افعال حج کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 60 · 46 hadiths · Page 3 of 3

2574Mishkaat-al-Masabih

حج وعمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہوتے ہیں

وعنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : وفد الله ثلاثة الغازي والحاج والمعتمر . رواه النسائي والبيهقي في شعب الإيمان

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین قسم کے لوگ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔ (١) جہاد کرنے والے (٢) حج کرنے والے (٣) عمرہ کرنے والے۔ (نسائی، بیہقی)

2575Mishkaat-al-Masabih

حج کر کے واپس آنے والے سے سلام ومصافحہ کرو

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا لقيت الحاج فسلم عليه وصافحه ومره أن يستغفر لك قبل أن يدخل بيته فإنه مغفور له . رواه أحمد

حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تم حاجی سے ملاقات کرو تو اس کو سلام کرو اس سے مصافحہ کرو اور اس سے اپنے لئے بخشش کی دعا کرنے کو کہو اس سے پہلے کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہو اور یہ اس لئے کہ اس کی بخشش کی جا چکی ہے۔ (احمد) تشریح جیسا کہ ایک روایت سے ثابت ہوتا ہے حاجی مستجاب الدعوات ہوجاتے ہیں جس وقت کہ وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے ہیں اور گھر واپس آنے کے چالیس روز بعد تک ایسے ہی رہتے ہیں۔ چناچہ گزشتہ زمانہ میں دستور تھا اور اب بھی ہے کہ جب حجاج اپنے گھر واپس آتے تھے تو لوگ ان کے استقبال کے واسطے جایا کرتے تھے اور ان کی غرض یہ ہوتی تھی کہ چونکہ اس شخص کی مغفرت ہوچکی ہے اور یہ گناہوں سے پاک ہو کر آیا ہے اس سے مل کر مصافحہ کریں پیشتر اس کے کہ وہ دنیا میں ملوث ہوجائے تاکہ ہم کو بھی ان سے کچھ فیض پہنچے۔ اگرچہ آج کل یہ غرض کم اور نام و نمود کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے۔ چناچہ اس حدیث میں بھی حاجی سے سلام و مصافحہ کرنے کے لئے گھر میں داخل ہونے سے پہلے کی قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ اس وقت تک دنیا میں ملوث اور اپنے اہل و عیال میں مشغول نہیں ہوتا بلکہ اس وقت تک وہ اللہ کے راستہ ہی میں ہوتا ہے اور گناہوں سے پاک و صاف ہوتا ہے اور اس صورت میں حاجی چونکہ مستجاب الدعوات ہوتا ہے اس لئے فرمایا کہ اس سے اپنے لئے مغفرت و بخشش کی دعا کراؤ تاکہ اللہ تعالیٰ اسے قبول کرے اور تمہیں مغفرت و بخشش سے نوازے۔ علماء لکھتے ہیں کہ عمرہ کرنے والا، جہاد کرنے والا اور دینی طالب علم بھی حاجی کے حکم میں یعنی جب یہ لوگ لوٹ کر اپنے گھر آئیں تو ان سے بھی گھر میں داخل ہونے سے پہلے سلام و مصافحہ کیا جائے اور دعاء بخشش و مغفرت کی درخواست کی جائے کیونکہ یہ لوگ بھی مغفور ہوتے ہیں۔

2576Mishkaat-al-Masabih

حج وعمرہ کی راہ میں مرجانے والے کو پورا ثواب ملتا ہے

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من خرج حاجا أو معتمرا أو غازيا ثم مات في طريقه كتب الله له أجر الغازي والحاج والمعتمر . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص حج یا عمرہ اور یا جہاد کے ارادہ سے گھر سے نکلا اور پھر اس کے راستہ میں مرگیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جہاد کرنے والے اور حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے ہی کا ثواب لکھتا ہے۔ (بیہقی) تشریح انہیں لوگوں کے حکم میں دینی طالب علم بھی ہے یعنی اگر کوئی شخص دین کا علم حاصل کرنے کے لئے اپنے گھر سے نکلا اور پھر وہ راستہ میں مرگیا تو اس کے لئے بھی عالموں کا ثواب لکھا جاتا ہے۔

