جنازہ کے ساتھ پیادہ چلنا افضل ہے
جنازہ کے ساتھ پیادہ چلنا اور سوار چلنا دونوں جائز ہیں لیکن پیادہ چلنا افضل ہے۔ اگر کوئی شخص جنازہ کے ساتھ سواری پر چلے تو اسے چاہئے کہ وہ جنازہ کے پیچھے پیچھے چلے ہاں پیادہ چلنے والے کے لئے جنازہ کے آگے چلنا بھی جائز ہے اور پیچھے بھی لیکن اس کے لئے پیچھے ہی چلنا افضل ہے۔
جنازہ کی نماز فرض کفایہ ہے یعنی اگر کچھ لوگ نماز جنازہ پڑھ لیں تو سب کے ذمہ سے فرضیت ساقط ہوجائے گی ورنہ تو بصورت دیگر سب ہی گناہگار ہوں گے۔
نماز جنازہ کے صحیح ہونے کی تین شرطیں ہیں (١) میت کا مسلمان ہونا (٢) طہارت میت یعنی میت کا نہلایا ہوا ہونا (٣) جنازہ کا نمازیوں کے آگے رکھا ہوا ہونا لہٰذا تیسری شرط کا مطلب یہ ہوا کہ نہ تو جنازہ کی نماز غائبانہ پڑھنا جائز ہے اور نہ اس جنازہ کی نماز جائز ہے جو جانور کی پیٹھ پر یا لوگوں کے کاندھے پر ہو اسی طرح اس جنازہ کی نماز بھی جائز نہیں ہے جو نمازیوں کے پیچھے رکھا ہوا ہو۔ اگر کوئی میت بغیر نہلائے دفن کردی جائے اور اسے قبر کھودے بغیر باہر نکالنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں طہارت کی شرط ساقط ہوجاتی ہے لہٰذا اس کی نماز جنازہ نہلائے بغیر ہی اس کی قبر پر ادا کی جائے اور اگر میت کو باہر نکالنا ممکن ہو تو پہلے اسے باہر نکال کر نہلایا جائے پھر اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے۔ اگر نادانستہ طور پر بغیر غسل کے کسی میت کی نماز جنازہ ادا کردی گئی اور پھر قبر کھودے بغیر اسے باہر نکال کر غسل دیا گیا تو اس کی نماز جنازہ دوبارہ پڑھی جائے۔
جنازہ لے کر جلدی چلنا چاہئے
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أسرعوا بالجنازة فإن تك صالحة فخير تقدمونها إليه وإن تك سوى ذلك فشر تضعونه عن رقابك
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنازہ لے کر جلدی چلو، کیونکہ اگر وہ جنازہ نیک (آدمی کا) ہے تو (اس کے لئے) بھلائی ہے لہٰذا اسے نیکی و بھلائی کی طرف (جلد) پہنچا دو اور اگر وہ ایسا نہیں ہے تو برا ہے لہٰذا اسے (جلد سے جلد) اپنی گردنوں سے اتار کر رکھ دو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
جنازہ لے کر جلدی چلو کا مطلب یہ ہے کہ جب دفن کرنے کے لئے جنازہ کو لے کر چلو تو جلدی جلدی چلو، آہستہ آہستہ قدم نہ اٹھاؤ لیکن جلدی سے دوڑنا مراد نہیں ہے بلکہ متوسط چال مراد ہے کہ قدم جلد جلد اٹھیں اور پاس پاس رکھے جائیں جس کا حاصل یہ ہے کہ جنازہ لے کر چلنے کی چال معمولی چال سے تو بڑھی ہوئی ہو اور دوڑنے سے کم ہو۔ اگر وہ جنازہ نیک آدمی کا ہے الخ یہ جلدی چلنے کا فائدہ بیان کیا جا رہا ہے کہ تم جس شخص کا جنازہ لے کر چل رہے ہو اگر اس کی زندگی اچھے احوال اور اچھے اعمال کے ساتھ گزری ہے تو اسے جلد جلد لے کر چلو تاکہ وہ آخرت کے ثواب اور حق تعالیٰ کی رحمت تک جلد سے جلد پہنچ جائے اور اگر وہ جنازہ کسی ایسے شخص کا ہے جس کی زندگی برے احوال اور برے اعمال کے ساتھ گزری ہے تو بھی جلد جلد چلو تاکہ برے کو جلد اپنے کاندھوں سے اتار پھینکو۔
نیکوکار اور بدکار کا جنازہ
وعن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا وضعت الجنازة فاحتملها الرجال على أعناقهم فإن كانت صالحة قالت : قدموني وإن كانت غير صالحة قالت لأهلها : يا ويلها أين يذهبون بها ؟ يسمع صوتها كل شيء إلا الإنسان ولو سمع الإنسان لصعق . رواه البخاري
حضرت ابوسعید ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب جنازہ تیار کیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنی گردنوں پر اٹھاتے ہیں تو اگر وہ جنازہ نیک بخت (آدمی کا) ہوتا ہے تو اپنے لوگوں سے کہتا ہے کہ (مجھے میری منزل کی طرف) جلد لے چلو اور اگر بدبخت (آدمی کا) جنازہ ہوتا ہے تو اپنے لوگوں سے کہتا ہے کہ ہائے افسوس! مجھے کہاں لئے جاتے ہو! جنازہ کی اس آواز کو سوائے انسان کے ہر چیز سن سکتی ہے، اگر انسان اس آواز کو سن لے تو بےہوش ہو کر گرپڑے یا مرجائے۔
