اہل بدر میں سے ان صحابہ کے ناموں کا ذکر جو جامع بخاری میں مذکور ہیں

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 198 · 46 hadiths · Page 1 of 3

6255Mishkaat-al-Masabih

مخصوص اہل بدر کے اسماء گرامی

- النبي محمد بن عبد الله الهاشمي صلى الله عليه و سلم . 2 - عبد الله بن عثمان أبو بكر الصديق القرشي . 3 - عمر بن الخطاب العدوي . 4 - عثمان بن عفان خلفه النبي صلى الله عليه و سلم على ابنته رقية وضرب له بسهمه . 5 - علي بن أبي طالب الهاشمي . 6 - إياس بن البكير . 7 - بلال بن رباح مولى أبي بكر الصديق . 8 - حمزة بن عبد المطلب الهاشمي . 9 - حاطب بن أبي بلتعة حليف لقريش . 10 - أبو حذيفة بن عتبة بن ربيعة القرشي . 11 - حارثة بن الربيع الأنصاري قتل يوم بدر وهو حارثة بن سراقة كان في النظارة . 12 - خبيب بن عدي الأنصاري . 13 - خنيس بن حذافة السهمي . 14 - رفاعة بن رافع الأنصاري . 15 - رفاعة بن عبد المنذر أبو لبابة الأنصاري . 16 - الزبير بن العوام القرشي . 17 - زيد بن سهل أبو طلحة الأنصاري . 18 - أبو زيد الأنصاري . 19 - سعد بن مالك الزهري . 20 - سعد بن خولة القرشي . 21 - سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل القرشي . 22 - سهل بن حنيف الأنصاري . 23 - ظهير بن رافع الأنصاري . 24 - وأخوه . 25 - عبد الله بن مسعود الهذلي . 26 - عبد الرحمن بن عوف الزهري . 27 - عبيدة بن الحارث القرشي . 28 - عبادة بن الصامت الأنصاري . 29 - عمرو بن عوف حليف بني عامر بن لؤي . 30 - عقبة بن عمرو الأنصاري . 31 - عامر بن ربيعة العنزي . 32 - عاصم بن ثابت الأنصاري . 33 - عويم بن ساعدة الأنصاري . 34 - عتبان بن مالك الأنصاري . 35 - قدامة بن مظعون . 36 - قتادة بن النعمان الأنصاري . 37 - معاذ بن عمرو بن الجموح . 38 - معوذ بن عفراء . 39 - وأخوه . 40 - مالك بن ربيعة أبو أسيد الأنصاري . 41 - مسطح بن أثاثة بن عباد بن المطلب بن عبد مناف . 42 - مرارة بن الربيع الأنصاري . 43 - معن بن عدي الأنصاري . 44 - مقداد بن عمرو الكندي حليف بني زهرة . 45 - هلال بن أمية الأنصاري رضي الله عنهم

نبی کریم محمد بن عبداللہ ہاشمی ﷺ، عبداللہ بن عثمان جو ابوبکر صدیق کی کنیت سے مشہور ہیں اور قریشی ہیں، عمر بن الخطاب عدوی، عثمان بن عفان قریشی جن کو نبی کریم ﷺ نے اپنی بیمار بیٹی رقیہ کی تیمارداری کے لئے مدینہ میں چھوڑ دیا تھا اور پھر جنگ بدر کے مال غنیمت میں ان کا حصہ لگایا تھا، علی ابن ابی طالب ہاشمی، ایاس بن بکیر، بلال بن رباح جو ابوبکر صدیق کے آزاد کردہ غلام ہیں، حمزہ بن عبد المطلب ہاشمی، حاطب بن ابی بلتعہ، قریش کے حلیف، ابوحذیفہ ابن عقبہ بن ربیع قریشی، حارثہ بن ربیع انصاری جو جنگ بدر میں شہید ہوئے اور اس کا اصل نام حارثہ بن سراقہ ہے، نیز یہ صاحب جنگ میں شریک نہیں تھے بلکہ دشمنوں پر نظر رکھنے اور ان کو خبر دینے پر مامور تھے، خبیب بن عدی انصاری، خنیس بن خذافہ سہمی، رفاعہ بن رافع انصاری، رفاعہ بن عبد المنذر، ابولبابہ انصاری، زبیر بن عوام قریشی، زید بن سہل، ابوطلحہ انصاری، ابوزید انصاری، سعد بن مالک زہری، سعد بن خولہ قریشی، سعید بن عمر وبن نفیل قریشی، سہل بن حنیف انصاری، ظہیر بن رافع انصاری، ظہیربن رافع کے بھائی، عبداللہ بن مسعود ہذلی، عبدالرحمن بن عوف زہری، عبیدہ بن حارث قریشی، عبادہ بن صامت انصاری، عمر و بن عوف، بنوعامر لوی کے حلیف، عقبہ بن عمر و انصاری، عامر بن ربیعہ عنزی، عاصم بن ثابت انصاری، عویم بن ساعدہ انصاری، عتبان ابن مالک انصاری، قدامہ بن مظعون، قتادہ بن نعمان انصاری، معاذ بن عمرو بن الجموع، معوذ بن عفراء معوذ بن عفراء کے بھائی مالک بنربیعہ ابواسید انصاری، مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب بن عبد مناف، مرارہ بن ربیع انصاری، معن بن عدی انصاری، مقداد بن عمرو کندی، جو بنو زہرہ کے حلیف، حلال بن امیہ انصاری، رضوان اللہ علہیم اجمعین اللہ ان سب سے راضی اور خوش ہوا۔ تشریح ان مبارک ناموں کے ذکر کی ابتداء آنحضرت ﷺ کے اسم پاک سے یا تو خیر و برکت حاصل کرنے کے لئے کی گئی ہے یا آپ ﷺ کا نام ذکر کرنا اس لئے بھی ضروری تھا اس مخصوص فہرست میں آپ ﷺ کا اسم مبارک نہ پاکر یہ خیال نہ کر بیٹھے کہ آنحضرت ﷺ جنگ بدر میں بنفس نفیس شریک نہیں تھے آنحضرت ﷺ کے بعد خلفاء اربعہ کے اسماء ہیں اور پھر باقی حضرات کے نام حروف تہجی کی ترتیب سے ذکر کئے گئے ہیں اس باب میں مذکورہ بدری حضرات سے سوانحی خاکہ بطریق اختصار و اجمال پیش کئے جاتے ہیں،

