تسبیح، تحمید، تہلیل اور تکبیر کا ثواب
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سبح الله مائة بالغداة ومائة بالعشي كان كمن حج مائة حجة ومن حمد الله مائة بالغداة ومائة بالعشي كان كمن حمل على مائة فرس في سبيل الله ومن هلل الله مائة بالغداة ومائة بالعشي كان كمن أعتق مائة رقبة من ولد إسماعيل ومن كبر الله مائة بالغداة ومائة بالعشي لم يأت في ذلك اليوم أحد بأكثر مما أتى به إلا من قال مثل ذلك أو زاد على ما قال . رواه الترمذي . وقال : هذا حديث غريب
حضرت عمرو بن شعیب ؓ اپنے والد مکرم سے اور وہ اپنے جد محترم سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص سو مرتبہ دن کے ابتدائی حصہ میں اور سو مرتبہ دن کے آخری حصہ میں سبحان اللہ کہے تو وہ از روئے ثواب اس شخص کی مانند ہے جس نے سو نفل حج کئے ہوں جو شخص سو مرتبہ دن کے ابتدائی حصہ میں اور سو مرتبہ دن کے آخری حصہ میں الحمدللہ کہے تو اس شخص کی مانند ہے جس نے سو آدمیوں کو اللہ کی راہ میں سو گھوڑوں پر سوار کرایا ہو جو شخص سو مرتبہ دن کے ابتدائی حصہ میں اور سو مرتبہ دن کے آخری حصہ میں اللہ اکبر کہے تو اس دن یعنی قیامت کے دن کوئی شخص اس ثواب سے زائد ثواب لے کر نہیں آئے گا جو وہ لائے گا علاوہ اس شخص کے جس نے اس کی مانند یعنی اللہ اکبر مذکورہ تعداد میں کہا ہوگا تو یہ شخص درجہ ثواب کے اعتبار سے اس کے برابر ہوگا یا وہ شخص جس نے اس سے زائد کہا ہوگا (تو یہ اس سے بھی افضل ہوگا) امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح
اس شخص کی مانند ہے جس نے سو حج کئے ہوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آسان وسہل ذکر بشرطیکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضور کی کیفیت حاصل ہو ان عبادت شاقہ سے افضل ہے جس میں قلب حضور و اخلاص سے محروم اور غفلت میں گرفتار ہو! لیکن یہ بھی امکان ہے کہ جس طرح کسی کمتر درجہ کے عمل کی مانند قرار دیا جاتا ہے اسی طرح سبحان اللہ کی عظمت و فضیلت کو بطور مبالغہ بیان کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے کہ جو شخص صبح شام سو سو مرتبہ تسبیح پڑھتا ہے وہ نفل حج کرنے والے کی مانند ہوتا ہے۔ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ تسبیح سبحان اللہ پڑھنے کی چونکہ بہت زیادہ فضیلت ہے اس لئے اس کا ثواب بڑھا کر نفل حج کے اصل ثواب کے برابر کردیا جاتا ہے۔ اللہ کی راہ میں سو گھوڑوں پر سوار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے جہاد کے لئے سو گھوڑے دے ڈالے ہوں یا عاریۃ دئیے ہوں! اس بات سے گو ذکر اللہ میں مشغول رہنے کی ترغیب دلائی جا رہی ہے کہ کوئی شخص دنیا کی طرف التفات نہ کرے بلکہ وہ حضور مع اللہ کی سعادت عظمی کے حصول میں اپنی پوری کوششیں اور توجہات صرف کرے کیونکہ عبادت خواہ بدنیہ ہوں یا مالیہ یا دونوں کا مجموعہ، سب کا مقصد اور حاصل ذکر اللہ ہے اور پھر یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ مطلوب بہر صورت وسیلہ سے اولیٰ ہوتا ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے سو غلام آزاد کئے ہوں۔ اس میں درحقیقت ان ذاکرین کے لئے تسلی اور ترغیب ہے جو محتاج اور کم استطاعت ہونے کی وجہ سے ان عبادت مالیہ سے عاجز ہوں جنہیں اہل ثروت اور مالدار ادا کرتے ہیں۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے مراد اہل عرب ہیں جو نبی کریم ﷺ کے قرابتی ہونے کی وجہ سے افضل واعلیٰ ہیں حدیث کے آخری جز سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اللہ اکبر ان تمام تسبیحات میں جو حدیث میں ذکر کی گئی ہیں سب سے افضل ہے حالانکہ بہت سی صحیح احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ان تسبیحات میں سب سے افضل لا الہ الا اللہ ہے۔ پھر الحمدللہ پھر اللہ اکبر، پھر سبحان اللہ لہٰذا اس کی تاویل یہ کی جائے گی کہ حدیث کے آخری جز کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ اکبر ہر صبح وشام سو سو مرتبہ پڑھے گا قیامت کے دن لاالہ الا اللہ پڑھنے والے کے علاوہ کوئی شخص اس ثواب سے زیادہ ثواب لے نہیں آئے گا جو یہ شخص لائے گا۔
تسبیح، تحمید، تہلیل اور تکبیر کا ثواب
وعن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : التسبيح نصف الميزان والحمد لله يملؤه ولا إله إلا الله ليس لها حجاب دون الله حتى تخلص إليه . رواه الترمذي . وقال : هذا حديث غريب وليس إسناده بالقوي
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ کہنا آدھی میزان اعمال کو یعنی (میزان اعمال کے اس پلڑے کو جو نیکیوں کو تولنے کے لئے مخصوص ہوگا) بھر دیتا ہے الحمد للہ کہنا پوری میزان عمل کو بھر دیتا ہے اور لا الہ الا اللہ کے لئے اللہ تک پہنچنے میں کوئی پردہ حائل نہیں، یہ سیدھا اللہ تک پہنچاتا ہے امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد قوی نہیں ہے۔
تشریح
الحمد للہ کہنا پوری میزان عمل کو بھر دیتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ صرف الحمد للہ کا ثواب ہی پوری میزان کو بھر دیتا ہے اور یہ کہ الحمد للہ، سبحان اللہ سے افضل ہے! یا پھر مراد یہ ہے کہ الحمد للہ، سبحان اللہ کے برابر ہے کہ آدھی میزان کو تو سبحان اللہ کا ثواب بھر دیتا ہے اور آدھی میزان کو الحمد للہ کا ثواب بھر دیتا ہے اس طرح دونوں مل کر پوری میزان کو بھر دیتے ہیں۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ بارگاہ کبریائی میں بہت جلد قبول ہوتا ہے اور اس کو پڑھنے والا بہت ثواب پاتا ہے اس طرح حدیث کا یہ آخری جزء وضاحت کے ساتھ اس بات کی دلیل ہے کہ سبحان اللہ اور الحمدللہ سے لا الہ الا اللہ افضل ہے۔
تسبیح، تحمید، تہلیل اور تکبیر کا ثواب
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما قال عبد لا إله إلا الله مخلصا قط إلا فتحت له أبواب السماء حتى يفضي إلى العرش ما اجتنب الكبائر . رواه الترمذي . وقال : هذا حديث غريب
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی بندہ خلوص قلب کے ساتھ یعنی بغیر ریا کے لا الہ الا للہ کہتا ہے تو اس کلمہ کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچتا ہے یعنی جلد قبول ہوتا ہے بشرطیکہ وہ کلمہ کہنے والا کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
کبیرہ گناہوں سے بچنا جلدی قبول ہونے کی شرط ہے اصل ثواب کی شرط نہیں یعنی یہ کلمہ بارگاہ حق جل مجدہ میں اس وقت جلدی قبول ہوتا ہے جب کہ یہ کلمہ کہنے والا کبیرہ گناہوں سے بچے اور اصل ثواب اسے بہر صورت ملتا ہے خواہ وہ کبیرہ گناہوں سے بچے یا نہ بچے۔
وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقيت إبراهيم ليلة أسري بي فقال : يا محمد أقرئ أمتك مني السلام وأخبرهم أن الجنة طيبة التربة عذبة الماء وأنها قيعان وأن غراسها سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر . رواه الترمذي . وقال : هذا حديث حسن غريب إسنادا
حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس رات مجھے معراج کی سعادت نصیب ہوئی ہے اس رات میں ساتوں آسمانوں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے میری ملاقات ہوئی جو بیت المعمور سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے انہوں نے مجھ سے کہا۔ محمد! اپنی امت کو میرا سلام کہئے گا اور انہیں بتا دیجئے گا کہ جنت کی مٹی پاکیزہ ہے اور وہ مٹی کی بجائے مشک وزعفران ہے اس کا پانی شیریں ہے اس کا میدان پٹ پڑ (یعنی ہموار اور درختوں سے خالی ہے) اور اس کے درخت ہیں سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ روایت باعتبار اسناد کے غریب ہے۔
تشریح
اس امت مرحومہ کی شان محبوبی اور شان عظمت کے صدقے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نبی کریم ﷺ کے واسطہ سے اسے سلام کہلایا اور اس طرح اس امت سے اپنے تعلق کا اظہار کیا اس لئے اس امت کے ایک ایک فرد کے لئے یہی لائق ہے کہ اس حدیث کے ذریعہ جب بھی حضرت ابراہیم کا سلام سنایا جائے یا پڑھاجائے تو یہ کہا جائے وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ وان غراسہا سبحان اللہ (اور اس کے درخت ہیں سبحان اللہ الخ) کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ اپنی امت کو آگاہ کر دیجئے گا کہ یہ کلمات اور انہیں کی طرح دوسرے کلمات ذکر پڑھنے سے آدمی جنت میں داخل ہوتا ہے اور چونکہ جنت میں بہت سے درخت لگائے جاتے ہیں بایں طور کہ ہر کلمے کے پڑھنے سے ایک درخت لگتا ہے اس لئے ان کلمات کو جو شخص جتنا زیادہ پڑھے گا اس کی طرف سے جنت میں اتنے ہی زیادہ درخت لگائے جائیں گے۔ یہ گویا اس طرف اشارہ ہے کہ ان کلمات کو پڑھنے والا جنت کی پر سکون اور پر راحت فضا اور وہاں کے سرور آمیز اطمینان وچین کا حقدار ہوگا اور وہاں یہ کلمات درخت کی شکل میں لازوال سکون آمیز حیات کے ضامن ہوں گے۔
اوراد واذکار کو انگلیوں پر پڑھنا افضل ہے
وعن يسيرة رضي الله عنها وكانت من المهاجرات قالت : قال لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم : عليكن بالتسبيح والتهليل والتقديس واعقدن بالأنامل فإنهن مسؤولات مستنطقات ولا تغفلن فتنسين الرحمة . رواه الترمذي وأبو داود
حضرت یسیرہ ؓ جو مہاجرات میں سے ہیں فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہم عورتوں سے فرمایا کہ (سبحان اللہ لا الہ الا اللہ، سبحان الملک القدوس) یا سبوح القدوس رب الملائکۃ کو پڑھنا اپنے لئے ضروری قرار دو اور ان مذکورہ تسبیحات کو، اپنی انگلیوں پر شمار کرو کیونکہ ان انگلیوں سے پوچھا جائے گا اور ان کو گویائی دی جائے گی اور یاد رکھو، ذکر سے غافل مت ہونا یعنی ذکر کو ترک نہ کرنا، ورنہ رحمت سے تمہیں بھلایا جائے گا یعنی اگر ذکر کو چھوڑ کر بیٹھ جاؤ گی تو اس کے بیشمار ثواب سے محروم ہوگی۔ (ترمذی، ابوداؤد )
تشریح
