مردہ کو دفن کرنے کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 28 · 31 hadiths · Page 1 of 2

1674Mishkaat-al-Masabih

بغلی قبر بنانا مستحب ہے

عن عامر بن سعد بن أبي وقاص أن سعد بن أبي وقاص قال في مرضه الذي هلك فيه : ألحدوا لي لحدا وانصبوا علي اللبن نصبا كما صنع برسول الله صلى الله عليه و سلم . رواه مسلم

حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے اپنی اس بیماری میں کہ جس میں ان کی وفات ہوئی فرمایا کہ مجھے دفن کرنے کے لئے لحد بنانا اور مجھ پر کچی اینٹیں کھڑی کرنا جیسا کہ رسول کریم ﷺ کے لئے کیا گیا تھا۔ (مسلم) تشریح لحد قبر میں قبلہ کی طرف بنائے گئے اس گھڑے کو کہتے ہیں جس میں مردہ رکھا جاتا ہے جس قبر میں ایسا گڑھا بنایا جاتا ہے اسے بغلی قبر کہتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بغلی قبر بنانا مستحب ہے۔ حضرت ابن ہمام فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک قبر میں لحد بنانا سنت ہے بشرطیکہ کوئی مجبوری نہ ہو یعنی اگر زمین نرم ہو اور لحد بنانے سے قبر کے بیٹھ جانے کا اندیشہ ہو تو پھر قبر میں لحد نہ بنائی جائے بلکہ صندوق قبر بنائی جائے۔ حضرت سعد ؓ کے ارشاد مجھ پر کچی اینٹیں کھڑی کرنا کا مطلب یہ ہے میری لحد کو کچی اینٹوں سے بند کرنا۔ علماء لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک کی لحد کو نو اینٹوں سے بند کیا گیا تھا۔

1675Mishkaat-al-Masabih

قبر میں کپڑا بچھانے کا مسئلہ

وعن ابن عباس قال : جعل في قبر رسول الله صلى الله عليه و سلم قطيفة حمراء . رواه مسلم

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی قبر میں ایک سرخ لوئی (چادر) ڈالی گئی تھی۔ (مسلم) تشریح آنحضرت ﷺ کے ایک خادم تھے جن کا نام شعران تھا انہوں نے صحابہ کرام کی مرضی اور ان کی اجازت کے بغیر از خود اس چادر کو آنحضرت ﷺ کی قبر میں رکھ دیا تھا اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ میں اسے قطعی ناپسند کرتا ہوں کہ جس چادر مبارک کو سرکار دو عالم ﷺ خود استعمال کرچکے ہوں اسے آپ کے بعد کوئی دوسرا شخص استعمال کرے۔ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ قبر میں یہ چادر رکھنا آنحضرت ﷺ کے خصائص میں سے تھا (اب کسی دوسرے کے لئے اجازت نہیں کہ اس کی قبر میں چادر وغیرہ بچھائی جائے یا رکھی جائے) بعض حضرات نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی قبر میں چادر رکھنے کے بارے میں صحابہ ؓ نے کسی اچھی رائے کا اظہار نہیں کیا۔ چناچہ حضرت علی اور حضرت عباس کے بارے میں منقول ہے کہ ان دونوں نے شعران سے اس بات پر سخت معاوضہ کیا کہ انہوں نے وہ چادر قبر مبارک میں کیوں رکھی؟ نیز علامہ ابن عبدالبر (رح) نے تو کتاب استیعاب میں یہ لکھا ہے کہ وہ لوئی (جو شعران نے آپ ﷺ کی قبر مبارک میں ڈالی تھی) مٹی ڈالنے سے پہلے قبر مبارک سے نکال لی گئی تھی۔ بہر حال علماء نے قبر میں مردہ کے نیچے کپڑا بچھانے کو مکروہ قرار دیا ہے کیونکہ اس میں مال کا اسراف اور اس کا ضائع کرنا ہے۔

1676Mishkaat-al-Masabih

اونٹ کے کوہان کی مانند قبر بنانا افضل ہے

وعن سفيان التمار : أنه رأى قبر النبي صلى الله عليه و سلم مسنما . رواه البخاري

حضرت سفیان تمار سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی قبر کو دیکھا جو اونٹ کے کوہان کی طرح تھی۔ (بخاری) تشریح حضرت امام مالک، حضرت امام احمد اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے نہ صرف یہ کہ اس حدیث کو بلکہ اس کے علاوہ اور بھی صحیح احادیث کو اپنے اس مسلک کا مستدل قرار دیا ہے کہ قبر کو اونٹ کے کوہان کی طرح اٹھی ہوئی بنانا مسطح بنانے سے افضل ہے جب کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک قبر مسطح بنانا افضل ہے۔

1677Mishkaat-al-Masabih

قبر کو اونچا کرنے کی ممانعت

وعن أبي الهياج الأسدي قال : قال لي علي : ألا أبعثك على ما بعثني عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم : أن لا تدع تمثالا إلا طمسته ولا قبرا مشرفا إلا سويته . رواه مسلم

