایک پورے مفہوم کی طرف اشارہ مقصود ہے اور وہ یہ کہ مذکورہ سوال میں جس حقیقت کی جستجو ظاہر کی گئی ہے اس تک نہ کسی کا علم پہنچ سکتا ہے نہ کوئی عقل اس کا ادراک کرسکتی ہے اور نہ کوئی اس کو بیان کرسکتا ہے نہ اس کے نیچے ہوا تھی اور اس کے اوپر ان الفاظ کے ذریعہ اس مفہوم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مخلوقات سے پہلے صرف اللہ ہی اللہ تھا اس کے ساتھ کوئی اور چیز موجود نہیں تھی اس اعتبار سے اس جملہ کا حاصل وہی ہے جو اس حدیث کا مضمون ہے کان اللہ ولم یکن معہ شیء (صرف اللہ کی ذات موجود تھی اس کے ساتھ کسی چیز کا وجود نہیں تھا) اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ ماقبل جملہ (عماء میں ہے) سے اللہ کی طرف مکان کی نسبت کا واہمہ ہوسکتا تھا لہٰذا اس واہمہ کے دفعیہ کے لئے مذکورہ جملہ ارشاد فرمایا کہ عماء یعنی ابر سے متعارف ابر مراد نہیں ہے جس کے اوپر نیچے ہوا ہوتی ہے اور جب متعارف ابر مراد نہیں ہے کیونکہ اس کا ہوا کے بغیر ہونا محال ہے تو یہ وہم نہ ہونا چاہے کہ عماء کے ذریعہ اللہ کی طرف کسی مکان اور مقام کی نسبت کی گئی ہے اس نے اپنا عرش پانی پر پیدا کیا جملہ کے بارے میں ایک شارح نے یہ لکھا ہے کہ سائل نے جو سوال کیا تھا اس کا اصل مقصد یہ دریافت کرنا تھا کہ این کان عرش ربنا، یعنی مخلوقات جیسے زمین و آسمان وغیرہ کو پیدا کرنے سے پہلے ہمارے پروردگار کا عرش کہاں تھا اس کا جواب ﷺ نے یہ دیا کہ عرش الہٰی پانی کے اوپر تھا اس کی تحقیق پیچھے گذر چکی ہے۔
وعن العباس بن عبد المطلب زعم أنه كان جالسا في البطحاء في عصابة ورسول الله صلى الله عليه و سلم جالس فيهم فمرت سحابة فنظروا إليها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما تسمون هذه ؟ . قالوا : السحاب . قال : والمزن ؟ قالوا : والمزن . قال : والعنان ؟ قالوا : والعنان . قال : هل تدرون ما بعد مابين السماء والأرض ؟ قالوا : لا ندري . قال : إن بعد ما بينهما إما واحدة وإما اثنتان أو ثلاث وسبعون سنة والسماء التي فوقها كذلك حتى عد سبع سماوات . ثم فوق السماء السابعة بحر بين أعلاه وأسفله ما بين سماء إلى سماء ثم فوق ذلك ثمانية أو عال بين أظلافهن ووركهن مثل ما بين سماء إلى سماء ثم على ظهورهن العرش بين أسفله وأعلاه ما بين سماء إلى سماء ثم الله فوق ذلك . رواه الترمذي وأبو داود
اور حضرت عباس ابن عبدالمطلب ؓ کہتے ہیں کہ وہ (ایک دن) بطحائے مکہ (میں ایک جگہ محصب) میں لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور رسول کریم ﷺ بھی تشریف فرما تھے کہ اچانک ابر کا ایک ٹکڑا گذرا، لوگ اس کی طرف دیکھنے لگے رسول کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم اس (ابر) کو کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ سحاب! آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور اس کو مزن بھی کہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں مزن بھی کہتے ہیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا اور اس کو عنان بھی کہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں عنان بھی کہتے ہیں اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم لوگ جانتے ہو، آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے وہ کتنا طویل ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں نہیں معلوم آپ ﷺ نے فرمایا زمین و آسمان کے درمیان کا فاصلہ یا تو اکہتر سال یا بہتر سال یا تہتر سال کی مسافت کے