افعال حج کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 60 · 46 hadiths · Page 1 of 3

2534Mishkaat-al-Masabih

افعال حج کا بیان

لغت کے اعتبار سے حج کے معنی ہیں کسی باعظمت چیز کی طرف جانے کا قصد کرنا اور اصطلاح شریعت میں کعبہ مکرمہ کا طواف اور مقام عرفات میں قیام انہیں خاص طریقوں سے جو شارع نے بتائے ہیں اور اسی خاص زمانے میں جو شریعت سے منقول ہے، حج کہلاتا ہے۔ حج دین کے ان پانچ بنیادی ستونوں میں سے ایک عظیم القدر ستون ہے جن پر اسلم کے عقائد و اعمال کی پوری عمارت کھڑی ہوئی ہے حج کا ضروری ہونا (جس کو اصطلاح فقہ میں فرض کہا جاتا ہے) قرآن مجید سے اسی طرح صراحت کے ساتھ ثابت ہے جس طرح زکوٰۃ کی فرضیت ثابت ہے۔

2535Mishkaat-al-Masabih

حج کب فرض ہوا؟

فرضیت حج کی سعادت عظمی ہمارے آقا سرکار دو عالم ﷺ کی امت کے ساتھ مختص ہے گو کہنے کو تو حج کا رواج حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے ہے مگر اس وقت اس کی فرضیت کا حکم نہ تھا۔ چناچہ صحیح مسلک یہی ہے کہ حج صرف امت محمدیہ پر فرض ہوا ہے۔ حج کب فرض ہوا؟ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں، کچھ حضرات کہتے ہیں سن ٥ ھجری میں فرض ہوا، اکثر علما سن ٦ ھجری میں فرضیت کے قائل ہیں لیکن زیادہ صحیح قول ان علماء کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حج سن ٩ ھ کے آخر میں فرض ہوا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم نازل ہوا آیت (وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا)۔ یعنی اللہ کی خوشنودی کے لئے لوگوں پر کعبہ کا حج (ضروری) ہے اور یہ اس شخص پر جو وہاں تک جاسکے۔ چونکہ یہ حکم سال کے آخر میں نازل ہوا تھا اس لئے آپ ﷺ تو فعال حج کی تعلیم میں مشغولیت اور آئندہ سال کے لئے سفر حج کے اسباب کی تیاری میں مصروفیت کی وجہ سے خود حج کے لئے تشریف نہیں لے جاسکے، بلکہ اس سال یعنی سن ٩ ھ میں حضرت ابوبکر ؓ کو حاجیوں کا امیر مقرر فرما کر مکہ بھیج دیا تاکہ وہ لوگوں کو حج کرا دیں اور پھر آپ ﷺ خود سال آئندہ یعنی سن ١٠ ھ میں اس حکم الٰہی کی تعمیل میں حج کے لئے تشریف لے گئے یہ عجیب اتفاق ہے کہ فرضیت کے بعد آپ ﷺ نے یہی پہلا حج کیا جو آخری حج بھی ثابت ہوا۔ چناچہ یہی حج حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے اسی حج کے بعد آپ ﷺ کے چہرہ عالمتاب اور وجود پر نور نے اس دنیا سے پردہ کیا۔

2536Mishkaat-al-Masabih

حج کے احکام

حج عمر میں ایک بار فرض ہے جب کہ وہ تمام شرائط پائی جائیں جن سے حج فرض ہوتا ہے ان شرائط کے پائے جانے کے باوجود جو شخص حج نہ کرے وہ فاسق و گنہگار ہے اور جو شخص حج کی فرضیت کا انکار کرے وہ کافر ہے۔ صحیح یہ ہے کہ جب حج کے شرائط پائے جائیں تو فی الفور حج کرنا فرض ہے۔ دوسرے سال تک اس میں تاخیر کرنا گناہ ہے۔ حج ہے اس شخص پر جو میقات کے اندر بغیر احرام باندھے چلا جائے اور اس کے بعد حج کا احرام باندھے اسی طرح اس شخص پر حج فرض ہے جس نے حج کی نذر کی ہو۔ ناجائز مال سے حج کرنا حرام ہے اور مکروہ تحریمی ہے اس شخص کے لئے جو ان لوگوں کو کی اجازت کے بغیر حج کرے جن سے اجازت لینا ضروری ہے اس شخص کے لئے بھی حج مکروہ تحریمی ہے جو ان لوگوں کے نفقہ کا انتظام کئے بغیر حج کرے جن کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے۔