اور حضرت ابوالہیاج اسدی (تابعی) کہتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں اس کام پر معمور نہ کروں جس کام پر مجھے رسول اللہ ﷺ نے معمور کیا تھا؟ اور وہ کام یہ ہے کہ تم جو بھی تصویر دیکھو اسے چھوڑو نہیں بلکہ اسے مٹادو اور جس قبر کو بلند دیکھو اسے برابر کردو۔ (مسلم) تشریح علماء نے لکھا ہے کہ اپنے پاس تصویر کا رکھنا حرام ہے اور اسے مٹا دینا واجب ہے نیز اس کے سامنے بیٹھنا جائز نہیں ہے، جس قبر کو بلند دیکھو اسے برابر کردو۔ کا مطلب یہ ہے کہ قبر اگر زیادہ اونچی اور بلند بنائی گئی ہو تو اسے اتنی نیچی کردو کہ زمین کی سطح سے قریب ہوجائے صرف اس کا نشان باقی رہے جس کی مقدار ایک بالشت ہے کیونکہ مسنون یہی ہے چناچہ کتاب ازہار میں علماء کا یہ قول لکھا ہوا ہے کہ قبر کو بقدر ایک بالشت کے بلند کرنا مستحب ہے اور ور اس سے زیادہ مکروہ ہے نیز ایک بالشت سے زیادہ قبر کو ڈھا دینا (یعنی صرف ایک بالشت کی بقدر باقی رہنے دینا مستحب ہے)

1678Mishkaat-al-Masabih

قبر پر گچ کرنے، عمارت بنانے اور اس کے اوپر بیٹھنے کی ممانعت

وعن جابر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يجصص القبر وأن يبنى عليه وأن يقعد عليه . رواه مسلم

حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے قبر پر گچ کرنے اور اس پر عمارت بنانے نیز قبر کے اوپر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم) تشریح کتاب اظہار میں لکھا ہے کہ قبروں پر گچ کرنے کی ممانعت کراہت کے طور پر ہے یعنی قبروں پر گچ کرنا مکروہ ہے پھر ممانعت کا یہ حکم دونوں صورتوں کے لئے ہے یعنی خواہ قبر کی چٹائی گچ سے کی جائے خواہ قبروں پر گچ کیا جائے دونوں ہی مکروہ ہیں قبر کے اوپر کوئی عمارت مثلاً گنبد یا قبہ وغیرہ بنانا درست نہیں ہے بلکہ اگر کسی قبر پر کوئی عمارت بنی ہوئی ہو تو اسے ڈھا دینا واجب ہے اگر وہ مسجد ہی کیوں نہ ہو۔ علامہ تور پشتی (رح) فرماتے ہیں کہ قبروں پر بناء یعنی عمارت بنانا دونوں چیزوں کو محتمل ہے خواہ قبر پر پتھر و اینٹ وغیرہ سے کوئی عمارت بنائی جائے خواہ قبر کے اوپر کوئی خیمہ وغیرہ کھڑا کیا جائے دونوں ہی صورتیں ممنوع ہیں کیونکہ ان چیزوں سے کوئی فائدہ نہیں ہے علامہ تور پشتی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس ممانعت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہ فعل جاہلیت ہے یعنی کفار میت اوپر دس دن تک سایہ رکھتے تھے اس لئے مشابہت سے بچانا بھی مقصود ہے۔ قبر کے اوپر بیٹھنے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ یہ مومن کے اکرام و شرف کے منافی ہے بایں طور کہ قبر کے اوپر چڑھ کر بیٹھنے سے صاحب قبر کی تحقیر اور بےوقعتی لازم آتی ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ قبر کے اوپر بیٹھنے سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص اظہار رنج و غم کے لئے قبر کے پاس مسلسل بیٹھا رہے جیسے کے بعض لوگ فقر اور دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر کے اپنے کسی محسن و متعلق ہی کی قبر کو اپنا مسکن بنا لیتے ہیں لہٰذا اس سے منع فرمایا گیا ہے۔

1679Mishkaat-al-Masabih

قبروں کے بارے میں چند احکام

وعن أبي مرثد الغنوي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تجلسوا على القبور ولا تصلوا إليها . رواه مسلم

