جنت اور دوزخ کی تخلیق کا بیان :
اس باب میں وہ احادیث نقل ہوں گی جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جنت اور دوزخ کی تخلیق ہوچکی ہے اور وہ موجود ہے جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے، اس کے برخلاف مسلمانوں میں ہی کے بعض گمراہ فرقے کہتے ہیں کہ جنت و دوزخ کی ابھی تخلیق نہیں ہوئی خصوصیات کا ذکر ہے اور یہ بیان ہے کہ کس کے لئے جنت پیدا کی گئی ہے اور کس کے لئے دوزخ۔
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تحاجت الجنة والنار فقالت النار : أوثرت بالمتكبرين والمتجبرين وقالت الجنة : فما لي لا يدخلني إلا ضعفاء الناس وسقطهم وغرتهم . قال الله تعالى للجنة : إنما أنت رحمتي أرحم بك من أشاء من عبادي وقال للنار : إنما أنت عذابي أعذب بك من أشاء من عبادي ولكل واحدة منكما ملؤها فأما النار فلا تمتلئ حتى يضع الله رجله . تقول : قط قط قط فهنالك تمتلئ ويزوى بعضها إلى بعض فلا يظلم الله من خلقه أحدا وأما الجنة فإن الله ينشئ لها خلقا . متفق عليه
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت و دوزخ نے آپس میں بحث و تکرار کی چناچہ دوزخ نے تو یہ کہا کہ مجھے سرکش و متکبر اور ظالموں کے لئے چھانٹا گیا ہے اور جنت نے یہ کہا کہ میں اپنے بارے میں کیا کہوں میرے اندر بھی تو وہی لوگ داخل ہوں گے جو ضعیف و کمزور ہیں۔ لوگوں کی نظروں میں گرے ہوئے ہیں اور جو بھولے بھالے اور فریب میں آجانے والے ہیں۔ (یہ سن کر) اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت کے اظہار کا ذریعہ اور میرے کرم کی آماجگاہ کے علاوہ اپنے بندوں سے جس کو اپنی رحمت سے نوازنا چاہتا ہوں اس کے لئے تجھے ہی ذریعہ بناتا ہوں۔ اور دوزخ سے فرمایا تو میرے عذاب کا محل ومظہر ہونے کے علاوہ کچھ نہیں میں اپنے بندوں میں سے جس کو عذاب دینا چاہتا ہوں اس لئے تجھے ہی ذریعہ بناتا ہوں اور میں تم دونوں ہی کو لوگوں سے بھردوں گا البتہ دوزخ کے ساتھ تو یہ معاملہ ہوگا کہ وہ اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک کہ اس پر اللہ تعالیٰ اپنا پاؤں نہ رکھ دے گا، چناچہ جب اللہ تعالیٰ رکھ دے گا تو دوزخ پکار اٹھے گی کہ بس، بس، بس، اس وقت دوزخ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بھر جائے گی اور اس کے حصوں کو ایک دوسرے کے قریب کردیا جائے گا (پس وہ سمٹ جائے گی) مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا رہا جنت کا معاملہ تو (اس کے بھرنے کے لئے) اللہ تعالیٰ نئے لوگ پیدا کردے گا۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
جنت و دوزخ نے آپس میں بحث و تکرار کی کا مطلب یہ ہے کہ دونوں نے گویا اپنے اپنے بارے میں ایک طرح کا شکوہ شکایت کیا دوزخ کا کہنا اگر یہ تھا کہ سرکش و ظالم لوگوں کے لئے مجھے ہی کیوں مخصوص کیا گیا تو جنت نے یہ کہا کہ میرا معاملہ بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے میرے اندر بھی تو انہی لوگوں کو داخل کیا جائے گا دنیا میں جن کی کوئی شان و شوکت نہیں ہے اور کمزور جسم لاغر بدن خستہ حال ومفلس اور لوگوں کی نظروں میں بےوقعت ہیں ان دونوں کا شکوہ سن کر اللہ تعالیٰ نے ان پر واضح کیا کہ تم میں سے کسی کا بھی اس کے علاوہ کوئی معاملہ نہیں کہ تم دونوں کو محض میری مشیت اور مصلحت کے نتیجہ میں وجود میں لایا گیا ہے کہ میں نے ایک کو اپنی رحمت اور لطف و کرم کا اور دوسری کو اپنے قہر وغضب کا محل ومظہر بنایا پس مؤمن اور کافر کی طرح تم دونوں بھی، یعنی جنت و دوزخ دراصل خدائی جمال و جلال کے مظاہر کا نقطہ کمال ہو اور تم دونوں میں سے کسی کو بھی ایسی کوئی خصوصیت حاصل نہیں ہے جس سے دوسرے کے مقابلہ پر اس کی فضیلت و برتری ظاہر ہو اگرچہ اتنی بات ضرور ہے کہ دوزخ کے معاملات کا تعلق عدل و انصاف سے جڑا ہوا ہے اور جنت کے معاملات فضل و کرم سے تعلق رکھتے ہیں۔ لوگوں کی نظروں میں گرے ہوئے ہیں یعنی وہ لوگ جو اگرچہ اپنے عقیدہ وعمل اور اخلاق کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی قدر ومنزلت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں یعنی علماء وصلحاء اور ارباب باطن کی نظروں میں بھی انہیں قدر ومنزلت ہی حاصل ہوتی ہے لیکن ظاہری طور پر ان کے کمزور و ضعیف خستہ حال اور غریب ونادار ہونے کی وجہ سے اکثر دنیا والے ان کو حقیر وکمتر اور ناقابل اعتناء سمجھتے ہیں نیز میرے اندر وہی لوگ داخل ہوں گے جو کمزور و ضعیف ہیں میں جو مصر ہے اس سے مراد اکثر واغلب ہے کہ جنت میں زیادہ تر لوگ اسی زمرہ کے ہوں گے، ورنہ جنت میں جانے والے تو انبیاء و رسول بھی ہوں گے اور سلاطین وامراء بھی! یا یہ کہا جائے کہ ضعفاء (ضعیف و کمزور) سے مراد وہ بندے ہیں جو پروردگار کے سامنے بھی ذلت وفروتنی ظاہر کرتے ہیں، مخلوق کے ساتھ بھی تو تواضع و انکساری کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور خود اپنی نظر میں بھی اپنے کو گرائے رکھتے ہیں۔ جو بھولے بھالے اور فریب میں آجانے والے ہیں۔ یعنی وہ لوگ فکر آخرت میں سرگرداں رہنے کی وجہ سے دنیاوی امور سے غافل اور دنیاوی معاملات میں ناتجربہ کار رہتے ہیں اس لئے دنیا ان کو بڑی آسانی کے ساتھ بیوقوف بنادیتے ہیں اپنے مکر و فریب کے جال میں پھانس لیتے ہیں اسی اعتبار سے ایک حدیث میں یوں فرمایا گیا ہے کہ اہل جنت کی اکثریت دنیاوی امور سے نابلند اور نادان) لوگوں پر مشتمل ہوگی ان کے مقابلہ پر کافر و منافق دنیاوی معاملات میں بڑے چالاک اور مکار ہوتے ہیں کیونکہ وہ دنیا کے معاملات کو سب کچھ سمجھ کر اپنے فکر وعمل کی پوری توانائی ادھر ہی لگائے رکھتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یعملون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا وہم عن الاخرۃ ہم غافلون وہ دوزخ اس وقت تک نہیں بھرے گی۔۔۔۔۔۔ الخ۔ یعنی جتنے لوگوں کا دوزخ میں جانا مقدر ہوگا ان سب کے دوزخ میں پہنچ جانے کے بعد بھی جب دوزخ کا پیٹ نہیں بھرے گا تو وہ اللہ تعالیٰ سے مزید دوزخیوں کا مطالبہ کرے گی، قرآن کریم میں ہے یوم نقول لجہنم ہل امتلئت وتقول ہل من مزید لیکن اللہ تعالیٰ اس کا پیٹ بھرنے کے لئے یہ نہیں کرے گا کہ بےگناہ لوگوں کو جہنم میں بھر دے یا جو گناہ گار بخشے جانے والے ہوں گے انہیں کو دوزخ کے سپرد کردے یا نئے لوگ اس لئے پیدا کرے کہ ان کو دوزخ کا پیٹ بھرنے کے کام میں لایا جائے، بلکہ یہ کرے گا کہ اپنا پیر دوزخ پر رکھ دے گا جس سے دوزخ کے تمام اطراف ایک دوسرے کے قریب ہوجائیں گی اور دوزخ کا پیٹ سمٹ کر وہاں موجود لوگوں سے بھر جائے گا، یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر ظلم نہیں کرے گا تو اس سے مراد یہ ہے کہ دوزخ کا پیٹ بھرنے کے لئے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرے گا جس کو صورتا ظلم سے تعبیر کا جاسکتا ہو، ورنہ اصل بات یہ ہے اگر پروردگار بےگناہ لوگوں ہی کو دوزخ میں ڈال کر اس کا پیٹ بھرے تو حقیقت میں اس کو ظلم نہیں کہیں گے کیونکہ اپنی ملکیت میں کسی طرح کے بھی تصرف کو ظلم قرار نہیں دیا جاتا مگر اللہ تعالیٰ صورۃ ظلم بھی نہیں کرے گا اس ضمن میں یہ ذکر کردینا بھی ضروری ہے کہ حق سبحانہ وتعالیٰ کی طرف پاؤں کی نسبت متشابہات میں سے ہے جیسا کہ اس کے لئے ہاتھ آنکھ اور چہرے کے ذکر کو متشابہات میں شمار کیا جاتا ہے اور متشابہات کے سلسلے میں قرآن و حدیث میں ہے وہ یہ ہے کہ بس یہ اعتقاد رکھا جائے کہ اس سے جو کچھ مراد ہے وہی درست اور حق ہے اس کی حقیقت و کیفیت کی جستجو میں نہ پڑا جائے یہی سب سے بہتر راستہ ہے اور اسی کو سلف نے اختیار کیا ہے، تاہم متاخیرین ارباب طویل میں سے بعض حضرات نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس کے پیر سے مراد اس کی مخلوق میں سے کسی کا پیر ہے، اس کے علاوہ بعض لوگوں نے کچھ اور ایسی تاویلیں بھی کی ہیں جو ذات اقدس تعالیٰ کی شان کے مطابق ہیں لیکن طوالت کے خوف سے ان کو یہاں ذکر نہیں کیا جارہا ہے۔ جنت کو بھرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نئے لوگ پیدا کرے گا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جمع کرکے جنت میں داخل کردے گا جنہوں نے کبھی کوئی عمل نہیں کیا ہوگا اور جنت کے مستحق نہیں ہوں گے پس یہ رب کریم کی شان رحمت کا اظہار ہوگا کہ وہ دوزخ کو بھرنے کے لئے بےگناہ لوگوں کو تو اس میں نہیں ڈالے گا لیکن بہشت کو بھرنے کے لئے بےعمل لوگوں کو اس میں داخل کردے گا۔
دوزخ و جنت کو بھرا جائے گا :
وعن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تزال جهنم يلقى فيها وتقول : هل من مزيد ؟ حتى يضع رب العزة فيها قدمه فينزوي بعضها إلى بعض فتقول : قط قط بعزتك وكرمك ولا يزال في الجنة فضل حتى ينشئ الله لها خلقا فيسكنهم فضل الجنة . متفق عليه وذكر حديث أنس : حفت الجنة بالمكاره في كتاب الرقاق
اور حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا دوزخ میں برابر (لوگوں) کو ڈالا جاتا رہے گا اور وہ کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟ (یعنی ابھی تک میرا پیٹ نہیں بھرا ہے مجھے اور لوگ چاہیں) آخر کار خداوند بزرگ و برتر اس پر اپنا پاؤں رکھ دے گا اور دوزخ کے حصے ایک دوسرے کے قریب آجائیں گے (جس سے دوزخ سمٹ جائے گی تب وہ کہے گی کہ بس، بس، تیری عزت اور تیرے کرم کی قسم میں بھر گئی اس طرح جنت کے اندر وسعت و زیادتی ہوتی رہے گی (یعنی جنتیوں کے جنت میں پہنچ جانے کے باوجود اس کے محلات ومکانات خالی بچ جائیں گے) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جنت کے ان خالی محلات مکانات کو پر کرنے کے لئے نئے لوگ پیدا کردے گا جہنیں ان میں بسا دیا جائے گا۔ ( بخاری ومسلم) اور حضرت انس کی روایت کتاب الرقاق میں نقل کی جاچکی ہے۔
جنت کو مکروہات نفس سے اور دوزخ کو خواہشات نفس سے گھیر دیا گیا ہے :
عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لما خلق الله الجنة قال لجبريل : اذهب فانظر إليها فذهب فنظر إليها وإلى ما أعد الله لأهلها فيها ثم جاء فقال : أي رب وعزتك لا يسمع بها أحد إلا دخلها ثم حفها بالمكاره ثم قال : يا جبريل اذهب فانظر إليها فذهب فنظر إليها ثم جاء فقال : أي رب وعزتك لقد خشيت أن لا يدخلها أحد . قال : فلما خلق الله النار قال : يا جبريل اذهب فانظر إليها فذهب فنظر إليها فقال : أي رب وعزتك لا يسمع بها أحد فيدخلها فحفها بالشهوات ثم قال : يا جبريل اذهب فانظر إليها فذهب فنظر إليها فقال : أي رب وعزتك لقد خشيت أن لا يبقى أحد إلا دخلها . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي
حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب جنت کو بنایا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا کہ جاؤ ذرا جنت کی طرف نگاہ اٹھا کر تو دیکھو، (میں نے کتنی اچھی اور کس قدر نازک اور دیدہ زیب چیز بنائی ہے چناچہ وہ گئے اور جنت کو اور اس کی ان تمام چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لئے بنائی ہیں دیکھا، پھر واپس آکر عرض کیا کہ پروردگار تیری عزت کی قسم (تونے اتنی اعلی اور نفیس جنت بنائی ہے اور اس کو ایسی ایسی نعمتوں اور خوبیوں سے معمور کیا ہے کہ) جو کوئی بھی اس کے بارے میں سنے گا وہ اس میں داخلہ کی یقینا خواہش کرے گا۔ تب اللہ تعالیٰ نے جنت کے چاروں طرف ان چیزوں کا احاطہ قائم کردیا، جو نفس کو ناگوار ہیں اور فرمایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) جا کر جنت کو دوبارہ دیکھ آؤ چناچہ وہ گئے اور جنت کو اس اضافہ کے ساتھ جو چاروں طرف احاطہ کی صورت میں ہوا تھا) دیکھ کر واپس آئے اور عرض کیا کہ پروردگار! تیری عزت کی قسم مجھے یہ خدشہ ہے کہ اب شاید ہی کوئی جنت میں داخل ہونے کی خواہش کرے (کیونکہ اس کے گرد مکروہات نفس کا جو احاطہ قائم کردیا گیا ہے اس کو عبور کرنے کے لئے نفسانی خواہشات کو مارنا پڑے گا اور ظاہر ہے کہ انسان خواہشات نفس کو مار کر جنت تک پہنچنا دشوار سمجھے گا) آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسی طرح جب اللہ تعالیٰ نے دوزخ بنائی تو حکم دیا کہ جبرائیل (علیہ السلام)! جاؤ دوزخ کو دیکھ کر آؤ کہ میں نے کتنی ہولناک اور بری چیز بنائی ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا پس جبرائیل گئے اور دوزخ کو دیکھ کر واپس آئے تو عرض کیا کہ پروردگار! تیری عزت و جلال کی قسم جو کوئی بھی دوزخ کے بارے میں سنے گا وہ ڈر کے مارے اس سے دور رہے گا اور اس میں جانے کی خواہش نہ کرے گا، تب اللہ تعالیٰ نے دوزخ کے چاروں طرف خواہشات اور لذات دنیا کا احاطہ قائم کردیا اور جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا کہ جبرائیل! جاؤ دوزخ کو دوبارہ دیکھ کر آؤ آنحضرت ﷺ نے فرمایا چناچہ حضرت جبرائیل گئے اور دوزخ کو اس احاطہ کے اضافہ کے ساتھ دیکھ کر واپس آئے اور عرض کیا کہ پروردگار! تیری عزت و جلال کی قسم، مجھے خدشہ ہے کہ اب شاید ہی کوئی باقی بچے جو دوزخ میں نہ جائے کیونکہ جن خواہشات نفس اور لذات دنیا کا احاطہ دوزخ کے چاروں طرف کردیا گیا ہے وہ اس قدر دلفریب اور اتنی زیادہ مزیدار ہیں کہ نفس طبیعت کی پیروی کرنے والوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو ان خواہشات ولذات کی طرف نہ لپکے اور اس کے نتیجہ میں دوزخ میں نہ جانا پڑے۔
تشریح
مکارہ اصل میں مکرہ کی جمع ہے جس کی معنی ہیں مکروہ یعنی ناپسندیدہ و دشوار چیز یہاں مکارہ سے مراد وہ شرعی امور ہیں جن کا انسان کو مکلف قرار دیا گیا ہے کہ فلاں فلاں کو اختیار کیا جائے اور فلاں فلاں سے اجتناب کیا جائے پس جنت کے چاروں طرف مکارہ کا احاطہ قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور گناہوں سے اجتناب کرنے کی تکلیف ومشقت اٹھائی جائے گی نفس کی خواہشات اور اس کی تمناؤں کو ختم نہ کردیا جائے گا اس وقت تک جنت میں داخل ہونا ناممکن ہوگا۔
آنحضرت ﷺ کو جنت ودوزخ کا مشاہدہ :
عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى بنا يوما الصلاة ثم رقي المنبر فأشار بيده قبل قبلة المسجد فقال : قد أريت الآن مذ صليت لكم الصلاة الجنة والنار ممثلتين في قبل هذا الجدار فلم أر كاليوم في الخير والشر . رواه البخاري
حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ( ایک دن) رسول کریم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر منبر پر چڑھے اور مسجد کے قبلہ کی طرف اپنے دست مبارک سے اشارہ کرکے فرمایا کہ ابھی جب میں نے تمہیں نماز پڑھائی تو مجھے اس دیوار کے سامنے کے حصہ میں جنت اور دوزخ کی تمثیلیں دکھائی گئیں واقعہ یہ ہے کہ میں نے جتنی اچھی چیز اور جتنی بری چیز آج دیکھی ہے اس جیسی اچھی اور بری چیز پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ (بخاری)
تشریح
