جنت اور دوزخ کی تخلیق کا بیان۔

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 176 · 45 hadiths · Page 3 of 3

5637Mishkaat-al-Masabih

مخلوقات کی پیدائش کے دن :

وعنه قال : أخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم بيدي فقال : خلق الله البرية يوم السبت وخلق فيها الجبال يوم الأحد وخلق الشجر يوم الاثنين وخلق المكروه يوم الثلاثاء وخلق النور يوم الأربعاء وبث فيها الدواب يوم الخميس وخلق آدم بعد العصر من يوم الجمعة في آخر الخلق وآخر ساعة من النهار فيما بين العصر إلى الليل . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ میرا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے کہ جانتے ہو اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کو جو چھ دن میں پیدا کیا تو کون سی چیز کس دن پیدا ہوئی ہے؟ سنو بعض چیزوں کے متعلق میں بتاتا ہوں اللہ تعالیٰ نے مٹی زمین کو ہفتے کے دن پیدا کیا اس زمین پر پہاڑوں کو اتوار کے دن پیدا کیا درختوں کو پیر کے دن پیدا کیا بدی اور خراب چیزوں کو منگل کے دن پیدا کیا روشنی کو بدھ کے دن پیدا کیا جانوروں کو روئے زمین پر جمعرات کے دن پھلایا اور آدم کو جمعہ کے دن عصر کے بعد پیدا کیا اور یہ آخری پیدائش دن کے بالکل آخری حصے میں عصر کے بعد سے رات تک کے درمیان میں عمل میں آئی۔ تشریح السبت یعنی ہفتے کے دن سے اس دن کا وہ بالکل آخری حصہ مراد ہے جس پر دن کا اختتام ہوجاتا ہے، جس کو عربی میں عشیۃ الاحد یعنی اتوار کی رات کا ابتدائی حصہ کہتے ہیں اس اعتبار سے وہ وقت گویا اتوار ہی کا ایک حصہ ہوتا ہے پس یہ روایت قرآن کریم کی اس آیت (وَلَ قَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ) 50۔ ق 38) کہ منافی نہیں ہے۔ وخلق النور یوم الاربعاء (اور روشنی کو بدھ کے دن پیدا کیا میں مسلم نے نور ہی کا لفظ نقل کیا ہے اور مشکوۃ کے صحیح نسخوں میں بھی یہ لفظ اسی طرح ر کے ساتھ) ہے مشکوۃ کے ایک نسخے میں یہ لفظ نون کے ساتھ یعنی نون ہے جس کے معنی مچھلی کے ہیں لہٰذا ہوسکتا ہے کہ نور یعنی روشنی اور نون یعنی مچھلی دونوں کو ایک ہی دن یعنی بدھ کے دن پیدا کیا گیا ہو حدیث کے آخری جزو سے معلوم ہوا کہ مخلوقات کی پیدائش کا آخری دن جمعہ تھا اس دن تمام چیزوں کی پیدائش کا سلسلہ پایہ اختتام کو پہنچا اور تمام مخلوقات اس روئے زمین پر جمع ہوگئی چناچہ اس دن کا نام جمعہ رکھے جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے نیز اس دن کا وہ وقت کے جس میں آدم کی تخلیق پر مخلوقات کے سلسلہ تخلیق و پیدائش کی تکمیل ہوئی دن کا بالکل آخری حصہ تھا اس مناسبت سے اس دن کے آخری لمحوں (عصر کے بعد سے رات شروع ہونے تک) کو ساعت قبولیت کے شرف سے نوازا گیا چناچہ اکثر علماء کہتے ہیں جمعہ کے دن اس آخری حصے میں اللہ تعالیٰ دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔

5638Mishkaat-al-Masabih

زمین و آسمان کا ذکر :

