مناقب کا جامع بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 197 · 71 hadiths · Page 1 of 4

6184Mishkaat-al-Masabih

مناقب کا جامع بیان

اس باب میں مؤلف نے کسی خاص جماعت و زمرہ کی تخصیص کے بغیر اور الگ الگ باب قائم کرنے کے بجائے مجموعی طور پر کچھ مشاہیر صحابہ کے فضائل و مناقب پر مشتمل احادیث نقل کی ہیں ان مشاہیر میں خلفائے راشدین بھی ہیں اور اہل بیت بھی، عشرہ مبشرہ بھی ہیں اور ازواج مطہرات بھی مہاجرین بھی ہیں اور انصار بھی اور ان کے علاوہ دوسرے صحابہ بھی۔

6185Mishkaat-al-Masabih

عبداللہ بن عمر کی فضیلت

عن عبد الله بن عمر قال : رأيت في المنام كأن في يدي سراقة من حرير لا أهوي بها إلى مكان في الجنة إلا طارت بي إليه فقصصتها على حفصة فقصتها حفصة على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن أخاك رجل صالح - أو إن عبد الله رجل صالح - . متفق عليه

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں میں نے ایک روز خواب میں دیکھا کہ گویا میرے ہاتھ میں ریشم کے کپڑے کا ایک ٹکڑا ہے اور میں ریشمی ٹکڑے کے ذریعہ جنت کے جس محل کی طرف بھی جانا چاہتا ہوں وہ ٹکڑا مجھ کو اڑا کر وہاں تک پہنچا دیتا ہے یعنی مجھ کو ایسا لگا جیسے وہ ٹکڑا میرے لئے پنکھ بن گیا ہے اور میں جنت کے جس بلند درجہ و محل تک جانا چاہتا ہوں اس پنکھ کے ذریعہ اڑ کر پہنچ جاتا ہوں پھر میں نے یہ خواب اپنی بہن ام المؤمنین حفصہ ؓ سے بیان کیا اور انہوں نے اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ تمہارا بھائی مرد صالح ہے یا یہ الفاظ فرمائے حقیقت یہ ہے کہ عبداللہ مرد صالح ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح گویا آپ ﷺ نے یہ تعبیر دی کہ وہ ریشمی ٹکڑا دراصل عبداللہ کے نیک اعمال اور اس کی پاکیزہ زندگی کے اوراق ہیں جو ان کو جنت کے بلند مراتب و مدارج تک پہنچائیں گے عبداللہ بن عمر ؓ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق ؓ کے بیٹے ہیں جس سال آنحضرت ﷺ نبوت سے سرفراز ہوئے اس سے ایک سال قبل ان کی ولادت ہوئی، چھوٹی ہی عمر میں انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت عمر ؓ کے ساتھ مکہ میں اسلام قبول کرلیا تھا۔ غزوہ خندق کے بعد کے تمام عزوؤں میں شریک رہے ہیں علم و دانائی زہد ورع اور تقویٰ میں کامل جانے جاتے ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرمایا کرتے تھے۔ مامنا احد الا مالت بہ الدنیا ومال الیہا ما خلا عمر و ابنہ عبداللہ حضرت نافع ؓ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے مرتے دم تک جن انسانوں غلاموں کو آزاد کیا ان کی تعداد ایک ہزار بلکہ اس سے بھی متجاوز ہے۔ ابتاع نبوی اور حب رسول میں ابن عمر ؓ کا امتیازی مقام ہے۔ وہ جب بھی حج کو جاتے تو ان مقامات پر کہ جہاں آنحضرت ﷺ حج میں ٹھہرا کرتے تھے جیسے عرفات وغیرہ تمام حاجیوں سے پہلے پہنچ جایا کرتے تھے۔ منقول ہے کہ ایک دن حجاج بن یوسف نے فجر یا عصر کی نماز میں تاخیر کی تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اس سے کہا کہ نماز پڑھ لو، ورنہ سورج تمہارا انتظار نہیں کرے گا حجاج کو ان کا یہ کہنا بہت ناگوار گزرا، چناچہ وہ بولا جی چاہتا ہے کہ تمہاری آنکھیں پھوڑ دوں یا یوں کہا کہ جی چاہتا ہے کہ تمہارا سر قلم کر دوں حضرت عبداللہ ؓ نے یہ سن کر فرمایا اگر تم ایسا کر گزرو تو کیا بعید کیونکہ تم تو ایک نادان حاکم کی صورت میں ہم پر مسلط ہو۔ اور بعض حضرات نے یہ نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے یہ بات آہستہ سے کہی تھی اور حجاج نے نہیں سنا تھا بہرحال حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی اس حق گوئی و صاف بیانی کے سبب یا کسی اور وجہ سے حجاج ان سے سخت ناراض ہوگیا اور اس نے ایک شخص کو حکم دیا کہ ابن عمر ؓ کا نیزہ قبضہ میں لے کر ان کو نہتا کردو اور پھر اس نے نہ صرف یہ کہ راستہ میں ان پر پتھراؤ کرایا بلکہ زہر میں بجھے ہوئے حربہ سے ان کے پاؤں کی پشت میں کاری زخم لگوایا۔ اسی کے سبب حضرت ابن عمر ؓ چند روز سخت بیمار رہ کر انتقال فرما گئے۔ یہ واقعہ حضرت ابن زبیر ؓ کے حادثہ شہادت کے تین ماہ بعد ٧٣ ھ میں پیش آیا۔ اس وقت حضرت ابن عمر ؓ ٨٤ سال کی تھے ان کا جسد خاکی ذی طوی میں سپرد خاک کیا گیا۔

6186Mishkaat-al-Masabih

عبداللہ ابن مسعود کی فضیلت

وعن حذيفة قال : إن أشبه الناس دلا وسمتا وهديا برسول الله صلى الله عليه و سلم لابن أم عبد من حين يخرج من بيته إلى أن يرجع إليه لا تدري ما يصنع أهله إذا خلا . رواه البخاري

اور حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ وقار، میانہ روی اور راست روی میں رسول کریم ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والا آدمی ام عبد کا بیٹا ہے، اس وقت سے کہ اپنے گھر سے باہر آتے ہیں اور اس وقت تک کہ جب وہ گھر میں جاتے ہیں۔ گھر والوں کے درمیان یعنی گھر میں اہل و عیال کے ساتھ یا تنہا وہ کس حال میں رہتے ہیں یہ ہم کو معلوم نہیں۔ (بخاری )۔ تشریح ام عبد کے بیٹے سے مراد حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ہیں۔ ان کی والدہ کی کنیت ام عبد تھی۔ دلّ کے معنی سیرت، حالت ہیبت کے بھی آتے ہیں اور بعض حضرات نے اس کے معنی خوش کلامی، خوش گوئی بھی بیان کئے ہیں کہ یہ لفظ گویا دلالت سے ماخوذ ہے اور جس کے ذریعہ کسی انسان کی اس ظاہری حالت و خوبی کو تعبیر کیا جاتا ہے جو اس کے حسن سیرت اور اس کی نیک خصلتی پر دلالت کرے قاموس میں لکھا ہے کہ دل کے قریب قریب وہ ہی معنی ہیں جو ھدی کے ہیں لیکن یہاں حدیث میں اس لفظ سے سکینت یعنی متانت وسنجیدگی وقار اور خوبصورتی کے معنی مراد ہیں۔ اور مجمع البحار میں لکھا ہے دل کا لفظ شکل و شمائل کے معنی رکھتا ہے سمت کے معنی ہیں راستہ، میانہ روی اور اس لفظ کا استعمال اہل خیر و صلاح کے طور طریق اور اس کی ہیت و حالت کے لئے بھی کیا جاتا ہے چناچہ قاموس میں سمت کے معنی طریق یعنی راستہ اور اہل خیر کی ہیئت کے لکھے ہیں۔ اور صراح میں لکھا ہے سمت کے معنی ہیں نیک راہ روش ھدی کے معنی طریقہ سیرت، اہل خیر کی ہیئت و حالت کے ہیں۔ حاصل یہ کہ یہ تینوں لفظ یعنی دل سمت ھدی معنی و مفہوم میں قریب قریب ہیں اور عام طور پر یہ تینوں ایک دوسرے کے ساتھ ہی استعمال ہوتے ہیں۔ اس وقت سے ہی یعنی عبداللہ بن مسعود ؓ کی جو ظاہری زندگی ہمارے سامنے ہے اور ان کے جو احوال ہم پر عیاں ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نہایت پاکیزہ نفس اور راست رو ہیں اور ہم ظاہری احوال ہی کے بارے میں گواہی دے سکتے ہیں باطن کا حال ہمیں معلوم نہیں، کہ اندر کا حال اللہ ہی جانتا ہے۔

6187Mishkaat-al-Masabih

عبداللہ ابن مسعود کی فضیلت

وعن أبي موسى الأشعري قال : قدمت أنا وأخي من اليمن فمكثنا حينا ما نرى إلا أن عبد الله بن مسعود رجل من أهل بيت النبي صلى الله عليه و سلم لما نرى من دخوله ودخول أمه على النبي صلى الله عليه و سلم . متفق عليه

حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں اور میرا بھائی یمن سے مدینہ منورہ آئے تو یہاں در نبوت پر ایک عرصہ مقیم رہے، اس دوران ہم نے ہمیشہ یہی خیال کیا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نبی کریم ﷺ کے گھر والوں میں سے ایک آدمی ہیں، کیونکہ ہم ان کو اور ان کی والدہ کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بےوقت آتے جاتے دیکھا کرتے تھے۔ (بخاری ومسلم) تشریح ایک روایت میں آیا ہے آنحضرت ﷺ نے عبداللہ بن مسعود ؓ کو کہا تھا کہ اگر ایک آدمی میرے پاس دیکھو تو اجازت طلب کئے بغیر آ جایا کرو اور ایک روایت میں ضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے یوں بیان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مجھ سے فرما رکھا تھا کہ جب پردہ نہ پڑا ہوا ہو اور تم میری آواز سنو تو بس یہی تمہارے لئے اجازت ہے، جب تک میں تمہیں منع نہ کروں اجازت طلب کئے بغیر آیا جایا کرو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ان کی کنیت ابوعبدالرحمن تھی، ہذلی ہیں۔ صاحب السواد والسواک کے لقب سے مشہور تھے ان کو ابتدائے دعوت ہی میں قبول اسلام کی توفیق نصیب ہوگئی تھی چناچہ آنحضرت ﷺ کے دار ارقم میں منتقل ہونے سے پہلے ہی مسلمان ہوگئے تھے۔ اس وقت تک حضرت عمر ؓ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ چھٹے مسلمان ہیں، ان سے پہلے صرف پانچ آدمیوں نے اسلام قبول کیا تھا قبول اسلام کے بعد آنحضرت ﷺ نے ان کو اپنے پاس رکھ لیا تھا اور اپنی متعدد خدمتیں ان کے سپرد کردی تھیں، چناچہ آپ ﷺ کی مسواک انہی کے پاس رہا کرتی تھی، آپ ﷺ کو جوتی پہنایا کرتے تھے۔ سفر میں آپ ﷺ کے لئے طہارت و وضو وغیرہ کا پانی رکھتے تھے اور جب آنحضرت ﷺ غسل فرماتے تو یہ پردہ کے لئے کھڑے ہوتے تھے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے حبشہ کو بھی ہجرت کی تھی اور پھر مدینہ کی بھی ہجرت کی بدر اور دوسرے غزوات و مشاہد میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہے آنحضرت ﷺ نے ان کو جنت کی بشارت کی تھی۔ اور فرمایا تھا میں اپنی امت کے لئے وہ چیز پسند کرتا ہوں جو ابن ام عبد ( عبداللہ بن مسعود) کو پسند ہے اور میں اپنی امت کے حق میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں جو ام عبد کو ناپسند ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ گندم گوں تھے۔ اور ان کا جسم اس قدر دبلا و نحیف اور قد اتنا چھوٹا تھا کہ بیٹھا تھا کہ بیٹھا ہوا لانبا آدمی ان کے برابر نظر آتا تھا۔ ابتدائی عہد تک اسی منصب پر فائز رہے۔ پھر مدینہ آگئے تھے۔ اور مدینہ ہی میں ٣٢ ھ میں وفات پائی۔ اس وقت ان کی عمر کچھ اوپر ساٹھ سال تھی ان سے روایت حدیث کرنے والوں میں صحابہ وتابعین کی ایک بڑی جماعت کے علاوہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ، بھی شامل ہیں۔ ہمارے ائمہ کا کہنا ہے کہ خلفائے اربعہ کے استثناء کے بعد تمام صحابہ میں سب سے بڑے فقیہہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ہی تھے۔