لفظ قبل ق کے زیر ب کے زبر کے ساتھ بھی منقول ہے اور ان دونوں کے پیش کے ساتھ بھی اسی طرح ق کے پیش ب کے جزم کم ساتھ بھی نقل ہوا ہے ان سب صورتوں میں معنی ایک ہی ہیں یعنی سامنے ہونا۔ میں نے جتنی اچھی چیز اور جتنی بری چیز آج دیکھی ہے۔۔۔۔ الخ۔ کا مطلب یہ تھا کہ جو بھی اچھی چیز انسان دیکھ سکتا ہے اس سے زیادہ اچھی چیز میں نے جنت کو دیکھا ہے اسی طرح جو بھی بری چیز اس دنیا میں دیکھی جاسکتی ہے اس سے بھی زیادہ بری چیز میں نے دوزخ کو دیکھا ہے۔ یہاں اگر یہ اشکال پیدا ہوتا ہو کہ جنت و دوزخ اس قدر وسیع و عریض ہونے کے باوجود حضور ﷺ کے سامنے ایک دیوار میں کس طرح ممثل ومنور ہو کر آگئیں؟ تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ کسی بھی چیز کی تمثیل وعکس کے لئے یہ مطلقا ضروری نہیں ہوتا کہ وہ اس چیز کے اصل طول وعرض کے ساتھ منعکس ہو۔ سب سے بڑی مثال پانی یا آئینہ میں کسی چیز کے عکس کی ہے کہ کسی وسیع و عریض باغ یا مکان کا جو پورا عکس پانی یا آئینہ میں آتا ہے وہ اصل باغ یا مکان کے حقیقی طول وعرض کے ساتھ ہرگز نہیں ہوتا ایک بات یہ بھی کہی جاسکتی ہے کہ حدیث کے متعلقہ الفاظ سے یہ لازم نہیں آتا جنت یا دوزخ کی تمثیل یا تصویر دیوار کے اوپر نقش یا کندہ ہوگئی ہو بلکہ ان الفاظ میں ان تمثیل کو دیوار کے سامنے کے حصہ میں دیکھنے کا ذکر ہے جس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تمثیلیں آپ ﷺ کو دیوار کی سمت میں دکھائی گئی ہے اور ان تمثیلوں کا وجود کسی اور عالم میں یا کسی اور جگہ ہو۔ اسی مضمون کی ایک اور حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ یعنی میں نے جنت اور دوزخ کو اس دیوار کے گوشہ پر دیکھا اس حدیث کے ضمن میں بھی شارحین حدیث نے مذکورہ بالااشکال اور اس کا مذکورہ ہی جواب نقل کیا ہے۔ بعض علماء نے یہ لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کی یہ مراد نہیں تھی کہ میں نے جنت اور دوزخ کو اس طرح دیکھا کہ ان کی تمثیل دیوار کے سامنے کے حصہ میں تھیں، بلکہ آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ میں نے (اپنی روحانی آنکھوں سے) جنت اور دوزخ کو دیکھا، جب کہ میں قبلہ کی طرف کی دیوار کے سامنے تھا، اس صورت میں کوئی اشکال واقع نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم بحقیقۃ الحال۔
ابتدائے پیدائش اور انبیاء (علیہ السلام) کے ذکر کا بیان :
ابتدائے پیدائش سے مراد اس کائنات کا عالم وجود میں آنا اور مخلوقات کی پیدائش و تخلیق کا سلسلہ شروع ہونا ہے اور انبیاء (علیہم السلام) چونکہ اس کائنات کا جوہر ہیں، دین وملت کی تدوین و تربیت کا نقطہ آغاز ان ہی کی ذات ہے، امور عالم کا نظم و انتظام اور اصلاح انہی سے وابستہ ہے اور نوع انسانی کی پیدائش کا سلسلہ ابوالبشر حضرت آدم (علیہ السلام) ہی سے شروع ہوتا ہے جو نبی اول بھی ہیں اس لئے ان مقدس نفوس کے ذکر کو عنوان باب کا دوسرا جزء قرار دیا گیا ہے۔ عالم حادث ہے سب سے پہلے یہ امر ذہن نشین رہنا چاہئے کہ تمام مذہب سماویہ اور ملتیں یہاں تک مجوسی بھی اس پر متفق ہیں کہ عالم حادث ہے یعنی یہ دنیا اور دنیا کی ہر چیز عدم سے وجود میں آئی ہے، اللہ کے سوا کوئی بھی چیز پہلے موجود نہیں تھی بعد میں اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ اس بارے میں سب سے بہتر شہادت مخبر صادق ﷺ کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا۔ کان اللہ ولم یکن معہ شیئ۔ صرف اللہ کی ذات موجود تھی اس کے ساتھ کسی چیز کا وجود نہیں تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے لوح وقلم کو پیدا کیا اور مخلوقات کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب (تقدیر) لکھی، اس کے بعد عرش کرسی، آسمانوں، زمینوں، فرشتوں اور جنات و انسان کو پیدا فرمایا۔ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام اجسام اپنی ذات وصفات کے ساتھ حادث ہیں اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اجسام میں سے جو چیز سب سے پہلے پیدا ہوئی وہ پانی ہے کیونکہ یہ خصوصیت صرف پانی کو حاصل ہے کہ وہ ہر شکل و صورت اختیار کرسکتا ہے اور تمام چیزوں کا مادہ تخلیق بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، چناچہ کہا جاتا ہے کہ یہ پانی ہی تھا جس میں لطافت پیدا ہوئی تو ہوا عالم وجود میں آئی پھر اس کے جوہر سے آگ پیدا ہوئی اور اس کے دھوئیں سے آسمان بنا واضح رہے کہ آسمان پر دخان یعنی دھوئیں کا اطلاق قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔ یہ قول کہ کائنات کی ہر چیز کا مادہ تخلیق پانی ہے اور پانی ہی کے جوہر سے آگ اور اس کے دھوئیں سے آسمان پیدا ہوا۔ قدیم حکماء میں سے ایک شخص ط اس ملطی کی طرف منسوب ہے لیکن علماء نے کہا ہے کہ ط اس ملطی نے یہ بات آنحضرت ﷺ کے ارشادات سے اخذکر کے کہی ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس سلسلہ میں جو کچھ فرمایا ہے اس کی تصدیق نہ صرف حکماء قدیم وجدید کے اقوال سے ہوتی ہے بلکہ قدیم آسمانی کتابوں میں بھی اسی طرح منقول ہے چناچہ توریت کے پہلے صفحہ میں منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (اس کائنات ارضی وسماوی کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو) ایک جوہر پیدا فرمایا اور اس پر ہیبت و جلال کی نظر ڈالی جس سے اس جوہر کے اجزاء پگھل کر پانی ہوگئے پھر اس میں سے دھوئیں کے مانند بخارات اٹھے جس سے آسمان کو پیدا کیا اور پھر اس پانی پر جھاگ ظاہر ہوا جس سے زمین کو وجود بخشا اور زمین کو جمانے اور قائم رکھنے کے لئے پہاڑوں کو پیدا فرمایا۔ بہرحال ابتدائے تخلیق کائنات کا موضوع بڑا وسیع اور خاصا بحث طلب مانا گیا ہے، ہمیشہ سے حکماء اور دانشور اس میں مصرف تحقیق رہے ہیں اور کتنے ہی مختلف نظریات و اقوال سامنے آچکے ہیں، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس موضوع کا تعلق ایسے امور سے ہے جن کو محض عقل و قیاس سے معلوم نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان کی حقیقت تک رسائی کا مدار خالق کائنات کے عطا کردہ اس علم اور اس علم سے اخذواستنباط پر ہے جو بذریعہ وحی دنیا میں آیا ہے اور جس کو آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشادات کے ذریعہ دنیا والوں تک پہنچا بھی دیا ہے۔
پہلے اللہ کے سوا کچھ نہ تھا :
عن عمران بن حصين قال : إني كنت عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاء قوم من بني تميم فقال : اقبلوا البشرى يا بني تميم قالوا : بشرتنا فأعطنا فدخل ناس من أهل اليمن فقال : اقبلوا البشرى يا أهل اليمن إذ لم يقبلها بنو تميم . قالوا : قبلنا جئناك لنتفقه في الدين ولنسألك عن أول هذا الأمر ما كان ؟ قال : كان الله ولم يكن شيء قبله وكان عرشه على الماء ثم خلق السماوات والأرض وكتب في الذكر كل شيء ثم أتاني رجل فقال : يا عمران أدرك ناقتك فقد ذهبت فانطلقت أطلبها وأيم الله لوددت أنها قد ذهبت ولم أقم . رواه البخاري
حضرت عمران بن حصین کہتے ہیں کہ ایک دن میں رسول کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ( مشہور اور عظیم قبیلہ) بنوتمیم کے کچھ لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم کے لوگوں بشارت حاصل کرو، انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے (دین کی تعلیمات کی صورت میں) بشارت تو ہمیں عطا فرمادی، اب کچھ اور بھی عنایت فرما دیجئے۔ پھر کچھ دیر بعد یمن کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ (یمن کے لوگوں تم بشارت حاصل کرلو، بنوتمیم کے لوگوں نے تو بشارت حاصل نہیں کی، یمن والوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم نے بشارت حاصل کی اور ہم اسی لئے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں کہ آپ ﷺ سے مذہبی معلومات اور دینی شعور وفہم حاصل کریں، چناچہ ہم آپ سے ابتدائے آفرینش اور مبداء عالم کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس (کائنات کے وجود میں آنے اور مخلوقات کی پیدائش) سے پہلے کیا چیز موجود تھی؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ صرف اللہ کی ذات موجود تھی (ازل الازال میں) اس کے ساتھ اور اس کے پہلے کسی چیز کا وجود نہیں تھا اور اس کا عرش پانی پر تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھا۔ (حدیث کے راوی حضرت عمران ابن حصین کہتے ہیں کہ میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی یہیں تک سن پایا تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا کہ عمران جاؤ اپنی اونٹنی کو تلاش کرو وہ بھاگ گئی ہے (یہ سنتے ہی میں اپنی اونٹنی کو تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑا ہوا اور اب میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کاش میں اس وقت مجلس نبوی سے اٹھ کر نہ جاتا بھلے ہی میری اونٹنی جاتی رہتی (بخاری)
تشریح
اس موقع پر بنوتمیم کے جو لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ان کا مطمح نظر آنحضرت ﷺ سے اکتساب دین اور حصول معرفت سے زیادہ کوئی دنیاوی طلب و خواہش تھی، اس لئے جب آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ بشارت حاصل کرو، یعنی مجھ سے ایسی چیز حاصل کرو اور وہ بات قبول کرو جو جنت کی نعمتوں اور دونوں جہان کی سعادتوں کے حصول کی بشارت کا موجب ہے جیسے دین کے عقائد و احکام سیکھنا اور مذہبی معلومات حاصل کرنا تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ کی عطا کردہ بشارت ہمارے سر آنکھوں پر، دینی عقائدواحکام سیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہمیں تسلیم، لیکن اس وقت ہمارا اصل مقصد کچھ دنیاوی چیزوں کا حاصل کرنا ہے آپ تو ہماری وہ دنیاوی طلب و خواہش پوری فرمادیجئے پس ان لوگوں نے چونکہ فانی دنیا کو زیادہ اہم جانا اور اس کو مذہبی تعلیمات اور دینی فہم و شعور حاصل کرنے پر کہ جو آخرت کے اجروثواب اور دارین کی فلاح وسعادت کا باعث ہے، فوقیت دی، اس لئے آپ ﷺ نے ان کی اس بات کو ان کی عدم لیاقت اور یقین و اعتماد میں ان کے ضعف و کمزوری پر محمول فرمایا اور ازراہ غصہ ان کی طرف سے وہ بشارت کو قبول کئے جانے کی نفی فرمادی، چناچہ آپ ﷺ نے یمن کے لوگوں سے فرمایا کہ بنوتمیم کے لوگوں نے تو بشارت حاصل کی نہیں، تم ہی لوگ اس بشارت کو حاصل کرلو۔ بنوتمیم کے لوگوں کے بعد یمن کے لوگ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، ان کی نیت چونکہ بالکل اور سچی تھی اور ان کی آمد کا اصل مقصد ہی یہ پاک جذبہ تھا کہ آنحضرت ﷺ سے کچھ دین کی باتیں سیکھیں آپ ﷺ کی صحبت سے اپنے عقیدہ و ایمان کو تازگی بخشیں نہ کہ وہ دنیا کی چیز حاصل کرنے یا کسی پست مقصد کے لئے حاضر ہوئے تھے لہٰذا ان کو بشارت حاصل ہوئی طاعت و قبول کی سعادت ان کے حصہ میں آئی۔ علم وعمل ان کا نصیب بنا اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے جب کہ بنو تمیم کے لوگ دنیا طلبی کے چکر میں پڑ کر ان سعادتوں اور نعمتوں سے محروم رہے اور ان کی کم نظری اور پست ہمتی نہ ان کو نیچے گرا دیا اس سے معلوم ہوا کہ بندہ مؤمن کو ہمیشہ بلند نظر عالی ہمت اور پاک مقصد ہونا چاہے کیونکہ بلند نظری عالی ہمتی اور مقصد کی پاکی بڑے سے بڑے درجہ و مرتبہ کو پہنچا دیتی ہے اور دارین کی فلاح وسعادت سے نوازتی ہے جیسا کہ ایک بزرگ حضرت شیخ ابوالعباس مرصی کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ایک دن حضرت امیرحمزہ کی تربت کی زیارت کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے اور ایک شخص بھی ان کے ساتھ ہولیا جو وہ حضرت امیرحمزہ کے مقبرہ پر پہنچے تو خلاف معمول حضرت شیخ ابوالعباس کے لئے خاص طور پر مقبرہ کا دروازہ کھولا گیا وہ اندر داخل ہوئے اور تربت پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ عالم غیب کے کچھ لوگوں کی ایک جماعت کسی بھی طرح کی کمی اور عیب سے پاک اپنے اجسام کے ساتھ موجود ہے حضرت شیخ ان کو دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ یہ ساعت قبولیت ہے یہاں پروردگار سے جو کچھ بھی طلب کیا جائے حاصل ہوگا چناچہ انہوں نے پروردگار سے دنیا وآخرت میں عفو و عافیت کی دعا مانگی اور پھر از راہ ہم دردی اور شفقت اپنے ساتھی سے کہا کہ میرے عزیز اللہ تعالیٰ سے جو کچھ چاہتے ہو مانگ لو، کیونکہ یہ دعا کی قبولیت اور فضل ربی حاصل ہونے کا وقت ہے اس شخص نے بڑی پست ہمتی دکھائی اور ایک دینار کی دعا مانگی (کہ پروردگار مجھے ایک دینار عطا کردے) نہ تو اس نے آخرت کا کوئی ذکر کیا اور نہ جنت و دوزخ کے بارے میں کچھ عرض مدعا کیا۔ اس کے بعد وہ دونوں مقبرہ سے نکلے اور واپسی کے لئے مدینہ کی طرف چل پڑے اور مدینہ شہر میں داخل ہوئے تو اہل مدینہ میں سے کسی نے اس شخص کے ہاتھ میں ایک دینار تھما دیا پھر شہر میں پہنچ کر وہ دونوں اس زمانے کے مشہور قطب وولی حضرت سید ابوالحسن شاذلی کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت شاذلی پر ان دونوں کا پورا قصہ منکشف ہوگیا انہوں نے بڑے تأسف کے ساتھ اس شخص سے کہا کہ ارے پست ہمت تجھے قبولیت دعا کا وقت نصیب ہوا اور تو نے ذلیل دنیا کا ایک حقیر ٹکڑا مانگنے پر اکتفا کیا؟ آخر تو نے ابوالعباس کی طرح عفو و عافیت کی دعا کیوں نہیں مانگی یہ تو وہ نعمت ہے جو تجھے حاصل ہوجاتی تو تیری دنیا بھی تیرے قدموں میں آجاتی اور تیری عاقبت بھی سنور جاتی صرف اللہ کی ذات موجود تھی یعنی جس طرح اس کی پاک ذات ابد الاباد تک رہنے والی ہے اسی طرح ازل الازال میں بھی صرف اسی کی ذات تھی کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ سے موجود ہے اور اس سے پہلے کسی بھی چیز کا وجود نہیں تھا، جس طرح اس کے لئے کوئی انتہا واختتام نہیں ہے اسی طرح اس کے لئے کوئی ابتداء نہیں ہے، اس کی ذات اور اس کا وجود تغیروحدث سے پاک ومبرا ہے جو اس کے بندوں اور اس کی مخلوق کا خاصہ ہے۔ پس ثابت ہوا کہ نہ پہلے کبھی اس کی ذات عدم میں تھی اور نہ آئندہ کبھی وہ عدم میں ہوگا کیونکہ جو ذات ہمیشہ سے اور ہمیشہ کے لئے قائم و باقی ہے اس کا عدم محال ہے۔ اللہ تعالیٰ سے پہلے کسی چیز کا وجود نہیں تھا یہ پہلے جملہ کی وضاحت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے علاوہ ہر چیز حادث ہے تو اس واجب الوجود سے پہلے کسی اور چیز کے وجود کا تصور تک نہیں ہوسکتا اور چونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق وموجد ہے اس لئے جو بھی چیز وجود میں آئی ہے اسے کے بعد اور اسے کی قدرت تخلیق سے وجود پذیر ہوئی ہے اور اس کا عرش پانی پر تھا الخ، اس جملہ میں اس طرف اشارہ ہے عرش اور پانی کی تخلیق زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے ہوئی ہے نیز شروع میں عرش کے نیچے پانی کے علاوہ زمین و آسمان کی کوئی بھی چیز نہیں تھی پس عرش کا پانی پر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عرش اور پانی کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں تھی یہ مطلب نہیں ہے کہ عرش پانی کی سطح پر قائم تھا نیز اس پانی سے مراد وہ پانی نہیں ہے جو سمندروں اور دریاؤں میں موجود ہے بلکہ عرش کے نیچے کا وہ پانی قدرت ومشیت الہٰی کا مظہر کوئی اور ہی پانی تھا اس کا تفصیلی ذکر کتاب کی ابتداء میں باب الایمان بالقدر میں گزر چکا ہے ابن ملک نے مذکورہ جملہ کی تشریح میں لکھا ہے عرش پانی پر تھا پانی ہوا کی پشت پر تھا اور ہوا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے قائم تھی۔ بعض حضرات نے یہ لکھا ہم کہ عرش اور پانی کی تخلیق آسمان اور زمین کی تخلیق سے پہلے ہوئی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پانی سے پیدا فرمایا اس طرح کہ پانی اپنی تجلی ڈالی، تو وہ موجیں مارنے لگا اور اس میں زبردست اتھل پتھل ہوئی جس کے سبب سے اس میں جھاگ پیدا ہوا اور وہ جھاگ جمع ہو کر اس جگہ قائم ہوا جہاں خانہ کعبہ ہے اور اس طرح زمین کا سب سے پہلا ٹکڑا عالم وجود میں آیا اور پھر اسی ٹکڑے سے چاروں طرف زمین پھیلائی گئی اور اس کائنات کا تختہ ارض قائم ہوا، پھر اس تختہ ارض پر پہاڑوں کو پیدا کیا گیا تاکہ زمین ہلنے اور ڈولنے نہ پائے اور پہاڑوں کے دباؤ سے ساکن وجامد رہے اور جیسا کہ بعض حضرات نے کہا ہے، سب سے پہلے جو پہاڑ پیدا کیا گیا وہ جبل ابوقبیس ہے نیز اس پانی میں تموج اور اضطراب سے دھوئیں کی شکل میں جو بخارات اوپر کی طرف بلند ہوئے ان سے آسمان پیدا ہوئے۔ اور لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہر چیز کے متعلق لوح محفوظ میں ہر وہ بات لکھ دی ہے جو اس کو پیش آنے والی ہے اور اسی کے مطابق دنیا میں ظہور ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ لوح محفوظ میں اللہ تعالیٰ کے لکھنے سے کیا مراد ہے؟ تو ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے حروف والفاظ پیدا فرمائے ہوں جو اس لوح محفوظ میں مرتسم ہوگئے ہوں یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو لکھنے کا حکم دیا اور انہوں نے اس حکم کے مطابق ہر چیز لوح محفوظ میں لکھ دی! یہ واضح رہے کہ لوح محفوظ میں ہر چیز کا لکھا جانا عرش کی بھی تخلیق سے پہلے ہوگیا تھا۔ روایت کے آخری الفاظ کے ذریعہ حضرت عمران ابن حصین نے اپنے تاسف کا اظہار کیا کہ وہ اپنی اونٹنی کے چکر میں پڑ کر ایسے موقع پر مجلس نبوی سے اٹھ گئے جب کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا سلسلہ جاری تھا اور وہ آگے کے ملفوظات نبوی ﷺ نہ سن سکے صورت حال یہ ہوئی کہ حضرت عمران مجلس نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنی اونٹنی دروازے کے باہر باندھ دی تھی، اس دوران کہ آنحضرت ﷺ یمن کے لوگوں کو اس کائنات کے ابتدائے آفرنیش اور مبدء عالم کے بارے میں بتا رہے تھے، کسی شخص نے آکر حضرت عمران سے کہا کہ تمہاری اونٹنی کھل کر بھاگ گئی ہے جلدی جاؤ اور اس کو پکڑ و اور وہ یہ سنتے ہی مجبورا اٹھ گئے اور اپنی اونٹنی کو پکڑنے کے لئے چلے گئے پھر بعد میں بشیمان ہوئے کہ میں کیوں اٹھ گیا اور آنحضرت ﷺ کی مبارک صحبت اور ان حقائق وعلوم سے محروم رہ گیا جو اس وقت بیان فرمائے جارہے تھے۔
آنحضرت ﷺ نے ابتدائے آفرینش سے روز قیامت تک کے احوال بیان فرمادیئے تھے :
وعن عمر قال : قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم مقاما فأخبرنا عن بدء الخلق حتى دخل أهل الجنة منازلهم وأهل النار منازلهم حفظ ذلك من حفظه ونسيه من نسيه . رواه البخاري
اور حضرت امیر المؤمنین حضرت عمر ف اور ق ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ خطبہ دینے کے لئے ہمارے سامنے کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے اس خطبہ کے دوران ابتدائے آفرینش سے قیامت کے دن جنت و دوزخ میں داخل ہونے تک کے تمام احوال و کوائف کا ذکر فرمایا جس شخص نے ان باتوں کو یاد رکھا اس کو یاد ہیں اور جس شخص نے بھلادیا وہ بھول گیا ہے (بخاری)
تشریح
مطلب یہ کہ آپ ﷺ نے اس دن بڑی تفصیل کے ساتھ مبداء ومعاد کے احوال کو اول سے آخر تک بیان فرمایا یعنی پہلے آپ ﷺ نے تخلیق کائنات کی ابتداء کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو قائم کرنے کا ارادہ کیا تو شروع میں کیا کیا چیزیں بنائیں پھر کس طرح نظام عالم کو قائم فرمایا اور اس عالم کو انسان نامی مخلوق سے آباد کرنے کے لئے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق فرمائی اور ان کے ذریعہ نسل انسانی کا سلسلہ شروع ہوا، کائنات انسانی کی تہذیبی، اخلاقی اور دینی زندگی کا نظم قائم کرنے اور رب کائنات کی حاکمیت و ہدایت کے ظہور کے لئے کون نبی اور رسول اس دنیا میں آئے کیسی کیسی ملتیں اور قومیں وجود میں آئیں، ان ملتوں اور قوموں نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا، جن لوگوں نے اللہ کے بیجھے ہوئے رسولوں کی اطاعت کی ان کو کیا اجروانعام ملے اور جن لوگوں نے ان رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی بات ماننے سے انکار کردیا ان کو کس طرح تباہ و برباد کردیا گیا اور آخرت میں ان سب ملتوں اور امتوں کا کیا حال ہوگا اور پھر آخر میں آپ ﷺ نے اپنی امت کے بارے میں بتایا کہ اللہ کے آخری دین اسلام کو ماننے والوں یعنی مسلمانوں کی ملی زندگی میں کیسے کیسے انقلاب آئیں گے، انہیں کن کن احوال سے دوچار ہونا پڑے گا کون کون سی اچھائیاں ان کا طرہ امتیاز بنیں گی اور کون کون سی برائیاں ان کی دینی و دنیاوی زندگی کو خراب کریں گی پھر آخرت میں اس امت محمدیہ کے ساتھ کیا سلوک ہوگا، کس طرح کے لوگ جنت میں اور کس طرح کے لوگ دوزخ کے سپرد کئے جائیں گے۔ جس شخص نے ان باتوں کو یاد رکھا۔۔۔۔ الخ۔ سے حضرت عمر کا مطلب یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ نے وہ باتیں جس کا تفصیل کے ساتھ بیان فرمائی تھیں، ان کو ان لوگوں نے یاد رکھا جہنوں نے یاد رکھنے کی کوشش کی اور جن کو اللہ تعالیٰ نے یاد رکھنے کی توفیق عطا فرمائی اور وہ لوگ ان باتوں کو بھول گئے جہنوں نے یاد رکھا جہنوں نے یاد رکھنے کی کوشش نہیں کی۔ حاصل یہ کہ بعض لوگوں کو وہ پوری باتیں یاد ہیں اور بعض لوگ ان کو بھول گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر سبقت لے گئی ہے :
وعن أبي هريرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله تعالى كتب كتابا قبل أن يخلق الخلق : إن رحمتي سبقت غضبي فهو مكتوب عنده فوق العرش . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق یعنی زمین آسمان کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب لکھی اس میں یہ درج ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے اور وہ کتاب یا مذکورہ عبارت اللہ تعالیٰ کے پاس عرش کے اوپر لکھی ہوئی موجود ہے (بخاری ومسلم )
تشریح
حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کو تمام خلائق سے پوشیدہ رکھا گیا ہے کہ اس کے مندرجات اللہ تعالیٰ کا ایسا راز ہیں جن کو کسی پر کھولا نہیں گیا ہے اور نہ کسی کے علم و ادراک کو اس قابل بنایا گیا ہے کہ اس کتاب میں لکھی ہوئی باتوں کو جان اور سمجھ سکے۔ تورپشتی نے لکھا ہے کہ احتمال ہے کہ اس کتاب سے مراد لوح محفوظ ہو اور آنحضرت ﷺ کے اس پاک ارشاد فہو مکتوب عندہ کے معنی یہ ہوں کہ مذکورہ عبارت لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ کتاب سے مراد لوح محفوظ نہ ہوبل کہ قضا یعنی فیصلہ الٰہی ہو جس کو حق تعالیٰ نے جاری فرمایا ہے، بہرحال دونوں صورتوں میں آنحضرت ﷺ کے ارشاد عندہ فوق العرش میں یہ آگاہی ہے کہ وہ کتاب لکھی گئی اور تمام خلائق کے احاطہ ادراک سے ماوراء رکھی گئی ہیں کہ اس کے مندرجات تک کسی کا علم وفہم نہیں پہنچ سکتا۔ رحمت الٰہی کے غضب الہٰی پر سبقت لے جانے کے معنی یہ ہیں، رحمت کے آثار و مظاہر بہت زیادہ ہیں کہ کیا مؤمن کیا کافر اور کیا متقی کیا گنہ گار سب ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے زیر سایہ ہیں جب کہ اس کا غضب بہت کم ظاہر ہوتا ہے اور کبھی کبھی اور کوئی ہی اس کا مورد بنتے ہیں، چناچہ قرآن مجید میں خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان عذابی اصیب بہ من اشاء ور حمتی وسعت کل شیء۔ میں اپنے عذاب میں ان ہی لوگوں کو مبتلا کرتا ہوں جن کو چاہتا ہوں لیکن میری رحمت نے ہر چیز کو اپنے دامن میں لے رکھا ہے۔
ملائکہ، جنات اور انسان کا جوہر تخلیق :
وعن عائشة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : خلقت الملائكة من نور وخلق الجان من مارج من نار وخلق آدم مما وصف لكم . رواه مسلم
اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے، جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا گیا ہے، جس میں دھواں ملا ہوتا ہے اور آدم (علیہ السلام) کو اس چیز سے پیدا کیا گیا ہے جو تمہیں بتادی گئی ہے (مسلم)
تشریح
قاموس میں لکھا ہے کہ نور کے معنی یا تو روشنی کے ہیں یا روشنی سے پھوٹنے والی شعاع کے ہیں بہرحال یہاں حدیث میں نور سے مراد اصل روشنی وہ جوہر ہے جس سے روشنی وجود میں آتی ہے پس فرشتوں کی تخلیق اسی جوہر روشنی سی ہوئی ہے لفظ جان کے معنی یا تو جن یا جنات کے ہیں یا اس لفظ سے مراد جنات کی وہ اصل (یعنی ان کا باپ) ہے جس سے جنات کی نسل چلی ہے جسے انسان کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں جو تمہیں بتادی گئی ہے سے قرآن کریم کے ان الفاظ وخلقہ من تراب (اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا) کی طرف اشارہ ہے مطلب یہ کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے بعض روایتوں میں کچھ دوسری چیزوں کے جوہر تخلیق کا بھی ذکر کیا گیا ہے جسے ابن عسا کرنے حضرت ابوسعید ؓ سے یہ مرفوع روایت نقل کی ہے کہ کھجور انار اور انگور کو آدم کی مٹی کے فضلہ سے پیدا کیا گیا ہے طبرانی نے حضرت ابوامامہ سے بطریق مرفوع نقل کیا ہے کہ حورعین زعفران سے پیدا کی گئی ہے جنات و انسان کی تین تخلیقی اقسام حکیم ابن ابی الدنیا ابوشیخ اور ابن مردویہ نے حضرت ابودرداء سے یہ روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنات کو تین طرح سے پیدا کیا ہے ان کی ایک قسم وہ ہے جس کو سانپ وبچھو اور حشرات الارض کی صورت دی گئی ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جو فضاء میں ہوا کی مانند ہے اور تیسری قسم کے جنات وہ ہیں جن کو انسان کی طرح خیروشرکا مکلف قرار دیا ہے گیا ہے اور ان کو حساب ومواخذہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو بھی تین قسم کا پیدا کیا ہے، ایک قسم تو وہ ہے جو چوپاؤں کے مانند ہے دوسری قسم کے انسان وہ ہیں جن کے جسم وبدن اور شکل و صورت تو بنی آدم (آدمیوں) کی سی ہے لیکن ان کی ارواح گویا شیاطین کی ارواح ہیں اور تیسری قسم کے انسان وہ ہیں جو جسم وبدن اور روح دونوں اعتبار سے انسانیت و آدمیت کا پیکر ہیں اور جو قیامت کے دن پروردگار کے سایہ رحمت میں ہوں گے۔
پیکر آدم کے بارے میں شیطان کا اظہار خیال :
وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لما صور الله آدم في الجنة تركه ما شاء أن يتركه فجعل إبليس يطيف به ينظر ما هو فلما رآه أجوف عرف أنه خلق خلقا لا يتمالك . رواه مسلم
اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں آدم (علیہ السلام) کا پیکر بنایا اور شکل و صورت دی تو اس پیکر کو جب تک چاہا جنت میں رکھے رکھا، اس عرصہ میں ابلیس اس پیکر کے گرد چکر کاٹتارہا اور غور کرتا رہا کہ یہ کیا ہم اور کیسا ہے (یعنی وہ یہ مشاہدہ کرنا چاہتا تھا، کہ اللہ تعالیٰ نے اس پیکر خاکی کی صورت میں اپنے بندوں کی جو نئی مخلوق پیدا کرنا چاہتا ہے کہ اس کی حیثیت و حقیقت کیا ہوگی) اور جب اس نے دیکھا کہ یہ پیکر خاکی اندر سے کھوکھلا ہے تو سمجھ گیا کہ یہ ایسی مخلوق پیدا کی گئی ہے جو غیر مضبوط ہوگی۔ (مسلم)
تشریح
اس حدیث کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پیکر اور شکل و صورت کی تخلیق جنت میں ہوئی تھی جب کہ اور روایت اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ان کی تخلیق اور ان کو پیکر و صورت کا عطا کیا جانا میدان عرفات کے ایک حصہ وادی نعمان میں عمل میں آیا تھا، وہاں ان کے پیکر کو آخری شکل دے کر اور اس میں روح پھونک کر ان کو جنت میں لے جایا گیا پس حدیث میں فی الجنۃ کے الفاظ، جن سے ان کی تخلیق کا جنت میں ہونا مفہوم ہوتا ہے، دراصل ان کی ابتدائی تخلیق کا اظہار کرنے کے لئے نہیں بلکہ تخلیق کے بعد کی صورت حال کو ذکر کرنے کے ہیں، اس اعتبار سے حدیث کے معنی یہ ہوں گے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو تخلیق کرکے اور ان کے پیکر میں روح پھونک کر ان کو جنت میں رکھا تو ابلیس نے ان کے پیکر کی ساخت و حقیقت کی ٹوہ لگائی اور جب اس نے دیکھا کہ یہ پیکر خاکی کھوکھلا ہے اور اندر سے اس کا پیٹ خالی ہے تو اس کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہ انسان نامی مخلوق اپنی جسمانی ساخت کے اعتبار سے مضبوط نہیں ہے کیونکہ جو چیز اندر سے ٹھوس نہ ہو اور اس کے تمام اعضاء و اجزاء ایک دوسرے سے اس طرح مربوط نہ ہوں کہ ان کے درمیان کوئی خلانہ رہے تو اس کو پوری طرح ثبات وقرار حاصل نہیں ہوتا، لہٰذا اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جب اس پیکر خاکی کی جسمانی ساخت اس طرح کی ہے تو لامحالہ اس کی افتاد طبع اس کا مزاج اور اس کے اندورنی احوال کو بھی ثبات وقرار نہیں ہوگا اور اس افتادطبع کی وجہ سے خود کو اپنے معاملات میں ڈانواڈول ہونے اور اپنے احوال میں غیر مستحکم ہونے سے نہ بچاپائے گا اور اپنے نفس پر قابو نہیں رکھ سکے گا کہ مثلا غصہ کے وقت بےاختیار ہوجایا کرے گا اور طبعی خواہشات پر قدغن نہیں لگا سکے گا کہ بھوک پیاس مٹانے، جنسی تسکین حاصل کرنے اور اپنی آرزؤں کو پورا کرنے کے لئے جائز و ناجائز کے درمیان تمیز نہیں کرے گا۔ پس ابلیس گویا خوش ہوا کہ اس نے امید قائم کرلی کہ جو مخلوق اپنی جسمانی ساخت اور طبعی افتاد کی وجہ سے آفات کا مورد بن سکتی ہے اس کو گمراہ کرنا چنداں مشکل نہیں ہوگا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ختنہ :
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اختتن إبراهيم النبي وهو ابن ثمانين سنة بالقدوم . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی سال کی عمر میں قدوم سے اپنا ختنہ کیا۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
امام نووی (رح) نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ لفظ قدوم کی دال کی حرکت میں اختلاف ہے اگر اس دال کو تخفیف کے ساتھ قدوم پڑھا جائے تو اس کے معنی بڑھی کے اوزار یعنی بسولے کے ہوں گے اور حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنا ختنہ بسولے سے خود کیا اور اس وقت ان کی عمر اسّی سال کی تھی اور اگر اس لفظ کو دال کی تشدید کے ساتھ قدّوم پڑھا جائے تو اس سے مراد ملک شام کا ایک گاؤں ہوگا جس کا نام قدوم تھا، ویسے اس گاؤں کا نام قدوم بہ تخفیف دال بھی نقل کیا گیا ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسّی سال کی عمر میں ختنہ خود کیا اور اس وقت وہ ملک شام کے گاؤں قدوم میں تھے، حاصل یہ کہ جس روایت میں یہ لفظ بہ تشدید دال نقل ہوا، اس میں قدوم سے مذکورہ گاؤں ہی مراد ہوسکتا ہے اور مذکورہ گاؤں بھی۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تین جھوٹ :