2577Mishkaat-al-Masabih

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ

حج کے بارے میں چند بنیادی باتین اجمالی طور پر اس باب میں بیان ہوئی ہیں۔ مابعد کے ابواب میں حج کے تفصیلی احکام و مسائل آئیں گے چونکہ مکہ مکرمہ اس عظیم عبادت وسعادت کا بنیادی مقام و محور ہے اور مدینہ منورہ ایک ایک مسلمان کے دل کی دھڑکنوں کا مرکز اور دیار محبوب ہے اور جس کی زیارت بھی سفر حج کی ایک بنیادی خواہش ہے اس لئے اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں مقدس و بابرکت مقامات کا ایک مختصر سا تاریخی اور جغرافیائی خاکہ پیش کردیا جائے اگرچہ آگے ان مقامات کے فضائل و مسائل پر مشتمل الگ ابواب آئیں گے۔

2578Mishkaat-al-Masabih

مکہ مکرمہ

مکہ مکرمہ جہاں بیت اللہ شریف واقع ہے مملکت سعودی عرب کے علاقہ حجاز کا ایک شہر ہے جو وادی ابراہیم میں آباد ہے سطح سمندر سے اس کی بلندی تقریباً ساڑھے تین سو فٹ بتائی جاتی ہے اس کا عرض البلد اکیس درجہ شمالی اور طول البلد ساڑھے انتالیس درجہ مشرقی ہے، آبادی چار لاکھ یا اس سے متجاوز ہے اس کا محل وقوع ساحل سمندر سے تقریباً اڑتالیس میل (٧٨ کلو میٹر) کے فاصلہ پر ہے۔ مکہ کے علاوہ بکہ، ام القرای اور بلد الامین اسی شہر کے نام ہیں مشہور اور متعارف نام مکہ ہی ہے یہ جس جگہ واقع ہے وہ ناقابل کاشت، تنگ اور گہری وادی ہے جو کسی زمانہ میں بالکل جنگل اور بےآب وگیاہ ریگستان ہونے کے سبب لوگوں کی آبادی کا مرکز نہیں بنتی تھی اس وادی میں شہر مکہ مکرمہ مشرق سے مغرب تک پانچ میل سے زائد حصہ میں پھیلا ہوا ہے اس کا عرض دو میل سے زائد ہے اس کی زمین سیلاب کی گزرگاہ ہونے کے باعث بطحا بھی کہی جاتی ہے مکہ کی وادی دو پہاڑی سلسلوں میں گھری ہوئی ہے جو مغرب سے شروع ہو کر مشرق تک چلے گئے ہیں ان میں ایک سلسلہ شمالی ہے اور ایک جنوبی ان دونوں سلسلوں کو اخشیان کہتے ہیں ان پہاڑوں کو توریت میں جبال فاران کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ اور اپنے بیٹھے حضرت اسماعیل کو اس جنگل اور بےآب وگیاہ وادی میں لا کر آباد کیا اور اسی وقت کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی نیز انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس جنکل کو آباد کر دے۔ جب ہی سے یہ بےآب وگیاہ میدان قرب و جوار بلکہ ساری دنیا کا مرکز بنا، اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار بندے اسی کا رخ بنا کر پانچ وقت اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ حضرت اسماعیل کی نسلیں یہاں مقیم ہوئی اور کچھ نسلیں قرب و جوار میں بھی پھیلیں آخر میں قریش یہاں کے متولی اور باشندے ہوئے اور پھر یہاں قریش میں دنیا کے سب سے عظیم رہنما اور اللہ کے سب سے آخری پیغمبر و رسول سرکار دو عالم ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی اور آپ ﷺ نے مبعوث ہونے کے بعد اسی مقدس شہر سے اللہ کے آخری دین اسلام کا پیغام دنیا کو سنایا اور یہیں سے اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی تمام تر جدو جہد کا آغاز ہوا۔ مکہ کی آبادی پہلے صرف خیموں میں رہتی تھی ہجرت سے صرف دو صدی پہلے آنحضرت ﷺ ایک جد قصی ابن کلاب جب شام سے آئے تو ان کے مشورہ سے مکانات کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا، پھر اسلام کے آنے کے بعد اس شہر کو برابر ترقی ہوتی رہی، اب یہ اپنے قرب و جوار میں دور دور تک سب سے بڑا اور پورے عالم اسلام کا سب سے اہم اور مرکزی شہر ہے۔ شہر میں پانی کا ایک ہی چشمہ ہے جسے زمزم کہتے ہیں اس کے علاوہ یہاں پانی کا اور کوئی کنواں نہیں ہے پانی کی کمی کی وجہ سے یہاں کی زمین میں کچھ کاشت نہیں ہوسکتی تھی، اب پانی کی افراط کی وجہ سے کچھ گھاس اور پودے لگائے گئے ہیں پہلے شہر میں پانی کی بہت قلت ہونے کی وجہ سے طائف کے قریب یہاں ایک نہر لائی گئی ہے جس کا نام نہر زبیدہ ہے۔ یہ نہر امین الرشید کی والدہ زبیدہ نے بنوائی تھی بعد میں اس کو ترقی دی جاتی رہی اس کے لئے پانی پہنچانے کے دوسرے ذرائع بھی اختیار کئے گئے اب موجودہ حکومت میں پانی کی سپلائی کا بہت معقول انتظام اور عمدہ ہونے کی وجہ سے یہ قلت بالکل جاتی رہی ہے۔ پہاڑوں کے درمیان گھرے ہونے کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں گرمی زیادہ اور سردی کم ہوتی ہے شہر کا موسم گرمیوں میں بڑا سخت ہوتا ہے اور بارش صرف جاڑوں میں ہوتی ہے جس کی سالانہ مقدار چار پانچ انچ سے زیادہ نہیں ہوتی لہٰذا گرمی کا موسم مارچ میں شروع ہو کر آخر اکتوبر تک رہتا ہے موسم سرما میں سردی کم ہوتی ہے۔

