تسبیح، تحمید تہلیل اور تکبیر کے ثواب کا بیان
تسبیح سے مراد ہے سبحان اللہ کہنا تحمید سے مراد الحمدللہ کہنا اور تہلیل سے مراد ہے لاالہ الا اللہ کہنا اور تکبیر سے مراد ہے اللہ اکبر کہنا۔
Mishkaat-al-Masabih · Chapter 53 · 31 hadiths · Page 1 of 2
تسبیح، تحمید تہلیل اور تکبیر کے ثواب کا بیان
تسبیح سے مراد ہے سبحان اللہ کہنا تحمید سے مراد الحمدللہ کہنا اور تہلیل سے مراد ہے لاالہ الا اللہ کہنا اور تکبیر سے مراد ہے اللہ اکبر کہنا۔
سب سے بہتر کلام
عن سمرة بن جندب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الكلام أربع : سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر وفي رواية : أحب الكلام إلى الله أربع : سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر لا يضرك بأيهن بدأت . رواه مسلم
حضرت سمرہ بن جندب کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا انسان کے کلام میں سب سے بہتر کلام چار ہیں اور وہ یہ ہیں۔ سبحان اللہ (اللہ پاک ہے) الحمدللہ (تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں) لاالہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) اللہ اکبر (اللہ بہت بڑا ہے) ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلام چار ہیں (١) سبحان اللہ (٢) الحمدللہ (٣ لاالہ الا اللہ (٤) اللہ اکبر۔ ان میں سے کسی بھی کلمہ سے شروع کرنا تمہارے لئے نقصان دہ نہیں ہے۔ (مسلم) تشریح سب سے بہتر کلام چار ہیں۔ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے بعد انسان کے کلام میں یہ چار کلمے سب سے افضل ہیں یہ وضاحت اور ترجمہ میں انسان کی قید اس لئے ہے کہ چوتھا کلمہ یعنی اللہ اکبر قرآن کریم میں نہیں ہے اور یہ ایک ظاہر بات ہے کہ جو چیز قرآن میں نہیں ہے وہ اس چیز سے افضل نہیں جو قرآن میں ہے لیکن اور ایک حدیث میں اس طرح ہے افضل الکلام بعد القرآن وہی من القرا ان۔ یعنی یہ کلمے مجموعہ قرآن کے بعد افضل کلمے ہیں اور یہ کلمے بھی قرآن ہی کے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کلام سے انسانی کلام کے ساتھ اللہ بھی مراد ہے یعنی یہ چار کلمے اللہ تعالیٰ کے تمام کلام میں افضل ترین کلمے ہیں اس صورت میں کہا جائے گا کہ ان میں سے اول الذکر تین کلمے تو بعینہ قرآن میں موجود ہیں اور چوتھا کلمہ اگرچہ بعینہ قرآن میں نہیں ہے لیکن اس آیت (وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا) 17۔ الاسراء 111) میں بالمعنی یقینا موجود ہے۔ اس موقع پر یہ بات ذہن نشین ہونی چاہئے کہ یہ چاروں کلمے اگرچہ افضل ہیں لیکن احادیث سے جو ذکر کسی حال یا کسی وقت سے متلعق ثابت ہے اس حالت یا اس وقت میں اس ذکر میں مشغول ہونا تسبیح وغیرہ سے افضل ہے۔ دوسری روایت کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ ان چاروں کلموں کو پڑھتے وقت مذکورہ ترتیب ضروری نہیں ہے چاہے کوئی پہلے سبحان اللہ کہے اور چاہے کوئی پہلے الحمد للہ کہے یا لاالہ الا اللہ یا اللہ اکبر کہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم طیبی نے کہا ہے کہ چاروں کلمات کو مذکورہ ترتیب کے ساتھ پڑھنا عزیمت یعنی اولیٰ ہے اور بغیر ترتیب کے پڑھنا رخصت یعنی جائز ہے۔
تسبیح تحمید، تہلیل اور تکبیر کی فضیلت
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن أقول : سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر أحب إلي مما طلعت عليه الشمس . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میرا سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر کہنا بلا شبہ میرے نزدیک اس چیز سے جس پر آفتاب طلوع ہوتا ہے (یعنی دنیا اور دنیا کی چیزوں سے زیادہ پسندیدہ ہے) (مسلم)
تسبیح وتحمید کی فضیلت وبرکت
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال : سبحان الله وبحمده في يوم مائة مرة حطت خطاياه وإن كانت مثل زبد البحر
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی دن میں سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ پڑھا تو اس کے گناہ ختم کر دئیے جاتے ہیں اگرچہ وہ دریا کے جھاگ کی مانند یعنی کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ (بخاری ومسلم) تشریح طیبی فرماتے ہیں کہ سو مرتبہ چاہے تو کئی مرتبہ کر کے پڑھا جائے دن کے ابتدائی یا آخری حصہ میں ایک ہی دفعہ میں پڑھ لیا جائے دونوں طرح درست ہے لیکن افضل اور اولیٰ یہی ہے کہ دن کے ابتدائی حصہ میں ایک ہی دفعہ پڑھ لیا جائے افضل ہے۔