6188Mishkaat-al-Masabih

وہ چار صحابہ جن سے قرآن سیکھنے کا حکم آنحضرت ﷺ نے دیا

وعن عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : استقرؤوا القرآن من أربعة : من عبد الله بن مسعود وسالم مولى أبي حذيفة وأبي بن كعب ومعاذ بن جبل . متفق عليه

اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن ان چار آدمیوں سے حاصل کرو اور ان سے پڑھو عبداللہ بن مسعود ؓ سے، ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم ؓ سے، ابی بن کعب ؓ سے اور معاذ بن جبل ؓ سے۔ (بخاری ومسلم) تشریح ان چاروں حضرات صحابہ نے قرآن کریم براہ راست سرکار دو عالم ﷺ سے حاصل کیا اور سیکھا تھا جب کہ اوروں نے دوسرے حضرات سے قرآن سیکھا اور حاصل کیا تھا۔ یہ چاروں حافظ قرآن بھی تھے اور صحابہ میں بڑے قاری بھی تھے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان چاروں کی خصوصی فضیلت سے لوگوں کو آگاہ فرمایا۔ حضرت سالم ؓ ان کا نام سالم بن معقل ؓ ہے حضرت حذیفہ بن عتبہ بن رببیعہ بن عبد شمس کے آزاد کردہ غلام ہیں فارس ایران کے شہر اصرخ یا اصطحرخ کے رہنے والے تھے ارباب فضل و کمال جلیل القدر اور بزرگ صحابہ میں ان کا شمار ہوتا ہے غزوہ بدر میں شریک تھے مدینہ میں ان مہاجرین کی امامت نماز کا شرف انہی کو حاصل ہوتا تھا جو آنحضرت ﷺ سے پہلے ہجرت کر کے آگئے تھے باوجودیکہ ان میں عمر ؓ اور حضرت ابوسلمہ بھی موجود ہوتے تھے۔ حضرت اوحذیفہ ؓ کا اصل نام ہشام تھا۔ فضلائے صحابہ اور مہاجرین اولین میں ہے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے دار ارقم میں آنے میں سے پہلے ہی مشرف بہ اسلام ہوگئے تھے۔ حضرت ابی بن کعب حضرت ابی بن کعب ؓ انصار صحابہ کرام میں سے ہیں بڑے قاری ہیں، ان کو سید القراء کہا جاتا تھا حضرت عمر ؓ ان کو سید المسلمین کے لقب سے یاد کرتے تھے آنحضرت ﷺ کے کاتب وحی ہیں۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ بھی انصار سے ہیں۔ ان کے فضائل و مناقب بھی بیشمار ہیں آنحضرت ﷺ نے ان کے اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کے درمیان بھائی چارہ کرایا تھا۔

6189Mishkaat-al-Masabih

ابن مسعود، عمار اور حذیفہ کی فضیلت

وعن علقمة قال : قدمت الشام فصليت ركعتين ثم قلت : اللهم يسر لي جليسا صالحا فأتيت قوما فجلست إليهم فإذا شيخ قد جاء حتى جلس إلى جنبي قلت : من هذا ؟ قالوا : أبو الدرداء . قلت : إني دعوت الله أن ييسر لي جليسا صالحا فيسرك لي فقال : من أنت ؟ قلت : من أهل الكوفة . قال : أو ليس عندكم ابن أم عبد صاحب النعلين والوسادة والمطهرة وفيكم الذي أجاره الله من الشيطان على لسان نبيه ؟ يعني عمارا أو ليس فيكم صاحب السر الذي لا يعلمه غيره ؟ يعني حذيفة . رواه البخاري

اور حضرت علقمہ (رح) (تابعی) بیان کرتے ہیں کہ جب میں ملک شام پہنچا اور دمشق کی جامع مسجد میں حاضر ہوا تو وہاں دو رکعت نماز پڑھی اور پھر میں نے دعا مانگی کہ اے اللہ! مجھ کو نیک ہمنشیں میسر فرما! پھر میں ایک جماعت میں جا کر بیٹھا ہی تھا کہ اچانک ایک بزرگ آئے اور میرے پہلو میں بیٹھ گئے۔ میں نے (لوگوں سے پوچھا) کہ یہ بزرگ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ مشہور صحابی حضرت ابودرداء ؓ ہیں میں یہ سن کر خوشی سے کھل اٹھا اور حضرت ابودرداء ؓ سے بولا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ مجھ کو نیک ہمنشین میسر فرما اور اللہ تعالیٰ نے آپ جیسا نیک ہمنشین مجھ کو میسر فرمادیا یہ سن کر حضرت ابودرداء ؓ نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ میں کوفہ کا رہنے والا ہوں اور وہیں سے آیا ہوں حضرت ابودرداء ؓ بولے کیا تمہارے یہاں (کوفہ میں) ابن ام عبد یعنی عبداللہ ابن مسعود ؓ نہیں ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ کی جوتیاں تکیہ اور چھاگل رکھنے کا شرف حاصل تھا کیا تمہارے یہاں وہ صاحب نہیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی لسان مبارک کے ذریعہ شیطان سے پناہ وامان عطا کی ہے، یعنی عمار اور کیا تمہارے یہاں وہ صاحب نہیں ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ کے اس راز کا محرم ہونے کا شرف حاصل ہے جس کو ان کے سوا کوئی دوسرا نہیں جانتا ہے یعنی حذیفہ۔ (بخاری) تشریح نیک ہمنشیں میں نیک سے مراد یا تو عالم با عمل ہے یا وہ شخص کہ جو اللہ کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے بھی آئے اور میرے پہلو میں بیٹھ گئے یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی دعا کا جواب کہ انہوں نے نیک ہمنشیں کی مخلصانہ درخواست کی اور حق تعالیٰ نے صحابی رسول جیسی جلیل القدر ہستی ان کے پاس بھیج دی یہاں وہ روایت مد نظر رہنی چاہئے کہ جس میں فرمایا گیا ہے۔ ان اللہ ملائکۃ تجر الا ہل الی الاہل۔ اور چھاگل رکھنے کا شرف حاصل تھا حضرت ابودرداء ؓ کی مراد حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی اس خصوصیت کی طرف اشارہ کرنا تھا کہ وہ سرکار دو عالم ﷺ کے ذاتی خادم ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ آپ ﷺ کی خدمت میں موجود رہتے تھے سفر وحضر میں آپ ﷺ کی ساتھ ساتھ رہتے، جب آنحضرت ﷺ سونے کا ارادہ فرماتے تو وہ آپ کا بستر ٹھیک کرتے اور آپ ﷺ کا تکیہ لا کر رکھتے جب آپ ﷺ وضو کے لئے اٹھتے تو وہ وضو کا پانی تیار رکھتے اور سفر وغیرہ میں آپ کے پانی کی چھاگل اپنے ساتھ رکھتے اور ضرورت کے وقت آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیتے۔ پس حضرت ابودرداء ؓ نے حضرت علقمہ ؓ کو گویا توجہ دلائی کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کو آنحضرت ﷺ کی صحبت و خدمت میں جس زبر دست قربت و وابستگی اور لزوم وتسلسل کے ساتھ رہنے کا موقع ملا ہے اس نے ان کو دین و شریعت کے علم میں یقینا اتنا لائق وفائق اور اتنا کامل بنادیا ہے کہ کوئی طالب علم ان کو چھوڑ کر کسی دوسرے صاحب علم کے پاس جانے کی ضرورت محسوس نہیں کرسکتا۔ اس سے ایک تو اس بات کی تائید ہوتی ہے جو علماء نے طلب علم اور طالبان علم کے آداب میں بیان کی ہے کہ طالب علم کو پہلے اپنے شہر اور اپنے علاقہ کے علماء سے علم حاصل کرنا اور ان سے خوب استفادہ کرنا چاہئے اگر مزید علم حاصل کرنے کا ارادہ ہو تب دوسرے شہروں کو جائے اور سفر ومسافرت کے تعب و پریشانی میں مبتلا ہو۔ دوسرے یہ بات معلوم ہوئی کہ عالم کو چاہئے کہ اگر دوسرے عالم کو اپنے سے افضل جانتا ہے تو طالب علم کو اس کا حوالہ دیدے۔ یعنی عمار حضرت عمار ؓ کو آنحضرت ﷺ نے طیب اور مطیب (پاک اور پاکیزہ) سے تعبیر فرمایا تھا، ان کو جنت کی بشارت عطا فرمائی تھی اور جب دشمنان دین ان کو سخت اذیتیں پہنچایا کرتے تھے یہاں تک کہ ایک مرتبہ ان کو آگ میں ڈال دیا گیا تو اس وقت آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا، اے آگ! عمار کے لئے ٹھنڈک اور سلامتی کا ذریعہ بن جا جیسا کہ تو ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ٹھنڈک اور سلامتی کا ذریعہ بن گئی تھی، نیز ایک موقع پر آپ ﷺ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا تھا! تم کو باغیوں کا گروہ قتل کرے گا۔ تم ان کو جنت کی طرف بلاؤ گے اور وہ تم کو آگ کی طرف لے جانا چاہیں گے، پس حضرت عمار ؓ کے حق میں آنحضرت ﷺ کے ان ارشادات اور بشارتوں کا مطلب یہ تھا کہ وہ راہ حق پر ثابت قدم رہیں اور شیطانی وسوسے ان کو بھٹکائیں نہیں۔ اور اسی کو حضرت ابودرداء نے اس بات سے تعبیر کیا کہ اللہ تعالیٰ عمار کو اپنے پیغمبر کی لسان مبارک کے ذریعہ شیطان سے پناہ وامان عطا کی ہے۔ حضرت عمار ؓ کے والد کا نام یاسر اور والدہ کا نام سمیہ ہے، یاسر کا وطن یمن تھا لیکن مکہ میں آکر رہ پڑے تھے اور یہاں انہوں نے ابوحذیفہ بن مغیرہ سے، جو بنو مخزوم میں سے تھے، حلف کی دوستی کرلی تھی اور انہی کی لونڈی سمیہ سے نکاح کرلیا تھا حضرت عمار انہی سمیہ سے پیدا ہوئے ان کے پیدا ہونے کے بعد ابوحذیفہ نے ان کو آزاد کردیا تھا۔ اور اسی اعتبار سے حضرت عمار بنو مخزوم کے آزاد کردہ غلام کہے جاتے ہیں۔ حضرت عمار بن یاسر ؓ ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام کی طرف سبقت کی تھی، ابتدائے اسلام میں کفار مکہ جن کمزور و لاچار مسلمانوں کو اپنے ظلم وستم کا نشانہ بناتے تھے اور ان کو اسلام سے منحرف کرنے کے لئے نہایت سخت اور وحشیانہ اذیتیں پہنچاتے تھے اور ان میں حضرت عمار ؓ سر فہرست تھے۔ شقی القلب مشرک ان کو آگ کے عذاب میں مبتلا کیا کرتے تھے۔ اور آنحضرت ﷺ ان کے پاس پہنچتے تو ان کے سر اور جسم پر اپنا دست مبارک پھیرتے جاتے اور فرماتے جاتے۔ یانار کونی بردا وسلم ا علی عمار کما کنت علی ابراہیم (اے آگ! عمار پر ٹھنڈی ہو جیسا کہ تو ابراہیم خلیل اللہ پر ٹھنڈی ہوگئی تھی) حضرت عمار اولین مہاجرین میں ہیں، غزوہ بدر اور دوسرے تمام جہادوں میں شریک ہوئے اور ٣٧ ھ میں جنگ صفین میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور اس وقت ان کی عمر ٩٣ سال تھی۔ یعنی حذیفہ حضرت حذیفہ کو صاحب سر رسول اللہ ﷺ کہا جاتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے ان پر وہ مختلف راز اور بھید منکشف فرما رکھے تھے جن کا عام انکشاف دینی وملی مصالح کے تحت مناسب نہیں تھا ان بھیدوں میں ایک بھید تو یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ نے ان کو منافقین اسلام کے نام، ان کے نسب اور نفاق کی علامتیں بتادی تھیں، اس بناء پر ان کو پوری طرح معلوم تھا کہ کون شخص مخلص مسلمان نہیں ہے بلکہ منافق ہے، منقول ہے کہ ایک روز امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق نے پوچھا کہ اے حذیفہ کیا تم میرے اندر نفاق کی کوئی علامت دیکھتے ہو؟ حضرت حذیفہ نے جواب دیا نہیں، اللہ کی قسم آپ میں مجھ کو نفاق کی کوئی علامت نظر نہیں آتی، ہاں کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ کے دسترخوان پر رنگ برنگ کے کھانے موجود ہوتے ہیں لیکن جب اس کی تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ دسترخوان پر کچھ انڈے رکھے ہوتے تھے جو توڑے جانے کے بعد زرد وسفید رنگ کی صورت میں الگ الگ چیز معلوم ہوتے تھے۔ حضرت حذیفہ نے ٣٥ ھ میں بمقام مدائن اور وہیں مدفون ہوئے۔