تشریح
نیک بخت یعنی مومن جب مرتا ہے اور اس کا جنازہ تیار ہوجاتا ہے تو چونکہ جنت کی نعمتیں اور حق تعالیٰ کی رحمتیں دیکھتا ہے اس لئے اپنے آپ کو جلدی لے چلنے کے لئے کہتا ہے اس کے برخلاف جب بدبخت انسان موت کی گود میں پہنچ جاتا ہے اور اس کا جنازہ تیار کیا جاتا ہے تو چونکہ وہ عذاب کو سامنے دیکھتا ہے اس لئے واویلا کرتا ہے اور اپنے لوگوں سے کہتا ہے کہ مجھے عذاب کی طرف کیوں لے جا رہے ہو۔ علماء لکھتے ہیں کہ مردہ اس وقت حقیقتاً کلام کرتا ہے اگرچہ اس کی روح نکل چکی ہوتی ہے فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ انسان اس کی آواز کی سماعت نہیں کرسکتا جب کہ دوسری مخلوقات اس کی آواز سنتی ہیں اور یہ چیز کوئی غیر ممکن نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ مردہ اپنی قبر میں سوال و جواب کے لئے زندہ کیا جاتا ہے۔
جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہوجانے کا حکم
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا رأيتم الجنازة فقوموا فمن تبعها فلا يقعد حتى توضع
حضرت ابوسعید ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم جنازے کو دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور جو شخص جنازہ کے ساتھ رہے تو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک کہ جنازہ ( لوگوں کے کاندھے سے زمین پر یا قبر میں) رکھ دیا جائے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جب جنازہ گھر میں سے نکلے تو میت کے احترام اور اس کے ایمان کی تعظیم کے پیش نظر کھڑا ہوجانا چاہئے گویا اس ارشاد گرامی میں اس طرف اشارہ ہے کہ ایسے موقع پر بےپرواہ نہ ہوجانا چاہئے بلکہ جنازہ دیکھتے ہی بےقرار ہو کر اور ڈر کر اٹھ کھڑا ہونا چاہئے اور جب تک کہ جنازہ رکھ نہ دیا جائے زمین پر بیٹھا نہ جائے بلکہ ک اندھا دینے کے لئے جنازہ کے ساتھ ساتھ رہے۔ بعض حنفی علماء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص جنازہ کے ساتھ جانے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو اکثر علماء کے نزدیک اس کے لئے جنازہ دیکھ کر اٹھ کر کھڑے رہنا مکروہ ہے۔ جب کہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اسے اختیار ہے کہ چاہے تو کھڑا رہے اور چاہے بیٹھا رہے۔ اسی طرح بعض علماء کا یہ بھی قول ہے کہ یہ دونوں ہی (یعنی کھڑے ہوجانا اور بیٹھے رہنا) مستحب ہیں جمہور علماء فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اور اس کے بعد آنے والی حدیث دونوں ہی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت کی بنا پر جو آگے آرہی ہے منسوخ ہیں۔
جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہوجانے کا حکم
وعن جابر قال : مرت جنازة فقام لها رسول الله صلى الله عليه و سلم وقمنا معه فقلنا : يا رسول الله إنها يهودية فقال : إن الموت فزع فإذا رأيتم الجنازة فقوموا
حضرت جابر ؓ سے راوی ہیں کہ ایک جنازہ گزرا تو رسول کریم ﷺ اسے دیکھ کر کھڑے ہوگئے ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، پھر ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! یہ ایک یہودی کا جنازہ تھا! (کسی مسلمان کا جنازہ تو تھا نہیں کہ جس کی تعظیم و تکریم کے لئے اٹھا جاتا) آنحضرت ﷺ نے فرمایا موت خوف اور گھبراہٹ کی چیز ہے جب تم جنازہ دیکھو تو (اگرچہ وہ جنازہ کافر ہی کا کیوں نہ ہو اٹھ کھڑے ہو۔ (بخاری ومسلم)
جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہوجانے کا حکم