تسبیح وتحمید کی فضیلت وبرکت
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال حين يصبح وحين يمسي : سبحان الله وبحمده مائة مرة لم يأت أحد يوم القيامة بأفضل مما جاء به إلا أحد قال مثل ما قال أو زاد عليه )
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس نے صبح کے وقت اور شام کے وقت سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہا تو قیامت کے دن کوئی شخص اس عمل سے بہتر کوئی عمل نہیں لائے گا علاوہ اس شخص کے جس نے اس کی مانند یا اس سے زیادہ کہا۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس موقع پر ایک اشکال پیدا ہوتا ہے حدیث کی ظاہری عبارت سے یہ مفہوم معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے پہلے شخص کی مانند کیا یعنی اس نے پہلے شخص کی طرح صبح وشام کے وقت سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہا تو وہ قیامت کے دن اس عمل سے افضل لائے گا جو یہ پہلا لائے گا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ دوسرے شخص نے اگر پہلے شخص کی طرح سبحان اللہ وبحمدہ صبح وشام سو سو مرتبہ کہا تو وہ قیامت کے دن پہلے ہی شخص کی طرح عمل لے کر حاضر ہوگا نہ کہ اس سے افضل عمل لائے گا۔ اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ حدیث کی عبارت حقیقت ومعنی کے اعتبار سے یوں ہے کہ قیامت کے دن کوئی شخص اس عمل کے برابر کوئی عمل نہیں لائے گا جو یہ شخص لائے گا اور نہ اس کے عمل سے افضل کوئی عمل لائے گا علاوہ اس شخص کے جس نے اس کی مانند (سبحان اللہ وبحمدہ صبح وشام کے وقت سو سو مرتبہ سے زیادہ کہا) تو وہ اس پہلے شخص کے عمل سے افضل عمل لائے گا۔ یا پھر کہا جائے گا کہ کہ مثل ما قال اوزاد علیہ میں حرف او معنی کے اعتبار سے حرف واؤ کی جگہ استعمال کیا گیا ہے۔
تسبیح وتحمید کی فضیلت وبرکت
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كلمتان خفيفتان على اللسان ثقيلتان في الميزان حبيبتان إلى الرحمن : سبحانه الله وبحمده سبحانه الله العظيم
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دو کلمے ہیں جو زبان میں کہنے سے تو ہلکے ہیں لیکن ترازو میں بہت بھاری ہیں (یعنی ان کا ثواب میزان عمل میں بھاری ہوگا اور بخشنے والے اللہ کے نزدیک بہت پیارے ہیں اور وہ دو کلمے یہ ہیں سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ یعنی اللہ پاک ہے اور اپنی حمد کے ساتھ موصوف ہے پاک ہے جو اللہ بڑا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تسبیح وتحمید کی فضیلت وبرکت
وعن سعد بن أبي وقاص : قال : كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أيعجز أحدكم أن يكسب كل يوم ألف حسنة ؟ فسأله سائل من جلسائه : كيف يكسب أحدنا ألف حسنة ؟ قال : يسبح مائة تسبيحة فيكتب له ألف حسنة أو يحط عنه ألف خطيئة . رواه مسلم وفي كتابه : في جميع الروايات عن موسى الجهني : أو يحط قال أبو بكر البرقاني ورواه شعبة وأبو عوانة ويحيى بن سعيد القطان عن موسى فقالوا : ويحط بغير ألف هكذا في كتاب الحميدي
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن جب کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ہر روز ایک ہزار نیکیاں حاصل کرے؟ مجلس میں موجود صحابہ میں سے ایک صحابی نے پوچھا کہ ہم میں سے کوئی شخص (روزانہ بسہولت) ایک ہزار نیکیاں کس طرح حاصل کرسکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ ایک سو مرتبہ سبحان اللہ پڑھ لے اس کے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی بایں حساب کہ ہر نیکی پر دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا اس کے ایک ہزار صغیرہ اگر اللہ چاہے گا تو کبیر گناہ دور کئے جائیں گے۔ (مسلم) ابوبکر برقانی کہتے ہیں کہ صحیح مسلم میں موسیٰ جہنی سے جو روایتیں منقول ہیں ان سب میں لفظ او یحط ہی نقل کیا گیا ہے لیکن شعبہ، ابوعوانہ اور یحییٰ بن سعید قطان نے موسیٰ جہنی ہی سے یہ روایت نقل کی ہے اس میں لفظ ویحط بغیر الف کے ذکر کیا ہے اور کتاب حمیدی یعنی جمع بین الصحیحین میں بھی اسی طرح منقول ہے۔ تشریح او یحط کے پیش نظر تو حدیث کا مفہوم یہ ہوگا کہ دونوں میں سے کوئی ایک بات ہوتی ہے یا تو ایک ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں ایک ہزار گناہ دور کئے جاتے ہیں جبکہ ویحط کی صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ ایک ہزار نیکیاں بھی لکھی جاتی ہیں اور ایک ہزار گناہ بھی دور کئے جاتے ہیں۔ ترمذی، نسائی اور ابن حبان کی روایتیں بھی اسی مفہوم کی تائید کرتی ہیں کیونکہ ان میں لفظ ویحط ہی ہے لہٰذا بظاہر تو دونوں روایتوں میں منافات معلوم ہوتی لیکن اگر ذہن میں یہ بات رہے کہ کبھی بھی واؤ معنی کے اعتبار سے او کی جگہ پر استعمال ہوتا ہے تو کوئی منافات نظر نہیں آئے گی اور دونوں روایتوں کا ایک مفہوم نکلے گا اس صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جس شخص نے یہ تسبیح پڑھی اس کے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں اگر اس کے ذمہ گناہ نہ ہوں گے یا اس کے ایک ہزار گناہ دور کر دئیے جائیں گے اگر اس کے ذمے گناہ ہوں گے۔