بقدر ہے اور اس (پہلے) آسمان کے اوپر جو (دوسرا) آسمان ہے ان دونوں کے درمیان کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے ساتوں آسمانوں کا ذکر کیا ( کہ ہر آسمان اپنے نیچے کے آسمان سے کچھ اوپر ستر سال کی مسافت کے بقدر فاصلہ پر ہے، پھر ساتویں آسمان کے اوپر پانی کا بہت بڑا سمندر ہے، اس سمندر کی تہ اور اس کے اوپر کی سطح کے درمیان بھی اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان ہے اور اس سمندر کے اوپر آٹھ فرشتے ہیں جو پہاڑی بکروں کے مانند ہیں، ان کے کھروں اور کو لہوں کے درمیان بھی اتناہی فاصلہ ہے جتنا کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان ہم اور پھر ان فرشتوں کی پشت پر عرش الہٰی ہے جس کے نیچے کے حصہ اور اوپر کے حصہ کے درمیان بھی اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان ہے اور اس عرش کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد)
تشریح
حدیث کے ظاہری اسلوب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عباس ؓ نے جس زمانہ کا واقعہ بیان کیا ہے اس وقت تک وہ حلقہ بگوش اسلام نہیں ہوئے تھے۔ اس طرح وہ لوگ بھی مسلمان نہیں تھے جن کے ساتھ حضرت عباس ؓ اس موقع پر تھے۔ نیز اس موقع پر اور ان لوگوں کے درمیان آنحضرت ﷺ کا موجود ہونا بھی اسی کا احتمال رکھتا ہے کہ وہ سب لوگ مکہ کے رہنے والے تھے اور مسلمان ہوچکے تھے اور اگر یہ احتمال قائم کیا جائے کہ وہ سب لوگ مکہ کے کفار تھے اور اسلام کی دعوت دینے کا ارادہ فرمایا ہوگا اور اسی مقصد سے ان کے پاس تشریف لے گئے ہوں۔ یا تو اکہتر سال اور یا بہتر سال اور یاتہتر سال۔ یہ جملہ راوی کے شک کو ظاہر کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس موقع پر ان تینوں میں سے کسی ایک عدد کا ذکر فرمایا تھا، بہرحال حاصل یہ ہے کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کا درمیانی فاصلہ کچھ اوپر ستر سال کی مسافت کے بقدر ہم لیکن یہ ذہن نشین رہے کہ اس عدد سے مراد تحدید نہیں ہے بلکہ تکثیر و مبالغہ یعنی اس فاصلہ کی وسعت و زیادتی کو بیان کرنا ہے لہٰذا یہ حدیث اس روایت کے منافی نہیں ہے جس میں زمین و آسمان کے درمیانی فاصلہ اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کے درمیانی فاصلہ کو پانچ سو سال کی مسافت کے بقدر فرمایا گیا ہے۔ ساتویں آسمان کے اوپر پانی کا ایک بڑا سمندر ہے۔ بعض دوسری روایتوں میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا عرش پیدا کرنے کے ساتھ ہی اس عرش کے نیچے ایک بہت بڑا سمندر پیدا کیا اور وہ سمندر مو جو وجاری ہے اور اس عرش کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے واضح رہے کہ اس جملہ کی مراد حق تعالیٰ کے مرتبہ کی بلندی، اس کی عظمت و شوکت اور اس کی سلطنت و حکومت کی مافوقیت کو بیان کرنا ہے، نہ کہ مکان وجہت اور استقرار وتمکن کے اعتبار سے اس کی ذات کا عرش پر ہونا مراد ہے! گویا آپ ﷺ نے پروردگار کی عظمت و برتری کو انسانی ذہن میں اتارنے کے لئے بطور تمثیل یہ جملہ ارشاد فرمایا اور مطلب یہ تھا کہ وہ بڑا ہی عالی مرتبہ اور عظیم البرہان ہے اس کی ذات ہر شئے سے بلند وبالا ہے اور تمام موجودات اسی کے حکم اور اسی کی قدرت کے تحت ہیں، جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے و اللہ من ورآہم محیطٌ اور اللہ سب کو ادھر ادھر سے گھیرے ہوئے ہے اور اصل بات یہ ہے کہ اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد و ہدایت کا ایسا مضمون اور اسلوب اختیار فرمایا جس سے ان سب کے ذہن وفکر کی پرواز اس عالم سفلی سے منتقل ہو کر عالم علوی کی طرف مائل ہو اور زمین و آسمان کے اقتدار اعلی (حاکمیت الہٰ ) ایک ایسا تصوراتی خاکہ ان کے دل و دماغ پر منعکس ہو جس سے وہ لوگ کائنات عرض سماء کے پیدا کرنے والے اور کل کائنات کا نظام چلانے والے کی ذات کی طرف متوجہ ہو کر بت پرست ادہام پسندی اور فاسدعقیدہ و خیال کی پستی کا احساس و شعور حاصل کریں اور خود کو ان چیزوں سے باز رکھ سکیں۔