وعن علي رضي الله عنه قال : رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم قام فقمنا وقعد فقعدنا يعني في الجنازة . رواه مسلم وفي رواية مالك وأبي داود : قام في الجنازة ثم قعد بعد
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول کریم ﷺ کو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوتے دیکھا چناچہ ہم بھی کھڑے ہوگئے جب آپ بیٹھے ہم بیٹھ گئے۔ (مسلم) اور حضرت مالک اور حضرت ابوداؤد کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوئے اور اس کے بعد بیٹھے۔
تشریح
پہلی روایت کے جو امام مسلم (رح) نے نقل کی ہے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ آنحضرت ﷺ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوگئے ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے جب جنازہ گزر گیا اور نظروں سے غائب ہوگیا تو آپ ﷺ بھی بیٹھ گئے اور آپ کے ساتھ ہم بھی بیٹھ گئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ کچھ عرصہ تک تو آپ کا معمول یہ رہا کہ جب جنازہ دیکھتے تو کھڑے ہوجایا کرتے تھے۔ لیکن بعد میں یہ صورت رہی کہ آپ جنازہ دیکھ کر اٹھتے نہیں تھے بلکہ بیٹھے ہی رہا کرتے تھے۔ اسی طرح دوسری روایت کے بھی کہ جسے حضرت امام مالک اور حضرت امام ابوداؤد نے نقل کیا ہے یہی دونوں مطلب ہیں اور دوسرا مطلب ہی زیادہ صحیح ہے۔
جنازہ کے ساتھ چلنے اور نماز جنازہ وتدفین میں شریک ہونے کا ثواب
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من اتبع جنازة مسلم إيمانا واحتسابا وكان معه حتى يصلي عليها ويفرغ من دفنها فإنه يرجع من الأجر بقيراطين كل قيراط مثل أحد ومن صلى عليها ثم رجع قبل أن تدفن فإنه يرجع بقيراط
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کے جنازہ کے ساتھ مومن ہونے کی حیثیت سے (یعنی فرمان شریعت پر عمل کرنے کی غرض سے) اور طلب ثواب کی خاطر جائے اور جنازہ کے ساتھ ساتھ رہے یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ پڑھے اور اس کی تدفین سے فراغت پائے تو وہ شخص دو قیراط ثواب لے کر واپس ہوتا ہے جس میں سے ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے اور جو شخص صرف جنازہ کی نماز پڑھ کر آجائے اور تدفین میں شریک نہ ہو تو وہ ایک قیراط ثواب لے کر واپس ہوتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
قیراط دینار کے بارھویں حصہ کو کہتے ہیں جس کا وزن تقریبا چار جو کے برابر ہوتا ہے یہاں قیراط سے مراد حصہ عظیم یعنی بہت بڑا انبار ہے جس کو احد پہاڑ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
نجاشی بادشاہ کی غائبانہ نماز جنازہ
وعن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم نعى للناس النجاشي اليوم الذي مات فيه وخرج بهم إلى المصلى فصف بهم وكبر أربع تكبيرات
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے نجاشی کے انتقال کی خبر لوگوں کو اسی روز پہنچائی جس دن کہ اس کا انتقال ہوا تھا پھر صحابہ ؓ کے ہمراہ عید گاہ پر تشریف لے گئے وہاں سب کے ہمراہ نماز جنازہ کے لئے صف بندی فرمائی اور چار تکبیریں کہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