بہتر کلام تسبیح وتحمید
وعن أبي ذر قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم أي الكلام أفضل ؟ قال : ما اصطفى الله لملائكته : سبحان الله وبحمده . رواه مسلم
حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا کلام بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ کلام جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے لئے چن لیا ہے (اور وہ یہ ہے) سبحان اللہ وبحمدہ۔ (مسلم) تشریح چن لیا ہے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر میں سے اس کلمہ کو اپنے فرشتوں کے لئے چن لیا ہے اور اس کلمہ کی انتہائی فضیلت کی وجہ سے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے ہمیشہ پڑھتے رہا کریں۔ سبحان اللہ وبحمدہ چاروں کلموں یعنی سبحان اللہ والحمدللہ والا الہ الا اللہ واللہ اکبر کا اختصار ہے کیونکہ تشریح میں شرک کی نفی بھی ہوتی ہے جو تہلیل کا حاصل ہے اور اس سے اللہ اکبر یعنی بہت بڑا ہونا بھی لازم آتا ہے۔
ذکر میں کیفیت کا اعتبار کمیت کا نہیں
وعن جويرية أن النبي صلى الله عليه و سلم خرج من عندها بكرة حين صلى الصبح وهي في مسجدها ثم رجع بعد أن أضحى وهي جالسة قال : ما زلت على الحال التي فارقتك عليها ؟ قالت : نعم قال النبي صلى الله عليه و سلم : لقد قلت بعدك أربع كلمات ثلاث مرات لو وزنت بما قلت منذ اليوم لوزنتهن : سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضاء نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته . رواه مسلم
حضرت جویریہ ؓ (جو آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ ہیں) سے منقول ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ صبح کے وقت نماز فجر کے لئے ان کے پاس سے نکلے اور وہ اپنے مصلی پر بیٹھی ہوئی تھیں جب رسول کریم ﷺ چاشت کے وقت واپس تشریف لائے وہ اپنی جگہ یعنی مصلی پر بدستور بیٹھی ہوئی تھیں آپ ﷺ نے ان کو دیکھ کر فرمایا کہ جس حالت میں تمہیں چھوڑ کر گیا تھا اسی طرح مسلسل بیٹھی ہوئی ہو؟ یعنی صبح کے وقت سے اب تک کہ چاشت کا وقت آگیا ہے مصلی پر بیٹھی ہوئی اسی طرح ذکر الٰہی میں مشغول ہو) انہوں نے کہا کہ جی ہاں نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چار کلمے تین مرتبہ کہے ہیں وہ چار کلمے ایسے ہیں کہ اگر ان کو اس چیز سے تولا جائے جس کے کہنے میں تم ابتداء دن سے اب تک مشغول رہی ہو (یعنی ذکر میں تو یقینا چار کلمے اس چیز پر بھاری رہیں گے (یعنی ان چار کلموں کا ثواب اس پورے وقت ذکر الٰہی میں تمہاری مشغولیت کے ثواب سے زیادہ ہوگا۔ اور وہ چار کلمے یہ ہیں سبحان اللہ وبحمدہ عدد خلقہ و رضاء نفسہ وزنۃ عرشہ ومداد کلماتہ۔ میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں اور اس کی تعریف کرتا ہوں اس کی مخلوقات کی تعداد کے بقدر اور اس کی ذات کی مرضی کے موافق اور اس کے عرش کے وزن کے مطابق اور اس کے کلموں کی مقدار کے مانند ہے۔ (مسلم) تشریح اور اس کے کلموں کی مانند میں کلموں سے مراد یا تو ان کی کتابیں اور ان کے صحیفے ہیں یا اس کے اسماء ہیں اسی طرح کی صفات یا اس کے اوامر بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ذکر میں کیفیت کا اعتبار ہوتا ہے کمیت کا نہیں! یعنی وہ تسبیحات وغیرہ جن کے مضامین اعلیٰ اور بہت خوب ہوں اور جنہیں قلب کے حضور و اخلاص کے ساتھ پڑھا جائے اگرچہ کم ہوں مگر ان تسبیحات کے مضامین سے افضل ہیں جو ایسی نہ ہوں اور جنہیں پڑھتے وقت حضور قلب و اخلاص کی دولت میسر نہ ہو اگرچہ وہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں اسی پر قیاس کرتے ہوئے سمجھا جاسکتا ہے کہ غور و فکر اور حضور اخلاص کے ساتھ قرآن کی تلاوت وقرأت گرچہ ایک ہی آیت ہو، اس قرأت و تلاوت سے افضل ہے جو ان چیزوں سے خالی ہو۔ چاہے وہ بہت ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔
شیطان سے پناہ میں رہنے کا طریقہ
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير في يوم مائة مرة كانت له عدل عشر رقاب وكتبت له مائة حسنة ومحيت عنه مائة سيئة وكانت له حرزا من الشيطان يومه ذلك حتى يمسي ولم يأت أحد بأفضل مما جاء به إلا رجل عمل أكثر منه
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص یہ کلمات لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل چیز قدیر اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اس کے لئے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے دن میں سو مرتبہ کہے اس کو سو غلاموں کے آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اس کے سو گناہ دور کئے جاتے ہیں اور اس کو اس دن شام تک شیطان سے پناہ حاصل رہتی ہے اور (قیامت کے دن) کوئی اس کے لائے ہوئے (اس عمل سے بہتر کوئی عمل لے کر نہیں آئے گا علاوہ اس شخص کے جس نے ان کلمات کو اس سے زیادہ پڑھا ہو۔ (بخاری ومسلم) تشریح ظاہری طور پر یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص ان کلمات کو شام کے وقت پڑھے تو اسے بھی اسی طرح صبح تک شیطان سے پناہ حاصل رہے گی لہٰذا ہوسکتا ہے کہ اس بات کو راوی نے اختصار کے پیش نظر بیان کرنے سے چھوڑ دیا ہو یا یہ کہ خود نبی کریم ﷺ ہی نے اسے بیان نہ کیا ہو کیونکہ حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہ بات خود واضح ہوجاتی ہے۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ حدیث میں جو کچھ فضیلت اور جو کچھ ثواب بیان کیا گیا ہے وہ اس صورت میں ہے جب کہ کوئی شخص ان کلمات کو سو مرتبہ پڑھے چناچہ ان کلمات کو جتنا زیادہ پڑھے گا اسے اتنا ہی زیادہ اجر وثواب حاصل ہوگا پھر یہ کہ چاہے کوئی ان کلمات کو مختلف اوقات میں اور متفرق طور پر سو مرتبہ پڑھے اور چاہے تو ایک وقت میں اور اکٹھا سو مرتبہ پڑھے۔ ہر دو صورت میں اسے مذکورہ ثواب حاصل ہوگا لیکن افضل یہی ہے کہ ان کلمات کو ایک ہی دفعہ میں سو مرتبہ اور دن کے ابتدائی حصہ میں پڑھا جائے تاکہ پورا دن شیطان سے پناہ حاصل رہے۔
لاحول ولا قوۃ الا باللہ جنت کا خزانہ ہے
وعن أبي موسى الأشعري قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر فجعل الناس يجهرون بالتكبير فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أيها الناس اربعوا على أنفسكم إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا إنكم تدعون سميعا بصيرا وهو معكم والذي تدعونه أقرب إلى أحدكم من عنق راحلته قال أبو موسى : وأنا خلفه أقول : لا حول ولا قوة إلا بالله في نفسي فقال : يا عبد الله بن قيس ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة ؟ فقلت : بلى يا رسول الله قال : لا حول ولا قوة إلا بالله
حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک سفر میں تھے کہ لوگوں نے ایک موقع پر پکار پکار کر تکبیر کہنی شروع کی آپ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا لوگو! اپنی جانوں کے ساتھ نرمی اختیار کرو (یعنی اتنی بلند آواز سے تکبیر نہ کہو) کیونکہ تم (تکبیر کے ذریعہ) کسی بہرے یا غیر موجود کو نہیں پکارتے یا نہیں یاد کرتے بلکہ اس کو پکارتے ہو جو سننے والا اور دیکھنے والا ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے (یعنی وہ تمہارے حال پر مطلع ہے تم جہاں کہیں بھی ہو چاہے تم اسے بآواز بلند یاد کرو چاہے آہستہ آواز سے اس کے لئے دونوں برابر ہیں) اور جس کو کہ تم پکارتے ہو وہ تم میں سے ہر شخص کے، اس کی سواری کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے۔ حضرت ابوموسی ؓ کہتے ہیں اس وقت آپ ﷺ کے پیچھے اونٹ پر پا پیادہ تھا اور اپنے دل میں یہ پڑھ رہا تھا لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہ آپ ﷺ نے فرمایا عبداللہ بن قیس (یہ حضرت ابوموسی کا نام ہے) کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتلا دوں؟ میں نے عرض کیا۔ ہاں یا رسول اللہ! ضرور بتائیے! آپ ﷺ نے فرمایا وہ خزانہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح پکار پکار کر تکبیر کہنی شروع کی، کا مطلب یہ ہے کہ کسی بلند جگہ پر چڑھتے ہوئے جو تکبیر کہنی سنت ہے اسی کو صحابہ نے چلا کر کہنا شروع کردیا تھا یا پھر تکبیر سے ذکر بھی مراد ہوسکتا ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس موقع پر صحابہ بلند ذکر اللہ کرنے لگے تھے۔ حدیث کے آخر میں لاحول ولا قوۃ الا باللہ کو خزانہ اس لئے فرمایا گیا ہے کہ اسے پڑھنے والے کو بہت زیادہ ثواب ملتا ہے اور وہ اس کی برکتوں سے مالامال ہوتا ہے جس طرح دنیاوی خزانہ سے بلکہ اس نعمت کے آگے دنیا کے بڑے بڑے خزانہ کو بھی کوئی وقعت نہیں ہے۔ لا حول کے بارے میں مشائخ لکھتے ہیں کہ یہ ذکر اعمال میں جتنی زیادہ مدد کرتا ہے اور اس سے جتنی زیادہ برکت حاصل ہوتی ہے اتنی مدد و برکت اور کسی ذکر سے حاصل نہیں ہوتی۔ اس کلمے کے معنی یہ ہیں گناہ سے بچنے کی طاقت اور اللہ کی عبادت کرنے کی قوت اللہ ہی کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔
تسبیح وتحمید کا ثمرہ
عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال سبحان الله العظيم وبحمده غرست له نخلة في الجنة . رواه الترمذي
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے سبحان اللہ العظیم وبحمدہ کہا اس کے لئے جنت میں کھجور کا درخت لگا دیا جاتا ہے۔ (ترمذی) تشریح کھجور کے درخت کو اس لئے مخصوص کیا گیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ کھجور کے درخت سے بہت زیادہ منفعت حاصل ہوتی ہے بلکہ اس کا پھل بھی بہت اچھا اور عمدہ ہوتا ہے۔
ہر صبح ایک فرشتہ کی طرف سے تسبیح کی ندائ
وعن الزبير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من صباح يصبح العباد فيه إلا مناد ينادي سبحوا الملك القدوس . رواه الترمذي
حضرت زبیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایسی کوئی صبح نہیں ہوتی کہ جس میں ایک فرشتہ پکارنے والا پکار کر یہ نہ کہتا ہو کہ پاک بادشاہ کو اس کی پاکی کے ساتھ یاد کرو۔ (ترمذی) تشریح یعنی روزانہ صبح کے وقت ایک ایک فرشتہ پکار پکار کر انسانوں کو تاکید کرتا ہے کہ وہ یہ کہیں سبحان الملک القدوس یا اس طرح کہیں سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح یا اس کے معنی یہ ہیں کہ روزانہ صبح کے وقت ایک فرشتہ لوگوں کو آگاہ کرتا ہے کہ وہ اس بات کا یقین و اعتقاد رکھیں کہ ان کا رب تمام عیوب اور تمام نقائص سے پاک ہے۔
بہترین ذکر لا الہ الا اللہ
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الذكر : لا إله إلا الله وأفضل الدعاء : الحمد لله . رواه الترمذي وابن ماجه
حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سب سے بہتر ذکر لا الہ الا اللہ ہے اور سب سے بہتر دعا الحمدللہ ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ) تشریح لا الہ الا اللہ سب سے افضل اس لئے ہے کہ اسلام و ایمان کے سارے وجود کی بنیاد ہی اس پر ہے اس کے بغیر نہ ایمان صحیح ہوتا ہے اور نہ اس کے بغیر کوئی مسلمان بنتا ہے۔ بعض محققین فرماتے ہیں کہ تمام اذکار میں یہ کلمہ سب سے افضل اس وجہ سے ہے کہ ذاکر کے باطن کو برے اوصاف سے کہ جو انسان کے باطن کے معبود ہوتے ہیں۔ پاک اور صاف کرنے میں اس کلمہ کو بڑی عجیب وعظیم تاثیر حاصل ہے ارشاد ربانی ہے آیت (افرأت من اتخذ الھہ ہواہ) کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفسانی کو اپنا معبود قرار دیا ہے۔ لہٰذا جب ذکر لا الہ الا اللہ کہتا ہے تو لا الہ کے ذریعے تو تمام معبودوں کی نفی ہوتی ہے اور لاالہ کے ذریعہ صرف ایک معبود حقیقی یعنی اللہ کا اقرار ہوتا ہے اور پھر جب زبان سے یہ کلمہ ادا ہوتا ہے تو اس کی تاثیر ظاہری زبان سے دل کی گہرائیوں کی رجوع کرتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زبان سے تمام باطل معبودوں کی نفی اور ایک حقیقی معبود کا اقرار یقین و اعتقاد کا درجہ حاصل کرلیتا ہے جو اس کے قلب و باطن کو روشن ومنور کر کے تمام برے و باطنی اوصاف کو صاف کردیتا ہے اور آخرکار یہی تاثیر اس کے ظاہری اعضاء پر غالب آجاتی ہے کہ اس کے ظاہری اعضاء سے وہی اعمال و افعال صادر ہوتے ہیں جو اس اقرار و اعتقاد کا عین تقاضہ عین منشاء ہوتے ہیں۔ الحمد للہ کو دعا اس لئے فرمایا گیا ہے کہ کریم کی تعریف دعا وسوال کے زمرہ میں ہی آتی ہے اور اس کو افضل اس وجہ سے بتایا گیا ہے کہ منعم حقیقی یعنی اللہ کی حمد شکر کے معنیٰ میں ہے اور یہ ظاہر ہے کہ شکر نعمت و برکت میں زیادتی کا موجب ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے آیت (لئن شکرتم لازیدنکم)۔ اور اگر تم شکر کرو گے تو میں زیادہ نعمت دوں گا۔
خدا کی تعریف، اللہ کا شکر ہے
وعن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحمد رأس الشكر ما شكر الله عبد لا يحمده