وعن جبير بن مطعم قال : أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم أعرابي فقال : جهدت الأنفس وجاع العيال ونهكت الأموال وهلكت الأنعام فاستسق الله لنا فإنا نستشفع بك على الله نستشفع بالله عليك . فقال النبي صلى الله عليه و سلم : سبحان الله سبحان الله . فما زال يسبح حتى عرف ذلك في وجوه أصحابه ثم قال : ويحك إنه لا يستشفع بالله على أحد شأن الله أعظم من ذلك ويحك أتدري ما الله ؟ إن عرشه على سماواته لهكذا وقال بأصابعه مثل القبة عليه وإنه ليئط أطيط الرحل بالراكب رواه أبو داود
اور جبیر ابن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا کہ (ہمارے ہاں خشک سالی کی وجہ سے) انسانی جانیں قحط کا شکار ہورہی ہیں، بال بچوں کو بھکری کا سامنا ہے، مال وجائداد کی بربادی ہورہی ہے اور مویشی ہلاک ہو رہے ہیں، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لئے بارش مانگئے، ہم اللہ تعالیٰ کے حضور آپ ﷺ کو وسیلہ بناتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو آپ ﷺ کے ہاں شفیع مقرر کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات پاک منزہ ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات پاک منزہ ہے، آپ ﷺ باربار تسبیح کے یہی الفاظ فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے صحابہ کے چہروں کا رنگ بدل گیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے شخص تجھ پر افسوس ہے درحقیقت اللہ کو کسی کے ہاں شفیع مقرر نہیں کیا جاتا اور نہ اس کو وسیلہ بنایا جاتا ہے بلاشبہ اللہ کی ذات اور اس کی حیثیت اس سے بالا تر ہے کہ اس کو کسی کا وسیلہ و ذریعہ بنایا جائے تجھ پر افسوس کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ کی عظمت و جلالت کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس کا عرش اس کے آسمانوں کو اس طرح محیط ہے یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ہتھلی کے اوپر قبا کی صورت میں دکھایا یعنی آپ ﷺ نے ہاتھ کو گنبد کی صورت میں بنا کر دکھایا کہ جس طرح یہ گنبد نما ہاتھ ہتھلی کو گھیرے ہوئے ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا عرش زمین تو زمین تمام آسمانوں تک کو اپنے نیچے گھیرے ہوئے ہے اور وہ عرش اس قدر وسیع و عریض ہونے کے باوجود اس طرح چرچر کرتا ہے جس اونٹ کا پلان یا گھوڑے کی زین (بھاری بھر کم) سوار کے نیچے چرچر کرتی ہے (ابوداؤد)
تشریح
ہم اللہ تعالیٰ کو آپ ﷺ کے ہاں شفیع مقرر کرتے ہیں اس جملہ سے اس دیہاتی کی مراد یہ تھی کہ ہم اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں آپ ﷺ کی ذات کو اور آپ ﷺ کی عظمت و بزرگی کو اپنا وسیلہ بناتے ہیں آپ ﷺ کو اپنا شفیع قرار دیتے ہیں اور آپ ﷺ سے یہ دعا کرنے کی درخواست کرتے ہیں کہ پروردگار ہمارے حال پر رحم فرما کر بارش برسادے نیز آپ کی سفارش و توجہ چاہنے کے لئے ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ملتجی ہیں کہ وہ آپ ﷺ کو ہماری طرف متوجہ کردے