6256Mishkaat-al-Masabih

النبی محمد بن عبداللہ الہاشمی ﷺ

آنحضرت ﷺ کی ولادت پاک مکہ میں واقعہ فیل کے سال ہوئی اور عمر مبارک کو جب چالیسواں سال لگا تو بعثت، ہوئی، یعنی اللہ تعالیٰ نے مرتبہ نبوت اور رسالت سے سرفراز کیا، آپ ﷺ کی نبوت کا زمانہ ٢٣ سال اور کل عمر مبارک ٦٣ سال کی ہوئی آپ ﷺ تمام رسولوں کے سردار اور خاتم النبین ﷺ ہیں واعلی آلہ وا صحابہ واتباعہ واجزابہ اجمعین

6257Mishkaat-al-Masabih

ابوبکرصدیق

اسلامی نام عبداللہ ہے، باپ کا نام عثمان تھا ابوبکر کنیت ہے اور صادق لقب سے قریشی ہیں اور تمیم بن مرہ کے سلسلے سے ہیں مرہ پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ آنحضرت ﷺ سے نسب میں مل جاتے ہیں زمانہ جاہلیت میں ان کا نام عبد رب الکعبہ تھا جن کو بدل کر آنحضرت ﷺ نے عبداللہ نام رکھا تھا اور ایک نام عتیق بھی عطا فرمایا تھا، اسی طرح ان کی کنیت ابوبکر بھی آنحضرت ﷺ ہی نے رکھی تھی، ایک قول یہ ہے کہ عتیق حضرت ابوبکر ؓ کا قدیمی نام ہے اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ چونکہ بہت حسین وخوبرو اور نہایت شریف النسل تھے اس لئے ان کو عتیق کہا جاتا تھا کیونکہ عتیق کے ایک معنی کرم و جمال اور نجابت کے بھی آتے ہیں اور روایتوں میں آتا ہے کہ ان کی ماں کے ہاں بچہ جیتا نہیں تھا اور جب حضرت ابوبکر ؓ پیدا ہوئے تو ان کی ماں ان کو لے کر کعبہ اقدس کے سامنے پہنچیں اور دعا کی کہ خدایا! اس بچہ کو موت سے آزاد رکھ اور مجھ کو مرحمت فرما تمام امت محمدی کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکر کا لقب صدیق ہے کیونکہ انہوں نے بےخوف ہو کر آنحضرت ﷺ کی بلا تامل تصدیق کی فرمائی اور ہر حالت میں صدق کو اپنے لئے لازم رکھا، معراج کی متعلق بھی انہوں نے کفار کے مقابلہ میں ثابت قدمی دکھائی اور آنحضرت ﷺ کے قول کی فورا تصدیق فرمائی، ان کے والد عثمان اپنی کنیت ابوقحافہ کے ساتھ مشہور ہیں، ابوقحافہ نے فتح مکہ کے سال اسلام قبول کیا اور شروع ١٤ ھ میں حضرت ابوبکر کی وفات چھ ماہ اور چند روز کے بعد ٩٧ سال کی عمر میں فوت ہوئے آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد ربیع الاول ١١ ھ میں تمام امت نے بالا اتفاق حضرت ابوبکر کو خلیفہ اول مقرر کیا اور ٢٢ اور ٢٣ جمادی الثانی ١٣ ھ کی درمیانی شب میں انہوں نے بعمر ٦٣ سال داعی اجل کو لبیک کہا، اس طرح دو سال اور تین ماہ سے کچھ اوپر ان کی خلافت رہی۔ حضرت ابوبکر صدیق متوسط القامت، خوش رو، آئینہ جمال، نحیف البدن اور ہلکے رخساروں والے تھے، ان کے رخساروں پر نیل گوں رگیں نمایاں تھیں۔ ؓ۔

