مردہ کو دفن کرنے کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 28 · 31 hadiths · Page 2 of 2

1694Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر وصدیق وحضرت عمر (رض) کی قبریں۔

وعن البراء بن عازب قال : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في جنازة رجل من الأنصار فانتهينا إلى القبر ولما يلحد بعد فجلس النبي صلى الله عليه و سلم مستقبل القبلة وجلسنا معه . رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه وزاد في آخره : كن على رؤوسنا الطير

حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ ہم رسول کریم ﷺ کے ہمراہ انصار میں سے ایک شخص کے جنازہ کے ساتھ چلے جب ہم قبرستان پہنچے تو چونکہ ابھی تدفین عمل میں نہیں آئی تھی (یعنی قبر نہیں تیار ہوئی تھی) اس لئے رسول کریم ﷺ قبلہ کی طرف تشریف فرما ہوگئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ (یعنی آپ کے گرد) بیٹھ گئے (ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ) اور ابن ماجہ نے اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے تھے یعنی انتہائی خاموش اور چپ چاپ سر جھکائے ہوئے بیٹھے تھے۔ تشریح باب مایقال عند من حضرہ الموت کی تیسری فصل میں بھی یہ حدیث تفصیل کے ساتھ نقل کی جا چکی ہے یہاں اس حدیث کا صرف انتہائی خاموش اور چپ چاپ سر جھکائے ہوئے بیٹھے تھے۔

1695Mishkaat-al-Masabih

میت کی تحقیر ممنوع ہے

وعن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كسر عظم الميت ككسره حيا . رواه مالك وأبو داود وابن ماجه

حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مردہ کی ہڈیوں کو توڑنا (باعتبار گناہ کے) زندہ شخص کی ہڈیوں کے توڑنے کی مانند ہے (مالک، ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح اس ارشاد گرامی میں اس طرف اشارہ ہے کہ جس طرح زندہ شخص کی تحقیر و بےعزتی ممنوع ہے اسی طرح میت کی تحقیر اور بےوقعتی بھی ممنوع ہے نیز جس طرح زندہ شخص تکلیف پر ایذاء اور آرام پر سکون محسوس کرتا ہے اسی طرح مردہ بھی سکون اور ایذاء محسوس کرتا ہے۔

1696Mishkaat-al-Masabih

صاحبزادی کے انتقال پر آنحضر ﷺ کے آنسو

عن أنس قال : شهدنا بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم تدفن ورسول الله صلى الله عليه و سلم جالس على القبر فرأيت عينيه تدمعان فقال : هل فيكم من أحد لم يقارف الليلة ؟ . فقال أبو طلحة : أنا . قال : فانزل في قبرها فنزل في قبرها . رواه البخاري

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں اس وقت موجود تھا جب کہ رسول کریم ﷺ کی صاحبزادی (یعنی حضرت عثمان غنی ؓ کی زوجہ محترمہ حضرت ام کلثوم) سپرد خاک کی جا رہی تھیں اور آنحضرت ﷺ قبر کے پاس تشریف فرما تھے، میں نے یہ دیکھا کہ آنحضرت ﷺ کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں، بہرحال اس وقت آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ کیا تم میں ایسا بھی کوئی شخص موجود ہے جو آج کی رات اپنی عورت سے ہم بستر نہ ہوا ہو؟ حضرت ابوطلحہ ؓ نے کہا کہ ہاں! میں ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا (میت کو قبر میں رکھنے کے لئے) تم ہی قبر میں اترو۔ چناچہ وہ قبر میں اترے۔ (بخاری) تشریح آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے اپنی عورتوں سے صحبت نہ کرنے کے بارے میں اس لئے دریافت فرمایا کہ اگرچہ اپنی عورتوں سے صحبت ممنوع نہیں ہے لیکن نہ کرنے میں اس طرح سے ملائکہ سے مشابہت ہوتی ہے لہٰذا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگرچہ اپنی عورتوں سے نہ کی ہو اور اس طرح وہ ملائکہ کے مشابہ ہو وہی ام کلثوم کو قبر میں اتارے۔ اب یہاں ایک اشکال پیدا ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ حضرت ابوطلحہ نے ام کلثوم کو قبر میں اتارا جو ان کے لئے اجنبی اور غیر محرم تھے؟ اس اشکال کی توجیہ یہ ہے کہ یا تو ان کی خصوصیات میں سے تھا کہ آنحضرت ﷺ نے انہیں بطور خاص قبر میں اترنے کا حکم فرمایا یا یہ کہ اس طرح آنحضرت ﷺ نے اس بارے میں بیان جواز کی طرف اشارہ فرمایا۔

