نماز جنازہ میں سو آدمیوں کے شریک ہونے کا ثواب
وعن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من ميت تصلي عليه أمة من المسلمين يبلغون مائة كلهم يشفعون له : إلا شفعوا فيه . رواه مسلم
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس میت کی نماز جنازہ مسلمانوں کی ایک ایسی جماعت پڑھے جس کی تعداد سو تک پہنچ جائے اور یہ جماعت میت کے لئے شفاعت کرے (یعنی دعاء مغفرت کرے) تو اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے (یعنی میت کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ (مسلم)
تشریح
پہلی حدیث میں چالیس آدمیوں کے نماز جنازہ پڑھنے کا ثواب بیان کیا گیا ہے جب کہ دوسری حدیث میں سو آدمیوں کی جماعت کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ چناچہ علماء اس اختلاف کی وجہ یہ لکھتے ہیں کہ پہلے سو آدمیوں کی شرکت کی فضیلت نازل ہوئی ہوگی پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے حال پر رحم فرماتے ہوئے یہ تعداد کم کر کے چالیس آدمیوں کی شرکت کی فضیلت بیان فرمائی نیز یہ بھی احتمال ہے کہ ان حدیثوں میں چالیس اور سو سے خاص طور پر یہی دونوں عدد نہ ہوں بلکہ ان سے کثرت جماعت مراد ہو۔
وعن أنس قال : مروا بجنازة فأثنوا عليها خيرا . فقال النبي صلى الله عليه و سلم : وجبت ثم مروا بأخرى فأثنوا عليها شرا . فقال : وجبت فقال عمر : ما وجبت ؟ فقال : هذا أثنيتم عليه خيرا فوجبت له الجنة وهذا أثنيتم عليه شرا فوجبت له النار أنتم شهداء الله في الأرض . وفي رواية : المؤمنون شهداء الله في الأرض
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ ؓ کا ایک جنازہ پر گزر ہوا تو اس کی تعریف کرنے لگے، نبی کریم ﷺ نے صحابہ کی زبان میت کی تعریف سن کر فرمایا کہ واجب ہوگئی۔ اس طرح صحابہ کا ایک دوسرے جنازہ پر گزر ہوا تو اس کی برائی بیان کرنے لگے۔ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کی زبان سے میت کی برائی سن کر فرمایا کہ واجب ہوگئی۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا کہ کیا چیز واجب ہوگئی؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی تم نے تعریف بیان کی اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور اب جس شخص کی تم برائی بیان کر رہے ہو اس کے لئے دوزخ واجب ہوگئی اور (پھر فرمایا کہ) تم زمین پر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔ (بخاری و مسلم) ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مومن اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں۔
تشریح
جنت واجب ہوگئی، کا مطلب یہ ہے کہ تم جس شخص کی تعریف بیان کر رہے ہو اگر اس کی وہ تعریف صحیح اور سچ ہے یا یہ کہ اس کی موت اسی خیر و بھلائی کی حالت میں ہوئی ہے جیسے تم بیان کر رہے ہو تو اس کے لئے جنت کی سعادت ثابت ہوگئی۔ اسی طرح دوزخ واجب ہوگئی۔ کا مطلب بھی یہی ہے کہ جس شخص کی تم برائی بیان کر رہے ہو۔ اگر اس کی وہ برائی صحیح اور واقعی ہے یا یہ کہ اس کی موت اسی برائی کی حالت میں ہوئی ہے جسے تم بیان کر رہے ہو تو اس کے لئے دوزخ کی سزا ثابت ہوگئی۔ مظہر کا قول ہے کہ یہ حکم عام طور پر ہر شخص کے لئے نہیں ہے کہ جس کسی بھی شخص کے بارے میں لوگ خیر و بھلائی کا ذکر کریں تو اس کے لئے جنت لازم ہی ہوجائے بلکہ جس شخص کے بارے میں لوگ اچھے اور نیک خیالات کا اظہار کریں اور اس کی تعریف بیان کریں تو اس لے لئے جنت کی امید کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح جس شخص کے بارے میں لوگ برے خیالات کا اظہار کریں اور زبان خلق اس کی برائی میں مصروف ہو تو اس کے بارے میں یہ خوف ہوسکتا ہے کہ وہ دوزخ میں جائے اب رہی یہ بات کہ آنحضرت ﷺ نے پہلے شخص کے لئے جنت اور دوسرے شخص کے لئے دوزخ کو واجب کیوں کہا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے پہلے شخص کے جنتی ہونے اور دوسرے شخص کے دوزخی ہونے کے فیصلہ سے مطلع کردیا تھا۔ زین عرف فرماتے ہیں کہ کسی شخص کا خیر و بھلائی اور شر و برائی کے ساتھ ذکر کرنا اس کے لئے جنت و دوزخ کو واجب نہیں کرتا بلکہ درحقیقت کسی شخص کے بارے میں زبان خلق کا بھلا یا برا تاثر صرف اس کے جنتی یا دوزخی ہونے کی علامت ہوتا ہے۔ پھر یہ کہ اس تعریف اور اس برائی کا اعتبار ہوگا جس کی نیک بخت لوگوں اور متقی و پرہیز گار بندوں کی زبانیں گواہی دیں کیونکہ اللہ کے نیک بخت و متقی بندوں کی زبان اس کے قلب سلیم کی ہمنوا ہوتی ہے لہٰذا وہ جس شخص کی تعریف کریں گے یا جس شخص کی برائی کریں گے اس میں کسی خارجی دباؤ یا نفس کے کسی غلط تقاضا کا قطعی دخل نہیں ہوگا بلکہ ان کے زبانی اثرات اور حقیقت کے صالح قلب کے صحیح فیصلہ کے غماز ہوں گے چناچہ کسی شخص کے بارے میں ان کے تعریف اس شخص کے جنتی ہونے کی علامت ہوگی اور کسی شخص کے بارے میں ان کی بیان کی ہوئی برائی اس شخص کے دوزخی ہونے کی علامت ہوگی۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ اگر کوئی فاسق اور دنیا دار شخص نفس کے غلط تقاضا اور اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کی خاطر کسی برے اور بدکار شخص کی تعریف بیان کرے اور اس کے بارے میں اچھے تاثرات کا اظہار کرے یا اسی طرح کسی نیک بخت اور مرد مومن کی برائی بیان کرے تو نہ اس کی تعریف کا اعتبار ہوگا اور نہ اس کی بیان کی ہوئی برائی کی کوئی حیثیت ہوگی بلکہ اس کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ یہ اپنے نفس کا غلام اور ضمیر فروش ہے جو محض ذاتی اغراض و مقاصد کی خاطر اس شخص کو تو اچھا کہہ رہا ہے جس کی برائی اور بدکاری عیاں تھی اور اس نیک بخت کو برا کہہ رہا ہے جس کی نیک بختی مثالی حیثیت رکھتی تھی۔ انتم شہداء اللہ تم (اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو) آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد اکثر کے اعتبار سے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص جیسا ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی زبان سے اسے ویسا ہی کہلواتا ہے یعنی اگر کوئی شخص نیک ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے بندوں کی زبان سے نیک ہی کہلواتا ہے۔ اور کوئی شخص بدکار ہوتا ہے تو اللہ اپنے بندوں کی زبان سے اس کی بدکاری ہی کی شہادت دلواتا ہے چناچہ بندہ کی یہ شہادت درحقیقت اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وہ جس کے بارے میں جس تاثر کا اظہار کر رہے ہیں وہ واقعۃ ایسا ہی ہے۔
زبان خلق نقارہ اللہ سمجھو
وعن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما مسلم شهد له أربعة بخير أدخله الله الجنة قلنا : وثلاثة ؟ قال : وثلاثة . قلنا واثنان ؟ قال : واثنان ثم لم نسأله عن الواحد . رواه البخاري
حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو مسلمان کہ گواہی دیں واسطے اس کے چار شخص کے ساتھ بھلائی کے داخل کرے گا اس کو اللہ تعالیٰ جنت میں۔ کہا ہم نے اگر تین شخص گواہی دیں؟ فرمایا! اگر تین بھی گواہی دیں تو بھی! کہا ہم نے اگر دو گواہی دیں؟ فرمایا! ور دو بھی! پھر نہ پوچھا ہم نے ان سے حال ایک کا۔ (بخاری)
جو مرچکے ہیں انہیں برا مت کہو
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تسبوا الأموات فإنهم قد أفضوا إلى ما قدموا رواه البخاري
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے نہ برا کہو مردوں کو اس لئے کہ تحقیق وہ پہنچے ساتھ جزا اس چیز کے کہ آگے بھیجی۔ (بخاری)
شہداء احد کی تکفین وتدفین کا معاملہ
وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يجمع بين الرجلين في قتلى أحد في ثوب واحد ثم يقول : أيهم أكثر أخذا للقرآن ؟ فإذا أشير له إلى أحدهما قدمه في اللحد وقال : أنا شهيد على هؤلاء يوم القيامة . وأمر بدفنهم بدمائهم ولم يصل عليهم ولم يغسلوا . رواه البخاري
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ تھے جمع کرتے دو شخصوں کو شہداء احد میں بیچ ایک کپڑے کے پھر فرماتے تھے کس کو ان میں سے زیادہ قرآن یاد ہے پس جب اشارہ کیا جاتا واسطے اس کے آپ ﷺ کی طرف ان میں سے آگے کرتے اس کو قبر میں اور فرماتے کہ میں گواہی دوں گا دن قیامت کے اور حکم فرمایا ساتھ دفن کرنے ان کے خون سمیت اور نماز پڑھی ان پر اور نہ غسل دئیے گئے۔ (بخاری)
تدفین کے بعد قبرستان سے سواری پر واپس آنے میں مضائقہ نہیں
وعن جابر بن سمرة قال : أتى النبي صلى الله عليه و سلم بفرس معرور فركبه حين انصرف من جنازة ابن الدحداح ونحن نمشي حوله . رواه مسلم
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ لایا گیا نبی ﷺ کے پاس گھوڑا بغیر زین کے پس سوار ہوئے اس پر اس وقت کے پھر جنازہ ابن دحداح کے سے اور ہم چلتے تھے گرد حضرت ﷺ کے۔ (مسلم)
جنازہ کے ساتھ چلنے کا طریقہ
وعن المغيرة بن شعبة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الراكب يسير خلف الجنازة والماشي يمشي خلفها وأمامها وعن يمينها وعن يسارها قريبا منها والسقط يصلى عليه ويدعى لوالديه بالمغفرة والرحمة . رواه أبو داود وفي رواية أحمد والترمذي والنسائي وابن ماجه قال : الراكب خلف الجنازة والماشي حيث شاء منها والطفل يصلى عليه وفي المصابيح عن المغيرة بن زياد
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سوار چلے پچھلے جنازہ کے اور پیادہ چلے پچھلے جنازہ کے اور آگے اس کے اور دائیں اور بائیں اس کے پاس اس کے اور کچھا بچا نماز پڑھی جائے اس پر اور دعا کی جائے واسطے ماں باپ اس کے ساتھ بخشش اور رحمت کے ( ابوداؤد) اور بیچ روایت احمد اور ترمذی اور نسائی اور ابن ماجہ کے یوں ہے کہ فرمایا سوار چلے پیچھے جنازے کے اور پیادہ جس طرف چاہے جنازے کے چلے اور لڑکا کہ مرجائے نماز جنازے کی پڑھی جائے اس پر اور مصابیح میں یہ روایت مغیرہ بن زیاد سے ہے۔
جنازہ کے آگے چلنے کا مسئلہ
وعن الزهري عن سالم عن أبيه قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبا بكر وعمر يمشون أمام الجنازة . رواه أحمد وأبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وقال الترمذي وأهل الحديث كأنهم يرونه مرسلا
