وعن جابر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : مهل أهل المدينة من ذي الحليفة والطريق الآخر الجحفة ومهل أهل العراق من ذات عرق ومهل أهل نجد قرن ومهل أهل اليمن يلملم . رواه مسلم
حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ مدینہ والوں کے احرام کی جگہ ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ جحفہ ہے، عراق والوں کے لئے احرام کی جگہ ذات عرق ہے، نجد والوں کے لئے احرام کی جگہ قرن ہے اور یمن والوں کے لئے احرام کی جگہ یلملم ہے۔ (مسلم)
تشریح
اور دوسرا راستہ جحفہ ہے کا مطلب یہ ہے کہ مدینہ والوں کے لئے احرام باندھنے کی دوسری جگہ جحفہ ہے اگر وہ مکہ کے لئے مدینہ سے وہ راہ اختیار کریں جس میں جحفہ ملتا ہے تو وہ پھر جحفہ ہی سے احرام باندھیں، ذوالحلیفہ جانے کی ضرورت نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ پہلے مدینہ سے مکہ آنے کے لئے دو راستے تھے ایک راستے میں تو ذوالحلیفہ ملتا تھا اور دوسرے راستے میں جحفہ۔ اسی لئے یہ حکم دیا گیا کہ اگر وہ راہ اختیار کی جائے جس میں ذوالحلیفہ ملتا ہے تو احرام ذوالحلیفہ سے باندھا جائے اور اگر وہ راہ اختیار کی جائے جس میں جحفہ ملتا ہے تو پھر جحفہ سے احرام باندھا جائے، لیکن اب ایک ہی راستہ ہوگیا ہے جس میں پہلے تو ذوالحلیفہ آتا ہے اور پھر جحفہ، اسی طرح اہل مدینہ کے لئے دو میقات ہوگئی ہیں۔ اس صورت میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اب اہل مدینہ احرام کہاں سے باندھیں؟ تو علماء لکھتے ہیں کہ اس جگہ سے باندھنا اولیٰ ہے جو مکہ سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے یعنی ذوالحلیفہ اور اگر کوئی شخص جحفہ سے احرام باندھے تو یہ بھی جائز ہے۔
آنحضرت ﷺ کے حج وعمرہ کی تعداد
وعن أنس قال : اعتمر رسول الله صلى الله عليه و سلم أربع عمر كلهن في ذي القعدة إلا التي كانت مع حجته : عمرة من الحديبية في ذي القعدة وعمرة من العام المقبل في ذي القعدة وعمرة من الجعرانة حيث قسم غنائم حنين في ذي القعدة وعمرة مع حجته
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے چار عمرے کئے ہیں اور وہ سب ذی قعدہ کے مہینے میں کئے گئے تھے علاوہ اس ایک عمرہ کے جو حج کے ساتھ کیا گیا تھا اور ذی الحجہ کے مہینے میں ہوا تھا (اور ان چار عمروں کی تفصیل یہ ہے کہ) ایک عمرہ حدیبیہ سے ذی قعدہ کے مہینے میں، دوسرا عمرہ اس کے اگلے سال وہ بھی ذی قعدہ میں ہوا، تیسرا عمرہ جعرانہ سے جہاں غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا گیا یہ عمرہ بھی ذی قعدہ میں ہوا اور چوتھا عمرہ حج کے ساتھ جو ذی الحجہ میں ہوا تھا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیبیہ ایک جگہ کا نام ہے جو مکہ مکرمہ سے مغربی جانب تقریبا پندرہ سولہ میل (٢٦ کلو میٹر) کے فاصلے پر جدہ جاتے ہوئے ملتی ہے یہ مکہ سے شمال مغربی جانب ہے یہیں جبل الشمیسی نامی ایک پہاڑ ہے جس کی وجہ سے اب اس مقام کو شمیسہ بھی کہتے ہیں۔ حدود حرم یہاں سے بھی گزرتے ہیں اس لئے اس جگہ کا اکثر حصہ حرم میں ہے اور کچھ حصہ حل میں (یعنی حرم سے باہر) ہے۔ عمرہ حدیبیہ کا (اجمالی) بیان یہ ہے کہ سن ٦ ھ میں ذی قعدہ کی پہلی تاریخ کو دوشنبہ کے دن نبی کریم ﷺ عمرہ کے قصد سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے چودہ سو یا اس سے کچھ زائد رفقاء آپ ﷺ کے ساتھ تھے جب آپ ﷺ حدیبیہ پہنچے تو قریش مکہ جمع ہو کر آپ ﷺ کے پاس آئے اور زیارت بیت اللہ سے آپ ﷺ کو روکا، کافی ردو قدح کے بعد کہ جس کی تفصیل تاریخ و سیر کی کتابوں میں ملتی ہے۔ آنحضرت ﷺ اور قریش مکہ کے درمیان ایک معاہدہ عمل میں آیا جو معاہدہ حدیبیہ اور صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے اس معاہدے کی رو سے یہ طے پایا کہ آنحضرت ﷺ مع رفقاء اس سال تو مدینہ واپس چلے جائیں اور آئندہ سال آ کر عمرہ کریں۔ چناچہ آپ ﷺ قریش سے صلح کر کے عمرہ کئے بغیر مدینہ منورہ واپس ہوگئے لہٰذا حقیقت میں تو آپ ﷺ نے عمرہ ادا نہیں کیا مگر عمرہ کا ثواب مل جانے کی وجہ سے یہ آپ ﷺ کا پہلا عمرہ شمار کیا گیا۔ اسی موقع پر احصار کا حکم مشروع ہوا۔ چناچہ آئندہ سال اسی عمرہ کی قضاء کے لئے آپ ﷺ مکہ تشریف لائے تین روز مکہ میں قیام فرمایا عمرہ ادا کیا اور چوتھے روز وہاں سے واپس ہوئے۔ یہ دوسرا عمرہ ہوا اسی عمرہ کو عمرۃ القضاء کہتے ہیں یہ نام احادیث میں بھی منقول ہے۔ حنفیہ اس سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محرم احصار کی وجہ سے احرام سے باہر آجائے تو اس کی قضا اس پر واجب ہوگی حضرت امام شافعی کے نزدیک قضا واجب نہیں ہوتی۔ آپ ﷺ کا تیسرا عمرہ وہ ہے جو آپ ﷺ نے جعرانہ سے مکہ مکرمہ جا کر ادا کیا۔ جہاں آپ ﷺ نے غزوہ حنین کا مال تقسیم کیا تھا اس کی تفصیل یہ ہے کہ جعرانہ، مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے جب فتح مکہ کے بعد سن ٨ ھ میں غزوہ حنین کا واقعہ پیش آیا تو اس وقت بیشمار مال غنیمت ہاتھ لگا، اسی موقع پر آپ ﷺ جعرانہ میں پندرہ سولہ روز قیام پذیر رہے اور وہ مال غنیمت صحابہ میں تقسیم فرمایا انہیں دنوں میں ایک روز رات میں بعد نماز عشاء آپ ﷺ مکہ تشریف لے گئے اور عمرہ کیا اور اسی رات میں واپس آئے اور جعرانہ میں نماز فجر پڑھی۔ چوتھا عمرہ وہ ہے جو آپ ﷺ نے حج فرض ہونے کے بعد سن ١٠ ھ میں حج کے ساتھ کیا، لہٰذا یہ عمرہ تو ذی الحجہ میں ہوا اور بقیہ عمرے ذی قعدہ میں کئے اس طرح آپ ﷺ نے جو چار عمرے کئے تھے وہ یہ تھے، البتہ زمانہ اسلام میں حج آپ ﷺ نے ایک مرتبہ کیا ہے جب کہ وہ فرض ہوا ہے ایام جاہلیت میں قریش حج کرتے تھے۔ آپ ﷺ بھی اس وقت حج کرتے تھے لیکن ان کی تعداد علماء کو صحیح طور پر معلوم نہیں ہے۔
حج اور عمرہ کی کیفیت اور ان کے متعلقات کا تفصیلی بیان تو آگے آئے گا، اس موقع پر صرف اتنی بات جان لینی چاہئے کہ حج وعمرہ میں فرق کیا ہے؟ حج میں وقوف عرفات، طواف بیت اللہ اور صفا ومروہ کے درمیان سعی ہوتی ہے جب کہ عمرہ میں صرف طواف بیت اللہ اور سعی بین الصفا و المروہ ہوتی ہے احرام دونوں کے لئے شرط ہے جس طرح حج احرام کے بغیر صحیح نہیں اسی طرح عمرہ بھی احرام کے بغیر صحیح نہیں ہوتا، حج فرض بھی ہوتا ہے سنت بھی اور نفل بھی جب کہ عمرہ فرض نہیں ہوتا۔ صرف سنت اور نفل ہوتا ہے، ہاں اگر کوئی عمرہ کی نذر مانے تو پھر عمرہ کرنا واجب ہوجاتا ہے۔
حج سے پہلے آپ ﷺ نے دو عمرے کئے یا تین؟
وعن البراء بن عازب قال : اعتمر رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذي القعدة قبل أن يحج مرتين . رواه البخاري
حضرت براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ذی قعدہ کے مہینے میں حج سے پہلے دو مرتبہ عمرہ کیا ہے۔ (بخاری)
تشریح
اس سے پہلی حدیث سے تو یہ معلوم ہوا تھا کہ آپ ﷺ نے حج سے پہلے تین عمرے کئے تھے۔ جب کہ یہ حدیث حج سے پہلے آپ ﷺ کے عمرے کی تعداد دو بتارہی۔ ان دونوں حدیثوں کے تضاد کو یوں دور کیجئے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر اگرچہ بظاہر آپ ﷺ نے عمرہ نہیں کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ آپ احرام سے باہر آ جائیے آپ کو عمرے کا ثواب حاصل ہوگیا، گویا آپ ﷺ نے عمرہ کے افعال ادا نہیں کئے ہیں لہٰذ جس روایت میں حج سے پہلے عمرے کی تعداد تین بتائی گئی ہے اس میں اس عمرہ سے مراد عمرہ کا ثواب ہے اس اعتبار سے تین عمرے شمار کئے گئے ہیں اور جس روایت میں حج سے پہلے عمرہ کی تعداد دو بتائی گئی ہے اس کی مراد یہ ہے کہ اگرچہ آپ ﷺ کو ثواب تین عمرے کے ملے ہیں۔ لیکن ظاہری طور پر عمرے آپ ﷺ نے دو ہی کئے ہیں۔
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أيها الناس إن الله كتب عليكم الحج . فقام الأقرع بن حابس فقال : أفي كل عام يا رسول الله ؟ قال : لو قلتها : نعم لوجبت ولو وجبت لم تعملوا بها ولم تستطيعوا والحج مرة فمن زاد فتطوع . رواه أحمد والنسائي والدارمي
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جب فرمایا کہ لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے تو اقرع بن حابس کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ہر سال (حج کرنا فرض ہوا ہے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ میں اس حج کے (ہر سال فرض ہونے کے سوال) کے بارے میں ہاں کہہ دیتا تو یقینا (ہر سال حج کرنا) واجب (یعنی فرض) ہوجاتا تو نہ تم اس حکم پر عمل کر پاتے اور نہ تم اس کی استطاعت ہی رکھتے، حج پوری زندگی میں بشرط قدرت ایک ہی مرتبہ فرض ہے ہاں جو شخص ایک بار سے زیادہ کرے وہ نفل ہوگا (جس پر اسے بہت زیادہ ثواب ملے گا)۔ (احمد، نسائی، دارمی)