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لم يكذب إبراهيم إلا في ثلاث كذبات : ثنتين منهن في ذات الله قوله ( إني سقيم ) وقوله ( بل فعله كبيرهم هذا ) وقال : بينا هو ذات يوم وسارة إذ أتى على جبار من الجبابرة فقيل له : إن ههنا رجلا معه امرأة من أحسن الناس فأرسل إليه فسأله عنها : من هذه ؟ قال : أختي فأتى سارة فقال لها : إن هذا الجبار إن يعلم أنك امرأتي يغلبني عليك فإن سألك فأخبريه أنك أختي فإنك أختي في الإسلام ليس على وجه الأرض مؤمن غيري وغيرك فأرسل إليها فأتي بها قام إبراهيم يصلي فلما دخلت عليه ذهب يتناولها بيده . فأخذ - ويروى فغط - حتى ركض برجله فقال : ادعي الله لي ولا أضرك فدعت الله فأطلق ثم تناولها الثانية فأخذ مثلها أو أشد فقال : ادعي الله لي ولا أضرك فدعت الله فأطلق فدعا بعض حجبته فقال : إنك لم تأتني بإنسان إنما أتيتني بشيطان فأخدمها هاجر فأتته وهو قائم يصلي فأومأ بيده مهيم ؟ قالت : رد الله كيد الكافر في نحره وأخدم هاجر قال أبو هريرة : تلك أمكم يا بني ماء السماء . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کبھی جھوٹ نہیں بولا علاوہ تین جھوٹ کے اور ان میں سے بھی وہ جھوٹ اللہ کے لئے بولے تھے۔ ان میں ایک تو ان کا یہ کہنا تھا کہ میں آج علیل سا ہوں۔ دوسرا یہ کہنا تھا کہ بلکہ یہ کام بڑے بت نے کیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان سے جو تیسرا جھوٹ نکلا تھا وہ ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ میری بہن ہے اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی سارہ (ہجرت کرکے ملک شام کی طرف جارہے تھے کہ ان کا گزر ایک بڑے ظالم و جابر حاکم کے شہر سے ہوا چناچہ اس حاکم کو بتایا گیا کہ یہاں (اس شہر میں) ایک شخص آیا ہوا ہے جس کے ساتھ ایک حسین و جمیل عورت ہے، اس حاکم نے یہ سنتے ہی ایک گماشتہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلانے کے لئے بھیجا اور جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس کے پاس پہنچے تو اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ کون عورت ہے اور تمہاری کیا لگتی ہے؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ یہ میری بہن ہے۔ پھر انہوں نے سارہ کے پاس واپس آکر ان کو اس جابر حاکم کے برے ارادے سے نجات پانے کی تدبیر بتائی اور کہا کہ اگر اس ظالم کو معلوم ہوگیا کہ تم میری بیوی ہو تو تمہیں زبردستی مجھ سے چھین لے گا پس اگر وہ تمہارے اور میرے تعلق کے بارے میں پوچھے تو اس کو بتانا کہ تم میری بہن ہو اور اس میں کوئی شبہ بھی نہیں کہ تم دین کے رشتہ سے میری بہن ہو لہٰذا خود کو میری بہن بتاتے وقت دینی اخوت کی نیت کرلینا اور یہ نیت اس لئے بھی صحیح ہوگی کہ اس سر زمین پر سوائے میرے اور تمہارے کوئی دوسرا مؤمن نہیں ہے۔ لہٰذا اس ظالم نے ایک گماشتہ بھیج کر حضرت سارہ کو طلب کیا اور ادھر تو حضرت سارہ اس کے پاس لے جائی گئیں ادھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) (اپنی قیام گاہ پر) نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے سارہ جب اس ظالم کے پاس پہنچیں تو وہ اس کا حسن و جمال دیکھ کر ازخود رفتہ ہوگیا اور یا تو ان سے پوچھے اور تحقیق کئے بغیر کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کیا رشتہ رکھتی ہیں، یا پوچھنے اور سارہ کے یہ کہنے کے باوجودیکہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کی بہن ہیں اس نے ان پر ہاتھ ڈالنا اور ان کی عفت وعصمت کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانا چاہا مگر اللہ تعالیٰ نے سارہ کی مدد کی اور وہ ظالم پکڑا گیا۔ ایک روایت میں یا تو فاخذ کی بجائے یا اس لفظ کے ساتھ مزید فخط کا لفظ بھی نقل کیا گیا ہے بہرحال وہ عتاب الٰہی کی گرفت میں آنے کے بعد زمین پر پیر مارنے لگا یعنی جس طرح کوئی آسیب زدہ یا مرگی میں مبتلا شخص زمین پر زور زور سے پاؤں پٹختا ہے اسی طرح وہ بھی اپنے پیر پٹخنے لگا پھر اس نے سارہ سے کہا کہ میں اپنے ارادہ بد سے باز آیا تم اللہ سے دعا کرو کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دے میرا وعدہ ہے کہ میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا یعنی تمہارے ساتھ کوئی تعرض نہیں کروں گا چناچہ حضرت سارہ نے دعا کی اور اس ظالم کی خلاصی ہوگئی لیکن اس نے دوبارہ دست درازی کرنی چاہی اور پھر پہلے کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت عتاب الٰہی میں پکڑا گیا اس نے پھر حضرت سارہ سے کہا کہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دے اور میں اب صدق دل کے ساتھ یقین دلاتا ہوں کہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا حضرت سارہ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس ظالم کی گلوخلاصی ہوگئی۔ اس کے بعد اس ظالم اپنے دربانوں میں کسی کو بلایا اور کہا کہ تو میرے پاس انسان کو نہیں لایا ہے (کہ جس پر قابوپاسکتا) بلکہ تو کسی جن کو میرے پاس لے آیا ہے کہ اس پر قابو پانے کے بجائے خود الٹا مصیبت میں پھنس جاتا ہوں یہ تو تو نے میرے لئے موت کا سامان فراہم کردیا ہے پھر اس نے سارہ کی خدمت کے لئے ہاجرہ نامی ایک لونڈی دی اور ان کو واپس بھیج دیا سارہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس واپس پہنچیں تو وہ نماز پڑھنے میں مشغول تھے کیونکہ اس وقت تک ان کو اس ظالم کے پنجہ سے سارہ کی رہائی کی خبر نہیں ہوئی تھی، وہ بدستور نماز میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ تھے اور سارہ کی باعفت و عافیت واپسی کی دعائیں مانگ رہے تھے حضرت ابر اہیم (علیہ السلام) ان کو دیکھا تو نماز ہی میں اپنے ہی میں اپنے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا کا حال ہے اور تم پر کیا بیتی؟ حضرت سارہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کافر کی بدنیتی کو اس کے سینے میں ہی لوٹا دیا (یعنی اس نے مجھے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے لئے جس بدنیتی کا اظہار کیا وہ الٹے اس کے گلے پڑگئی، مجھے تو وہ کوئی نقصان پہنچا نہیں سکا خود عذاب الٰہی میں ضرور پھنس گیا تھا اور اس نے خدمت کے لئے ہاجرہ کو میرے ساتھ کردیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے (یہ حدیث بیان کرنے کے بعد) کہا کہ اے آسمان کے پانی کے بیٹو! وہی ہاجرہ تم سب کی ماں ہیں ( بخاری ومسلم)
تشریح
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کبھی جھوٹ بولا علاوہ تین جھوٹ کے۔ کے بارے میں یہ ذہن نشین رہے کہ تمام انبیاء معصوم ہیں ان سے کوئی بھی گناہ سرزد نہیں ہوسکتا خواہ وہ جھوٹ ہو یا اور کوئی معصیت، پس حدیث کے مذکورہ جملہ کی یہ مراد ہرگز نہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی زندگی میں جھوٹ جیسے گناہ کا تین بار ارتکاب کیا بلکہ ان کی طرف جھوٹ بولنے کی نسبت خود ان کی ذات کے اعتبار سے نہیں، سننے والوں کے اعتبار سے ہے، مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وہ تینوں باتیں بظاہر تو جھوٹ کی صورت میں تھیں مگر حقیقت میں جھوٹ نہیں تھا نہ تو اس اعتبار سے کہ وہ باتیں جھوٹی باتوں کے زمرہ میں آتی ہیں اور نہ اس اعتبار سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان باتوں کے ذریعہ غلط بیانی اور دروغ گوئی کا قصد و ارادہ کیا تھا اس بات کو اگر اور زیادہ خوبصورت انداز میں کہنا ہو تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ اس مقام پر کذب سے مراد یہ ہے کہ ایسا کلام جو صحیح اور پاک مقصد کے لئے بولا گیا ہو لیکن مخاطب اس کا وہ مطلب نہ سمجھے جو متکلم کی مراد ہے بلکہ ان الفاظ کو اپنی ذہنی مراد کے مطابق سمجھے۔ یہ انداز کلام معاریض یا تعریض (اشارے کنائے کہ پیرایہ بیان) کے زمرہ میں شمار کیا جاتا ہے اور فصحاء بلغاء کے ہاں اکثر رائج ہے۔ اسی ضمن میں یہ ذکر کردینا بھی ضروری ہے کہ حدیث میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے متعلق اس طرح کی صرف تین باتوں کا ذکر ہے، چوتھی بات کا ذکر نہیں ہے جو انہوں نے کواکب کو دیکھ کر کہی تھی کہ ہذاربی (یہ میرا رب ہے) اور اس کے ذکر نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بات ایام طفولیت میں کہی تھی، اس وقت چونکہ وہ کسی بھی امر کے مکلف نہیں تھے اس لئے اس چوتھی بات کا کوئی اعتبار نہیں۔ ان میں سے ایک تو ان کا یہ کہنا کہ میں آج کچھ علیل سا ہوں اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آذر اور اپنی قوم کے لوگوں کو ہر طرح سے بت پرستی کی خرابیوں کو ظاہر کرکے اس سے باز رکھنے کی سعی کرلی اور ہر قسم کے پندونصائح کے ذریعہ ان کو یہ باور کرانے میں پوری طاقت صرف کرلی کہ یہ بت نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان اور آذر اور قوم کے دلوں پر کسی بھی پندونصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوا تو انہوں یہ تدبیر سوچی کہ اب مجھ کو رشد و ہدایت کا ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہے جس سے ان لوگوں کو یہ مشاہدہ ہوجائے کہ ہم لکڑیوں اور پتھروں کی جن مورتیوں اور بتوں کو پوجتے ہیں وہ ہمارے لئے کسی بھی طرح کارگر اور فائدہ مند نہیں ہے اور ان کی ذات سے ہمیں کوئی رنج و نقصان پہنچ سکتا ہے چناچہ ایک مرتبہ قوم کا ایک اہم مذہبی میلہ لگنے والا تھا اور سب لوگ اس میں شرکت کے لئے چلنے لگے تو کچھ لوگوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے اصرار کیا کہ وہ بھی سیر کے لئے میلہ میں چلیں، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو اس موقع کی انتظار میں تھے، کہ سب لوگ یہاں سے چلے جائیں تو ان کے تمام بتوں کو توڑ پھوڑ کو اپنے ارادہ کو عملی جامہ پہناؤں، چناچہ انہوں نے پہلے تو ان لوگوں کے ساتھ جانے سے صاف انکار کیا مگر جب ان کا اصرار بہت بڑھا تو اس وقت انہوں نے کہا انی سقیم (میں آج کچھ علیل سا ہوں) ان کی یہ بات بظاہر خلاف واقعہ اور جھوٹ معلوم ہوتی ہے کیونکہ وہ اس وقت واقعتہ علیل نہیں تھے بلکہ ان کے ساتھ نہ جانے کے لئے علالت کا بہانہ کیا تھا اس کی تاویل علماء یہ کرتے ہیں انی سقیم کہنے سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مراد یہ تھی کہ ہر انسان کی طرح میرے ساتھ بھی بیماری آزاری لگی رہتی ہے اور وقتا فوقتا بیمار ہوجایا کرتا ہوں۔ پس انہوں نے ایسی مبہم بات کہی کہ اس کے ظاہری اسلوب سے تو یہ مفہوم ہوا کہ میں اس وقت بیمار ہوں تمہارے ساتھ کیسے جاسکتا ہوں لیکن حقیقت میں ان کی مراد اس کے برعکس تھی۔ بعض حضرات نے یہ لکھا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک خاص انداز سے مذکورہ بات کہہ کر ان کا دھیان ستاروں کی طرف متوجہ کردیا تھا چناچہ قوم کے لوگ اپنے عقیدہ کے لحاظ سے یہ سمجھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کسی نجس ستارے کے اثر بد میں مبتلا ہیں اور انہوں نے علم نجوم کے ذریعہ معلوم کرلیا ہے کہ وہ عنقریب بیمار ہونے والے ہیں۔ اس تاویل کا قرینہ قرآن کریم کی اس آیت کا سیاق ہے جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس جملہ انی سقیم سے اپنی جسمانی علالت مراد لی تھی بلکہ قلب کی ناسازی مراد لی تھی کہ تمہارے کفروطغیان نے مجھے دکھی کردیا ہے اور میرے دل کی حالت سقیم ہے، ایسے میں تمہارے ساتھ میرے جانے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے دوسرا کہنایہ تھا کہ بلکہ یہ کام بڑے بت نے کیا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات کا تعلق بھی مذکورہ بالا پہلے واقعہ ہی سے ہے ہوا یہ کہ جب ان کی قوم کے تمام لوگ اس میلہ میں چلے گے اور بستی خالی ہوگئی تو وہ اٹھے اور سب سے بڑے بت کے ہیکل (مندر) میں پہنچے دیکھا تو وہاں بتوں کے سامنے طرح طرح کے حلوؤں پھلوں، میوؤں اور مٹھائیوں کے چڑھاوے رکھے ہوئے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے طنزیہ لہجے میں چپکے چپکے ان مورتیوں کو خطاب کرکے کہا کہ سب کچھ موجود ہے ان کو کھاتے کیوں نہیں؟ اور پھر کہنے لگے کہ میں تم سے مخاطب ہوں کیا بات ہے کہ تم جواب نہیں دیتے اور اس کے بعد انہوں نے سب مورتیوں کو توڑ پھوڑ ڈالا اور سب سے بڑے بت کے کاندھے پر تبر رکھ کر واپس چلے گے قوم کے لوگ میلے سے واپس آئے تو انہوں نے مندر میں اپنے دیوتاؤں (بتوں) کو اس خراب حالت میں پایا اور سخت برہمی کے ساتھ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ یہ کس کی حرکت ہے؟ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہو نہ ہو یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کام ہے وہی شخص ہے جو ہمارے دیوتاؤں کی برائی کہتا ہے اور اس بستی میں اس کے علاوہ کوئی موجود بھی نہیں تھا چناچہ بڑے بڑے پجاریوں، سرداروں کے سامنے ان کی طلبی ہوئی اور مجمع عام میں ان سے پوچھا گیا کہ ابر اہیم تم نے ہمارے ان دیوتاؤں کے ساتھ یہ کیا حرکت کی ہے؟ اس وقت حضرت ابراہیم نے یہ بات کہی کہ بل فعلہ کبیرہم بلکہ یہ کام ان سب کے بڑے بت نے کیا ہے پس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ جواب بھی گویا خلاف واقعہ تھا لیکن حقیقت میں ان کے اس جواب کو جھوٹ سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کی اصل غرض اپنی گمراہ قوم کو متنبہ کرنا اور اس طرح لاجواب کردینا تھا کہ ان کے غلط عقائد کی قلعی کھل جائے چناچہ اپنے حریف کو اس کی غلطی پر متنبہ کرنے اور اس کو راہ راست پر لانے کے لئے ایک بہترین طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر اس کے ساتھ مناظرہ اور تبادلہ خیالات کا موقع آجائے تو اس کے مسلمات میں سے کسی مسلمہ عقیدہ کو صحیح فرض کرکے اس طرح اس کا استعمال کرے کہ اس کا ثمرہ اور نتیجہ حریف کے خلاف اور اپنے موافق ظاہر ہو اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مذکورہ واقعہ میں اسے طریقہ کو تیار کیا ان کی قوم خدائے واحد کے علاوہ بیشمار دیوتاؤں اور بتوں کو پوجتی تھی ان لوگوں کا عقیدہ تھا کہ یہ دیوتا اور بت سب کچھ سنتے اور دیکھتے ہیں اور ہماری مرادوں کو پورا کرتے ہیں اور اپنے اپنے ماننے والوں اور اپنے پجاریوں سے خوش ہوتے ہیں اور اپنے دشمنوں اور مخالفوں سے سخت انتقام لیتے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کی اس خام خیالی اور بدعقیدگی کو عملہ ان پر ظاہر کرنے کے لئے ان کے بتوں اور مورتیوں کو توڑ پھوڑ ڈالا اور بڑے بت کو چھوڑ دیا پھر جب پوچھ گچھ کی نوبت آئی تو انہوں نے مناظرہ کا وہی بہترین طریقہ اختیار کیا جس کا ذکر اوپر کیا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی قوم پر یہ بات پوری طرح عیاں ہوگئی کہ جو بت اپنے کو شکست دریخت سے نہ بچا سکے اور اپنے کسی دشمن کی توڑ پھوڑ کا مقابہ نہ کرسکے وہ کسی دوسرے کو کیا نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں اور عبادت و پرستش کے قابل کیسے ہوسکتے ہیں بعض حضرات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مذکورہ جواب کی ایک اور تاویل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو یہ کہا بل فعلہ کبرہم تو کبیرہم سے ان کی مراد اللہ تعالیٰ کی ذات تھی گویا اس جملہ کا مطلب یہ تھا کہ ان بتوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ اس ذات (یعنی اللہ تعالیٰ ) کی طرف سے ہوا ہے جو سب سے بڑا ہے اور جس کے سامنے کسی کی نہیں چلتی۔ اب تیسرے جھوٹ کو لیجئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت سارہ بارے میں کہا تھا کہ یہ میری بہن ہے یہ بات بظاہر خلاف حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو اپنی بہن بتایا، لیکن اگر اس بات کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اصل مراد کے سیاق میں دیکھا جائے تو ان کا یہ کہنا کہ یہ میری بہن ہے خلاف حقیقت نہیں ہوگا کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت سارہ ہم مذہب (دین اسلام کے پیر و) ہونے کی حیثیت سے دینی بھائی بہن تھے جیسے کہ خود قرآن نے فرمایا ہے انما المؤمنون اخوۃ، تمام اہل ایمان ایک دوسرے کے ساتھ اخوت کا تعلق رکھتے ہیں اور ظاہر ہے بیوی کا رشتہ قائم ہوجانے سے دینی اخوت کا رشتہ منقطع نہیں ہوجاتا علاوہ ازیں حضرت سارہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چچا حاران کی بیٹی تھیں اور اس اعتبار سے ان کو بہن کہنا ایسی بات ہرگز نہیں ہے جس پر حقیقی جھوٹ کا اطلاق ہوسکے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا سارہ سے یہ کہنا کہ اس سر زمین میں سوائے میرے اور تمہارے کوئی دوسرا مؤمن نہیں ہے۔ صورت حال کا صحیح بیان تھا کیونکہ اس وقت وہاں کوئی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان نہیں لایا تھا اور اس شہر میں دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا شخص مؤمن و مسلمان نہیں تھا، لہذا اس موقع پر یہ اشکال پیدا نہیں ہوسکتا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس سر زمین پر صرف دو مؤمنوں (یعنی ایک خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور دوسرے حضرت سار ہ) کے موجود ہونے کی بات کیسے کہی؟ ایک تیسرے مؤمن حضرت لوط (علیہ السلام) بھی تو تھے جیسا کہ قرآن کریم کی شہادت ہے فامن لہ لوط پس ایمان لائے لوط (علیہ السلام)، ابراہیم (علیہ السلام) (کے دین) پر۔ ہاں، یہ اشکال اس صورت میں تو پیدا ہوسکتا تھا جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس جملہ کی مراد یہ ہوئی کہ پوری دنیا میں ہم دونوں کے علاوہ کوئی اور مؤمن نہیں ہے، یا یہ کہ اس وقت ان دونوں کے ساتھ کے علاوہ کوئی اور مؤمن نہیں ہے، یا یہ کہ اس وقت ان دونوں کے ساتھ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی اس شہر میں ہوتے۔ حضرت شیخ عبد الحق نے مذکورہ جملہ کی تشریح میں یہ لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس موقع پر اسلام کے رشتہ اخوت کو صرف اپنی اور سارہ کی ذات تک جو محدود رکھا تو شاید اس کی بنیاد دین اسلام کی وہ نسبت تھی جوان کو اصالتا حاصل تھی اور ان کے تعلق کا وہ خاص شرف تھا جو حضرت سارہ کو حاصل تھا۔ حضرت شیخ نے جملہ کے تحت ایک اور اشکال اور اس کا جواب نقل کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس جابر حاکم کے سامنے واضح طور پر یہی کیوں نہ کہا کہ یہ عورت میری بیوی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو جو مقصد حضرت سارہ کو بہن سے تعبیر کر کے حاصل کرنا چاہتے تھے وہی مقصد وہ بیوی بتا کر بھی حاصل کرسکتے تھے کیونکہ پہلے زمانوں کے بدقماش لوگوں کا بھی ایک اصول تھا، وہ کسی شخص سے اس کی بیوی کو کم ہی چھینتے تھے؟ دوسرے یہ کہ وہ جابر حاکم اگر اتنا ہی ظالم اور بوالہوس تھا تو اس کو اس بات سے کیا سروکار تھا کہ کوئی عورت کسی کی بہن یا بیوی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس جابر حاکم کی ایک خاص عادت تھی کہ وہ کسی شخص سے اس کی بہن کو نہیں چھینتا تھا لیکن شوہر سے اس کی بیوی کو ضرور لے لیتا تھا، علاوہ ازیں وہ حاکم مذہب کے اعتبار سے آتش پرست تھا اور آتش پرستوں میں بہن اور بھائی کے رشتہ کی ایک خصوصی اہمیت تھی یہاں تک کہ بڑے سے بڑا بوالہوس آتش پرست بھی کسی کی بہن پر بری نظر نہیں ڈال سکتا تھا اور اپنے اس مذہبی اصول کا احترام کرتا تھا کہ جو عورت اپنے کی تولیت اور کفالت میں ہے یا جس عورت کو کسی شخص نے اپنی بہن بتادیا ہے وہ ہر طرح سے محفوظ ومامون ہے اور اس کا بھائی ہی اس کے بارے میں تمام تر حق اختیار رکھتا تھا۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے چاہا کہ اسی کے دین کا سہارا لیں اور سارہ کو اس ظالم کے چنگل سے بچانے کے لئے ایسی بات کہی جو بالکل ہی خلاف واقعہ نہ ہو اور وہ ظالم بھی اپنے برے ارادے سے باز آجائے۔ یہ اور بات ہے کہ اس ظالم پر شیطان کی گرفت اتنی سخت تھی کہ اس نے نہ تو اپنے دین کے اصول کا احترام کیا اور نہ اپنی قماش کے لوگوں کی روایت و عادت کا لحاظ رکھا بلکہ حضرت سارہ کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے درپے ہوا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے۔ یعنی وہ حضرت سارہ کو اس حاکم کی طرف روانہ کرکے خود نماز پڑھنے اور رب العزت میں عرض ومناجات کے لئے کھڑے ہوگئے تاکہ اپنے پروردگار سے التجاء کریں کہ اس کی قدرت کاملہ سارہ کی عزت کو محفوظ رکھے اور انہیں سخت ترین پریشانی سے نجات دے۔ چناچہ اللہ کے مقرب بندوں کی یہی عادت ہے کہ جب انہیں کوئی سخت پریشانی لاحق ہوتی ہے اور وہ رنج و مصیبت میں گھر جاتے ہیں تو نماز پڑھنے لگتے ہیں اور ان کا یہ عمل قرآن کریم کی اس آیت کے بموجب ہوتا ہے۔ (يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ) 2۔ البقرۃ 153) اے ایمان والو! صبرو نماز کے واسطہ سے اللہ کی مدد چاہو۔ ذہب یتاولہا بیدہ فاخد میں لفظ اخذ (پکڑا گیا) تخفیف کے ساتھ مجہول کا صیغہ ہے، اس لفظ کی وضاحت میں تین قول ہیں ایک تو یہ کہ جب اس ظالم نے برے ارادے کے ساتھ حضرت سارہ کو اپنے قبضہ میں کرنا چاہا تو قدرت الہٰی نے سارہ کی اس طرح مدد کی کہ وہ ظالم اپنے برے ارادے سے باز رکھا گیا۔ دوسرے یہ کہ وہ ظالم اپنے ارادہ بد کی پاداش میں فورا پکڑا گیا اور اس پر عذاب خداوندی نازل ہوگیا۔ اور تیسرا قول یہ ہے کہ جونہی اس نے حضرت سارہ پر ہاتھ ڈالنا چاہا اس پر بیہوشی طاری کردی گئی۔ واضح رہے کہ ایک روایت میں لفظ فعظ بھی مجہول کا صیغہ ہے، معنی یہ ہیں کہ اس کا گلا گھونٹا گیا اور دم سا رک گیا۔ یا یہ کہ اس کے حلق سے اس طرح کی آواز (خرخراہٹ) نکلنے لگی، جیسے سوئے ہوئے شخص کے خر اٹے کی ہوتی ہے۔ پھر اس نے سارہ کی خدمت کے لئے ہاجر نام کی ایک لونڈی دی۔ مطلب یہ کہ جب اس حاکم نے حضرت سارہ کی بزرگی کا اس طور پر مشاہدہ کیا اور جان لیا کہ یہ کوئی معمولی عورت نہیں ہے بلکہ اپنے اللہ کے نزدیک بہت بلند مقام و مرتبہ اور کمال درجہ کا تقرب رکھتی ہے تو اس نے نہ صرف یہ کہ بڑے خوف اور دہشت کے ساتھ ان کو واپس بھیج دیا بلکہ ان کی خدمت کے لئے ایک لونڈی ان کے ساتھ کردی جن کا اصل نام ہاجر یا آجر تھا مشہور ہاجر ہے۔ حضرت سارہ کے بطن سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کوئی اولاد نہیں ہوتی تھی، چناچہ حضرت سارہ نے حضرت ہاجرہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش کردیا اور کہا کہ مجھے امید ہے کہ اس کے بطن سے آپ کے یہاں بچہ ہوگا۔ ان دنوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سو برس کی عمر کے ہوچکے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ہاجرہ کے بطن سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک فرزند حضرت اسماعیل (علیہ السلام) عطا فرمایا اور آخر میں حضرت سارہ کی گود ہری ہوئی اور ان کے بطن سے حضرت اسحٰق (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ اے آسمان کے پانی کے بیٹو!۔ یہ حضرت اسماعیل کی اولاد یعنی اہل عرب سے خطاب ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓ کا ان ( اہل عرب) کو آسمان کے پانی سے تعبیر کرنا ان کی نسلی ونسبی شرف و عظمت کے اظہار کے طور پر تھا کیونکہ آسمان کا پانی نظافت و پاکیزگی کے لئے ضرب المثل ہے، چناچہ کہا جاتا ہے فلاں شخص آسمان کے پانی سے زیادہ پاک وصاف ہے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اہل عرب کو بنی ماء السماء (آسمان کے پانی کے بیٹے، اس کہا تھا کہ وہ بارش کے انتظار میں رہتے تھے، جہاں بارش ہوتی وہاں جاکررہ جاتے تھے۔ بعضوں نے کہا ہے کہ بنی ماء السماء سے انصار مراد ہیں کیونکہ وہ عامر بن حارثہ ازدی کی اولاد ہیں جو نعمان بن منذر کا دادا تھا اور اس کا لقب ماء السمائ سے مراد یہ زمزم ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے بنی ماء السماء کی ذریعہ اس طرف اشارہ کیا کہ زمزم کا چشمہ حضرت اسماعیل کی وجہ سے نمودار ہوا تھا اس کا پانی، آسمان قدس و طہارت سے اس زمین پر آیا تھا اور یہ کہ زمین سے جو فوائد وفیوض برآمد ہوتے ہیں وہ سب صانع حقیقی اللہ تعالیٰ آسمان سے ہی بھیجتا ہے۔ یہ بھی وضاحت ضروری ہے کہ اگرچہ تمام اہل عرب حضرت ہاجرہ ہی کے بطن سے تعلق نہیں رکھتے لیکن ان میں سے اکثر وبیشتر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہی کی اولاد میں سے ہیں اس لئے اکثر واغلب کا اعتبار کرتے ہوئے تمام ہی اہل عرب کو بنی ماء السماء سے خطاب کیا گیا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت یوسف (علیہ السلام) سے متعلق بعض اہم واقعات کا ذکر :
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نحن أحق بالشك من إبراهيم إذ قال : ( رب أرني كيف تحيي الموتى ) ويرحم الله لوطا لقد كان يأوي إلى ركن شديد ولو لبثت في السجن طول ما لبث يوسف لأجبت الداعي . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ شک کرنے کے لائق ہیں، جب انہوں نے کہا تھا رب انیٰ کیف تحی الموتٰی (اے پروردگار مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح جلائے گا) اور اللہ تعالیٰ حضرت لوط (علیہ السلام) پر رحم کرے جو رکن شدید کا سہارا پکڑنا چاہتے تھے۔ اور اگر میں قید خانے میں اتنی طویل مدت تک رہتا جتنی مدت حضرت یوسف (علیہ السلام) رہے تو میں یقینا بلانے والے کی دعوت قبول کرلیتا۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جس شک کا ذکر کیا گیا ہے اس کا تذکرہ قرآن کریم میں یوں ہے۔ (وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھ مُ رَبِّ اَرِنِيْ كَيْفَ تُ حْيِ الْمَوْتٰى قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰي وَلٰكِنْ لِّيَطْمَى ِنَّ قَلْبِىْ ) 2۔ البقرۃ 160) اور (وہ وقت قابل ذکر ہے) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کی کہ اے پروردگار مجھے دکھادے کہ تو مردوں کو کس طرح جلائے گا ارشاد ہوا کیا آپ (علیہ السلام) کو یقین نہیں ہے، عرض کی کہ ضرور ہے، لیکن (یہ درخواست) اس لئے ہے کہ قلب کو (اور) اطمینان ہوجائے۔ اور اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ شک کرنے کے لائق ہیں۔ تو اس کی وضاحت یہ ہے کہ جب مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی تو صحابہ میں کچھ حضرات نے (آنحضرت ﷺ کی عظمت اور برتری ظاہر کرنے کے لئے) کہا کہ یہ شک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہوا ہمارے حضرت محمد ﷺ نے اس طرح کا شک ظاہر نہیں کیا۔ آنحضرت ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ شک کرنے کے لائق ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے ظاہری اسلوب سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نہ صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بلکہ اپنی ذات شریف کے لئے بھی مذکورہ شک کا اثبات کیا حالانکہ دونوں کا اس طرح کے شک میں مبتلا ہونا امر محال ہے کیونکہ انبیاء کرام صلوٰت اللہ وسلامہ اجمعین جن کی ذات ایمان وایقان کا اولین مظہر بلکہ اصل اور بنیاد ہوتی ہے اور جن کا وجود طمانیت وعرفان کا سرچشمہ ہوتا ہے، فطری طور پر شک وتردد سے محفوظ ومامون ہوتے ہیں، ان میں عدم ایقان اور شک وشبہ کے وجود کے کوئی معنی نہیں۔ لہٰذا مذکورہ ارشاد سے آنحضرت ﷺ کی مراد وہ نہیں ہے جس کا تقاضا ظاہری اسلوب کرتا ہے بلکہ آپ ﷺ کی اصل مراد یہ ہے کہ اس آیت کریمہ سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے جو درخواست کی اس کا تحریک احیا موتی کے نفس وقوع میں کوئی شک وشبہ تھا، وقوع پر تو ان کو پورا ایمان وایقان تھا، وہ صرف مراتب عرفان اور کمالات ایقان میں ترقی کے طلب گار تھے، علم الیقین سے اور آگے بڑھ کر علم الیقین کے درجہ پر پہنچنے کے متمنی تھے جس کو اطمینان قلبی سے تعبیر کیا، یعنی ان کا مدعا یہ تھا کہ احیاء موتی کے وقوع پر ایمان کے درجہ تک تو یقین اب بھی حاصل ہے، صرف یہ چاہتا ہوں کہ مشاہدہ بھی حاصل ہوجائے تاکہ اطمینان قلب کی دولت میں اور اضافہ ہو۔ ان صحابہ پر اسی بات کو واضح کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ نے یہ پیرایہ بیان اختیار فرماتے ہیں کہ دیکھو شک وتردد اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) میں راہ پاسکتا تو یقینا ہم میں بھی راہ پاتا اور تم یہ جانتے ہی ہو کہ ہم میں شک وتردد کا کسی طرح گذر نہیں ہوتا لہٰذا جان لو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی ہماری ہی طرح کمال ایقان وعرفان کے درجہ پر فائز تھے اور ان کے دل و دماغ میں بھی کسی طرح کا کوئی شک وتردد راہ پائے ہوئے نہیں تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مذکورہ درخواست کے بارے میں ایک قول یہ بھی ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے یہاں کے بادشاہ وقت نمرود اور قوم کے لوگوں کے قلب و دماغ میں خدائے واحد کا یقین پیدا کرنے کے لئے یہ دلیل پیش کی کہ میرا رب تو وہ ہے جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے، تو اس موقع پر انہوں نے پروردگار کے حضور یہ درخواست گذاری تاکہ ان کی پیش کردہ دلیل سب کے مشاہدہ میں بھی آجائے۔ بحرحال آنحضرت ﷺ کے مذکورہ ارشاد گرامی کے بین السطور سے آنحضرت ﷺ کی ذات شریف پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فضیلت و برتری کا اظہار ہوتا ہے حالانکہ آنحضرت ﷺ کا تمام انبیاء سے افضل وبرترہونا ثابت شدہ حقیقت ہے یہ باعث خلجان بات ہے، چناچہ اسی خلجان واشکال کو دور کرنے کے لئے شارحین نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تعلق سے یہاں جو کچھ فرمایا ہے وہ انکسار و تواضع کے طور پر ہے، یا یہ کہ آپ ﷺ کا یہ اشارہ اس وحی کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے کہ آپ تمام اولاد آدم (علیہ السلام) کے سردار اور سب سے افضل ہیں یہی توجیہ ہر اس حدیث کی ہے جو آنحضرت عدم فضیلت کا مفہوم ظاہر کرتی ہے۔ جو رکن شدید کا سہارا پکڑنا چاہتے تھے۔ رکن، اصل میں کسی بھی چیز کے مضبوط کنارے یا مضبوط ستون کو کہتے ہیں اور یہاں رکن شدید سے مراد مضبوط اور طاقت ور لوگوں کی جماعت ہے حدیث کے اس جملہ میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اپنی بدعملی، سرکشی، بےحیائی اروخبث اخلاقی گرواٹ (ہم جنس یعنی مرد لڑکوں سے اختلاط) میں حد سے تجاوز کرگئی اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے ابلاغ حق، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اس پر مطلق کچھ اثر نہیں ہوا، تو آخر کار حق تعالیٰ کی طرف سے ان کی سزا و بربادی و ہلاکت کا فیصلہ ہوگیا، چناچہ عذاب کے فرشتے قوم لوط کے شہر سدوم میں اترے اور آدمیوں کی شکل و صورت میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے یہاں مہمان ہوئے، یہ فرشتے نہایت حسین و خوبصورت اور عمر میں نواجون لڑکوں کی شکل و صورت میں حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان مہمانوں کو دیکھا تو گھبراگئے اور ڈرے کہ بدبخت قوم کے لوگ میرے ان مہمانوں کی ساتھ نہ معلوم کیا سلوک کریں گے، اس وقت تک حضرت لوط (علیہ السلام) کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ یہ اللہ کے پاک فرشتے ہیں اور اس بدبخت قوم کے لئے عذاب الہٰی کا فیصلہ لے کر آئے حضرت لوط (علیہ السلام) نے اسی پریشانی اور تردد میں تھے کہ قوم کو خبر لگ گئی اور یہ مطالبہ لے کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے مکان پر چڑھ آئے کہ ان (مہمانوں) کو ہمارے حوالہ کرو، حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو اس وقت بھی بہت سمجھایا، ان کی بدفطری پر ان کو غیرت عار دلائی اور کوشش کی یہ بدبخت ان معزز اور پاکباز نوعمر مہمانوں کے تئیں اپنی بری نیت اور ارادہ بد سے باز آجائیں اور جب انہوں نے دیکھا کہ ان لوگوں کے سیاہ دلوں پر کوئی اثر نہیں ہورہا ہے اور سب کے سب ان کے مہمانوں کے ساتھ بداخلاقی پر تلے ہوئے ہیں، تب پریشان خاطر ہو کر انہوں نے فرمایا۔ لوان لی بکم قوۃ اواوی الی رکن شدید۔ کاش تمہارے مقابلہ کی مجھے (ذاتی) طاقت حاصل ہوتی یا (طاقتور ساتھیوں اور حمایتوں کی صورت میں) کوئی مضبوط سہارا ہوتا جس کا آسرا پکڑا جاسکتا ( اور ان مہمانوں کو تمہارے شر سے محفوظ رکھتا۔ پس آنحضرت ﷺ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی اسی حسرت و تمنا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ لوط (علیہ السلام) پر رحم کرے کہ وہ انسانی طاقت وقوت کا سہارا چاہنے لگے تھے حالانکہ اصل سہارا اللہ تعالیٰ کی قدرت و طاقت اور اس کی حفاظت و حمایت کا ہے کہ اہل عرب کے کلام کا یہ خاص اسلوب ہے کہ جب وہ کسی شخص کے ایسے قول وفعل کا ذکر کرتے ہیں جو تقصیر سے تعلق رکھتا ہو یا اس کو وہ کام و کلام نہ کرنا چاہے تھا کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو معاف فرمائے کہ اس نے ایسا کام کیا یا ایسی بات کہی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مذکورہ ارشاد کے ذریعہ کیا اس طرف اشارہ فرمایا کہ نعوذ باللہ حضرت لوط (علیہ السلام) اللہ کی قدرت پر بھروسہ نہیں رکھتے تھے جو کسی رکن شدید کی پناہ کے طالب ہوئے جواب ہے کہ ہرگز نہیں کیونکہ ایسا سمجھنا نہ صرف یہ کہ خلاف واقعہ ہم بلکہ انبیاء (علیہم السلام) کے طریق ادب کے بھی منافی ہے، جہاں تک حضرت لوط (علیہ السلام) کے رکن شدید کی پناہ طلب کرنے کا سوال ہے، تو حضرت لوط (علیہ السلام) اللہ کو بھول کر کسی اور کی پناہ کے طالب نہیں تھے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وقت اپنی قوم کے ارادہ بد کو دیکھ کر اس قدر پریشان اور اس درجہ قابل رحم حالت میں تھے کہ طبعی طور پر ان کی یہ تمنا ہوئی کہ کاش! اللہ تعالیٰ میری مدد فرماتا اور اتنی طاقت وقوت عطا فرما دیتا کہ میں اسی وقت ان بدبختوں کو ان کی خباثت کا مزہ چکھا دیتا، چناچہ ان کے پروردگار نے آخر ان کی مدد کی اور ان فرشتوں نے (جو نوعمر مہمانوں کی شکل و صورت میں ان کے یہاں آئے تھے) ان پر اپنا راز ظاہر کردیا اور ان کو تسلی دی کہ آپ پریشان نہ ہوں۔، زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ یہ بدبخت اپنی بد کر داری کے عبرتناک انجام تک پہنچ جائیں گے۔ رہی آنحضرت ﷺ کے ارشاد کی بات، تو جب آنحضرت ﷺ عام لوگوں تک کی غیبت اور عیب جوئی سے منع فرماتے تھے خواہ وہ زندہ ہوں یا وفات پاچکے ہوں تو یہ تصور کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ ایک نبی مرسل (لوط (علیہ السلام) کے بارے میں ایسی بات فرمائیں جو ان کے رتبہ ودرجہ کو کم کرنے یا ان کی کم ہمتی کے اظہار کی موسم ہو، پس آپ ﷺ کے اس ارشاد کی مراد دراصل یہ واضح کرنا تھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) ایک انسان تھے اور ایسے نازک وقت میں ان کی بشری جبلت کا اندورنی تقاضا یہ ہوا کہ کہ وہ ان بد کردار اور اوباش لوگوں کو مزہ چکھانے کے لئے مضبوط طاقتور لوگوں کی مدد کے متمنی ہوں اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے اس عمل میں ہمارے لئے یہی جواز موجود ہے کہ اس طرح کے موقعوں پر ہم عالم اسباب سے تعلق رکھنے کی وجہ سے مادی و دنیاوی وسائل و ذرائع سے مدد لے سکتے ہیں باوجودیکہ ہر حالت میں ہمارا اصل بھروسہ رب الارباب پر ہوتا ہے اور ہم حقیقی سہارا اسی کی مدد و نصرت کو جانتے اور مانتے ہیں۔ اب ایک بات اور رہ جاتی ہے کہ پھر آنحضرت ﷺ نے اپنے اس ارشاد کی ابتدا یرحم اللہ کے الفاظ سے کیوں کی؟ تو حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ نے یہ الفاظ استعمال ہی اس لئے فرمائے کہ کوئی شخص حضرت لوط (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو کسر شان پر محمول نہ کرے اور اس کی وہم میں مبتلانہ ہوجائے کہ انہوں نے رکن شدید کا جو سہارا تلاش کیا تھا اس سے ان کے درجہ و مرتبہ کی تنقیص ہوئی یا اس کی وجہ سے ان کی ذات پر کوئی اعتراض وارد ہوتا ہے۔ کلام کے شروع میں اس طرح کے الفاظ کا استعمال محض دعا وتعظیمیا شان و مرتبہ کے تقدس و احترام کو باقی رکھنے کے لئے بھی ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کی اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو مخاطب فرمایا گیا ہے۔ عفا اللہ عنک لم اذنت لہم اللہ تعالیٰ آپ کو معاف کرے، آپ ﷺ نے ان کو اجازت کیوں دے دی تھی۔ اگر قید خانہ میں اتنی طویل مدت تک رہتا۔۔۔۔ الخ۔۔ حدیث کے اس آخری جملہ کا تعلق حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مدح و تعریف سے ہے جس میں ان کے ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ کرکے ان کے صبر وثبات کے کمال کو ظاہر فرمایا گیا ہے، اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو عزیر مصر نے ایک غلام کے طور پر خریدا اور اپنے گھر لایا تو ان کے ساتھ غلاموں کا سا معاملہ نہیں کیا بلکہ اپنی اولاد کی طرح عزت و احترام کے ساتھ رکھا اور گھریلو زندگی کی تمام ذمہ داریاں ان کے سپرد کردیں، حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جوانی کا عالم تھا۔ جمال و رعنائی اور حسن وخوبروئی کے پیکر تھے، ادھر یہ کہ ہر وقت کا ساتھ، عزیر مصر کی بیوی دل پر قابو نہ رکھ سکی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) پر پروانہ وار نثار ہونے لگی، مگر حضرت یوسف (علیہ السلام)، جو خانوادہ نبوت کے چشم وچراغ اور منصب نبوت کے لئے منتخب تھے، بھلا ان سے یہ کس طرح ممکن تھا کہ بےکرداری اور فحش میں مبتلا ہو کر عزیر مصر کی بیوی کے ارادہ بد کو پورا کردیتے، اس عورت نے پہلے تو آرائش حسن وزینت کی بےپناہ نمائش اور عشوہ طرازیوں کی بارش کے ذریعہ ان کو اپنے جال میں پھانسنا چاہا اور جب کامیاب نہ ہوئی تو زبردستی پر اتر آئی، مگر خدا نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس کے خبث نفس کی گرفت سے بچالیا، پھر اس عورت کے ناکام عشق کا بھید اس کے شوہر عزیر مصر پر بھی کھل گیا لیکن اس نے حقیقت حال سے آگاہ ہو کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ستائش کی اور اپنی عورت کو فہمائش کی اور خفت و رسوائی سے بچنے کے لئے معاملہ کو دبا دیا، مگر بات پوشیدہ نہ رہ سکی اور شدہ شدہ شاہی خاندان کی عورتوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں اور عزیر مصر کی بیوی اپنی ہم جو لیوں اور سہیلیوں کی طنز وتعریض کا نشانہ بن کر رہ گئی اس صورت حال نے اس کو بوکھلادیا اور اس نے طے کیا کہ طنز وتعریض کرنے والی عورتوں کو ایسا سبق دینا چاہے کہ وہ جس بات پر مجھ پر چھینٹے اڑاتی ہیں خود اس میں مبتلا ہوجائیں۔ چناچہ ایک دن اس نے شاہی خاندان اور عمائدین شہر کی عورتوں کو دعوت دی اور جب سب نے دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھانے کے لئے چھری کانٹے ہاتھ میں لئے تو عزیر مصر کی بیوی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ باہر آئیں، وہ مالکہ کا حکم سن کر باہر نکلے اور جب عورتوں نے جمال یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا تو رخ انور کی تابانی سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ چیزیں کاٹنے کے بجائے چھری کانٹوں سے ہاتھ کاٹ لئے اور یہ دیکھ کر عزیر مصر کی بیوی بہت محفوظ ہوئی اور فخرہ انداز میں کہنے لگی کہ یہی وہ غلام ہے جس کے عشق و محبت کے بارے میں تم نے مجھے مطعون کر رکھا ہے اور تیرا ملامت کانشانہ بنایا ہوا ہے، اب بتاؤ میرا عشق بیجا ہے یا بجا؟ عزیرمصر کی بیوی نے اس وقت یہ بھی کہا کہ بیشک میں نے اس شخص کو اپنے قابو میں کرنا اور اس کے دل کو اپنے پیجہ عشق میں لینا چاہا مگر یہ میرے قابو میں نہیں آیا، اب میں یہ کہے دیتی ہوں کہ اس نے میرا کہا نہ مانا تو قیدخانہ کی ہوا کھائے گا اور بےعزت ہو کر رہے گا، معاملہ جب اس حد تک پہنچ گیا تو عزیر مصر نے باوجودیکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو پاکباز اور پختہ کردار پرکھ لیا تھا، اپنی بیوی کی فضیحت و رسوائی دیکھ کر یہ طے کرلیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو کچھ عرصہ کے لئے قید خانہ میں ڈال دے تاکہ یہ معاملہ لوگوں کے دلوں سے محو ہوجائے اور چرچے بند ہوجائیں اور اس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قید خانہ میں بند کردیا گیا۔ وہ نو برس تک قید خانہ میں پڑے رہے تاآنکہ بعض واقعات کے نتیجہ میں مصر کا بادشاہ فرعون تک ان کی بزرگی، جلالت قدر اور عظمت شان کا قائل ہوگیا تو اس نے ان کی رہائی کا حکم جاری کردیا، لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے قید خانے سے باہر آنے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ پہلے میرے معاملہ کی تحقیق کرو اور جن عورتوں نے مجھے دیکھ کر اپنی انگلیاں کاٹ لی تھیں ان سے میرے کردار اور پاکیزگی کی چھان بین کرو، جب تک معاملہ کی اصل صورت سامنے نہیں آجائے گی اور میرا بےقصور اور صاحب عصمت ہونا پوری طرح ظاہر وثابت نہیں ہوجائے گا میری عزت نفس جیل سے باہر آنا گوارا نہیں کرے گی، پس آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر یوسف (علیہ السلام) کی جگہ میں ہوتا اور مجھے اتنی طویل مدت تک قید خانہ میں رہنا پڑجاتا تو رہائی کا پروانہ آتے ہی اس کو قبول کرلیتا اور جیل سے باہر آنے میں کوئی توقف نہ کرتا، نہ اس بات کا مطالبہ کرتا کہ صورت حال کی مکمل تحقیق وتفتیش ہو اور نہ اس تحقیق وتفتیش کے نتیجہ کے ساتھ اپنی رہائی کو مشروط کرتا! یہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زبردست تعریف وتحسین اور ان کے صبر وثبات اور متانت رائے کا اظہار و اعتراف ہے کہ ایسی صورت میں جب کہ کوئی شخص ایک مدت درازتک جیل کی کوٹھری میں بند اور وہاں کے مصائب وآلام میں مبتلا رہے اور جب اس کی رہائی کا پروانہ آئے تو وہ شخص اپنی عزت نفس کی خاطر اس پروانے کو ٹھکرادے اور جیل سے باہر آنے سے اس وقت تک کے لئے انکار کردے جب تک کہ اس کو بالکل بےداغ اور بےقصور قرار نہ دے دیا جائے۔ صبر و استقامت کی ایک ایسی مثال ہے جس کا کسی اور کے لئے تصور نہیں کیا جاسکتا۔ یہ صرف حضرت یوسف (علیہ السلام) ہی کا کمال تھا کہ انہوں نے بےمثل کردار کا ثبوت دیا تاہم یہ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اس کردار اور ان کی شان استقامت کا ذکر جس انداز میں فرمایا وہ تواضع وکسرنفسی پر محمول ہے ورنہ خود آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی صبر و استقامت کا ایسا پیکر جلیل تھی جو حضرت یوسف (علیہ السلام) ہی کے اس صبر و استقامت پر بھاری نہیں ہے بلکہ آپ ﷺ کا یہ وصف تمام اولو العزم انبیاء سے بلند وبالا ہے۔
حضرموسی (علیہ السلام) اور ایذاء بنی اسرائیل :
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن موسى كان رجلا حييا ستيرا لا يرى من جلده شيء استحياء فآذاه من آذاه من بني إسرائيل فقالوا : ما تستر هذا التستر إلا من عيب بجلده : إما برص أو أدرة وإن الله أراد أن يبرئه فخلا يوما وحده ليغتسل فوضع ثوبه على حجر ففر الحجر بثوبه فجمع موسى في إثره يقول : ثوبي يا حجر ثوبي يا حجر حتى انتهى إلى ملأ من بني إسرائيل فرأوه عريانا أحسن ما خلق الله وقالوا : والله ما بموسى من بأس وأخذ ثوبه وطفق بالحجر ضربا فوالله إن بالحجر لندبا من أثر ضربه ثلاثا أو أربعا أو خمسا . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک نہایت شرمیلے اور سخت پردہ کا اہتمام رکھنے والے آدمی، ان پر شرم وحیا کا اتنا غلبہ تھا کہ (پورے بدن کو ہر وقت ڈھانپے رہتے تھے اور) ان کے جسم کی کھال کا کوئی بھی حصہ دکھائی نہ دیتا تھا، ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے ان کو ایذاء اور رنج پہنچانا چاہا تو انہوں نے مشہور کردیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے جسم کو اس قدر احتیاط و اہتمام کے ساتھ اس لئے ڈھانپے رہتے ہیں کہ ان کے جسم میں کوئی عیب ہے، یا تو برص (کوڑھ) ہے یا خصیے پھولے ہوئے ہیں (جب یہ بات بہت پھیل گئی تو) اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ جو عیب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر لگایا جارہا ہے اس سے ان کو محفوظ ومامون رکھے اور ان کی بےعبیی کو ظاہر وثابت کرے، چناچہ ایک دن جب کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک پوشیدہ جگہ نہانے کے لئے گئے اور اپنے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھے دیئے تو وہ پتھر ان کے کپڑوں کو لے کر بھاگا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے (یہ ماجرا دیکھا تو نہایت حیرانی و اضطراب کے عالم میں) اس پتھر کے پیچھے یہ کہتے ہوئے دوڑے کہ اے پتھر میرے کپڑے دے، ارے او پتھر میرے کپڑے دے، یہاں تک کہ (آگے آگے پتھر اور اس کے پیچھے پیچھے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دوڑتے ہوئے بنی اسرائیل کے لوگوں کے ہجوم تک پہنچ گئے، ہجوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا برہنہ جسم دیکھا تو ان کو اللہ کی مخلوق میں ایک بہترین اور بےعیب جسم کا انسان پایا، تب انہوں نے (بیک آواز) کہا کہ اللہ کی قسم، موسیٰ کا بدن کسی بھی عیب و نقصان سے مبرا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پتھر کو (لاٹھی سے) مارنا شروع کیا، اللہ کی قسم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مارنے کی وجہ سے اس پتھر پر نشان پڑگئے، تین نشان یا چار نشان یا پانچ نشان۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