زہری (رح) سے روایت ہے کہ روایت کی سالم سے اس نے اپنے باپ سے کہا کہ عبداللہ نے دیکھا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اور ابوبکر اور عمر کو چلتے تھے آگے جنازے کے (احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے اور کہا ترمذی نے اور اہل حدیث گویا جانتے ہیں اس حدیث کو مرسل۔
جنازہ کے پیچھے چلنا بہتر ہے
وعن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الجنازة متبوعة ولا تتبع ليس معها من تقدمها . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه وقال الترمذي وأبو ماجد الراوي رجل مجهول
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جنازہ متبوع ہے اور نہیں وہ تابع نہیں ہوتا ساتھ اس کے وہ شخص کہ آگے بڑھ گیا اس سے (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، کہا ترمذی نے ابوماجد راوی مجہول ہے۔
جنازہ کو کاندھا دینا میت کے حق کی ادائیگی ہے
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تبع جنازة وحلمها ثلاث مرات : فقد قضى ما عليه من حقها . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو شخص ساتھ ہو وے جنازے کے اور اٹھائے اس کو پس تحقیق ادا کیا حق اس کا اس پر تھا۔ (ترمذی) اور کہا یہ حدیث غریب ہے تحقیق روایت کی شرح السنۃ میں کہ نبی ﷺ نے اٹھایا جنازہ سعد بن معاذ کا درمیان دو لکڑیوں کے۔
جنازہ کے ساتھ سواری پر چلنے والوں کو آنحضرت ﷺ کی تنبیہ
وعن ثوبان قال : خرجنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في جنازة فرأى ناسا ركبانا فقال : ألا تستحيون ؟ إن ملائكة الله على أقدامهم وأنتم على ظهور الدواب . رواه الترمذي وابن ماجه وروى أبو داود نحوه وقال الترمذي : وقد روي عن ثوبان موقوفا
ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ نکلے ہم ساتھ نبی ﷺ کے بیچ جنازے کے پس لوگوں کو سوار دیکھا فرمایا کیا نہیں جیا کرتے تم کہ تحقیق فرشتے اللہ کے اپنے قدموں پر ہیں اور تم اوپر پیٹھ جانوروں کے ہو (ترمذی، ابن ماجہ) اور روایت کی ابوداؤد نے مانند اس کی کہا ترمذی نے اور تحقیق روایت کی گئی یہ ثوبان سے موقوف۔
جنازہ پر سورت فاتحہ کی قرات
وعن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم قرأ على الجنازة بفاتحة الكتاب . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے پڑھی جنازہ پر سورت فاتحہ، (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)
نماز جنازہ میں میت کے لئے خلوص دل سے دعا کرو
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا صليتم على الميت فأخلصوا له الدعاء . رواه أبو داود وابن ماجه
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس وقت تم پڑھو نماز میت پر پس خالص کرو اس کے لئے دعا۔ ( ابوداؤد، ابن ماجہ)
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا صلى على الجنازة قال : اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا . اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان . اللهم لا تحرمنا أجره ولا تفتنا بعده . رواه أحمد وأبو داود والترمذي وابن ماجه