وعنه قال : بينما نبي الله صلى الله عليه و سلم جالس وأصحابه إذ أتى عليهم سحاب فقال نبي الله صلى الله عليه و سلم : هل تدرون ما هذا ؟ . قالوا : الله ورسوله أعلم . قال : هذه العنان هذه روايا الأرض يسوقها الله إلى قوم لا يشكرونه ولا يدعونه . ثم قال : هل تدرون من فوقكم ؟ قالوا : الله ورسوله أعلم . قال : فإنها الرقيع سقف محفوظ وموج مكفوف . ثم قال : هل تدرون ما بينكم وبينها ؟ قالوا : الله ورسوله أعلم . قال : بينكم وبينها خمسمائة عام ثم قال : هل تدرون ما فوق ذلك ؟ . قالوا : الله ورسوله أعلم . قال : سماءان بعد ما بينهما خمسمائة سنة . ثم قال كذلك حتى عد سبع سماوات ما بين كل سماءين ما بين السماء والأرض . ثم قال : هل تدرون ما فوق ذلك ؟ قالوا : الله ورسوله أعلم . قال : إن فوق ذلك العرش وبينه وبين السماء بعد ما بين السماءين . ثم قال : هل تدرون ما تحت ذلك ؟ . قالوا : الله ورسوله أعلم . قال : إن تحتها أرضا أخرى بينهما مسيرة خمسمائة سنة . حتى عد سبع أرضين بين كل أرضين مسيرة خمسمائة سنة قال : والذي نفس محمد بيده لو أنكم دليتم بحبل إلى الأرض السفلى لهبط على الله ثم قرأ ( هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شيء عليم ) رواه أحمد والترمذي . وقال الترمذي : قراءة رسول الله صلى الله عليه و سلم الآية تدل على أنه أراد الهبط على علم الله وقدرته وسلطانه وعلم الله وقدرته وسلطانه في كل مكان وهو على العرش كما وصف نفسه في كتابه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام بیٹھے ہوئے تھے کہ ابر کا ایک ٹکڑا گذرا آپ ﷺ نے ابر کے اس ٹکڑے کی طرف اشارہ کرکے صحابہ سے پوچھا کہ جانتے ہو یہ کیا ہے صحابہ کرام نے اپنی عادات کے مطابق جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ عنان یعنی ابر ہے اور یہ ابر زمین کے رویا ہے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی طرف ہانکتا ہے جو نہ اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور نہ اس کو پکارتے ہیں۔ پھر فرمایا جانتے ہو تمہارے اوپر (جو آسمان ہے وہ) کیا چیز ہے؟ صحابہ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ بہترجانتے ہیں آپ ﷺ فرمایا تمہارے اوپر کی چیز رقیع ہے جو ایک محفوظ چھت اور نہ گرنے والی موج ہے پھر فرمایا جانتے ہو تمہارے اور آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ صحابہ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے اور آسمان کے درمیان پانچ سو برس کی مسافت کے بقدر فاصلہ ہے پھر فرمایا جانتے ہو کہ آسمان کے اوپر کیا ہے؟ صحابہ نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اس آسمان کے بعد پھر اوپر نیچے دو آسمان ہیں اور ان دونوں آسمانوں کے درمیان بھی پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے یکے بعد دیگرے ہر آسمان کا ذکر کیا، یہاں تک کہ ساتوں آسمان کے بارے میں بتایا کہ ان میں سے ہر ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ وہی ہے جو زمین سے آسمان کے درمیان ہے ( یعنی پانچ سو سال کی مسافت کے بقدر۔ اس کے بعد فرمایا اس ساتویں اور آخری آسمان کے اوپر عرش ہے اور اس عرش اور اس کے نیچے آسمان کے درمیان وہی فاصلہ ہے جو آسمانوں کے درمیان ہے۔ پھر فرمایا جانتے ہو تمہارے نیچے کیا چیز ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا سب سے اوپر کی) زمین ہے پھر فرمایا جانتے ہو اس کے نیچے کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ بہترجانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اس کے نیچے ایک اور زمین ہے اور ان دونوں زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت (بقدر فاصلہ) ہے اس طرح آپ ﷺ سات زمینیں گنائیں اور بتایا کہ ان میں سے ہر ایک زمین سے دوسری زمین تک کا درمیانی فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت کے بقدر ہے اور پھر فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر تم سب سے نیچے والی زمین پر رسی لٹکاؤ تو اللہ تعالیٰ ہی پر اترے گی۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے ( اپنے اس ارشاد کی دلیل کے طور پر) یہ آیت پڑھی (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ) 57۔ الحدید 3) یعنی وہی (اللہ) اول وہی (قدیم) ہے (کہ اس کے لئے کوئی ابتداء نہیں ہے) اور آخر (باقی) ہے (کہ اس کے لئے کوئی انتہاء اور اختتام نہیں ہے) اور (اپنی صفات کے اعتبار سے ظاہر) ہے اور (اپنی ذات کے اعتبار سے) باطن ہے اور (دونوں جہاں کی) تمام (کلی وجزئی) چیزوں کو جاننے والا ہے (کہ اس کا علم نہایت کامل واکمل ہے اور ایک ایک چیز کے ہر ہر گوشہ پر محیط ہے۔ اس روایت کو احمد اور ترمذی نے نقل کیا ہے، نیز ترمذی نے کہا کہ رسول کریم ﷺ کا اپنے ارشاد کے بعد اس آیت کو پڑھنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم اس کی قدرت اور اس کی حکومت ہر جگہ ہے اور وہ بذات خود (یعنی اس کی تجلی) عرش پر ہے جیسا کہ خود اسی نے اپنی کتاب میں اپنا وصف بیان کیا ہے۔ تشریح روایا اصل میں راویہ کی جمع ہے اور راویہ اس اونٹ کو کہتے ہیں جو پانی کھینچتا ہے! پس ابر یعنی بادل کو راویہ سے اس لئے تعبیر کیا کہ جس طرح اونٹ پانی کھینچ کر زمین کو سراب کرتا ہے اسی طرح بادل بھی پانی برسا کر زمین کو سیراب کرتے ہے۔ جو نہ اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس جملہ کے ذریعہ ان لوگوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو بارش ہونے پر نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے جس کے حکم اور جس کی قدرت سے اس بارش کے نتیجہ میں ان کی زمینیں سیراب ہوتی ہیں، ان کی پانی کی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور ان کی روزی وآمدنی کے ذرائع بار آور ہوتے ہیں بلکہ وہ اس بارش کی نسبت اس کے اصل مسبب (اللہ تعالیٰ کی طرف کرنے کے بجائے ظاہری اسباب کی طرف یا اپنے فاسد خیال و گمان کے مطابق غیر حقیقی طاقتوں اور ساعت و ستاروں کی طرف کرنے لگتے ہیں، اسی طرح اور نہ اس کو پکارتے ہیں۔ کے ذریعہ بھی انہیں لوگوں کی بےحسی اور بدعقیدگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ لوگ اللہ کو پکارنے، اس کی مدد چاہنے اور اس کی عبادت کرنے کی بجائے خود تراشیدہ بتوں اور فانی وغیرحقیقی طاقتوں کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور ان کو اپنا کا رساز ومدد گار سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ پروردگار کا لامحدود کرم اور اس کی بیکراں رحمت ہے کہ وہ ان لوگوں کی ناشکری، بدعملی اور بد عقیدگی کے باوجود ان کو رزق دیتا ہے، ان کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور انہیں امن و عافیت بخشتا ہے۔ رقیع رکے زبر کے ساتھ فعیل کے وزن پر ہے اور یہ پہلے آسمان جس کو آسمان دنیا بھی کہتے ہیں، کا نام ہے لیکن بعض حضرات نے کہا ہے کہ ہر آسمان کو رقیع کہتے ہیں۔ جو ایک محفوظ چھت اور نہ گرنے والی موج ہے میں آسمان کو ایک ایسی مضبوط چھت سے تشبیہ دی گئی ہے جو گرنے پڑنے سے محفوظ ہوتی ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو اس طرح قائم فرمایا ہے کہ نہ اس کے زمین پر گرپڑنے کا خدشہ ہے اور نہ اس میں کسی ٹوٹ پھوٹ کا اندیشہ۔ اسی طرح آسمان کو موج کے ساتھ بایں مناسبت تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح پانی کی کوئی موج ہوا میں معلق ہوجاتی ہے اسی طرح آسمان بھی بغیر کسی ستون اور سہارے کے خلاء میں معلق ہے۔ ان میں سے ہر ایک زمین سے دوسری زمین کا درمیانی فاصلہ۔۔۔۔ الخ۔ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تمام زمینوں میں ایک دوسری کا درمیانی فاصلہ وہی ہے، جو تمام آسمانوں میں ایک دوسرے کا درمیانی فاصلہ ہے لہٰذا جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ زمین کے تمام طبقے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان کوئی باہمی بعد اور فاصلہ نہیں ہے اور اسی وجہ سے قرآن کریم میں ارض زمین کا لفظ بصیغہ مفرد ذکر کیا جاتا ہے جب کہ سماء (آسمان) کا ذکر بصیغہ جمع ہوتا ہے، تو یہ حدیث ان کے خلاف پڑتی ہے، ویسے جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ قرآن کریم میں ارض کا لفظ ہر موقع پر بصیغہ مفرد ذکر کیا جاتا ہے اور اس کی نسبت سے لفظا سماء بصیغہ جمع آتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ ارض سے صرف اسی زمین کا ذکر مقصود ہو جس سے اس کائنات کی مخلوق کا اصل تعلق ہے اور جو اس کے قدموں کے نیچے ہے، باقی اور زمینوں سے کسی کو کوئی سروکار نہیں، جب کہ آسمانوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے اور ہر ہر آسمان مصدر فیوض وآثار ہے اور تمام آسمانوں سے اس دنیا کا تعلق جڑا ہوا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی پر اترے گی۔ سے مراد جیسا کہ ترمذی نے وضاحت بھی کی ہے، اسی رسی کا اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت اور اس کی حکومت پر اترنا ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی معلومات، اس کا دائرہ قدرت واختیار اور اس کا حکم و تسلط جس طرح آسمان کی بلندیوں اور وسعتوں کو گھیرے ہوئے ہے اسی طرح اس روئے زمین پر اور زمین کی آخری گہرائیوں تک پر اس کا علم، اس کی قدرت اور اس کا حکم و تسلط حاوی اور نافذ ہے۔ دراصل آنحضرت ﷺ نے یہ بات شبہ کے دفعیہ کے لئے فرمائی کہ شاید کوئی ناسمجھ اور کم فہم اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے سے اس وہم و گمان کا شکار ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا دائرہ علم واختیار اور اس کی قدرت صرف آسمان اور آسمانی کائنات تک محدود ہے۔ آسمان سے نیچے کی چیزیں نہ اس کے علم ومعلومات میں ہیں اور نہ اس کے حکم وقدرت کے تحت لہٰذا آپ ﷺ نے واضح کیا کہ اللہ کی قدرت کے آگے آسمانوں کی بلندیوں اور زمینوں کی پہنائیاں، سب یکساں ہے۔ اس کے قدرت اور اس کے حکم کا ظہور جس شان سے آسمان کے اوپر ہے اسی شان سے زمین کی پشت پر اور زمین کے نیچے بھی ہے اور غالباً اسی حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے کہا گیا ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کا معراج ان کا مچھلی کے پیٹ میں پہنچنا تھا جس طرح آنحضرت ﷺ کو آسمان کے اوپر معراج حاصل ہوا امام ترمذی نے جو یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر رسی اترنے سے مراد یہ ہے کہ وہ رسی اللہ تعالیٰ کے علم اس کی قدرت اور اس کی حکومت پر اترے گی تو انہوں نے یہ وضاحت اس آیت کی روشنی میں کی ہے جو آنحضرت ﷺ نے یہ حدیث ارشاد فرمانے کے بعد پڑھی چناچہ اس آیت کے الفاظ بکل شیء ٍعلیم سے تو اس کا علم مفہوم ہوا اور ہوالاول والاخر، سے اس کی قدرت کا مفہوم نکلا یعنی وہ ایسا اول ہے کہ ہر چیز اس کے ہاتھ میں ہے اور جو بھی چیز موجود ہے وہ اسی کی قدرت سے عدم کا سینہ چیر کر تختہ وجود پر آئی ہے اور وہ ایسا آخر ہے کہ سب کچھ فنا ہوجائے گی مگر اس کی ذات باقی موجود رہے گی نیز اس کی حکومت یا یوں کہئے کہ اس کا تصرف اور اس کا غلبہ والظاہر والباطن سے مفہوم ہوا یعنی وہ ایسا ظاہر ہے کہ ہر چیز اسی کے زیر غلبہ اور زیرتصرف ہے خود اس پر کوئی چیز غالب نہیں ہے تمام موجود چیزوں میں جس طرح چاہتا ہے مالکانہ اور حاکمانہ تصرف کرتا ہے کیونکہ اس مافوق کوئی چیز نہیں ہے تصرف و تسلط میں رکاوٹ ڈالے اور وہ ایسا باطن ہے کہ خلقت کی آنکھوں اور خیال و وہم سے پوشیدہ ہونے کے باوجود ملجا وماوا اس کے علاوہ کوئی نہیں ہر چیز کے اندونی حال سے وہ باخبر ہے کسی کا کوئی راز و بھید اس سے چھپا ہوا نہیں ہے جیسا کہ خود اسی نے اپنی کتاب میں اپنا وصف بیان کیا۔ کے ذریعہ قرآن کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ) 20۔ طہ 5) وہ بڑی رحمت والا پروردگار عرش پر قائم ہے اور یہ آیت اگرچہ بظاہر یہ وہم پیدا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی خاص جہت اور کسی خاص جگہ پر متمکن ہے لیکن حقیقت میں اس سے مراد ہے اس کی سلطنت و حکومت اور اس کے علم وقدرت کے ظاہر کا ذکر ہے۔