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حمد (خدا کی تعریف) شکر کا سر ہے جس بندہ نے اللہ کی حمد نہیں کی اس نے اللہ کا کامل شکر ادا نہیں کیا۔ تشریح حمد یعنی اللہ کی تعریف زبان سے ہوتی ہے اور شکر زبان ودل اور اعضاء سے ہوتا ہے لہٰذا اللہ کی تعریف اللہ کے شکر کی ایک شاخ ہے۔ حمد کو شکر کا سر اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ زبان کا فعل ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کی تعریف زبان ہی سے خوب بیان ہوتی ہے اور پھر یہ کہ زبان چونکہ تمام اعضاء کی نائب ہے اس لئے حمد بھی گویا اجمالا شکر ہے اور مفصل شکر کا جزو اعظم ہے اسی واسطے فرمایا گیا ہے کہ جس بندہ نے اللہ کی حمد نہیں کی اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا بھی اداء نہیں کیا اس بات میں اس طرف اشارہ بھی ہے کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے باطن کی صفائی وتزکیہ کے ساتھ ساتھ اپنے ظاہری احوال کی محافظت بھی کرے۔
خوشی ومصیبت دونوں صورتوں میں اللہ کی تعریف کرنے والوں کی فضیلت
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أول من يدعى إلى الجنة يوم القيامة الذين يحمدون الله في السراء والضراء . رواهما البيهقي في شعب الإيمان
حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جنت کی طرف جن لوگوں کو پہلے بلایا جائے گا ان میں وہ ہوں گے جو خوشی کے وقت بھی اور سختی کے وقت بھی اللہ کی تعریف کرتے ہیں یعنی دونوں صورتوں میں راضی برضاء مولیٰ رہتے ہیں ان دونوں روایتوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔
لا الہ اللہ کی عظمت
وعن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال موسى عليه السلام : يا رب علمني شيئا أذكرك به وأدعوك به فقال : يا موسى قل : لا إله إلا الله فقال : يا رب كل عبادك يقول هذا إنما أيد شيئا تخصني به قال : يا موسى لو أن السماوات السبع وعامرهن غيري والأرضين السبع وضعن في كفة ولا إله إلا الله في كفة لمالت بهن لا إله إلا الله . رواه في شرح السنة
حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ پروردگار! مجھے کوئی ایسی چیز سکھلا دے جس کے ذریعہ میں تجھے یاد کروں اور تجھ سے دعا مانگوں پروردگار نے فرمایا موسیٰ لا الہ الا اللہ کہو! موسیٰ نے عرض کیا میرے پروردگار! تیرے تمام بندے یعنی موحدین یہ کلمہ کہتے ہیں میں تو کوئی ایسی چیز چاہتا ہوں جسے تو میرے ہی لئے مخصوص کر دے۔ جس میں میرا اور کوئی شریک نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ اگر ساتوں آسمان اور میرے علاوہ ان کے سارے مکین یعنی تمام فرشتے اور ساتوں زمین ایک پلڑے میں رکھی جائیں اور لا الہ الا اللہ یعنی اس کا ثواب دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو یقینا ان چیزوں کے پلڑے سے لا الہ الا للہ کا پلڑا جھک جائے۔ (شرح السنہ) تشریح اگر یہ اشکال پیدا ہو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تو ایسا کوئی ذکر یا ایسی کوئی دعا طلب کی تھی کہ جو ان ہی کے لئے مخصوص ہو اور وہ اس کے ذریعہ دوسروں پر فائق ہوں لہٰذ سوال کے ساتھ جواب کی یہ کیا مطابقت ہوئی کہ ان سے فرمایا گیا کہ لا الہ الا اللہ کہو اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سوال کچھ اور تھا اور بارگاہ الوہیت سے جواب کچھ اور دیا گیا۔ اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں لا الہ الا للہ پڑھنے کی تعلیم دے کر گویا اس طرف اشارہ فرمایا کہ تم نے ایک محال چیز کی طلب کی ہے کیونکہ ایسی کوئی دعا اور ایسا کوئی ذکر نہیں ہے جو اس کلمے سے افضل ہو اور اسے سب پڑھتے ہیں بہر حال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بحسب عادت بشری کوئی مخصوص دعا اور ذکر کی طلب کی کیونکہ انسان کی یہ فطرت ہے کہ اسے اسی وقت بہت زیادہ خوشی اور سرو حاصل ہوتا ہے جب کہ اسے کسی چیز کے ساتھ مختص کیا جائے جو اس کے علاوہ اور کسی کے پاس نہ ہو۔ مثلا اگر کسی کے پاس کوئی ایسا جوہر یا ہیرا ہو تو جو اس کے علاوہ اور کسی کے پاس نہ ہو تو اسے اس قیمتی چیز کی موجودگی سے زیادہ اس احساس سے خوشی ہوتی ہے کہ وہ ایک ایسی چیز کا مالک ہے جو اس کے علاوہ اور کسی کے پاس نہیں پائی جاتی۔ یہی حال اسماء، دعاؤں، نادر علوم اور ہنر کا ہے کہ ان میں سے کوئی چیز جب کسی کے پاس ہوتی ہے اور وہ کسی دوسرے کے پاس نہیں ہوتی۔ تو اسے بےانتہا خوشی اور فرحت حاصل ہوتی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت عام کے تحت اس کی قدرت کا نظام کچھ اس طرح ہے کہ جو چیز کائنات انسانی کے لئے سب سے گراں مایہ سب سے بیش بہا اور سب سے عزیز ہے وہی سب سے زیادہ پائی جاتی ہے، مثلا زندگی، پانی اور نمک کی یہ چیزیں سب سے گراں مایہ اور عزیز نہیں ہیں۔ مگر یہی چیزیں زیادہ پائی جاتی ہیں۔ بخلاف موتی، یاقوت اور زعفران وغیرہ کے کہ یہ ان چیزوں کے برابر گراں مایہ اور عزیز نہیں ہیں مگر کم ہیں اس طرح مصحف شریف یعنی قرآن کریم سب کتابوں سے افضل ہے مگر نہ صرف یہ کہ بہت پایا جاتا ہے بلکہ سستا بھی بہت ملتا ہے اس کے مقابلہ میں علم کیمیا وغیرہ کی کیا حقیقت ہے مگر اس کا وجود کتنا خال خال نظر آتا ہے یہ اور بات ہے کہ جاہل وبے وقوف لوگوں کی نظروں میں اس کے حصول کی جتنی خواہش اور اس سے جتنی زیادہ خوشی ہوتی ہے اس کا عشر عشیر بھی قرآن و حدیث کے علم سے خوش نہیں ہوتے یا ایسے ہی کلمہ طیب اور کلمہ شہادت کے یہ تمام کلمات میں اشرف، تمام عبادتوں میں نفیس تر، تمام اذکار میں افضل اور تمام حسنات میں کامل تر ہیں مگر اپنے وجود کے اعتبار سے اکثر اور حصول کے اعتبار سے آسان ترین ہیں پھر بھی عوام نے ان کو ترک کر رکھا ہے اور دور دراز کے ان اذکار اور ان دعاؤں کو اپنا معمول بنا رکھا ہے جن میں سے قرآن و حدیث میں اکثر کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔ بہر کیف ان مثالوں کو بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ اکثر چیزیں اپنی حقیقت کے اعتبار سے تو بہت اعلیٰ ہوتی ہیں مگر بسبب کثرت کے لوگ ان کی قدر نہیں پہچانتے اور جو چیزیں اس درجہ کی عزیز نہیں ہوتیں لوگ انہیں کو ان کی کمیابی کی وجہ سے عزیز رکھتے ہیں۔ آخر میں یہ بات سمجھ لیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو الہام کیا کہ وہ اس بات کی درخواست کریں اور رب العزت انہیں یہ جواب دے تاکہ اس عظیم تر کلمہ کی عظمت و فضیلت عوام و خواص کی نظروں میں ظاہر ہو اور وہ اس کو ہر وقت اور ہر حالت میں اپنا ورد بنالیں اور اس پر مداومت کریں۔
لا الہ اللہ کی عظمت
وعن أبي سعيد وأبي هريرة رضي الله عنهما قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال : لا إله إلا الله والله أكبر صدقه ربه قال : لا إله إلا أنا وأنا أكبر وإذا قال : لا إله إلا الله وحده لا شريك له يقول الله : لا إله إلا أنا وحدي لا شريك لي وإذا قال : لا إله إلا الله له الملك وله الحمد قال : لا إله إلا أنا لي الملك ولي الحمد وإذا قال : لا إله إلا الله ولا وحول ولا قوة إلا بالله قال : لا إله إلا أنا لا حول ولا قوة إلا بي وكان يقول : من قالها في مرضه ثم مات لم تطعمه النار . رواه الترمذي وابن ماجه
حضرت ابوسعید ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ دونوں کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص یہ کہتا ہے لا الہ واللہ اکبر (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ بہت بڑا ہے) تو اس کا رب اس کو سچا کرتا ہے (یعنی اللہ تعالیٰ اسے اس اقرار و اعتقاد پر قائم رکھتا ہے اور ان اقوال کو قبول فرماتا ہے) اور اس کے کہنے کے موافق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لا الہ الا انا وانا اکبر بیشک میرے سوا کوئی معبود نہیں اور میں بہت بڑا ہوں جب وہ شخص یہ کہتا ہے لا الہ الا للہ وحدہ لا شریک لہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ تو اللہ فرماتا ہے لا الہ الا انا لی الملک ولی الحمد۔ بیشک میرے سوا کوئی معبود نہیں میرے ہی لئے بادشاہت اور میرے ہی لئے تعریف اور جب وہ شخص یہ کہتا ہے کہ لا الہ الا اللہ ولا حول ولاقوۃ الا باللہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گناہوں سے بچنا اور طاعت کی قوت پانا اللہ ہی کی مدد سے ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لا الہ الا انا ولاقوۃ الا بی بیشک میرے سوا کوئی معبود نہیں، گناہوں سے بچنا اور طاعت کی قوت پانا میری ہی مدد سے ہے۔ نیز نبی کریم ﷺ فرماتے تھے کہ جو شخص ان (مذکورہ بالا) کلمات کو اللہ تعالیٰ کے جواب کے علاوہ اپنی بیماری میں کہتا رہے اور پھر مرجائے تو اسے (دوزخ کی) آگ نہیں جلائے گی یعنی وہ دوزخ کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔ (ترمذی، وابن ماجہ)
تسبیح وتحمید کی فضیلت
وعن سعد بن أبي وقاص أنه دخل مع النبي صلى الله عليه و سلم على امرأة وبين يديها نوى أو حصى تسبح به فقال : ألا أخبرك بما هو أيسر عليك من هذا أو أفضل ؟ سبحان الله عدد ما خلق في السماء وسبحان الله عدد ما خلق في الأرض وسبحان الله عدد ما بين ذلك وسبحان الله عدد ما هو خالق والله أكبر مثل ذلك والحمد لله مثل ذلك ولا إله إلا الله مثل ذلك ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك . رواه الترمذي وأبو داود وقال الترمذي : هذا حديث غريب
