میت پر رونے کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 29 · 45 hadiths · Page 1 of 3

1705Mishkaat-al-Masabih

میت پر رونے کا بیان

کسی عزیز و رشتہ دار اور دوست و متعلق شخص کی دائمی جدائی پر رنج و غم اور حسرت و افسوس کا ہونا ایک فطری بات ہے مرنے والا جتنا زیادہ قریب اور عزیز ہوگا۔ رنج و غم کی گھٹائیں اتنی ہی مہیب ہوں گی یہ ناممکن ہے کہ اپنے عزیز و متعلقین میں سے کسی کا انتقال ہوجائے اور دل روئے نہیں، آنکھیں آنسو بہائیں نہیں اور چہرہ رنج و الم اور حسرت و غم کی تصویر نہ بن جائے پھر اس فطری رنج و غم کا دوسرا رخ اظہار غم بھی ہے آنسو بہاتی آنکھیں اس کیفیت کا اظہار کرتی ہیں جو دل پر احساس جدائی کی سیاہ چادر تان دیتی ہے اور چہرہ رنج و غم کی برستی ہوئی گھٹا ان جذبات کی غمازی کرتی ہے جو رگ رگ میں دائمی فراق کی چنگاریاں بھر دیتے ہیں اسلام نے چونکہ زندگی کے ہر شعبہ میں اعتدال کی راہ دکھائی ہے اور پیغمبر اسلام نے کیا خوشی اور کیا غم ہر مرحلہ پر انسانی وقار اور رکھ رکھاؤ کا معیار برقرار رکھا ہے اس لئے کیسے ممکن تھا کہ انسانی برادری کے اس جذباتی و فطری نازک موڑ پر راہنمائی نہ کی جاتی لہٰذا یہاں یہ باب قائم کر کے یہ بتایا جا رہا ہے کہ اس مرحلہ پر آنحضرت ﷺ کی مقدس تعلیم اور آپ کا عمل کیا تھا؟

1706Mishkaat-al-Masabih

سے متعلق کچھ احکام ومسائل

کسی کے انتقال پر نوحہ اور چلائے بغیر رونا مکروہ نہیں ہے چلا کر اور نوحہ کے ساتھ رونا نیز میت کی زائد اور دوراز حقیقت تعریف توصیف بیان کرنا جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں مروج تھا مکروہ ہے البتہ میت کی واقعی اور حقیقی تعریف و توصیف بطور بیان کے ذکر کرنا مکروہ نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص مرجائے تو اس کے لواحقین سے اس کی تعزیت کرنی مستحب اور بڑی اچھی بات ہے اور تعزیت کا مفہوم یہ ہے کہ لواحقین کو صبر سکون کی تلقین کی جائے اور انہیں تسلی تشفی دی جائے۔ ایک سے زائد مرتبہ تعزیت نہ کی جائے انتقال کے تیسرے روز بطور خاص میت کے گھر جمع ہونا، کھانا پینا کرنا اور دوسری رسوم ادا کرنا کہ جسے ہماے یہاں تیجہ کہتے ہیں قطعی طور پر بدعت اور حرام ہے کیونکہ نہ صرف یہ کہ شریعت میں ان باتوں کی حقیقت نہیں ہے بلکہ میت کی وصیت کے بغیر اس کا مال خرچ کرنا یتیموں اور ورثاء کے مال میں تصرف کرنا جو بالکل ناجائز ہے۔ قاموس کے مصنف مجدد الدین نے سفر السعادۃ میں لکھا ہے کہ پہلے میت کے لئے صرف یہ طریقہ تھا کہ لوگ نماز جنازہ کے لئے جمع ہوتے تھے لہٰذا اب یہ طریقہ دن اور رات متعین کر کے اور غیر ضروری تکلفات کر کے قرآن خوانی اور ختم وغیرہ کے لئے قبر پر یا کسی دوسری جگہ لوگوں کو جمع کرنا بدعت ہے۔ تعزیت قبول کرنے کے لئے گھر میں یا مسجد میں بیٹھے رہنا جائز ہے۔ چناچہ منقول ہے کہ جب حضرت جعفر، حضرت زید اور حضرت ابن رواحہ ؓ کے بارے میں آنحضرت ﷺ کو یہ اطلاع ملی یہ تینوں حضرات غزوہ موت میں یکے بعد دیگرے شہید ہوگئے ہیں تو آپ انتہائی رنج و غم کے ساتھ مسجد نبوی میں بیٹھ گئے وہیں تعزیت کرنے والے آتے اور آپ سے تعزیت کر کے چلے جاتے ہاں متعین دنوں اور متعین تاریخوں میں تعزیت کا وہ طور طریقہ جو بعد میں رائج ہوگیا اس وقت نہیں تھا۔ بعد کے بہت سے علماء لکھتے ہیں کہ (دفن کے بعد) میت کے گھر تعزیت کے لئے بطور خاص جمع ہونا مکروہ ہے اور یہ بات تو سخت مکروہ ہے کہ میت کے اہل و عیال صرف اسی مقصد کے لئے گھر کے دروازے پر بیٹھ جائیں اور لوگ وہاں جمع ہو کر تعزیت کریں کیونکہ یہ زمانہ جاہلیت کا طریقہ ہے۔ اس بارے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب لوگ میت کو دفن کر چکیں تو منتشر ہوجائیں اور اپنے اپنے کام کاج میں لگ جائیں اسی طرح میت کے اہل و عیال کو چاہئے کہ وہ بھی اپنے اپنے کاروبار میں مشغول ہوجائیں۔ اسی طرح قبر کے چاروں طرف حلقہ باندھ کر قرآن خوانی مکروہ ہے۔ تعزیت کرنے کا وقت مرنے کے بعد صرف تین دن تک ہے تین دن کے بعد تعزیت کرنا مکروہ ہے ہاں اگر تعزیت کرنے والا یا غمزدہ موجود نہ ہو تو پھر اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جب بھی ملاقات ہو اسی وقت تعزیت ادا کی جائے۔ میت کو دفن کرنے کے بعد تعزیت کرنا دفن سے پہلے تعزیت کرنے سے اولیٰ ہے مگر یہ سلسلہ اس صورت میں ہے جب کہ میت کے اہل و عیال میں بہت زیادہ جزع فزع اور اظہار رنج و غم زیادہ شدید نہ ہو۔ اگر اہل و عیال زیادہ جزع و فزع میں مبتلا ہوں تو پھر دفن سے پہلے ہی تعزیت اولیٰ ہوگی۔ عمومی طور پر میت کے تمام اقا رب خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے، مرد ہوں یا عورت سب ہی سے تعزیت کرنا مستحب ہے ہاں اگر عورت جوان ہو تو اس سے تعزیت نہ کی جائے، البتہ اس عورت کے محرم اس سے بھی تعزیت کرسکتے ہیں۔

