میت پر رونے کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 29 · 45 hadiths · Page 2 of 3

1725Mishkaat-al-Masabih

مصیبت زدہ کو تسلی دینے والے کا ثواب

وعن أبي برزة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من عزى ثكلى كسي بردا في الجنة . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

حضرت ابوبرزہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اس عوت کو تسلی دے گا جس کا بچہ مرگیا ہو تو اسے جنت میں بہت عمدہ لباس پہنایا جائے گا۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

1726Mishkaat-al-Masabih

میت کے گھر کھانا بھیجنا مستحب ہے

وعن عبد الله بن جعفر قال : لما جاء نعي جعفر قال النبي صلى الله عليه و سلم : صانعوا لآل جعفر طعاما فقد أتاهم ما يشغلهم )

حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ جب حضرت جعفر کے انتقال کی خبر آئی تو نبی کریم ﷺ نے اہل بیت سے فرمایا کہ جعفر کے اہل خانہ کے لئے کھانا تیار کرو کیونکہ انہیں ایک ایسا حادثہ پیش آیا ہے جو انہیں کھانا پکانے سے باز رکھتا ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب کوئی شخص مرجائے تو اس کے رشتہ داروں اور ہمسائیوں کے لئے یہ مستحب ہے کہ وہ اہل و عیال کے لئے کھانا پکا کر بھیجیں اور کھانا بھی اتنا ہو کہ میت کے گھر والے اسے ایک دن اور ایک رات پیٹ بھر کر کھا سکیں۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ میت کے گھر اس کے عزیزوں اور ہمسائیوں کی طرف سے تین تک کہ جو ایام تعزیت ہیں کھانا بھیجتے رہنا جائز ہے۔

1727Mishkaat-al-Masabih

میت کے گھر بھیجا جانے والا کھانا دوسرے لوگ بھی کھا سکتے ہیں یا نہیں

اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ وہ کھانا جو میت کے گھر اس کے عزیزوں اور ہمسائیوں کی طرف سے آتا ہے میت کے گھر والوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کو کھانا جائز ہے یا نہیں، چناچہ بعض علماء تو جواز کے قائل ہیں جب کہ بعض حضرات مثلاً ابوالقاسم کا قول یہ ہے کہ اس شخص کے کھا لینے میں کوئی مضائقہ نہیں جو میت کی تجہیز و تکفین میں مشغول ہے۔ نیز علماء لکھتے ہیں کہ جب کسی میت کے گھر کھانا پکا کر بھیجا جائے تو اس موقع پر اس بات کا خیال رکھا جائے کہ میت کے گھر والے کھانا کھا بھی لیں کیونکہ ایسے غمناک ماحول میں کھانے پینے کا کوئی دھیان نہیں رہتا خاص طور پر میت کے گھر والے غم و الم کی وجہ سے کھانا وغیرہ کی خواہش نہیں رکھتے اس لئے مناسب اور بہتر یہ ہے کہ انہیں کہہ سن کر کھانا ضرور کھلا دیا جائے تاکہ غم و الم کی زیادتی اور کھانا نہ کھانے کی وجہ سے ضعف اور کمزوری میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ نوحہ کرنے والی عورتوں کے لئے کھانا تیار کرنا تاکہ لوگ جمع ہوں اور کھائیں بدعت و مکروہ ہے بلکہ اس کے بارے میں حضرت جابر ؓ سے تو یہ منقول ہے کہ ہم اسے نیاحت یعنی نوحہ کرنے کی ایک قسم شمار کرتے تھے۔ لہٰذا اس ارشاد سے تو اس چیز کا صریح حرام ہونا معلوم ہوتا ہے۔ امام غزالی (رح) فرماتے ہیں کہ اسی مقصد کے لئے میت کے گھر والوں کی طرف سے تیار کئے گئے کھانے میں شریک ہونا مکروہ ہے۔ ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ یہ کراہت اس شکل میں ہے جب کہ وہ کھانا اس مال سے تیار نہ کیا گیا ہو جو یتیم کا ہو یا اس شخص کی ملکیت ہو جو موجود نہ ہو اور اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں تصرف کیا گیا ہو اور اگر کھانا ایسے مال سے تیار کیا گیا ہو جو یتیم یا غیر موجود شخص کی ملکیت میں ہو تو پھر اس کھانے میں شریک ہونا بغیر کسی اختلافی قول کے حرام ہے۔

1728Mishkaat-al-Masabih

میت کو نوحہ اور اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے

عن المغيرة بن شعبة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من نيح عليه فإنه يعذب بما نيح عليه يوم القيامة

حضرت مغیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس میت کے لئے نوحہ کیا جاتا ہے اسے قیامت کے دن نوحہ کئے جانے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔ (بخاری ومسلم)

1729Mishkaat-al-Masabih

میت کو نوحہ اور اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے

وعن عمرة بنت عبد الرحمن أنها قالت : سمعت عائشة وذكر لها أن عبد الله بن عمر يقول : إن الميت ليعذب ببكاء الحي عليه تقول : يغفر الله لأبي عبد الرحمن أما إنه لم يكذب ولكنه نسي أو أخطأ إنما مر رسول الله صلى الله عليه و سلم على يهودية يبكي عليها فقال : إنهم ليبكون عليها وإنها لتعذب في قبرها

حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن ؓ کہتی ہیں کہ اس وقت حضرت عائشہ ؓ یہ کہا گیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر یہ کہتے ہیں کہ میت کو اس پر زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے تو میں نے حضرت عائشہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ بخشے ابوعبدالرحمن (یہ حضرت عبداللہ بن عمر کی کنیت ہے) کو! جان لو کہ عبداللہ بن عمر نے جھوٹ نہیں بولا ہے بلکہ وہ بھول گئے ہیں آنحضرت ﷺ نے اس بارے میں ایک خاص موقع پر یہ ارشاد فرمایا تھا یا یہ کہ حضرت عبداللہ بن عمر کی اجتہادی خطا ہے کہ اس ارشاد سے عام حکم مراد لے رہے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک مرتبہ ایک یہودی عورت کی قبر کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ وہاں اس قبر پر لوگ رو رہے تھے یہ دیکھ کر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے عزیز و اقا رب اس پر رو رہے ہیں اور وہ عورت اپنی قبر کے اندر عذاب میں مبتلا ہے۔ تشریح اللہ بخشے، اہل عرب میں یہ جملہ ایسے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے جب کہ کوئی شخص اپنی کسی بات اور گفتگو میں خطا کرتا ہے۔ حضرت عائشہ کے ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ عبداللہ بن عمر نے اس موقع پر آنحضرت ﷺ کے ارشاد سے جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کہ اس کے عزیز و اقا رب رو رہے ہیں اور وہ اپنی قبر کے اندر عذاب میں مبتلا ہے، کا مطلب صرف یہ تھا کہ یہ لوگ کتنے جاہل اور نادان ہیں کہ وہ بدبخت عورت تو اپنی قبر کے اندر اللہ کے عذاب میں مبتلا اور مطعون و خوار ہے جیسا کہ کافروں کا حال ہوتا ہے مگر یہ لوگ اسے مرحومہ سمجھ رہے ہیں اور اس سے محبت وتعلق کا اظہار کر رہا ہے لہٰذا آنحضرت ﷺ نے یہ بات بطور خاص اس یہودی عورت کے بارے میں فرمائی تھی اس طرح دوسرے کافروں کے بارے میں بھی یہی صورت حال ہوتی ہے کہ ان کے عزیز و اقا رب انہیں مرحوم سمجھ کر اور ان سے اپنے قلبی تعلق کا اظہار کر کے روتے ہیں پھر یہ کہ آنحضرت ﷺ نے تو یہ بھی نہیں فرمایا تھا کہ وہ ان کے رونے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہے۔ گویا حضرت عائشہ کے اعتراض کا حاصل یہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے تو اس عورت کے کفر کی بناء پر فرمایا تھا کہ وہ اپنے کفر کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہے اور عبداللہ بن عمر یہ سمجھے کہ آنحضرت ﷺ نے بطور کلیہ کے یہ ارشاد فرمایا کہ میت اپنے اوپر زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کی جاتی ہے۔ یہ تو اس روایت کی وضاحت کی گئی ہے جہاں تک نفس مسئلہ کا تعلق ہے تو علماء لکھتے ہیں کہ اس بارے میں حضرت عائشہ ؓ کا یہ اعتراض بھی ان کے لئے اپنے اجتہاد پر مبنی ہے کیونکہ حضرت عائشہ کا یہ اعتراض اس وقت صحیح ہوسکتا ہے جبکہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد خاص طور پر صرف اسی موقع سے منقول ہوا ہو حالانکہ آپ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی مختلف الفاظ کے ساتھ اور حضرت عبداللہ بن عمر نیز دوسرے صحابہ کی متعدد روایتوں سے منقول ہے لہٰذا حضرت عائشہ کا یہ فرمانا کہ یہ ارشاد اس خاص موقع پر اور صرف اس یہودیہ کے بارے میں تھا کچھ سمجھ میں نہیں آیا! بہرحال اس مسئلہ کی مزید وضاحت اگلی حدیث کی تشریح کے ضمن میں دیکھئے۔

1730Mishkaat-al-Masabih

میت کو نوحہ اور اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے

وعن عبد الله بن أبي مليكة قال : توفيت بنت لعثمان بن عفان بمكة فجئنا لنشهدها وحضرها ابن عمر وابن عباس فإني لجالس بينهما فقال عبد الله بن عمر لعمرو بن عثمان وهو مواجهه : ألا تنهى عن البكاء ؟ فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الميت ليعذب ببكاء أهله عليه . فقال ابن عباس : قد كان عمر يقول بعض ذلك . ثم حدث فقال : صدرت مع عمر من مكة حتى إذا كنا بالبيداء فإذا هو بركب تحت ظل سمرة فقال : اذهب فانظر من هؤلاء الركب ؟ فنظرت فإذا هو صهيب . قال : فأخبرته فقال : ادعه فرجعت إلى صهيب فقلت : ارتحل فالحق أمير المؤمنين فلما أن أصيب عمر دخل صهيب يبكي يقول : وا أخاه واصاحباه . فقال عمر : يا صهيب أتبكي علي وقد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الميت ليعذب ببعض بكاء أهله عليه ؟ فقال ابن عباس : فلما مات عمر ذكرت ذلك لعائشة فقالت : يرحم الله عمر لا والله ما حدث رسول الله صلى الله عليه و سلم أن الميت ليعذب ببكاء أهله عليه ولكن : إن الله يزيد الكافر عذابا ببكاء أهله عليه . وقالت عائشة : حسبكم القرآن : ( ولا تزر وازرة وزر أخرى ) قال ابن عباس عند ذلك : والله أضح وأبكي . قال ابن أبي مليكة : فما قال ابن عمر شيئا

حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان کی صاحبزادی کا مکہ میں انتقال ہوا تو ہم لوگ ان کے یہاں آئے تاکہ نماز جنازہ اور تدفین میں شریک ہوں حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس بھی وہاں آئے میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا اتنے میں عبداللہ بن عمر نے حضرت عمروبن عثمان سے جو ان کی طرف منہ کئے ہوئے بیٹھے تھے کہا کہ تم اپنے گھروالوں کو آواز اور نوحہ کے ساتھ رونے سے منع کیوں نہیں کرتے؟ کیونکہ رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ میت اپنے گھروالوں کے رونے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کی جاتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے اس کے جواب میں کہا کہ حضرت عمر اس میں سے کچھ کہتے تھے یعنی آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی سے تو میت پر عام طور پر رونے کی ممانعت معلوم ہوتی ہے لیکن حضرت عمر اس ممانعت کو صرف قریب المرگ کے پاس آواز ونوحہ کے ساتھ رونے پر محمول کرتے تھے چناچہ انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا کہ جب میں حضرت عمر ؓ کے ساتھ مکہ سے واپس ہوا اور ہم بیداء پہنچے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک موضع ہے تو اچانک حضرت عمر نے ایک کیکر کے درخت کے نیچے ایک قافلہ کو دیکھا انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تم وہاں جا کر دیکھو کہ قافلہ میں کون ہے؟ چناچہ میں نے وہاں جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضرت صہیب اور ان کے ہمراہ کچھ دوسرے لوگ ہیں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے آکر حضرت عمر کو بتادیا حضرت عمر نے فرمایا انہیں بلا لاؤ۔ میں پھر صہیب کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ چلیے اور امیرالمومنین حضرت عمر فاروق سے ملیے اس کے بعد جب مدینہ میں حضرت عمر زخمی کردیئے گئے تو حضرت صہیب روتے ہوئے ان کے پاس آئے اور یہ کہتے جاتے تھے کہ اے میرے بھائی، اے میرے آقا! یہ کیا ہوا! حضرت عمر نے اسی حالت میں صہیب سے فرمایا کہ تم میرے پاس آواز وبیان کے ساتھ رو رہے ہو؟ جب کہ رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ مردہ یعنی یا تو حقیقۃ یا قریب المرگ اپنے گھر والوں کے رونے بکی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے یعنی ایسے رونے کی وجہ سے جو آواز نوحہ کے ساتھ ہو۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر فاروق کی وفات ہوئی تو میں نے ان کا یہ قول حضرت عائشہ کی خدمت میں عرض کیا وہ سن کر فرمانے لگیں اللہ تعالیٰ حضرت عمر پر حم کرے! یہ بات نہیں ہے اور نہ رسول کریم ﷺ نے یہ فرمایا کہ مردہ اپنے گھروالوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے یعنی نہ تو مطلقاً رونے کی وجہ سے اور نہ آواز ونوحہ کے ساتھ رونے کی وجہ سے میت کو عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے ہاں البتہ اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب میں اس کے گھروالوں کے رونے کی وجہ سے زیادتی کردیتا ہے۔ پھر حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اس کے ثبوت میں تمہارے لئے قرآن کریم کا یہ فیصلہ ہی کافی ہے کہ (وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى) 35۔ فاطر 18) کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس آیت کے مضمون کا مفہوم بھی تقریبا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہنساتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی رلاتا ہے حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر یہ سن کر کچھ نہ بولے۔ (بخاری ومسلم) تشریح ٢٣ ھ ذی الحجہ کا مہینہ چھبیسویں تاریخ اور چہار شنبہ کا دن تھا صبح کی نماز کے وقت حضرت عمر مسجد مبوی میں نماز پڑھانے کے لئے تشریف لائے حاضرین نے صفیں باندھ لیں آپ محراب مسجد میں کھڑے ہوگئے ابھی آپ نے نماز شروع ہی کی تھی کہ مغیر بن شعبہ غلام ابولولو لعین نے پیچھے جو گھات میں بیٹھا تھا دو دھاری خنجر سے آپ پر حملہ کیا خنجر پہلو میں لگا، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ لعین چھ زخم لگائے حضرت عمر گرگئے انہیں اٹھا کر گھر لایا گیا، پورے مدینہ میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی لوگ جوق درجوق در خلافت پر حاضر ہونے لگے۔ انہیں میں حضرت صہیب بھی تھے، انہوں نے جب حضرت عمر ؓ کو خون میں نہائے دیکھا تو بےاختیار رونے لگے اور یہ کہتے جاتے تھے اے میرے بھائی، اے میرے آقا حضرت ابن عباس اسی واقعہ کی طرف اشارہ کر ہے ہیں بہرحال حضرت صہیب کے اس رونے اور ان کے اس کہنے کو نوحہ نہ سمجھ لیا جائے کیونکہ نوحہ وہ ہوتا ہے جو باآواز بلند اور بطریق بین ہو اور یہاں ان میں سے کوئی بھی چیز نہیں پائی جاتی لیکن حضرت عمر نے صہیب کو اس سے بھی احتیاطا منع فرمادیا کہ اظہار غم کا یہ مباح طریقہ کہیں حدود سے تجاوز کر کے اس مرحلہ پر ہنچ جائے جہاں شریعت مانع ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ نے جو قسم کھا کر حدیث کی نفی کی تو وہاں حقیقت میں ان کی مراد حدیث کی نفی نہیں تھی بلکہ انہوں نے اس منہدم اور نتیجہ کی نفی کی جو حضرت عمر نے آنحضرت ﷺ کی حدیث سے اخذ کیا تھا ورنہ تو جہاں تک نفس حدیث کا تعلق ہے اس کے صحیح ہونے میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہے، اختلاف صرف اس حدیث کا مفہوم متعین کرنے میں ہے حضرت عمر اور حضرت عبداللہ تو اس حدیث سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ میت کے عذاب کا تعلق اس کے گھروالوں کے رونے سے یعنی اگر میت کے گھر والے میت پر روتے ہیں تو اسے عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے خواہ میت مومن ہو یا کافر ہو۔ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی کافر کے حق میں ہے اور وہ بہر صورت عذاب میں مبتلا رہتا ہے چاہے اس کے گھروالے اس پر روئیں یا نہ روئیں ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ گھروالوں کے رونے کی وجہ سے کافر میت کے عذاب میں زیادتی کردی جاتی ہے اور وہ بھی اس وجہ سے کہ کافر رونے سے خوش اور راضی ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض کافر تو مرتے وقت وصیت کر جاتے تھے کہ جب وہ مرجائیں تو اس پر ویا جائے اور نوحہ کیا جائے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اپنے مسلک کہ اہل میت کا رونا میت کے عذاب کا سبب نہیں ہوتا پر اس آیت کریمہ سے استدلال کرتی ہیں کہ ولاتزروازرۃ وزر اخری یعنی ایک شخص کا گناہ کسی دوسرے شخص کے نامہ اعمال میں نہیں لکھا جاتا اور ظاہر ہے کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہ کا ذمہ دار نہیں ہوتا تو اس پر اس گناہ کی سزا کا ترتب بھی نہیں ہوسکتا، لہٰذا اگر میت کے گھروالے روتے ہیں نوحہ کرتے ہیں تو یہ ان کا فعل ان کا گناہ میت کے نامہ اعمال میں کیوں لکھے جانے لگے اور ان کے گناہ کی وجہ سے میت کو عذاب میں کیوں مبتلا کیا جانے لگا۔ اس کے بعد حضرت ابن عباس نے بھی یہ کہہ کر حضرت عمر کے مسلک کی نفی اور حضرت عائشہ کے قول کی تائید کی کہ انسان کا رونا اور ہنسنا اس کی خوشی اور غمی اللہ ہی کی طرف سے ہے کہ وہی ان چیزوں کو پیدا کرتا ہے اس لئے رونے کو عذاب میں کیا دخل؟ لیکن حضرت ابن عباس کے اس قول پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اس طرح تو بندوں کے تمام ہی افعال اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے بندہ تو صرف انہیں کرتا ہے جس پر ثواب اور عذاب کا ترتب ہوتا ہے اگر کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اسے ثواب ملتا ہے اور اگر کوئی بداعمالی کرتا ہے تو اس پر عذاب دیا جاتا ہے اب ہنسنے کی مثلا لے لیجیے اگر کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو دیکھ کر وفور مسرت سے ہنستا ہے تو وہ ثواب پاتا ہے اور اگر کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو دیکھ کر بطور تمسخرواستہزاء ہنستا ہے تو گناہ گار ہوتا ہے، اسی طرح غمی و خوشی کا معاملہ ہے بعض خوشی اور بعضے غم ایسے ہوتے ہیں جن پر ثواب دیا جاتا ہے بعضے خوشی اور بعضے غم ایسے ہوتے ہیں جن پر عذاب دیا جاتا ہے اس لئے حضرت عائشہ کے قول کی تائید اور حضرت عمر کے مسلک کی نفی میں حضرت ابن عباس کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے ہاں ابن عباس کا یہ قول اس قید کے ساتھ تو صحیح ہوسکتا ہے کہ ہنسنا اور رونا بےاختیاری ہوں۔ یعنی اگر ہنسنے اور رونے میں اختیار کو دخل ہوگا تو پھر ان پر جواب اور عذاب کا ترتب ضرور ہوگا۔ حدیث کا یہ آخری جملہ حضرت ابن عمر یہ سن کر کچھ نہ بولے۔ اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ حضرت ابن عمر نے یہ قصہ سن کر ابن عباس کی بات مان لی بلکہ انہوں نے خاموشی اختیار کر کے بحث کو ختم کردینا ہی مناسب سمجھا جیسا کہ اہل عرفان کی شان ہے۔

1731Mishkaat-al-Masabih

میت پر رونے کی ممانعت

وعن عائشة قالت : لما جاء النبي صلى الله عليه و سلم قتل ابن حارثة وجعفر وابن رواحة جلس يعرف فيه الحزن وأنا أنظر من صائر الباب تعني شق الباب فأتاه رجل فقال : إن نساء جعفر وذكر بكاءهن فأمره أن ينهاهن فذهب ثم أتاه الثانية لم يطعنه فقال : انههن فأتاه الثالثة قال : والله غلبننا يا رسول الله فزعمت أنه قال : فاحث في أفواههن التراب . فقلت : أرغم الله أنفك لم تفعل ما أمرك رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم تترك رسول الله صلى الله عليه و سلم من العناء