باوجود قدرت کے حج نہ کرنے والے کے لئے وعید
وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ملك زادا وراحلة تبلغه إلى بيت الله ولم يحج فلا عليه أن يموت يهوديا أو نصرانيا وذلك أن الله تبارك وتعالى يقول : ( ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا ) رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب . وفي إسناده مقال وهلال بن عبد الله مجهول والحارث يضعف في الحديث
حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص زاد راہ اور سواری کا مالک ہو جو اسے بیت اللہ تک پہنچا دے (یعنی جو شخص حج کرنے کی استطاعت وقدرت رکھتا ہو) اور (پھر بھی) وہ حج نہ کرے تو اس کے یہودی یا نصرانی ہو کر مرجانے (اور بےحج مرجانے) میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ (یعنی حج کے لئے زاد راہ و سواری کا شرط ہونا اور اس عظیم عبادت کو ترک کردینے پر مذکورہ بالا وعید) اس لئے ہے کہ اللہ بزرگ و برتر فرماتا ہے۔ آیت (وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْ تَ طَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا) 3۔ ال عمران 97)۔ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے لوگوں پر کعبہ کا حج کرنا ضروری ہے جو وہاں جاسکتا ہو۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند محل کلام ہے ہلال ابن عبداللہ مجہول ہیں اور حارث روایت حدیث میں ضعیف شمار کئے جاتے ہیں۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے پاس اتنا روپیہ ہو کہ وہ سفر حج میں جانے اور آنے کے اخراجات کے لئے کافی بھی ہوجائے اور اپنے اہل و عیال کو بھی اس قدر دے جائے جو اس کی واپسی تک ان کی ضروریات زندگی کو پورا کرسکے نیز اس کے پاس ایسی سواری ہو جو بیت اللہ تک پہنچا سکے، چاہے وہ اپنی ہو یا کرایہ کی ہو اور وہ اتنی استطاعت وقدرت کے باوجود بھی حج نہ کرے اور مرجائے تو وہ یہودی و نصرانی ہو کر مرتا ہے۔ اب اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر اس نے استطاعت وقدرت کے باوجود حج اس لئے نہیں کیا کہ وہ اس کی فرضیت ہی کا منکر ہو تو پھر یہودی اور نصرانی کی اس مشابہت کا تعلق کفر سے ہوگا۔ یعنی جس طرح یہودی و نصرانی کفر کی حالت میں مرتے ہیں، اسی طرح وہ بھی کفر کی حالت میں مرے گا اور اگر فرضیت کا منکر ہوئے بغیر حج نہ کرے تو اس مشابہت کا تعلق گناہ سے ہوگا کہ یہودی و نصرانی جتنے سخت گناہ کی حالت میں مرتے ہیں وہ بھی اتنے ہی شدید گناہ کا بار لئے موت کی نذر ہوگا۔ اگرچہ بعض علماء کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے یہ وعید از راہ تغلیظ و تشدید یعنی ترک حج کے گناہ کی شدت وہیبت ناکی کے اظہار کے لئے فرمائی ہے۔ لیکن بہر نوع ترک حج ایک ایسا گناہ ہے اور اتنا شدید جرم ہے کہ نبی کریم ﷺ کو اتنی شدید اور سخت وعید بیان فرمانی پڑی کہ حج نہ کرنے والا یہودی یا نصرانی ہو کر مرتا ہے العیاذ باللہ منہ۔ الیہ سبیلا کے بعد آیت کا بقیہ حصہ یہ ہے آیت (وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ ) 3۔ آل عمران 97)۔ اور کوئی کفر کرے (اور طاعات و عبادات نہ کر کے) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفران کرے تو اللہ تعالیٰ عالم کے لوگوں سے بےنیاز ہے۔ یعنی لوگ طاعت و عبادت کریں یا نہ کریں اس سے اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں، نفع نقصان تو انہیں لوگوں کو ہے کہ اگر طاعت و عبادت کریں تو فلاح و نجات پائیں گے اور اگر نہ کریں گے تو خسران و عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ بظاہر تو معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ پوری آیت پڑھی ہوگی کیونکہ استدلال تو پوری ہی آیت سے ہوتا ہے لیکن راوی نے الیہ سبیلا ہی تک اس آیت کو نقل کیا۔