2537Mishkaat-al-Masabih

حج کے فرض ہونے کی شرطیں

حج ان شرائط کے پائے جانے کے بعد فرض ہوتا ہے۔ (١) مسلمان ہونا، کافر پر حج فرض نہیں ہے (٢) آزاد ہونا، لونڈی غلام پر حج فرض نہیں ہے۔ (٣) عاقل ہونا، مجنون، مست اور بےہوش پر حج فرض نہیں۔ (٤) بالغ ہونا، نابالغ بچوں پر حج فرض نہیں۔ (٥) صحت مند و تندرست ہونا، بیمار، اندھے، لنگڑے، اپاہج پر حج فرض نہیں (٦) قادر ہونا یعنی اس قدر مال کا مالک ہونا جو ضرورت اصلیہ اور قرض سے زائد ہو اور اس کے زاد راہ اور سواری کے کرایہ و خرچ کے لئے کافی ہوجائے نیز جن لوگوں کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے ان کے لئے بھی اس میں سے اس قدر چھوڑ جائے جو اس کی واپسی تک ان لوگوں کو کفایت کرسکے۔ (٧) راستے میں امن ہونا، اس بارے میں اکثر کا اعتبار ہے یعنی اگر اکثر لوگ امن وامان سے پہنچ جاتے ہوں تو حج فرض ہوگا، مثلا اگر اکثر لوگ راستے میں ڈاکہ زنی وغیرہ سے لٹ جاتے ہوں یا کوئی ایسا دریا اور سمندر حائل ہو جس میں بکثرت جہاز ڈوب جاتے ہوں اور اکثر ہلاک ہوجاتے ہوں یا راستے میں اور کسی قسم کا خوف ہو تو ایسی حالت میں حج فرض نہیں ہوگا، ہاں اگر یہ حادثات کبھی کبھی اتفاقی طور پر ہوجاتے ہیں تو پھر حج کی فرضیت ساقط نہیں ہوگی (٨) عورت کے لئے ہمراہی میں شوہر یا کسی اور محرم کا موجود ہونا جب کہ اس کے یہاں سے مکہ کی دوری بقدر مسافت سفر یعنی تین دن کی ہو۔ اگر شوہر یا محرم ہمراہی میں نہ ہوں۔ تو پھر عورت کے لئے سفر حج اختیار کرنا جائز نہیں ہے اور محرم کا عاقل بالغ ہونا اور مجوسی و فاسق نہ ہونا بھی شرط ہے۔ محرم کا نفقہ اس عورت پر ہوگا جو اپنے اپنے ساتھ حج میں لے جائے گی۔ نیز جس عورت پر حج فرض ہو وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر بھی محرم کے ساتھ حج کے لئے جاسکتی ہے۔ اگر کوئی نابالغ لڑکا یا غلام احرام باندھنے کے بعد بالغ ہوجائے یا آزاد ہوجائے اور پھر وہ حج پورا کرے تو اس صورت میں فرض ادا نہیں ہوگا! ہاں اگر لڑکا فرض حج کے لئے از سر نو احرام باندھے گا تو صحیح ہوجائے گا۔ لیکن غلام کا احرام فرض حج کے لئے اس صورت میں بھی درست نہیں ہوگا۔

2538Mishkaat-al-Masabih

حج کے فرائض

حج میں پانچ چیزیں فرض ہیں۔ (١) احرام، یہ حج کے لئے شرط بھی ہے اور رکن یعنی فرض بھی ہے۔ (٢) وقوف عرفات یعنی عرفات میں ٹھہرنا خواہ ایک ہی منٹ کے بقدر ہو اور خواہ دن میں ہو یا رات میں (٣) طواف الزیارۃ اس کو طواف الافاضہ اور طواف الرکن بھی کہتے ہیں (٤) مذکورہ بالا فرائض میں ترتیب کا لحاظ یعنی احرام کو وقوف اور وقوف کو طواف زیارت پر مقدم کرنا (٥) ہر فرض کو اسی مکان مخصوص میں ادا کرنا یعنی وقوف کا خاص عرفات میں اور طواف کا حاصل مسجد حرام کعبہ مکرمہ کے گرد ہونا اور ہر فرض کا اسی خاص وقت میں ادا کرنا جو شریعت سے اس کے لئے مقرر ہے یعنی وقوف کا نویں ذی الحجہ کی ظہر کے وقت سے دسویں تاریخ کی فجر سے پہلے تک ادا کرنا اور طواف کا اس کے بعد ادا کرنا۔

2539Mishkaat-al-Masabih

حج کے واجبات

حج میں یہ چیزیں واجب ہیں۔ (١) وقوف مزدلفہ (٢) صفا اور مروہ کے درمیان سعی (٣) رمی جمار (٤) آفاقی یعنی غیر مکی کے لئے طواف قدوم (٥) حلق یا تقصیر یعنی بال منڈوانا یا کترانا (٦) اور ہر وہ چیز جس کو ترک کردینے پر دم یعنی جانور ذبح کرنا واجب ہوجاتا ہو۔ ان فرائض و واجبات کے علاوہ اور بہت سی چیزیں جو حج کے سنن و آداب کے تحت آتی ہیں وہ آئندہ صفحات میں موقع بموقع بیان ہوں گی۔