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن وہ نبی کریم ﷺ کے ہمراہ ایک خاتون کے ہاں گئے اس وقت اس خاتون کے سامنے کھجور کی گٹھلیاں یا کنکریاں پڑی ہوئی تھیں اور وہ ان پر تسبیح پڑھ رہی تھی ٠ یعنی ان کے ذریعہ تسبیح کو شمار کرتی تھی) آنحضرت ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی تسبیح نہ بتادوں جو (نہ صرف یہ کہ) اس تسبیح (یعنی ان بہت ساری گٹھلیوں یا کنکریوں پر تسبیح پڑھنے کے مقابلہ میں) تمہارے لئے بہت آسان بھی ہے بلکہ وہ تسبیح بہت بہتر ہے اور وہ تسبیح یہ ہے جسے تم پڑھ لیا کرو سبحان اللہ عدد ما خلق فی السماء و سبحان اللہ عدد ماخلق فی الارض و سبحان اللہ عدد مابین ذالک و سبحان اللہ عدد ماہو خالق۔ اللہ کے لئے پاکی ہے اس مخلوق کی بقدر جو زمین و آسمان کے درمیان ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے پاکی ہے اس مخلوق کی تعداد کے بقدر جو اس کے بعد ازل سے ابد تک پیدا کی جانے والی ہے۔ اور اللہ اکبر بھی اسی طرح پڑھے اور الحمدللہ بھی اسی طرھ پڑھے اور لا الہ الا اللہ بھی اسی طرح پڑھے اور لا حوال ولاقوۃ الا باللہ بھی پڑھے ترمذی، ابوداؤد، ترمذی نے کہا ہے یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح بعض روایتوں میں آتا ہے وہ خاتون جن کے ہاں نبی کریم ﷺ اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ تشریف لے گئے تھے آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے یا تو ام المومنین حضرت جویریہ ؓ تھیں یا کوئی اور زوجہ مطہرہ۔ کھجور کی گٹھلیاں یا کنکریاں۔ یہ جملہ راوی کے شک کو ظاہر کر رہا ہے راوی کو یقین کے ساتھ یاد نہیں آ رہا کہ وہ خاتون جس چیز پر تسبیح پڑھ رہی تھیں کھجور کی گٹھلیاں تھیں یا کنکریاں اسی لئے انہوں نے دونوں کو ذکر کردیا۔
مروجہ تسبیح کا جواز
وہ تسبیح جو آج کل رائج ہے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں نہیں تھی بلکہ بعض لوگ تو گٹھلیوں یا سنگریزوں پر پڑھتے تھے اور بعض ڈورے میں گرہیں دیتے جاتے تھے اور اس کے ذریعہ شمار کرتے تھے لیکن یہ حدیث جس طرح گٹھلیوں اور سنگریزوں کے اوپر پڑھنے کے جواز کی دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان خاتون کو اس سے منع نہیں کیا اسی طرح مروجہ تسبیح کے جائز ہونے کی بھی صحیح اصل و بنیاد اور دلیل ہے کیوں یہ شمار کے سلسلہ میں پروئے ہوئے دانوں میں اور بغیر پروئے ہوئے میں کوئی فرق نہیں ہے جس طرح بغیر پروئے ہوئے یعنی گٹھلیوں یا سنگریزوں سے پڑھی جانے والی چیز کا شمار مقصود ہوتا تھا اسی طرح پروئے ہوئے دانوں کی تسبیح کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے اس لئے کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے لہٰذا اگر کوئی شخص یہ کہے کہ تسبیح کی وہ شکل جو آج کل رائج ہے بدعت ہے تو اس پر اعتماد نہ کیا جائے چناچہ مشائخ نہ صرف یہ کہ اس کو جائز کہتے ہیں بلکہ یہ بھی کہتے ہیں یہ شیطان کے لئے کوڑا ہے۔ سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی کے بارے میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ اس وقت جب کہ وہ تمام مدارج طے کر کے حالت منتہی کو پہنچ چکے تھے ان کے ہاتھوں میں تسبیح دیکھ کر کسی شخص نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ جس کے ذریعہ ہم اللہ تک پہنچے ہیں اس لئے میں اسے کس طرح چھوڑ سکتا ہوں! واللہ اکبر مثل ذالک (اور اللہ اکبر بھی اسی طرح ہے) اس جملہ کے بارے میں دو احتمال ہیں یا تو یہ راوی کے الفاظ ہیں کہ نبی کریم نے جس طرح تسبیح یعنی سبحان اللہ عدد ماخلق الخ پوری طرح بیان کی اسی طرح آپ ﷺ نے تکبیر کو پوری طرح بیان کیا یعنی اس طرح بیان فرمایا۔ اللہ اکبر عدد ماخلق الخ مگر راوی نے یہ اختصار کے پیش نظر اللہ اکبر مثلا ذالک کہہ کر بتادیا کہ آپ ﷺ نے بعد کے کلمات کی تعلیم بھی اسی طرح فرمائی۔ یا پھر یہ کہ راوی کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ خود نبی کریم ﷺ نے ہی اختصار کے پیش نظر عدد ماخلق فی السماء کہنے کی بجائے مثل ذالک پر اکتفا فرمایا اس طرح آپ ﷺ نے بتایا کہ جن الفاظ یعنی عدد ماخلق الخ کے ساتھ تسبیح پڑھی جائے انہیں الفاظ کے ساتھ تکبیر بھی پڑھی جائے۔ اس طرح بعد کے جملوں یعنی والحمدللہ مثل ذالک وغیر میں بھی یہی دونوں احتمال ہیں۔