آپ ﷺ کو ہمارے حق میں سفارش کرنے کی توفیق عطا فرمائے لیکن اس نے اپنی یہ مراد ظاہر کرنے کے لئے موزوں اسلوب اختیار نہیں کیا جب کہ گھبراہٹ میں اس کی زبان سے ایسے الفاظ نکلے جن سے نہ صرف یہ کہ اس کی اصل مراد خبط ہوگئی بلکہ یہ ظاہر ہوا کہ وہ خود اللہ تعالیٰ کو آپ ﷺ کی بارگاہ میں وسیلہ بنا رہا ہے اور اس طرح اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اس کے نظام اور اس کے حکم واختیار میں آنحضرت ﷺ کو شریک و برابر کررہا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اپنے حکم واختیار اور اپنے نظام قدرت میں کسی بھی طرح مشارکت اور کسی بھی طرح ہمسری کی روادار نہیں ہے ارشاد ربانی ہے لیس لک من الامرشیئ خدا کے نظام میں آپ ﷺ کو کوئی دخل نہیں اور یہ بھی فرمایا من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ ایسا کون شخص ہے جو اس کے پاس کسی کی سفارش کرسکے بدوں اس کی اجازت کے۔ لہٰذا اس دیہاتی کا یہ کہنا حضور ﷺ کو نہایت ناگوار ہوا اور آپ ﷺ اس کی طرف سے اس جملہ کی ادائیگی پر اظہار حیرت وتعجب اور اس کو متنبہ کرنے کے لئے بار بار سبحان اللہ سبحان اللہ فرماتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے صحابہ کے چہروں کا رنگ بدل گیا۔ یعنی آنحضرت ﷺ کے بار بار سبحان اللہ کہنے سے اس مجلس میں موجود صحابہ سمجھ گئے کہ دیہاتی کے اس کہنے سے آپ ﷺ کو شدید ناگواری اور غصہ ہے، لہٰذا آنحضرت ﷺ کے غضب وغصہ کو محسوس کرکے وہ سب بھی ڈر گئے اور خوف اللہ سے ان کے چہروں کا رنگ بدل گیا اور پھر آنحضرت ﷺ نے جب ان صحابہ کے چہروں پر خوف اللہ کا اثر دیکھا تو آپ ﷺ نے سبحان اللہ کہنا موقوف کردیا اور اس دیہاتی کے طرف روئے سخن نہ کیا۔ وہ عرش اس قدر وسیع و عریض ہونے کے باوجود اس طرح چرچر کرتا ہے الخ۔ کے ذریعہ آپ ﷺ نے گویا اس دیہاتی کی سمجھ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان کی تمثیل بیان کی اور اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت کا اظہار ہے کہ اتنا بڑا عرش بھی اس کے تحمل سے عاجز ہے
وہ فرشتے جو عرش الہٰی کو اٹھائے ہوئے ہیں :
وعن جابر بن عبد الله عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أذن لي أن أحدث عن ملك من ملائكة الله من حملة العرش أن ما بين شحمة أذنيه إلى عاتقيه مسيرة سبعمائة عام . رواه أبو داود
اور حضرت جابر ابن عبداللہ ؓ رسول کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مجھ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اجازت مل گئی ہے کہ میں اللہ کے ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کا حال بیان کروں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اس فرشتہ کے کان کی لو سے اس کے کندھے تک کا درمیانی فاصلہ سات سو سال کی مسافت کے برابر ہے (ابوداؤد )
دیدار الہٰی اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) :
وعن زرارة بن أوفى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لجبريل : هل رأيت ربك ؟ فانتفض جبريل وقال : يا محمد إن بيني وبينه سبعين حجابا من نور لو دنوت من بعضها لاحترقت . هكذا في المصابيح
