جنازہ دیکھ کر کھڑا نہ ہونا چاہئے
وعن محمد بن سيرين قال : إن جنازة مرت بالحسن بن علي وابن عباس فقام الحسن ولم يقم ابن عباس فقال الحسن : أليس قد قام رسول الله صلى الله عليه و سلم لجنازة يهودي ؟ قال : نعم ثم جلس . رواه النسائي
حضرت محمد بن سیرین (رح) فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) حضرت حسن بن علی اور حضرت ابن عباس کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا تو حضرت حسن (اسے دیکھ کر) کھڑے ہوگئے مگر حضرت ابن عباس کھڑے نہیں ہوئے حضرت حسن نے (حضرت ابن عباس کا یہ عمل دیکھ کر) ان سے فرمایا کہ کیا رسول کریم ﷺ ایک یہودی کے جنازے کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوگئے تھے؟ حضرت ابن عباس نے جواب دیا کہ ہاں! (بےشک آپ کھڑے ہوئے تھے) مگر بعد میں آپ (جنازہ دیکھ کر) بیٹھے رہتے تھے۔ (نسائی)
تشریح
حضرت ابن عباس ؓ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تو بیشک آپ ﷺ کا یہی معمول تھا کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجایا کرتے تھے مگر بعد میں آپ کا یہ معمول ہوگیا تھا کہ جنازہ دیکھ کر آپ کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ بیٹھے رہتے تھے لہٰذا جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجانے کا حکم منسوخ ہوگیا۔ حضرت حسن کے عمل کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ حضرت حسن ؓ کو اس حکم کے منسوخ ہوجانے کا علم نہیں ہوگا اس لئے وہ نہ صرف یہ کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوگئے بلکہ انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ کے کھڑے نہ ہونے پر اعتراض بھی کیا۔ آنحضرت ﷺ یہودی کا جنازہ دیکھ کر کیوں کھڑے ہوئے؟
آنحضرت ﷺ یہودی کا جنازہ دیکھ کر کیوں کھڑے ہوئے؟
وعن جعفر بن محمد عن أبيه أن الحسن بن علي كان جالسا فمر عليه بجنازة فقام الناس حتى جاوزت الجنازة فقال الحسن : إنما مر بجنازة يهودي وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم على طريقها جالسا وكره أن تعلوا رأسه جنازة يهودي فقام . رواه النسائي
حضرت جعفر بن محمد (رح) (یعنی حضرت جعفر صادق) اپنے والد مکرم (حضرت محمد باقر (رح) ) سے یہ روایت کرتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) حضرت علی ؓ (ایک جگہ) بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے سامنے سے جنازہ لے جایا گیا، وہ لوگ (جنہیں اس مسئلہ کی منسوخی کا علم نہیں ہوا تھا جنازہ دیکھ کر) کھڑے ہوئے تھے اور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک کہ جنازہ گزر نہیں گیا، حضرت حسن نے ان سے فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ جب ایک یہودی کا جنازہ لے جایا جا رہا تھا تو اس وقت رسول کریم ﷺ راستہ پر بیٹھے ہوئے تھے آپ ﷺ نے اسے پسند نہیں کیا کہ یہودی کا جنازہ آپ ﷺ کے سر مبارک سے اونچا ہوا لہٰذا آپ کھڑے ہوگئے۔ (نسائی)
تشریح
حضرت حسن کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ یہودی کے جنازہ کو دیکھ کر جو کھڑے ہوئے تھے تو اس کی وجہ میت کا احترام نہیں تھا بلکہ اصل حقیقت تو یہ تھی کہ آپ ﷺ نے یہ بات پسند نہیں کی کہ ایک یہودی کا جنازہ آپ کے سر مبارک سے اونچا ہو گویا حضرت حسن ؓ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعہ ان لوگوں پر اعتراض کیا جو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوئے تھے۔ ابھی اس سے پہلے جو حدیث گزری ہے اس سے تو معلوم ہوا کہ حضرت حسن نہ صرف یہ کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوگئے بلکہ انہوں نے حضرت ابن عباس پر اس لئے اعتراض کیا کہ وہ جنازہ دیکھ کر کھڑے نہیں ہوئے تھے اور یہاں اس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ جو لوگ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوگئے حضرت حسن نے ان پر اعتراض کیا۔ لہٰذا اس اختلاف کے بارے میں محدثین رحمہم اللہ لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ جو یہاں بیان کیا جا رہا ہے اس واقعہ کے بعد کا ہے جو اس سے پہلی حدیث میں بیان کیا گیا ہے پہلے چونکہ حضرت حسن کو منسوخی کا علم نہیں ہوا تھا اس لئے انہوں نے حضرت عباس پر اعتراض کیا۔ مگر جب بعد میں تحقیق و جستجو کے بعد یہ ثابت ہوگیا کہ آنحضرت ﷺ مذکورہ بالا وجہ سے یہودی کا جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوگئے تھے اور یہ کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجانے کا حکم اب منسوخ ہوگیا ہے تو انہوں نے اس موقع پر اعتراض کیا جو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوگئے تھے۔ بہر حال جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجانے کی اور بھی کئی وجوہ ہیں۔ مثلاً یہ کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ ڈر اور عبرت کی وجہ سے جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجاتے تھے کبھی ملائکہ کی تعظیم پیش نظر کھڑے ہوجاتے تھے جو جنازہ کے ساتھ ہوتے تھے کبھی آپ اس لئے بھی کھڑے ہوجاتے تھے کہ آپ جنازہ کو اپنے سر مبارک سے بلند ہونا پسند نہیں فرماتے تھے۔ شیخ عبدا الحق محدث دہلوی (رح) نے لکھا ہے کہ یہ حدیث منقطع ہے کیونکہ حضرت امام باقر حضرت حسن کے زمانے میں نہیں تھے۔
آنحضرت ﷺ یہودی کا جنازہ دیکھ کر کیوں کھڑے ہوئے؟
وعن أبي موسى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا مرت بك جنازة يهودي أو نصراني أو مسلم فقوموا لها فلستم لها تقومون إنما تقومون لمن معها من الملائكة . رواه أحمد
حضرت ابوموسیٰ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تمہارے سامنے کسی یہودی یا نصرانی یا مسلمان کا جنازہ گزرے تو اسے دیکھ کر کھڑے ہوجاؤ اور تم جنازہ (کے ادب و احترام) کے لئے نہیں کھڑے ہوتے بلکہ ان فرشتوں (کی تعظیم) کے لئے کھڑے ہوتے جو جنازہ کے ساتھ ہوتے ہیں۔
تشریح
جیسا کہ ابھی اوپر بیان کیا گیا ہے جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کے وجوہ مختلف ہیں انہیں میں سے ایک وجہ یہاں بیان کی جا رہی ہے نیز یہ کہ کھڑے ہوجانے کا یہ حکم پہلے تھا اب منسوخ ہوگیا ہے اسے بھی گزشتہ احادیث کی تشریح میں بیان کیا جا چکا ہے۔
نماز جنازہ میں تین صفیں ہونی چاہئیں
وعن مالك بن هبيرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من مسلم يموت فيصلي عليه ثلاثة صفوف من المسلمين إلا أوجب . فكان مالك إذا استقل أهل الجنازة جزأهم ثلاثة صفوف لهذا الحديث . رواه أبو داود وفي رواية الترمذي : قال كان مالك بن هبيرة إذا صلى الجنازة فتقال الناس عليها جزأهم ثلاثة أجزاء ثم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صلى عليه ثلاثة صفوف أوجب . وروى ابن ماجه نحوه
حضرت مالک بن ہبیرہ ؓ راوی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی مسلمان مرتا ہے اور اس پر مسلمانوں کی تین صفوں پر مشتمل جماعت نماز پڑھتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت اور مغفرت واجب کردیتا ہے، چناچہ حضرت مالک (نماز جنازہ میں) تھوڑے آدمی (بھی) دیکھتے تو اس حدیث کے بموجب انہیں تین صفوں میں تقسیم کردیتے تھے۔ ( ابوداؤد) ترمذی کی روایت میں ہے کہ حضرت مالک بن ہبیرہ جب نماز جنازہ پڑھتے (یعنی نماز جنازہ پڑھنے کا ارادہ کرتے) اور لوگوں کی تعداد کم دیکھتے تو ان کو تین حصوں (یعنی تین صفوں) میں تقسیم کردیتے تھے اور پھر فرماتے تھے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی نماز جنازہ تین صفیں پڑھتیں اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کو واجب کردیتا ہے۔ ابن ماجہ نے بھی اس قسم کی روایت نقل کی ہے۔
تشریح