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کے پاس زید بن حارثہ، جعفر اور ابن رواحہ کے (غزوہ موتہ میں) شہید کر دئیے جانے کی اطلاع آئی تو آپ ﷺ (مسجد نبوی ﷺ میں) بیٹھ گئے، آپ ﷺ کے چہرہ پر رنج و غم کے آثار نمایاں تھے اور میں (آپ کی کیفیت) دروازے کے سوراخ سے دیکھے جا رہی تھی کہ اتنے میں ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ جعفر کے گھر کی عورتیں اس طرح کر رہی ہیں یعنی اس نے ان کے رونے کا ذکر کیا آنحضرت ﷺ نے اسے حکم فرمایا کہ وہ جا کر انہیں منع کر دے۔ وہ چلا گیا (تھوڑی دیر کے بعد) دوسری مرتبہ واپس آ کر بتایا کہ عورتیں نہیں مان رہی ہیں، آنحضرت ﷺ نے پھر اس سے فرمایا کہ جا کر منع کردو۔ وہ چلا گیا اور جا کر منع کیا اور کچھ دیر کے بعد پھر تیسری مرتبہ آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! اللہ کی قسم وہ عورتیں ہم پر غالب آگئیں یعنی وہ ہمارا کہنا نہیں مان رہی ہیں حضرت عائشہ کا گمان ہے کہ یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ ان کے منہ میں مٹی ڈالو۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں اس شخص سے کہنے لگی کہ اللہ تمہاری ناک خاک آلود کرے تمہیں رسول کریم ﷺ نے جو حکم دیا ہے اس پر عمل کیوں نہیں کیا؟ اور تم رسول کریم ﷺ کو رنج پہنچانے کا سبب بنے۔ (بخاری ومسلم) تشریح ان کے منہ میں مٹی ڈالو۔ بظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ انہیں اپنے حال پر چھوڑ دو کیونکہ شدید رنج و غم کی وجہ سے جزع و فزع کی حالت میں نصیحت ان پر کار گر نہیں ہو رہی ہے۔ ارغم اللہ سے آخر تک حضرت عائشہ ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تمہیں ذلیل کرے کیونکہ تم نے آنحضرت ﷺ کو ایذاء پہنچائی آپ ﷺ کو رنچ پہنچانے کا سبب بنے اس لئے کہ آنحضرت ﷺ کو یہ سن کر شدید رنج پہنچا کہ وہ عورتیں گناہ کبیرہ میں مبتلا ہیں اور منع کرنے کے باوجود رونے سے باز نہیں آرہی ہیں اگر تم ڈانٹ ڈپٹ کر اور سختی کے ساتھ ان عورتوں کو اس فعل سے منع کردیتے تو آنحضرت ﷺ کو یہ شدید روحانی اذیت وکوفت نہ وہتی۔

1732Mishkaat-al-Masabih

میت پر رونے کی ممانعت

وعن أم سلمة قالت : لما مات أبو سلمة قلت غريب وفي أرض غربة لأبكينه بكاء يتحدث عنه فكنت قد تهيأت للبكاء عليه إذ أقبلت امرأة تريد أن تسعدني فاستقبلها رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أتريدين أن تدخلي الشيطان بيتا أخرجه الله منه ؟ مرتين وكففت عن البكاء فلم أبك . رواه مسلم

حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب میرے پہلے خاوند حضرت ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نے کہا کہ ابوسلمہ مسافر تھے اور حالت مسافرت ہی میں مرے میں بھی ان کے لئے اس طرح روؤں گی کہ میرا رونا بیان کیا جائے گا (یعنی لوگوں میں چرچا ہوگا کہ ام سلمہ اس قدر روئی کہ اتنا کوئی بھی نہیں رویا) چناچہ میں رونے کی تیاریوں میں مصروف تھی کہ اچانک ایک عورت آئی جو (رونے میں) میرے ساتھ شریک ہونے کا ارادہ رکھتی تھی، اتنے میں رسول کریم ﷺ اس کے سامنے آگئے اور فرمانے لگے کہ کیا تمہارا یہ ارادہ ہے کہ شیطان کو اس گھر میں داخل کرو جس گھر سے اللہ تعالیٰ نے اسے دو مرتبہ نکالا ہے۔ آپ ﷺ کا یہ ارشاد سن کر میں رونے سے رک گئی اور پھر میں (اس طرح) نہیں روئی (جس کی شریعت نے ممانعت کی ہے) (مسلم) تشریح میں تو رونے کی تیاریوں میں مصروف تھی، کا مطلب یہ ہے کہ میں رونے کا ارادہ کر رہی تھی اور اس موقع پر رونے کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جیسے سیاہ کپڑے وغیرہ انہیں مہیا کر رہی تھی۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ام سلمہ کو اس وقت تک یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ چلا چلا کر رونا اور نوحہ کرنا حرام ہے اگر انہیں ایسا معلوم ہوتا تو یقینی بات ہے کہ وہ اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھیں کہ کوئی ایسا طریقہ اختیار کریں جو شریعت کی رو سے ناجائز و حرام ہے۔ گھر میں سے دو مرتبہ شیطان کے نکلنے سے یا تو یہ مراد ہے کہ ایک مرتبہ تو اس وقت شیطان گھر سے نکال دیا گیا تھا جب کہ ابوسلمہ کفر و شرک کا سیاہ پیراہن اتار کر ایمان و اسلام کا نورانی خلعت زیب تن کیا تھا اور دوسری مرتبہ گھر سے اس وقت شیطان کو نکال دیا گیا جب کہ ابوسلمہ ظلم و جہل سے بھرپور اس دنیا سے ایمان و اسلام کے ساتھ رخصت ہوگئے تھے۔

1733Mishkaat-al-Masabih

بین کرنے کی ممانعت

وعن النعمان بن بشير قال : أغمي على عبد الله بن رواحة فجعلت أخته عمرة تبكي : واجبلاه واكذا واكذا تعدد عليه فقال حين أفاق : ما قلت شيئا إلا قيل لي : أنت كذلك ؟ زاد في رواية فلما مات لم تبك عليه . رواه البخاري

حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) حضرت عبداللہ بن رواحہ (اتنے سخت بیمار ہوئے کہ موت کے قریب پہنچ گئے اور ان پر بےہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن عمرہ نے رونا اور یہ کہنا شروع کیا کہ اے پہاڑ افسوس اور اے ایسے اور ویسے یعنی ان کی خوبیاں گن گن کر بیان کرنے لگیں جب حضرت عبداللہ ہوش میں آئے تو بہن سے کہا کہ جو کچھ تم نے کہا ہے وہی مجھے بطور تنبیہ کے کہا گیا ہے تم ایسے مثلاً جب تم نے کہا کہ واجبلاہ یعنی اے پہاڑ افسوس ہے تو مجھ کہا گیا تھا کہ تم پہاڑ کیوں ہو کہ لوگ تمہاری پناہ پکڑتے ہیں ایک اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ چناچہ جب عبداللہ کا انتقال ہوا (یعنی غزوہ موتہ میں شہید ہوئے) تو ان کی بہن ان پر روئی نہیں۔