حضرت ابومرثد غنوی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا نہ قبروں کے اوپر بیٹھو اور نہ قبروں کی طرف نماز پڑھو (مسلم) تشریح محقق ابن ہمام فرماتے ہیں کہ قبروں پر بیٹھنا اور ان کو روندنا مکروہ ہے لہٰذا بعض لوگوں کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنے قبرستان میں اپنے کسی عزیز و متعلق کی قبر تک پہنچنے کے لئے درمیان کی قبروں کو بلاتکلف روندتے ہوئے چلتے ہیں یہ انتہائی غلط بات ہے۔ ہاں ضرورت و حاجت کے وقت مثلاً قبر کھودنے کے لئے یا میت کو دفن کرنے کے لئے قبروں پر پاؤں رکھ کر چلنا جائز ہے۔ قبرستان میں ننگے پاؤں چلنا مستحب ہے قبر کے نزدیک یا قبر کو تکیہ بنا کر سونا مکروہ ہے قبروں کے پاس استنجا کرنا تو انتہائی کراہت کی بات ہے، قبرستان آنے جانے کے بارے میں ہر وہ چیز مکروہ جو معہود یعنی سنت سے ثابت نہیں اس بارے میں صرف قبروں پر جانا اور وہاں کھڑے کھڑے دعا مانگنا سنت سے ثابت ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ ﷺ جب جنت البقیع تشریف لے جاتے تو وہاں یہ فرماتے دعا (السلام علیکم دار قوم مومنین وانا انشاء اللہ بکم لاحقون واسأل اللہ لی ولکم العافیہ)۔ یعنی اے مومنین کے گھر تجھ پر سلامتی ہو، اے مومنو! انشاء اللہ ہم تم سے ملنے والے ہیں، میں اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے اور تمہارے لئے امن و عافیت مانگتا ہوں۔ (ملا علی قاری) کے ان الفاظ سے اگر یہ اشکال پیدا ہوا کہ یہاں تو یہ ثابت ہوا کہ زیارت قبور کے سلسلے میں صرف قبروں پر جانا اور وہاں دعا مانگنا سنت سے ثابت ہے جیسا کہ خود ملا علی قاری نے ابھی اس باب کی تیسری فصل کی ایک حدیث کو جو حضرت ابن عمر ؓ سے منقول ہے کی تشریح کے ضمن میں وہ احادیث نقل کی ہیں تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ قرآن کریم کی تلاوت دعا میں شامل ہے اس لئے کہ تلاوت قرآن کریم بھی حکما دعا ہی ہے لہٰذا وہ مکروہ نہیں ہے۔ حدیث کے آخری الفاط ولاتصلوا الیہا (اور نہ قبروں کی طرف نماز پڑھو) کی روشنی میں علماء لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قبر یا صاحب قبر کی تعظیم کی خاطر قبر کی طرف نماز پڑھتا ہے تو یہ صریح کفر ہے اگر قبر یا صاحب قبر کی تعظیم پیش نظر نہ ہو تو تب بھی قبر کی طرف نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے یہی حکم جنازہ کا بھی ہے جب کہ وہ نمازی کے سامنے رکھا ہوا ہو بلکہ اس میں تو اور بھی زیادہ کراہت ہے حاصل یہ کہ نمازی کے سامنے قبر یا جنازہ نہ ہونا چاہئے۔

1680Mishkaat-al-Masabih

قبر کے اوپر بیٹھنے کی تہدید

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن يجلس أحدكم على جمرة فتحرق ثيابه فتخلص إلى جلده خير له من أن يجلس على قبر . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص انگارے پر بیٹھ جائے اور وہ انگارہ اس کا کپڑا جلا کر اس کے جسم تک پہنچ جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ قبر کے اوپر بیٹھے۔ (مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص آگ کے اوپر بیٹھ جائے اور وہ آگ اس شخص کے کپڑوں کو جلا کر اس کے جسم تک پہنچ جائے اور جسم کے حصوں کو جلا ڈالے تو یہ تکلیف و مصیب قبر کے اوپر بیٹھنے سے سہل و آسان ہے یعنی قبر کے اوپر بیٹھنے کا ضرر و نقصان اس کے ضرر و نقصان سے کہیں زیادہ ہے۔

1681Mishkaat-al-Masabih

صندوقی قبر بھی مشروع ہے

عن عروة بن الزبير قال : كان بالمدينة رجلان أحدهما يلحد والآخر لا يلحد . فقالوا : أيهما جاء أولا عمل عمله . فجاء الذي يلحد فلحد لرسول الله صلى الله عليه و سلم . رواه في شرح السنة

حضرت عروہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں دو شخص تھے (جو قبریں کھودا کرتے تھے) ان میں سے ایک شخص (حضرت ابوطلحہ انصاری) تو بغلی قبر کھودا کرتے تھے اور دوسرے شخص (حضرت ابوعبیدہ بن الجراح) بغلی قبر نہیں کھودتے تھے (بلکہ صندوقی قبر کھودا کرتے تھے) چناچہ (آنحضرت ﷺ کا جب وصال ہوا تو) تو صحابہ ؓ نے (متفقہ طور پر) یہ کہا کہ ان دونوں میں سے جو پہلے آجائے وہی قبر کھودے (یعنی اگر ابوطلحہ ؓ پہلے آگئے تو بغلی قبر کھودیں اور اگر ابوعبیدہ پہلے آجائیں تو صندوقی قبر کھودیں) آخرکار بغلی قبر کھودنے والے شخص (پہلے) آگئے اور انہوں نے رسول کریم ﷺ کے لئے بغلی قبر کھودا کرتے؟