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ تھے رسول اللہ ﷺ جب پڑھتے نماز جنازہ فرماتے یا الٰہی بخشش کر واسطے ہمارے زندوں کے اور ہمارے مردوں کے اور حاضر ہمارے کے اور غائب ہمارے کے اور ہمارے چھوٹوں کے اور ہماری عورتوں کے یا الٰہی جس کو زندہ رکھے تو ہم میں سے پس زندہ رکھ اس کو اسلام پر اور جس کو مارے تو ہم میں سے پس مار اس کو ایمان پر۔ یا الٰہی نہ محروم رکھ ہم کو ثواب اس کے سے اور نہ فتنہ میں ڈال ہم کو پیچھے اس کے۔ (احمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ) اور روایت کی نسائی نے ابوابراہیم اشہلی سے کہ اس نے نقل کیا اپنے باپ سے اور تمام ہوئی روایت اس کی وانثانا تک اور بیچ روایت ابی داؤد کے پس زندہ رکھ اس کو ایمان پر اور وفات دے اس کو اسلام پر اور اس حدیث کے آخر میں یوں ہے کہ نہ گمراہ کر ہم کو اس کے پیچھے۔
ایک میت کے لئے آنحضرت ﷺ کی دعا
وعن واثلة بن الأسقع قال : صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على رجل من المسلمين فسمعته يقول : اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحق اللهم اغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم . رواه أبو داود وابن ماجه
حضرت واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت ہے کہ نماز پڑھائی ہم کو رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص پر مسلمانوں میں سے پس سنا میں نے آپ ﷺ کو فرماتے تھے یا الٰہی تحقیق فلاں بیٹا فلانے کا بیچ امان تیری کے ہے اور تیری پناہ کے ہے پس بچا اس کو فتنہ قبر سے اور آگ کے عذاب سے اور تو صاحب وفا کا ہے اور تو صاحب حق کا ہے یا الٰہی بخشش کر واسطے اس کے اور رحم کر اس پر تحقیق تو بخشنے والا مہربان ہے۔ ( ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
ملا علی قاری (رح) نے وحبل جو ارک میں لفظ حبل کے کئی معنی بیان کئے ہیں اور آخر میں لکھا ہے کہ اس جملہ کے سب سے بہتر معنی یہ ہیں کہ وہ قرآن کریم سے تعلق رکھنے والا اور اسے مضبوطی سے پکڑنے والا تھا۔ لہٰذا یہاں لفظ حبل سے قرآن مراد ہے جیسا کہ قرآن کریم کی اس آیت (کتاب اللہ کو مضبوطی سے پکڑو) میں حبل سے مراد قرآن کریم ہے اسی طرح لفظ جوار سے امان مراد ہے اور اس جملہ و حبل جو ارک میں اضافت بیانیہ ہے گویا اس جملہ کے وضاحتی معنی یہ ہوں گے کہ وہ شخص قرآن کریم کو مضبوطی سے پکڑنے والا تھا، ایسا قرآن کریم کہ جسے مضبوطی سے اختیار کرنا (یعنی اس پر پوری طرح عمل کرنا) امن و سلامتی ایمان و اسلام اور معرفت کا باعث اور ذریعہ ہے۔
مردوں کی برائیاں ذکر نہ کرو
وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اذكروا محاسن موتاكم وكفوا عن مساويهم . رواه أبو داود والترمذي
حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم اپنے مرے ہوئے لوگوں کی نیکیاں ہی ذکر کرلیا کرو اور ان کی برائیوں کے ذکر سے بچتے رہو۔ ( ابوداؤد، ترمذی)
تشریح
مرے ہوئے لوگوں کے نیک اعمال اور ان کی بھلائیوں کو اس لئے یاد اور بیان کرنا چاہئے کہ نیک اور نیکی کے ذکر کے وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے۔ مردوں کی نیکیوں کو ذکر کرنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے وہ استحباب کے طور پر ہے لیکن ان کی برائیوں کے ذکر سے بچنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے وہ وجوب کے طور پر ہے یعنی ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کی برائیاں ذکر نہ کرے اور اس فعل سے بچتا رہے چناچہ حجۃ الاسلام نے لکھا ہے کہ مرے ہوئے لوگوں کی غیبت زندہ لوگوں کی غیبت سے کہیں زیادہ قابل نفریں ہے۔ کتاب ازہار میں علماء کا یہ قول لکھا ہوا ہے کہ میت کو نہلانے والا اگر میت میں کوئی اچھی علامت دیکھے مثلاً میت کا چہرہ روشن اور منور ہو یا میت میں سے خوشبو آتی ہو تو اسے لوگوں کے سامنے بیان کرنا مستحب ہے اور اگر کوئی بری علامات دیکھے مثلاً (نعوذباللہ) میت کا چہرہ یا بدن سیاہ ہوگیا ہو یا اس کی صورت مسخ ہوگئی ہو تو اسے لوگوں کے سامنے بیان کرنا حرام ہے۔