6258Mishkaat-al-Masabih

عمر فاروق

حضرت عمر بن الخطاب ؓ عدی بن کعب کی اولاد سے ہیں اور قریشی ہیں ابوحفصہ کنیت ہے، پانچویں پشت پر ان کا اور آنحضرت ﷺ کا سلسلہ نسب ایک ہوجاتا ہے زمانہ اسلام سے پہلے بھی حضرت عمر ؓ کا شمار نہایت اہم عمائدین قریش میں ہوتا تھا اور اس زمانہ میں اہل مکہ کی طرف سے سفارت ونمائیدگی کی ذمہ داری انہی کے سپرد تھی، یعنی جب بھی کسی موقع پر اہل مکہ اور قریش دوسرے قبائل کے سرداروں یا دوسری جگہ کے چودھریوں کے پاس اہم پیغام یا مشن بھیجتے تو اس کے لئے حضرت عمر ؓ ہی کا انتخاب کیا جاتا تھا حضرت عمر ؓ بہت گورے چٹے تھے، نہایت سفید وچمکدار آنکھیں سرخ اور قد اتنا بلند اور پر شکوہ تھا کہ جب لوگوں کے درمیان کھڑے ہوتے تو معلوم ہوتا تھا کہ وہ اونٹ پر سوار ہیں اور دوسرے لوگ اپنے پیروں پر کھڑے ہیں، وہب بن منبہ کی روایت ہے کہ تورایت میں حضرت عمر ؓ کی تعریف ان الفاظ میں ہوئی ہے قرن حدید شدید امین یعنی وہ پہاڑ کی چوٹی بلند پر شکوہ ہے، تیز ہے، سخت ہے اور امانت دار ہے، اسلام میں حضرت عمر ؓ کا لقب فاروق ہے کیونکہ ان کی ذات حق و باطل اور کفر کے درمیان فرق کردینے والی معیار تھی، ان کی ہیبت اتنی زبر دست تھی کہ ان کی بڑی سے بڑی مخالفت طاقت بھی ان سے لرزاں رہتی تھی انہوں نے آنحضرت ﷺ کی ہجرت سے پہلے آنحضرت ﷺ کے حکم پر راہ ہجرت اختیار کی تھی۔ منقول ہے کہ جب فاروق اعظم ؓ نے ہجرت کے ارادہ سے مکہ کو چھوڑنا چاہا تو تلوار گلے میں ڈالی، کمان کا چلہ چڑھایا اور تیر ہاتھ میں لئے ہوئے کعبہ میں آئے جہاں قریش کے تمام سردار اور کفار مکہ عمائدین پہلے سے موجود تھے، فاروق اعظم نے ان سب کے سامنے کعبہ اقدس کا طواف کیا دو رکعت نماز پڑھی اور پھر قریش و کفار مکہ کے سرداروں کی ایک ٹولی کے پاس الگ الگ آئے اور ان کو مخاطب کرکے بولے، تمہارے چہروں پر پھٹکار بر سے تم میں سے جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اس کی ماں زندگی بھر اس کو روتی رہے اس کا بیٹا یتیم ہوجائے اور اس کی بیوی اپنا سہاگ گنوا بیٹھے تو وہ میرے تعاقب میں نکلے اور اس وادی یعنی مکہ شہر سے باہر مجھ سے ملے لیکن ان میں سے کسی کو فاروق اعظم ؓ کے تعاقب کی ہمت نہ ہوئی۔ حضرت عمر فاروق ؓ اسلام کے دوسرے خلیفہ ارشد ہیں ان کی خلافت کی مدت ساڑھے دس سال ہے اور مشہور قول کے مطابق ان کی عمر تریسٹھ سال کی ہوئی، ؓ۔