6190Mishkaat-al-Masabih

حضرت انس کی والدہ ام سلیم اور حضرت بلال کی فضیلت

وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أريت الجنة فرأيت امرأة أبي طلحة وسمعت خشخشة أمامي فإذا بلال . رواه مسلم

اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مجھ کو جنت دکھائی گئی تو میں نے اس میں ابوطلحہ ؓ کی بیوی کو دیکھا، پھر میں نے اپنے آگے قدموں کی چاپ سنی تو کیا تو دیکھتا ہوں کہ بلال ہیں (جو آگے آگے جنت میں چلے جا رہے ہیں )۔ (مسلم) تشریح ابو طلحہ ؓ کی بیوی سے مراد حضرت ام سلیم ہیں جو حضرت انس ؓ کی والدہ ماجدہ ہیں۔ ان کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ ان کا پہلا نکاح مالک بن نضر سے ہوا تھا اور اسی سے حضرت انس ؓ پیدا ہوئے، مالک بن نضر مشرک تھا اور شرک ہی کی حالت میں مارا گیا، اس کے بعد ام سلیم مسلمان ہوگئیں اور ابوطلحہ ؓ نے ان سے نکاح کا پیغام دیا اس وقت تک ابوطلحہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا چناچہ حضرت ام سلیم نے ان کا پیغام رد کردیا اور ان کو اسلام کی دعوت دی ابوطلحہ نے اسلام قبول کیا تو حضرت ام سلیم ؓ نے ان سے نکاح کرلیا اور کہا کہ میں خود کو تمہارے اسلام کے عوض تمہاری زوجیت میں دیتی ہوں، تمہارا یہ اسلام قبول کرنا ہی میرا مہر ہے ؓ حضرت بلال ؓ ابورباح کے بیٹے تھے اور حضرت ابوبکر صدیق کے آزاد کردہ غلام ہیں، نہایت قدیم الاسلام ہیں مکہ میں اپنے اسلام کا سب سے پہلے اعلان و اظہار کرنے والے یہی ہیں، آنحضرت ﷺ کے مؤذن خاص تھے انہوں نے غزوہ بدر اور اس کے بعد جہادوں میں شرکت کی، آخر میں شام چلے گئے اور وہیں کے سکونت پزیر ہوگئے تھے۔ ٢٠ ھ میں بمقام دمشق فوت ہوئے اور باب الصغیر میں دفن کئے گئے اس وقت ان کی عمر ٦٣ سال تھی انہوں نے اپنا کوئی وارث نہیں چھوڑا، صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کو ان سے روایت حدیث کا شرف حاصل ہے، حضرت بلال ؓ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو قبول اسلام کی پاداش میں کفار مکہ کے سخت ظلم وستم کا نشانہ بنے تھے۔ امیہ بن خلف ان کو نہایت سخت اذیتیں پہنچایا کرتا تھا اور تقدیر الہٰی سے ایسا ہوا کہ غزوہ بدر میں وہ موذی حضرت بلال ہی کے ہاتھوں جہنم رسید ہوا، ایک روایت میں حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق ؓ فرمایا کرتے تھے۔ ابوبکر سیدنا واعتق سیدنا یعنی ابوبکر ہمارے آقا ہیں اور انہوں نے ہمارے آقا (بلال) کو آزاد کیا۔ امام احمد (رح) نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے کہ سب سے پہلے جن لوگوں نے اسلام کا انکشاف و اظہار کیا وہ سات ہیں، رسول اللہ ﷺ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ، حضرت عمار ؓ، کی والدہ حضرت سمیہ ؓ، حضرت صہیب ؓ، حضرت بلال ؓ اور حضرت مقداد ؓ، پس اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو تو دشمنان دین کی اذیتوں سے آپ ﷺ کے چچا ابوطالب کے ذریعہ محفوظ رکھا اور حضرت ابوبکر ؓ کو ان کے قبیلہ و خاندان کے سبب تحفظ حاصل رہا، باقی پانچوں کو مشرکوں نے کمزور و لاچار جان کر اپنا ہدف بنا لیا۔ وہ ظالم ان کو وحشیانہ سزائیں دیتے تھے، یہاں تک کہ ان کو لوہے کی زرہیں پہناکر تپتی ہوئی دھوپ میں ڈال دیا کرتے تھے۔ پھر ان پانچوں میں سے سوائے بلال ؓ کے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے پنجے سے نجات دلائی اور ان کو ذی عزت بنادیا۔ مگر بلال ؓ کمزور و لاچار ہی رہے، اللہ کی راہ میں مصائب وشدائد سے بچانے والی کوئی خاندانی وقبائلی طاقت ان کو حاصل نہیں ہوئی۔ مشرکین مکہ کی ظالمانہ گرفت ان پر سخت سے سخت ہوگئی، انہوں نے ان کو مکہ کے اوباش لونڈوں کے سپرد کردیا، وہ لونڈے ان کو (رسیوں میں جکڑ کر) مکہ کے گلی کوچوں میں گھسٹیتے پھرتے تھے اور ان کی زبان پر احد احد (اللہ ایک ہے) کا نعرہ ہوتا تھا۔

6191Mishkaat-al-Masabih

جن صحابہ کو قریش نے حقیر جانا ان کو اللہ تعالیٰ نے عزت عطا کی

وعن سعد قال : كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم ستة نفر فقال المشركون للنبي صلى الله عليه و سلم : اطرد هؤلاء لا يجترؤون علينا . قال : وكنت أنا وابن مسعود ورجل من هذيل وبلال ورجلان لست أسميهما فوقع في نفس رسول الله صلى الله عليه و سلم ما شاء الله أن يقع فحدث نفسه فأنزل الله تعالى : [ ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه ] . رواه مسلم