1707Mishkaat-al-Masabih

تعزیت کے وقت کیا الفاظ کہے جائیں

مستحب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اہل میت سے تعزیت کرے تو اس سے صبر و تسلی کے اس قسم کے الفاظ کہے اللہ تعالیٰ مرنے والے کو اپنی مغفرت و بخشش سے نوازے، اسی کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اس پر اپنی رحمت کا سایہ کرے، سانحہ ارتحال کے اس سخت حادثہ پر تم سب کو صبر کی توفیق عطا فرمائے اور تم سب کو اس رنج و مصیبت کے بدلہ میں ثواب عطا فرمائے۔ تعزیت کے لئے بہترین الفاظ وہی ہیں جو آنحضرت ﷺ ارشاد فرماتے تھے کہ ان للہ مااخذ ولہ ما اعطی وکل چیز عندہ باجل مسمی وہ چیز بھی اللہ ہی کی ملکیت ہے جو اس نے لے لی ہے اور وہ چیز بھی اسی کی ملکیت میں ہے جو اس نے دے رکھی ہے اور اس کے نزدیک ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے اگر کوئی غیر مسلم مرجائے اور اس کا قرابتی مسلمان ہو تو اس سے تعزیت اس طرح کی جائے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بہت زیادہ ثواب عطا فرمائے اور تمہیں بہترین صبر و سکون کی دولت سے نوازے اور اگر میت مسلمان ہو اور قرابتی غیر مسلمان تو اس سے اس طرح کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ مرنے والے کو بخشش و مغفرت سے نوازے اور تمہیں صبر و سکون عطا فرمائے۔ اور اگر میت اور قرابتی دونوں ہی غیر مسلم ہوں تو تعزیت ان الفاظ کے ذریعہ کی جائے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ عطا فرمائے اور تمہارے اہل و عیال میں کمی نہ فرمائے۔ احساس رنج وغم پر تین دن تک اپنے کاروبار چھوڑ کر گر میں بیٹھے رہنا اگرچہ جائز ہے لیکن اس کا ترک اولیٰ ہے۔ اظہار رنج وغم کے لئے مردوں کو سیاہ کپڑا پہننا، رنج و مصیبت کے وقت کپڑے پھاڑ ڈالنا، چاک گریباں ہوجانا یہ سب چیزیں ممنوع ہیں ہاں اگر عوتیں سیاہ کپڑے پہنیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ کسی کے انتقال پر حد سے زیادہ جزع وفزع کرنا اور خواہ مخواہ کے ہنگامے کرنا مثلاً منہ اور ہاتھوں کو کالا کرنا، چاک گریباں ہوجانا، منہ نوچنا، بالوں کو بکھیر ڈالنا، سر پر مٹی ڈالنا، راتوں کو پیٹنا، سینہ کو بی کرنا اور قبروں پر آگ روشن کرنا یہ سب باتیں زمانہ جاہلیت کی رسوم اور انتہائی غلط و باطل ہیں ان سے بچنا بہت ضروری ہے۔ جس گھر میں میت ہوجائے وہاں کھانا پکا کر بھیجنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن اسے اس طرح ضروری اور لازم جان لینا کہ خواہ اس کے لئے ادھا قرض ہی کیوں نہ کرنا پڑے انتہائی غلط بات ہے اسی طرح تیسری روز یعنی تیجہ میں لوگوں کو بطور خاص مدعو کرنا اور برادری والوں کو کھانا کھلانا بھی بڑی بری بات اور بےفائدہ چیز ہے۔ یہ بات بطور خاص یاد رکھیے کہ جو لوگ تیجہ کے نام پر جو کچھ خرافات اور اور واہیات حرکتیں کرتے ہیں وہ انتہائی گمراہی میں مبتلا ہیں مثلاً موت کے تیسرے دن اس طرح انتظامات کئے جاتے ہیں کہ شادی بیاہ میں بھی کیا انتظامات ہوتے ہوں گے لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے برادری والے جمع ہوتے ہیں فرش بچھتے ہیں، خیمے کھڑے کئے جاتے ہیں خوشبوئیں بانٹی جاتی ہیں یہ سب باتیں بدعت اور انتہائی گمراہ کن ہیں ان واہیات اور خرافات سے اجتناب ضروری ہے۔ نصاب میں لکھا ہے کہ جن جگہوں پر یہ رسم جاری ہے کہ مرد موت کے تیسرے دن خوشبو لگاتے ہیں وہ عورتوں کے ساتھ مشابہت میں مبتلا ہیں کیونکہ عورتیں تیسرے روز سوگ ختم کرنے کے لئے خوشبو لگاتی ہیں لہٰذا اس سے بھی پرہیز کرنا چاہئے لیکن یہ ممانعت خوشبولگانے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ اس طرح اس وقت عورتوں کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے اور شریعت نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا ہے۔ آداب تعزیت یہ ہیں کہ جب کوئی شخص میت کے گھر تعزیت کے لئے جائے تو وہاں اہل خانہ کو سلام کرے، مصافحہ کرے ان کے ساتھ انتہائی تواضع اور نرمی کے ساتھ بات چیت کرے، بےفائدہ اور زیادہ گفتگو نہ کرے بلکہ صرف تسلی اور اطمینان اور صبروسکون کے الفاظ کہے اور ہنسنے مسکرانے سے پرہیز کرے۔

1708Mishkaat-al-Masabih

صاحبزادے کی وفات پر آنحضرت ﷺ کا غم

عن أنس قال : دخلنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم على أبي سيف القين وكان ظئرا لإبراهيم فأخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم إبراهيم فقبله وشمه ثم دخلنا عليه بعد ذلك وإبراهيم يجود بنفسه فجعلت عينا رسول الله صلى الله عليه و سلم تذرفان . فقال له عبد الرحمن بن عوف : وأنت يا رسول الله ؟ فقال : يا ابن عوف إنها رحمة ثم أتبعها بأخرى فقال : إن العين تدمع والقلب يحزن ولا نقول إلا ما يرضي ربنا وإنا بفراقك يا إبراهيم لمحزونون