6259Mishkaat-al-Masabih

عثمان غنی

حضرت عثمان غنی بن عفان قریشی ہیں، ان کی ولادت واقعہ فیل کے چھٹے سال ہوئی اور انہوں نے اس وقت اسلام قبول کرلیا تھا جب آنحضرت ﷺ دار ارقم میں قیام پذیر نہیں ہوئے تھے، ان سے پہلے حضرت ابوبکر ؓ حضرت علی اور حضرت زید ابن حارثہ ؓ مشرف بہ اسلام ہوچکے تھے، انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی دعوت و ترغیب پر اسلام قبول کیا تھا اور منقول ہے کہ جب انہوں نے اسلام قبول کیا اور ان کے چچا حکم بن العاص بن امیہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو اس نے ان کو باندھ کر قید میں ڈال دیا اور بولا کہ تو نے باپ دادا کے دین کو چھوڑ کرنیا دین اختیار کرلیا ہے اللہ کی قسم تجھے اس وقت تک اس قید سے رہا نہیں کروں گا جب تک کہ تو اس نئے دین کو چھوڑ نہیں دیتا، حضرت عثمان نے جواب دیا تو پھر چچاجان آپ بھی سن لیجئے کہ میں ہرگز نہیں چھوڑوں گا جو آپ کے جی میں آئے کیجئے، حکم بن ابوالعاص نے جب حضرت عثمان کی اس سختی اور مضبوطی کو دیکھا تو ان کو رہا کردیا۔ آنحضرت ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ حضرت عثمان کے نکاح میں تھیں، جنگ بدر کے دنوں میں وہ سخت بیمار تھیں، جب آنحضرت ﷺ بدر کو روانہ ہونے لگے تو حضرت عثمان ؓ کو حکم دیا کہ تم ہمارے ساتھ چلو، مدینہ میں رہ کر رقیہ کی تیمار داری کرو اور اس کی دیکھ بھال رکھو، چناچہ حضرت عثمان جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے، لیکن چونکہ آنحضرت ﷺ کے حکم پر ان کو مدینہ میں رہ جانا پڑا تھا، اس لئے آنحضرت ﷺ نے جنگ بدر میں حاصل ہونے والے مال غنیمت میں ان کا حصہ بھی لگایا اور اس اعتبار سے ان کو اصحاب بدر میں شمار کیا۔ اسی بیماری میں حضرت رقیہ کا انتقال ہوگیا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا اگر میرے پاس تیسری بیٹی ہوتی تو میں اس کو بھی حضرت عثمان کے نکاح میں دے دیتا، حضرت عثمان ؓ کے علاوہ اور کوئی ایسا نہیں گزرا جس کے نکاح میں کسی پیغمبر کی دو بیٹیاں آئی ہوں اور اس اعتبار سے ذوالنورین حضرت عثمان ؓ کا لقب قرار پایا۔ حضرت عثمان ؓ میانہ قد، خوش رو، بزرگ ریش اور سرخ سفید رنگت کے تھے ان کے منہ پر چیچک کے نشان تھے ان کا سراپا نہایت دلکش، جاذب نظر اور پر جمال تھا، منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی بیٹی ام کلثوم کو مخاطب کرکے فرمایا تھا میں نے اس شخص کے ساتھ تمہارا نکاح کیا جو تمہارے دادا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور تمہارے باپ محمد ﷺ سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔ حضرت عثمان ؓ شرم وحیا کے مثالی پیکر تھے روایتوں میں آتا ہے کہ گھر کے اندر دروازہ بند کر کے غسل کرتے تھے کیا مجال جو کوئی پیٹ اور پیٹھ بھی عریاں دیکھ لے یہ بھی منقول ہے کہ حضرت عثمان ؓ حیاء کے مارے اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کرسکتے تھے۔ عثمان غنی ؓ اسلام کے تیسرے خلیفہ راشد ہیں، ٣٥ ھ میں ایام تشریق کے دوران شہید ہوئے اور ان کی خلافت تیرہ سال رہی، عمر مبارک ٨٢ سال کی ہوئی، بعض حضرات نے ٨٣ سال اور بعض نے ٨٦ سال کی عمر لکھی ہے۔ ؓ

6260Mishkaat-al-Masabih

علی کرم اللہ وجہہ

حضرت علی بن ابی طالب ؓ آنحضرت ﷺ کے چچا زاد ہیں اور نہ صرف اس اعتبار سے آنحضرت ﷺ کے بھائی ہیں، بلکہ آنحضرت ﷺ کا ان کے ساتھ بھائی چارہ بھی ہوا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی لاڈلی فاطمہ زہرا ؓ کے خاوند ہیں، حسن اور حسین کے باپ ہیں اور پہلے شخص ہیں جو باپ کی طرف سے بھی ہاشمی ہیں اور ماں کی طرف سے بھی، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو قدیم الاسلام ہونے کا بھی شرف حاصل ہے اور ایک بڑی جماعت کے بقول صحابہ میں سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں علماء نے لکھا ہے کہ پیر (دوشنبہ) کے دن آنحضرت ﷺ منصب نبوت سے سرفراز ہوئے اور اگلے ہی دن یعنی منگل کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اسلام قبول کرلیا اس وقت ان کی عمر تین سال تھی اور بعض روایتوں کے مطابق سات سال کی تھی۔ اسلام میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے جو بہت سارے لقب ہیں ان میں سے ہیں، امین شریف، ہادی، مہدی یعسوب المسلمین، ابوالریجانین اور ابوتراب۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ میانہ قد تھے، رنگ گندم گوں مائل بسرخی تھا، کشادہ دہن چہرہ ایسا روشن وتاباں جیسے چودھویں کا چاند آنکھیں بڑی بڑی اور نہایت سیاہ داڑھی بہت زیادہ گھنی، پیٹ نکلا ہوا جسم بھاری بھرکم، یہ ہے سراپا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا سیدنا علی کرم اللہ وجہہ علم و معرفت اور عقل و دانائی میں اپنی صف کے یکتا، زہد وتقوی کے پیکر، سخی النفس، قوی دل اور نہایت بہادر وشجاع تھے، منصور بھی تھے یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد ان کو حاصل ہوتی تھی اور ہر مہم میں فتح یاب ہوتے تھے ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ غزوہ بدر کے دن علی کرم اللہ وجہہ نے رسول اللہ ﷺ کا نیزہ لیا تھا اور ایک روایت میں آیا ہے کہ علی کرم اللہ وجہہ نے غزوہ بدر میں اور دوسرے غزوات میں بھی آنحضرت ﷺ کا نیزہ لیا تھا۔ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ اسلام کے چوتھے خلیفہ ارشد ہیں، ان کی خلافت کا زمانہ پانچ سال رہا اور ٤١ ھ میں سترہویں رمضان کو شب جمعہ میں بوقت سحر شہید ہوئے، صحیح و مختار قول کے مطابق ان کی عمر ٦٣ سال کی ہوئی۔ ؓ۔