اور حضرت زرارہ ابن اوفیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچہا کہ کیا تم نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے؟ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یہ سن کر تھرتھر کانپنے لگے اور پھر بولے محمد ﷺ میرے اور اللہ کے درمیان نور کے ستر پردے ہیں اگر ان پردوں میں سے کسی پردے کے قریب ہونے کے لئے ایک انگشت برابر بھی آگے بڑھوں تو جل جاؤں مصابیح میں روایت اسی طرح ہے البتہ ابونعیم نے اپنی کتاب حلیہ میں اس روایت کو حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ حضرت زرارہ ؓ نے بھی حضرت انس ؓ سے ہی نقل کیا ہو لیکن ابونعیم کی نقل کردہ روایت میں فانتقض ( حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تھر تھر کانپنے لگے) کہ الفاظ نہیں ہے۔
تشریح
حضرت زرارہ ایک جلیل القدر تابعی ہیں بصرہ کے قاضی اور اپنے زمانے کے ممتاز علماء اور مشائخ میں سے تھے حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے سماع رکھتے ہیں خشیت الہٰی اور آخرت کے خوف کا یہ حال تھا کہ ایک دن فجر کی نماز میں امامت کررہے تھے جب اس آیت، فاذا نقر فی الناقور پر پہنچے تو چیخ مار کر گرپڑے اور وہیں جان جاں آفریں کے سپرد کردی، ولید ابن عبدالملک کی خلافت کے زمانے میں ٧٣ ھ کا واقعہ ہے اور ملا علی قاری نے ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ حضرت زرارہ صحابی تھے اور ان کی وفات حضرت عثمان غنی ؓ کے زمانہ خلافت میں ہوئی ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تھر تھر کانپنے لگے یعنی مشاہدہ ذات باری تعالیٰ سے متعلق آنحضرت ﷺ کے اس سوال نے ان پر زبردست ہیبت طاری کردی اور وہ صورت حال کے تصور ہی سے لرزہ براندام ہوگئے کہ دیدار مشاہدہ جس کمال قرب کو مستلزم ہے، اگر مجھے یہ قرب میسر آتا تو مارے ہیبت کے میرا کیا حال ہوتا! بہرحال آنحضرت ﷺ کے اس سوال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آخرت میں حق تعالیٰ کی ذات کا دیدار و مشاہدہ ایک ممکن الوقوع حقیقت ہے کیونکہ اگر یہ دیدار و مشاہدہ محال ہوتا تو آنحضرت ﷺ یہ سوال نہ کرتے، تاہم قیامت کے دن (آخرت میں) فرشتوں اور جنات کو حق تعالیٰ کا دیدار حاصل ہوگا یا نہیں، یہ علماء کے درمیان ایک اختلافی بحث ہے جس کی بحث پیچھے گرز چکی ہے۔ میرے اور اللہ کے درمیان نور کے ستر پردے حائل ہیں۔ یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے دیدار الہٰی کے مرتب عظمی تک اپنی رسائی کے عجز کو ظاہر کیا اور اپنے عجز کو انہوں نے اپنے اور ذات حق جل مجدہ کے درمیان ستر پردوں سے تعبیر کیا۔ پس انہوں نے حجاب کا ذکر اپنے اعتبار سے کیا، ان کا مطلب یہ نہیں تھا کہ حق تعالیٰ کی ذات ستر پردوں کے پیچھے ہے کیونکہ محجوب (پردہ میں ہونا) مغلوب ہونے کی علامت ہے جو خالق کی صفت نہیں ہوسکتی، وہ ہر حالت میں غالب ہوتا ہے اور کوئی بھی چیز اس کا حجاب نہیں بن سکتی اس کے برخلاف مخلوق چونکہ عجز و نقصان کا حامل ہے اس لئے محجوب ہونا اس کی صفت ہوسکتی! واضح رہے کہ اس جملہ میں ستر ہزار پردے کے الفاظ ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محض کثرت کی طرف اشارہ کرنا مراد ہے نہ کہ کوئی خاص عدد مراد ہے۔
حضرت اسرافیل (علیہ السلام) کا ذکر :
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله خلق إسرافيل منذ يوم خلقه صافا قدميه لا يرفع بصره بينه وبين الرب تبارك وتعالى سبعون نورا ما منها من نور يدنو منه إلا احترق . رواه الترمذي وصححه
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرافیل (علیہ السلام) کو جس وقت پیدا کیا، وہ اسی وقت سے اپنے دونوں پیروں کو بستہ کئے (بالکل تیار) کھڑے ہیں، نظر تک نہیں اٹھاتے ان کے اور ان کے بزرگ و برتر پروردگار کے درمیان نور کے ستر پردے (حائل) ہیں اگر اسرافیل (بفرض محال) ان نور (کے پردوں میں سے) کسی ایک نور (کے پردے) کے قریب پہنچ جائیں تو وہ جل کر رہ جائیں۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