اور حضرت سعد بن ابی وقاص (جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ چھ آدمی تھے (مکہ کے) مشرکین (میں سے بعض سرداروں نے) نبی کریم ﷺ سے مطالبہ کیا کہ تم ( اگر چاہتے ہو کہ ہم لوگ تمہارے پاس آئیں جائیں، تمہاری دعوتی باتیں سنیں اور قبول اسلام کے بارے میں سوچیں تو اپنے ساتھیوں میں سے) ان لوگوں کو ( جو آزاد کردہ غلام ہیں اور ہماری سماجی زندگی میں بےوقعت وبے حیثیت مانے جاتے ہیں اپنی مجلس سے) دور رکھو تاکہ یہ لوگ (ہمارے برابر میں بیٹھنے اور ہمارے ساتھ بات چیت میں شریک ہونے کا فائدہ اٹھا کر) ہم پر جری اور دلیر نہ ہوجائیں۔ حضرت سعد ؓ کہتے ہیں کہ کہ ان چھ آدمیوں میں ایک تو میں تھا، ایک عبداللہ بن مسعود ؓ تھے، ایک قبیلہ ہذیل کا تھا اور دو آدمی اور تھے، جن کے نام میں نہیں بتاتا۔ (ان سرداروں کا مطالبہ سن کر) رسول کریم ﷺ کے خیال میں وہ بات آئی جو اللہ نے چاہا کہ آئے پھر آپ ﷺ نے (اس بارے میں سوچا ہی تھا کہ یہ آیت نازل ہوئی (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَه) 6۔ الانعام 52) یعنی ان لوگوں کو نہ ہٹائیے جو صبح وشام اپنے رب کو یاد کرتے اور پکارتے ہیں اور اس (عبادت وذکر) سے ان کا مقصد اپنے رب کی خوشنودی چاہنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ (مسلم) تشریح دو آدمی اور تھے کے تحت شارحین نے لکھا ہے کہ وہ دونوں آدمی حضرت خباب بن ارت اور حضرت عمار بن یاسر ؓ تھے اور بیان کرنے والے نے جو یہ کہا ہے کہ جن کے نام میں نہیں بتاتا تو یہ بات انہوں نے اس بناء پر کہی کہ اپنی کس مصلحت کے تحت وہ ان دونوں ناموں کا ذکر کرنا نہیں چاہتے تھے۔ یا جیسا کہ بعض حضرات نے کہا ہے، انہوں نے یہ نام اس لئے نہیں بتائے کہ روایت حدیث کے وقت ان کو یاد نہیں رہا تھا کہ وہ دو آدمی کون تھے، تاہم روایت کے الفاظ سے پہلا ہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ رسول کریم ﷺ کے خیال میں وہ بات آئی، یعنی وہ سرداران قریش چونکہ اپنی سماجی برتری و وجاہت کے زعم میں یہ بات گوارا نہیں کرتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ ﷺ کی مجلس میں بیٹھیں تو اس مجلس میں وہ مسلمان بھی موجود ہوں اور برابری کی سطح پر شریک گفتگو رہیں جو کبھی غلام ہوا کرتے تھے اور اس اعتبار سے قریش مکہ کی سماجی زندگی میں ان کو حقیر و کمتر مانا جاتا تھا لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے اس لالچ میں کہ شائد ان سرداران قریش کو اسلام کی توفیق نصیب ہوجائے، ان کی بات رکھنے کا ارادہ فرمایا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسئلہ بہت اہم تھا۔ ایک طرف تو آپ ﷺ کی یہ شدید خواہش کہ اتنے بڑے بڑے سرداران قریش اسلام قبول کرلیں، دوسری طرف ان کا مطالبہ تھا جس سے بعض مخلص اور جان نثار مسلمانوں کی تحقیر ہوتی تھی، چناچہ آپ ﷺ کچھ اس طرح کی تدبیر سوچ رہے تھے جس سے ان سرداروں کی تالیف قلب بھی ہوجائے جو آخر کار ان کے قبول اسلام کا باعث بن سکے اور اسلام کی نظر میں ان مخلص مسلمانوں کو جو عزت و توقیر ہے اس کو بھی تحفظ حاصل رہے۔ اس کی صورت آپ ﷺ کے ذہن میں یہ آئی ہوگی کہ جب وہ سرداران قریش مجلس میں بیٹھے ہوئے ہوں تو وہ مسلمان از خود مجلس میں نہ آئیں یا اگر وہ مجلس نبوی ﷺ میں پہلے سے ہی موجود ہوں اور سرداران قریش آجائیں تو از خود اٹھ کر چلے جائیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان مخلص اور سچے مسلمانوں کو عزت و توقیر قائم کرنے کے لئے اس صورت کو بھی ناپسند فرمایا اور مذکورہ آیت کریمہ کے ذریعہ گویا واضح فرمایا کہ ان سرداران قریش کے مطالبہ کو کسی صورت میں قبول نہیں کرنا چاہئے۔

6192Mishkaat-al-Masabih

ابو موسیٰ اشعری کی فضیلت

وعن أبي موسى أن النبي صلى الله عليه و سلم قال له : يا أبا موسى لقد أعطيت مزمارا من مزامير آل داود . متفق عليه

اور حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا اے ابوموسیٰ! تمہیں ایسی خوش آوازی عطا کی گئی ہے جو داؤد (علیہ السلام) کی خوش آوازی کا ایک حصہ ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح مزمار اصل میں تو ساز یعنی بانسری، دف اور طنبور وغیرہ کے ساتھ گانے کو کہتے ہیں نہ کہ محض آواز کے ساتھ گانے کو۔ لیکن یہاں حدیث میں اس لفظ سے خوش آوازی وخوش الحانی مراد ہے۔ نیز آل داؤد سے مراد خود حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ذات ہے اور آل کا لفظ زائد ہے کیونکہ خوش آوازی وخوش الحانی کی صفت حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ مشہور ہے نہ کہ آل داؤد کے ساتھ، بعض حضرات نے لکھا ہے کہ یہاں آل کا لفظ شخص واحد کے معنی میں ہے۔ اور وہ خود حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ذات ہے بہرحال مشہور پیغمبر حضرت داؤد (علیہ السلام) نہایت خوش آواز اور خوش الحان تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کو بھی خوش آوازی اور خوش الحانی کی بڑی صفت عطا فرمائی تھی، جب وہ اپنی پرسوز اور خوش الحان آواز میں کلام اللہ کی تلاوت کرتے تو آنحضرت ﷺ بھی نہایت شوق سے ان کی تلاوت سنتے تھے۔ حضرت ابوموسیٰ ان کا اصل نام عبداللہ بن قیس اشعری ہے، ابوموسیٰ کی کنیت سے مشہور ہیں، انہوں نے مکہ ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا اور حبشہ کو ہجرت کرنے والوں میں شامل تھے بعد میں حبشہ سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اس وقت آئے جب آپ ﷺ خیبر میں تھے۔ امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق ؓ نے ٢٠ ھ میں ان کو بصرہ کا حاکم مقرر کیا تھا اور حضرت عثمان غنی ؓ کے شروع عہد خلافت تک بصرہ ہی میں مقیم رہے، پھر معزول ہو کر بصرہ کی سکونت ترک کی اور کوفہ آگئے۔ جب اہل کوفہ نے سعید بن عاص (حاکم کوفہ) کو وہاں سے نکال دیا اور حضرت عثمان ؓ سے درخواست کی کہ ابوموسیٰ کو ہمارا حاکم بنا دیجئے تو حضرت عثمان ؓ نے ان کو دوبارہ کوفہ کا حاکم بنادیا۔ حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان کو معزول کردیا اور پھر واقعہ تحکیم کے بعد حضرت ابوموسیٰ ؓ مکہ مکرمہ میں منتقل ہوگئے اور وہیں ٥٢ ھ میں فوت ہوئے۔

6193Mishkaat-al-Masabih

چار حافظ قرآن صحابہ کا ذکر

وعن أنس قال : جمع القرآن على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم أربعة : أبي بن كعب ومعاذ بن جبل وزيد بن ثابت وأبو زيد قيل لأنس : من أبو زيد ؟ قال : أحد عمومتي . متفق عليه

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں جن چار صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین نے قرآن کو جمع کیا یعنی پورا قرآن حفظ یاد کیا وہ ہیں، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابوزید ؓ حضرت انس ؓ سے پوچھا گیا کہ ابوزید کون ہیں تو انہوں نے کہا، میرے ایک چچا ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح حضرت ابوزید ؓ کے نام میں اختلاف ہے۔ بعض حضرات نے سعید بن عمیر لکھا ہے اور بعض نے قیس بن سکن۔ یہ چاروں صحابہ انصار مدینہ کے قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے ہیں جو حضرت انس ؓ کا قبیلہ ہے، اس اعتبار سے کہنا چاہئے کہ حضرت انس ؓ نے جو بات کہی ہے وہ انہوں نے اظہار فخر کے طور پر کہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ہمارے قبیلہ کے چار آدمیوں کو پورے کلام اللہ کا حافظ ہونے کا فخر حاصل تھا اور اگر ان کے الفاظ کو (اظہار فخر کے طور پر نہیں بلکہ) عام بیان پر بھی محمول کیا جائے تو بھی ان الفاظ میں ایسی کوئی تصریح نہیں ہے جس کی بنا پر کہا جاسکے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مذکوہ چار صحابہ کے علاوہ اور کوئی صحابی پورے کلام اللہ کا حافظ نہیں تھا۔ ایک بات تو یہ ہے کہ ایسے مواقع پر عدد کا مفہوم کوئی خاص اعتبار نہیں رکھتا دوسرے یہ کہ صحابہ کی ایک بڑی جماعت کا پورے کلام اللہ کا حافظ ہونا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، ان میں سے ایک صحیح حدیث تو وہی ہے جس میں مذکور ہے کہ یمامہ میں جن ستر صحابہ کو شہید کیا گیا تھا وہ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے پورا قرآن مجید حفظ یاد کر رکھا تھا، نیز خود خلفاء اربعہ بھی حفاظ قرآن صحابہ میں شامل ہیں۔

6194Mishkaat-al-Masabih

مصعب بن عمیر کی فضیلت

وعن خباب بن الأرت قال : هاجرنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم نبتغي وجه الله تعالى فوقع أجرنا على الله فمنا من مضى لم يأكل من أجره شيئا منهم : مصعب بن عمير قتل يوم أحد فلم يوجد له ما يكفن فيه إلا نمرة فكنا إذا غطينا بها رأسه خرجت رجلاه وإذا غطينا رجليه خرج رأسه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : غطوا بها رأسه واجعلوا على رجليه الإذخر . ومنا من أينعت له ثمرته فهو يهدبها . متفق عليه