2540Mishkaat-al-Masabih

حج عمر بھر میں ایک مرتبہ فرض ہے

عن أبي هريرة قال : : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا أيها الناس قد فرض عليكم الحج فحجوا فقال رجل : أكل عام يا رسول الله ؟ فسكت حتى قالها ثلاثا فقال : لو قلت : نعم لوجبت ولما استطعتم ثم قال : ذروني ما تركتكم فإنما هلك من كان قبلكم بكثرة سؤالهم واختلافهم على أنبيائهم فإذا أمرتكم بشيء فأتوا منه ما استطعتم وإذا نهيتكم عن شيء فدعوه . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ نے ہمارے سامنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے لھذا تم حج کرو یہ سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم ہر سال حج کریں؟ آپ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ اس شخص نے تین مرتبہ یہی بات کہی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا ہوں تو یقینا حج ہر سال کے لئے فرض ہوجاتا اور تم ہر سال حج کرنے پر قادر نہیں ہوسکتے تھے؟ پھر آپ ﷺ نے فرمایا جب تک میں تمہیں چھوڑوں تم مجھے چھوڑ دو (یعنی جو کچھ میں نہ کہا کروں مجھ سے مت پوچھا کرو) کیونکہ جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں یعنی یہود و نصاریٰ وہ اسی سبب سے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے انبیاء سے پوچھتے اور ان سے اختلاف کرتے تھے (جیسا کہ بنی اسرائیل کے بارے میں منقول ہے) لہٰذا جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اس میں سے جو کچھ تم کرنے کی طاقت رکھتے ہو کرو اور جب میں تمہیں کسی بات سے منع کروں تو اس کو چھوڑ دو۔ (مسلم) تشریح اللہ تعالیٰ نے جب حج کی فرضیت کا فرمان نازل فرمایا تو آنحضرت ﷺ نے اس کو امت کے اوپر نافذ کرنے کے لئے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ حج کریں چناچہ جب آپ ﷺ لوگوں کے سامنے حج کی فرضیت بیان فرما رہے تھے اور انہیں حج کرنے کا حکم دے رہے تھے تو ایک صحابی جن کا نام اقرع بن حابس ؓ تھا پوچھ بیٹھے کہ حج ہر سال کیا جائے گا؟ وہ یہ سمجھے کہ جس طرح دیگر عبادتیں یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ بار بار ادا کی جاتی ہیں اسی طرح یہ حج بھی مکرر ہی ہوگا اسی لئے انہوں نے یہ سوال کیا۔ لیکن آنحضرت ﷺ کو یہ بات ناگوار ہوئی اس لئے آپ ﷺ نے پہلے تو تنبیہا سکوت اختیار فرمایا اور کوئی جواب نہیں دیا۔ جب انہوں نے کئی بار پوچھا تو آخر کار آنحضرت ﷺ نے جواب دیا کہ اگر میں اس سوال کے جواب میں ہاں کہہ دیتا تو یقینا ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا کیونکہ میں یہ جواب اللہ تعالیٰ کے حکم کے بموجب دیتا بغیر اس کے حکم سے میری زبان سے کوئی تشریعی بات نہیں نکلتی اور اگر ہر سال حج فرض ہوجاتا تو تم میں اتنی طاقت نہ ہوتی کہ ہر سال اس کی ادائیگی پر قادر نہ ہوتے۔ پھر آپ ﷺ نے متنبہ فرمایا کہ کسی بھی دینی حکم کو مجھ پر چھوڑ دو، جب میں کسی فعل کا حکم دوں تو مجھ سے یہ نہ پوچھوں کہ یہ فعل کتنا ہے اور کیسا ہے جب تک میں خود یہ بیان نہ کروں کہ یہ فعل کتنا کیا جائے اور کس طرح کیا جائے۔ میں جس طرح کہوں تم اسی طرح ادا کرو۔ اگر کسی فعل کے بارے میں بلا قید و تعین اعداد کے مطلق حکم کروں تو اس حکم کی اسی طرح بجا آوری کرو اور اگر یہ بیان کروں کہ اس فعل کو اتنی بار اور اس طرح کرو تو اسے اتنی ہی بار اور اسی طرح کرو۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ میں دنیا میں اسی لئے آیا ہوں کہ تم تک اسلام کے احکام پوری وضاحت کے ساتھ پہنچا دوں اور شریعت کو بیان کر دوں جو بات جس طرح ہوتی ہے اسے اسی طرح بیان کردیتا ہوں۔ تمہارے سوال کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ پھر آخر میں آپ ﷺ نے احکام کی بجا آوری کے سلسلے میں تائید و مبالغہ کے طور پر فرمایا کہ فا توا منہ ما استطعتم (اس میں سے جو کچھ تم کرنے کی طاقت رکھتے ہو کرو) یعنی اللہ اور رسول ﷺ کے احکام پر عمل کرنے کی تم جتنی بھی طاقت رکھتے ہو اس کے مطابق عمل کرو یا پھر یہ کہ اس جملے کے ذریعہ آپ ﷺ نے رفع حرج پر اشارہ فرمایا کہ مثلاً نماز کے بعض شرائط و ارکان ادائیگی سے تم اگر عاجز ہو تو جس قدر ہو سکے اسی قدر کرو، جو تم سے نہ ہو سکے اسے چھوڑ دو جیسے اگر تم میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرسکو تو بیٹھ کر نماز پڑھو، اگر بیٹھ کر پڑھنے سے بھی عاجز ہو تو لیٹے ہی لیٹے پڑھو مگر پڑھو ضرور، اسی پر دوسرے احکام و اعمال کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔

2541Mishkaat-al-Masabih

کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟

وعنه قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم : أي العمل أفضل ؟ قال : إيمان بالله ورسوله قيل : ثم ماذا ؟ قال : الجهاد في سبيل الله . قيل : ثم ماذا ؟ قال : حج مبرور

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پوچھا گیا کہ پھر کون سا عمل؟ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، پوچھا گیا کہ پھر کون سا، فرمایا حج مقبول۔ (بخاری ومسلم) تشریح افضل اعمال کے سلسلے میں سب سے بہتر عمل کون سا ہے۔ مختلف احادیث منقول ہیں کسی حدیث میں کسی عمل کو افضل فرمایا گیا ہے اور کسی میں کسی کو، ان سب میں مطابقت و موافقت یوں پیدا کی جاتی ہے کہ یہ اختلاف بیان سائلین کے اقوال، حیثیات اور مقامات کے فرق و تفاوت کی بناء پر ہے، اس حدیث کو تفصیل کے ساتھ کتاب الصلوۃ میں بھی ایک موقع پر بیان کیا جا چکا ہے۔

2542Mishkaat-al-Masabih

صرف اللہ کے لئے حج کرنے والے کی سعادت

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حج فلم يرفث ولم يفسق رجع كيوم ولدته أمه