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) ہم رسول کریم ﷺ کے ہمراہ ابوسیف لوہار کے گھر گئے جو (آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے) حضرت ابراہیم کی دایہ کے شوہر تھے۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابراہیم کو (گود میں) لے کر بوسہ لیا اور سونگھا (یعنی اپنا منہ اور ناک ان کے منہ پر اس طرح رکھی جیسے کوئی خوشبو سونگھتا ہے) اس واقعہ کے کچھ دنوں کے بعد ہم پھر ابوسیف کے یہاں گئے جب کہ حضرت ابراہیم حالت نزع میں تھے چناچہ (ان کی حالت دیکھ کر) آنحضرت ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، حضرت عبدالرحمن بن عوف نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ رو رہے ہیں! آپ نے فرمایا اے ابن عوف (آنسو کا بہنا) رحمت ہے۔ اس کے بعد پھر آپ ﷺ کی مبارک آنکھیں آنسو بہانے لگیں آپ نے فرمایا آنکھیں آنسو بہا رہی اور دل غمگین ہے مگر اس کے باوجود ہماری زبانوں پر وہی الفاظ ہیں جن سے ہمارا پروردگار راضی رہے اے ابراہیم ہم تیری جدائی سے بیشک غمگین ہیں۔ تشریح ابوسیف کا نام براء تھا اور ان کی بیوی کا نام خولہ منذر تھا جو انصاریہ اور آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کی دایہ تھیں ان کا گھرانہ پیشہ کے لحاظ سے لوہا تھا۔ حضرت ابراہیم صرف سولہ سترہ مہینے کے تھے کہ انتقال کر گئے چناچہ اس حدیث میں ان کی حالت بیماری و نزع کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ ان کی دایہ کے گھر گئے اور انہیں گود میں لے کر پیار کیا اور جب ان کا آخری وقت دیکھا تو رونے لگے اسی وجہ سے حضرت عبدالرحمن نے عرض کیا کہ اس قسم کے رقت انگیز مواقع پر لوگ تو روتے ہی ہیں مگر آپ کی عظمت شان اور کمال معرفت سے یہ بعید ہے کہ آپ روئیں۔ اس کا جواب آنحضرت ﷺ نے یہ دیا کہ یہ رحمت ہے۔ یعنی میری آنکھیں بےصبری کی وجہ سے آنسو نہیں بہا رہی ہیں جیسا کہ تم سمجھ رہے ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بچہ کو اس حالت میں دیکھ کر جذبہ رحم امنڈ رہا ہے جو آنسوؤں کی شکل میں آنکھوں سے بہہ رہا ہے۔ دل غمگین ہے، میں اس طرح اشارہ ہے کہ جو شخص ایسے موقع پر بھی غمگین نہ ہو اور اس کا دل غم کی کسک محسوس نہ کرے اس کے سینہ میں دھڑکتا ہوا دل نہیں ہے بلکہ پتھر کا ایک ٹکڑا ہے جب کہ نظروں کے سامنے لخت جگر دم توڑ رہا ہو ایسے نازک موقع پر بھی آنکھیں آنسو نہ بہائیں تو یہ صبر و ضبط نہیں ہے بلکہ اس احساس محبت و مروت اور جذبہ ترحم کا فقدان ہے لہٰذا یہ حال یعنی غمگین ہونا اہل کمال کے نزدیک کامل تر ہے یہ بنسبت اس چیز کے کہ بچہ کی موت ہوجائے اور چہرہ پر بشاشت و اطمینان کی لہریں دوڑ رہی ہوں۔

1709Mishkaat-al-Masabih

نواسے کا انتقال پر آنحضرت ﷺ کے آنسو

وعن أسامة بن زيد قال : أرسلت ابنة النبي صلى الله عليه و سلم إليه : أن ابنا لي قبض فأتنا . فأرسل يقرئ السلام ويقول : إن لله ما أخذ وله ما أعطى وكل عنده بأجل مسمى فلتصبر ولتحتسب . فأرسلت إليه تقسم عليه ليأتينها فقام ومعه سعد بن عبادة ومعاذ بن جبل وأبي بن كعب وزيد ابن ثابت ورجال فرفع إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم الصبي ونفسه تتقعقع ففاضت عيناه . فقال سعد : يا رسول الله ما هذا ؟ فقال : هذه رحمة جعلها الله في قلوب عباده . فإنما يرحم الله من عباده الرحماء

حضرت اسامہ بن زید ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی (حضرت زینب) نے آپ ﷺ کے پاس کسی کے ذریعہ سے یہ پیغام بھیجا کہ میرا بیٹا دم توڑ رہا ہے اس لئے (فورا) آپ ﷺ میرے پاس تشریف لے آئیے۔ آنحضرت ﷺ نے (اس کے جواب میں) سلام کے بعد کہ کہلا بھیجا کہ جو چیز (یعنی اولاد وغیرہ) اللہ نے لے لی وہ بھی اسی کی تھی اور جو چیز اس نے دے رکھی ہے وہ بھی اسی کی ہے (لہٰذا ان کے اٹھ جانے پر جزع و فزع نہ کرنا چاہئے کیونکہ چاہئے کیونکہ اس کی امانت تھی جسے اس نے واپس لے لیا) اور اس (خدا) کے نزدیک ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے (یعنی تمہارے بیٹھے کی زندگی اتنے ہی دنوں کے لئے لکھی گئی تھی جتنے دن کہ وہ زندہ رہا۔ بس تمہیں صبر کرنا اور اللہ سے ثواب کا طلب گار رہنا چاہے۔ حضرت زینب نے دوبارہ آدمی بھیجا اور (اس مرتبہ) انہوں نے آنحضرت ﷺ کو قسم دی کہ ضرور ہی تشریف لائیے چناچہ آپ ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے حضرت سعد بن عبادہ حضرت معاذ بن جبل حضرت ابی بن کعب حضرت زید بن ثابت اور صحابہ میں سے دوسرے لوگ آپ کے ساتھ ہو لئے جب آپ صاحبزادی کے ہاں پہچے تو بچہ آپ کی گود میں دے دیا گیا جو جان کنی کی حالت میں تھا اسے دیکھ کر آنحضرت ﷺ کی آنکھیں آنسو بہانے لگیں حضرت سعد نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ کیا ہے آپ نے فرمایا کہ یہ رحمت ہے جسے اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا فرمایا ہے اچھی طرح سن لو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے صرف انہیں لوگوں پر رحمت یعنی مہربانی کرتا ہے جو جذبہ ترحم رکھنے والے ہیں۔ (بخاری) تشریح حضرت سعد نے چونکہ یہ گمان کیا کہ رونے کی تمام اقسام حرام و مکروہ ہیں اور آنحضرت ﷺ اس وقت سہوا رو رہے ہیں اس لئے آنحضرت ﷺ نے انہیں آگاہ کیا کہ رونے کی تمام اقسام حرام و مکروہ نہیں ہے بلکہ اس طرح رونا تو اس جذبہ ترحم کی علامت ہے جو دل میں امنڈ رہا ہوتا ہے ہاں نوحہ کے ساتھ رونا، چاک گریبان ہونا اور سینہ پیٹنا البتہ حرام و ممنوع ہے۔