اور حضرت خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ ہمارا ہجرت کرنا اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے جذبہ کے علاوہ اور کوئی مقصد نہیں رکھتا تھا، چناچہ ہمارے اس عمل کا اجر وثواب اللہ کے نزدیک (محض اس کے فضل و کرم سے دنیا و آخرت میں) ثابت وقائم ہوگیا۔ پھر ہم میں سے بعض لوگ تو وہ ہیں جو (دنیا کا) کوئی بھی اجروانعام پائے بغیر اس دنیا سے رخصت ہوگئے، جن میں سے ایک مصعب بن عمیر ؓ ہیں وہ احد کے دن شہید ہوئے اور ان کے لئے کوئی ایسا کپڑا بھی میسر نہ ہوا جس میں ان کو (پوری طرح) کفنایا جاتا۔ (ان کے جسم پر) چیتے کی کھال جیسی سپید و سیاہ دھاریوں والی صرف ایک کملی تھی (اور وہ بھی اتنی مختصر کہ) جب ہم (اس کملی سے کفناتے وقت) مصعب کے سر کو ڈھانکتے تو پاؤں کھل جاتے تھے اور ان کے پاؤں کو ڈھانکتے تو ان کا سر کھل جاتا تھا۔ چناچہ (ان کے کفن کے سلسلہ میں ہماری اس پریشانی کو دیکھ کر) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کملی سے سر کی طرف کو ڈھانک دو اور پاؤں پر اذخر (گھاس) ڈال دو اور ہم میں سے بعض لوگ وہ ہیں جن کا پھل پختہ ہوگیا اور وہ اس پھل کو چن رہے ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح کوئی بھی اجروانعام پائے بغیر یعنی وہ لوگ دین کی راہ میں سخت جدوجہد اور قربانیوں کے بعد اس دنیا سے اس حال میں رخصت ہوگئے کہ ابھی اسلام کی فتوحات اور مسلمانوں کی کشور کشائیوں کا دور شروع نہیں ہوا تھا اور اس کے نتیجہ حاصل ہونے والے اس مال غنیمت سے ان کو کوئی حصہ نصیب نہیں ہوا جو اس زمانہ کے لوگوں کو مل رہا ہے۔ پس ان کا پورا اجر ان کو آخرت میں ملے گا۔ اور وہ اس پھل کو چن رہے ہیں یہ مال غنیمت سے کنایہ ہے، یعنی یہ وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے فتوحات اور کشور کشائیوں کا زمانہ پایا اور اس نتیجہ میں جو مال غنیمت ملا اس میں سے اپنا حصہ حاصل کر رہے ہیں۔ حضرت خباب ؓ کا کہنے کا مطلب گویا یہ تھا کہ ہم میں بعض لوگ تو وہ ہیں کہ جنہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا قربانیاں دیں اور پھر اسلام کی عظیم اور وسیع فتوحات کے بعد مال وزر کی فراوانی ہوئی تو اس سے ان کو مستفید ہونے کا موقع ملا اور اس طرح انہوں نے اپنے اجروثواب کا کچھ حصہ اسی دنیا میں حاصل کرلیا۔ اور ان کے مقابلہ میں بعض لوگ وہ ہیں کہ جنہوں نے اللہ کی راہ میں جو بڑی سے بڑی قربانیاں دیں اور جو سخت سے سخت مصائب جھیلے ان کا کوئی ثمرہ اس دنیا میں حاصل کرنے سے پہلے ہی وہ اس دنیا سے چلے گئے اور اس طرح ان کا پورا ثواب باقی رہا جو ان کو آخرت میں ملے گا اور انہیں لوگوں میں مصعب بن عمیر بھی ہیں پس اس حدیث میں دراصل حضرت مصعب بن عمیر ؓ کی فضیلت کا بیان ہے۔ کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کا آخروی اجر وثواب جوں کا توں قائم ہے۔ اس میں سے کچھ کم نہیں ہوا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ مجاہدین کی جو بھی جماعت اللہ کی راہ میں جہاد کرتی ہے اور اس جہاد میں مال غنیمت پاتی ہے تو گویا دو تہائی ثواب اس دنیا میں مل جاتا ہے اور ایک تہائی ثواب باقی رہ جاتا ہے جو اس کو آخرت میں ملے گا۔ حضرت مصعب بن عمیر حضرت مصعب بن عمیر ؓ، قرشی عبدری ہیں، اجلہ اور فضلاء صحابہ میں سے ہیں انہوں نے آنحضرت ﷺ کے دار ارقم میں آنے سے پہلے مکہ میں اسلام قبول کیا تھا اور اول ہجرت حبشہ کرنے والوں کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کی، پھر جنگ بدر میں شریک ہوئے، آنحضرت ﷺ نے ان کو عقبہ ثانیہ کے بعد مدینہ بھیجا تھا اور وہاں اہل مدینہ کو قرآن کی تعلیم دینے اور دین سکھانے کی خدمت ان کے سپرد فرمائی تھی، ہجرت نبوی سے قبل مدینہ میں جس نے سب سے پہلے جمعہ پڑھا وہ مصعب بن عمیر ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں حضرت مصعب بن عمیر ؓ بڑے عیش و آرام کی زندگی گزارتے تھے، اعلیٰ لباس زیب تن کرتے تھے، مگر جب مسلمان ہوگئے تو زہد اختیار کیا اور دنیا کی ہر عیش و آرام اور ہر راحت سے دست کش ہوگئے حدیث میں آیا ہے کہ ایک دن مصعب بن عمیر ؓ اس حال میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ (جسم پر ایک کملی تھی اور) کمر پر بکرے کے چمڑے کا تسمہ بندھا ہوا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو دیکھ کر حاضرین مجلس سے فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو جس کا قلب اللہ تعالیٰ نے نور ایمان سے جگمگا رکھا ہے۔ میں نے اس شخص کو مکہ میں اس حال میں دیکھا کہ اس کے ماں باپ اس کو اعلی سے اعلی چیزیں کھلاتے پلاتے تھے اور میں نے اس کے جسم پر ایسا جوڑا دیکھا ہے جو دو سو درہم میں خریدا گیا تھا، مگر اب اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی محبت نے اس کو اس حالت میں پہنچا دیا ہے جو تم دیکھ رہے ہو، بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیر ؓ کو عقبہ اولی کے بعد مدینہ بھیجا تھا، وہاں یہ اسلام کی دعوت لے کر انصار کے گھر گھر جاتے، ان کو تبلیغ کرتے اور ان کو مسلمان بنانے کی پوری پوری جدوجہد کرتے چناچہ ان کی اسی جدوجہد کے نتیجہ میں ایک ایک اور دو دو کرکے لوگ مسلمان ہوتے رہے، یہاں تک کہ مدینہ میں اسلام کا نور پھیل گیا اور اہل مدینہ کی بڑی تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہوگئی، تب انہوں نے مدینہ میں جمعہ قائم کرنے اور مسلمانان مدینہ کو نماز جمعہ پڑھانے کی اجازت آنحضرت ﷺ سے منگوائی، اس کے بعد حضرت مصعب بن عمیر ؓ ستر آدمیوں کی وہ جماعت لے کر مکہ آئے جو عقبہ ثانیہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تھی قرآن کریم کی یہ آیت (مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ ) 33۔ الاحزاب 23) انہی حضرت مصعب بن عمیر ؓ کی شان میں نازل ہوئی۔

6195Mishkaat-al-Masabih

سعد بن معاذ کی فضیلت

وعن جابر قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : اهتز العرش لموت سعد بن معاذ وفي رواية : اهتز عرش الرحمن لموت سعد بن معاذ . متفق عليه

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، سعد بن معاذ کے مرنے پر عرش ہل گیا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ سعد بن معاذ کے مرنے پر رحمن ہل گیا۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس بارے میں شارحین حدیث کے مختلف اقوال ہیں کہ عرش کے ہلنے کے کیا معنی ہیں اور اس کے ہلنے کا سبب کیا تھا؟ ایک قول میں یہ معنی بیان کئے گئے ہیں کہ جب حضرت سعد ؓ کا انتقال ہوا تو عرش الہٰی اس خوشی میں کہ پاک روح آئی ہے واقعۃً جھوم اٹھا۔ اور ایک قول میں یہ کہا گیا کہ عرش ہل گیا کے الفاظ دراصل حضرت سعد ؓ کی پاک روح آنے کے سبب عرش الہٰی کے حقیقی یا مجازی فرح ونشاط سے کنایہ ہیں لیکن زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ ہلنے کے لفظ کو حقیقی معنی پر محمول کیا جائے جیسا کہ پہلے قول سے ثابت ہوتا ہے اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے جمادات میں بھی علم وتمیز کا مادہ رکھا ہے، جس کا ثبوت قرآن کریم کے ان الفاظ وان منہالما یہبط من خشیۃ اللہ سے بھی ملتا ہے اور آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد سے بھی جو آپ ﷺ نے احد پہاڑ کے بارے میں فرمایا تھا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم کو محبوب رکھتا ہے۔ بعض حضرات کا یہ کہنا ہے کہ عرش کے ہلنے سے تعبیر فرمایا۔ اور بعض حضرات نے لکھا ہے۔ یہ الفاظ حضرت سعد ؓ کے سانحہ موت کو عرش کے ہلنے سے تعبیر فرمایا۔ اور بعض حضرات نے لکھا ہے۔ یہ الفاظ حضرت سعد ؓ کی وفات کے عظیم الشان سے کنایہ ہیں۔ جیسا کہ جب کسی بہت ہی اہم اور بڑی شخصیت کا انتقال ہوجاتا ہے، تو کہہ دیتے ہیں کہ اس کی وفات سے دنیا میں اندھیرا چھا گیا، یا یوں کہتے ہیں کہ فلاں کے مرنے پر قیامت آگئی۔ حضرت سعد بن معاذ حضرت سعد بن معاذ بن نعمان مدینہ انصار میں سے ہیں اور اشہلی اوسی ہیں، ان کا شمار اجلہ اور اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے مدینہ میں حضرت مصعب بن عمیر ؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا جن کو آنحضرت ﷺ نے اپنی ہجرت سے پہلے دین کی تبلیغ وتعلیم کے لئے مدینہ بھیجا تھا۔ حضرت سعد ؓ کے اسلام لانے کے سبب بنی عبد الاشہل کا پورا خاندان دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو سید الانصار کا خطاب عطا فرمایا تھا جنگ بدر اور جنگ احد میں شریک ہوئے ہیں جنگ احد کے دن پوری جاں نثاری کے ساتھ ثابت قدم رہے اور آنحضرت ﷺ کے پاس سے ہرگز نہیں ہٹے غزوہ خندق کے موقع پر ان کی رگ ہفت اندام میں ایک تیر آکر لگا جس سے خون جاری ہوگیا اور کسی طرح رک نہ سکا یہاں تک کہ اسی کے سبب تقریبا ایک ماہ بعد ذیقعدہ ٥ ھ میں انتقال کر گئے۔ اس وقت ان کی عمر ٣٧ سال کی تھی بقیع میں مدفون ہوئے، اسی موقع پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا سعد کی موت پر ستر ہزار فرشتے اترے اور عرش الہٰی ہل گیا۔

6196Mishkaat-al-Masabih

حضرت سعد بن معاذ

وعن البراء قال : أهديت لرسول الله صلى الله عليه و سلم حلة حرير فجعل أصحابه يمسونها ويتعجبون من لينها فقال : أتعجبون من لين هذه ؟ لمناديل سعد بن معاذ في الجنة خير منها وألين . متفق عليه

اور براء بن عازب (جومشاہیر صحابہ میں سے ہیں) بیان کرتے ہیں کہ (ایک عجمی ملک کے بادشاہ کی طرف سے) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ریشمی کپڑے کا جوڑا بطور ہدیہ پیش کیا گیا تو آپ ﷺ کے صحابہ اس جوڑے پر ہاتھ پھیرپھیر کر اس کی نرمی اور ملائمت پر تعجب اور حیرانی کا اظہار کرنے لگے۔ آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم اس کپڑے کی نرمی اور ملائمت پر کیا تعجب کر رہے ہو جنت میں سعد بن معاذ کو جو رومال ملے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ نرم اور ملائم ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح تعجب اور حیرانی کا اظہار کرنے لگے ایک روایت میں آیا ہے کہ صحابہ نے چونکہ اتنا بیش قیمت اور ایسا نفیس جوڑا پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اس لئے اس جوڑے کو دیکھ کر نہایت تعجب اور حیرانی کے ساتھ وہ یوں کہتے تھے کہ یہ جوڑا آنحضرت ﷺ پر آسمان سے نازل ہوا ہے۔ منادیل اصل میں مندیل کی جمع ہے اور مندیل اس رومال کو کہتے ہیں کہ جس سے ہاتھ وغیرہ پونچھنے کا کام لیا جاتا ہے پس اس موقع پر آپ ﷺ نے مبالغۃ ًمندیل کا ذکر کر کے گویا فرمایا واضح رہے کہ جب جنت کے کپڑوں کی ایسی چھوٹی موٹی چیزیں اس دنیا کے پیش قیمت اور نفیس ترین کپڑوں سے بھی اعلی و افضل ہوں گی تو وہاں کے اصل کپڑوں اور لباسوں کا کیا پوچھنا ہے۔

6197Mishkaat-al-Masabih

حضرت انس کے حق میں مستجاب دعا

وعن أم سليم أنها قالت : يا رسول الله أنس خادمك ادع الله له قال : اللهم أكثر ماله وولده وبارك فيما أعطيته قال أنس : فو الله إن مالي لكثير وإن ولدي وولد ولدي ليتعادون على نحو المائة اليوم . متفق عليه