6261Mishkaat-al-Masabih

ایاس بن بکیر

ایاس بن بکیر ؓ ان کا نام ایا س ہے اور بکیر کے بیٹے ہیں، بعض نسخوں میں (بکر کی تصغیر) کا لفظ لام کے ساتھ، البکیر بھی مذکور ہوا ہے اور بعض حضرات نے بخاری کی روایت کے حوالہ سے اس لفظ کو بکیر بھی نقل کیا ہے، بہر حال ایاس کا شمار مہاجرین اولین میں ہوتا ہے، غزوہ بدر میں بھی شریک تھے اور پھر بعد کے دوسرے جہادوں میں شریک ہوئے، انہوں نے اور ان کے بھائی عامر بن بکیر نے مکہ میں اس زمانہ میں اسلام قبول کیا تھا جب آنحضرت ﷺ دارارقم میں قیام پذیر تھے۔ ان کی وفات ٣٤ ھ میں ہوئی۔ ؓ۔

6262Mishkaat-al-Masabih

بلال بن رباح

یہ مشہور صحابی حضرت بلال ؓ ہیں جو آنحضرت ﷺ کے مؤذن تھے، ان کے باپ کا نام رباح اور ماں کا نام طمامہ تھا، حضرت ابوبکر صدیق کے آزاد کردہ غلام ہیں، ان کی کنیت ابوعبدالرحمن ہے بعض حضرات نے ابوعبداللہ بعض نے ابوعبد الکریم اور بعض نے ابوعامر بھی کنیت لکھی ہے۔ حضرت بلال قدیم الاسلام ہیں سب سے پہلے انہوں نے ہی مکہ میں اسلام کا اظہار کیا تھا جس کے سبب اللہ کے دین کی راہ میں ان کو نہایت سخت عذاب جھیلنا پڑے، اس زمانہ میں حضرت بلال ؓ ایک دشمن دین امیہ بن خلف عجمی کے غلام تھے۔ امیہ ان کو نہایت ہولناک اذیتیں پہنچایا کرتا تھا، وہ ان کو لوہے کی زرہ میں کس کر جلتی دھوپ میں ڈال دیتا تھا، لکڑی کے موصل سے ان کی پٹائی کرتا تھا، آخر کار حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان کو اس کو ظالم مالک سے بھاری قیمت کے عوض خرید کر آزاد کیا اور پھر جنگ بدر میں وہی امیہ انہی حضرت بلال ؓ کے ہاتھوں جہنم رسید ہوا۔ فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا تھا کہ خانہ کعبہ میں اذان دیں، حضرت بلال ؓ کے فضائل ومناقب بیشمار ہیں ان کی فضیلت و بزرگی کے اظہار کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا سابقین چار ہیں، میں سابق عرب ہوں، بلال سابق حبشہ ہیں، صہیب سابق روم ہیں اور سلمان سابق فارس ہیں، حضرت بلال ؓ کا رنگ گندم گوں تھا دراز قد تھے، جسم پر بال بہت زیادہ تھے، انہوں نے دمشق میں ٢٠ ھ میں وفات پائی اور ایک قول یہ ہے کہ ان کی وفات ١٨ ھ میں ہوئی۔ وفات کے وقت کچھ اوپر ساٹھ سال کے تھے، بعض حضرات نے ان کی عمر ٧٠ سال لکھی ہے ؓ۔

6263Mishkaat-al-Masabih

حمزہ بن عبد المطلب

حضرت حمزہ بن عبد المطلب ؓ ہاشمی آنحضرت ﷺ کے چچا ہیں ان کو سید الشہداء کا لقب عطا ہوا تھا بعض حضرات نے اسد اللہ کا لقب بھی لکھا ہے، ان کی ماں کا نام ہالہ بنت وہب ہے جو آنحضرت ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کی بہن ہیں اور اس اعتبار سے حضرت حمزہ ؓ آنحضرت ﷺ کے خالہ زاد بھائی ہیں۔ سید الشہداء حضرت حمزہ ؓ شجاع قومی اور دل اور انسان تھے، ان کی شجاعت وبہادری کے واقعات سے اسلامی تاریخ وسیر کی کتابیں بھری ہیں، ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں نے دیکھا کہ فرشتے حمزہ بن عبد المطلب اور حنظلہ بن راہب کو غسل دے رہے ہیں اور یہ بھی حدیث میں آیا ہے کہ حمزہ اللہ کے نزدیک ساتویں آسمان پر یوں لکھے ہوئے ہیں۔ حمزۃ بن عبد المطلب اسد اللہ واسد رسولہ (حمزہ بن عبد المطلب، جو اللہ کا اور اللہ کے رسول کا شیر ہے )۔ ؓ