1734Mishkaat-al-Masabih

بین کرنے کی ممانعت

وعن أبي موسى قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من ميت يموت فيقوم باكيهم فيقولك : واجبلاه واسيداه ونحو ذلك إلا وكل الله به ملكين يلهزانه ويقولان : أهكذا كنت ؟ . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب حسن

اور حضرت ابوموسیٰ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص مرتا ہے اور اس کے عزیزوں میں سے کوئی رونے والا یہ کہہ کر روتا ہے کہ اے پہاڑ اے سردار وغیر وغیرہ۔ تو اللہ تعالیٰ میت پر دو دو فرشتے مقرر کردیتا ہے جو اس کے سینے میں مکے مار مار کر پوچھتے ہیں کیا تو ایسے ہی تھا؟ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب حسن ہے۔ تشریح میت سے حقیقت یعنی مردہ بھی مراد ہوسکتا ہے اور قریب المرگ بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔ میت پر رونے اور اس کی وجہ سے میت کو عذاب میں مبتلا کئے جانے کے بارے میں کچھ باتیں گزشتہ صفحات میں بیان کی جا چکی ہیں اس موقعہ پر بھی اس مسئلہ کے بارے میں چند اور باتیں جانتے چلئے۔ علامہ سیوطی نے شرح الصدور میں اس حدیث امن المیت لیعذب ببکاء اہلہ (یعنی میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے) کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس بارے میں اختلافی اقوال ہیں کہ آیا میت کو اس کے گھروالوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے یا نہیں؟ چناچہ اس سلسلہ میں جتنے مسلک ہیں ان کو علامہ موصوف نے اس طرح سلسلہ وار نقل کیا ہے۔ (١) یہ حدیث اپنے ظاہر الفاظ و مفہوم کے مطابق مطلق ہے یعنی وصیت یا کافر کی قید نہیں ہے بلکہ میت پر چلا چلا کر رونے اور نوحہ کی وجہ سے میت کو عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ حضرت عمر اور حضرت ابن عمر ؓ کی بھی یہی رائے ہے۔ (٢) میت کو اس کے گھر والوں کی وجہ سے مطلقاً عذاب میں مبتلا نہیں کیا جاتا (٣) عذاب کا تعلق حالت سے ہے یعنی مردہ اس وقت عذاب میں مبتلا ہوتا ہے جب کہ اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہوتے ہیں اور وہ عذاب ان کے رونے کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ مردہ کے اپنے گناہوں اور برے اعمال کی وجہ سے ہوتا ہے (٤) یہ حدیث مخصوص طور پر کافروں کے بارے میں ہے یہ دونوں اقوال حضرت عائشہ ؓ کے ہیں۔ (٥) یہ حدیث اور یہ وعید خاص طور پر اس شخص کے بارے میں ہے جس کے یہاں نوحہ کا رسم و رواج ہو، امام بخاری کا یہی مسلک ہے۔ (٦) یہ حدیث اس شخص کے بارے میں ہے جو نوحہ کے لئے وصیت کر جائے یعنی جو شخص اپنے وارثوں سے کہہ جائے کہ میرے مرنے کے بعد نوحہ کیا جائے تو اسے اس کے گھر والوں کے رونے اور نوحہ کرنے والوں کے نوحہ کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے کیونکہ یہ اسی کا فعل ہے۔ (٧) یہ وعید اس شخص کے بارے میں ہے جو نوحہ نہ کرنے کی وصیت نہ کر جائے، چناچہ جس شخص کو اپنے گھر والوں کے بارے میں یہ خیال ہو کہ وہ میرے مرنے کے بعد نوحہ کریں گے تو اسے اپنے گھر والوں کو نوحہ نہ کرنے کی وصیت کرنا واجب ہوگا۔ (٨) میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے اس وقت عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے جب کہ وہ میت کی ان باتوں کو بیان کر کے روئیں جو شرعی طور پر فی نفسہ بری اور انتہائی قابل نفرین ہو جسا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی مرجاتا تھا تو لوگ یہ کہہ کہہ کر روتے تھے کہ اے عورتوں کو بیوہ کرنے والے، اے اولاد کو یتیم کرنے والے، اے گھر کو خراب کرنے والے، (٩) عذاب سے مراد اہل میت کے مذکورہ بالا طریقہ سے بیان کر کے رونے کی وجہ سے میت پر ملائکہ کا غصہ ہونا ہے۔ (١٠) اہل میت جب نوحہ کرتے ہیں تو میت اپنی قبر کے اندر عذاب میں مبتلا کی جاتی ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ عذاب سے مراد یہ ہے کہ جب اہل میت غلط طریقہ سے روتے ہیں اور اس بارے میں غیر شرعی روش اختیار کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے میت کو شدید روحانی اذیت پہنچتی ہے اور اسے رنج ہوتا ہے جیسا کہ جب عالم برزخ میں دنیا سے کوئی روح آتی ہے اور وہاں پہلے سے موجود روحیں اس سے اپنے اعزہ کے متعلق پوچھتی ہیں اگر کسی روح کو اپنے متعلقین کے بارے میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ برے اعمال اور گناہوں میں مبتلا ہیں تو اس روح کو رنج ہوتا ہے اور اگر اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے متعلقین نیکی اور بھلائی کی راہ پر گامزن ہیں تو اسے خوشی ہوتی ہے۔ بہر حال مسئلہ کی پوری بحث کا حاصل یہ ہوا کہ اگر میت اس گناہ کا خود سبب ہوگا یعنی وہ اگر مرنے سے پہلے یہ وصیت کر جائے کہ میری میت پر نوحہ کیا جائے چلا چلا کر رویا جائے یا یہ کہ وہ وصیت تو نہ کر جائے مگر ان امور سے خوش و راضی ہوتا ہو تو اس صورت میں حدیث میں مذکورہ عذاب اپنے حقیقی معنی پر محمول ہوگا بایں طور کہ اگر میت پر اہل میت نوحہ وغیرہ کریں گے تو اسے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور اگر یہ صورت نہ ہو یعنی نہ تو میت نے وصیت کی ہو اور نہ وہ ان باتوں کو پسند کرتا ہو تو اس شکل میں عذاب اپنے حقیقی معنی پر محمول نہیں ہوگا بلکہ رنج اٹھانے پر محمول ہوگا خواہ یہ رنج اٹھانا حالت نزع میں ہو یا موت کے بعد نیز خواہ کافر ہو خواہ مسلمان اس بارے میں سب برابر ہیں اس طرح اس آیت (وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى) 35۔ فاطر 18) اور ان احادیث کے درمیان جو کہ اس بارے میں میں مطلق منقول ہوئی ہیں مطابقت پیدا ہوجاتی ہے۔

1735Mishkaat-al-Masabih

نوحہ اور چلائے بغیر رونا ممنوع نہیں

وعن أبي هريرة قال : مات ميت من آل رسول الله صلى الله عليه و سلم فاجتمع النساء يبكين عليه فقام عمر ينهاهن ويطردهن . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : دعهن فإن العين دامعة والقلب مصاب والعهد قريب . رواه أحمد والنسائي