نجاشی حبشہ کے بادشاہ کا لقب ہوا کرتا تھا اس نجاشی بادشاہ کا نام کہ جس کے جنازہ کی آنحضرت ﷺ نے نماز جنازہ غائبانہ ادا فرمائی اصحمہ تھا۔ یہ پہلے تو دین نصاریٰ کے پیرو تھے مگر بعد میں آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان لائے۔ جب کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ پر اور آپ کے صحابہ پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور مکہ میں ان کی زندگی اجیرن بنادی تو آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ مکہ سے ہجرت کر جائیں چناچہ صحابہ ؓ کی ایک بہت بڑی تعداد اپنا گھر بار چھوڑ کر حبشہ کو ہجرت کرگئی مسلمانوں کی یہی سب سے پہلی ہجرت تھی حبشہ میں اس وقت یہی اصحمہ نامی نجاشی بادشاہ تخت سلطنت پر تھے۔ انہوں نے صحابہ ؓ کی بہت اعلیٰ پیمانہ پر پذیرائی کی اور ان کی خدمت کو اپنے لئے باعث سعادت جان کر حق میزبانی ادا کیا۔ چناچہ جب ان کا انتقال ہوا تو آنحضرت ﷺ کو بہت زیادہ صدمہ ہوا اور آپ ﷺ نے صحابہ کو ان کے انتقال کی خبر دی اور سب کو لے کر عیدگاہ تشریف لے گئے اور وہاں ان کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔
مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا مسئلہ
ہدایہ میں لکھا ہے کہ مسجد میں جو جماعت پنجگانہ کے لئے بنائی گئی ہو جنازہ کی نماز نہ پڑھی جائے کیونکہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص مسجد میں میت پر نماز پڑھے گا تو اسے ثواب نہیں ملے گا۔ علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ خلاصہ میں لکھا ہے کہ مسجد میں نماز جنازہ مکروہ ہے خواہ جنازہ اور نمازی دونوں مسجد میں ہوں خواہ جنازہ مسجد کے اندر ہو اور سب نمازی یا تھوڑے نمازی مسجد کے باہر ہوں۔ ہاں البتہ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں مکروہ نہیں ہے جب کہ جنازہ مسجد سے باہر رکھا ہوا ہو۔ پھر اس کے بعد کراہت کے بارے میں بھی علماء کے اختلافی اقوال ہیں بعض حضرات تو کہتے ہیں کہ کراہت تحریمی ہے۔ جب کہ بعض حضرات کا قول ہے کہ کراہت تنزیہی ہے۔
حضرات شوافع اس حدیث کو اپنے مسلک کا مستدل قرار دیتے ہیں کہ نماز جنازہ غائبانہ جائز ہے چونکہ حنفیہ کے نزدیک نماز جنازہ غائبانہ جائز نہیں ہے اس لئے ان کی طرف سے اس حدیث کی تاویل کی جاتی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ نجاشی کا جنازہ آنحضرت ﷺ کے سامنے کردیا گیا ہو، کیونکہ حق تعالیٰ کی ذات اس پر قادر ہے کہ درمیان میں حائل پہاڑو جنگلات اور درودیوار ہٹا دیئے گئے ہوں اور آنحضرت ﷺ نجاشی کا جنازہ دیکھ رہے ہوں۔ لہٰذا یہ آنحضرت ﷺ کی خصوصیت ہوئی دوسروں کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ نماز جنازہ غائبانہ ادا کریں چناچہ حضرت ابن عباس ؓ کا یہ قول بغیر اسناد کے منقول ہے کہ سریر یعنی نجاشی کا جنازہ کھولا گیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اسے دیکھا اور اس پر نماز پڑھی۔
وعن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال : كان زيد بن أرقم يكبر على جنائزنا أربعا وإنه كبر على جنازة خمسا فسألناه فقال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يكبرها . رواه مسلم
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم ؓ ہمارے جنازوں (کی نماز) میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے۔ ایک جنازہ پر انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں تو ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ تو ہمیشہ چار تکبیریں کہا کرتے تھے آج پانچ تکبیریں کیوں کہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے۔ (مسلم)
تشریح
حضرت زید بن ارقم کے ارشاد کہ آنحضرت ﷺ پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو آپ ابتدائی زمانہ میں پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے یا یہ کہ کبھی کبھی پانچ تکبیریں کہتے تھے۔ تمام علماء کا متفقہ طور پر یہ فیصلہ ہے کہ نماز جنازہ میں چار ہی تکبیریں ہیں اگرچہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سے چار سے زائد تکبیریں بھی منقول ہیں لیکن علماء لکھتے ہیں کہ آخر میں آپ ﷺ سے چار ہی تکبیریں ثابت ہیں لہٰذا جن روایتوں میں چار سے زائد تکبیریں منقول ہیں وہ منسوخ ہیں اگر حضرت زید ؓ ان روایتوں کے منسوخ ہونے کے قائل نہیں ہیں تو اس اتفاقی اور اجماعی فیصلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے کا مسئلہ