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کے لئے حج کرے اور حج کے دوران نہ ہم بستری اپنی عورت سے کرے اور نہ فسق میں مبتلا ہو تو وہ اس طرح بےگناہ ہو کر واپس آتا ہے جیسے اس دن بےگناہ تھا کہ جس دن اس کو اس کی ماں نے جنا تھا۔ (بخاری ومسلم) تشریح جو شخص اللہ کے لئے حج کرے کا مطلب یہ ہے کہ وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی اور صرف اس کے حکم کی بجا آوری کے لئے حج کرے، دکھانے، سنانے کا جذبہ یا غرض و مقصد پیش نظر نہ ہو۔ اس سلسلے میں اتنی بات ضرور جان لینی چاہئے کہ جو شخص حج اور تجارت یا مال وغیرہ لانے، دونوں کے قصد سے حج کے لئے جائے گا تو اسے ثواب کم ملے گا بہ نسبت اس شخص کے جو صرف حج کے لئے جائے گا کہ اسے ثواب زیادہ ملے گا۔ رفث کے معنی ہیں جماع کرنا، فحش گوئی میں مبتلا ہونا اور عورتوں کے ساتھ ایسی باتیں کرنا جو جماع کا داعیہ اور اس کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ اور نہ فسق میں مبتلا ہو کا مطلب یہ ہے کہ حج کے دوران گناہ کبیرہ کا ارتکاب نہ کرے اور صغیرہ گناہوں پر اصرار نہ کرے۔ یہ ذہن میں رہے کہ گناہوں سے توبہ نہ کرنا بھی کبیرہ گناہوں ہی میں شمار ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی سے واضح ہوتا ہے آیت (ومن لم یتب فاولئک ہم الظالمون)۔ اور جس نے توبہ نہیں کی تو یہی وہ ہیں جو اپنے حق میں ظالم ہیں۔ حاصل یہ کہ جو شخص خالصۃ للہ حج کرے اور اس حج کے دوران جماع اور فحش گوئی میں مبتلا نہ ہو اور نہ گناہ کی دوسری چیزوں کو اختیار کرے تو گناہ سے ایسا ہی پاک و صاف ہو کر حج سے واپس آتا ہے جیسا کہ گناہوں سے پاک و صاف ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔

2543Mishkaat-al-Masabih

حج کا ثمرہ جنت ہے

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک کفارہ ہے ان صغیرہ گناہوں کے لئے جو ان دونوں عمروں کے درمیان ہوں اور حج مقبول کا بدلہ جنت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ (بخاری ومسلم )

2544Mishkaat-al-Masabih

رمضان میں عمرہ کا ثواب

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن عمرة في رمضان تعدل حجة

حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے ثواب کے برابر ہے۔ (بخاری ومسلم )

2545Mishkaat-al-Masabih

نابالغ کو بھی حج کا ثواب ملتا ہے

وعنه قال : إن النبي صلى الله عليه و سلم لقي ركبا بالروحاء فقال : من القوم ؟ قالوا : المسلمون . فقالوا : من أنت ؟ قال : رسول الله فرفعت إليه امرأة صبيا فقالت : ألهذا حج ؟ قال : نعم ولك أجر . رواه مسلم

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سفر حج کے دوران روحاء میں جو مدینہ سے ٣٦ کوس کے فاصلے پر ایک جگہ کا نام تھا ایک قافلے سے ملے، آپ ﷺ نے پوچھا کہ تم کون قوم ہو؟ قافلے والوں نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں پھر قافلے والوں نے پوچھا کہ آپ ﷺ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ہوں یہ سن کر ایک عورت نے ایک لڑکے کو ہاتھ میں لے کر کجاوے سے آنحضرت ﷺ کی طرف پکڑ کر بلند کیا یعنی آپ ﷺ کو دکھلایا پھر آپ ﷺ سے پوچھا کہ کیا اس کے لئے حج کا ثواب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں! اور تمہارے لئے بھی ثواب ہے۔ (مسلم) تشریح عورت کے سوال کے جواب میں آپ ﷺ کے ہاں کا مطلب یہ تھا کہ لڑکا اگرچہ نابالغ ہے اور اس پر حج فرض نہیں ہے۔ لیکن اگر یہ حج میں جائے گا تو اسے نفلی حج کا ثواب ملے گا اور چونکہ تم اس بچے کو افعال حج سکھلاؤگی، اس کی خبر گیری کروگی اور پھر یہ کہ تم ہی اس کے حج کا باعث بنوگی اس لئے تمہیں بھی ثواب ملے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی نابالغ حج کرے تو اس کے ذمہ سے فرض ساقط نہیں ہوگا اگر بالغ ہونے کے بعد فرضیت حج کے شرائط پائے جائیں گے تو اسے دوبارہ پھر کرنا ہوگا، اسی طرح اگر غلام حج کرے تو اس کے ذمہ سے بھی فرض ساقط نہیں ہوتا، آزاد ہونے کے بعد فرضیت حج کے شرائط پائے جانے کی صورت میں اس کے لئے دوبارہ حج کرنا ضروری ہوگا۔ ان کے برخلاف اگر کوئی مفلس حج کرے تو اس کے ذمہ سے فرض ساقط ہوجائے گا۔ مال دار ہونے کے بعد اس پر دوبارہ حج کرنا واجب نہیں ہوگا۔

2546Mishkaat-al-Masabih

دوسرے کی طرف سے حج کرنے کا مسئلہ

وعنه قال : إن امرأة من خثعم قالت : يا رسول الله إن فريضة الله عبادة في الحج أدركت أبي شيخا كبيرا لا يثبت على الراحلة أفأحج عنه ؟ قال : نعم ذلك حجة الوداع