1697Mishkaat-al-Masabih

عورت کی میت کو مرد ہی قبر میں اتاریں

محقق علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ عورت کی میت کو قبر میں اتارنے یا نکالنے کا کام صرف مرد ہی انجام دیں اور چونکہ جس طرح عورت کو اس کی زندگی میں کسی اجنبی مرد کا ضرورت کے وقت اس طرح چھونا جائز ہے کہ درمیان میں کپڑا وغیرہ حائل ہو اسی طرح مرد و عورت کو بھی بوقت ضرورت اجنبی مرد کا چھونا جائز ہے۔ لہٰذا جب کوئی عورت مرجائے اور اس کا کوئی محرم نہ ہو تو اسے قبر میں اس کے وہ پڑوسی اتاریں جو نیک و صالح ضعیف موجود نہ ہوں تو پھر وہ پڑوسی جو ان کو قبر میں اتاریں جو نیک و صالح ہوں ہاں اگر محرم موجود ہوں خواہ دودھ کے اعتبار سے محرم ہوں خواہ سسرال کی طرف سے تو وہی قبر میں اتر کر دفن کریں۔ اگر مذکورہ بالا حدیث کے بارے میں اشکال پیدا ہو کہ علماء تو یہ لکھتے ہیں کہ عورت کی میت کو قبر میں اتار نے کے لئے خاوند اور محارم اولیٰ ہیں تو حضرت ام کلثوم کو حضرت عثمان نے یا خود آنحضرت ﷺ نے قبر میں کیوں نہیں اتارا؟ تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ یہ احتمال ہے اس وقت آنحضرت ﷺ اور حضرت عثمان کو کوئی عذد پیش آگیا ہوگا اس لئے نہ تو آنحضرت ﷺ ہی قبر میں اترے اور نہ حضرت عثمان ہی نے قبر میں اتر کر حضرت ام کلثوم ؓ کو رکھا۔

1698Mishkaat-al-Masabih

حضرت عمرو بن عاص کی وصیت

وعن عمرو بن العاص قال لأبنه وهو في سياق الموت : إذا أنا مت فلا تصحبني نائحة ولا نار فإذا دفنتموني فشنوا علي التراب شنا ثم أقيموا حول قبري قدر ما ينحر جزور ويقسم لحمها حتى أستأنس بكم وأعلم ماذا أراجع به رسل ربي . رواه مسلم