اور حضرت ام سلیم ؓ سے (جو حضرت انس ؓ کی والدہ ہیں) روایت ہے کہ انہوں نے (جب اپنے بیٹے انس ؓ کو ان کی چھوٹی سی عمر میں آنحضرت ﷺ کی خدمت بابرکت میں پیش کیا تو اس وقت) عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ انس ہے جس کو آپ ﷺ کا خادم بناکر آپ کی خدمت اقدس میں پیش کر رہی ہوں، تو (اس کو حصول ایمان اور آپ کی بابرکت صحبت و خدمت کے سبب آخرت کا اجر و انعام تو ملے ہی گا، رہی دنیاوی خوشحالی و برکت کی بات تو اس بارے میں) اس کے لئے دعا فرما دیجئے۔ آپ ﷺ نے یہ دعا فرمائی خدایا، اس (انس) کے مال کو زیادہ کر، اس کی اولاد کو بڑھا اور (اپنی طرف سے) جو نعمتیں تو نے اس کو عطا کی ہیں ان میں برکت دے، حضرت انس ؓ کہتے تھے کہ اللہ کی قسم (آنحضرت ﷺ کی اسی دعا کے سبب) میرا مال نہایت بہتات اور نہایت برکت کے ساتھ ہے۔ اور میری (بلاواسطہ) اولاد اور میری اولاد کی اولاد آج شمار میں سے سو کے قریب ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح آج شمار میں سو کے قریب ہیں حضرت انس ؓ نے اپنی بلاواسطہ اور بالواسطہ اولاد کی یہ تعداد تو اس وقت بیان کی تھی جب انہوں نے اس بات کا ذکر کیا تھا، اس کے بعد ان کی اولاد میں اور بھی اضافہ ہوا، چناچہ ابن حجر (رح) نے حضرت انس ؓ کی وہ روایت نقل کی ہے جو انہوں نے اس دن کے کافی عرصہ بعد بیان کی تھی اور جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میری اولاد کی اولاد کے علاوہ جو اولاد بلا واسطہ میری صلب سے مجھ کو عطا کی ہے۔ وہ تعداد میں ایک سو پچیس ہیں، جن میں دو لڑکیوں کے علاوہ باقی سب لڑکے ہیں اور (میرے مال میں بہتات و برکت کا یہ عالم ہے کہ) میرے باغات سال میں دو مرتبہ پھل دیتے ہیں۔ نیز حضرت انس ؓ کے ایک صاحبزادے نے بیان کیا کہ والد محترم حضرت انس ؓ کی صلبی اولاد میں سے جن کو میں نے دفنایا ہے۔ ان کی تعداد سو کے قریب ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مال ومنال اور اولاد اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتیں ہیں بشرطیکہ وہ یاد الہٰی سے غفلت کا موجب اور گناہ و معصیت کا باعث نہ ہوں۔ اور امام نووی لکھتے ہیں یہ (حضرت انس ؓ کا اس قدر کثیرالاولاد ہونا اور کثیر المال ہونا) ہی دراصل آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ایک اعجاز ہے۔ نیز یہ حدیث ان حضرات کے حق میں جاتی ہے جو فقیر ومفلس پر غنی و مالدار کی فضیلت کے قائل ہیں۔ لیکن دوسرے حضرات کی طرف سے اس کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے۔ کہ اس معاملہ کی خصوصی نوعیت ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت انس ؓ کے حق میں دعا فرمائی اور اس دعا کی وجہ سے ان کے مال میں برکت ہوئی اور جب برکت (الہٰی کا دخل ہوا تو اس مال کا وہ پہلوجاتا رہا جس کو شریعت کی نظر میں فتنہ کہا جاتا ہے لہٰذا وہ مال حضرت انس ؓ کے حق میں نہ تو تقصیر اور برائی کا باعث بنا اور نہ دنیا سے تعلق رکھنے والی کسی چیز کی دعا مانگے تو اس دعا میں طلب برکت کو بھی شامل کرے یعنی اللہ سے اس چیز کو مانگنے کے ساتھ یہ بھی دعا مانگے کہ اللہ، اس چیز میں برکت عطا فرما اور مجھ کو اس کے فتنہ و آفات سے محفوظ رکھ۔ حضرت انس بن مالک بن نضر ؓ مدینہ کے باشندہ اور خزرجی ہیں، ابوحمزہ ان کی کنیت ہے ان کو ان کی والدہ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں مدینہ میں اس وقت پیش کیا تھا جب وہ بارہ سال کے تھے انہوں نے حضرت عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں بصرہ کی سکونت اس مقصد سے اختیار کرلی تھی کہ وہاں کے لوگوں کو دین کی تعلیم دیں گے اور بصرہ ہی میں ٩١ ھ میں انتقال کیا، اس وقت ان کی عمر ١٠٣ سال تھی بصرہ میں فوت ہونے والے صحابہ میں حضرت انس ؓ آخری صحابی ہیں۔ ابن عبد البر نے نقل کیا ہے کہ حضرت انس ؓ کے بیٹوں کی تعداد سو تھی اور یہی قول زیادہ صحیح ہے بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ان کی اولاد کی تعداد اسی تھی جن میں اٹھتر بیٹے تھے اور دو بیٹیاں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ابن حجر (رح) نے جو روایت نقل کی ہے ( اور جس میں حضرت انس ؓ کی اولاد کی تعداد ١٢٥ بیان ہوئی ہے) وہ نہ صرف ان روایتوں کے خلاف پڑتی ہے (کہ جن میں ان کی اولاد کی تعداد ایک سو یا اسی بیان کی گئی ہے) بلکہ مذکورہ بالا حدیث کے بھی مخالف نظر آتی ہے، کیونکہ اس حدیث کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ حضرت انس ؓ کی بلاواسطہ اور بالواسطہ اولاد کی مجموعی تعداد سو یا سو سے کچھ متجاوز تھی نہ کہ یہ تعداد صرف ان کی بلا واسطہ اولاد کی ہے۔ واللہ اعلم۔

6198Mishkaat-al-Masabih

عبداللہ بن سلام کی فضیلت

وعن سعد بن أبي وقاص قال : ما سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول لأحد يمشي على وجه الأرض إنه من أهل الجنة إلا لعبد الله بن سلام . متفق عليه

اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن سلام ؓ کے علاوہ کسی اور شخص کے بارے میں کہ جو زمین پر چلتا ہو، نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ وہ جنتی ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح حضرت عبداللہ بن سلام ؓ نہایت جلیل القدر صحابی ہیں ان کا سلسلہ نبوت حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ملتا ہے، چناچہ یہ پہلے ایک یہودی تھے اور نہایت ممتاز درجہ کے علماء یہود میں شمار ہوتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت فرمائی اور انہوں نے دائرہ اسلام میں داخل ہو کر اسلام اور مسلمانوں کی نمایاں خدمات انجام دیں، انہی حضرت عبداللہ بن سلام کے بارے میں حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں نے صرف ان کی نسبت آنحضرت ﷺ کی لسان مقدس سے یہ بشارت سنی ہے کہ عبداللہ بن سلام جنتی ہیں۔ جو زمین پر چلتا ہو یہ صفت اعترازیہ ہے، یعنی حضرت سعد ؓ نے یہ الفاظ اس لئے کہے تاکہ عشرہ مبشرہ میں سے ان حضرات کا استثناء ہوجائے جو حضرت عبداللہ بن سلام ؓ سے پہلے انتقال کرچکے تھے۔ گویا ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اس وقت روئے زمین پر جو لوگ زندہ ہیں ان میں صرف عبداللہ بن سلام وہ واحد شخص ہیں جن کی نسبت میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے اپنے کان سے سنا ہے کہ وہ جنتی ہیں۔ علامہ نووی (رح) لکھتے ہیں یہ حدیث اس روایت کے منافی نہیں ہے جس میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق ؓ وغیرہ دس صحابہ کی نسبت جنتی ہونے کی بشارت مذکور ہے کیونکہ حضرت سعد ؓ نے محض اپنے سننے کی نفی کی ہے، یعنی انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ کی زبان سے یہ بشارت صرف عبداللہ بن سلام ؓ کے بارے میں سنی ہے اور کسی کے بارے میں نہیں سنی ہے۔ لہٰذا کسی اور کے بارے میں ان کا سننا اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتا کہ جنتی ہونے کی بشارت عبداللہ بن سلام کے علاوہ اور شخص کو عطا نہیں ہوئی۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ کسی واقعہ کے بارے میں نفی اور اثبات دونوں پہلوؤں کو ظاہر کرنے والی روایات موجود ہوں تو ترجیح اسی روایت کو ہوتی ہے جس سے اثبات ظاہر ہوتا ہے۔ بہرحال حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کے علاوہ اور بھی متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین کو جنتی ہونے کی بشارت عطا فرمائی ہے۔ جن میں سب سے زیادہ مشہور تو وہی دس صحابہ ہیں جن کو اسی بشارت کی بناء پر عشرہ مبشرہ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور خود حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ بھی ان میں شامل ہیں۔ لہٰذا اس حدیث کے تحت جو اشکال واقع ہوتا ہے اس کا کچھ ازالہ تو مذکورہ بالا وضاحتوں سے ہوجاتا ہے، باقی کے لئے شارحین نے کچھ اور باتیں لکھی ہیں مثلا یہ کہ ہوسکتا ہے کہ جب حضرت سعد ؓ نے عبداللہ بن سلام ؓ کے علاوہ کسی اور کے حق میں مذکورہ بشارت سننے کی یہ نفی کی تھی اس وقت تک یہ بشارت آنحضرت ﷺ نے دوسروں کو عطا نہیں فرمائی تھی، یا یہ کہ حضرت سعد ؓ نے یہ نفی اس وقت کی ہوگی جب کہ باقی صحابہ مبشرین اس دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔ چناچہ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ان صحابہ مبشرین کے بعد تک بقید حیات رہے اور جب ان کا انتقال ہوا تو عشرہ مبشرہ میں سے حضرت سعد اور حضرت سعید ؓ کے علاوہ کوئی زندہ نہیں تھا اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو دارقطنی نے نقل کی ہے اور جس میں حضرت سعد ؓ کے الفاظ یوں ہیں کہ میں نے عبداللہ بن سلام کے علاوہ کسی اور شخص کے بارے میں کہ جو اس وقت زندہ ہے اور چلتا پھرتا ہے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ وہ جنتی ہے، اب رہا یہ سوال کہ حضرت سعد ؓ نے یہ بات کہتے ہوئے خود اپنی ذات کو اور حضرت سعید ؓ کو ملحوظ کیوں نہیں رکھا جاسکتا ہے کہ انہوں نے خود اپنا ذکر تو اس وجہ سے نہیں کیا کہ ان کو اپنے حق میں اس بشارت کا علم کسی دوسرے ذریعہ سے ہوا ہوگا، خود انہوں نے آنحضرت ﷺ سے یہ بشارت نہیں سنی ہوگی، یا یہ کہ انہوں نے کسر نفسی کے تحت اپنا ذکر کرنا مناسب نہ سمجھا ہوا ہوگا اور جہاں تک حضرت سعید ؓ کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں اشکال اس وضاحت سے صاف ہوجاتا ہے کہ حضرت سعد نے یمشی علی وجہ الارض (جو زمین پر چلتا ہو) کے جو الفاظ کہے ہیں ان سے مراد یہ ہے کہ جس وقت آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کے حق میں یہ بشارت ارشاد فرمائی تھی اس وقت وہ زمین پر چل رہے تھے جب کہ دوسروں کے حق میں یہ بشارت دوسری حالتوں میں ارشاد فرمائی گئی۔