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ کے ایک فریضہ نے جو اس کے بندوں پر ہے میرے باپ کو بڑا بوڑھا پایا ہے یا جو سواری پر جم کر بیٹھ بھی نہیں سکتا تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ہاں! اس کی طرف سے حج کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ اور اس عورت کے درمیان یہ سوال جواب حجۃ الوداع میں ہوا تھا۔ (بخاری و مسلم) تشریح اس عورت کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ میرے باپ پر بڑھاپے میں حج فرض ہوا ہے۔ بایں سبب کہ وہ بڑھاپے میں اس کو اتنا مال مل گیا ہے اور اس کے پاس اتنا مال ہے کہ جس کی وجہ سے اس پر حج فرض ہوجاتا ہے یا یہ کہ اب بڑھاپے میں اس کو اتنا مال مل گیا ہے کہ اس پر حج فرض ہوگیا ہے مگر وہ اتنا ضعیف اور کمزور ہے کہ ارکان و افعال حج کی ادائیگی تو الگ ہے وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتا تو کیا میں اس کی طرف سے نیابتہ حج کرلوں؟ چناچہ آپ ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں! اس کی طرف سے تم حج کرلو۔ مسئلہ یہ ہے کہ کسی شخص پر اگر حج فرض ہو اور وہ بذات خود حج کرنے سے معذور ہو نیز یہ کہ اس کی وہ معذوری ایسی ہو جو موت تک زائل نہ ہونے والی ہو۔ جیسے بڑھاپے کا ضعف، نابینا ہونا، یا پیروں کا کٹا ہونا وغیرہ تو اس کی طرف سے کسی دوسرے شخص کا حج کرلینا جائز ہے۔ بشرطیکہ وہ معذور اپنی طرف سے حج کرنے والے کو حج کے اخراجات بھی دے اور اسے اپنی طرف سے حج کرنے کا حکم بھی دے۔ نیز اس کی موت کے بعد بھی اس کی طرف سے کسی دوسرے شخص کا حج کرنا جائز ہے جب کہ وہ اس کی وصیت کر کے مرا ہو۔ لیکن بعض علماء کہتنے ہیں کہ اولاد اگر اپنے والدین کی طرف سے فرض حج کرے تو اس صورت میں حکم اور وصیت شرط نہیں ہے یعنی والدین کی طرف سے حج کرنا۔ بغیر حکم اور بغیر وصیت کے بھی جائز ہے، یہ تو فرض حج کی بات تھی نفل حج کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی طرف سے کسی دوسرے سے نفل حج کرائے۔ تو معذوری شرط نہیں ہے۔ یعنی اگر بذات خود اسے حج کرنے کی قدرت و طاقت حاصل ہے تو اس کے باوجود وہ کسی دوسرے سے اپنا نفل حج کرا سکتا ہے۔ مذکورہ بالا مسئلہ کو ذہن میں رکھ کر حدیث کی طرف آئیے۔ عورت اپنے باپ کی طرف سے حج کرنے کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے پوچھ رہی ہے۔ لیکن وہ چونکہ وضاحت نہیں کر رہی ہے اس لئے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے باپ نے نہ تو اس کو اپنی طرف سے حج کرنے کا حکم دیا ہے اور نہ اسے اخراجات دئیے ہیں۔ گویا اس طرح حدیث کے ظاہری مفہوم اور مذکورہ بالا اس فقہی روایت میں کہ جس کی طرف سے حج کیا جائے اس کا حکم اور اس کی طرف سے اخراجات کی ادائیگی حج کے صحیح ہونے کی شرط ہے، تضاد نظر آتا ہے، لہٰذا اس تضاد کو اس تاویل کے ذریعے ختم کیا جائے گا کہ اس عورت کے باپ نے اس کو اپنی طرف سے حج کرنے کی اجازت بھی دی ہوگی اور اسے اخراجات بھی دئیے ہوں گے مگر اس نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ اس تاویل کی بنیاد حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی وہ تقریر ہے کہ انہوں نے حضرت ابورزین کی روایت کی وضاحت کے ضمن میں بیان کی ہے یہ روایت اسی باب کی دوسری فصل میں آئے گی۔ بعض علماء کے قول کہ والدین کی طرف سے حج کرنا بغیر حکم و وصیت کے بھی جائز ہے۔ کے پیش منظر اس تاویل کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس صورت میں تو یہ حدیث اس فقہی روایت کی دلیل بن جائے گی۔

2547Mishkaat-al-Masabih

دوسرے کی طرف سے حج کرنے کا مسئلہ

وعنه قال : أتى رجل النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إن أختي نذرت أن تحج وإنها ماتت فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لو كان عليها دين أكنت قاضيه ؟ قال : نعم قال : فاقض دين الله فهو أحق بالقضاء

حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میری بہن نے حج کرنے کی نذر مانی تھی مگر وہ مرگئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کے ذمہ اگر کوئی مطالب (مثلاً قرض وغیرہ) ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟ اس نے کہا ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر اللہ کا مطالبہ (یعنی حج نذر) ادا کرو کیونکہ اس کا ادا کرنا زیادہ ضروری ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس کی بہن کے ورثہ میں کچھ مال ملا ہوگا۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے حق اللہ کو حق العباد پر قیاس فرماتے ہوئے اس کو بہن کا حج نذر کرنے کا حکم دیا۔ مسئلہ وارث کے لئے جائز ہے کہ وہ مورث کی طرف سے اس کی اجازت و وصیت کے بغیر بھی حج کرسکتا ہے، یا اس کی طرف سے خود حج کرسکتا ہے۔ لیکن دوسروں کے لئے اجازت و وصیت شرط ہے کہ اس کے بغیر حج درست نہ ہوگا۔

2548Mishkaat-al-Masabih

عورت خاوند یا محرم کے بغیر حج کو نہیں جاسکتی

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يخلون رجل بامرأة ولا تسافرن امرأة إلا ومعها محرم . فقال رجل : يا رسول الله اكتتبت في غزوة كذا وكذا وخرجت امرأتي حاجة قال : اذهب فاحجج مع امرأتك