6264Mishkaat-al-Masabih

حاطب بن بلتعہ

ان کی کنیت ابو عبیداللہ ہے۔ عزوہ بدر میں بھی شریک تھے اور غزوہ خندق میں بھی اور اس کے بعد کے چاروں میں بھی شریک ہوئے۔ ان سے جو ایک لغزش ہوئی تھی کہ انہوں نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر مدینہ منورہ سے ایک خفیہ خط اہل مکہ کے نام روانہ کیا تھا جس میں آنحضرت ﷺ کے ایک جنگی منصوبہ کا انکشاف تھا اور پھر وہ راستہ ہی میں پکڑ کر آنحضرت ﷺ کے پاس واپس لایا گیا تھا، اس کا تفصیلی ذکر پیچھے آچکا ہے، انہوں نے ٣٠ ھ میں مدینہ میں بعمر ٦٥ سال وفات پائی۔

6265Mishkaat-al-Masabih

ابو حذیفہ بن عتبہ

حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ قریشی کے اصل نام میں اختلاف ہے مشہور قول کے مطابق ان کا نام ہشام ہے باپ کا نام عتبہ ہے جو ربیعہ بن عبد الشمس کا بیٹا ہے، حضرت حذیفہ اجلہ اور فضلاء صحابہ میں سے ہیں، ان کا شمار مہاجرین اول میں ہوتا ہے یہ ان اہل اسلام میں سے ہیں جنہیں دونوں قبلوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ حضرت ابوحذیفہ کی ہجرتیں بھی دو ہوئیں۔ یعنی حبشہ ہجرت کرنے والوں میں بھی شامل تھے اور پھر مدینہ کو ہجرت کی۔ انہوں نے مکہ میں اس وقت اسلام قبول کرلیا تھا جب آنحضرت ﷺ دار ارقم میں قیام پذیر نہیں ہوئے تھے، ان کو غزوہ بدر میں بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی اور اس کے بعد جہادوں میں بھی جنگ یمامہ میں جام شہادت سے سرفراز ہوئے اس وقت ان کی عمر ٥٣ سال یا ٥٤ سال کی تھی۔ ؓ

6266Mishkaat-al-Masabih

حارثہ بن ربیع انصاری

ربیع (یا ایک روایت کے مطابق ربیع) اصل میں حضرت حارثہ کی ماں کا نام ہے ان کے باپ کا نام سراقہ تھا۔ حضرت حارثہ جنگ بدر میں شہید ہوگئے تھے اگر یہ میدان جنگ میں نہیں تھے بلکہ اس دستہ میں شامل تھے جو دشمنوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لئے میدان جنگ سے الگ ایک جگہ پر مامور تھا تاکہ وہ دشمنوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں اور جو کچھ دیکھیں آکر خبر دیں، انہی صحابہ میں حضرت حارثہ بھی تھے جو جوان العمر اور بڑے چاق وچوبند تھے، یہ جنگ کے وقت اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس جگہ کھڑے تھے کہ اچانک کسی کا ایک تیر آکر ان کے حلق میں لگا اور حضرت حارثہ اس کاری زخم کی تاب نہ لا کر شہید ہوگئے۔ بعد میں ان کی ماں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور بولیں کہ یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ جانتے ہی ہیں میری نظر میں حارثہ کی کیا حیثیت تھی مجھ کو اس سے کتنا لگاؤ تھا، کتنا پیار تھا مجھ کو بتائیے کہ وہ جنت میں گیا ہے یا دوزخ میں، اگر جنت میں گیا ہے تو صبر کروں اور اگر دوزخ میں گیا ہے تو پھر جتنا رو سکتی ہوں روؤں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا حارثہ کی ماں! وہاں ایک جنت نہیں ہے اوپر تلے کئی جنتیں ہیں اور تمہارا بیٹا فردوس اعلی میں ہے۔ حارثہ کی ماں نے یہ سن کر کہا! میں اس پر صبر کروں گی۔

6267Mishkaat-al-Masabih

خبیب بن عدی انصاری

حضرت خبیب جنگ بدر میں شریک تھے پھر ٣ ھ میں جب غزوہ رجیع میں گئے تو وہاں مشرکوں نے ان کو قیدی بنا لیا اور مکہ لے کر آئے یہاں مکہ میں ان کو حارث بن عامر کے بیٹوں نے خرید لیا، حارث بن عامر مکہ کا وہ مشرک تھا جس کو حضرت خبیب نے جنگ بدر میں جہنم رسید کیا تھا اور اس کا بدلہ چکانے کے لئے حارث کے بیٹوں نے ان کو خریدا، چناچہ انہوں نے پہلے تو حضرت خبیب کو قید میں ڈالے رکھا اور پھر مقام تنعیم میں ان کو سولی پر لٹکا کر شہید کردیا، حضرت خبیب پہلے مسلمان ہیں جن کو سولی پر کھینچا گیا۔ اور انہوں ہی نے مقتل میں قتل کے وقت دو رکعت نماز پڑھنے کا طریقہ جاری کیا، ایک روایت میں آیا ہے کہ جب ان کو سولی پر کھینچا جانے لگا تو یہ الفاظ ان کی زبان پر تھے کہ خدایا! یہاں میں کسی ایسے شخص کو نہیں پارہا ہوں جو پیغمبر اللہ ﷺ کو میرا سلام پہنچا دے، خدایا تو ہی میرا سلام پیغمبر اللہ ﷺ کو پہنچا۔ چناچہ منقول ہے کہ جب جبرائیل (علیہ السلام) آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور خبیب کا سلام پہنچا یا۔ ؓ۔