تشریح
نظر تک نہیں اٹھاتے۔ یعنی حضرت اسرافیل (علیہ السلام) اپنی پیدائش کے وقت سے اس طرح مؤدت پابستہ کھڑے ہوئے ہیں کہ ان کی نگاہ بھی ایک ہی جگہ جمی ہوئی ہے، آسمان کی طرف بھی ان کی نظر نہیں اٹھتی۔ یا یہ کہ وہ ہر لمحہ صور کی طرف متوجہ ہیں، اس لئے نگاہ نہیں ہٹاتے! اس کا حاصل یہ ہوگا کہ وہ اپنی پیدائش کے وقت ہی سے صور پھونکنے کے حکم کی بجاآوری کے لئے بالکل مستعد اور اس طرح منتظر کھڑے ہیں کہ شاید اسی لمحہ حکم آپہنچے۔
وعن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لما خلق الله آدم وذريته قالت : الملائكة : يا رب خلقتهم يأكلون ويشربون وينكحون ويركبون فاجعل لهم الدنيا ولنا الآخرة . قال الله تعالى : لا أجعل من خلقته بيدي ونفخت فيه من روحي كمن قلت له : كن فكان . رواه البيهقي في شعب الإيمان
اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا! جب اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کو پیدا فرمایا تو فرشتوں نے عرض کیا کہ پروردگار! آپ نے تو ایک ایسی مخلوق کو پیدا کیا ہے جو کھاتی ہے اور پیتی ہے شادی بیاہ کرتی ہے اور (طرح طرح کی سواریوں پر) سوار ہوتی ہے، تو ہماری درخواست ہے کہ دنیا ( کی تمام نعمتیں) اس مخلوق کو دے دیجئے اور آخرت (کی تمام نعمتیں) ہمیں مرحمت فرمادیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس مخلوق کو میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اس میں اپنی روح پھونکی، اس کو مخلوق کے برابر قرار نہیں دے سکتا جس کو میں نے کن کہا تو وہ پیدا ہوگئی۔ (اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔
تشریح
فرشتوں کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جب یہ مخلوق روئے زمین پر آپ کی خلافت کے لئے پیدا کی گئی ہے اور اس کو دنیا کی وہ تمام نعمتیں اور لذتیں عطا کی گئی ہیں جن سے ہمیں محروم رکھا گیا ہے تو ان کو بس دنیا ہی کی سرفرازی تک محدود رکھا جائے، یا یہ کہ دنیا کی ملنے والی نعمتیں ان کے حق میں ہمیشہ باقی رکھی جائیں اور آخرت کی تمام نعمتوں کو ہمارے لئے مخصوص کردیا جائے کہ جس طرح ہمیں دنیا کی نعمتوں میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا اسی طرح انسان نامی اس مخلوق کو آخرت کی نعمتوں میں سے کوئی حصہ نہ ملے تاکہ ہم دونوں برابر ہوجائیں! گویا فرشتوں نے دونوں کو اللہ کی مخلوق ہونے کے اعتبار سے خود کو آدم (علیہ السلام) اور ابن آدم کے مرتبہ ومقام کے برابر جانا، لیکن حق تعالیٰ نے فرشتوں کے اس گمان کی تصحیح فرمائی اور واضح کیا کہ انسان کی تخلیق و پیدائش دوسری تمام مخلوقات جس میں فرشتے بھی شامل ہیں کی تخلیق و پیدائش سے یکسرمختلف نوعیت رکھتی ہے مثلا فرشتوں کی تخلیق و پیدائش تو لفظ کن کے ذریعہ عمل میں آئی کہ صرف کن (پیدا ہوجا) کہ دیا تو تم فرشتے عالم وجود میں آگے اس کے برخلاف انسان کی تخلیق و پیدائش ایک خاص نظام کے تحت ہوئی اور اس کا سلسلہ بتدریج جاری ہے کہ سب سے پہلے آدم (علیہ السلام) کو بغیر کسی واسطہ اور ذریعہ کے دست قدرت نے براہ رست تخلیق کیا ان میں روح پھونکی پھر ان ہی کے اندر سے ان کا جوڑا (ہوا کو) پیدا کیا اور ان دونوں سے توالد و تناسل کا سلسلہ جاری کیا جوان کے بعد ان کی اولاد در اولاد اس وقت تک چلتا رہے کا جب تک اس دنیا کے خاتمہ کا وقت نہیں آجاتا پھر یہ کہ فرشتوں کا خمیر مجرد ہے جب کہ انسان