وعن طلحة بن عبد الله بن عوف قال : صليت خلف ابن عباس على جنازة فقرأ فاتحة الكتاب فقال : لتعلموا أنها سنة . رواه البخاري
حضرت طلحہ بن عبداللہ بن عوف (طابعی) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کے پیچھے جنازہ کی نماز پڑھی چناچہ انہوں نے (تکبیر اولیٰ کے بعد) سورت فاتحہ پڑھی اور فرمایا کہ میں نے سورت فاتحہ اس لئے پڑھی ہے تاکہ تم لوگ جان لو کہ یہ سنت ہے۔ (بخاری)
تشریح
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ سنت ہے۔ سے مراد یہ ہے کہ نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنا واجب نہیں ہے۔ یعنی اگر تکبیر اولیٰ کے بعد سبحانک اللہم الخ کے بجائے سورت فاتحہ پڑھی جائے تو یہ سورت فاتحہ سنت (یعنی سبحانک اللہم الخ پڑھنے) کے قائم مقام ہوجاتی ہے۔ محقق امام ابن ہمام فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ میں سورت فاتحہ کی قرأت نہ کی جائے ہاں بہ نیت ثنا سورت فاتحہ پڑھی جاسکتی ہے چناچہ نماز جنازہ میں آنحضرت ﷺ سے سورت فاتحہ پڑھنا ثابت نہیں ہے۔ نیز موطا میں منقول ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نماز جنازہ میں سورت فاتحہ نہیں پڑھتے تھے۔ چونکہ حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنا واجب ہے اس لئے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کے الفاظ انہا سنۃ (یہ سنت ہے) میں سنت سے مراد ہے کہ سورت فاتحہ پڑھنا دین کا ایک مشروع طریقہ ہے لہٰذا ان کی اس تاویل سے وجوب کی نفی نہیں ہوتی۔
نماز جنازہ میں میت کے لئے آنحضرت ﷺ کی دعا
وعن عوف بن مالك قال : صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم على جنازة فحفظت من دعائه وهو يقول : اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس وأبدله دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وزوجا خيرا من زوجه وأدخله الجنة وأعذه من عذاب القبر ومن عذاب النار . وفي رواية : وقه فتنة القبر وعذاب النار قال حتى تمنيت أن أكون أنا ذلك الميت . رواه مسلم
حضرت عوف بن مالک فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ نے ایک جنازہ کی نماز پڑھی۔ میں نے آپ ﷺ کی وہ دعا یاد کرلی جو آپ (تیسری تکبیر کے بعد) فرماتے ہیں کہ (اور وہ یہ ہے) دعا (اللہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ واکرم نزلہ ووسع مدخلہ واغسلہ بالماء والثلج والبرد ونقہ من الخطایا کما نقیت الثوب الابیض من الدنس وابدلہ دارا خیرا من دارہ واہلا خیرا من اہلہ وزوجا خیرا مجن زوجہ وادخلہ الجنۃ واعذہ من عذاب القبر ومن عذاب النار)۔ (اے اللہ اس کے گناہ بخش دے، اس پر رحم فرما (یعنی اس عبادات و طاعات قبول فرما) اسے عافیت میں رکھ، اس کی (لغزشوں) سے درگزر فرما (جنت میں) اس کی اچھی مہمانی کر، اس کی قبر کشادہ فرما، اس کو پانی سے برف سے اور اولے سے پاک کر دے (یعنی طرح طرح کی مغفرتوں سے اس کے گناہ صاف کرا دے اسے گناہوں سے پاکیزہ فرما دے) جیسا کہ سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے۔ اسے (دنیا کے) اس گھر سے (آخرت کا) بہتر گھر عطا فرما اس کے خادموں سے بہتر خادم عطا فرما اور اس بیوی سے بہتر بیوی عطا فرما، اسے (بغیر عذاب کے ابتداء ہی میں) جنت میں داخل کر اور اسے قبر کے عذاب سے یا فرمایا کہ دوزخ کے عذاب سے پناہ دے اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ اس کے قبر کے فتنہ سے یعنی فرشتوں کے جواب میں متحیر ہونے سے اور آگے کے عذاب سے بچا۔ حضرت عوف (رح) فرماتے ہیں کہ جب میں نے آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے اس میت کے لئے یہ دعا سنی تو مجھے بڑا رشک آیا اور بےاختیار میرے دل سے یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش یہ میری میت ہوتی تاکہ آنحضرت ﷺ یہ دعا میرے لئے فرماتے۔