6268Mishkaat-al-Masabih

خنیس بن خدافہ سہمی

حضرت خنیس بن خدا فہ سہمی قریشی ہیں اور مہاجرین میں سے ہیں۔ انہوں نے حبشہ کو ہجرت کی تھی اور وہیں سے آکر جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے، پھر جنگ احد میں بھی شریک ہونے کے لئے وہاں آئے اور اس کے بعد حبشہ جانے کے بجائے مدینہ منورہ آگئے، اس جنگ میں یہ زخمی ہوگئے تھے اور آخر کار اس زخم سے جان بر نہ ہوسکے اور انتقال کر گئے۔ حضرت عمر فاروق کی صاحبزادی حضرت حفصہ پہلے انہیں خنیس کے نکاح میں تھیں اور ان کے انتقال کے بعد آنحضرت ﷺ کی زوجیت میں آئیں۔

6269Mishkaat-al-Masabih

رفاعہ بن رافع انصاری

حضرت رفاعہ بھی اصحاب بدر میں سے ایک ہیں ان کا تعلق انصار مدینہ سے ہے ان کے باپ قبیلہ وقوم کے سردار تھے۔ حضرت رفاعہ نے بدر کے بعد اور تمام جہادوں میں بھی نبی کریم ﷺ کے ساتھ شرکت کی۔ انہوں نے جنگ جمل اور جنگ صفین میں بھی حضرت علی کی طرف سے شرکت کی تھی ان کا انتقال امارت معاویہ کے ابتدائی دنوں میں ہوا۔ ؓ۔

6270Mishkaat-al-Masabih

رفاعہ بن عبد المنذر ابولہ انصاری

حضرت رفاعہ بن عبد المنذر ابولبابہ بھی انصار مدینہ میں سے ہیں اور قبیلہ اوس سے تعلق رکھتے ہیں سرداروں میں سے تھے، ایک قول یہ ہے کہ یہ جنگ بدر میں شریک نہی ہوئے تھے بلکہ آنحضرت ﷺ نے ان کو اپنے پیچھے امیر و والی بنا کر مدینہ میں چھوڑ گئے تھے اور پھر بدر کے مال غنیمت میں ان کا بھی حصہ لگایا تھا جیسا کہ حضرت عثمان غنی ؓ کا حصہ لگایا تھا۔ ان کی وفات حضرت علی کی خلافت کے زمانہ میں ہوئی، حضرت رفاعہ بن عبدالمنذر کے اس قصہ کے ذکر کا یہاں موقع نہیں ہے جو مدینہ کے یہودیوں بنونضیر کے خلاف آنحضرت ﷺ کی کاروائی کے موقعہ پر حضرت رفاعہ کی تقصیر سے توبہ کی قبولیت تک انہوں نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ایک ستوں سے باندے رکھا تھا، بعد میں مسجد نبوی کے اس ستوں کو حضرت رفاعہ کی کینت کی نسبت سے ابولبابہ کہا جانے لگا۔

6271Mishkaat-al-Masabih

زبیر بن عوام

حضرت زبیر بن عوام عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، چوتھی پشت قصی پر پہنچ کر ان کا اور آنحضرت ﷺ کا سلسلہ نسب ایک ہوجاتا ہے، ان کی والدہ ماجدہ حضرت صفیہ عبد المطلب کی بیٹی اور آنحضرت ﷺ کی پھوپھی ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی ایک صاحبزادی حضرت اسماء ان کی زوجیت میں تھیں، انہوں نے اور ان کی والدہ حضرت صفیہ نے ایک ساتھ حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر ١٦ سال اور ایک روایت کے مطابق ٢٥ سال تھی، جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو ان کے چچا نے ان کو سخت اذیتیں پہنچائیں، یہاں تک کہ وہ ان کو دھوئیں میں بند کر کے ستایا تھا اور کہتا تھا کہ جب تک تم اسلام کو ترک نہیں کرو گے اسی طرح تم پر ظلم ڈھاتا رہونگا، مگر ان کے پائے استقامت میں ذرا لغزش نہیں آئی اور ہر سختی ان کے قدم کو راہ اسلام پر اور زیادہ مضبوطی سے جماتی رہی، ان کی پہلی ہجرت حبشہ کو ہوئی تھی، انہوں نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر اور دوسرے غزوات میں شرکت کی غزوہ احد میں جب کہ دشمن نے چاروں طرف سے یلغار کر رکھی تھی اور اسلامی لشکر افراتفری کے عالم میں تھا، حضرت زبیر نہایت بہادری اور پامردی کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے پاس ڈٹے رہے، منقول ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے جس شخص نے اللہ کی راہ میں تلوار سونتی حضرت زبیر ابن عوام ہیں۔ حضرت زبیر کا رنگ گورا، چہرہ پر جمال و روشن تھا، دراز قد تھے جسم پر گوشت ہلکا تھا، بال بہت تھے اور رخسار ہلکے تھے، حضرت زبیر ٣٦ ھ میں جنگ جمل کے دوران شہید ہوئے۔ اس وقت ان کی عمر ٦٤ سال تھی پہلے جسد خاکی کو دار السباع میں دفن کیا گیا پھر بصرہ لایا گیا اور وہیں ان کو آخری آرام گاہ بنی منقول ہے کہ حضرت زبیر بن عوام ؓ نماز کی حالت میں تھے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لشکر کے ایک شخص ابن جرموز نے ان پر حملہ کیا اور شہید کر ڈالا، بعد میں ابن جرموز حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس آیا اور بولا کہ آپ کو خوش خبری ہو میں نے زبیر کو قتل کر ڈالا ہے۔ سیدنا علی کرم اللہ و جہہ نے جواب دیا اور تو بھی خوش خبری سن لے کہ دوزخ تیرا انتظار کر رہی ہے۔