بنی اسرائیل اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کس طرح سخت اذیت و تکلیف پہنچاتے تھے اس کا اندازہ اس حدیث میں مذکورہ واقعہ سے کیا جاسکتا ہے، بت پرستی کی فرمائش، گوسالہ پرستی میں انہماک، قبول تورات سے انکار، ارض مقدس میں داخلہ سے انکار اور من وسلوی پر ناسپاسی حتیٰ کہ ان کی ذات پر بہتان ترازی اور تہمت تراشی ایسی کونسی قولی فعلی ایذاء تھی جو ان کی طرف سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نہیں پہنچی یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اولو العزمی اور ان کے صبر وضبط کا کمال تھا کہ وہ اپنی قوم کی ہر ایذاء کو برداشت کرتے اور اپنے اللہ کی طرف سے رشد و ہدایت کے پیغام میں انہماک کے جذبہ عمل کو سرد نہیں ہونے دیتے تھے اور ان کے اللہ کا ان پر انعام تھا کہ ہر مرحلہ پر اس نکمی اور پست قوم کے مقابلہ پر ان کو سرخ روئی اور عزت عطاہوئی تھی۔ جب بدبخت قوم کے لوگوں نے ان کے وصف شرم وحیا کی تحسین و تقلید کے بجائے ان کی ذات کو عیب دار بنانے کا بیڑا اٹھا لیا اور پوری قوت کے ساتھ یہ مشہور کردیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے جسم کو زیادہ چھپاتے ہیں اور اپنے بدن کے ان حصوں پر بھی نگاہ نہیں پڑنے دیتے جو ستر میں شامل نہیں ہیں یہاں تک کہ سب کی نظروں سے چھپ کر تنہائی میں نہاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے حصہ جسم پر برص کے داغ ہیں، یا ان کے خصیے پھول گئے ہیں، یا کوئی اسی قسم کا خراب مرض ان کو لاحق ہے چناچہ حق تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بےعیب اور باوجاہت بدن کا عام مشاہدہ کرادیا جائے تاکہ لوگ اپنی آنکھوں سے حقیقت حال کو دیکھ لیں اور ایک رسواکن شہرت کی قلعی کھل جائے اس طرح پتھر کا کپڑا لے کر بھاگنے کا وہ واقعہ پیش آیا جس کا حدیث میں ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کی ہدایت اور دینی خدمت کی راہ میں سرگرم عمل رہنے والے اپنے برگزیدہ بندوں کو ہر اس عیب اور نقصان سے آخر کار بری اور پاک ثابت کردیتا ہے، جو ان کے مخالف اور نادان لوگ ان کی طرف منسوب کرکے ان کو متہم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے بندوں کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ اس لئے کرتا ہے تاکہ وہ عام لوگوں کی نگاہ میں معززومکرم ہوں اور ان کی شخصی وجاہت الزامات واتہامات کے گردوغبار سے صاف رہے۔ مارنے کی وجہ سے اس پتھر پر نشان پڑگئے۔۔۔۔ یعنی جب وہ پتھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کپڑے لے کر بھاگا تو ان پر اس اچانک واقعہ کا ایسا اثر پڑا کہ وہ غصہ میں جھنجھلا کر پتھر پر لاٹھی کے وار کرنے لگے اور جب بھی ان کی لاٹھی پتھر پر پڑتی اس پر نشان پڑجاتا، اس طرح جتنی بار انہوں نے لاٹھی ماری اتنے ہی نشان اس پتھر پر پڑگئے اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) گبھراہٹ اور غصہ میں اس پتھر کے پیچھے بھاگے اور آخر کار وہ پتھر بنی اسرائیل کے ایک بڑے مجمع کے سامنے ٹھہر گیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی حکم ہوا کہ اس پتھر کو اٹھا کر اپنے ساتھ اس کے ساتھ رہا اور جب وہ بنی اسرائیل کے ساتھ تیہ کے میدان (صحراء سینا) میں پہنچے تو اس وقت انہوں نے پتھر پر لاٹھی سے ایک ضرب یا کئی ضربیں لگائیں اور پتھر میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ اس قول کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ معجزہ بیان کیا گیا ہے کہ جب بنی اسرائیل صحراء سینا میں پہنچ کر اس خیال سے گھبرا اٹھے کہ اس بےآب وگیاہ میدان میں پانی کہاں سے پئیں گے اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سم اپناعصا ایک پہاڑی چٹان پر مارا جس کے نتیجہ میں فورا بارہ سوت ابل پڑے اور بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کے لئے جدا جدا چشمے جاری ہوگئے تو اس پہاڑی چٹان سے مراد وہی پتھر ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کپڑے لے کر بھاگا تھا اور جس کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنے ساتھ رکھ چھوڑا تھا۔ بہرحال حدیث سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دو معجزے ثابت ہوئے ایک تو بےجان پتھر کا حرکت میں آجانا اور چلنے لگنا اور دوسرا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی کی ضرب سے اس پتھر پر نشان پڑجانا۔ نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پوشیدہ جگہ پر ننگے بدن نہانا جائز ہے اگرچہ ایسی جگہ نہاتے وقت بھی ستر ڈھاکنا افضل ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مخالفین اور نادانوں کی ایذاء انبیاء اولیاء اللہ پر اثر انداز ہوتی ہے اور وہ اس سے تکلیف محسوس کرتے ہیں لیکن اس ایذاء پر صبروضبط کرتے ہیں۔
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ایک واقعہ :
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بينا أيوب يغتسل عريانا فخر عليه جراد من ذهب فجعل أيوب يحثي في ثوبه فناداه ربه : يا أيوب ألم أكن أغنيتك عما ترى ؟ قال : بلى وعزتك ولكن لا غنى بي عن بركتك . رواه البخاري
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حضرت ایوب (علیہ السلام) (جب طویل اور سخت ترین بیماری کی آزمائش و امتحان میں سرخرو ہوئے اور ان کو صحت و عافیت نصیب ہوئی تو انہوں نے غسل صحت کیا اور اسی غسل صحت کے دوران وہ) برہنہ جسم نہا رہے تھے کہ (اللہ تعالیٰ نے ان کے گھر پر سونے کی ٹڈیاں برسانا شروع کیا اور وہ) سونے کی ٹڈیاں ان کے اوپر (یعنی دائیں بائیں) گرنے لگیں، حضرت ایوب (علیہ السلام) ان ٹڈیوں کو سمیٹ کر اپنے کپڑوں میں رکھنے لگے (سونے کی ٹڈیاں میں ان کا یہ انہماک دیکھ کر) ان کے پروردگار نے ان کو مخاطب کرکے کہا کہ ایوب ( علیہ السلام) جو چیز تم دیکھ رہے ہو کیا ہم نے اس سے تمہیں بےنیاز نہیں کردیا ہے؟ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے عرض کی! بیشک تیری عزت کی قسم تو نے مجھے اس چیز سے بےپرواہ کردیا ہے لیکن میں تیری نعمت کی کثرت اور تیری رحمت کی فراوانی سے ہرگز بےنیاز نہیں ہوں۔ (بخاری)
تشریح
برہنہ جسم نہا رہے تھے۔ کی مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے جسم پر تہبند کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہیں تھا اور تہبند باندھے ہوئے نہا رہے تھے، اس کی تائید آگے کی عبارت یحشی فی ثوبہ (سمیٹ سمیٹ کر اپنے کپڑے میں رکھنے لگے )، میں پوشیدہ جگہ پر بالکل ننگا نہا رہے تھے جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں پوشیدہ جگہ پر بالکل ننگے نہانا مذکور ہوا اور اس کے شرعی جواز میں کوئی قباحت نہیں ہے، لیکن آنحضرت ﷺ نے گویا اس طرف اشارہ فرمایا کہ اپنے پروردگار سے شرم وحیا کی خاطر پوشیدہ جگہ پر بھی نہاتے وقت ستر پوشی افضل ہے اور آنحضرت ﷺ جس مکارم و اخلاق کی تکمیل کے لئے دنیا میں تشریف لائے اس کا تقاضا بھی یہی ہے۔ ان ٹڈیوں کو سمیٹ سمیٹ کر اپنے کپڑے میں رکھنے لگے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) برستی ہوئی سونے کی ٹڈیوں کو ایک ہاتھ سے اٹھا اٹھا کر یا دونوں ہاتھوں سے بھر بھر کر انہی تہبند میں سمیٹتے جاتے تھے جو انہوں نے نہانے کے لئے باندھ رکھا تھا یا کپڑے سے مراد وہ پوشاک ہے جو انہوں نے نہانے کے بعد پہنی ہوگی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کپڑا مراد ہو جو انہوں نے اس وقت تک پہنا نہ ہو بلکہ ان کے قریب ہی رکھا ہوا ہو۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کا مذکورہ خطاب، ناراضگی اور عتاب کے طور پر نہیں تھا بلکہ اظہار شفقت و محبت کے طور تھا کہ جب میں نے تمہارے گھر میں اتنا زیادہ سونا برسا دیا ہے اور تمہیں مالا مال کردیا ہے تو کیا ضروری ہے کہ تم ان ٹڈیوں کو اٹھا اٹھا کر اپنے کپڑے میں رکھو؟ چناچہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ بیشک تو نے مجھے اس قدرمالا مال کردیا ہے اور میرے گھر میں اتنا سونا بھر دیا ہے کہ میں ان ٹڈیوں کو جمع کرنے اور ان کو اٹھا اٹھا کر رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں رکھتا لیکن تیری بارگاہ میں اپنے عجز و احتیاج کے اظہار کے لئے میں تیری رحمتوں کی مزید طلب سے بےنیاز بھی نہیں ہوسکتا خواہ تو مجھے کتنا ہی مالا مال کردے اور مجھ پر اپنی نعمتوں اور رحمتوں کی کتنی ہی بارش برسادے، اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ان ٹڈیوں کا اٹھانے میں انہماک ودلچسپی رکھنا، دنیا کی حرص وطمع اور مال و دولت میں اضافہ کی خواہش کی بناء پر نہ تھا بلکہ حق تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت سے مستفید ہونے اور تشکروامتنان کی بنا پر تھا۔ اور ملاّ علی قاری نے لکھا ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جائز مال و دولت میں اضافہ کی حرص اس شخص کے حق میں روا ہے جس کو اپنے نفس پر اعتماد ہو کہ اس مال و دولت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے میں کوتاہی نہیں ہوگی اور اس کو انہی مقاصد ومصارف میں خرچ کیا جائے گا جن سے حق تعالیٰ راضی وخوش ہوتا ہے۔
ایک نبی کو دوسرے نبی کے مقابلہ پر بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی ممانعت :
وعنه قال : استب رجل من المسلمين ورجل من اليهود . فقال المسلم : والذي اصطفى محمدا على العالمين . فقال اليهودي : والذي اصطفى موسى على العالمين . فرفع المسلم يده عند ذلك فلطم وجه اليهودي فذهب اليهودي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره بما كان من أمره وأمر المسلم فدعا النبي صلى الله عليه و سلم المسلم فسأله عن ذلك فأخبره فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا تخيروني على موسى فإن الناس يصعقون يوم القيامة فأصعق معهم فأكون أول من يفيق فإذا موسى باطش بجانب العرش فلا أدري كان فيمن صعق فأفاق قبلي أو كان فيمن استثنى الله . . وفي رواية : فلا أدري أحوسب بصعقة يوم الطور أو بعث قبلي ؟ ولا أقول : إن أحدا أفضل من يونس بن متى
اور حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ (کسی موقع پر ایک مسلمان اور ایک یہودی کے درمیان بدکلامی ہوئی، مسلمان نے کہا اللہ کی قسم جس نے محمد ﷺ کو سارے جہان کے لوگوں میں سے بہتر قرار دیا، اس کے جواب میں یہودی نے یہ کہا کہ اس اللہ کی قسم جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جہاں کے لوگوں میں سب سے بہتر قرار دیا اس پر مسلمان نے (طیش میں آکر) یہودی پر ہاتھ اٹھا دیا اور اس کے گال پر طمانچہ مارا یہودی (شکایت لے کر) نبی کریم ﷺ کے پاس گیا اور آپ ﷺ کے سامنے اپنا اور اس مسلمان کا پورا واقعہ رکھا، نبی کریم ﷺ نے مسلمان کو طلب فرمایا اور اس سے صورت حال کی تحقیق کی، اس نے (یہودی کے بیان کردہ واقعہ کی تردید نہیں کی بلکہ) آپ ﷺ کو جوں کی توں ساری بات بتادی۔ نبی کریم ﷺ نے (فریقین کے بیانات سن کر) فرمایا مجھ کو موسیٰ (علیہ السلام) پر فضیلت نہ دو اس لئے کہ قیامت کے دن (صور پھونکے جانے پر) جب سب لوگ بیہوش ہو کر گرپڑیں گے تو ان کے ساتھ میں بھی بیہوش ہو کر گر جاؤں گا پھر سب سے پہلے ہوش میں آنے والا شخص میں ہوں گا، لیکن (جب میں ہوش میں آؤں گا تو) دیکھوں گا کہ موسیٰ (علیہ السلام) عرش کا پایہ پکڑے کھڑے ہیں اور میں نہیں کہہ سکتا کہ آیا اس وقت یہ ہوگا کہ موسیٰ بیہوش ہوجانے والے لوگوں میں شامل ہوں گے اور ان کی بیہوشی مجھ سے پہلے ختم ہوچکی ہوگی یا یہ ہوگا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ قرار دے دیا ہوگا۔ (اور بیہوش ہو کر گر پڑنے والے لوگوں میں شامل ہی نہیں ہوں گے) ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اور میں نہیں کہہ سکتا کہ آیا اس وقت یہ ہوگا کہ طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کی بیہوشی کو (قیامت کے دن کی) اس بیہوشی کے حساب میں شمار کرلیا جائے گا یا یہ ہوگا کہ (بیہوش ہو کر گرپڑنے والوں میں وہ بھی شامل ہوں گے مگر) وہ مجھ سے بھی پہلے ہوش میں آجائیں گے۔ (پھر آپ ﷺ نے فرمایا) اور میں تو یہ بھی نہیں کہتا کہ کوئی شخص یونس بن متی سے افضل ہے۔ اور حضرت ابن سعید کی روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے (دونوں فریق کے بیانات سن کر) فرمایا تم انبیاء میں سے کسی کو کسی پر ترجیح نہ دو ( بخاری ومسلم) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ۔ تم اللہ کے نبیوں میں سے کسی کو کسی پر فضیلت نہ دو۔
تشریح