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں (جب) رسول کریم ﷺ کی اولا میں سے کسی کا (یعنی حضرت زینت کا جیسا کہ اگلی روایت میں تصریح ہے) انتقال ہوا تو عورتیں جمع ہوئی اور ان پر رونے لگیں (یہ دیکھ کر) حضرت عمر فاروق کھڑے ہوئے اور (اقرباء) کو رونے سے منع کیا اور (اجنبیوں کو) مار مار کر بھگانے لگے۔ آنحضرت ﷺ نے ( جب یہ دیکھا) تو فرمایا کہ عمر انہیں (اپنے حال پر) چھوڑ دو کیونکہ آنکھیں رو رہی ہیں اور دل مصیبت زدہ ہے نیز مرنے کا وقت قریب ہے۔ (احمد، نسائی) تشریح بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر عورتیں چلا چلا کر تو نہیں ہاں کچھ آواز سے رو رہی ہوں گی چناچہ حضرت عمر فاروق نے اس احتیاط کے پیش نظر کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہاں اس سے آگے بڑھ جائیں اور نوحہ وغیرہ کرنے لگیں جو شریعت کی نظر میں ممنوع ہے ان عورتوں کو رونے سے منع کرنا چاہا مگر آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر فاروق کو اس سے روک دیا اور ان کا عذر بیان فرما کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ ایسے سخت حادثہ اور غمناک موقعہ پر عورتوں کو اظہار رنج و غم کی اتنی بھی اجازت نہ دینا احتیاط اور دور اندیشی کا تقاضا تو ہوسکتا ہے لیکن فطرت کے خلاف ہوگا۔

1736Mishkaat-al-Masabih

نوحہ اور چلائے بغیر رونا ممنوع نہیں

وعن ابن عباس قال : ماتت زينب بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم فبكت النساء فجعل عمر يضربهن بسوطه فأخره رسول الله صلى الله عليه و سلم بيده وقال : مهلا يا عمر ثم قال : إياكن ونعيق الشيطان ثم قال : إنه مهما كان من العين ومن القلب فمن الله عز و جل ومن الرحمة وما كان من اليد ومن اللسان فمن الشيطان . رواه أحمد

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب کا انتقال ہوا تو عورتیں رونے لگیں حضرت عمر (اس بات کو کب برداشت کرنے والے تھے وہ) اپنے کوڑے سے مارنے لگے، آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر کو اپنے ہاتھوں الگ کیا اور فرمایا کہ عمر نرمی اختیار کرو۔ پھر عورتوں سے فرمایا کہ تم لوگ اپنے آپ کو شیطان کی آواز سے دور رکھو (یعنی چلا چلا کر اور بیان کر کے ہرگز نہ رونا) پھر فرمایا کہ جو کچھ آنکھوں سے (یعنی آنسو) اور دل سے (یعنی رنج و غم) ظاہر ہو یہ اللہ کی طرف سے ہے اور رحمت کا سبب ہے۔ (یعنی یہ چیزیں اللہ کی پسندیدہ ہیں) اور جو کچھ ہاتھوں سے ظاہر ہو وہ شیطان کی طرف سے ہے۔ (احمد) تشریح حدیث کے آخری جز کا مطلب یہ ہے کہ اظہار رنج و غم کے وقت جو چیزیں ہاتھوں سے ظاہر ہوتی ہیں جیسے منہ پیٹنا کپڑے پھاڑنے اور بال نوچنے کھسوٹنے یا جو چیزیں زبان سے سرزد ہوتی ہیں جیسے چلانا و چیخنا نوحہ یعنی بین کرنا، یا زبان سے ایسی باتیں نکالنی جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہ ہوں یہ سب چیزیں شیطان کی طرف سے ہیں بایں طور کہ جب شیطان بہکاتا ہے تو یہ چیزیں صادر ہوتی ہیں اور ان چیزوں کو شیطان پسند کرتا ہے۔

1737Mishkaat-al-Masabih

ایک خاص واقعہ

وعن البخاري تعليقا قال : لما مات الحسن بن الحسن بن علي ضربت امرأته القبة على قبره سنة ثم رفعت فسمعت صائحا يقول : ألا هل وجدوا ما فقدوا ؟ فأجابه آخر : بل يئسوا فانقلبوا

حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ بطرقی تعلیق (یعنی بغیر سند کے) ذکر کرتے ہیں کہ جب حضرت حسن بن علی کے صاحبزادے کہ جن کا نام بھی حسن ہی تھا کا انتقال ہوا تو ان کی بیوی نے ان کی قبر پر ایک سال تک خیمہ کھڑا رکھا پھر جب انہوں نے اکھاڑا تو ہاتف غیبی کی ندا سنی کہ کیا خیمہ کھڑا کر کے کھوئے ہوئے کو پا لیا! پھر اس کے جواب میں دوسرے ہاتف غیبی کی یہ ندا سنی کہ ناامید ہوئی اور خیمہ اکھاڑ لیا۔ تشریح جب حسن بن علی کا انتقال ہوا تو ان کی بیوی نے ان کی قبر پر ایک خیمہ کھڑا کردیا جو سال بھر تک وہاں قائم رہا اور خود بھی وہیں پڑی رہیں اس طرح شوہر کے انتقال کی مصیبت اور احساس جدائی کا غم روز ان کے دل میں تازہ ہوتا رہا۔ بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر کی قبر پر خیمہ اس لئے کھڑا کیا تھا کہ ان کے دوست اور احباب ایصال ثواب اور قرآن خوانی کے لئے جمع ہوجایا کریں اور لوگ دعائے مغفرت و رحمت کے لئے آیا کریں۔

1738Mishkaat-al-Masabih

زمانہ جاہلیت کی ایک رسم اور اس پر آنحضرت ﷺ کی تنبیہ

وعن عمران بن حصين وأبي برزة قالا : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في جنازة فرأى قوما قد طرحوا أرديتهم يمشون في قمص فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أبفعل الجاهلية تأخذون ؟ أو بصنيع الجاهلية تشبهون ؟ لقد هممت أن أدعو عليكم دعوة ترجعون في غير صوركم قال : فأخذوا أرديتهم ولم يعودوا لذلك . رواه ابن ماجه