5639Mishkaat-al-Masabih

حضرت آدم (علیہ السلام) کا قد :

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كان طول آدم ستين ذراعا في سبع أذرع عرضا

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حضرت آدم (علیہ السلام) کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا اور سات چوڑا تھا تشریح ذراع اصل میں بانہہ کو کہتے ہیں یعنی کہنی کے سرے سے لے کر بیچ کی انگلی کے سرے تک کا حصہ اور شرعی گز کا اطلاق بھی اسی پر ہوتا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے قد کو جو ساٹھ ہاتھ لمبا فرمایا گیا ہے تو کس کا ہاتھ مراد ہے، آیا خود حضرت آدم (علیہ السلام) کا ہاتھ یا موجودہ لوگوں کے ہاتھ؟ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا ہاتھ مراد نہیں ہے، بلکہ موجودہ لوگوں کا ہاتھ مراد ہے، کہ ان کا ہاتھ اس وقت کے لوگوں کے اعتبار سے ساٹھ ہاتھ لمبا تھا، کیونکر اگر حضرت آدم (علیہ السلام) کا ہاتھ مراد لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کا ہاتھ، ان کے قد کے صرف ساٹھویں حصہ کے برابر تھا جوان کے قد کے لمبائی اور تناسب اعضاء کے اعتبار سے بالکل بےجوڑمعلوم ہوتا ہوگا اور یہ ممکن ہے۔

5640Mishkaat-al-Masabih

انبیاء (علیہ السلام) کی تعداد :

وعن أبي ذر قال : قلت : يا رسول الله أي الأنبياء كان أول ؟ قال : آدم . قلت : يا رسول الله ونبي كان ؟ قال : نعم نبي مكلم . قلت : يا رسول الله كم المرسلون ؟ قال : ثلاثمائة وبضع عشر جما غفيرا وفي رواية عن أبي أمامة قال أبو ذر : قلت يا رسول الله كم وفاء عدة الأنبياء ؟ قال : مائة ألف وأربعة وعشرون ألفا الرسل من ذلك ثلاثمائة وخمسة عشر جما غفيرا