1682Mishkaat-al-Masabih

بغلی قبر کی فضیلت

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللحد لنا والشق لغيرنا رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا لحد یعنی بغلی قبر، ہمارے لئے ہے اور شق (یعنی صندوقی قبر) دوسروں کے لئے ہے۔ (ترمذی، ابوداوئد، نسائی، ابن ماجہ اور امام احمد نے اس روایت کو جریر بن عبداللہ سے نقل کیا ہے) تشریح علماء نے اس حدیث کے کئی معنیٰ بیان کئے ہیں لیکن زیادہ صحیح معنی یہ ہیں کہ لحد یعنی بغلی قبر ہم انبیاء کی جماعت کے لئے ہے اور شق یعنی صندوقی قبر جماعت انبیاء کے علاوہ دوسروں کے لئے جائز ہے گویا لحد کی فضیلت بیان کی جا رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بغلی قبر کی نسب جماعت انبیاء کی طرف کر کے اس کی فضیلت اور اولیت کا اظہار فرمایا جا رہا ہے۔

1683Mishkaat-al-Masabih

قبر گہری کھودنی چاہئے

وعن هشام بن عامر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال يوم أحد : احفروا وأوسعوا وأعمقوا وأحسنوا وادفنوا الاثنين والثلاثة في قبر واحد وقدموا أكثرهم قرآنا . رواه أ مد والترمذي وأبو داود والنسائي وروى ابن ماجه إلى قوله وأحسنوا

حضرت ہشام بن عامر ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ احد کے دن فرمایا کہ قبریں کھودو اور قبروں کو کشادہ و گہری کھودو اور انہیں اچھی بناؤ (یعنی قبروں کو ہموار بناؤ اور اندر سے کوڑا کرکٹ و مٹی وغیرہ صاف کرو) اور ایک ایک قبر میں دو دو تین تین کو دفن کرو اور ان میں آگے (یعنی قبلہ کی طرف) اسے رکھو جسے قرآن زیادہ اچھا یاد تھا۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے اس روایت کو لفظ احسنوا تک نقل کیا ہے۔ تشریح غزوہ احد کے دن، سے مراد یہ ہے کہ جب احد ختم ہوئی اور شہداء کو دفن کرنے کا ارادہ کیا گیا تو اس وقت آپ نے فرمایا کہ قبریں کھودو، لہٰذا ارشاد گرامی میں قبریں کھودنے کا حکم تو وجوب کے طور پر ہے بقیہ احکام یعنی قبروں کو کشادہ اور گہرا کھودنے اور اچھی بنانے کا حکم استحباب کے طور پر ہے۔ قبروں کو گہری کھودو اس سے معلوم ہوا کہ قبر کو گہرا کھودنا سنت ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے میت درندوں سے محفوظ رہتی ہے۔ مظہر کا قول ہے کہ قبریں اتنی گہری کھودنی چاہئیں کہ اگر آدمی اندر کھڑا ہو کر اپنے ہاتھ اٹھائے تو اس کی انگلیوں کے سرے قبر کے کنارے تک پہنچ جائیں۔ ایک ایک قبر میں دو دو اور تین تین مردوں کو دفن کرنا مجبوری اور ضرورت کے وقت تو جائز ہے لیکن بغیر کسی ضرورت اور مجبوری کے جائز نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی اور ان میں آگے (یعنی قبلہ کی طرف) اسے رکھو جسے قرآن زیادہ اچھا یاد تھا میں اس طرف اشارہ ہے کہ جس طرح عالم با عمل کی تعظیم و تکریم اس کی زندگی میں کی جاتی تھی اسی طرح مرنے کے بعد بھی اس کی تعظیم اور اس کے احترام کو مد نظر رکھنا چاہئے۔ ایک سے زیادہ جنازوں کی بیک وقت نماز جس طرح ایک جنازہ پر ایک نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے اسی طرح ایک وقت میں کئی جنازوں پر بھی ایک نماز جنازہ ادا کی جاسکتی ہے مطلب یہ ہے کہ بیک وقت کئی جنازے جمع ہوجائیں تو خواہ ہر جنازے کی الگ الگ نماز پڑھی جائے خواہ تمام جنازوں کو رکھ کر سب کے لئے ایک ہی نماز پڑھ لی جائے دونوں صورتیں جائز ہیں۔ نیز اگر کئی جنازوں کی ایک ہی نماز بیک وقت پڑھی جائے تو جنازوں کو آگے ترتیب سے رکھنے میں بھی اختیار ہے کہ چاہے تو تمام جنازوں کو قبلہ کی طرف آگے پیچھے کر کے رکھا جائے اور چاہے طول میں قطار باندھ کر تمام جنازوں کو رکھ دیا جائے دونوں طرح جائز ہے البتہ امام کو چاہئے کہ وہ اس جنازہ کے پاس کھڑا ہو جو ان جنازوں میں افضل ہو۔

1684Mishkaat-al-Masabih

میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا مسئلہ

وعن جابر قال : لما كان يوم أحد جاءت عمتي بأبي لتدفنه في مقابرنا فنادى منادي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ردوا القتلى إلى مضاجعهم . رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي والدارمي ولفظه للترمذي

حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ جب غزوہ احد ہوا تو میری پھوپھی میرے والد ( کی نعش) لے کر آئیں تاکہ انہیں میں اپنے قبرستان میں دفن کریں، لیکن رسول کریم ﷺ کی طرف سے ایک منادی کرانے والے نے اعلان کیا کہ شہیدوں کو ان کے شہید ہونے کی جگہ پہنچا دیا جائے۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی دارمی) الفاظ ترمذی کے ہیں۔ تشریح حضرت جابر ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب غزوہ احد اور بعض مسلمان شہید ہوئے تو میرے والد مکرم بھی ان شہیدوں میں تھے چناچہ میری پھوپھی میرے والد کی نعش میدان کارزار سے شہر لائیں تاکہ انہیں اپنے قبرستان یعنی بقیع میں دفن کردیا جائے لیکن آنحضرت ﷺ کی طرف سے ایک شخص نے اعلان کیا کہ شہداء جس جگہ شہید کئے گئے ہیں انہیں دفن کیا جائے۔ یہ حدیث کی وضاحت تھی اب مسئلہ کی طرف آئیے بعض علماء فرماتے ہیں کہ جیسا کہ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کا حکم نقل کیا گیا ہے جو شخص جس شہر میں انتقال کرے اسے اسی شہر میں دفن کیا جائے اس کی نعش دوسرے شہر میں منتقل نہ کی جائے چناچہ کتاب ازہار میں لکھا ہے کہ نقل میت کے عدم جواز کے سلسلہ میں یہ حدیث ایک مضبوط اور قوی تر دلیل ہے لیکن اس سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ یہاں حدیث میں میت کو منتقل کرنے کی جو ممانعت فرمائی گئی ہے اسے صرف شہداء کے ساتھ مختص کیا جائے اور اس سے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ممانعت میت کو دفن کرنے کے بعد بغیر کسی عذر کے منتقل کرنے پر محمول کی جائے یعنی اگر میت دفن کردی جائے تو اب اس کے بعد کسی صحیح عذر کے بغیر کسی دوسری جگہ اسے منتقل کرنا ممنوع ہے۔ علامہ یحییٰ (رح) اس مسئلہ میں یہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی واقعی ضرورت پیش آجائے تو میت کو دوسری جگہ منتقل کرنا جائز ہے لیکن بغیر ضرورت کے جائز نہیں ہے۔ محقق علامہ ابن ہمام کا قول یہ ہے کہ اگر میت کو دفن کرنے اور قبر کی تیاری سے پہلے ایک دو کوس کے فاصلے پر منتقل کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ قبرستان اتنے فاصلہ پر ہوا کرتے ہیں۔ علماء لکھتے ہیں کہ میت کو اسی شہر کے قبرستان میں دفن کرنا مستحب ہے جہاں اس کا انتقال ہوا ہے چناچہ منقول ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کے بھائی حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کا انتقال مکہ سے ایک منزل کے فاصلے پر ہوا تو ان کا جنازہ دفن کرنے کے لئے مکہ مکرمہ لایا گیا۔ جب حضرت عائشہ ؓ ان کی قبر پر تشریف لائیں تو فرمایا کہ اگر میں تمہارے انتقال کے وقت موجود ہوتی تو تمہیں یہاں منتقل نہ کرتی بلکہ وہیں دفن کرتی جہاں انتقال ہوا تھا۔

1685Mishkaat-al-Masabih

دفن کے بعد قبر کھودنے کا مسئلہ

میت کو دفن کرنے اور قبر پر مٹی ڈالنے کے بعد (میت کو نکالنے کے لئے یا کسی اور مقصد کے تحت) قبر کو کھودنا جائز نہیں ہے خواہ دفن کئے ہوئے بہت تھوڑا وقفہ ہوا ہو یا زیادہ عرصہ ہوگیا ہو ہاں عذر کی بنا پر جائز ہوگا مثلاً یہ اگر دفن کرنے کے بعد یہ ظاہر ہو کہ جس زمین پر قبر بنائی گئی ہے وہ زمین غصب کی ہے یا اس زمین کو کسی شخص نے بحق شفعہ لے کر اپنی ملکیت بنا لی تو ان صورتوں میں مالک زمین کے مطالبہ پر قبر کھودنا جائز ہوگا علماء لکھتے ہیں کہ کتنے ہی صحابی کافروں کے شہروں میں دفن کئے گئے مگر انہیں وہاں سے منتقل نہیں کیا گیا۔ اگر اس زمین کا مالک کہ جس میں قبر بنائی گئی ہے یہ چاہے کہ زمین کو ہموار کرلے اور اس میں کھیتی باڑی کرے تو اسے حق پہنچتا ہے دفن کرنے کے بعد قبر کھودنے کا اعذار میں ایک عذر یہ بھی ہے کہ اگر کسی شخص کا کوئی مال یا کپڑا وغیرہ قبر میں رہ جائے تو اس کے لئے جائز ہے کہ قبر کھود کر وہ مال یا کپڑا نکال دیں۔ علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ علماء اور مشائخ اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کسی عورت کا بیٹا شہر کے علاوہ کسی دوسرے شہر میں دفن کردیا جائے اور وہاں وہ عورت موجود نہ رہی ہو اور پھر اسے اس کی مامتا بےچین کرے اور وہ اس بات پر اصرار کرے کہ اس کے بیٹے کی نعش اس کے شہر میں منتقل کردی جائے تو اس صورت میں قطعی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ نعش کو منتقل کردیا جائے چناچہ اس بارے میں بعد کے بعض علماء جس جواز کے قائل ہوئے ہیں اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ صاحب ہدایہ نے (ہدایہ کے علاوہ اپنی کسی دوسری کتاب میں) لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی شہر میں مرجائے تو اس کی نعش کو دوسرے شہر منتقل کرنا مکروہ ہے کیونکہ اس طرح نہ صرف یہ کہ ایک بےفائدہ اور لاحاصل چیز میں وقت صرف ہوتا ہے بلکہ میت کو دفن کرنے میں بھی تاخیر ہوتی ہے، نیز علماء کا بالاتفاق یہ فیصلہ ہے کہ اگر کوئی میت بغیر نماز کے بھی دفن کردی جائے تب بھی اس قہر سے نکالنا جائز نہیں ہے۔ کسی شخص کو اس مکان میں دفن نہ کیا جائے جس میں وہ رہا کرتا تھا کیونکہ یہ صرف انبیاء کرام صلوات اللہ وسلم علیہم کے ساتھ مختص ہے دوسرے کے لئے ایسا کرنا مناسب نہیں ہے۔