نماز جنازہ میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کا مسئلہ
وعن نافع أبي غالب قال : صليت مع أنس بن مالك على جنازة رجل فقام حيال رأسه ثم جاؤوا بجنازة امرأة من قريش فقالوا : يا أبا حمزة صل عليها فقام حيال وسط السرير فقال له العلاء بن زياد : هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم قام على الجنازة مقامك منها ؟ ومن الرجل مقامك منه ؟ قال : نعم . رواه الترمذي وابن ماجه وفي رواية أبي داود نحوه مع زيادة وفيه : فقام عند عجيزة المرأة
حضرت نافعی (رح) جن کی کنیت ابوغالب ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ کے ساتھ ایک جنازہ (یعنی حضرت عبداللہ بن عمر کے جنازہ) کی نماز پڑھی، حضرت انس (جو امام تھے) جنازہ کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی پھر لوگ قریش کی ایک عورت کا جنازہ لے کر آئے اور کہا اے ابوحمزہ! (یہ انس کی کنیت ہے) اس جنازہ کی نماز پڑھا دیجئے چناچہ حضرت انس تخت ( کہ جس پر جنازہ تھا) کے درمیانی حصہ کے سامنے کھڑے ہوئے (اور نماز پڑھائی یہ دیکھ کر) علاء بن زیاد نے کہا کہ کیا آپ نے رسول کریم ﷺ کو (نماز جنازہ میں) اسی طرح کھڑے ہوتے دیکھا ہے جیسا کہ آپ اس عورت کے جنازہ کے درمیان اور مرد کے جنازہ کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے تھے؟ یعنی کیا آنحضرت ﷺ بھی نماز جنازہ پڑھاتے وقت عورت کے جنازہ پر اس کے درمیانی حصہ کے سامنے اور مرد کے جنازہ پر اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوتے تھے؟ حضرت انس نے فرمایا ہاں! ابوداؤد نے بھی اس روایت کو کچھ زیادتی کے ساتھ نقل کیا ہے اور ان کی روایت میں فقام حیال وسط السریر کے بجائے فقام عند عجیزۃ المرأۃ (عورت کے جنازہ پر اس کے کو لھے کے قریب کھڑے ہوئے) کے الفاظ منقول ہیں۔ (ترمذی وابن ماجہ)
تشریح
اس مسئلہ میں کہ نماز جنازہ میں امام جنازہ کے پاس کہاں کھڑا ہو؟ جو اختلاف ہے اور ائمہ دین کے جو مسلک ہیں اس کو پوری تفصیل اور وضاحت کے ساتھ گزشتہ صفحات میں پہلی فصل کی ایک حدیث کی تشریح کے ضمن میں بیان کی جا چکا ہے۔
جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہونے کا مسئلہ
عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال : كان ابن حنيف وقيس ابن سعد قاعدين بالقادسية فمر عليهما بجنازة فقاما فقيل لهما : إنها من أهل الأرض أي من أهل الذمة فقالا : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم مرت به جنازة فقام فقيل له : إنها جنازة يهودي . فقال : أليست نفسا ؟
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) حضرت سہل ابن حنیف اور حضرت قیس بن سعد ؓ قادسیہ میں (ایک جگہ) بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا جسے دیکھ کر یہ دونوں صحابی کھڑے ہوگئے ان سے کہا گیا کہ یہ جنازہ اہل زمین یعنی ذمی کا ہے؟ دونوں صحابہ نے فرمایا کہ (اسی طرح ایک دن) رسول کریم ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا، آپ (اسے دیکھ کر) کھڑے ہوگئے، آپ سے عرض کیا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ (تو کیا ہوا) کیا یہ جاندار نہیں ہے؟ (بخاری ومسلم)