باوجود قدرت کے حج نہ کرنے والے کے لئے وعید
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا صرورة في الإسلام . رواه أبو داود
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ صیرورت اسلام میں داخل نہیں۔ (ابوداؤد)
تشریح
صیرورت کا مفہوم ہے۔ وہ شخص جس نے کبھی حج نہ کیا ہو۔ لہٰذا اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے حج واجب ہونے کے باوجود حج نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا ظاہری مفہوم تو یہی ہے کہ جو شخص حج کرنے کی استطاعت رکھے اور پھر بھی حج نہ کرے تو وہ مسلمان نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ارشاد یا تو از راہ تغلیظ و تشدید ہے یا پھر اس کی مراد یہ ہے کہ ایسا شخص کامل مسلمان نہیں ہوتا۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ صیرورت کے معنی ہیں نکاح اور حج کو ترک کرنا، اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نکاح اور حج کو ترک کرنا اسلام کا طریقہ نہیں ہے بلکہ یہ رہبانیت میں داخل ہے اس لئے مسلمان کو نکاح و حج ترک نہ کرنا چاہئے۔
حج علی الفور واجب ہے یا علی التراخی
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أراد الحج فليعجل . رواه أبو داود والدارمي
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص حج کا ارادہ کرے تو اسے چاہئے کہ جلدی کرے۔ (ابوداؤد، ترمذی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص حج کرنے پر قادر ہو اور حج کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ جلدی کرے اور اس فرض کو ادا کرنے کے لئے ملے ہوئے موقع کو غنیمت جانے کیونکہ تاخیر کرنے کی صورت میں نہ معلوم کتنی رکاوٹیں پیدا ہوجائیں اور مآل کار اس نعمت عظمی سے محرومی رہے۔ اس بارے میں کہ حج علی الفور واجب ہے یا علی التراخی؟ حنفیہ کے ہاں سب سے صحیح قول یہ ہے کہ جب حج واجب ہو یعنی شرائط حج پائے جائیں اور حج کا وقت آجائے نیز قافلہ مل جائے (بشرطیکہ قافلے کی ضرورت ہو جیسا کہ پہلے زمانے میں بغیر قافلہ کے سفر کرنا تقریبا ناممکن ہوتا تھا) تو اسی سال حج کرے دوسرے سال تک تاخیر نہ کرے، اگر کوئی شخص بلا عذر کئی سال تاخیر کرتا رہے گا تو وہ فاسق کہلائے گا اور شرعی نقطہ نظر سے اس کی گواہی قبول نہ ہوگی۔ یعنی وہ شریعت کی نظر میں ناقابل اعتبار قرار پائے گا یہاں تک کہ اس عرصے میں اگر اسباب حج (کہ جن کی وجہ سے اس پر حج واجب ہوا تھا) جاتا رہے گا تو اس کے ذمہ سے فرض ساقط نہیں ہوگا بلکہ باقی رہے گا (جس کی وجہ سے حج نہ کرسکنے کی صورت میں گنہگار ہوگا) حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد رحمہما اللہ کا یہی مسلک ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) کے ہاں واجب علی التراخی ہے یعنی آخر عمر تک حج میں تاخیر جائز ہے جیسا کہ نماز میں آخر وقت تک تاخیر جائز ہے، حضرت امام محمد (رح) کا بھی یہی قول ہے لیکن اس سلسلے میں دونوں یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تاخیر اسی وقت جائز ہوگی جب کہ حج کے فوت ہوجانے کا گمان نہ ہو، اگر یہ گمان ہو کہ تاخیر کرنے میں حج فوت ہوجائے گا (یعنی کبھی حج نہیں کرسکے گا) تو پھر تاخیر نہ کرے، اس صورت میں اگر کوئی شخص حج فرض ہونے کے باوجود بغیر حج کے مرے گا تو تمام ہی علماء کے نزدیک گنہگار مرے گا چناچہ حج نہ کرنے کا اس سے مواخذہ ہوگا۔ حنفی علماء یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے شرائط حج پائے جانے کے بعد حج میں تاخیر کی اور اس عرصے میں اس کا مال و زر تلف ہوگیا تو وہ قرض لے کر حج کرے اگرچہ اس قرض کی ادائیگی پر وہ قادر نہ ہو اور اس بات کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قرض کی عدم ادائیگی پر مواخذہ نہیں کرے گا بشرطیکہ اس کی نیت یہ ہو کہ میرے پاس جب بھی مال آجائے گا میں یہ قرض ضرور ادا کروں گا۔
حج وعمرہ ساتھ کرنے کا حکم
وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تابعوا بين الحج والعمرة فإنهما ينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد والذهب والفضة وليس للحجة المبرورة ثواب إلا الجنة . رواه الترمذي والنسائيورواه أحمد وابن ماجه عن عمر إلى قوله : خبث الحديد
حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ حج اور عمرہ ایک ساتھ کرو اور اس لئے کہ یہ دونوں (یعنی ان میں سے ہر ایک) فقر اور گناہوں کو ایسا دور کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے سونے اور چاندی کے میل کو دور کرتی ہے اور حج مقبول کا ثواب جنت کے سوا کچھ نہیں۔ (ترمذی، نسائی امام احمد اور ابن ماجہ نے اس روایت کو حضرت عمر ؓ سے لفظ خبث الحدید تک نقل کیا ہے)۔
تشریح
حج اور عمرہ ایک ساتھ کرو۔ کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کرو۔ یہ حج کی سب سے افضل قسم ہے جس میں حج وعمرہ دونوں ساتھ ہوتے ہیں اس کا تفصیلی بیان آگے آئے گا۔ یا پھر اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے عمرہ کیا ہے تو پھر حج بھی کرو اور حج کرلیا ہے تو پھر عمرہ بھی کرو۔ فقر سے مراد ظاہری فقر بھی ہوسکتا ہے اور باطنی بھی یعنی حج وعمرہ کرنے سے اللہ تعالیٰ مال و دولت کی نعمت سے نوازتا ہے یا یہ کہ دل غنی ہوجاتا ہے۔
وعن ابن عمر قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ما يوجب الحج ؟ قال : الزاد والراحلة . رواه الترمذي وابن ماجه
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کون سی چیز حج کو واجب کرتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا زاد راہ اور سواری۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
تشریح
سوال کون سی چیز حج کو واجب کرتی ہے؟ کا مطلب یہ ہے کہ حج واجب ہونے کی شرط کیا ہے؟ چناچہ آپ ﷺ نے ایک چیز تو زاد راہ بتایا جس کی مراد یہ ہے کہ اتنا مال و زر جو سفر حج میں جانے اور آنے کے اخراجات اور تا واپسی اہل و عیال کی ضروریات کے لئے کافی ہو اور دوسری چیز سواری بتائی جس پر سوار ہو کر بیت اللہ تک پہنچا جاسکے اگرچہ حج کے واجب ہونے کی شرطیں اور بھی ہیں مگر یہاں بطور خاص ان ہی دونوں چیزوں کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اصل میں یہی دو شرائط ایسی ہیں جو حج کے لئے بنیادی اور ضروری اسباب کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہ حدیث حضرت امام مالک کے مسلک کی تردید کرتی ہے ان کے ہاں اس شخص پر بھی حج واجب ہوتا ہے جو پیادہ چلنے پر قادر ہو اور تجارت یا محنت مزدوری کے ذریعہ سفر حج کے اخراجات کے بقدر روپے پیسے حاصل کرسکتا ہو۔
وعنه قال : سأل رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ما الحاج ؟ فقال : الشعث النفل . فقام آخر فقال : يا رسول الله أي الحج أفضل ؟ قال : العج والثج . فقام آخر فقال : يا رسول الله ما السبيل ؟ قال : زاد وراحلة رواه في شرح السنة . وروى ابن ماجه في سننه إلا أنه لم يذكر الفصل الأخير
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے سوال کرتے ہوئے عرض کیا کہ حاجی کی صفت و کیفیت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ غبار آلود سر، پراگندہ بال اور پسینہ و میل کی وجہ سے بو آتی ہو (یعنی زیب وزینت سے مکمل اجتناب جیسا کہ کسی عاشق صادق اور محب مخلص کی علامت ہوتی ہے) پھر ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! حج میں (ارکان کے بعد) کون سی چیزیں بہت زیادہ ثواب کی حامل ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا لبیک کے ساتھ آواز بلند کرنا اور قربانی یا ہدی کے جانور کا خون بہانا۔ اس کے بعد ایک اور شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ سبیل کیا ہے؟ یعنی قرآن کریم میں حج کے سلسلہ میں جو یہ فرمایا گیا ہے آیت (من استطاع الیہ سبیلا) تو اس آیت میں سبیل سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا زاد راہ اور سواری۔ (شرح السنۃ) نیز اس روایت کو ابن ماجہ نے اپنی سنن میں نقل کیا ہے لیکن انہوں نے حدیث کا آخری حصہ یعنی فقام آخر (اس کے بعد ایک اور شخص کھڑا ہوا) سے آخر تک ذکر نہیں کیا ہے۔
باپ کی طرف سے حج کرنے کی اجازت