6272Mishkaat-al-Masabih

زید بن سہل

حضرت زید بن سہل انصاری ؓ ہیں ابوطلحہ ؓ کی کنیت سے مشہور ہیں یہ ان ستر آدمیوں میں شامل تھے جو ہجرت نبوی سے پہلے مدینہ سے چل کر مکہ آئے تھے اور عقبہ میں آنحضرت ﷺ کی زیارت اور بیعت سے مشرف ہوئے تھے۔ انہوں نے غزوہ بدر میں بھی شرکت کی تھی اور ان کے بعد کے جہادوں میں بھی، حضرت طلحہ، زید بن سہل، حضرت ام سلیم کے خاوند ہیں جو حضرت انس بن مالک کی والدہ ماجدہ ہیں۔ ان کا شمار انصار کے عمائدین اور روساء میں ہوتا تیر اندازی میں بہت مشہور تھے آنحضرت ﷺ نے ان کے متعلق فرمایا تھا کہ تنہا ابوطلحہ کی آواز لشکر میں ایک جماعت کی آواز سے بہتر ہے۔ ایک روایت میں سو مردوں کے آواز سے بہتر ہے کے الفاظ ہیں اور ایک اور روایت میں یہ ہے کہ ہزار مردوں کی آواز سے بہتر ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کا بھائی چارہ حضرت ابوعبیدہ ؓ سے کرایا تھا۔ ان کی وفات ٣١ ھ بعمر ٧٠ سال ہوئی۔ ؓ۔

6273Mishkaat-al-Masabih

ابوزیدانصاری

حضرت ابوزید انصاری ان صحابہ میں سے ایک ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں قرآن جمع کیا تھا۔ یہ حضرت انس کے ایک چچا ہیں، جنگ بدر میں شریک تھے سعد قاری کے نام سے زیادہ مشہور تھے ان کے اصل نامی اختلافی اقوال ہیں، بغض نے سعد بن عمیر لکھا ہے اور بعض نے قیس بن سکن۔ ؓ۔

6274Mishkaat-al-Masabih

سعد بن مالک زہری

یہ مشہور صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص ہیں جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اصل میں ابی وقاص کا نام مالک تھا اس لئے ان کو سعد بن مالک بھی کہا جاتا ہے۔ حضرت سعد زہری قریشی ہیں، انہوں نے ابتداء اسلام ہی میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر ١٧ سال یا ایک روایت کے مطابق ١٩ سال تھی۔ خود حضرت سعد کا بیان ہے کہ میں تیسرا مسلمان ہوں، یعنی مجھ سے پہلے صرف دو آدمی مسلمان ہوئے تھے اور میں وہ شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں سب سے پہلے تیر اندازی کی۔ یہ غزوہ بدر اور تمام غزوات میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ شریک تھے، غزوہ احد کے دن آنحضرت ﷺ نے ان پر اپنے ماں باپ کو جمع کرکے فرمایا تھا تیر پہ تیر چلائے جاؤ، تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں، گندم گوں رنگت، چھوٹا قد، فربہ بدن، بڑا سر، سخت انگلیاں ہلکی ناک اور جسم پر بال کی کثرت، یہ حضرت سعد کا سراپا تھا، ان کا انتقال بعہد امارت معاویہ ٥٥ ھ یا ٥٨ ھ میں دفن کیا گیا انہوں نے کچھ اوپر ستر سال اور ایک روایت کے مطابق ٨٢ سال کی عمر پائی، عشرہ مبشرہ میں سب سے پیچھے انہیں کی وفات ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ فتوحات اسلام میں حضرت سعد کی جنگی مہارت اور بےپناہ شجاعت وبہادری کا بڑاحصہ ہے، عجم کے نامعلوم کتنے شہر اور کتنے بڑے بڑے علاقے ان کے ہاتھ پر فتح ہوئے۔ ایران کو اسلام کے زیر نگیں کرنے والے اور کسری کی عظیم ترطاقت کو پاش پاش کرنے والے سب سے بڑے سپہ سالار یہی حضرت سعد بن ابی وقاص ہیں اس کے علاوہ بھی ان کے فضائل اور مناقب کچھ کم نہیں ہیں۔ ؓ،