حضرت عمرو بن عاص ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے اس وقت جب کہ وہ حالت نزع میں تھے اپنے صاحبزادے (حضرت عبداللہ) کو یہ وصیت کی کہ جب میرا انتقال ہوجائے تو میرے جنازہ کے ہمراہ نہ تو کوئی نوحہ کرنے والی ہو اور نہ آگ ہو اور جب مجھے دفن کرنے لگو تو میرے اوپر مٹی آہستہ آہستہ (یعنی تھوڑی تھوڑی کر کے) ڈالنا پھر دفن کردینے کے بعد میری قبر کے پاس دعائے استقامت و مغفرت اور ایصال ثواب کے لئے اتنی دیر تک کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ کو ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے یہاں تک کہ میں تمہاری وجہ سے آرام پا جاؤں اور بغیر کسی وحشت و گھبراہٹ کے جان لوں کہ میں اپنے پروردگار کے فرشتوں کو کیا جواب دیتا ہوں۔ (مسلم) تشریح زمانہ جاہلیت میں یہ طریقہ تھا کہ فخر و بڑائی اور ریا کے طور پر میت کے ساتھ آگ لے کر چلتے تھے تاکہ اس کے ذریعہ خوشبو وغیرہ جلا سکیں یا کسی اور کام میں لاسکیں شریعت اسلام نے اس سے منع فرمایا اس لئے حضرت عمرو بن عاص نے یہ وصیت کی کہ میرے جنازہ کے ساتھ نہ تو نوحہ کرنے والی ہو کہ یہ خالص غیر اسلامی طریقہ اور نہ آگ ہو کہ یہ بھی زمانہ جاہلیت کی ایک نشانی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر دان میں اگر بتی جلا کر بلا ضرورت مشعلیں و پنچ و شاخ وغیرہ روشن کر کے جنازہ کے ساتھ لے کر چلنا یا جنازہ کے ہمراہ ککڑ والوں کا آگ لے کر چلنا ممنوع ہے۔ یہاں تک کہ میں آرام پا جاؤں، کا مطلب یہ ہے کہ قبر پر تمہاری دعائے استقامت و مغفرت، ذکر و قرأت قرآن کریم اور استغفار و ایصال ثواب کی وجہ سے سوال و جواب کے مرحلہ سے میں باآسانی گزر جاؤں اور قبر میں اللہ کی رحمتوں سے ہمکنا ہوجاؤں۔ چناچہ ابوداؤد کی ایک روایت میں منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ جب کسی مردہ کی تدفین سے فارغ ہوجاتے تو اس کی قبر پر کھڑے ہوجاتے اور صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے کہ اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اور اس کے لئے دعائے استقامت و اثبات مانگو کیونکہ اس وقت قبر میں اس سے سوال و جواب ہو رہا ہے۔

1699Mishkaat-al-Masabih

تدفین میں جلدی کرنی چاہئے

وعن عبد الله بن عمر قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : إذا مات أحدكم فلا تحبسوه وأسرعوا به إلى قبره وليقرأ عند رأسه فاتحة البقرة وعند رجليه بخاتمة البقرة . رواه البيهقي في شعب الإيمان . وقال : والصحيح أنه موقوف عليه

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو اسے محبوس نہ رکھو بلکہ اس کی قبر تک اسے جلد پہنچا دو نیز یہ بھی چاہئے کہ (قبر پر کھڑے ہو کر) اس کے سر کے قریب سورت بقرہ کی ابتدائی آیتیں (یعنی شروع سے مفلحون تک) اور پاؤں کے قریب سورت البقرہ کی آخری آیتیں یعنی آمن الرسول سے آخرت تک کی آیتیں پڑھی جائیں۔ (بیہقی نے اس روایت کو شعب الایمان میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ یہ روایت حضرت عبداللہ پر موقوف ہے۔ تشریح اسے محبوس نہ رکھو، بغیر کسی عذر کے میت کو دفن کرنے میں تاخیر نہ کرو بلکہ جہاں تک ہو سکے جلد سے جلد میت کو اس دنیا کی آخری آرام گاہ قبر تک پہنچا دو، چناچہ علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص مرجائے تو اس کی تدفین و تکفین میں جلدی کرنا مستحب ہے فلاتحسبو کے بعد کا جملہ واسرعوا بہ یا تو اس سے پہلے جملہ کی تاکید کے طور پر لایا گیا ہے جیسا کہ ترجمہ میں ظاہر کیا گیا ہے یا پھر اس جملہ سے اس طرف اشار فرمایا جا رہا ہے کہ جب جنازہ لے کر چلیں تو جلدی چلنا سنت ہے یعنی جنازہ لے کر درمیانی چال کے ساتھ چلا جائے نہ تو دوڑنا چاہئے اور نہ بالکل ہی آہستہ آہستہ چلنا چاہئے۔