1710Mishkaat-al-Masabih

باآواز بلند رونا برا ہے

وعن عبد الله بن عمر قال : اشتكى سعد بن عبادة شكوى له فأتاه النبي صلى الله عليه و سلم يعوده مع عبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص وعبد الله بن مسعود فلما دخل عليه وجده في غاشية فقال : ( قد قضى ؟ قالوا : لا يا رسول الله فبكى النبي صلى الله عليه و سلم فلما رأى القوم بكاء النبي صلى الله عليه و سلم بكوا فقال : ألا تسمعون ؟ إن الله لا يعذب بدمع العين ولا بحزن القلب ولكن يعذب بهذا وأشار إلى لسانه أو يرحم وإن الميت لعيذب ببكاء أهله

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبداللہ بن مسعود بھی آپ کے ساتھ تھے، جب آپ ﷺ ان کے پاس پہنچے تو انہیں بےہوشی کی حالت پایا آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا ان کا انتقال ہوگیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! نہیں۔ آپ ﷺ (سعد کی حالت دیکھ) رونے لگے جب صحابہ نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی رونے لگے پھر آپ نے فرمایا۔ اچھی طرح سن لو! کہ اللہ تعالیٰ آنکھوں کے آنسو بہانے اور دل کے غمگین ہونے پر عذاب نہیں کرتا آپ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا البتہ اللہ اس کی وجہ سے عذاب بھی کرتا ہے اور رحم بھی یعنی اگر کسی حادثہ و مصیبت کے وقت زبان سے ناشکری کے یا بارگاہ الوہیت میں بےادبی کے الفاظ نکلیں یا نوحہ کر کے رویا جائے تو یہ مستحق عذاب ہے اور اگر ایسے موقع پر زبان حمد و شکر میں مشغول رہے اور انا للہ پڑھا جائے تو مستحق رحمت وثواب ہے نیز مردہ کو اپنے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر مردہ کے اہل و عیال اور اس کے گھر والے باآواز بلند یعنی پکار پکار روتے ہیں یا نوحہ کرتے ہیں تو اس مردہ کو عذاب ہوتا ہے، اس مسئلہ کی تحقیق تیسری فصل میں آئے گی انشاء اللہ۔

1711Mishkaat-al-Masabih

باآواز بلند رونا برا ہے

وعن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص ہمارے راستے پر چلنے والوں میں سے نہیں ہے جو رخساروں کو پیٹے، گریبان چاک کرے اور ایام جاہلیت کی طرح آواز بلند کرے (یعنی رونے کے وقت زبان سے ایسے الفاظ اور ایسی آواز نکالے جو شرعا ممنوع ہے جیسے نوحہ یا واویلا کرنا وغیرہ وغیرہ۔ (بخاری ومسلم) تشریح یہاں رخساروں کو پیٹنے اور گریبان چاک کرنے والے کے لئے جو وعید فرمائی جا رہی ہے یہی وعید اس شخص کے لئے بھی ہے جو سر سے پگڑی و ٹوپی اتار پھینکے یا سر اور داڑھی کے بال نوچنے لگے کیونکہ ان سب چیزوں کا ایک ہی حکم ہے۔

1712Mishkaat-al-Masabih

باآواز بلند رونا برا ہے

وعن أبي بردة قال : أغمي على أبي موسى فأقبلت امرأته أم عبد الله تصيح برنة ثم أفاق فقال : ألم تعلمي ؟ وكان يحدثها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أنا بريء ممن حلق وصلق وخرق . ولفظه لمسلم

حضرت ابی بردہ کہتے ہیں (ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ بےہوش ہوگئے تو ان کی عورت ام عبداللہ چلا چلا کر رونے لگی جب حضرت ابوموسیٰ کو ہوش آیا تو انہوں نے کہا کہ کیا تمہیں نہیں معلوم؟ کہ چلا چلا کر رونا کتنا برا ہے چناچہ راوی کہتے ہیں کہ پھر ابوموسیٰ ان سے یہ حدیث بیان کرنے لگے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں اس شخص سے بیزار ہوں جو مصیبت و حادثہ کے وقت سر کے بال منڈائے چلاچلا کر روئے اور اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے۔ (بخار ومسلم) حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔ تشریح زمانہ جاہلیت میں اس قسم کے افعال عورتوں سے سرزد ہوتے تھے لہٰذا مسلمانوں کو ان باتوں سے اچھی طرح پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ رسول کریم ﷺ ایسے شخص سے بیزار ہوتے ہیں جو ان غلط اور باطل چیزوں میں مبتلا ہوتا ہے۔

1713Mishkaat-al-Masabih

نوحہ کی برائی

وعن أبي مالك الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أربع في أمتي من أمر الجاهلية لا يتركونهن : الفخر في الأحساب والطعن في الأنساب والاستسقاء بالنجوم والنياحة . وقال : النائحة إذا لم تتب قبل موتها تقام يوم القيامة وعليها سربال من قطران ودرع من جرب . رواه مسلم

حضرت ابومالک اشعری ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار باتیں ایسی ہیں جنہیں میرے امت کے (کچھ) لوگ نہیں چھوڑیں گے۔ (١) حسب پر فخر کرنا، (٢) نسب پر طعن کرنا (٣) ستاروں کے ذریعہ پانی مانگنا (٤) نوحہ کرنا، نیز آپ ﷺ نے فرمایا نوحہ کرنے والی عورت نے اگر مرنے سے پہلے توبہ نہیں کی تو وہ قیامت کے دن اس حال میں کھڑی کی جائے گی کہ اس کے جسم پر قطران اور خارش کا کرتا ہوگا۔ (مسلم) تشریح حسب ان خصلتوں کو کہتے ہیں جو اگر کسی مسلمان کے اندر موجود ہوں تو وہ ان کی موجودگی کی وجہ سے اپنے کو بہتر و اچھا سمجھتا ہے جیسے شجاعت و بہادری اور فصاحت وغیرہ۔ نسب پر طعن کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے نسب میں اس طرح عیب جوئی کی جائے کہ فلاں شخص کا باپ برا تھا اور فلاں شخص کا دادا کمتر تھا۔ چونکہ حسب پر فخر کرنے اور نسب پر طعن کرنے کی وجہ سے اپنی تعظیم و بڑائی اور دوسرے لوگوں کی حقارت لازم آتی ہے اس لئے یہ دونوں چیزیں ہی مذموم ہیں ہاں اسلام و کفر کے امتیاز کی بناء پر ان دونوں میں کوئی مضائقہ نہیں ہے یعنی اگر کوئی مسلمان اپنے ایمان و اسلام کی وجہ سے اپنے آپ کو بزرگ اور بڑا جانے اور کسی کافر کو اس کے کفر کی وجہ سے حقیر و کمتر سمجھے تو یہ جائز ہے۔ ستاروں کے ذریعہ پانی مانگنے سے مراد یہ ہے کہ ستاروں کی تاثیر پر بارش کی امید رکھنا یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ اگر فلاں ستارہ منزل میں داخل ہوجائے تو بارش ہوگی۔ اس بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ اعتقاد رکھنا کہ فلاں ستارے کے فلاں منزل میں داخل ہونے کی وجہ سے بارش ہوگی، حرام ہے بلکہ جب بارش ہو تو یہ کہنا واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں بارش سے سیراب کیا ہے۔ نوحہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مرجائے تو اس پر واویلا کیا جائے اور میت کی اچھی خصلتیں رو رو کر اس طرح بیان کی جائے کہ ہائے وہ کتنا بہادر تھا، ہائے وہ ایسا تھا ہائے وہ ویسا تھا۔ قطران کو لتار کی مانند ایک دوا کا نام ہے جو سیاہ اور بدبو دار ہوتی ہے اور ابہل درخت سے کہ جو ہوبر بھی کہا جاتا ہے نکلتی ہے اس اونٹ کے جسم پر ملتے ہیں جسے خارش ہوجاتی ہے چونکہ اس کے اندر حرارت اور گرمی زیادہ ہوتی ہے اس لئے اونٹ کی خارش کو جلا دیتی ہے اس کا ایک خاص اثر یہ بھی ہے کہ آگ کا اثر بہت جلد قبول کرتی ہے اور جلدی ہی بھڑک اٹھتی ہے۔ ارشاد گرامی کے اس آخری جملہ کا مطلب یہ ہوا کہ نوحہ کرنے والی عورت اپنے برے فعل سے توبہ کئے بغیر مرگئی تو قیامت کے روز اس کے جسم پر خارش مسلمط کی جائے گی پھر اس پر قطران ملی جائے گی تاکہ اس کی خارش میں اور زیادہ سوزش وجلن پیدا ہو اور وہ زیادہ ایذاء پائے۔