تشریح
قادسیہ ایک جگہ کا نام ہے جو کوفہ سے پندرہ کوس کے فاصلہ پر واقع ہے۔ روایت میں ذمیوں کو اہل زمین سے تعبیر کیا گیا ہے یا تو ان کے کم رتبہ ہونے کی وجہ سے یا یہ کہ مسلمانوں نے انہیں زمین کی کاشت پر مقرر کر رکھا تھا اور ان سے خراج لیتے تھے اس لئے انہیں اہل زمین کہا گیا۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کیا یہ جاندار نہیں ہے؟ کا مطلب یہ ہے کہ کیا یہ کسی انسان کا جنازہ نہیں ہے جسے دیکھ کر عبرت نہ حاصل کی جائے؟ حاصل یہ کہ جنازہ کو دیکھ کر خوف محسوس ہوتا ہے اور عبرت حاصل ہوتی ہے خواہ مسلم کا ہو یا غیر مسلم کا اس لئے میں اس جنازہ کو دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوگیا۔ گزشتہ صفحات میں یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہونا حضرت علی ؓ کی روایت سے منسوخ ہوچکا ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ ان دونوں صحابہ کو اس منسوخی کا علم نہ ہوا ہو اس لئے یہ حضرات جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے ہوں گے۔
آنحضرت ﷺ کا معمول اور اس کی منسوخی
وعن عبادة بن الصامت قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا تبع جنازة لم يقعد حتى توضع في اللحد فعرض له حبر من اليهود فقال له : إنا هكذا نضع يا محمد قال : فجلس رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال : خالفوهم . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث غريب وبشر بن رافع الراوي ليس بالقوي
حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب جنازے کے ہمراہ چلتے تو اس وقت تک نہیں بیٹھتے تھے کہ جب تک میت کو قبر میں نہیں رکھ دیا جاتا تھا (ایک مرتبہ) ایک یہودی عالم آپ کے سامنے پیش ہوا اور اس نے عرض کیا کہ اے محمد ﷺ ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں (کہ جب تک مردہ قبر میں نہیں رکھ دیا جاتا کھڑے رہتے ہیں) حضرت عبادہ کہتے ہیں کہ (اس کے بعد) آنحضرت ﷺ (دفن کرنے تک کھڑے نہیں رہتے تھے بلکہ) بیٹھ جایا کرتے تھے، نیز آپ نے یہ فرمایا کہ تم یہودیوں کی مخالفت کرو۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے اور بشر بن رافع جو اس روایت کا ایک راوی ہے قوی نہیں ہے۔
جنازہ دیکھ کر کھڑا نہ ہونا چاہئے
وعن علي قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرنا بالقيام في الجنازة ثم جلس بعد ذلك وأمرنا بالجلوس . رواه أحمد
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ (پہلے تو) ہمیں جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجانے کے لئے فرمایا کرتے تھے پھر (بعد میں) آپ بیٹھے رہتے تھے اور ہمیں بھی بیٹھے رہنے کے لئے فرماتے تھے۔ (احمد)
تشریح
اس حدیث کے ظاہر مفہوم سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ پہلے تو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجانے کا حکم تھا مگر بعد میں یہ حکم منسوخ قرار دے دیا گیا لہٰذا اب اس کے بعد مسئلہ یہی ہے کہ جو لوگ جنازہ کے ساتھ نہ ہوں بلکہ کہیں بیٹھے ہوئے ہوں انہیں جنازہ دیکھ کر کھڑا نہ ہونا چاہئے۔