6199Mishkaat-al-Masabih

حضرت عبداللہ بن سلام کا خواب اور ان کو جنت کی بشارت

وعن قيس بن عباد قال : كنت جالسا في مسجد المدينة فدخل رجل على وجهه أثر الخشوع فقالوا : هذا رجل من أهل الجنة فصلى ركعتين تجوز فيهما ثم خرج وتبعته فقلت : إنك حين دخلت المسجد قالوا : هذا رجل من أهل الجنة . قال : والله ما ينبغي لأحد أن يقول ما لا يعلم فسأحدثك لم ذاك ؟ رأيت رؤيا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فقصصتها عليه ورأيت كأني في روضة - ذكر من سعتها وخضرتها - وسطها عمود من حديد أسفله في الأرض وأعلاه في السماء في أعلاه عروة فقيل لي : ارقه . فقلت : لا أستطيع فأتاني منصف فرفع ثيابي من خلفي فرقيت حتى كنت في أعلاه فأخذت بالعروة فقيل : استمسك فاستيقظت وإنها لفي يدي فقصصتها على النبي صلى الله عليه و سلم فقال : تلك الروضة الإسلام وذلك العمود عمود الإسلام وتلك العروة العروة الوثقى فأنت على الإسلام حتى تموت وذاك الرجل عبد الله بن سلام . متفق عليه

اور حضرت قیس بن عباد (جو ایک ثقہ تابعی ہیں) بیان کرتے ہیں میں ( ایک روز) مدینہ کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک صاحب ( مسجد میں) آئے جن کے چہرہ سے خشوع (یعنی وقار و سکون اور قربت الہٰی کانور) ظاہر تھا (مسجد میں جو صاحبان موجود تھے ان میں سے) بعض نے کہا یہ صاحب جنتی ہیں، پھر ان صاحب نے (تحیۃ المسجد کی یا کوئی اور) دو رکعت نماز پڑھی اور دونوں رکعتیں ہلکی و مختصر پڑھیں اور پھر مسجد میں چلے گئے میں بھی (مسجد سے نکل کر) ان کے پیچھے پیچھے ہولیا اور (ایک جگہ پہنچ کر) ان سے بولا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو بعض لوگوں نے کہا تھا کہ یہ صاحب جنتی ہیں ( اس بارے میں آپ مجھ کو بتانے کی زحمت گوارا فرمائے) ان صاحب نے کہا واللہ، (میں اس کی تصدیق نہیں کرسکتا کیونکہ) کسی شخص کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس بات کو کہے جس کو نہیں جانتا اور میں تم کو اس (عدم تصدیق) کی وجہ بتاتا ہوں۔ (بات یہ ہوئی تھی کہ) رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ( ایک روز) میں نے ایک خواب دیکھا تھا اور وہ خواب میں نے آنحضرت ﷺ سے بیان کردیا تھا میں نے (خواب میں) دیکھا تھا کہ گویا میں ایک باغ میں ہوں۔ پھر ان صاحب نے اس باغ کی وسعت و کشادگی اور تروتازگی وشادابی کا ذکر کیا اور (کہا کہ پھر میں نے دیکھا کہ) اس باغ کے بیچوں بیچ لو ہے کا ایک ستون ہے کہ جس کا نیچے کا سرا زمین کے اندر ہے اور اس کے اوپر کا سرا آسمان میں ہے اور اس ستون کے اوپر ایک حلقہ ہے، پھر مجھ سے کہا گیا کہ اوپر چڑھو! میں نے کہا میں چڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تب ایک خادم میرے پاس آیا جس نے پیچھے سے میرے کپڑے اٹھائے اور میں اوپر چڑھنے لگا، یہاں تک کہ میں اس ستون کی آخری بلندی تک پہنچ گیا اور اس حلقہ کو پکڑ لیا، پھر مجھ سے کہا گیا کہ اس حلقہ کو مضبوط پکڑے رہنا۔ اور پھر میری آنکھ کھل گئی اس حال میں کہ وہ حلقہ میرے ہاتھ میں تھا جب نبی کریم ﷺ کے سامنے میں نے یہ خواب بیان کیا تو آپ ﷺ نے (اس خواب کی تعبیر میں) فرمایا وہ باغ (جو تم نے نہایت وسعت و کشادگی اور تروتازی کے ساتھ دیکھا) دین اسلام ہے اور وہ ستون اسلام کا ستون ہے (یعنی اسلام کے احکام وارکان سے عبارت ہے جن پر بنائے مسلمانی ہے) اور وہ حلقہ ( کہ جس کو تم نے دیکھا اور پکڑا) عروہ وثقی ہے پس (اس خواب میں اس طرف اشارہ ہے کہ) تم اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک اسلام پر ثابت قدم رہو گے اور (قیس بن عباد کہتے ہیں کہ) وہ صاحب حضرت عبداللہ بن سلام ؓ تھے۔ (بخاری ومسلم) تشریح کسی شخص کے لئے مناسب نہیں ہے کہ ان الفاظ کے ذریعہ ان صاحب یعنی عبداللہ بن سلام ؓ نے گویا ان لوگوں کی تصدیق کرنے سے انکار کیا جنہوں نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ یہ صاحب جنتی ہیں اور علامہ نووی (رح) نے لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ نے ان کی تصدیق سے یہ انکار اس جہت سے کیا کہ ان لوگوں نے قطعی و یقینی انداز میں ان کے جنتی ہونے کی بات کہی تھی۔ پس کہا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں نے تو یہ بات اس بناء پر کہی تھی کہ ان کے علم میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی وہ حدیث تھی جس میں آنحضرت ﷺ کی طرف سے عبداللہ بن سلام ؓ کو جنتی ہونے کی بشارت عطا کئے جانے کا ذکر ہے اور حضرت عبداللہ بن سلام ؓ نے ان کی اس بات کی تصدیق اس لئے نہیں کی کہ انہوں نے اپنے بارے میں یہ بشارت نہیں سنی ہوگی اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی مذکورہ روایت ان تک نہیں پہنچی ہوگی۔ اور یہ بھی کہا سکتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کو بھی اپنے بارے میں مذکورہ بشارت کا علم تو تھا، لیکن انہوں نے کسر نفسی کے تحت اس وقت یہ پسند نہیں کیا کہ ان لوگوں کی تصدیق کر کے اپنی عظمت و بڑائی کے اظہار کا سبب بنیں اور اس بشارت کی بنیاد پر لوگوں میں شہرت حاصل کریں۔ گویا ان کے اس انکار کا مطلب یہ تھا کہ بلاشبہ آنحضرت ﷺ کی عطا کردہ بشارت کے تحت میں جنتی ہونے کی توقع رکھتا ہوں لیکن اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس بشارت کی بنا پر میری عظمت و بڑائی بیان کی جائے اور میری ذات کو شہرت دی جائے کیونکہ اس طرح کی بشارت میرے علاوہ اور لوگوں کو بھی عطا ہوئی، پھر مجھ میں ہی کیا خصوصیت ہے کہ میں اس بشارت کے ذریعہ مشہور و نمایاں کیا جاؤں اور جیسا کہ طیبی نے لکھا ہے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اپنے ان الفاظ اور میں تم کو اس کی وجہ بتاتا ہوں کے ذریعہ دراصل ان لوگوں کی تصدیق سے انکار کی طرف اشارہ کیا یعنی انہوں نے گویا یہ کہا کہ میں ان لوگوں کی تصدیق نہیں کرسکتا اور تصدیق نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ میں نے یہ خواب دیکھا اس خواب کو آنحضرت ﷺ سے بیان کیا اور آنحضرت ﷺ کی تعبیر میں یہ فرمایا میرے علم کی حد تک تو ساری بات بس اتنی ہی ہے اور یہ بات اس امر میں کہ میں یقینی طور پر جنتی ہوں میرے نزدیک آنحضرت ﷺ کی طرف سے نص قطعی کا درجہ ہرگز نہیں رکھتی جیسا کہ دوسروں کے حق میں اس طرح کی بشارت نص قطعی کی صورت میں مذکور ہے۔ اور بعض شارحین نے یہ بھی لکھا ہے کہ مذکور الفاظ کے ذریعہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ نے ان لوگوں کی بات کی تصدیق سے انکار نہیں کیا بلکہ دراصل انہوں نے ان کی بات کی تصدیق کی۔ یعنی انہوں نے گویا یہ کہا ہے کہ جو بھی شخص آنحضرت ﷺ کی صحبت سے فیضیاب ہوچکا ہے یا جو شخص آنحضرت ﷺ کی احادیث اور آپ ﷺ کے ارشادات سے باخبر ہے وہ ایسی کوئی بات کہہ ہی نہیں سکتا جو اس کے علم سے باہر کی ہو، پس وہ لوگ اس بات کو جانتے ہی ہوں گے جو انہوں نے میرے متعلق کہا کہ میں جنتی ہوں اور خود میں بھی اس بارے میں تھوڑا بہت جو جانتا ہوں اس کو بیان کئے دیتا ہوں اور وہ یہ خواب ہے۔ اس حال میں کہ وہ حلقہ میرے ہاتھ میں تھا یعنی خواب میں اس حلقہ کو میں پکڑے ہی ہوئے تھا کہ اسی لمحہ میری آنکھ کھل گئی پس اس جملہ سے یہ مراد نہیں ہے کہ آنکھ کھلنے کے بعد بھی وہ حلقہ ان کے ہاتھ میں تھا، ویسے اگر روایت کے الفاظ کو ان کے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے کہ بیدار ہونے کے بعد بھی وہ حلقہ ان کے ہاتھ میں تھا تو اس میں کچھ استبعاد بھی نہیں کیونکہ حق تعالیٰ کی قدرت میں ایسا ہونا ناممکن نہیں ہے بلکہ عام طور پر ایسا ہوتا نہیں ہے اور نہ ان الفاظ سے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کی یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ اس خواب کا اثر جاگنے کے بعد بھی میرے ہاتھ میں باقی تھا، یعنی جب صبح ہوئی اور میری آنکھ کھلی تو میری مٹھی اسی حالت میں بند تھی جیسا کہ میں نے خواب میں اس حلقہ کو پکڑ رکھا تھا۔ اور وہ حلقہ عروہ ثقی ہے انہوں نے دراصل اللہ تعالیٰ کے ارشاد ویومن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقی ( اور جس شخص نے اللہ پر ایمان رکھا تو اس نے بڑا مضبوط حلقہ تھام لیا) کی طرف اشارہ فرمایا کہ خواب میں تمہارے ستون کے اوپر چڑھنا اور اس کے حلقہ کو پکڑنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمہارا ایمان و اخلاص کامل ہے اور تم نے دین اسلام کو اس مضبوطی سے تھام رکھا ہے کہ درجات و مراتب کی اپنی آخری بلندیوں تک پہنچ گئے ہو۔ وہ صاحب عبداللہ بن سلام ؓ تھے ظاہر تو یہی ہے کہ یہ الفاظ حضرت قیس بن عباد ؓ کے ہیں لیکن یہ بھی بعید نہیں کہ یہ خود حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ہی کے الفاظ ہوں جن کے ذریعہ انہوں نے اپنے بارے میں وضاحت کی اور اپنے غائب سے تعبیر کیا۔