2579Mishkaat-al-Masabih

مدینہ منورہ :

مدینہ منورہ مکہ مکرمہ سے بجانب شمال تقریبا دو سو ستر میل (چار سو بتیس کلو میٹر) کے فاصلہ پر واقع اس کے مغربی جانب سو سو میل (سو کلو میٹر) کے فاصلہ پر سمندر اور اس علاقہ کا مشہور بندرگاہ ینبوع ہے۔ مدینہ منورہ مکہ مکرمہ اور شام کے درمیان راستہ کے تقریبا وسط پر واقع ہے اس کا طول البلد ساڑھے انتالیس درجہ مشرقی اور عرض البلد چوبیس درجہ شمالی ہے۔ جب اللہ کے نام لیواؤں پر مکہ کی زمین تنگ ہوئی اور کفار مکہ کی خطرناک انتقامی کاروائیوں، ایذاء رسانیوں اور سازشوں کی وجہ سے تبلیغ اسلام میں رکاوٹ اور مسلمانوں کی جان و آبرو کے لالے پڑگئے تو اللہ کے حکم سے آنحضرت ﷺ نے صحابہ ؓ کو مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دیا اور خود بھی مکہ چھوڑ کر مدینہ آگئے اس طرح اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا مرکز مدینہ منورہ منتقل ہوگیا اور پھر اسی سر زمین سے اسلام کی روشنی عرب کی حدود سے نکل کر پوری دنیا میں پہنچی۔ آپ کی تشریف آوری سے قبل اس شہر کا نام یثرب تھا یہاں قدیم زمانہ میں عمارز اور دوسری قومیں رہ چکی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام بدل دیا اور پھر اسے مدینۃ الرسول یعنی رسول اللہ ﷺ کا شہر کہا جانے لگا۔ اس کے علاوہ۔ طابہ، طیبہ، طائبہ، ارض اللہ، دارالہجرۃ۔ بیت رسول اللہ۔ حرم رسول اللہ۔ محبوبہ۔ حسنہ وغیرہ بھی نام احادیث وغیرہ میں آتے ہیں لیکن سب سے زیادہ مشہور اور متعارف نام مدینہ ہے۔ مدینہ منورہ مکہ مکرمہ کے برعکس سرسبز و شاداب اور ایک زراعتی شہر ہے۔ مغربی جانب کے علاوہ اس کے دوسرے اطراف میں باغات بکثرت ملتے ہیں جن میں کھجور، انگور انار سیب اور دوسرے پھل کافی مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس کی زمینوں میں کھیتی باڑی کی جاتی ہے مدینہ کی آب و ہوا مکہ کی آب و ہوا کے مقابلہ میں معتدل ہے ایک تو وجہ یہ ہے کہ وہ مکہ مکرمہ کی طرح پہاڑیوں سے گھرا ہوا نہیں ہے دوسرے یہ کہ اس کو مختلف سمتوں سے باغات نے گھیر رکھا ہے تیسرے یہ کہ شہر سطح سمندر سے ساڑھے بارہ ہزار فٹ بلند ہے یہاں جاڑا اور گرمی دونوں سخت ہوتے ہیں۔ یہ شہر ایک صحت پرور شہر سمجھا جاتا ہے منقول ہے کہ جب آنحضرت ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو اس وقت یہاں کی آب و ہوا نہایت ناقص اور خراب تھی اکثر وبائی بیماریاں ہوتی رہتی تھیں چناچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت بلال ؓ یہاں آتے ہی سخت بیمار ہوگئے آنحضرت ﷺ نے اس شہر کی آب و ہوا کی اصلاح اور درستی کے لئے دعا مانگی اور آپ کی دعا قبول ہوئی۔ مدینہ کی مشرقی جانب حرۃ الواقم اور مغربی جانب حرۃ الوبرہ نامی پہاڑ ہیں۔ شمالی جانب جبل احد ہے جس کے پاس احد کا معرکہ پیش آیا تھا اور وہاں متعدد صحابہ اور حضرت حمزہ ؓ کی قبریں ہیں یہ پہاڑ شہر سے تقریباً اڑھائی میل کے فاصلہ پر واقع ہے اور جنوبی جانب جبال گیر نامی دو پہاڑ ہیں اور قبا اور عوالی نامی دو بستیاں ہیں حرۃ الواقم اور حرۃ الوبرہ کے درمیان شمال میں لیکن ذرا علیحدہ جبل سلع ہے یہی وہ جگہ ہے یہاں چار ہجری میں آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کے ساتھ خندق کھودی تھی۔ اور مدینہ منورہ پر حملہ آور کفار کا راستہ بند کردیا تھا۔ یہ واقعہ غزوہ احزاب یا غزوہ خندق کہلاتا ہے یہ خندق حرۃ الواق سے حرۃ الوبرہ تک ہلالی شکل میں کھو دی گئی تھی اور جبل سلع کے پیچھے سے گزری تھی۔ مسلمانوں کا لشکر جبل سلع کے دامن میں مقیم ہوا تھا۔ شہر کے تقریباً وسط میں قدرے مستطیل شکل کی رسول اللہ ﷺ کی پر شکوہ مسجد ہے اس مسجد کے مشرقی پہلو اور جنوبی سرے پر روضہ اطہر ہے جس میں سرکار دو عالم ﷺ آرام فرما ہیں اور آپ کے دو معزز رفیق ابوبکر صدیق اور عمر فاروق ؓ بھی یہیں مدفون ہیں۔