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی شخص عورت کے ساتھ خلوت نہ کرے (یعنی اجنبی مرد و عورت کسی جگہ تنہا جمع نہ ہوں) اور کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ یہ سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! فلاں غزوہ میں میرا نام لکھا جا چکا ہے (یعنی فلاں جہاد جو درپیش ہے اور وہاں جو لشکر جانے والا ہے اس میں میرا نام بھی لکھا جا چکا ہے کہ میں بھی لشکر کے ہمراہ جاؤں) اور حالانکہ میری بیوی نے سفر حج کا ارادہ کرلیا ہے؟ تو کیا کروں؟ آیا جہاد کو جاؤں اور بیوی کو اکیلا حج کے لئے جانے دوں یا بیوی کے ساتھ جاؤں اور جہاد میں نہ جاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ (کیونکہ جہاد میں جانے والے تو بہت ہیں لیکن تمہاری بیوی کے ساتھ جانے والا تمہارے علاوہ اور کوئی محرم نہیں ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح اجنبی عورت و مرد کے لئے حرام ہے کہ وہ تنہائی میں یک جا ہوں۔ اسی طرح عورت کو بقدر مسافت سفر (یعنی ٤٨ میل یا ٧٨ کلو میٹر) یا اس سے زائد مسافت میں خاوند یا محرم کے بغیر سفر کرنا حرام ہے حتی کہ سفر حج میں بھی عورت کے لئے اس کے خاوند یا کسی محرم کا ساتھ ہونا وجوب حج کے لئے شرط ہے یعنی عورت پر حج اسی وقت فرض ہوتا ہے جب کہ اس کے ساتھ خاوند یا محرم ہو۔ محرم اصطلاح شریعت میں اس کو کہتے ہیں جس کے ساتھ نکاح ہمیشہ کے لئے حرام ہو خواہ قرابت کے لحاظ سے ہو یا دودھ کے رشتے سے یا سسرال کے ناطے سے، نیز محرم کا عاقل و بالغ ہونا اور مجوسی و فاسق نہ ہونا بھی شرط ہے۔

2549Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کا جہاد، حج ہے

وعن عائشة قالت : استأذنت النبي صلى الله عليه و سلم في الجهاد . فقال : جهادكن الحج

ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے جہاد میں جانے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا جہاد حج ہے۔ (یعنی تم عورتوں پر جہاد واجب نہیں ہے اس کی بجائے حج بشرطیکہ نفل حج کرنے کی استطاعت ہو۔ (بخاری ومسلم)

2550Mishkaat-al-Masabih

خاوند یا محرم کے بغیر عورت کے سفر کی حد

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تسافر امرأة مسيرة يوم وليلة إلا ومعها ذو محرم

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ کوئی عورت ایک دن و ایک رات کی مسافت کے بقدر بھی سفر نہ کرے علاوہ یہ کہ اس کے ساتھ محرم ہو۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس موقع پر حدیث اور فقہی روایت کا تضاد سامنے آسکتا ہے وہ یوں کہ ہدایہ میں جو فقہ حنفی کی مشہور تین کتاب ہے لکھا ہے کہ عورتوں کو بغیر خاوند یا محرم کسی ایسی جگہ کا سفر مباح ہے جس کی مسافت حد سفر سے (کہ وہ تین منزل یعن ٤٨ میل سے کم ہو) لیکن یہاں حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی عورت بغیر خاوند یا محرم کسی ایسی جگہ کا سفر بھی نہیں کرسکتی جس کی مسافت ایک دن و ایک رات (ایک منزل یا ١٦ میل کے سفر کے بقدر ہو۔ نیز بخاری و مسلم میں بھی یہ ایک روایت منقول ہے کہ کوئی عورت دو دن کی مسافت کے بقدر بھی سفر نہ کرے الاّ یہ کہ اس کے ساتھ اس کا خاوند یا محرم ہو۔ لہٰذا فقہاء کا قول بظاہر ان روایات کے مخالف نظر آتا ہے لیکن اس تضاد و اختلاف کو دور کرنے کے لئے علماء یہ کہتے ہیں کہ حدیث میں مطلق طور پر جو یہ منقول ہے کہ کوئی عورت اپنے خاوند یا محرم کے بغیر سفر نہ کرے تو چونکہ شرعی طور پر سفر کا اطلاق تین دن سے کم پر نہیں ہوتا اس لئے فقہاء نے اس حدیث کو تین دن (٤٨ میل) کی مسافت کے بقدر سفر پر محمول کیا ہے اور یہ فقہی قاعدہ مرتب کردیا کہ کوئی عورت اتنی دور کا سفر کہ جو تین دن کی مسافت کے بقدر ہو بغیر خاوند یا محرم کے نہ کرے اور جب تین دن کی مسافت کے بقدر تنمہا سفر نہیں کرسکتی تو اس سے زائد مسافت کا سفر کرنا تو بدرجہ اولیٰ جائز نہیں ہوگا۔ اور جن حدیثوں میں دو دن یا ایک دن کی مسافت کے بقدر سفر سے بھی منع کیا گیا ہے تو اس کو فتنہ و فساد پر محمول کیا ہے کہ اگر سفر تین دن کی مسافت سے بھی کم یعنی دو دن یا ایک دن کی مسافت کے بقدر ہو اور کسی فتنہ و فساد مثلاً عورت کی عزت و آبرو پر حرف آنے کا گمان ہو تو اس صورت میں بھی عوت کو تنہا سفر نہیں کرنا چاہئے۔ یا پھر یہ کہا جائے گا کہ جہاں تین دن کی مسافت کے بقدر سفر کی ممانعت منقول ہے تو اس کی مراد یہ ہے کہ ہر منزل (یعنی ١٦ میل) ایک دن کے اکثر حصے میں طے ہوتی ہو تو اس طرح تین دن میں تین منزلیں طے ہوں گی اور جہاں دو دن کے سفر کی ممانعت ہے۔ تو اس کی مراد یہ ہے کہ تمام دن چلے یعنی ایک دن میں ڈیڑھ منزل (٢٤ میل) طے ہو اس طرح دو دن میں تین منزلیں طے ہوں گی اور جہاں ایک دن و رات کے سفر کی ممانعت ہے تو اس کی مراد یہ ہے کہ شب و روز چلے، یعنی ڈیڑھ منزل پورے دن میں طے ہو ڈیڑھ منزل پوری رات میں طے ہو اس طرح ایک دن و رات میں تین منزلیں طے ہوں گی۔ اس تاویل کی وجہ سے ان تمام روایات کا مقصد تین دن کی مسافت کے بقدر عورت کو تنہا سفر کرنے سے روکنا ثابت ہوجائے گا اور تمام روایات میں باہم کوئی تضاد بھی باقی نہیں رہے گا۔ اس سلسلے میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی یہ بات دل کو زیادہ لگتی ہے کہ ان تمام روایات ( کہ جن سے عورت کو تنہا سفر کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے اور جن میں حد سفر کے بارے میں اختلاف نظر آ رہا ہے) کا مقصد سفر کی کسی حد اور مدت کو متعین کرنا نہیں ہے بلکہ ان روایات کا مجموعی حاصل یہ ہے کہ عورت بغیر خاوند یا محرم تنہا سفر مطلقاً نہ کرے مسافت چاہے طویل ہو اور چاہے کتنی ہی مختصر ہو۔ لہٰذا موجودہ دور میں جب کہ فتنہ فساد کا خوف عام ہے اور انسانی ذہن غلط طریقہ تعلیم و تربیت اور فاسد ماحول کی وجہ سے بےحیائی اور فحاشی کا مرکز بن گئے ہیں تو احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ عورت مطلقاً تنہا سفر نہ کرے سفر چاہے تھوڑی دور کا ہو چاہے زیادہ فاصلے کا۔ اس لئے کہ فتنہ و فساد کا خوف بہر صورت رہتا ہے۔