کا خمیر مرکب ہے اس کے اندر ہدایت قبول کرنے کی بھی صلاحیت ہے اور ضلالت کو اختیار کرنے کا مادہ بھی وہ پروردگار کی صفت جلال کا مظہر بننے کی بھی استعداد رکھتا ہے اور اس کی صفت جمال کا مظہر بھی بن سکتا ہے لہٰذا جو مخلوق اپنی تخلیق و پیدائش کے اعتبار سے یہ خصوصیت رکھتی ہے وہ اس مخلوق کے برابر کسے قرار دی جاسکتی ہے جو اس جیسی خصوصیت سے عاری ہو واضح ہو کہ شرف و کر امت اور قربت میں فرشتہ انسان کا ہمسر نہیں ہوسکتا خاص طور پر شرف کرامت کے اعتبار سے تو انسان فرشتہ سے بہت اونچا ہے اور اس کا مقام و مرتبہ بہت اعلیٰ ہے اور چونکہ فرشتوں کو معصوم پیدا کیا گیا ہے اس لئے ان کو عذاب سے تو دور رکھا گیا ہے لیکن ان کو نعمتوں سے بھی محروم رکھا گیا ہے ان کے برخلاف انسان کو چونکہ نیکی کا راستہ اختیار کرنے اور برائی کے راستے سے بچنے کا مکلف وذمہ دار بنا کر پیدا کیا گیا ہے اس لئے جو انسان اپنی اس ذمہ داری کو پوری طرح ادا کرتا ہے وہ دونوں جہاں کی نعمتوں کا مستحق ہوتا ہے اور جو انسان اس ذمہ داری سے اعراض کرتا ہے وہ دونوں جہاں میں عتاب و عذاب کا مستوجب ہوتا ہے آخر میں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اور اس میں روح پھونکی میں اللہ کی طرف روح کی نسبت محض روح کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لئے ہے جیسے بیت اللہ میں اللہ کی طرف بیت کی نسبت ہے۔
فرشتوں پر انسان کی فضیلت :
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المؤمن أكرم على الله من بعض ملائكته . رواه ابن ماجه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (کامل درجہ کے) مؤمن (یعنی انبیاء اور اولیاء) اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے بعض فرشتوں سے افضل و برتر ہیں۔ (ابن ماجہ)
تشریح
بعض فرشتوں سے مراد یا تو خواص فرشتے ہیں یا سب فرشتے مراد ہیں جو عام فرشتوں میں کسی بھی طرح کی برگزیدگی اور برتری رکھتے ہیں۔ طیبی (رح) نے یہ لکھا ہے کہ مؤمن سے مراد عام مؤمن ہیں اور بعض فرشتوں سے مراد بھی عام فرشتے ہیں محی السنۃ کہتے ہیں یہ کہا جانا زیادہ بہتر ہے کہ عام مؤمن عام فرشتوں سے افضل ہیں اور خواص مؤمن، خواص فرشتوں سے افضل ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ان الذین امنو وعملوا الصلحٰت اولئِک ہم خیر البریۃ۔ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے وہ لوگ بہترین خلائق ہیں۔ اہل سنت والجماعت اسی سے استدلال کرکے کہتے ہیں کہ انسان فرشتوں سے افضل ہے لیکن بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اجمالی طور پر صرف اتنا کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ انسان فرشتوں سے افضل ہے بلکہ بہتر یہ ہے کہ اس بات کی تفصیل کے ساتھ بیان کیا جائے تاکہ انسان میں سے ہر کس وناکس کا فرشتوں سے افضل ہونا مفہوم نہ ہو اور یہ بھی ظاہر ہوجائے کہ اس مسئلہ میں عوام اور خواص کا مصداق کیا ہے، چناچہ یہ تفصیل کی جانی چاہئے کہ خواص مؤمن سے مراد اللہ کہ کے تمام رسول اور نبی ہیں اسی طرح خواص فرشتوں سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام)، حضرت میکائیل (علیہ السلام) اور حضرت اسرافیل (علیہ السلام) وغیرہ ہیں، نیز عام مؤمنین سے مراد کامل درجہ کے اہل ایمان ہیں جیسے خلفاء راشدین اولیاء کاملین اور تمام علماء۔ ابن ماجہ میں ایک حدیث اور مذکور ہے جو دو سندوں سے منقول ہے اور وہ حدیث یہ ہے المؤمن اعظم حرمۃ من الکعبۃ۔ مؤمن کا احترام و اکرام کعبہ سے بھی زیادہ ہے۔