تشریح
اس کی بیوی سے بہتر بیوی، سے جس طرح جنت کی حوریں مراد ہیں اسی طرح دنیا کی عورتیں بھی مراد ہیں، لہٰذا اس بارے میں کوئی اشکال نہیں رہا کہ جنت میں دنیا کی عورتیں اپنے نماز روزے کی وجہ سے جنت میں حوروں سے افضل ہوں گی جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔ فقہ میں لکھا ہے کہ اس دعا کو آہستہ پڑھنا مستحب ہے آنحضرت ﷺ نے یہ دعا بآواز بلند اس لئے پڑھی تھی تاکہ اسے دوسرے سن کر یاد کرلیں۔ یہ دعا نسائی اور ترمذی نے بھی نقل کی ہے اور امام بخاری نے فرمایا ہے کہ جنازہ کے سلسلہ میں میت کے لئے جو دعائیں منقول ہیں ان سب میں یہ دعا سب سے زیادہ صحیح ہے۔
مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا مسئلہ
وعن أبي سلمة بن عبد الرحمن أن عائشة لما توفي سعد بن أبي وقاص قالت : أدخلوا به المسجد حتى أصلي عليه فأنكر ذلك عليها فقالت : والله لقد صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم على ابني بيضاء في المسجد : سهيل وأخيه . رواه مسلم
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کا انتقال ہوا (اور ان کا جنازہ ان کے مکان سے بقیع میں دفن کے لئے لایا گیا) تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ان کا جنازہ مسجد میں لاؤ تاکہ میں بھی نماز پڑھ سکوں لوگوں نے اس سے انکار کیا (کہ مسجد میں جناز کی نماز کیسے پڑھی جاسکتی ہے) حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! آنحضرت ﷺ نے بیضا کے دونوں سہیل اور ان کے بھائی کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی ہے۔ (مسلم)
تشریح
سہیل کے بھائی کا نام سہل تھا اور ان دونوں کی ماں کا نام بیضاء تھا۔ مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا مسئلہ مختلف فیہ ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک تو اس حدیث کے پیش نظر جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھی جاسکتی ہے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک مسجد میں نماز جنازہ مکروہ ہے۔ حضرت امام اعظم کی دلیل بھی یہی حدیث ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے کہنے پر صحابہ نے اس بات سے انکار کردیا کہ سعد ابی وقاص ؓ کا جنازہ مسجد میں لایا جائے کیونکہ آنحضرت ﷺ کا یہ معمول نہیں تھا کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھتے ہوں بلکہ مسجد ہی کے قریب ایک جگہ مقرر تھی جہاں آپ ﷺ نماز جنازہ پڑھا کرتے تھے۔ پھر یہ کہ اس کے علاوہ ابوداؤد میں ایک حدیث بھی بایں مضمون منقول ہے کہ جو شخص مسجد میں نماز جنازہ پڑھے گا اسے ثواب نہیں ملے گا۔ جہاں تک حضرت عائشہ ؓ کے اس ارشاد کا تعلق ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مسجد میں سہیل اور ان کے بھائی کی نماز جنازہ پڑھی ہے تو اس کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ ایسا آپ نے عذر کی وجہ سے کیا کہ اس وقت یا تو بارش ہو رہی تھی یا یہ کہ آپ اعتکاف میں تھے اس لئے آپ ﷺ نے مسجد ہی میں نماز جنازہ ادا فرمائی، چناچہ ایک روایت میں اس کی صراحت بھی کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ چونکہ اعتکاف میں تھے اس لئے آپ ﷺ نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی۔
نماز جنازہ میں امام کہاں کھڑا ہو؟
وعن سمرة بن جندب قال : صليت وراء رسول الله صلى الله عليه و سلم على امرأة ماتت في نفاسها فقام وسطها