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ سب سے پہلے نبی کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا حضرت آدم (علیہ السلام) میں نے پھر پوچھا کیا حضرت آدم (علیہ السلام) نبی تھے؟ فرمایا ہاں وہ نبی تھے، انہوں رب العالمین سے شرف تکلم وتخاطب حاصل ہوا ہے، اس کے بعد میں نے پوچھا یا رسول ﷺ انبیاء میں رسول کتنے ہوئے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کافی بڑی تعداد میں تین سو دس سے کچھ زیادہ ہی ہوں گے اور ایک روایت میں حضرت ابوامامہ تابعی سے منقول ہے یہ الفاظ ہیں حضرت ابوزر نے کہا میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ تمام انبیاء کی کل تعداد خواہ وہ رسول ہوں یا غیر رسول تعداد کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار ان میں رسول تین سو پندرہ ہوئے ہیں جو کافی بڑی تعداد ہے، تشریح انہیں اللہ رب العالمین سے شرف وتکلم وتخاطب حاصل ہوا ہے، کا مطلب یہ ہے حضرت آدم (علیہ السلام) جس طرح دنیائے انسانی کے باپ اور اپنی نسل کی دنیوی سعادت و فلاح کے لئے رہنما وہادی تھے، اسی طرح اخروی سعادت و فلاح کے پیغامبر بھی تھے ان کا نبی ہونا شک وشبہ سے بالا تر ہے اور چونکہ وہ پہلے انسان ہیں اس لئے نسل انسانی کے لئے اللہ کی وحی کا ذریعہ جو پیغامات بھی انہوں نے سنائے وہی ان کے صحیفے اور وہی ان کی شریعت سمجھی جائے گی اس اعتبار سے وہ صرف نبی ہی تھے بلکہ رسول بھی تھے ان پر صحیفے بھی اترے اور ان کو شریعت بھی عطاء کی گی،۔ رسول اور نبی میں فرق یہ ہے کہ رسول تو اس پیغمبر کو کہتے ہیں جس کو نئی شریعت و کتاب دی گئی ہو اور مخلوق اللہ تک اس شریعت و کتاب کو پہنچانے کا ذمہ دار بنایا گیا ہو اور نبی ہر پیغمبر کو کہتے ہیں چاہے اس کو نئی شریعت اور کتاب دی گئی ہو یا نہ دی گئی ہو، بلکہ وہ پہلی شریعت اور کتاب کا تابع ہو اور خواہ وہ تبلیغ کا ذمہ دار بنایا گیا ہو یا نہ بنایا گیا ہو،۔ کل انبیاء کی تعداد کے بارے میں اس حدیث میں ایک لاکھ چوبیس ہزار کا ذکر ہے اور بعض روایتوں میں دو لاکھ چوبیس ہزار بیان کی گی ہے ظاہر ہے دونوں عدد میں زبردست تضاد ہے اس لئے علماء نے لکھا ہے کہ اس بارے میں زیادہ تحقیق و جستجو نہ کرنی چاہی اور نہ کوئی خاص عددمتعین کرنا چاہے بلکہ یہ عقیدہ رکھنا چاہے کہ انبیاء کی ٹھیک تعداد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور اجمالی طور پر اس طرح ایمان لانا چاہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول اور نبی بھیجے ہم ان سب کو برحق رسول اور نبی مانتے ہیں۔ اس عقیدہ اور اجمالی ایمان سے نہ کوئی نبی انبیاء کے زمرہ سے باہر رہے گا اور نہ کوئی غیر نبی ان کے زمروں میں شامل ہوگا۔

5641Mishkaat-al-Masabih

شنیدہ کے بود دیدہ :

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس الخبر كالمعاينة إن الله تعالى أخبر موسى بما صنع قومه في العجل فلم يلق الألواح فلما عاين ما صنعوا ألقى الألواح فانكسرت . روى الأحاديث الثلاثة أحمد