2551Mishkaat-al-Masabih

مواقیت حج

وعن ابن عباس قال : وقت رسول الله صلى الله عليه و سلم لأهل المدينة : ذا الحليفة ولأهل الشام : الجحفة ولأهل نجد : قرن المنازل ولأهل اليمن : يلملم فهن لهن ولمن أتي عليهن من غير أهلهن لمن كان يريد الحج والعمرة فمن كان دونهن فمهله من أهله وكذاك وكذاك حتى أهل مكة يهلون منها

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے آفاقی یعنی غیر مکی کے لئے احرام باندھنے کی جگہ (میقات) اس طرح متعین فرمائیں۔ اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لئے جحفہ، نجد والوں کے لئے قرن منازل اور یمن والوں کے لئے یلملم۔ یہ سب مذکورہ علاقوں کے لوگوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ہیں اور ان مقامات سے گزرنے والے ان لوگوں کے لئے بھی یہی میقات ہیں جو ان علاقوں کے علاوہ ہوں مثلا ہندوستانی کہ جب یمن کے راستے پر پہنچیں تو یلملم سے احرام باندھیں۔ اسی طرح دوسرے ملکوں کے لوگوں کے لئے بھی یہی ہے کہ ان کے راستے میں جو میقات آئے وہیں سے احرام باندھیں اور یہ (احرام اور احرام باندھنے کی جگہیں) ان لوگوں کے لئے ہیں جو حج اور عمرہ کا ارادہ کریں۔ اور جو شخص ان مقامات کے اندر رہتا ہے اس کے احرام باندھنے کی جگہ اس کے گھر سے ہے اسی طرح اور اسی طرح یہاں تک کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرام باندھیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح احرام کے معنی ہیں حرام کردینا) چونکہ حج کرنے والے پر کئی چیزیں حرام ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا اس اظہار کے واسطے کہ اس وقت سے یہ چیزیں حرام ہوگئی ہیں ایک لباس جو صرف ایک چادر اور ایک تہبند ہوتا ہے بہ نیت حج پہنا جاتا ہے۔ جس کو احرام کہتے ہیں۔ لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ احرام کا عمل اس وقت سے شروع ہوتا ہے جس وقت احرام پہننے کے بعد حج کی نیت کی جائے اور لبیک کہی جائے یا کوئی ایسا فعل کیا جائے جو تلبیہ (لبیک کہنے) کے مثل ہو جیسے (یعنی قربانی کا جانور) روانہ کرنا، ورنہ صرف احرام کا لباس پہننے پھرنے سے کوئی شخص محرم نہیں ہوسکتا۔

2552Mishkaat-al-Masabih

مواقیت

مواقیت میقات کی جمع ہے۔ میقات اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں سے مکہ مکرمہ میں جانے والے احرام باندھتے ہیں اور مکہ مکرمہ جانے والے کے لئے وہاں سے بغیر احرام آگے بڑھنا منع ہے۔ ذوالحلیفہ ایک مقام کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے جنوب میں تقریباً ١١٥ میل ١٨٨ کلو میٹر کے فاصلے پر اور رابغ سے چند میل جنوب میں واقع ہے یہ قریش کی تجارتی شاہراہ کا ایک اسٹیشن رہ چکا ہے اب غیر آباد ہے، یہ مقام شام و مصر کی طرف سے آنے والوں کے واسطے میقات ہے۔ نجد اصل میں تو بلند زمین کو کہتے ہیں مگر اصطلاحی طور جزیرۃ العرب کے ایک علاقے کا نام ہے جو مملکت سعوی عرب کا ایک حصہ ہے۔ اس علاقے کو نجد غالباً اسی لئے کہا جاتا ہے کہ سطح سمندر سے یہ علاقہ اچھا خاصا بلند ہے اس وقت جزیرۃ العرب کا سارا وسطی علاقہ جسے نجد کہا جاتا ہے۔ شمال میں بادیۃ الشام کے جنوبی سرے سے شروع ہو کر جنوب میں وادی الاواسر یا الربع الخال تک اور عرضا احساء سے حجاز تک پھیلا ہوا ہے، حکومت سعودی عرب کا دارالسلطنت ریاض نجد ہی کے علاقے میں ہے۔