1700Mishkaat-al-Masabih

ایصال وثواب کی فضیلت

حضرت امام احمد بن حنبل (رح) فرماتے ہیں کہ جب تم قبرستان جاؤ تو وہاں سورت فاتحہ، معوذتین اور قل ہو اللہ احد پڑھ کر اس کا ثواب اہل قبرستان کو پہنچاؤ جو انہیں پہنچ جاتا ہے۔ ایصال ثواب کے لئے قبروں پر جانے سے اہل قبر یعنی میت کے لئے تو یہ مقصود ہے کہ وہ ایصال ثواب اور دعائے مغفرت وغیرہ سے فائدہ حاصل کرے اور قبر پر جانے والے کے لئے اس لئے بہتر ہے کہ وہاں پہنچ کر وہ عبرت حاصل کرے۔ حضرت علی ؓ سے بطریق مرفوع روایت ہے کہ جو شخص قبرستان جائے اور وہاں قل ہو اللہ احد گیارہ مرتبہ پڑھ کر اس کا ثواب اہل قبرستان کو بخشے تو اسے قبرستان میں مدفون مردوں کی تعداد کے بقدر ثواب ملتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص قبرستان جائے اور سورت فاتحہ قل ہو اللہ احد اور الہٰکم التکاثر پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کرے کہ میں نے تیرے کلام پاک میں سے جو کچھ اس وقت پڑھا ہے اس کا ثواب اس قبرستان میں مدفون مومنین اور مومنات کو پہنچاتا ہوں۔ تو قبرستان میں مدفون مردے اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے شفاعت کرنے والے ہوجاتے ہیں۔ حضرت حماد مکی (رح) اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات مکہ کے ایک قبرستان جا پہنچا اور وہاں ایک قبر پر سر رکھ کر سو رہا اچانک خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ اہل قبرستان یعنی مردے مختلف ٹکڑیوں میں حلقہ بنائے بیٹھے ہیں میں نے کہا کہ کیا قیامت قائم ہوگئی ہے؟ جو تم سب قبروں سے باہر نکلے بیٹھے ہو انہوں نے کہا کہ نہیں، بلکہ ہمارے بھائیوں میں سے ایک شخص نے قل ہو اللہ احد پڑھ کر اس کا ثواب ہمیں بخشا ہے لہٰذا اب ہم لوگ ایک برس سے یہاں بیٹھے ہوئے اسی ثواب کو آپس میں تقسیم کر رہے ہیں۔ حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص قبرستان جائے اور وہاں بغرض ایصال ثواب سورت یٰسین تلاوت کرے تو اللہ تعالیٰ اہل قبرستان کے عذاب میں کمی کرتا ہے اور اس شخص کو قبرستان میں مدفون مردوں کی تعداد کے بقدر نیکیاں دی جاتی ہیں۔ حضرت امام شافعی کا قول علامہ سیوطی جو شافعی المذہب ہیں، شرح الصدور میں لکھا ہے کہ یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے کہ قرآن پڑھ کر اگر اس کا ثواب میت کو بخشا جائے تو آیا وہ ثواب پہنچتا ہے یا نہیں؟ چناچہ جمہور سلف یعنی صحابہ وتابعین پہلے زمانہ کے علماء اور تینوں ائمہ تو یہ کہتے ہیں کہ میت کو اس کا ثواب پہنچتا ہے مگر ہمارے امام حضرت شافعی نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے۔ بھر اس کے بعد سیوطی نے امام شافعی کے دلائل کے کئی جواب لکھ کر یہ بات ثابت کی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بدنی اعمال و عبادات کا ثواب جیسے نماز روزہ اور قرآن مجید کی تلاوت وغیرہ کسی میت کو بخش دے تو اس میت کو اس کا ثواب ملتا ہے (اس بارے میں مزید تحقیق کے لئے شرح الصدور یا مرقات دیکھی جاسکتی ہے۔