یہ تو سب جانتے ہیں کہ قیامت کے دن جسم انسانی کا ایک ایک عضو اپنے مالک کے اعمال کا گواہ اور شاہد بنے گا ارشاد ربانی ہے۔ آیت (یوم تشہد علیہم السنتہم وایدیہم وارجلہم بما کانوا یعملون)۔ یاد کرو اس دن کو جب کہ ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان چیزوں کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے ہیں۔ ارشاد گرامی ان انگلیوں سے پوچھا جائے گا میں اس طرف اشارہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انگلیوں سے پوچھے گا کہ بتاؤ تم نے دنیا میں کیا کیا ہے اور پھر جواب دینے کے لئے ان انگلیوں کو گویائی عطا فرمائے گا۔ چناچہ وہ انگلیاں اپنے مالک کے ان اچھے برے اعمال کی گواہی دیں گے۔ جو ان انگلیاں کے ذریعہ سرزد ہوئے تھے اس لئے آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ تسبیحات کو اپنی انگلیوں پر شمار کرو تاکہ وہ کل قیامت کے دن تمہارے اس نیک عمل کی گواہی دیں۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اوراد و اذکار اور تسبیحات کو انگلیوں پر شمار کرنا افضل ہے اگرچہ تسبیح پڑھنا بھی جائز ہے نیز اس میں اس بات کی ترغیب بھی ہے کہ بندہ کی عقل و شعور کا تقاضہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنے اعضاء جسمانی کو انہیں کاموں میں مشغول رکھے جو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کا باعث ہوں اور اپنے ایک ایک عضو کو گناہ سے بچائے تاکہ قیامت کے دن کوئی بھی عضو گناہ کی گواہی دے کر عذاب الٰہی میں مبتلا نہ کرا دے۔
بہترین ورد اور بہترین دعا
عن سعد بن أبي وقاص قال : جاء أعرابي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : علمني كلاما أقوله قال : قل لا إله إلا الله وحده لا شريك له الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله رب العالمين لا حول ولا قوة إلى بالله العزيز الحكيم . فقال فهؤلاء لربي فما لي ؟ فقال : قل اللهم اغفر لي وارحمني واهدني وارزقني وعافني . شك الراوي في عافني . رواه مسلم
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن ایک دیہاتی نے رسول کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ حضرت مجھے کوئی ایسا ذکر بتا دیجئے جسے میں کہتا رہوں (یعنی اس کو اپنا ورد بنا لوں) آپ ﷺ نے فرمایا یہ پڑھ لیا کرو۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ اللہ اکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا و سبحان اللہ رب العالمین لا حول ولا قوۃ الا باللہ العزیز الحکیم اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اللہ بہت بڑا ہے اور اللہ ہی کے لئے بہت تعریف ہے اور پاکی ہے اللہ کے لئے جو پالنہار ہے تمام عالم کا گناہ سے بچنے کی طاقت اور عبادت کرنے کی قوت اللہ ہی کی مدد سے جو غالب و حکمت والا ہے۔ اس دیہاتی نے عرض کیا یہ کلمات تو میرے پروردگار کے ذکر کے لئے ہیں میرے لئے وہ کون سے کلمات ہیں جن کے ذریعہ میں اپنے لئے دعا مانگوں آپ نے فرمایا اس طرح مانگو۔ دعا (اللہم اغفرلی وارحمنی واھدنی وارزقنی وعافنی شک الراوی فی عافنی۔ اے میرے پروردگار مجھے بخش دے (تمام حرکات و سکنات میں طاعت ہی کی توفیق کے ذریعہ) مجھ پر رحم فرما (بہتر اعمال و احوال کی طرف) میری ہدایت کر مال حلال سے مجھے روزی دے اور مجھے عافیت بخش! راوی کو لفظ عافنی کے بارے میں شک ہے کہ آیا روایت میں یہ لفظ بھی ہے یا نہیں۔ (مسلم)
تشریح
بزاز کی روایت میں لاحول ولا قوۃ الا باللہ العزیز الحکیم میں لفظ العزیز الحکیم کی بجائے العلی العظیم ہے اور عام طور پر لوگ العلی العظیم ہی پڑھتے بھی ہیں اگرچہ مسلم میں العزیز الحکیم منقول نہیں ہے۔
تسبیح وغیرہ سے گناہوں کا سقوط
وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر على شجرة يابسة الورق فضربها بعصاه فتناثر الورق فقال : إن الحمد لله وسبحان الله ولا إله إلا الله والله أكبر تساقط ذنوب العبد كما يتساقط ورق هذه الشجرة . رواه الترمذي . وقال : هذا حديث غريب
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ خشک پتوں والے ایک درخت کے پاس سے گزرے تو آپ نے اپنا عصا مبارک اس کی ٹہنیوں پر مارا جس کی وجہ سے پتے جھڑنے لگے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ الحمدللہ و سبحان اللہ لالہ الا اللہ اور و او اللہ اکبر پڑھنا بندوں کے گناہوں کو اسی طرح جھاڑتا ہے جس طرح اس درخت کے پتے جھڑ رہے ہیں امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے یہ حدیث غریب ہے۔
وعن مكحول عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أكثر من قول : لا حول ولا قوة إلا بالله فإنها من كنز الجنة . قال مكحول : فمن قال : لا حول ولا قوة إلا بالله ولا منجى من الله إلا إليه كشف الله عنه سبعين بابا من الضر أدناها الفقر . رواه الترمذي . وقال : هذا حديث ليس إسناده بمتصل ومكحول لم يسمع عن أبي هريرة
حضرت مکحول ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ کثرت سے پڑھا کرو کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے! حضرت مکحول ؓ نے فرمایا کہ جو شخص یہ کہے لا حول ولا قوۃ الا باللہ ولا منجأ من اللہ الا الیہ یعنی ضرر و نقصان کو (دفع کرنے کی) قوت اور نفع حاصل کرنے کی طاقت اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور اس کی قدرت کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات اسی (کی ورضا ورحمت کی توجہ) پر منحصر ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے ضرر و نقصان کی ستر قسمیں دور کردیتا جس میں ادنیٰ قسم (فقر ومحتاجگی ہے) امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس روایت کی سند متصل نہیں ہے کیونکہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے حضرت مکحول ؓ کی سماعت ثابت نہیں ہے۔
تشریح
ارشاد گرامی جنت کا خزانہ کا مطلب یہ ہے کہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ جنت کا ایک ذخیرہ ہے جس سے کہ اس کو پڑھنے والا اس دن (یعنی قیامت کے دن) نفع و فائدہ حاصل کرے گا جس دن نہ دنیا کا کوئی خزانہ مال کا کام آئے گا اور نہ اولاد اور دوسرے عزیز واقا رب نفع پہنچائیں گے۔ فقر (محتاجگی) سے مراد دل کا فقر اور قلب کی تنگی ہے جس کے متعلق ایک حدیث یوں ہے فرمایا کہ کاد الفقر ان یکون کفرا۔ فقر کفر کے قریب پہنچا دیتا ہے۔ لہٰذا جو شخص ان کلمات کو پڑھتا ہے تو اس کی برکت سے دل کی محتاجگی دور ہوتی ہے کیونکہ جب وہ ان کلمات کو زبان سے ادا کرتا ہے اور پھر ان کلمات کے معنی و مفہوم کا تصور کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ یقین و اعتماد پیدا ہوا جاتا ہے کہ ہر امر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے ہر چیز اسی کے قبضہ قدرت کے زیر اثر ہے کسی کو نفع و فائدہ آرام و راحت دنیا میں بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور کسی کو تکلیف ومصیب اور ضرر و نقصان میں مبتلا کردینا بھی اسی کی طرف سے ہے پس وہ شخص بلاء و مصیبت پر صبر کرتا ہے، نعمت و راحت پر شکر کرتا ہے اپنے تمام امور اللہ ہی کی طرف سونپ دیتا ہے اور اس طرح قضا وقدر الٰہی پر راضی ہو کر حق تعالیٰ کا محبوب بندہ اور دوست بن جاتا ہے۔ حضرت شیخ ابوالحسن شاذلی (رح) فرماتے ہیں کہ اپنی ایک سیاحت کے دوران جن صاحب کی رفاقت و صحبت مجھے حاصل رہی انہوں نے مجھے نیکی و بھلائی کی وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ خوب اچھی طرح جان لو! اعمال نیک کے لئے اقوال و کلمات میں تو لاحول ولاقوۃ الا باللہ کے برابر کوئی قول وکلمہ اور افعال میں اللہ کی طرف جھکنے اور اس کے فضل کی راہ کو اختیار کرنے کے برابر کوئی فعل ممد و معاون نہیں۔ آیت (ومن یعتصم باللہ فقد ھدی الی صراط مستقیم) جس شخص نے اللہ کی راہ دکھائی ہوئی کو اختیار کیا تو بلاشبہ اسے مضبوط راہ کی ہدایت بخشی ہوگی۔ امام ترمذی کے قول کے مطابق اگرچہ اس حدیث کی سند متصل نہیں اور اس طرح یہ حدیث منقطع ہے لیکن اس حدیث کو حضرت موسیٰ کی یہ روایت صحیح ثابت کرتی ہے جو صحاح ستہ میں بطریق مرفوع منقول ہے کہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ فانہا کنز من کنوز الجنۃ۔ اسی طرح حدیث کی توثیق حضرت ابوہریرہ ؓ کی اس روایت مرفوع سے بھی ہوتی ہے جسے نسائی اور بزاز نے نقل کیا ہے لا حول ولا قوۃ الا باللہ اور اس میں لا منجا من اللہ الا الیہ کنز من کنوز الجنۃ بھی ہے لہٰذا حضرت مکحول ؓ کی یہ حدیث اگرچہ اسناد کے اعتبار سے منقطع ہے مگر مفہوم ومعنی کے اعتبار سے قابل اعتماد ہے۔
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا حول ولا قوة إلا بالله دواء من تسعة وتسعين داء أيسرها الهم
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا لاحول ولا قوۃ الا باللہ ننانوے (دنیاوی اور اخروی) بیماریوں کی دوا ہے جس میں سے ادنیٰ بیماری (دنیاوی و اخروی) غم ہے۔
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أدلك على كلمة من تحت العرش من كنز الجنة لا حول ولا قوة إلا بالله يقول الله تعالى : أسلم عبدي واستسلم . رواهما البيهقي في الدعوات الكبير
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ بتادوں جو عرش کے نیچے سے بہشت کے خزانے سے اترا ہے اور وہ یہ ہے لا حول ولاقوۃ الا باللہ جب کوئی بندہ یہ کلمہ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ تابعدار اور بہت فرمانبردار ہوا۔ یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دعوات کبیر میں نقل کی ہیں۔
وعن ابن عمر أنه قال : سبحان الله هي صلاة الخلائق والحمد لله كلمة الشكر ولا إله إلا الله كلمة الإخلاص والله أكبر تملأ ما بين السماء والأرض وإذا قال العبد : لا حول ولا قوة إلا بالله قال الله تعالى : أسلم عبدي واستسلم . رواه رزين
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا سبحان اللہ مخلوقات کی عبادت ہے الحمد للہ شکر کا کلمہ ہے لا الہ الا اللہ اخلاص کا کلمہ ہے (یعنی کلمہ توحید ہے کہ وہ اپنے پڑھنے والے کے لئے آگ سے نجات کا سبب ہے) اور اللہ اکبر کا ثواب آسمان و زمین کے درمیان کو بھر دیتا ہے۔ اور جب کوئی بندہ حضور قلب کے ساتھ لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ بندہ فرمانبردار ہوا اور بہت فرمانبردار ہوا۔
تشریح
سبحان اللہ مخلوقات کی عبادت ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد آیت (وان من شیء الا یسبح بحمدہ) اور مخلوقات میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی پاکی اس کی تعریف کے ساتھ بیان نہ کرتی ہو کے مطابق چونکہ تمام ہی مخلوقات اللہ رب العزت کی پاکی بیان کرتی ہے اس لئے یہ ان کی عبادت ہے۔