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کسی چیز کے بارے میں سننا، اس کو آنکھ سے دیکھنے کے برابر نہیں ہوسکتا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے اس عمل کے بارے میں خبر دی جو انہوں نے گوسالہ پرستی کی صورت میں کیا تھا تو انہوں نے (مارے غصہ کے) تختیوں کو نہیں پھینکا لیکن جب وہ اپنی قوم میں واپس آئے اور اپنی آنکھوں سے قوم کے اس عمل کو دیکھا تو (اس درجہ غضبناک ہوگئے کہ) تختیوں کو پھینک دیا اور وہ ٹوٹ گئیں۔ ان تینوں حدیثوں کو احمدنے نقل کیا ہے۔ تشریح کسی چیز کے بارے میں سننا، اس کو آنکھ سے دیکھنے کے برابر نہیں ہوسکتا۔ کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے ایک اہم نفسیاتی نکتہ کی طرف ارشاد فرمایا ہے، انسان کا خاصہ ہے کہ وہ آنکھ سے دیکھی ہوئی چیز سے جتنا زیادہ اور جتنی جلدی متاثر ہوتا ہے اتنا زیادہ اور اتنی جلدی سنی ہوئی چیز سے متاثر نہیں ہوتا، اگر اس کو یہ خبر و اطلاع دی جائے کہ تمہارا فلاں عزیز سخت بیمار ہے تو اس کا پریشان اور متفکر ہوجانا فطری امر ہے لیکن اس خبر و اطلاع کے مقابلہ میں، خواہ وہ کتنی ہی یقینی کیوں نہ ہو، اس کے دل و دماغ پر وہ فکر اور پریشانی کہیں زیادہ سخت اور سریع الاثر ہوتی ہے جو اس بیمار عزیز کو آنکھوں سے دیکھ لینے کی صورت میں لاحق ہوتی ہے چناچہ آنحضرت ﷺ نے اسی نکتہ کو ثابت کرنے کے لے یہ واقع بطور مثال پیش فرمایا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چلہ کشی) کے لئے جبل طور پر تشریف لے گئے اور وہاں اپنے پروردگار سے راز ونیاز میں مصروف اور اپنی قوم بنی اسرائیل کے لئے آئین الہٰی (تورات) حاصل کرنے میں مشغول تھے تو نیچے وادی سینا میں ان کی قوم نے ایک بد باطن شخص سامری کی قیادت میں گوسالہ کی پوجا شروع کردی، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس واقعہ سے مطلع کیا اور فرمایا کہ موسیٰ! تو جس قوم کی ہدایت کے لئے اس قدر کوشاں اور مضطرب ہو اور یہاں (کوہ طور پر) اس کے لئے میری طرف سے کتاب و ہدایت (تورات) حاصل کررہے ہو، وہ تمہارے پیچھے گوسالہ پرستی کی گمراہی میں مبتلا ہوگئی ہے، یہ سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رنج ہوا اور غصہ بھی آیا مگر جب وہ قوم کی طرف واپس آئے اور قوم کے لوگوں کو گوسالہ کی سمادھ لگائے اور اس کی پوجا کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھا تو وہ کہیں زیادہ غضب ناک ہوگئے اور اس غیظ وغضب کی بنا پر انہوں نے ان تختیوں کو جن پر تورات لکھی ہوئی تھی زمین پر پھینک دیا جس سے وہ تختیاں ٹوٹ بھی گئیں۔ ان تختیوں کو پھینک کر گویا انہوں نے یہ واضح کیا کہ یہ آئین الہٰی اہل ایمان ہی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، جن لوگوں نے ایمان و عقیدہ کی راہ ترک کر کے کفر اور سرکشی کو اختیار کرلیا ہے ان کے لئے آئین الہٰی پر مشتمل ان تختیوں کو باقی رکھنے کا اب کیا فائدہ رہ گیا۔ تاہم ان تختیوں کے ٹوٹ جانے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ان میں جو کچھ تھا وہ جاتا رہا، ان تختیوں میں جو احکام و فرمان تھے وہ سب کے سب جوں کے توں موجود تھے اور اصل تورات اپنی جگہ باقی تھی۔