1714Mishkaat-al-Masabih

نوحہ کی برائی

وعن أنس قال : مر النبي صلى الله عليه و سلم بامرأة تبكي عند قبر فقال : اتقي الله واصبري قالت : إليك عني فأنك لم تصب بمصيبتي ولم تعرفه فقيل لها : إنه النبي صلى الله عليه و سلم . فأتت باب النبي صلى الله عليه و سلم فلم تجد عنده بوابين فقالت : لم أعرفك . فقال : إنما الصبر عند الصدمة الأولى

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) نبی کریم ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر کے قریب چلا چلا کر رو رہی تھی آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے عذاب سے ڈرو! یعنی نوحہ نہ کرو ورنہ عذاب میں مبتلا کی جاؤ گی۔ اور صبر کرو! اس عورت نے آنحضرت ﷺ کو پہچانا نہیں آپ کا ارشاد سن کر کہنے لگی کہ میرے پاس سے دور ہٹو، تم میرا غم کیا جانو کیونکہ تم میری مصیبت میں گرفتار نہیں ہوئے ہو۔ (جب آنحضرت ﷺ وہاں سے چلے آئے) تو اسے بتایا گیا کہ یہ نبی کریم ﷺ تھے (پھر کیا تھا) وہ (بھاگی ہوئی) آنحضرت ﷺ کے دردولت پر حاضر ہوئی اسے دروازہ پر کوئی دربان و پہرہ دار نہیں ملا (جیسا کہ بادشاہوں اور امیروں کے دروازوں پر دربان و پہرہ دار ہوتے ہیں (پھر اس نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ میری گستاخی معاف فرمائیے) میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ صبر تو وہی کہلائے گا جو ابتداء مصیبت میں ہو۔ (بخاری ومسلم) تشریح کتنا سچ اور مبنی برحقیقت ہے کہ جو بات کہی جا رہی ہے اسے دیکھو نہ دیکھو کہ بات کہنے والا کون ہے؟ اس قول پر عمل نہ صرف یہ کہ سچائی اور نیکی کی راہیں روشن کرتا چلا جاتا ہے بلکہ بسا اوقات خجالت و شرمندی سے بچاتا بھی ہے۔ اسی واقعہ پر نظر ڈالیے ایک عورت ایک غلط کام کر رہی ہے۔ آنحضرت ﷺ اسے نیکی و بھلائی کے راستہ پر لگانے کے لئے کچ ارشاد فرما رہے ہیں وہ عورت اتفاق سے آپ کو پہچانتی نہیں نہ صرف یہ کہ وہ آپ ﷺ کے ارشاد سے اعراض کرتی ہے بلکہ ایک غلط جواب بھی دیتی ہے جب بعد میں اسے معلوم ہوتا ہے کہ مجھ سے وہ قیمتی بات کہنے والا کوئی ایرا خیرا نہیں تھا بلکہ خود رسالت مآب ﷺ کی ذات گرامی تھی تو اب اسے احساس ہوتا ہے کہ واقعی میں غلطی میں مبتلا تھی پشیمان ہو کر بھاگی ہو در رسالت پر حاضر ہوتی ہے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرتی ہے۔ اب دیکھیے اگر وہ اس عارفانہ قول کے مطابق آنحضرت ﷺ کو پہچانے بغیر آپ کے ارشاد گرامی کے سامنے سر اطاعت خم کردیتی تو نہ صرف یہ کہ نیکی و بھلائی کے راستہ کو اسی وقت پا لیتی بلکہ بعد کی خجالت و شرمندگی سے بھی بچ جاتی۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ کامل اور پسندیدہ صبر کہ جس پر ثواب ملتا ہے وہی ہوتا ہے جو ایذاء و مصیبت میں کیا جائے ورنہ آخر میں تو خود بخود صبر آجاتا ہے بعد میں کسی نے صبر کیا تو کیا صبر کیا؟۔

1715Mishkaat-al-Masabih

نوحہ کرنا حرام ہے

مذکورہ بالا حدیثوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ نوحہ کرنا اور میت کی عمدہ خصلتوں کو رو رو کر بیان کرنا نیز چلا کر رونا، رخساروں کو پینا، گریبان پھاڑنا، بالوں کو بکھیرنا، مونڈنا اور نوچنا، منہ کالا کرنا، سر پر مٹی ڈالنا اور ایسی تمام چیزیں جو بےصبری پر دلالت کریں حرام ہیں۔

1716Mishkaat-al-Masabih

جس مسلمان کے تین بچے مرجائیں وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يموت لمسلم ثلاث من الولد فيلج النار إلا تحلة القسم