قرآن کریم میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے انی اصطفیتک علی الناس (یعنی اے موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تمہیں تمام لوگوں میں سب سے بہتروافضل قرار دیا ہے) تو اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے زمانہ کے تمام لوگوں میں سب سے بہتر قرار دیا تھا، لیکن اس یہودی نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو برگزیدگی اور افضلیت کے اس مفہوم کو مطلق رکھا اور یہ دعوی کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہر زمانہ کے تمام لوگوں سے افضل اور سب سے بہتر ہیں اور اس طرح اس نے آنحضرت ﷺ کی برگزیدگی اور افضلیت کا انکار کیا، اسی وجہ سے اس کے مخالف مسلمان کو طیش آگیا اور انہوں نے اس کے طمانچہ رسید کردیا۔ یا یہ ہوگا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ قرار دے دیا ہوگا۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جو یہ فرمایا ہے کہ۔ ونفخ فی الصور فصعق من فی السموت ومن فی الارض الا من شآء اللہ ط اور (جب قیامت کے دن) صور میں پھونک ماری جائے گی تو تمام آسمان اور زمین والے بیہوش ہوجائیں گے علاوہ ان کے جن کو اللہ تعالیٰ نے بیہوش کرنا چاہے گا (جسے فرشتے )۔ تو یہ ہوسکتا ہے کہ جس طرح فرشتوں پر بیہوشی طاری ہوگی اس طرح اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی بہوش ہونے سے مستثنیٰ کردے گا! بہرحال آنحضرت ﷺ نے دونوں صورتیں ذکر فرما کر یہ واضح کیا دونوں ہی صورتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے، اگر یہ ہوگا کہ تمام لوگوں کی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی بیہوش ہوجائیں گے، تو میرا ہوش میں آنے کے بعد ان کو اس طرح دیکھنا کہ وہ عرش کا پایہ پکڑے کھڑے ہیں، یہ ثابت کرے گا کہ وہ مجھ سے بھی پہلے ہوش میں آگئے تھے، اس صورت میں مجھ پر ان کی فضیلت بالکل ظاہری بات ہے اور اگر یہ ہوگا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بیہوش ہوجانے والو میں شامل نہیں کیا جائے گا اور وہ سرے سے بیہوش ہی نہیں ہوں گے حالانکہ مجھ پر بیہوشی طاری ہوجائے گی، تو یہ صورت بھی ان کی فضیلت کو ظاہر کرنے والی ہے اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ اس معاملہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مجھ پر فضیلت حاصل ہے تو پھر مجھ کو ان پر فضیلت دینے کے کیا معنی ہیں لیکن اس بات کو آنحضرت ﷺ کی کسرنفسی پر محمول کرنا چاہے کہ آپ ﷺ نے از راہ انکسار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فضیلت کو اس طرح ظاہر فرمایا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کو جو شرف حاصل ہوگا وہ زیادہ سے زیادہ جزوی فضیلت کی نوعیت رکھتا ہے جو اس بات کے منافی نہیں کہ کلی فضیلت آنحضرت ﷺ ہی کو حاصل ہے۔ ایک بات یہ بھی کہی جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد سے جو یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے افضل نہیں ہیں تو یہ اس وقت کا ارشاد ہے جب کہ وہ وحی نازل نہیں ہوئی جس میں آنحضرت ﷺ کا ہر ایک سے افضل و اشرف ہونا مذکور ہے، اس وحی کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ کی افضلیت کسی شک وشبہ کے بغیر ثابت ہوچکی ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ کوہ طور پر بیہوش ہو کر گرپڑنا۔۔۔۔ الخ۔ اس جملہ کی وضاحت یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کوہ طور پر حق تعالیٰ کی ذات کے دیدار کی خواہش کی تو بارگاہ رب العزت سے جواب ملا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تم مشاہدہ ذات کی تاب نہ لاسکو گے اچھا دیکھو ہم اپنی ذات کی تجلی کا ظہور اس پہاڑ پر کریں گے اگر یہ تجلی کو برداشت کرلے تو پھر تم اپنی خواہش ظاہر کرنا اس کے بعد طور پر حضرت حق کی تجلی نے ظہور کیا تو پہاڑ کا وہ حصہ ریزہ ریزہ ہوگیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی اس نظارہ کی تاب نہ لا کر بیہوش ہوگئے اور گرپڑے۔ پس آنحضرت ﷺ نے کوہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس بیہوشی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے دن اس موقع پر بیہوش ہو کر گرپڑنے سے محفوظ ومستثنیٰ رکھے جائیں گے تو ہوسکتا ہے کہ اس استثنا کی وجہ ان کی کوہ طور کی بیہوشی ہو جس کو قیامت کی اس بیہوشی کے حساب میں شمار کرلیا جائے گا واضح رہے کہ یہاں جس صعقہ ( یعنی قیامت کے دن بیہوش ہوجانے کا ذکر ہے اس سے وہ صعقہ مراد نہیں ہے جو موت و ہلاکت کے معنی میں ہے اور جس کا ظہور ابتداء قیامت میں صور پھونکے جانے کے بعد ہوگا کیونکہ اس صعقہ کے وقت، کہ جب پہلا صور پھونکے جانے کے بعد تمام عالم زیروزبر ہوجائے گا اور ہر متنفس کی موت و ہلاکت واقع ہوگی، بھلا آنحضرت ﷺ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کہاں موجود ہوں گے کہ ان پر صعقہ طاری ہوگا، پھر یہ کہ اس صعقہ کے بعد بعث (یعنی دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا) ہوگا نہ کہ افاقت (یعنی بیہوشی کا زائل ہونا) اور یہ بات بھی متفقہ طور پر مسلم ہے کہ اس صعقہ کے بعد (میدان حشر میں) سب سے پہلے اٹھنے والے آنحضرت ﷺ ہی ہوں گے لہٰذا آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ فلاادری کان فیمن صعق الخمود اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے جس صعقہ کا ذکر فرمایا ہے اس سے وہ صعقہ مراد ہے جو بعث کے بعد میدان حشر میں میں پیش آئے گا کہ سب لوگ بیہوش ہو کر گرپڑیں گے اور اس کے بعد جب سب لوگ افاقہ پائیں گے یعنی ہوش میں آئیں گے تو سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کو ہوش آئے گا، اس وقت آپ ﷺ یہ دیکھیں گے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عرش کا پایہ پکڑے کھڑے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بیہوش ہونے والوں میں شامل ہی نہیں ہونگے یا وہ بھی بیہوش ہوئے ہوں گے تو پھر ان کی بیہوشی آنحضرت ﷺ سے بھی پہلے زائل ہوچکی ہوگی۔ بہرحال اس ارشاد گرامی میں حضور ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ مجھے موسیٰ (علیہ السلام) پر فضیلت نہ دو تو اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ انبیاء کے درمیان شرف و فضیلت کے اعتبار سے کوئی فرق مراتب نہیں اور یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یا کسی بھی نبی کے مقابلہ پر آنحضرت ﷺ کو افضل نہ کہا جائے بلکہ اس ارشاد کا اصل مقصد یہ ہدایت دینا ہے کہ کسی نبی کو خواہ وہ آنحضرت ﷺ ہی کی ذات کیوں نہ ہوں، کسی دوسرے نبی کے مقابلہ پر اس طرح اور اس انداز میں افضل و اشرف نہ کہو کہ اس (مفضول) نبی کی تحقیر و توہین ہو یا یہ ظاہر ہو کہ ایک نبی کو تو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے اور دوسرے نبی کو مرتبہ سے گرایا جارہا ہے کیونکہ اس طرح کا اظہار فضیلت نہ صرف یہ کہ انبیاء کی عظمت اور ان کے احترام کے خلاف ہے، بلکہ مختلف نبیوں کے ماننے والوں کے درمیان باہمی خصومت و عداوت کا سبب بھی ہم۔ یا مذکورہ ارشاد گرامی کی مراد یہ کہ کسی نبی کے مقابلہ پر فضل وشرف کے تمام انواع کے ساتھ اس طرح فضیلت دینے کی ممانعت مراد ہے کیونکہ نفس نبوت کے اعتبار سے تمام انبیاء برابر ہیں اور ہر نبی یکساں حیثیت رکھتا ہے۔ اور میں تو یہ بھی نہیں کہتا کہ کوئی شخص یونس ابن متی سے افضل ہے۔ لفظ متی حضرت یونس (علیہ السلام) کے باپ کا نام تھا، جیسا کہ قاموس میں مذکور ہے، لیکن جامع الاصول میں یہ ہے کہ متی ان کی ماں کا نام تھا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے خاص طور پر ذکر کئے جانے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اولوالعزی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ یہ کیا کہ جب ان کی قوم نے ان کی بات نہ مانی اور ان کو ایذاء پہنچائی تو وہ بےصبری کی وجہ اور غصہ کے مارے قوم کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے اور کشتی میں جابیٹھے۔ لہٰذا ان کا یہ طرز عمل لوگوں کو اس گمان میں مبتلا کرسکتا تھا کہ ان کے مقابلہ پر کسی نبی کو فضیلت دینا موزوں ہے اور یہ کہنا غیر مناسب بات نہیں ہے کہ حضرت یونس کے مقابلہ پر فلاں نبی زیادہ افضل ہم لیکن آنحضرت ﷺ نے ارشاد کے ذریعہ اپنی امت کے لوگوں کو اس گمان سے بھی باز رکھا اور واضح کیا کہ یہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی ذات پر طعن اور ان کی تحقیر کے مرادف ہے۔ تم کسی نبی کو کسی نبی پر فوقیت نہ دو۔ کا مطلب یہ ہے کہ یوں نہ کہو کہ فلاں نبی کے مقابلہ پر فلاں نبی افضل ہے۔ اور یہی مطلب اس ارشاد کا ہے کہ تم اللہ کے نبیوں میں کسی کو کسی پر فضیلت نہ دو۔ اور جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے اس ممانعت سے یا تو یہ مراد ہے کہ نفس نبوت کے اعتبار سے کسی نبی کو کسی نبی کے مقابلہ پر فضیلت نہ دو کیونکہ اصل مرتبہ نبوت کے اعتبار سے تمام انبیاء برابر ہیں، یا یہ مراد ہے کہ نبی کو کسی نبی کے مقابلہ میں اس طرح بڑھا چڑھا کر پیش نہ کرو اور کسی نبی کی افضلیت کو اس انداز میں بیان نہ کرو کہ دوسرے نبیوں کی تحقیر و توہین لازم آئے کیونکہ یہ چیز (یعنی کسی نبی کی تحقیر و توہین کا مرتکب ہونا) کفر ہے اور یا یہ کہ آپ ﷺ نے یہ ممانعت اس وقت ارشاد فرمائی تھی جب کہ آنحضرت ﷺ کی افضلیت کو ظاہر کرنے والی وحی نازل نہیں ہوئی تھی، اس وحی کے نزول کے بعد یہ ممانعت ختم ہوگئی اور یہ بات ثابت قرار پائی کہ آنحضرت ﷺ تمام انبیاء سے افضل ہیں اور آپ ﷺ کو کسی بھی نبی کے مقابلہ پر افضل و اشرف کہنا درست ہے۔ لاتفضلوابین انبیاء اللہ لفظ تفضلوا مشکوۃ کے اکثر نسخوں میں ضاء ہی کے ساتھ منقول ہے لیکن ایک نسخہ میں یہ لفظ صاد کے ساتھ (لاتفصلوا) منقول ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم اللہ کے نبیوں کے درمیان کوئی فرق و امتیاز نہ کرو اس صورت میں کہا جائے گا کہ یہ ارشاد قرآن کریم کی اس آیت سے ماخوذ ہے (لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ) 3۔ ال عمران 84)
حضرت یونس (علیہ السلام) کے متعلق ایک ہدایت :
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما ينبغي لعبد أن يقول : إني خير من يونس بن متى . متفق عليه وفي رواية البخاري قال : من قال : أنا خير من يونس بن متى فقد كذب
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ ہرگز مناسب نہیں ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میں یونس (علیہ السلام) ابن متی سے بہتر ہوں۔ ( بخاری ومسلم) اور بخاری کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص یہ کہے کہ میں یونس ابن متی سے بہتر ہوں تو یقینا وہ جھوٹا ہے۔
تشریح
کوئی شخص یہ کہے کہ میں یونس ابن متی سے بہتر ہوں۔ یہ عبارت دو احتمال رکھتی ہے، ایک تو یہ کہ کوئی شخص مجھ کو (یعنی آنحضرت ﷺ کو) یونس ابن متی سے افضل بہتر نہ کہے۔ اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ کوئی شخص خود اپنے بارے میں یہ کہے کہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) سے بہتر و افضل ہوں! کیونکہ کوئی بڑے سے بڑا ولی بھی کسی نبی کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا اور جب کوئی شخص کسی نبی کا ہمسر نہیں ہوسکتا تو بہتر و افضل ہونے کا دعوی کیسے کرسکتا ہے۔ تو یقینا وہ جھوٹا ہے اگر حدیث کے الفاظ کی مراد دوسرے احتمال کی روشنی میں متعین کی جائے تو یہاں سے مراد کفر ہوگا اس طرح کی بات کہنے والا شخص کافر ہوجائے گا کیونکہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ جو شخص خود کو کسی بھی نبی اور پیغمبر سے بہتر و افضل قرار دے وہ کافر ہے رہی پہلے احتمال کی بات تو آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا کہ کوئی مجھ کو یونس ابن متی سے بہتر و افضل نہ کہے تواضع اور کسرنفسی پر محمول ہے کہ آپ ﷺ نے انکسار نفس کے طور پر ایسا فرمایا لہٰذا یہ حدیث اس روایت کے مخالف نہیں ہوگی جس میں آپ نے یہ فرمایا کہ انا سیدولد ولافخر یعنی میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں اور میں یہ بات از راہ فخر نہیں کہتا (بلکہ اظہار حقیقت اور تحدیث نعمت کے طور پر کہتاہوں) اور حضرت یونس (علیہ السلام) کے تخصیص کی وجہ پچھلی حدیث کی تشریح میں بیان کی جاچکی ہے۔
حضرت خضر (علیہ السلام) کا ذکر :
وعن أبي بن كعب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الغلام الذي قتله الخضر طبع كافرا ولو عاش لأرهق أبويه طغيانا وكفرا . متفق عليه
اور حضرت ابی ابن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے جس لڑکے کو مار ڈالا تھا وہ کفر کی طبیعت لے کر پیدا ہوا تھا اگر وہ لڑکا زندہ رہتا تو یقینا اپنے ماں باپ کو کفروسرکشی میں مبتلا کردیتا ( بخاری ومسلم )
تشریح
کفر کی طبیعت لے کر پیدا ہوا تھا کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مقدر میں یہ لکھا ہوا تھا کہ اس کا خاتمہ کفر پر ہوگا پس یہ حدیث اس روایت کے منافی نہیں ہے جس میں فرمایا گیا ہے کل مولود یولد علی فطرت الاسلام۔ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے کیونکہ فطرت اسلام پر ہونے کا مطلب فطرت انسانی کا ایسی ساخت کا ہونا ہے جو نور ہدایت کی طرف لپکے اور اسلام کو قبول کرنے کی استعداد و صلاحیت رکھتی ہے اور یہ بات اس چیز کے منافی نہیں ہے کہ کوئی نومولود بچہ آگے چل کر اپنے ماحول اور اپنے نفس کی گمراہیوں کا اس طرح شکار ہوجائے کہ اس کی وہ استعدادوصلاحیت دب کر رہ جائے اور وہ اپنی اصل فطرت کے تقاضوں پر قائم نہ رہ سکے یہاں تک کہ اس کا خاتمہ کفر پر ہو۔ لفظ خضر خ کے زیر کے ساتھ خضر ہے اور ایک نسخے میں یہ لفظ خ کے زیر اور ض کے جزم کے ساتھ خِضر، منقول ہے، یہ ان کا لقب ہے، اصل نام لیان ابن ملکان ہے! بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ یہ حضرت الیاس (علیہ السلام) کے بھائی ہیں، بعض حضرات نے کہا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے صلبی بیٹے تھے اور بعض نے ان کو یفت واسطہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں کہا ہے اور وضاحت کی ہے کہ ان کے باپ سلاطین میں سے تھے ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں تھے مشہور قول کے مطابق حضرت خضر (علیہ السلام) پیغمبر ہیں عمر طویل رکھتے ہیں عام نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں اور نہ صرف یہ کہ زندہ ہیں بلکہ قیامت کے دن تک زندہ رہے گے کیونکہ انہوں نے آب حیات پی رکھا ہے لیکن بعض بڑے محدثین جیسے بخاری اور ابن مبارک وغیرہ نے ان کی حیات ابدی کا انکار کیا ہے جمہور علماء صوفیاء اور بہت سے صلحاء ان کی حیات کے قائل ہیں نیز حضرت خضر (علیہ السلام) کا بعض صلحاء سے ملاقات کا کرنا ان سے ہم کلام ہونا اور خیروبھلائی کی جگہوں پر ان کا موجود ہونا بہت مشہور ہے، مشائخ کے حالات و کلام میں ان کا بہت ذکر آتا ہے اور عجیب و غریب واقعات بیان کئے جاتے ہیں۔ حضرت غوث الثقلین شیخ عبد القادر جیلانی کے حالات میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت شیخ کسی مسئلہ پر حدیث نبوی ﷺ کی روشنی میں گفتگو فرما رہے تھے کہ اچانک انہوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو ہوا پر سوار گذرتے دیکھا اور فرمایا قف یا اسرائیلی واسمع کلام محمدی اے اسرائیلی (خضر) ٹھہرئیے کلام محمدی سنتے جائیے۔ چنانچہ منقول ہے کہ اس زمانہ کے مشائخ میں سے جو بھی حضرت خضر (علیہ السلام) کو ملتا، آپ اس کو ہدایت فرماتے کہ شیخ عبدالقادر کی مجلس میں ضرور جایا کرو کیونکہ ان مجلسوں میں برکتیں نازل ہوتی ہیں اور وہاں فلاح وسعادت حاصل ہوتی ہے۔
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إنما سمي الخضر لأنه جلس على فروة بيضاء فإذا هي تهتز من خلفه خضراء . رواه البخاري
اور حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا حضرت خضر (علیہ السلام) کا نام خضر (یعنی سرسبز و شاداب) اس لئے مشہور ہوا کہ وہ ایک خشک و بنجر سفید زمین پر (یا بالکل خشک گھاس) پر بیٹھے تو یکایک وہ زمین (یا خشک گھاس) ان کے پیچھے سے لہلہانے لگی اور وہاں سبزا پیدا ہوگیا (بخاری)