حضرت عمران بن حصین اور حضرت ابوبرزہ ؓ دونوں روایت کرتے ہیں کہ (ایک روز) ہم لوگ رسول کریم ﷺ کے ہمراہ ایک جنازے کے ساتھ چلے (چنانچہ) آپ ﷺ نے کچھ ایسے لوگوں کو دیکھا جنہوں نے اپنی چادریں اتار پھینکی تھیں اور کرتوں میں چل رہے تھے آنحضرت ﷺ نے (انہیں اس حال میں دیکھ کر) فرمایا کہ کیا تم لوگ جاہلیت کے فعل پر عمل کرتے ہو؟ یا جاہلیت کے کاموں کی مشابہت اختیار کرتے ہو؟ پھر آپ ﷺ نے فرمایا! (تمہاری یہ انتہائی نازیبا حرکت دیکھ کر) میرا تو ارادہ یہ ہوا کہ میں تمہارے لئے کوئی ایسی بد دعا کروں کہ تم اپنے گھروں کو دوسری شکلوں میں (یعنی بندر یا سور کی شکل ہو کر) واپس پہنچو۔ راوی کہتے ہیں کہ (یہ سن کر) ان لوگوں نے (فورا) اپنی چادریں اوڑھ لیں اور پھر دوبارہ کبھی ایسا کام نہ کیا۔ (ابن ماجہ) تشریح اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اس زمانہ میں یہ دستور تھا کہ لوگ کرتوں کے اوپر چادریں اوڑھا کرتے تھے بہرحال زمانہ جاہلیت کی یہ ایک رسم تھی کہ جب لوگ جنازہ کے ساتھ چلتے تو اپنی چادریں اتار دیا کرتے تھے گویا اس سے پریشان حال کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ جب اتنے ذرا سے تغیر یعنی چادر اتار کر چلنے پر آنحضرت ﷺ نے اتنی شدید تنبیہ اور وعید فرمائی تو ان لوگوں کا کیا حشر ہوگا جو اس سے کہیں زیادہ بڑی رسموں کو اختیار کئے ہوئے ہیں؟

1739Mishkaat-al-Masabih

کسی خلاف شرع چیز کی موجود گی میں جنازہ کے ساتھ جانے کی ممانعت

وعن ابن عمر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن تتبع جنازة معها رانة . رواه أحمد وابن ماجه

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس جنازہ کے ہمراہ جانے سے منع فرمایا جس کے ساتھ نوحۃ کرنے والی ہو۔ (رواہ احمد وابن ماجہ) تشریح اگرچہ جنازہ کے ساتھ چلنا سنت ہے لیکن اس فعل بد کی موجودگی کی وجہ سے اس سنت کو ترک کردینا چاہئے اس طرح کسی بھی خلاف شرع چیز کی موجودگی میں جنازہ کے ساتھ نہیں جانا چاہئے یہ حدیث اس مسئلہ کی بنیاد ہے کہ جس دعوت میں خلاف شرع باتیں پائی جائیں وہاں نہیں جانا چاہئے کیونکہ اگرچہ دعوت قبول کرنا سنت ہے لیکن ایسے موقع پر غیر شرع باتوں اور افعال بد کی وجہ سے اس سنت پر عمل نہ کرنا ہی بہتر اور اولیٰ ہوگا۔

1740Mishkaat-al-Masabih

فوت شدہ چھوٹے بچے اپنے والدین کو جنت میں لے جائیں گے

وعن أبي هريرة أن رجلا قال له : مات ابن لي فوجدت عليه هل سمعت من خليلك صلوات الله عليه شيئا يطيب بأنفسنا عن موتانا ؟ قال : نعم سمعته صلى الله عليه و سلم قال : صغارهم دعاميص الجنة يلقى أحدهم أباه فيأخذ بناحية ثوبه فلا يفارقه حتى يدخله الجنة . رواه مسلم وأحمد واللفظ له

حضرت ابوہریرہ ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ (ایک دن) ان سے ایک شخص ملا اور کہنے لگا کہ میرا (چھوٹا) بچہ مرگیا جس کی وجہ سے میں بہت غمگین ہوں کیا آپ نے اپنے دوست یعنی آنحضرت ﷺ سے کہ ان پر اللہ کی رحمتیں اور اللہ کا سلام نازل ہو کوئی ایسی بات بھی سنی ہے جو ہمارے مردوں (یعنی فوت شدہ چھوٹے بچوں) کی طرف سے ہمارے دلوں کو خوش کر دے (یعنی جس سے یہ معلوم ہوا کہ ہمارے چھوٹے بچے مرگئے وہ آخرت میں ہمارے کچھ کام آئیں گے) حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ ہاں! میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کے چھوٹے بچے جنت میں دریا کے جانور کی طرح ہوں گے جب ان میں کسی کا باپ اسے ملے گا تو وہ بچے اپنے باپ کے کپڑے کا کونہ پکڑ لے گا اور اسے اس وقت تک نہ چھوڑے گا جب تک کہ اس باپ کو جنت میں داخل نہ کر دے گا۔ (مسلم احمد، الفاظ احمد کے ہیں) تشریح دعا میص دعموص کی جمع ہے۔ دعموص پانی کے ایک چھوٹے سے سیاہ جانور (کیڑے) کو کہتے ہیں جو عام طور پر تالابوں میں پانی کم ہوجانے پر ظاہر ہوتا ہے نیز یہ جانور مستقل پانی میں نہیں رہتا ہے بلکہ وہ غوطہ خور ہوتا ہے یعنی غوطہ مارتا ہے اور باہر نکل آتا ہے اس جانور بعض جگہ جو لایا بھی کہا جاتا ہے۔ دعموص اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو سلاطین و امراء کے معاملات میں بہت زیادہ دخیل ہوتا ہے اور ان کے قوائے فکر و عمل پر بڑی حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔ بہرحال فوت شدہ چھوٹے بچوں کو جنت میں (دعموص) سے بایں معنی تشبیہ دی گئی ہے کہ یہ بچے جنت میں سیر کرتے پھرتے ہیں جن طرح دنیا میں چھوٹے بچوں سے پردہ نہیں کیا جاتا اور کسی گھر میں جانے سے نہیں روکے جاتے اور نہ انہیں کہیں جانے سے منع کیا جاتا ہے اس طرح وہ چھوٹے بچے جنت میں جہاں چاہتے ہیں جاتے ہیں ان کے کہیں آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اس حدیث میں بطور خاص باپ کا ہی ذکر کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس موقعہ پر صرف باپ ہی کے بارے میں بات چل رہی ہوگی اس لئے اس کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ورنہ تو جہاں تک اصل مسئلہ کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح چھوٹا بچہ اپنے باپ کو جنت میں لے جائے گا اسی طرح اپنی ماں کو بھی جنت میں داخل کرائے گا چناچہ بعض حدیثوں میں ماں باپ دونوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

1741Mishkaat-al-Masabih

بچوں کے مرنے کا اجر

وعن أبي سعيد قال : جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله ذهب الرجال بحديثك فاجعل لنا من نفسك يوما نأتيك فيه تعلمنا مما علمك الله . فقال : اجتمعن في يوم كذا وكذا في مكان كذا وكذا فاجتمعن فأتاهن رسول الله صلى الله عليه و سلم فعلمهن مما علمه الله ثم قال : ما منكن امرأة تقدم بين يديها من ولدها ثلاثة إلا كان لها حجابا ن النار فقالت امرأة منهن : يا رسول الله أو اثنين ؟ فأعادتها مرتين . ثم قال : واثنين واثنين واثنين . رواه البخاري

حضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) ایک عورت رسول کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگی کہ یا رسول اللہ! مردوں نے تو آپ ﷺ کے مقدس ارشادات سے استفادہ کیا اب آپ ﷺ ایک دن ہمارے لئے بھی مقرر کر دیجئے تاکہ ہم اس دن آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجائیں اور آپ ﷺ ہمیں بھی وہ باتیں بتائیں جو اللہ نے ﷺ کو بتائیں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اچھا تم عورتیں فلاں دن فلاں وقت اور فلاں مکان میں (یعنی مسجد میں یا کسی گھر میں) اور فلاں جگہ (یعنی مسجد یا مکان کے اگلے حصہ میں یا پچھلے حصہ میں) جمع ہوجانا، چناچہ (جب آپ ﷺ کے ارشاد کے مطابق عوتیں جمع ہوگئیں تو رسول کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ نے وہ باتیں انہیں سکھائیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سکھائی تھیں پھر آپ ﷺ نے (یہ بھی فرمایا) کہ تم میں سے جس نے اپنی اولاد میں سے (تین لڑکے یا لڑکیاں) بھیج دی ہوں (یعنی اس کے تین بچے مرگئے ہوں) تو وہ بچے اس کے لئے آگ سے پردہ ہوجائیں گے (یعنی اسے دوزخ میں نہ جانے دیں گے) ان میں سے ایک عورت نے یہ الفاظ دو مرتبہ کہے چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یا جس عورت کے دو بچے مرگئے ہوں یا یا دو یا دو (جس عورت کے تین بچے مرے ہوں اس کے لئے بھی یہ ثواب ہے اور جس عورت کے دو ہی بچے مرے ہوں اس کے لئے بھی یہی بشارت ہے۔

1742Mishkaat-al-Masabih

بچوں کے مرنے کا اجر

وعن معاذ بن جبل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلمين يتوفى لهما ثلاثة إلا أدخلهما الله الجنة بفضل رحمته إياهما . فقالوا : يا رسول الله أو اثنان ؟ قال : أواثنان . قالوا : أو واحد ؟ قال : أو واحد . ثم قال : والذي نفسي بيده إن السقط ليجر أمه بسرره إلى الجنة إذا احتسبته . رواه أحمد وروى ابن ماجه من قوله : والذي نفسي بيده

حضرت معاذ بن جبل ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جن دو مسلمانوں کے (یعنی ماں اور باپ کے) تین بچے مرجائیں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے ان دونوں یعنی ماں باپ کو جنت میں داخل کرے گا۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ بھی فرما دیجیے کہ یا جن کے دو بچے بھی مرگئے ہوں (ان کے لئے بھی یہ بشارت ہے) آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہاں جن کے دو بچے بھی مرجائیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ بھی فرما دیجیے کہ یا ایک۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ایک بچہ (بھی اگر مرجائے تو اس کے والدین کے لئے بشارت ہے) پھر آپ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کسی عورت کا کچا حمل بھی گرجائے تو وہ اپنی ماں کو اپنی آنول نال کے ذریعہ بہشت کی طرف کھینچے گا بشرطیکہ اس کی ماں صبر کرے اور اس کے مرنے کو (اپنے حق میں) ثواب شمار کرے۔ (احمد) ابن ماجہ نے اس روایت کو والذی نفسی بیدہ سے (آخر تک) نقل کیا ہے۔ تشریح آنول نال اس جھلی کو کہتے ہیں جو پیدا ہونے کے وقت بچہ کی ناف سے لٹکی ہوتی ہے۔ ارشاد گرامی لیجر امہ بسررہ میں آنول نال سے بچہ اور اس کے ماں کے درمیان تعلق و علاقہ کی طرف اشارہ گویا آنول نال رسی کی مانند ہوجائے کہ جس کے ذریعے وہ اپنی ماں کو بہشت کی طرف کھینچے گا۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جب اس بچہ کے مرجانے کا اتنا ہی زیادہ ثواب ہے جو ابھی ناتمام ہی تھا اور جس سے ماں کو کوئی تعلق لگاؤ بھی پیدا نہیں ہوسکا تھا۔ تو اس بچہ کے مرجانے پر ماں کو کتنا کچھ ثواب ملے گا جو پلا پلایا اللہ کو پیارا ہوگیا ہو اور جس سے ماں کو کمال تعلق و لگاؤ بھی پیدا نہیں ہوسکا۔

1743Mishkaat-al-Masabih

بچوں کے مرنے کا اجر

وعن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قدم ثلاثة من الولد لم يبلغوا الحنث : كانوا له حصنا حصينا من النار فقال أبو ذر : قدمت اثنين . قال : واثنين . قال أبي بن كعب أبو المنذر سيد القراء : قدمت واحد . قال : وواحد . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث غريب

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنی اولاد میں سے ایسے تین بچے جو حد بلوغت کو نہ پہنچے ہوں آگے بھیجے ہوں (یعنی اس کے مرنے سے پہلے مرگئے ہوں) تو وہ اس کے لئے آگ سے مضبوط پناہ ہوں گے۔ (یہ سن کر) حضرت ابوذر نے کہا کہ میں نے تو دو بچے بھیجے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اور دو بھی! حضرت ابی بن کعب نے کہ جن کی کنیت ابوالمنذر ہے اور قاریوں کے سردار ہیں کہا کہ میں نے تو ایک ہی بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اور ایک بھی (آگ سے پناہ ہوگا)۔ (ترمذی، ابن ماجہ) اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے۔

1744Mishkaat-al-Masabih

بچوں کے مرنے کا اجر

وعن قرة المزني : أن رجلا كان يأتي النبي صلى الله عليه و سلم ومعه ابن له . فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : أتحبه ؟ فقال : يا رسول الله صلى الله عليه و سلم أحبك الله كما أحبه . ففقده النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ما فعل ابن فلان ؟ قالوا : يا رسول الله مات . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما تحب ألا تأتي بابا من أبواب الجنة إلا وجدته ينتظرك ؟ فقال رجل : يا رسول الله له خاصة أم لكلنا ؟ قال : بل لكلكم . رواه أحمد

حضرت قرہ مزنی ؓ راوی ہیں کہ ایک شخص تھا جو نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں آیا کرتا تھا اور اس کا لڑکا بھی اس کے ساتھ ہوتا تھا۔ (ایک دن) نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا کہ کیا تم اسے (بہت ہی) عزیز رکھتے ہو (جو ہر وقت تمہارے ساتھ ہی ہوتا ہے) اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! (میں اس سے اپنی محبت کو کیا بتاؤں بس) اللہ تعالیٰ آپ سے ایسی ہی محبت کرے جیسا کہ میں اپنے اس بچہ سے کرتا ہوں۔ (کچھ عرصہ کے بعد) آنحضرت ﷺ نے اس بچہ کو (اپنے باپ کے ساتھ) نہیں پایا تو پوچھا کہ فلاں شخص کا بیٹا کیا ہوا؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس کا لڑکا تو مرگیا۔ (اس کے بعد جب وہ شخص حاضر ہوا تو اس سے) آپ نے فرمایا کہ کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ کل قیامت کے روز تم جنت کے جس دروازہ پر بھی جاؤ وہاں اپنے لڑکے کو اپنا منتظر پاؤ تاکہ وہ تمہاری سفارش کرے اور تمہیں اپنے ساتھ جنت میں لے جائے ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ بشارت بطور خاص اسی شخص کے لئے ہے یا سب کے لئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم سب کے لئے (احمد)