2553Mishkaat-al-Masabih

قرن المنازل

قرن المنازل یہ ایک پہاری ہے جو مکہ سے تقریباً تیس میل (٤٨ کلو میٹر) جنوب میں تہامہ کی ایک پہاڑی ہے یہ پہاری یمن سے مکہ آنے والے راستے پر واقع ہے اس پہاڑی سے متصل سعدیہ نامی ایک بستی ہے یہ یمن کی طرف سے آنے والوں کی میقات ہے۔ ہندوستان سے جانے والے اس پہاڑی کے سامنے سے گزرتے ہیں اس لئے ہندوستان والوں کے لئے بھی یہی میقات ہے۔ امن مواقیت کے علاوہ ایک میقات ذات عرق) یہ مکہ مکرمہ سے تقریباً ساٹھ میل (٩٧ کلو میٹر) کے فاصلے پر شمال مشرقی جانب عراق جانے والے راستے پر واقع ہے۔ اور عراق کی طرف سے آنے والوں کے واسطے میقات ہے۔ حدیث کے الفاظ لمن کان یرید الحج والعمرۃ (اور یہ احرام کی جگہیں ان لوگوں کے لئے ہیں جو حج وعمرہ کا ارادہ کریں) سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص (یعنی غیر مکی) حج وعمرہ کے ارادے کے بغیر میقات سے گزرے تو اس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ مکہ میں داخل ہونے کے لئے احرام باندھے۔ جیسا کہ امام شافعی کا مسلک ہے، لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک کے مطابق مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہونا جائز نہیں ہے۔ خواہ حج وعمرہ کا ارادہ ہو یا نہ ہو۔ یعنی اگر کوئی غیر مکی شخص مکہ مکرمہ میں داخل ہونا چاہے خواہ وہ حج کے لئے جاتا ہو یا کسی اور غرض سے تو اس پر واجب ہے کہ وہ میقات سے احرام باندھ کر جائے احرام کے بغیر وہ مکہ میں داخل نہیں ہوسکتا۔ حنفی مسلک کی دلیل آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ۔ لا یجاوز حد المیقات الا محرما۔ کوئی شخص (مکہ میں داخل ہونے کے لئے) میقات کے آگے بغیر احرام کے نہ بڑھے۔ یہ حدیث اس بارے میں مطلق ہے کہ اس میں حج وعمرہ کے ارادے کی قید نہیں ہے، پھر یہ کہ احرام اس مقدس و محترم مکان یعنی کعبہ مکرمہ کی تعظیم و احترام کی غرض سے باندھا جاتا ہے۔ حج وعمرہ کیا جائے یا نہ کیا جائے لہٰذا اس حکم کا تعلق جس طرح حج وعمرہ کرنے والے سے ہے اسی طرح یہ حکم تاجر و سیاح وغیرہ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ہاں جو لوگ میقات کے اندر ہیں ان کو اپنی حاجت کے لئے بغیر احرام مکہ میں داخل ہونا جائز ہے کیونکہ ان کو بارہا مکہ مکرمہ میں آنا جانا پڑتا ہے۔ اس واسطے ان کے لئے ہر بار احرام کا واجب ہونا دقت و تکلیف سے خالی نہیں ہوگا، لہٰذا اس معاملے میں وہ اہل مکہ کے حکم میں داخل ہیں کہ جس طرح ان کے لئے جائز ہے کہ اگر وہ کسی کام سے مکہ مکرمہ سے باہر نکلیں اور پھر مکہ میں داخل ہوں تو بغیر احرام چلے آئیں اسی طرح میقات کے اندر والوں کو بھی احرام کے بغیر مکہ میں داخل ہونا جائز ہے۔ فمن کان دونہن (اور جو شخص ان مقامات کے اندر رہتا ہے الخ) کا مطلب یہ ہے کہ لوگ میقات کے اندر مگر حدود حرم سے باہر رہتے ہوں تو ان کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ان کے گھر سے تاحد حرم ہے ان کو احرام باندھنے کے لئے میقات پر جانا ضروری نہیں ہے اگرچہ وہ میقات کے قریب ہی کیوں نہ ہوں۔ جو لوگ خاص میقات میں ہی رہتے ہوں ان کے بارے میں اس حدیث میں کوئی حکم نہیں ہے۔ لیکن جمہور علماء کہتے ہیں کہ ان کا حکم بھی وہی ہے جو میقات کے اندر رہنے والوں کا ہے۔ وکذاک وکذاک (اور اسی طرح اور اسی طرح) اس کا تعلق پہلے ہی جملے سے ہے کہ حل (حدود حرم سے باہر سے موقیت تک جو زمین ہے) اس میں جو جہاں رہتا ہے وہیں سے احرام باندھے یعنی میقات اور حد حرم کے درمیان جو لوگ رہنے والے ہیں وہ اپنے اپنے گھر ہی سے احرام باندھیں گے چاہے وہ میقات کے بالکل قریب ہوں اور چاہے میقات سے کتنے ہی دور اور حد حرم کے کتنے ہی قریب ہوں۔ حتی اہل مکۃ یہلون منہا کا مطلب یہ ہے کہ اہل مکہ یعنی اہل حرم مکہ سے احرام باندھیں جو لوگ خاص مکہ شہر میں رہتے ہیں وہ تو خاص مکہ ہی سے احرام باندھیں گے اور جو لوگ خاص مکہ شہر میں نہیں بلکہ شہر سے باہر مگر حدود حرم میں رہتے ہیں وہ حرم مکہ سے احرام باندھیں گے۔ حدیث کے آخری الفاظ سے بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل مکہ کے لئے احرام باندھنے کی جگہ مکہ ہے خواہ احرام حج کے لئے خواہ عمرہ کے لئے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عمرہ کرنے والا حل کی طرف جائے اور وہاں سے احرام باندھ کر پھر حرم میں داخل ہو کیونکہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو حکم دیا تھا کہ وہ عمرہ کا احرام باندھنے کے لئے تنعیم جائیں جو حل میں ہے لہٰذا یہی کہا جائے گا کہ اس حدیث کا تعلق صرف حج کے ساتھ ہے یعنی یہ حکم اہل مکہ کے لئے ہے کہ وہ جب حج کرنے کا ارادہ کریں تو احرام مکہ ہی سے باندھیں اور اگر عمرہ کرنے کا ارادہ ہو تو پھر حل میں آ کر احرام باندھیں جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