میت پر رونے کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 29 · 45 hadiths · Page 3 of 3

1745Mishkaat-al-Masabih

ناتمام بچہ بھی اپنے والدین کو جنت میں لے جائے گا

وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن السقط ليراغم ربه إذا أدخل أبويه النار فيقال : أيها السقط المراغم ربه أدخل أبويك الجنة فيجرهما بسرره حتى يدخلهما الجنة . رواه ابن ماجه

حضرت علی ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ سقط (یعنی ناتمام بچہ جو ماں کے پیٹ سے وقت سے پہلے گرگیا ہوگا) کے والدین کو دوزخ میں داخل (کرنے کا ارادہ) کرے گا تو وہ اپنے پروردگار سے جھگڑے گا چناچہ اس سے کہا جائے گا کہ پروردگار سے جھگڑنے والے اے ناتمام بچے! اپنی ماں کو جنت میں لے جاؤ لہٰذا وہ ناتمام بچہ اپنے والدین کو اپنی آنول نال کے ذریعہ کھینچے گا یہاں تک کہ انہیں جنت میں لے جائے گا۔ (ابن ماجہ)

1746Mishkaat-al-Masabih

مصیبت وحادثہ پر صبر کا اجر جنت

وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يقول الله تبارك وتعالى : ابن آدم إن صبرت واحتسبت عند الصدمة الأولى لم أرض لك ثوابا دون الجنة . رواه ابن ماجه

حضرت ابوامامہ ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ (انسان کو مخاطب کرتے ہوئے) فرماتا ہے کہ اے ابن آدم! اگر تو (کسی مصیبت کے وقت) صبر کرے اور صدمہ کی ابتدائی مرحلہ ہی پر ثواب کا طلب گار ہو تو میں تیرے لئے جنت سے کم کسی اجر وثواب پر راضی نہیں ہوتا (یعنی میں تجھے اس کے بدلہ میں جنت ہی میں داخل کروں گا) (ابن ماجہ)

1747Mishkaat-al-Masabih

استرجاع کی فضیلت

وعن الحسين بن علي عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من مسلم ولا مسلمة يصاب بمصيبة فيذكرها وإن طال عهدها فيحدث لذلك استرجاعا إلا جدد الله تبارك وتعالى له عند ذلك فأعطاه مثل أجرها يوم أصيب بها . رواه احمد والبيهقي في شعب الإيمان

حضرت حسین بن علی ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس مسلمان مرد و عورت کو کوئی مصیبت و صدمہ پہنچے اور خواہ کتنا ہی طویل زمانہ گزر جانے کے بعد وہ مصیبت و صدمہ یاد آجائے اور وہ اس وقت انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ثواب ثابت کردیتا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ اسے وہی اجر وثواب عطا فرماتا ہے جو اس دن عطا کیا گیا تھا جب کہ وہ اس مصیبت و صدمہ سے دوچار ہوا تھا ( اور اس پر صبر کیا تھا)۔ (احمد، بیہقی)

1748Mishkaat-al-Masabih

استرجاع کی فضیلت

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا انقطع شسع أحدكم فليسترجع فإنه من المصائب . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کسی شخص کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اسے چاہئے کہ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھے کیونکہ یہ بھی ایک مصیبت ہی ہے تشریح غالباً جوتے کا تسمہ ٹوٹنے سے معمولی مصیبت و تکلیف سے مراد ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر کوئی معمولی درجہ کی بھی تکلیف و مصیبت پہنچے تو انا للہ پڑھنی چاہئے چناچہ ایک روایت میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ اچانک چراغ بجھ گیا تو آنحضرت ﷺ نے یہ آیت کریمہ پڑھی۔

1749Mishkaat-al-Masabih

نعمت پر شکر اور مصیبت پر صبر امت مرحومہ کا وصف عظیم

وعن أم الدرداء قالت : سمعت أبا الدرداء يقول : سمعت أبا القاسم صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله تبارك وتعالى قال : يا عيسى إني باعث من بعدك أمة إذا أصابهم ما يحبون حمدوا الله وإن أصابهم ما يكرهون احتسبوا وصبروا ولا حلم ولا عقل . فقال : يا رب كيف يكون هذا لهم ولا حلم ولا عقل ؟ قال : أعطيهم من حلمي وعلمي . رواهما البيهقي في شعب الإيمان

حضرت ام درداء ؓ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت ابودرداء ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضرت ابوالقاسم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا تھا کہ اے عیسیٰ میں تمہارے بعد ایک امت پیدا کروں گا جب انہیں کوئی پسندیدہ چیز یعنی نعمت و راحت ملے گی تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے اور جب کوئی ناپسندیدہ چیز یعنی تکلیف و مصیبت پہنچے گی تو ثواب کی امید رکھیں گے اور صبر کریں گے در آنحالیکہ نہ تو عقل ہوگی اور بردباری۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار! یہ کیوں کر ہوگا جب کہ نہ عقل ہوگی نہ بردباری! پروردگار نے فرمایا میں انہیں اپنی بردباری اور اپنے علم میں سے کچھ حصہ دے دوں گا۔ یہ دونوں روایتیں بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کی ہیں۔ تشریح یہاں امت سے نبی کریم ﷺ کے نیک و فرمانبردار اور صلحاء مراد ہیں اللہ تعالیٰ کے ارشاد نہ عقل ہوگی نہ بردباری کا مطلب یہ ہے کہ اس کے باوجود کہ مصبت و تکلیف کی وجہ سے بردباری و عقل جاتی رہے گی، لیکن مصیبت و تکلیف پر صبر کریں گے اور ثواب کے طلب گار ہوں گے یعنی بردباری اور عقل یہ دونوں ایسے وصف ہیں کہ ان کی وجہ سے انسان مصیبت و حادثہ کے وقت جزع و فزع اور بےصبری اختیار کرنے سے باز رہتا ہے اور یہ جان کر صبر و سکون کے دامن کو پکڑے رہتا ہے کہ نفع و نقصان اور تکلیف و راحت سب کچھ اللہ رب العزت ہی کی طرف سے ہے لہٰذا ان دونوں اوصاف کے نہ ہونے کے باوجود صبر و سکون کے دامن کو پکڑے رہنا قابل تعجب بات ہے؟ چناچہ اسی لئے حضرت عیسیٰ نے پوچھا کہ جب بردباری اور عقل ہی کا فقدان ہوگا تو پھر صبر کرنا کیسے ممکن؟ اور پھر ثواب کی امید کے کیا معنی؟ حضرت عیسیٰ کے اس اشکال اور ان کی اس حیرت کا جواب بارگاہ الوہیت سے یہ دیا گیا کہ ایسے مواقع پر امت مرحومہ کے افراد کی راہنمائی عقل و دانش اور حلم و بردباری کا وہ نور کرے گا جو کسبی نہیں ہوگا بلکہ میں اپنے پاس سے عقل و بردباری کی دولت بلا کسب عطا کروں گا جس کی وجہ سے بڑی بڑی مصیبت پر وہ صبر کریں گے اور ثواب کے امیدوار ہوں گے۔