اسلامی عقائد کا یہ ایک واضح مسئلہ ہے کہ ہر شخص کو یہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ اللہ جل شانہ پر کوئی چیز واجب نہیں ہے یعنی اس کی بزرگی و برتر ذات کسی چیز کے کرنے پر مجبور نہیں ہے لیکن یہاں حدیث میں چونکہ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت کو واجب کرتا ہے اس لئے علماء حدیث کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ جس شخص کی نماز جنازہ میں مسلمانوں کی تین صفیں شریک ہوں اس بشارت کی بموجب اللہ تعالیٰ اپنے اوپر یہ واجب کرلیتا ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گویا یہاں حدیث میں جس وجوب کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے وعدہ کی مناسبت سے ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ کیا ہے اور ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ جو وعدہ کرے وہ ایفاء نہ ہو یہ ناممکن ہے اس لئے ایفاء عہد اور اپنے فضل و کرم کے اظہار کے طور پر حق تعالیٰ کسی مجبور یا دباؤ کے تحت نہیں بلکہ از خود اپنے اوپر یہ واجب کرلیتا ہے کہ ایسے شخص کو جنت میں داخل کرے چناچہ اسے اصطلاحاً وجوب لغیرہ کہا جاتا ہے جو اس عقیدہ کے منافی نہیں ہے ہاں وجوب لذاتہ حق تعالیٰ کی ذات کے لئے ممتنع ہے جس کے بارے میں مذکورہ بالا اسلامی عقیدہ بیان کیا گیا ہے کرمانی (رح) نے لکھا ہے کہ نماز جنازہ میں سب صفوں سے زیادہ افضل سب سے پیچھے والی صف ہوتی ہے بخلاف دوسری نمازوں کے کہ ان میں سب سے آگے والی صف سب سے زیادہ افضل ہوتی ہے۔ نیز علماء یہ مسئلہ لکھتے ہیں کہ نماز جنازہ کے بعد میت کے لئے دعا نہ کی جائے (جیسا کہ دوسری نمازوں میں سلام پھیرنے کے بعد دعا مانگی جاتی ہے) کیونکہ اس سے نماز جنازہ میں اضافہ کا اشتباہ ہوتا ہے۔
نماز جنازہ میں آنحضرت ﷺ کی دعا
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم في الصلاة على الجنازة : اللهم أنت ربها وأنت خلقتها وأنت هديتها إلى الإسلام وأنت قبضت روحها وأنت أعلم بسرها وعلانيتها جئنا شفعاء فاغفر له . رواه أبو داود
حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ کے بارے میں یہ روایت کرتے تھے کہ آپ جنازہ میں یہ دعا فرمایا کرتے تھے۔ دعا (اللہم انت ربہا وانت خلقتہا وانت ہدیتہا الی الاسلام وانت قبضت روھہا وانت اعلم بسرہا وعلانیتہا جئنا شفعاء فاغفرلہ)۔ اے الٰہی تو اس کا پروردگار ہے تو نے ہی اسے پیدا کیا ہے اور تو نے ہی اس کو اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور (اب) تو نے ہی اس کی روح قبض کی ہے (اے رب العالمین) تو اس کے باطن کو بھی سب سے زیادہ جاننے والا ہے اور اس کے ظاہر کو بھی (اے اللہ) ہم اس بندہ کی شفاعت کے لئے حاضر ہوئے ہیں تو اسے بخش دے۔ ( ابوداؤد )
ایک بچہ کے جنازہ پر حضرت ابوہریرہ (رض) کی دعا
وعن سعيد بن المسيب قال : صليت وراء أبي هريرة على صبي لم يعمل خطيئة قط فسمعته يقول : اللهم أعذه من عذاب القبر . رواه مالك
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کے پیچھے ایک ایسے لڑکے کی نماز جنازہ پڑھی جس سے کبھی بھی کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا تھا، چناچہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو (نماز میں) یہ دعا مانگتے سنا کہ اے اللہ! اس بچہ کو عذاب قبر سے پناہ دے۔ (مالک)
تشریح
علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ روایت کے الفاظ لم یعمل خطیئۃ قط یعنی کبھی بھی کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا تھا) لفظ صبی (یعنی بچہ) کی صفت کاشفہ ہے کیونکہ غیر بالغ سے گناہ کا سرزد ہونا متصور نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی دعا اے اللہ اس بچہ کو عذاب قبر سے پناہ دے۔ میں عذاب قبر سے عقوبت (یعنی سزا) اور قبر کا سوال و جواب مراد نہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اے اللہ! اس بچہ کو قبر میں حسرت و غم، قبر کی وحشت اور ضغط قبر (یعنی قبر کے بھینچے) کے رنج و خوف سے محفوظ و مامون رکھ اور ظاہر ہے کہ ضغط قبر میں ہر شخص مبتلا ہوگا خواہ بالغ ہو یا نابالغ۔ قبر میں بچوں سے سوال و جواب ہوگا یا نہیں؟ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ جس طرح قبر میں بالغ لوگوں سے سوال و جواب ہوگا اسی طرح نابالغ بچوں سے بھی سوال و جواب ہوگا یا نہیں؟ چناچہ کچھ حضرات کا قول تو یہ ہے کہ بچوں سے بھی سوال و جواب ہوگا جب کہ دوسرے حضرات کا قول یہ ہے کہ بچے اس سے مستثنیٰ ہوں گے ان سے کوئی سوال و جواب نہیں ہوگا اور یہی قول صحیح ہے کیونکہ غیر مکلف کا عذاب میں مبتلا ہونا اصول شریعت کے خلاف ہے۔
ایک بچہ کے جنازہ پر حضرت ابوہریرہ (رض) کی دعا
وعن البخاري تعليقا قال : يقرأ الحسن على الطفل فاتحة الكتاب ويقول : اللهم اجعله لنا سلفا وفرطا وذخرا وأجرا
حضرت امام بخاری (رح) نے بطریق تعلیق (یعنی صحیح بخاری کے ترجمۃ الباب میں بغیر سند کے اس حدیث کو) نقل کیا ہے کہ حضرت حسن بصری (رح) بچہ کی نماز جنازہ میں تکبیر اولیٰ کے بعد سبحانک اللہم الخ کی بجائے سورت فاتحہ پڑھا کرتے تھے اور (تیسری تکبیر کے بعد) یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اللہم اجعلہ لنا سلفا وفرطا وذخرا واجرا اے اللہ اس بچے کو (قیامت کے دن) ہمارا پیشوا، پیش رو اور ہمارے لئے ذخیرہ ثواب بنا۔
تشریح
سلف اس مال کو کہتے ہیں کہ جسے آگے (منزل پر) بھیج دیا جائے تاکہ اسے بھیجنے والا (منزل پر پہنچ کر) اس سے فائدہ حاصل کرے۔ اسی طرح فرط لشکر کا وہ شخص کہلاتا ہے جو لشکر سے آگے پہنچ کر لشکر کے لئے سامان خوردو نوش وغیرہ کا انتظام کرتا ہے۔ یہاں دعا میں ان دونوں سے مراد یہ ہے کہ یہ بچہ قیامت کے روز ہماری بہتری و بھلائی اور ہماری منفعت کا باعث بنے بایں طور کہ پروردگار سے ہماری شفاعت کرے ذخرہ اس مال کو کہتے ہیں جو ذخیرہ کے طور پر رکھا جائے تاکہ حاجت و ضرورت کے وقت کام آئے۔
نا تمام بچہ کی نماز نہ پڑھی جائے
وعن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الطفل لا يصلى عليه ولا يرث ولا يورث حتى يستهل . رواه الترمذي وابن ماجه إلا أنه لم يذكر : ولا يورث
حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (ناتمام) بچہ کی نہ تو نماز پڑھی جائے اور نہ اسے کسی کا وارث قرار دیا جائے اور نہ ہی اس کا کوئی وارث ہو بشرطیکہ پیٹ سے باہر آتے وقت اس کی آواز نہ نکلے (یعنی اس وقت اس میں زندگی کے آثار نہ پائے جائیں جس کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے) اس روایت کو ترمذی (رح) اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے مگر ابن ماجہ نے اپنی روایت میں لایورث نقل نہیں کیا ہے۔
نماز جنازہ میں بھی امام اوپر اور مقتدی نیچے نہ کھڑے ہوں
وعن أبي مسعود الأنصاري قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يقوم الإمام فوق شيء والناس خلفه يعني أسفل منه . رواه الدراقطني وأبو داود
حضرت ابومسعود انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ امام (تنہا) کسی چیز کے اوپر کھڑا ہو اور مقتدی اس کے پیچھے (اس سے نیچے) کھڑے ہوں۔ (دارقطنی)
تشریح
نماز جنازہ میں امام کے لئے یہ ممنوع ہے کہ وہ تو کسی اونچی جگہ کھڑا ہو اور سب مقتدی اس سے نیچے ہوں لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ یہ بات بطریق اولیٰ ممنوع ہوگی کہ صرف امام تو نیچے کھڑا ہو اور مقتدی اوپر کھڑے ہوں۔ یہ مسئلہ سب نمازوں کا ہے نماز جنازہ ہی کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ چناچہ حدیث کے الفاظ بھی مخصوص نہیں ہیں لیکن مصنف مشکوۃ نے اس حدیث کو نماز جنازہ پر محمول کر کے اس باب میں نقل کیا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ یہ حدیث اس باب میں بھی وارد ہوئی ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ لوگ نماز جناز میں یہ طریقہ اختیار کئے ہوں گے لہٰذا اس سے منع کیا ہے۔