وعن أبي رزين العقيلي أنه أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إن أبي شيخ كبير لا يستطيع الحج ولا العمرة ولا الظعن قال : حج عن أبيك واعتمر . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح مرفوع
حضرت ابورزین عقیلی ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ بہت زیادہ بوڑھا ہوگیا ہے وہ نہ تو حج کی طاقت رکھتا ہے اور نہ عمرے کی اور نہ ہی سوار ہونے کی (یعنی بسبب ضعف و کبر سنی نہ تو حج وعمرہ کے افعال و ارکان کی ادائیگی پر قادر ہے اور نہ سوار ہو کر حج وعمرہ کے لئے جاسکتا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا اس کی طرف سے تم حج وعمرہ کرو۔ (ترمذی، ابوداؤد نسائی) نیز امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تشریح
اس باب کی پہلی فصل میں حضرت ابن عباس ؓ کی روایت (حدیث نمبر سات) کی تشریح کے ضمن میں اس روایت کا تذکرہ آچکا ہے۔
دوسرے کی طرف سے حج کرنے سے پہلے کیا اپنا حج کئے ہونا ضروری ہے؟
وعن ابن عباس قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم سمع رجلا يقول لبيك عن شبرمة قال : من شبرمة قال : أخ لي أو قريب لي قال : أحججت عن نفسك ؟ قال : لا قال : حج عن نفسك ثم حج عن شبرمة . رواه الشافعي وأبو داود وابن ماجه
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (حج کے دوران) ایک شخص کو سنا کہ وہ شبرمہ کی طرف سے لبیک کہہ رہا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ شبرمہ کون ہے؟ اس شخص نے عرض کیا کہ میرا بھائی ہے یا کہا کہ میرا قریبی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا تم اپنی طرف سے حج کرچکے ہو؟ اس نے کہا کہ نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا تو پہلے تم اپنی طرف سے حج کرو پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔ (شافعی، ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد فرماتے ہیں کہ جو شخص پہلے اپنا فرض حج نہ کرچکا ہو اس کو دوسرے کی طرف سے حج کرنا درست نہیں ہے، چناچہ یہ حدیث ان حضرات کی دلیل ہے، حضرت امام اعظم اور حضرت امام مالک کا مسلک یہ ہے کہ دوسرے کی طرف سے حج کرنا درست ہے چاہے خود اپنا فریضہ حج ادا نہ کر پایا ہو۔ لیکن ان حضرات کے نزدیک بھی اولیٰ یہی ہے کہ پہلے اپنا حج کرے اس کے بعد دوسرے کی طرف سے حج کرے چناچہ ان کے مسلک کے مطابق اس حدیث میں پہلے اپنا حج کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ استحباب کے طور پر ہے وجوب کے طور پر نہیں ہے۔ ویسے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے یا یہ کہ منسوخ ہے اس لئے انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ہے۔
وعنه قال : وقت رسول الله صلى الله عليه و سلم لأهل المشرق العقيق . رواه الترمذي وأبو داود
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مشرق والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ (یعنی میقات) عقیق کو متعین فرمایا ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد)
تشریح
عقیق ایک جگہ کا نام ہے جو ذات عرق کے محاذات میں واقع ہے یہ جگہ مشرق والوں کے لئے میقات ہے مشرق والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو حرم سے باہر مکہ کی مشرقی جانب کے علاقوں میں رہنے والے ہیں یہی لوگ عراقی بھی کہلاتے ہیں جن کا تذکرہ اگلی حدیث میں ہے، اس طرح مشرق والوں کے لئے احرام باندھنے کی دو جگہیں ہوئیں ایک تو عقیق اور ذات عرق۔ لہٰذا اس سمت سے آنے والے لوگ ان دونوں میں سے جس جگہ بھی گزریں وہیں سے احرام باندھیں۔
وعن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وقت لأهل العراق ذات عرق . رواه أبو داود والنسائي
ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے عراق والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ذات عرق متعین فرمائی۔ (ابوداؤد، نسائی)
میقات سے پہلے احرام باندھنا افضل ہے
وعن أم سلمة قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أهل بحجة أو عمرة من المسجد الأقصى إلى المسجد الحرام غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر أو وجبت له الجنة . رواه أبو داود وابن ماجه