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے اللہ کو پیارے ہوجائیں وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا ہاں قسم پوری کرنے کے لئے کیا جائے گا۔ (بخاری ومسلم) تشریح حدیث کے آخری جملہ ہاں قسم پوری کرنے کے لئے جائے گا سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد آیت (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا) 19۔ مریم 71) کی طرف اشارہ ہے گویا اصل میں یہ آیت یوں ہے آیت (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا) 19۔ مریم 71) یعنی اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو دوزخ میں داخل نہ ہو اگرچہ وہ بجلی یا ہوا کی طرح ایک ہی لمحہ کے لئے کیوں نہ داخل ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ کے اوپر پل صراط قائم کیا جائے گا ظاہر ہے کہ اس کے اوپر سے ہر شخص گزرے گا خواہ وہ مسلمان کافر اور خواہ نیک ہو یا بد فرق صرف اتنا ہوگا کہ جو بدکار ہوں گے وہ اس کے ذریعہ ایذاء پائیں گے بایں طور کہ وہ پل صراط کے اوپر سے دوزخ میں گرپڑیں گے اور نیکوکار کوئی ایذاء نہیں پائی گے بایں طور کے وہ اس کے اوپر سے گزر کر جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ لہٰذا آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جس مسلمان کے تین بچے مرجائیں گے وہ دوزخ میں داخل کیا جائے ہاں صرف اتنے لمحہ کے لئے تو اس کا دوزخ تک جانا ممکن ہے کہ اللہ کی قسم پوری ہوجائے اور وہ مختصر لمحہ بھی صرف پل صراط کے اوپر سے گزرنے کا وقفہ ہے یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دوزخ کے اندر داخل کیا جائے گا اور عذاب پائے گا بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ کسی قسم کا عذاب نہیں پائے گا اور صرف پل صراط کے اوپر سے گزر جانا ہے اس آیت میں مذکور دخول دوزخ کا مصداق اور باری تعالیٰ کی قسم کے سچ اور پوری ہونے کے لئے کافی ہوگا۔ اہل عرف اپنی روزہ مرہ کی بول چال میں کہا کرتے ہیں کہ میں نے یہ کام اپنی قسم پوری کرنے کے لئے کیا یعنی اس کام کو صرف اس قدر کیا کہ اس کی وجہ سے قسم پوری ہوجائے اور ظاہر ہے کہ اس کے لئے اس کام کا ادنیٰ ترین حصہ جو ایک قلیل ترین لمحہ میں گزر جائے کافی ہے۔

1717Mishkaat-al-Masabih

جس مسلمان کے تین بچے مرجائیں وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لنسوة من الأنصار : لا يموت لإحداكن ثلاثة من الولد فتحتسبه إلا دخلت الجنة . فقال امرأة منهن : أو اثنان يا رسول الله ؟ قال : أو اثنان . رواه مسلم وفي رواية لهما : ثلاثة لم يبلغوا الحنث

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے کتنی ہی انصاری عورتوں سے فرمایا تم میں سے جس عورت کے بھی تین بچے مرجائیں اور وہ عورت ثواب کی طلبگار ہو تو وہ جنت میں داخل کی جائے گی۔ یہ سن کر ان میں سے ایک عورت نے عرض کیا کہ یا دو بچے مرجائیں یعنی اس بشارت کو تین کے ساتھ خاص نہ کیجئے بلکہ یہ فرمائیے کہ تین مرجائیں یا دو مریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا (ہاں) دو بچے بھی مرجائیں تو یہ بشارت ہے (مسلم بخاری و مسلم دونوں کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ایسے تین بچے مریں جو حد بلوغ کو نہ پہنچے ہوئے ہوں (تو یہ بشارت ہے) تشریح ثواب کی طلبگار ہو۔ کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی عورت کے تین بچوں کو اپنے پاس بلا لے تو وہ ان کے مرجانے پر نوحہ اور جزع فزع نہ کرے بلکہ صبر و شکر کا دامن پکڑے رہے اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر اللہ کی مرضی اور اس کی مصلحت کے آگے سر جھکا دے تو وہ بہشت میں داخل کی جائے گی۔ اب اس بارے میں دونوں ہی احتمال ہیں کہ یا تو اسے ابتداء ہی میں بغیر عذاب میں مبتلا کئے ہوئے جنت میں داخل کردیا جائے گا یا پھر یہ کہ ان بچوں کی سفارش و شفاعت کے بعد اسے جنت کی سعادت سے نوازا جائے گا۔ عورت کے عرض کرنے پر آنحضرت ﷺ کے ارشاد یا دو بچے مریں کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ جب آپ نے تین بچوں کے بارے میں ارشاد فرمایا تو عورتوں نے تین کی تخصیص کو ختم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو بارگاہ صمدیت کی طرف سے آنحضرت ﷺ کی توجہ کے اثر سے رحمت الٰہی نے اس خواہش کو قبول فرما کر فورا ہی بذریعہ وحی مطلع کردیا کہ اگر دو بچے بھی مرجائیں تب بھی یہ سعادت حاصل ہوگی یا پھر یہ کہ آنحضرت ﷺ نے اس بارے میں بطور خاص دعا مانگی اور حق تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا قبول ہوگئی چناچہ آپ ﷺ نے عورتوں کو وہ بشارت بھی سنا دی۔ دوسری روایت میں غیر بالغ کی قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ چھوٹے بچوں سے عورتوں کو بہت زیادہ محبت ہوتی ہے بڑے بچوں کی بہ نسبت چھوٹے بچے اپنی ماں سے زیادہ قریب اور محبوب ہوتے ہیں اس لئے ان کے مرنے سے طبعی طور پر عورت کو بہت زیادہ رنج و غم ہوتا ہے۔

1718Mishkaat-al-Masabih

عزیز ومحبوب کی موت پر صبر کی جزاء جنت ہے

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقول الله : ما لعبدي المؤمن عندي جزاء إذا قبضت صفيه من أهل الدنيا ثم احتسبه إلا الجنة . رواه البخاري

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میں اپنے کسی بندہ کے عزیز و محبوب کو جو اہل دنیا سے اٹھا لیتا ہوں اور وہ بندہ اس پر ثواب کا طلبگار ہوتا ہے (یعنی صبر کرتا ہے) تو میرے پاس اس کے لئے جنت سے بہتر کوئی جزاء نہیں ہے۔ (بخاری) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص کا اہل دنیا میں سے کوئی عزیز محبوب جیسے اولاد باپ ماں یا ان کے علاوہ کوئی بھی ایسا شخص جسے وہ عزیز و محبوب رکھتا تھا انتقال کر جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو اس کے اس صبر کی بناء پر اللہ تعالیٰ اسے جنت عطا فرمائے گا۔ اہل دنیا، کی قید سے معلوم ہوا کہ اگر اہل آخرت میں سے کوئی عزیز و محبوب مرجائے اور اس پر صبر کیا جائے تو اس سے بھی بڑی سعادت ملتی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوگا اور کسی بندہ سے اللہ تعالیٰ کا راضی ہوجانا اس کے حق میں دنیا و آخرت کی سب سے بڑی سعادت اور سب سے بڑی فضیلت ہے۔

1719Mishkaat-al-Masabih

نوحہ کرنے اور نوحہ سننے پر آنحضرت ﷺ کی لعنت

عن أبي سعيد الخدري قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم النائحة والمستمعة . رواه أبو داود

حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے نوحہ کرنے والی عورت اور نوحہ سننے والی عورت دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (ابو داؤد) تشریح نوحہ کرنے والی عورت سے مراد وہ عورت ہے جو میت کے عمدہ خصلتوں کو رو رو کر بیان کرے بعض حضرات فرماتے ہیں کہ میت پر آواز کے ساتھ یعنی چلا چلا کر رونے کو نوحہ کہتے ہیں نوحہ سننے والی عورت سے وہ عورت مراد ہے جو نوحہ کرنے والی عورت کے پاس بیٹھ کر قصدا اس کا نوحہ سنے اور اس کے نوحہ کو پسند کرے۔

1720Mishkaat-al-Masabih

مومن مصیب وراحت ہر مرحلہ پر صابر وشاکر رہتا ہے

وعن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عجب للمؤمن : إن أصابه خير حمد الله وشكر وإن أصابته مصيبة حمد الله وصبر فالمؤمن يؤجر في كل أمره حتى في اللقمة يرفعها إلى في امرأته . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مومن (کامل) کا عجب حال ہے اگر اسے راحت و بھلائی پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکر ادا کرتا ہے اور اگر اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو جب بھی وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہے اور صبر کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ لہٰذا مومن کو اس کے ہر کام میں ثواب ملتا ہے یہاں تک کہ وہ جو لقمہ اٹھا کر اپنی بیوی کے منہ میں دیتا ہے (اس پر بھی ثواب ملتا ہے) (بیہقی) تشریح اس حدیث کے ذریعہ مومن کی فضیلت اور اس کے امتیاز کو بطور فخر بیان کیا جا رہا ہے کہ وہ زندگی کے ہر مرحلہ پر خدائے واحد کا سپاس و شکر گزار رہتا ہے اگر اسے کوئی نعمت و راحت حاصل ہوتی ہے تو اللہ کی تعریف کرتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے اور اگر اسے کوئی مصیبت و تکلیف اپنے بازؤوں میں جکڑ لیتی ہے تو اس وقت بھی اس کی زبان حال و قال سے اللہ کا شکر ہی ادا ہوتا ہے اور اس کی تعریف و بڑائی بیان کر کے وہ اپنی عبودیت کا اظہار کرتا ہے چناچہ اسی لئے اللہ نے بھی مومن کو یہ سعادت عطا فرمائی ہے کہ اس کے ہر مباح کام پر ثواب عطا فرماتا ہے بشرطیکہ اگر وہ خیر و بھلائی اور ثواب کی نیت کے ساتھ وہ کام کرے یعنی مومن کوئی بھی مباح کام کرے اگر اس کی نیت بخیر ہوگئی تو اسے اس کام پر ثواب دیا جائے مثال کے طور پر یہاں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ دے اور لقمہ دیتے وقت اس کی یہ نیت ہو کہ اپنے اس حق کی ادائیگی کے لئے جو میرے ذمہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی خاطر بیوی کے منہ میں لقمہ دے رہا ہوں تو اس کا یہ معمولی سا مباح کام اس کے حق میں ثواب کے اعتبار سے ایک عظیم سعادت بن جاے گا۔

1721Mishkaat-al-Masabih

مومن کی موت پر زمین و آسمان روتے ہیں

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مؤمن إلا وله بابان : باب يصعد منه علمه وباب ينزل منه رزقه . فإذا مات بكيا عليه فذلك قوله تعالى : ( فما بكت عليهم السماء والأرض ) رواه الترمذي

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر مسلمان کے لئے دو دروازے ہیں ایک دروازہ تو وہ ہے جس سے اس کے نیک اعمال اوپر آجاتے ہیں اور دوسرا دروازہ وہ ہے جس سے اس کا رزق اترتا ہے چناچہ جب کوئی مومن مرتا ہے تو اس کے دونوں دروازے روتے ہیں اس بات کو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے سمجھا جاسکتا ہے کہ آیت (فما بکت علیہم السماء والارض) یعنی (کافروں) کے لئے کہ آسمان رویا نہ زمین روئی (ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ ایک دروازہ تو وہ ہوتا ہے جس کے ذریعہ مومن کے نیک اعمال جو زمین پر اس کے نامہ اعمال میں لکھے جا چکے ہیں آسمان پر جاتے ہیں اور پھر وہاں اعمال لکھنے کی وجہ دوبارہ اعمال نامہ میں لکھے جاتے ہیں، دوسرا دروازہ وہ ہوتا ہے جس کے ذریعہ رزق زمین پر اترتا ہے اور جس کے مقدر میں جتنا ہوتا ہے اتنا پہنچتا ہے۔ لہٰذا جب کوئی مومن مرتا ہے تو دونوں دروازے روتے ہیں کیونکہ ایک دروازہ سے تو نیک اعمال اوپر جاتے تھے اور دوسرے دروازہ سے رزق اترتا تھا کہ جو نیک اعمال کے لئے معاون ہوتا ہے اس طرح دونوں دروازے مومن کے انتقال سے اس سعادت سے محروم ہوجاتے ہیں اور اپنی اس محرومی پر روتے ہیں۔ اس بات کو اس آیت کریمہ سے سمھایا گیا ہے بایں طور کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے حق میں فرمایا ہے کہ ان کے لئے نہ تو آسمان رویا نہ زمین روتی ہے۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ مومن کے لئے آسمان بھی روتا ہے اور زمین بھی روتی ہے۔