1686Mishkaat-al-Masabih

میت کو قبر میں کس طرح اتارا جائے؟

وعن ابن عباس قال : سل رسول الله صلى الله عليه و سلم من قبل رأسه . رواه الشافعي

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو (قبر میں اتارتے وقت) سر کی طرف اتارا گیا۔ (شافع) تشریح اس کی صورت یہ تھی کہ جنازہ قبر کے پائنتی رکھا گیا پھر آپ کو سر مبارک کی طرف سے اٹھا کر قبر میں اتارا گیا چناچہ حضرت امام شافعی کے ہاں میت کو اسی طریقہ سے قبر میں اتارا جاتا ہے۔ حنفیہ کے نزدیک اس سلسلہ میں مسنون طریقہ یہ ہے کہ جنازہ قبر کے قبلہ والی جانب رکھا جائے اور وہاں سے میت کو اٹھا کر قبر میں رکھا جائے چناچہ آنحضرت ﷺ میت کو اسی طریقہ سے قبر میں اتارا کرتے تھے جیسا کہ اگلی حدیث سے واضح ہوگا۔ جہاں تک مذکورہ بالا روایت کا تعلق ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اس طریقہ سے قبر میں کیوں اتارا گیا؟ تو اس کی وجہ یہ تھی کہ حجرۃ شریفہ میں اتنی وسعت نہ تھی کہ آپ کو قبلہ کی طرف سے قبر میں اتارا جاتا کیونکہ آپ کی قبر حجرہ کی دیوار سے ملی ہوئی ہے حنفیہ کی طرف سے اس کا ایک جواب یہ بھی دیا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو قبر میں اتارنے کی کیفیت مضطرب منقول ہے یعنی یہاں اس روایت میں تو یہ بتایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ کو سر کی طرف سے قبر میں اتارا گیا تھا جب کہ ابوداؤد کی ایک روایت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو قبر میں قبلہ کی طرف اتارا گیا تھا سر کی طرف سے نہیں اٹھایا گیا تھا نیز اسی طرح کی روایت ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے۔ لہٰذا جب ان دونوں حدیثوں میں تعارض ہوا تو دونوں حدیثیں ساقط ہوئیں۔

1687Mishkaat-al-Masabih

میت کو قبر میں کس طرح اتارا جائے؟

وعن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل قبرا ليلا فأسرج له بسراج فأخذ من قبل القبلة وقال : رحمك الله إن كنت لأواها تلاء للقرآن . رواه الترمذي وقال في شرح السنة : إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رات میں نبی کریم ﷺ (کسی میت کو رکھنے کے لئے) قبر میں اترے، آپ کے لئے چراغ جلا دیا گیا چناچہ آپ نے میت کو قبلہ کی طرف سے پکڑا (اور اسے قبر میں اتارا) اور یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے تو (خوف اللہ سے) بہت رونے والا اور قرآن کریم بہت زیادہ پڑھنے والے تھے (اور ان دونوں چیزوں کے سبب سے تم رحمت و مغفرت کے مستحق ہو) یہ حدیث ترمذی نے نقل کی ہے اور شرح السنۃ میں ہے کہ اس روایت کی اسناد ضعیف ہے۔ تشریح اس روایت کے بارے میں امام ترمذی کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے نیز اس بارے میں حضرت جابر اور حضرت یزید بن ثابت کی روایتیں بھی منقول ہیں۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ رات کے وقت مردہ کو دفن کرنا مکروہ نہیں جیسا کہ بعض علماء نے لکھا ہے یہ حدیث حنفیہ کے مسلک کی دلیل ہے ان کے ہاں میت کو قبر میں قبلہ کی طرف سے اتارنا سنت ہے۔

1688Mishkaat-al-Masabih

میت کو قبر میں اتارتے وقت کیا پڑھا جائے؟

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا أدخل الميت القبر قال : بسم الله وبالله وعلى ملكة رسول الله . وفي رواية : وعلى سنة رسول الله . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه وروى أبو داود الثانية

حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب میت کو قبر میں اتارتے تھے تو یہ فرماتے دعا (بسم اللہ وباللہ وعلیٰ ملۃ رسول اللہ)۔ اس میت کو ہم اللہ کے نام کے ساتھ اللہ کے حکم کے مطابق اور رسول اللہ ﷺ کی شریعت پر قبر میں اتارتے ہیں اور ایک روایت میں وعلیٰ ملۃ رسول اللہ کے بجائے وعلیٰ سنۃ رسول اللہ ہے (یعنی یہاں تو رسول اللہ ﷺ کی شریعت پر منقول ہے اور ایک دوسری روایت میں اس کے بجائے رسول اللہ ﷺ کی سنت پر نقل کیا گیا ہے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور ابوداؤد نے دوسری روایت (جس میں ملۃ کے بجائے سنۃ ہے) نقل کی ہے۔

1689Mishkaat-al-Masabih

قبر پر مٹی ڈالنا اور پانی چھڑکنا سنت ہے

وعن جعفر بن محمد عن أبيه مرسلا أن النبي صلى الله عليه و سلم حثا على الميت ثلاث حثيات بيديه جميعا وأنه رش على قبر ابنه إبراهيم ووضع عليه حصباء . رواه في شرح السنة وروى الشافعي من قوله : رش

حضرت امام جعفر صادق بن محمد اپنے والد (حضرت امام باقر) سے بطریق ارسال نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم کی قبر کے اوپر پانی چھڑکا اور علامت کے لئے قبر پر سنگریزے رکھے۔ شرح السنۃ اور حضرت امام شافعی نے اس حدیث کو رش پانی چھڑکا) سے آخر تک) روایت کیا ہے۔ تشریح امام احمد نے اسناد ضعیف کے ساتھ نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ قبر میں مٹی اس طرح ڈالتے تھے کہ جب پہلی مٹھی بھر کر مٹی ڈالتے تو پڑھتے منہا خلقناکم اور جب دوسری مٹھی بھر کر ڈالتے تو پڑھتے وفیہا نعیدکم اور اسی طرح جب تیسری مٹھی ڈالتے تو یہ پڑھتے ومنہا نخرجکم۔ حضرت ابن مالک فرماتے ہیں کہ جو لوگ جنازہ کے ہمراہ قبر پر جائیں ان کے لئے سنت ہے کہ جب لحد یا شق بند کردی جائے تو وہ مٹھی بھر کر مٹی قبر میں ڈالیں اسی طرح قبر جب بھر جائے اور اوپر سے مٹی برابر کردی جائے تو قبر کے اوپر پانی چھڑکنا سنت ہے۔ ایک حکایت منقول ہے کہ ایک شخص کا انتقال ہوا تو اسے کسی نے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا؟ اس نے کہا کہ جب میری نیکیاں اور برائیاں وزن کی گئیں تو برائیاں نیکیوں سے بڑھ گئیں اچانک ایک تھیلی نیکیوں کے پلڑے میں آ کر گری جس کی وجہ سے نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگیا، میں نے جب تھیلی کھولی تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں ایک مٹھی مٹی تھی جو میں نے ایک مسلمان کی قبر میں ڈالی تھی ( اس طرح میری یہ نیکی کام آگئی)

1690Mishkaat-al-Masabih

قبروں پر لکھنے اور انہیں روندنے کی ممانعت

وعن جابر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن تجصص القبور وأن يكتب لعيها وأن توطأ . رواه الترمذي

حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ قبریں گچ کی جائیں، ان پر لکھا جائے اور یہ کہ وہ روندی جائیں۔ (ترمذی) تشریح قبروں پر گچ کرنے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ اس میں ایک طرف کی زینت اور تکلیف ہے ہاں بعض حضرات کے نزدیک قبروں پر مٹی لیپنا جائز ہے۔ قبروں پر اللہ و رسول کا نام اور قرآن کی آیتیں لکھنا مکروہ ہے تاکہ پیروں کے نیچے آنے سے یا جانور وغیرہ کے پیشاب کردینے سے ان کی بےحرمتی نہ ہو۔ بعض حنفی علماء فرماتے ہیں کہ اسی طرح مساجد وغیرہ کی دیوار پر اللہ و رسول کا نام اور قرآن کی آیتیں لکھنا ممنوع ہے نیز یہ بھی مکروہ ہے کہ پتھر وغیر پر میت کا نام وغیرہ لکھ کر قبر پر کھڑا کیا جائے۔ البتہ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ پتھر وغیرہ پر میت کا اور خاص طور پر علماء دین اور صلحاء امت کا نام وغیرہ لکھ کر قبر پر کھڑا کرنا جائز ہے تاکہ زمانہ گزرنے کے باوجود ان کی قبریں پہچانی جائیں۔

1691Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک پر پانی چھڑکا گیا تھا

وعن جابر قال : رش قبر النبي صلى الله عليه و سلم وكان الذي رش الماء على قبره بلال بن رباح بقربة بدأ من قبل رأسه حتى انتهى إلى رجليه . رواه البيهقي . في دلائل النبوة

حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی قبر پر پانی چھڑکا گیا تھا ور وہ شخص کہ جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک پر پانی چھڑکا تھا، حضرت بلال بن رباح تھے چناچہ انہوں نے مشک لے کر سر کی طرف سے (قبر پر) پانی چھڑکنا شروع کیا اور پاؤں تک (چھڑکتے ہوئے) لے گئے۔ (بیہقی)

1692Mishkaat-al-Masabih

علامت کے لئے قبر پر کوئی پتھر رکھ دینا جائز ہے

وعن المطلب بن أبي وداعة قال : لما مات عثمان ابن مظعون أخرج بجنازته فدفن أمر النبي صلى الله عليه و سلم رجلا أن يأتيه بحجر فلم يستطع حملها فقام إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم وحسر عن ذراعيه . قال المطلب : قال الذي يخبرني عن رسول الله صلى الله عليه و سلم : كأني أنظر إلى بياض ذراعي رسول الله صلى الله عليه و سلم حين حسر عنهما ثم حملها فوضعها عند رأسه وقال : اعلم بها قبر أخي وأدفن إليه من مات من أهلي . رواه أبو داود

اور حضرت مطلب ؓ بن ابو وداعہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن مظعون کا انتقال ہوا تو ان کا جنازہ (باہر نکالا گیا اور دفن کیا گیا جب تدفین سے فراغت ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ ایک بڑا پتھر لائے تاکہ اسے قبر پر علامت کے لئے رکھ دیا جائے اس شخص سے پتھر نہ اٹھ سکا تو آنحضرت ﷺ اسے اٹھانے کے لئے خود کھڑے ہوئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کی آستینیں چڑھائیں۔ حدیث کے راوی حضرت مطلب فرماتے ہیں کہ جس شخص نے مجھ سے رسول کریم ﷺ کی یہ حدیث بیان کی وہ کہتے تھے کہ گویا اس وقت بھی آنحضرت ﷺ کے مبارک ہاتھوں کی سفیدی میری نظروں میں گھوم رہی ہے جب کہ آپ نے اسے کھولا تھا، بہرحال آنحضرت ﷺ نے وہ پتھر اٹھا لیا اور اسے حضرت عثمان ؓ کی قبر کے سرہانے رکھ دیا اور فرمایا کہ میں نے اس کے ذریعہ اپنے بھائی کی قبر پر علامت کردی ہے اب میرے گھر والوں میں سے جس کا انتقال ہوگا میں اسے اس کے پاس دفن کر دوں گا۔ تشریح حضرت مطلب بن ابی وداوعہ ؓ صحابی اور فتح مکہ کے دن مشرف باسلام ہوئے تھے انہوں نے اس روایت کو ایک دوسرے صحابی سے اس لئے نقل کیا ہے کہ یہ خود اس موقع پر موجود نہ تھے۔ حضرت عثمان بن مظعون آنحضرت ﷺ کے دودھ شریک بھائی تھے انہوں نے بالکل ابتدائی زمانہ ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا چناچہ ان سے پہلے صرف تیرہ آدمی اسلام لا چکے تھے، غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے، مدینہ میں مہاجرین میں سے سب سے پہلے انہی کا انتقال ہوا تھا ان کی قبر کے قریب سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم دفن کئے گئے تھے۔ ازہار میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ قبر پر بطور علامت و نشانی کوئی پتھر وغیرہ رکھ دینا مستحب ہے تاکہ قبر پہچانی جاسکے نیز اہل خاندان اور اقربا کو ایک جگہ دفن کرنا بھی مستحب ہے۔

1693Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر وصدیق وحضرت عمر (رض) کی قبریں۔

وعن القاسم بن محمد قال : دخلت على عائشة فقلت : يا أماه اكشفي لي عن قبر النبي صلى الله عليه و سلم وصاحبيه فكشفت لي عن ثلاثة قبور لا مشرفة ولا لا طئة مبطوحة ببطحاء العرصة الحمراء . رواه أبو داود

حضرت قاسم بن محمد (تابعی) فرماتے ہیں کہ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے میری ماں! مجھے زیارت کرنے کے لئے رسول کریم ﷺ اور آپ کے دونوں رفقا (یعنی حضرت ابوبکر و حضرت عمر کی قبریں کھول دیجیے چناچہ انہوں نے تینوں قبریں کھول دیں، میں نے دیکھا کہ وہ تینوں قبریں نہ تو بہت اونچی تھیں اور نہ بالکل زمین سے ملی ہوئی تھیں (بلکہ زمین سے ایک ایک بالشت بلند تھیں اور ان پر مدینہ مطہرہ کے گرد جو میدان ہے اس کی سرخ کنکریاں بچھی ہوئی تھیں۔ (ابو داؤد) تشریح آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر ؓ کی قبریں حضرت عائشہ ؓ کے حجرہ میں تھیں جب تک دروازہ کھلا ہوا تھا اس پر پردہ پڑا رہا کرتا تھا جب کوئی شخص قبروں کی زیارت سے مشرف ہونا چاہتا تو پردہ اٹھا کر اندر چلا جاتا تھا۔