حضرت سمرہ بن جندب فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کے پیچھے ایک عورت کے جنازہ کی نماز پڑھی جو حالت نفاس میں انتقال کرگئی تھی چناچہ آپ ﷺ نماز کے لئے جنازہ کے درمیان کھڑے ہوئے تھے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حضرت امام شافعی کا مسلک تو یہ ہے کہ عورت کے جنازہ کی نماز میں امام میت کے کو لہوں کے سامنے کھڑا ہو اور مرد کے جنازہ کی نماز میں میت کے سر کے سامنے کھڑا ہو، چناچہ عورت کی نماز جنازہ کے بارے میں تو حضرت امام شافعی (رح) کے مسلک کی دلیل یہی حدیث ہے جب کہ مرد کی نماز جنازہ کے بارے میں وہ اپنا مسلک ایک دوسری حدیث سے ثابت کرتے ہیں۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ امام میت کے سینہ کے سامنے کھڑا ہو کر خواہ مرد کا ہو یا عورت کا جنازہ ہو۔ اس حدیث کے بارے میں حضرت ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث میت کے سینہ کے سامنے کھڑے ہونے کی منافی نہیں کیونکہ انسانی جسم اعضاء کے اعتبار سے دراصل سینہ ہی وسط ہے بایں طور کہ سینہ کے اوپر سر اور ہاتھ ہیں اور سینہ کے نیچے پیٹ اور پاؤں ہیں اور ان سب کے درمیان سینہ ہے، نیز یہ احتمال ہے کہ آنحضرت ﷺ اس موقع پر سینہ کے سامنے کو لہوں کی طرف تھوڑا مائل کھڑے ہوں گے اور چونکہ یہ دونوں حصے یعنی سینہ اور کو لھے آپس میں بالکل قریب قریب ہیں اس لئے راوی نے یہ گمان کرلیا ہو کہ آپ کو لہوں کے سامنے کھڑے تھے۔ شمنی (رح) نے کہا ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اور حضرت امام ابویوسف کی روایت بھی یہ ہے کہ عورت کی جنازہ کی نماز میں امام میت کے کو لہوں کے سامنے کھڑا ہو۔ واللہ اعلم۔
تدفین کے بعد قبر پر نماز جنازہ
وعن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر بقبر دفن ليلا فقال : متى دفن هذا ؟ قالوا : البارحة . قال : أفلا آذنتموني ؟ قالوا : دفناه في ظلمة الليل فكرهنا أن نوقظك فقام فصففنا خلفه فصلى عليه
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ کا ایک ایسی قبر پر گزر ہوا جس میں بوقت شب مردہ دفن کیا گیا تھا آپ نے پوچھا کہ یہ کب دفن کیا گیا ہے؟ صحابہ ؓ نے جواب دیا کہ آج ہی رات میں۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے مجھے خبر کیوں نہیں دی؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم نے اسے اندھیری رات میں دفن کیا تھا اس وقت آپ کو جگانا ہمیں اچھا نہیں معلوم ہوا۔ پھر آنحضرت ﷺ کھڑے ہوئے ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی چناچہ آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ (بخاری ومسلم)
تدفین کے بعد قبر پر نماز جنازہ
وعن أبي هريرة أن امرأة سوداء كانت تقم المسجد أو شاب ففقدها رسول الله صلى الله عليه و سلم فسأل عنها أو عنه فقالوا : مات . قال : أفلا كنتم آذنتموني ؟ قال : فكأنهم صغروا أمرها أو أمره . فقال : دلوني على قبره فدلوه فصلى عليها . قال : إن هذه القبور مملوءة ظلمة على أهلها وإن الله ينورها لهم بصلاتي عليهم . ولفظه لمسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک کالی عورت تھی جو مسجد (نبوی) میں جھاڑو دیا کرتی تھی یا راوی کہتے ہیں کہ ایک جوان مرد تھا جو جھاڑو دیا کرتا تھا، رسول کریم ﷺ نے ایک دن اسے غائب پایا تو اس عورت، یا مرد کے بارے میں دریافت فرمایا کہ وہ کہاں ہے؟ بتایا گیا کہ وہ مرگئی یا وہ مرگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے کیوں نہیں بتایا گیا؟ تاکہ میں بھی اس کی نماز جنازہ پڑھتا، حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے اس عورت یا اس مرد کی موت کوئی اہمیت نہیں دی (کہ جس کے لئے آنحضرت ﷺ کو تکلیف دی جاتی گویا آنحضرت ﷺ کی تعظیم مقصود تھی) آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اچھا مجھے اس کی قبر بتادو کہ کہاں ہے؟ آپ کو جب اس کی قبر بتائی گئی تو (آپ وہاں تشریف لے گئے اور) اس کی قبر پر نماز پڑھی اور پھر فرمایا کہ یہ قبریں اپنے مردوں کے لئے تاریکیوں سے بھری ہوئی ہوتی ہیں ان قبروں پر میرے نماز پڑھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں روشن کردیتا ہے (اس روایت کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔
تشریح
ایک کالی عورت تھی یا ایک جوان مرد تھا یہ درحقیقت راوی کا شک ہے کہ صحیح طریقہ سے یہ بات یاد نہیں رہی کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہ فرمایا تھا کہ ایک کالی عورت تھی جو مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی یا یہ فرمایا کہ ایک جوان مرد تھا جو جھاڑو دیا کرتا تھا۔ تاریکیوں سے بھری ہوئی قبروں سے مراد صرف وہ قبریں ہیں جن پر آنحضرت ﷺ کا نماز پڑھنا ممکن تھا۔ اس مسئلہ میں کہ قبروں پر نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ علماء کا اختلاف ہے چناچہ جمہور علماء کا فیصلہ تو یہ ہے کہ قبر پر نماز جنازہ پڑھنا مشروع ہے خواہ پہلے اس کی نماز جنازہ ادا کی جا چکی ہو یا نہ ادا کی گئی ہو۔ ابراہیم نخعی، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام رحمہم اللہ کا قول یہ ہے کہ اگر پہلے نماز جنازہ ادا کی جا چکی ہے تو اب قبر پر نماز درست نہیں اور اگر پہلے نماز جنازہ ادا نہ کی گئی ہو تو پھر جائز ہے لیکن حضرت امام ابوحنیفہ کی شرط یہ بھی ہے کہ اگر مردہ اپنی قبر میں پھٹ نہ گیا ہو تو نماز درست ہوگی ورنہ تو قبر میں مردہ کے پھٹ جانے کی صورت میں نماز درست نہیں ہوگی۔ قبر میں مردہ کے پھٹ جانے کا اندازہ بعض حضرات نے تین دن متعین کیا ہے یعنی اگر تدفین کو تین دن نہ گزرے ہوں تو سمجھا جائے گا کہ مردہ اپنی قبر میں ابھی پھٹا نہیں ہے اور اگر تدفین کو تین دن یا تین دن سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ مردہ اپنی قبر میں پھٹ گیا ہے۔
نماز جنازہ میں چالیس آدمیوں کے شریک ہونے کا ثواب
وعن كريب مولى ابن عباس عن عبد الله بن عباس أنه مات له ابن بقديد أو بعسفان فقال : يا كريب انظر ما اجتمع له من الناس . قال : فخرجت فإذا ناس قد اجتمعوا له فأخبرته فقال : تقول : هم أربعون ؟ قال : نعم . قال : أخرجوه فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من رجل مسلم يموت فيقوم على جنازته أربعون رجلا لا يشركون بالله شيئا إلا شفعهم الله فيه . رواه مسلم
حضرت عبداللہ بن عباس کے آزاد کردہ غلام حضرت کریب حضرت عبداللہ بن عباس کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ جب مقام قدید یا مقام عسفاء میں (کہ جو مکہ کے قریب جگہیں ہیں) ان کے صاحبزادے کا انتقال ہوا (اور جنازہ تیار ہوا) تو انہوں نے کہا کہ کریب! جا کر دیکھو کہ نماز جنازہ کے لئے کتنے آدمی جمع ہوگئے ہیں؟ حضرت کریب کہتے ہیں کہ میں (یہ دیکھنے کے لئے) نکلا تو میں نے یہ دیکھا کہ بہت کافی لوگ جمع ہوچکے ہیں میں نے واپس آ کر حضرت ابن عباس کو بتایا (کہ بہت کافی لوگ جمع ہوگئے ہیں) حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ تمہارے خیال میں ان لوگوں کی تعداد چالیس ہوگی؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں! حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ تو پھر جنازہ (نماز کے لئے) باہر نکالو کیونکہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی مسلمان مرے اور اس کے جنازہ کی نماز ایسے چالیس آدمی پڑھیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوں تو اللہ تعالیٰ میت کے حق میں ان لوگوں کی شفاعت قبول کرتا ہے۔ (مسلم)