1722Mishkaat-al-Masabih

مرجانے والی چھوٹی اولاد ذخیرآخرت ہوتی ہے

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان له فرطان من متي أدخله الله بهما الجنة . فقالت عائشة : فمن كان له فرط من أمتك ؟ قال : ومن كان له فرط يا موفقة . فقالت : فمن لم يكن له فرط من أمتك ؟ قال : فأنا فرط أمتي لن يصابوا بمثلي . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے جس شخص کے دو بچے بالغ ہونے سے پہلے مرگئے اللہ تعالیٰ اسے ان دونوں بچوں کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا (یہ سن کر حضرت عائشہ نے پوچھا کہ اور آپ کی امت میں سے جس شخص کا ایک ہی بچہ مرا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا اے موفقہ! جس شخص کا ایک بچہ مرا ہو اس کے لئے بھی یہ بشارت ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے پھر پوچھا کہ آپ ﷺ کی امت میں اگر جس شخص کا ایک بچہ بھی نہ مرا ہو؟ تو اس کے لئے کیا بشارت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا پھر میں تو اپنی امت کا میر منزل ہوں ہی کیونکہ میری (وفات کی) مصیبت جیسی کسی اور مصیبت سے دوچار نہ ہوئے ہوں گے۔ (ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح فرط اس شخص کو کہتے ہیں جو قافلہ سے پہلے منزل پر پہنچ کر اہل قافلہ کے لئے سامان خوردونوش تیار کرتا ہے یہاں اس حدیث میں مذکور فرط سے مراد وہ بچہ ہے جو بالغ ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کو پیارا ہوجائے ایسے بچہ کو فرط اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آخرت میں پہلے پہنچ کر اپنے والدین کے لئے جنت کی نعمتوں کا انتظام کرتا ہے یعنی وہ اپنے ماں باپ کو اللہ رب العزت سے سفارش و شفاعت کر کے جنت میں لے جائے گا۔ ہاں حدیث کے آخری جملہ فانا فرط امتی الخ میں فرط سے فوت شدہ نابالغ بچے مراد نہیں ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اس موقع پر حضرت عائشہ صدیقہ کو کمال تعلق اور ان کی ذات خصوصیت نیز ان کے اوصاف فضائل کی بنا پر موفقہ کہہ کر مخاطب کیا جو مجموعہ فضل و کمال لقب ہے اس کے معنیٰ ہیں کہ اے عائشہ کہ جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر و بھلائی اور اچھی باتوں کے پوچھنے کی توفیق عطا کی گئی ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنی امت کے میر منزل ہوں بایں طور کہ میں ان سے پہلے آخرت میں پہنچ کر شفاعت کروں گا اور ان کو جنت میں لے جاؤں گا کیونکہ ثواب مصیبت اور مشقت کے بقدر ہوتا ہے یعنی مصیبت و مشقت جتنی سخت و شدید ہوتی ہے اتنا ہی ثواب زیادہ ملتا ہے لہٰذا اس دنیا سے میرا اٹھ جانا اس کے لئے اتنی بڑی مصیبت اور اتنا بڑاحادثہ ہے کہ اور کوئی مصیبت نہیں ہوسکتی، لہٰذا میرے بعد میری امت کا ہر فرد حقیقۃً اور حکماً اس حادثہ و مصیبت سے دوچار ہوگا اس لئے جن لوگوں کی چھوٹی اولاد فوت ہو کر ان کے لئے ذخیرہ آخر نہ بھی ہوئی ہوگی تو میرے وصال کا یہ حادثہ ہی ان کے لئے مذکورہ بالا سعادت و بشارت کے طور پر کافی ہوگا۔

1723Mishkaat-al-Masabih

اولاد کے انتقال پر صبر وشکر کا اجر

وعن أبي موسى اشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا مات ولد العبد قال الله تعالى لملائكته : قبضتم ولد عبدي ؟ فيقولون : نعم . فيقول : قبضتم ثمرة فؤاده ؟ فيقولون : نعم . فيقول : ماذا قال عبدي ؟ فيقولون : حمدك واسترجع . فيقول الله : ابنوا لعبدي بيتا في الجنة وسموه بيت الحمد . رواه أحمد والترمذي

حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کسی مومن بندے کا کوئی بچہ مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں یعنی ملک الموت اور اس کے معاون فرشتوں سے فرماتا ہے کہ تم نے میرے بندہ کے بچہ کی روح قبض کی ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ ہاں! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا وہ عرض کرتے ہیں کہ جی ہاں! پھر اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے اس حادثہ پر میرے بندہ نے کیا کہا؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ اس نے تیری تعریف کی اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے کے لئے جنت میں ایک بڑا گھر بنادو اور اس کا نام بیت الحمد رکھ دیا جاتا ہے۔ اس گھر کا نام بیت الحمد اس لئے ہوتا ہے کہ وہ مصیبت و حادثہ میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا تسلیم وانقیاد کے بدلہ میں دیا جاتا ہے اس مناسب سے اس کا نام بیت الحمد (یعنی حمد و ثنا کا مکان) ہے۔

1724Mishkaat-al-Masabih

مصیبت زدہ کو تسلی دینے والے کا ثواب

وعن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من عزى مصابا فله مثل أجره . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث غريب لا نعرفه مرفوعا إلا من حديث علي بن عاصم الراوي وقال : ورواه بعضهم عن محمد بن سوقة بهذا الإسناد موقوفا

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی مصیبت زدہ کو تسلی دیتا ہے تو اسے بھی مصیبت زدہ کے بقدر ثواب دیا جاتا ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ) ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے ہم اس روایت کو علی بن عاصم کے علاوہ کسی دوسرے ذریعہ سے مرفوع نہیں پاتے نیز امام ترمذی یہ بھی فرماتے ہیں کہ بعض محدثین نے اس روایت کو محمد بن سوقہ سے اسی سند کے ساتھ ابن مسعود پر موقوف نقل کیا ہے۔ تشریح مصیبت زدہ، عام ہے خواہ کسی کے انتقال کی مصیبت میں مبتلا ہو یا اس کے علاوہ کسی دوسرے حادثہ یا مصیبت سے دوچار ہو بہرحال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص کو اطمینان و سکون دلاتا ہے اور اسے تسلی و تشفی دیتا ہے جو اپنے کسی عزیز و اقا رب کے انتقال پر یا کسی بھی مصیبت کی وجہ سے غم زدہ ہو تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملتا ہے جتنا کہ اس مصیبت زدہ کو صبر کرنے سے ملتا ہے کیونکہ تسلی دینے والا جب مصیبت زدہ کو اطمینان و سکون دلاتا ہے بایں طور کہ اسے صبر کی تلقین کرتا ہے اور پھر وہ شخص صبر کرتا ہے تو گویا یہ شخص مصیب زدہ کے صبر کا باعث بنتا ہے اس لئے الدال علی الخیر کفا علہ یعنی جو شخص اچھی بات کا راستہ بتاتا ہے اسے بھی اس راستہ پر چلنے والے کی مانند ثواب ملتا ہے کے بمصداق اسے بھی اجر وسعادت سے نوازا جاتا ہے۔ اب اس بارے میں عمومیت ہے کہ چاہے تو تسلی خود مصیبت زدہ کے پاس پہنچ کردی جائے یا اگر اس پر قدرت نہ ہو تو پھر خط لکھ کر یا کسی بھی دوسرے ذریعہ سے اطمینان و سکون دلایا جائے دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ حضرت امام ترمذی کے قول کے مطابق اگرچہ یہ روایت ابن مسعود پر موقوف ہے لیکن مرفوع ہی کے حکم میں ہے پھر یہ کہ اس کو ابن ماجہ کی اس روایت سے تقویت ملتی ہے جس کی سند حسن اور مرفوع ہے کہ۔ حدیث (ما من مسلم یعزی اخاہ بمصیبۃ الا کساہ اللہ من حلل الکرامۃ یوم القیامۃ)۔ جو بھی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کی مصیبت میں اسے صبر و سکون کی تلقین کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اسے بزرگی کا خلعت پہنائے گا۔