ام المؤمنین حضرت ام اسلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص حج یا عمرہ کے لئے مسجد اقصیٰ (ہی سے احرام باندھ کر چلے) تو اس کے وہ تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے جو اس نے پہلے کئے ہوں گے اور جو بعد میں کرے گا یا فرمایا کہ اس شخص کے لئے ابتداء ہی میں جنت واجب ہوجائے گی (یعنی وہ شروع ہی میں جنت میں داخل ہوگا۔ (ابوداؤد ابن ماجہ)
تشریح
من اہل بحجۃ او عمرۃ میں حرف او تنویع کے لئے ہے اور او وجبت لہ الجنۃ میں اور راوی کے شک کو ظاہر کرتا ہے۔ جب کوئی شخص بیت المقدس سے مکہ کے لئے چلتا ہے تو وہ راستہ میں مدینہ منورہ سے گزرتا ہے، اس طرح وہ شخص اپنے راستہ میں تینوں افضل ترین مقامات سے مشرف ہوتا ہے بایں طور کہ اس راستہ کے سفر کی ابتداء بیت المقدس سے ہوتی ہے درمیان میں مدینہ منورہ آتا ہے اور آخر میں مکہ مکرمہ پہنچتا ہے لہٰذا اس شخص کی خوش بختی کا اندازہ لگائیے جو اپنے سفر حج کی ابتداء بیت المقدس سے کرے کہ اول تو خود سفر مقدس و باعظمت پھر سفر کی ابتداء بیت المقدس سے درمیان میں مدینہ منورہ اور سفر کی انتہاء حرم محترم پر اس سبب سے مذکورہ بالا شخص یہ عظیم ثواب پاتا ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ احرام باندھنے کی جگہ حرم محترم سے جتنی دور ہوگی ثواب بھی اتنا زیادہ ہوگا اس بارے میں فقہی تفصیل یہ ہے کہ حضرت امام اعظم کے نزدیک مواقیت سے احرام کی تقدیم یعنی احرام باندھنے کی جگہوں سے پہلے ہی احرام باندھ لینا یا اپنے گھر ہی سے احرام باندھ کر چلنا افضل ہے حضرت امام شافعی کا ایک قول بھی یہی ہے لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کہ ممنوعات احرام سے بچ سکے، ورنہ اگر یہ جانے کہ اس صورت میں ممنوعات احرام سے اجتناب ممکن نہیں ہوگا تو پھر میقات ہی سے احرام باندھنا افضل ہوگا۔ اسی طرح حج کے مہینوں میں (یعنی شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن) سے پہلے احرام باندھنے کے بارے میں حنفیہ کے ہاں جواز کا قول بھی ہے اور مکروہ کہا گیا ہے، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بھی کراہت ہی کے قائل ہیں۔ حضرت امام شافعی کا ایک قول اگرچہ یہ بھی ہے کہ حج کے مہینوں سے پہلے احرام باندھنے والوں کا احرام درست نہیں ہوگا لیکن ان کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حج کے مہینوں سے پہلے احرام باندھے گا تو اس کا وہ احرام حج کی بجائے عمرہ کا ہوجائے گا۔
حج میں لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے اجتناب کرو
عن ابن عباس قال : كان أهل اليمن يحجون فلا يتزودون ويقولون : نحن المتوكلون فإذا قدموا مكة سألوا الناس فأنزل الله تعالى : ( وتزودوا فإن خير الزاد التقوى ) رواه البخاري
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ یمن والے جب حج کرنے آئے تو زاد راہ ساتھ نہیں لائے تھے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم تو توکل کرنے والے ہیں اور پھر جب وہ مکہ میں آتے تو لوگوں سے مانگتے چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کرنے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی (ڼوَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى) 2۔ البقرۃ 197) اور جب حج کو جانے لگو تو زاد راہ ضرور ساتھ لے لیا کرو کیونکہ سب سے بڑی بات اور خوبی زاد راہ میں گداگری سے بچنا ہے۔ (بخاری)
تشریح
ان لوگوں نے توکل کو زارد راہ کا درجہ دے دیا تھا ور یہ سمجھتے تھے کہ حج کے ضروری اخراجات کی فراہمی سے قطع نظر توکل بہترین چیز ہے لیکن حقیقت میں نہ تو وہ توکل تھا اور نہ یہ کوئی اچھی بات تھی کہ حج کے لئے مکہ مکرمہ پہنچ کر لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلائے جائیں جو انسانی شرف و عظمت کے خلاف ہے اس لئے فرمایا گیا ہے کہ سب سے بڑی بات اور خوبی یہ ہے کہ زاد راہ اپنے ساتھ رکھو اور گداگری سے بچو۔ اس بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ حج کے ضروری اخراجات ساتھ رکھے بغیر اس شخص کے لئے جانا درست نہیں ہے جس کے نفس میں توکل کی قوت نہ ہو اور اس کو غالب گمان ہو کہ میں شکایت و بےصبری اور گداگری میں مبتلا ہو کر خود بھی پوری طمانینت اور سکون کے ساتھ افعال حج ادا نہ کرسکوں گا اور دوسروں کو بھی پریشانی میں مبتلا کروں گا۔ آیت اور حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ اتنا وسائل اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں ہے چناچہ کاملین کے نزدیک یہ افضل ہے کہ ہاں اگر کوئی بغیر اسباب کے صرف توکل ہی کو اختیار کرے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے بشرطیکہ اپنے عزم و ارادہ پر مستحکم و مضبوط رہ کر صبر کرسکے اور ایسا کوئی بھی کام نہ کرے جو حقیقی توکل کے منافی ہو۔
عورتوں کا جہاد حج وعمرہ ہے
وعن عائشة قالت : قلت : يا رسول الله على النساء جهاد ؟ قال : نعم عليهن جهاد لا قتال فيه : الحج والعمرة . رواه ابن ماجه
ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں عورتوں پر ایسا جہاد ہے جس میں لڑائی نہیں ہے اور وہ حج وعمرہ ہے۔ (ابن ماجہ)
تشریح
اسلام نے عورتوں کے لئے جہاد واجب قرار نہیں دیا ہے لیکن چونکہ یہ ایک ایسی عظیم سعادت ہے جس سے عورتیں محروم رہیں اس لئے ان کے حق میں حج وعمرہ کو جہاد کا درجہ دے کر جہاد کے ثواب کی سعادت سے انہیں نوازا گیا، چناچہ حج وعمرہ میں اگرچہ جنگ و جدل اور قتل قتال نہیں ہے لیکن اس میں بھی مشقت سفر، گھر والوں سے مفارقت اور وطن کی جدائی اسی طرح ہوتی ہے جس طرح جہاد میں۔ اس لئے عورتوں کے حق میں حج وعمرہ بمنزلہ جہاد ہے۔
بغیر عذر فرض حج نہ کرنے والوں کے لئے وعید
وعن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من لم يمنعه من الحج حاجة ظاهرة أو سلطان جائر أو مرض حابس فمات ولم يحج فليمت إن شاء يهوديا وإن شاء نصرانيا . رواه الدارمي
حضرت ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص کو ظاہری حاجت نے (کہ وہ زاد راہ اور سواری کا نہ ہونا ہے) یا ظالم بادشاہ نے یا خطرناک مرض نے حج سے نہ روک رکھا ہو اور وہ حج کئے بغیر مرجائے تو اسے اختیار ہے کہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر۔ (دارمی)
تشریح
اگر کسی شخص کو سفر حج کے راستہ میں کسی ظالم بادشاہ و حکمران کی طرف سے جان و مال کے اتلاف کا خوف ہو تو اس پر حج فرض نہیں رہتا باوجودیکہ اس میں حج کے دوسرے شرائط مثلاً اخراجات کے بقدر مال و زر اور سواری وغیرہ پائے جاتے ہوں اسی طرح وہ بیماریاں جن کی وجہ سے سفر کرنا ممکن نہ ہو حج کی فرضیت کو ساقط کردیتی ہیں۔ چناچہ اندھے و فالج زدہ وغیرہ پر باوجود مالی استطاعت وقدرت کے حج فرض نہیں ہوتا۔ اس تفصیل کی روشنی میں حدیث بالا کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص کے پاس زاد راہ ہو اور سواری کا انتظام ہو، راستہ میں کسی ظالم بادشاہ کا خوف نہ ہو، کوئی بیماری مانع سفر نہ ہو گویا کہ حج کے تمام شرائط موجود ہوں اور اس پر حج فرض ہو اور پھر وہ حج نہ کرے تو اب چاہئے وہ یہودی ہو کر مرے۔ اور چاہے عیسائی ہو کر اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہی اس وعید کے سلسلہ میں گزشتہ صفحات میں ایک موقع پر تفصیل بیان کی جا چکی ہے۔
حج وعمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہوتے ہیں
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : الحاج والعمار وفد الله إن دعوه أجابهم وإن استغفروه غفر لهم . رواه ابن ماجه
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں اگر وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول کرتا ہے اور اگر وہ اس سے مغفرت مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرماتا ہے۔ (ابن ماجہ)
تشریح
کعبہ مکرمہ کو بیت اللہ فرمایا گیا ہے یعنی وہ اللہ جل شانہ کا گھر ہے جو شخص اس کے گھر کی زیارت کے لئے جاتا ہے وہ اس کا مہمان ہوتا ہے جس طرح میزبان اپنے مہمان کی ہر جائز خواہش کا احترام کرتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنے مہمانوں کی لاج رکھتا ہے جو وہ مانگتے ہیں قبول فرماتا ہے وہ اگر اپنی مغفرت و بخشش چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں مغفرت و بخشش کی دولت سے نوازتا ہے۔