1701Mishkaat-al-Masabih

حضرت عائشہ (رض) اپنے بھائی کی قبر پر

وعن ابن أبي مليكة قال : لما توفي عبد الرحمن بن أبي بكر بالحبشي ( موضع قريب من مكة ) وهو موضع فحمل إلى مكة فدفن بها فلما قدمت عائشة أتت قبر عبد الرحمن بن أبي بكر فقالت : وكنا كندماني جذيمة حقبة من الدهر حتى قيل لن يتصدعا فلما تفرقنا كأني ومالكا لطول اجتماع لم نبت ليلة معا ثم قالت : والله لو حضرتك ما دفنت إلا حيث مت ولو شهدتك ما زرتك رواه الترمذي

حضرت ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر کا حبشہ میں جو ایک مقام ہے انتقال ہوا تو ان کی نعش کو مکہ لایا گیا اور وہاں انہیں دفن کیا گیا، جب حضرت عائشہ صدیقہ حج کے لئے مکہ تشریف لائیں تو اپنے بھائی حضرت عبدالرحمن کی قبر پر بھی گئیں اور وہاں یہ شعر پڑھے وکنا کندمانی جذیمۃ حقبۃ من الدہر حتی قیل لن یتصدعا فلما تفرقنا کانی ومالکا لطول اجتماع لم نبت لیلۃ معا یعنی ہم دونوں جذیمہ کے دونوں ہمنشینوں کی طرف ایک مدت دراز تک زمانہ سے جدا نہیں ہوئے یہاں تک کہ یہ کہا جانے لگا کہ یہ دونوں تو کبھی جدا نہیں ہوں گے لیکن جب ہم دونوں یعنی میں اور مال ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو طویل زمانہ تک ساتھ رہنے کے باوجود گویا ایک رات کے لئے بھی یکجا نہ ہوئے اس کے بعد حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! اگر تمہارے انتقال کے وقت میں موجود ہوتی تو تم وہیں دفن کئے جاتے جہاں تمہارا انتقال ہوا تھا کیونکہ میت کو اس جگہ سے کہ جہاں اس کا انتقال ہوا ہو دوسری جگہ منتقل نہ کرنا سنت اور افضل ہے نیز یہ کہ اگر میں انتقال کے وقت تمہارے پاس موجود ہوتی تو اس وقت تمہاری قبر پر نہ آتی۔ (ترمذی) تشریح حبشی مکہ کے قریب ایک موضع کا نام تھا، بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ مکہ سے ایک منزل کا نام ہے۔ حضرت عائشہ ؓ جب اپنے بھائی کی قبر پر گئیں تو وہاں انہوں نے اپنے بھائی کے فراق میں حسب حال دو شعر پڑھے یہ اشعار تمیم بن نویرہ نے اپنے بھائی مالک بن نویرہ کے مرثیہ میں کہے تھے جسے خالد بن ولید نے حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کے زمانہ میں قتل کردیا تھا۔ ان اشعار میں تمیم بن نویرہ نے خود کو اور اپنے بھائی کو جزیمہ کے دو ہم نشینوں کے ساتھ مشابہت دی ہے۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ کسی زمانہ میں عراق کا ایک بادشاہ تھا جس کا نام جذیمہ تھا۔ جزیرہ عرب بھی اس کے تصرف میں تھا، اس بادشاہ کے دو ہم نشین تھے جو دونوں ہم نشین اور ندیم رہے ان دونوں بھائیوں کو نعمان نے مار ڈالا۔ ان کے قتل کا واقعہ بھی بڑا عجیب ہے جو مقامات حریری میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔ بہرحال تمیم اپنے بھائی کے مرثیہ میں کہہ رہا ہے کہ میں اور تم دونوں ہم نشین اور آپس میں انتہائی گہرا تعلق اور محبت رکھنے والے تھے اور ہم دونوں میں ایک طویل زمانہ تک جدائی کی نوبت نہیں آئی تھی جیسا کہ جذیمہ کے دونوں ہم نشین آپس میں اتنے طویل عرصہ تک انتہائی گہرا اخلاص و محبت اور ہم نشینی رکھتے تھے کہ لوگ انہیں دیکھ دیکھ کر کہتے تھے کہ یہ دونوں کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے۔ پھر تمیم کہتا ہے کہ جب مالک کی موت ہوئی اور اس طرح ہم دونوں میں دائمی جدائی ہوگئی تو اب اس کے باوجود کہ ہم دونوں ایک طویل زمانہ تک ایک ساتھ رہے مگر اب مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ گویا ہم دونوں ایک رات کے لئے بھی یکجا اور ایک ساتھ نہیں رہے یعنی محبت و یکجائی کا وہ طویل زمانہ چند لمحوں میں سمٹا ہوا یا کہ ایک خواب محسوس ہو رہا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے الفاظ اگر میں انتقال کے وقت تمہارے پاس موجود ہوتی تو اس وقت تمہاری قبر پر نہ آتی مطلب یہ ہے کہ چونکہ نبی کریم ﷺ نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو قبروں پر جائیں اس لئے میں یہاں قبر پر ہرگز نہ آتی مگر انتقال کے وقت چونکہ تمہاری زیارت نصیب نہیں ہوسکی تھی اس لئے مجبوراً اب قبر پر آگئی ہوں تاکہ میرا قبر پر آجانا آخری وقت میں تمہاری ملاقات کا قائم مقام بن جائے۔

1702Mishkaat-al-Masabih

امام شافعی کا مستدل

وعن أبي رافع قال : سل رسول الله صلى الله عليه و سلم سعدا ورش على قبره ماء . رواه ابن ماجه

حضرت رافع ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت سعد کو جنازہ میں سے سر کی طرف سے نکالا (یعنی انہیں سر کی طرف سے قبر میں اتارا) اور ان کی قبر پر پانی چھڑکا۔ (ابن ماجہ) تشریح مردہ کو قبر میں اتارنے کے بارے میں حضرت امام شافعی کا مسلک بیان کیا جا چکا ہے۔ یہ حدیث ان کے اسی مسلک کی دلیل ہے حنفیہ کی طرف سے اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یا تو یہ ضرورت پر یا پھر یہ کہ بیان جواز پر محمول ہے چناچہ اس کی پوری تفصیل اسی باب کی دوسری فصل میں حضرت ابن عباس کی روایت کی تشریح کے ضمن میں دیکھی جاسکتی ہے۔

1703Mishkaat-al-Masabih

سرہانے کی طرف سے مٹی ڈالنے کی ابتداء کرنا

وعن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى على جنازة ثم أتى القبر فحثا عليه من قبل رأسه ثلاثا . رواه ابن ماجه

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک جنازہ پر نماز پڑھی پھر اس کی قبر پر آئے اور سرہانے کی طرف سے قبر میں تین مٹھی مٹی ڈالی۔ (ابن ماجہ)

1704Mishkaat-al-Masabih

قبر پر سہارا دے کر لیٹنے یا بیٹھنے کی ممانعت

وعن عمرو بن حزم قال : رآني النبي صلى الله عليه و سلم متكئا على قبر فقال : لا تؤذ صاحب هذا القبر أولا تؤذه . رواه أحمد

حضرت عمرو بن حزم ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے ایک قبر کے سہارے (لیٹے یا بیٹھے ہوئے) دیکھا تو فرمایا کہ تم اس قبر والے کو ایذاء نہ دو یا یہ فرمایا کہ اسے ایذاء نہ دو (احمد) تشریح ایذاء سے غالباً مراد یہ ہے کہ قبر پر سہارا دے کر لیٹنے یا بیٹھنے سے صاحب قبر کی روح ناخوش ہوتی ہے کیونکہ اس طرح اس کی حقارت لازم آتی ہے۔