6200Mishkaat-al-Masabih

حضرت ثابت بن قیس کو جنت کی بشارت

عن أنس قال : كان ثابت بن قيس بن شماس خطيب الأنصار فلما نزلت هذه الآية : [ يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي ] إلى آخر الآية جلس ثابت في بيته واحتبس عن النبي صلى الله عليه و سلم فسأل النبي صلى الله عليه و سلم سعد بن معاذ فقال : ما شأن ثابت ايشتكى ؟ فأتاه سعد فذكر له قول رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ثابت : أنزلت هذه الآية ولقد علمتم أني من أرفعكم صوتا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فأنا من أهل النار فذكر ذلك سعد للنبي صلى الله عليه و سلم . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بل هو من أهل الجنة . رواه مسلم

اور حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس انصار کے خطیب تھے (یعنی انصار میں یہ وہ شخص تھے جن کی بات چیت فصاحت و بلاغت سے پُر ہوتی تھی اور جو نثر کے مانے ہوئے ادیب وخطیب تھے) جب یہ آیت نازل ہوئی (يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْ ا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ) 49۔ الحجرات 2) (یعنی اے ایمان والو، اپنی آوازوں کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرو الخ) تو ثابت اپنے گھر میں بیٹھے رہے اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آنا جانا بند کردیا، نبی کریم ﷺ نے (ایک دن) سعد بن معاذ ؓ سے (جوانصار کے سردار تھے) پوچھا کہ ثابت کو کیا ہوا (کہ انہوں نے آنے جانے بند کر رکھا ہے اور کہیں دکھائی نہیں دیتے) کیا وہ بیمار ہیں؟ سعد (چپ رہے انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ خود ان کو ثابت کے بارے میں معلوم نہیں تھا اور تحقیق کئے بغیر کوئی جواب دینے سے قاصر تھے، چناچہ وہ تحقیق حال کے لئے) ثابت کے پاس پہنچے اور ان کے سامنے رسول کریم ﷺ کے الفاظ نقل کئے (کہ آنحضرت ﷺ تمہیں پوچھ رہے تھے اور فرمایا کہ کیا ثابت بیمار ہیں جو ہمارے پاس نہیں آتے) ثابت نے (یہ سن کر) کہا کہ یہ آیت (يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْ ا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ) 49۔ الحجرات 2) نازل ہوئی (جو آنحضرت ﷺ کے سامنے بلند آواز میں بات چیت کرنے سے منع کرتی ہے) اور تم جانتے ہی ہو کہ تم میں سب سے زیادہ میری ہی آواز رسول کریم ﷺ کی آواز بلند ہے، لہٰذا میں تو دوزخی ہوں، سعد ؓ نے آکر نبی کریم ﷺ سے ثابت کے الفاظ نقل کئے اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ ثابت تو جنتی ہے۔ (مسلم) تشریح کیا وہ بیمار ہیں؟ ظاہر یہ ہے کہ حضرت ثابت ؓ کے صدق حال نے تاثیر کی اور آنحضرت ﷺ کے دریافت کرنے کا باعث ہوا، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کے بارے میں پوچھا اور تشویش ظاہر فرمائی کہ وہ کہیں بیمار تو نہیں ہیں جو ہماری مجلس میں ان کا آناجانا بند ہے حالت خویش چہ حاجت کہ بوئے شرح دہم گر مرا سوز دلی ہست اثر خواھد کرد میں تو دوزخی ہوں دراصل حضرت ثابت طبعی و جبلی طور پر بلند آواز تھے اور خطابت کے وصف نے ان کی آواز اور ان کے لب و لہجہ کو اور زیادہ جاندار اور بلند کردیا تھا چناچہ بات چیت میں ان کی آواز بلاقصد بھی بلند ہوجایا کرتی تھی۔ جب مذکورہ آیت نازل ہوئی تو وہ یہ سمجھے کہ میں اپنی آواز کو پست رکھنے پر چونکہ قادر ہی نہیں ہوں اور آنحضرت ﷺ کے سامنے بھی میری آواز لا محالہ بلند رہتی ہے اس لئے میں اس آیت کے عدم تعمیل کا مرتکب ہوں اور اسی کے سبب میرے سارے اعمال برباد ہوگئے، میں دوزخی ہوگیا، انہوں نے یہ نہیں جانا کہ اس آیت کی مراد آنحضرت ﷺ کے سامنے اس اونچی آواز میں گفتگو کرنے سے منع کرنا ہے جو قصد واختیار کے تحت ہو اور جس سے بےادبی ظاہر ہوتی ہو۔ ثابت توجنتی ہے یعنی ثابت نے میرے ادب و احترام میں جس شدت سے احتیاط کا پہلواختیار کیا کہ طبعی و جبلی بلند آواز کو بھی ناجائز رکھا اس کی بناء پر اس نے جنت کا استحقاق پیدا کرلیا ہے وہ جنت میں جائے گا، چناچہ حضرت ثابت بن قیس ؓ کا جنتی ہونا واقعاتی طور پر بھی اس طرح ثابت ہوا کہ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ جنگ یمامہ میں شرکت کی اور جام شہادت نوش کیا، منقول ہے کہ حضرت ابوبکر صد یق ؓ نے جب مسلیمہ کذاب کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور مجاہدین اسلام کو تیاری کا حکم دیا تو حضرت ثابت بن قیس ؓ نے اپنا کفن تیار کرایا اور اسی کفن کو پہن کر جنگ یمامہ میں مسلیمہ کذاب کے خلاف لڑے، یہاں تک کہ وہی کفن پہنے ہوئے شہید ہوئے۔ اس حدیث کے تحت ایک اشکال بھی واقع ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ مذکورہ آیت کا ٩ ھ میں نازل ہونا بیان کیا جاتا ہے جب کہ حضرت سعد بن معاذ اس سے پہلے ٥ ھ ہی میں وفات پاچکے تھے؟ اس کا جواب شارحین نے یہ لکھا ہم کہ اس حدیث میں حضرت ثابت کے تعلق سے جس آیت کا ذکر ہے وہ بس وہی ہے جس میں فقط آواز بلند نہ کرنے کا حکم مذکور ہے یعنی (يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْ ا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ) 49۔ الحجرات 2) نہ کہ سورت کی پہلی آیت یعنی (يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُ قَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ۔ الخ) 49۔ الحجرات 1) کا پس سورت کی یہ پہلی آیت تو ٩ ھ میں نازل ہوئی ہوگی اور حدیث میں مذکورہ آیت حضرت سعد بن معاذ ؓ کے انتقال سے پہلے نازل ہوچکی ہوگی۔

6201Mishkaat-al-Masabih

حضرت سلمان فارسی کی فضیلت

وعن أبي هريرة قال : كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ نزلت سورة الجمعة فلما نزلت [ وآخرين منهم لما يلحقوا بهم ] قالوا : من هؤلاء يا رسول الله ؟ قال : وفينا سلمان الفارسي قال : فوضع النبي صلى الله عليه و سلم يده على سلمان ثم قال : لو كان الإيمان عند الثريا لناله رجال من هؤلاء . متفق عليه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک سورت جمعہ نازل ہوئی اور جب یہ آیت آئی (وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ) 62۔ الجمعہ 3) (اور ان میں کچھ دوسرے لوگ وہ ہیں جو ابھی ان سے آکر نہیں ملے ہیں) تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ! وہ کون لوگ ہیں (جو ابھی آکر نہیں ملے ہیں؟ ) حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ اس وقت ہمارے درمیان سلمان فارسی ؓ بھی تھے۔ نبی کریم ﷺ نے (صحابہ کا یہ سوال سن کر) اپنا ہاتھ سلمان پر رکھا اور فرمایا اگر ایمان ثریا ستارے پر بھی ہوتا تو بلاشبہ ان لوگوں میں کتنے ہی اس کو پالیتے اور حاصل کرتے، (بخاری ومسلم) تشریح پوری آیت اپنے سیاق کے ساتھ یوں ہے۔ (هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّ نَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِه وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۔ وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔ ) 62۔ الجمعہ 3-2) (اللہ) ہی تو ہے جس نے (عرب کے) امی لوگوں میں ان ہی (کی قوم) میں سے (یعنی عرب میں سے) ایک پیغمبر ﷺ جو ان کو اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں اور ان کو (برے عقائد اور بری عادتوں سے) پاک کرتے ہیں اور ان کو کتاب و دانائی (کی باتیں) سکھاتے ہیں۔ اور یہ لوگ (ان پیغمبر ﷺ کی بعثت سے) پہلے کھلی گمراہی میں تھے اور ان میں سے (کہ جن میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجا ہے) دوسرے لوگ وہ ہیں جو ابھی ان میں آکر شامل نہیں ہوئے ہیں اور وہ (اللہ) زبر دست حکمت والا ہے۔ اس آیت میں (امی یعنی ناخواندہ لوگوں) سے مراد اہل عرب ہیں اور اشارہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف ہے جنہوں نے گمراہی و جہالت کا راستہ چھوڑ کر نبی آخر الزمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ آخرین (دوسرے لوگوں ) سے مراد وہ لوگ ہیں جو نزول قرآن کے وقت موجود نہیں تھے بلکہ بعد کے زمانہ میں یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے وقت اسلام لانے والوں میں شامل ہوئے، گویا تابعین کی طرف اشارہ ہے اور تابعین بھی خاص طور پر وہ جن کا تعلق غیر عرب یعنی عجم سے ہے، چناچہ تابعین کی اکثر تعداد عجمیوں ہی پر مشتمل ہے جیسا کہ چند کو چھوڑ کر باقی سب صحابہ عرب سے ہیں بہرحال آنحضرت ﷺ نے اس حدیث میں گویا حضرت سلمان ؓ کی تعریف کی جو غیر عرب یعنی عجمی ہیں اور ان کی نسبت سے واضح فرمایا کہ آیت میں آخرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس وقت تو دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہیں یا تو اس وجہ سے کہ وہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے ہیں اور یا اس وجہ سے کہ ان تک ابھی دعوت اسلام نہیں پہنچی ہے لیکن بعد میں یہ تمہارے پاس آئیں گے اور دائرہ اسلام میں داخل ہوں گے اور ان میں سے اکثر عجمی ہوں گے۔ وہ لوگ دین اور علم کے ایسا جو یا ہوں گے کہ اگر دین و ایمان اور علم کا سرمایہ ثریا کی بلندی پر پہنچ جائے تو وہ اس کو وہاں سے بھی حاصل کریں گے چناچہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان تابعین نے جس جستجو و محنت سے دین و ایمان حاصل کیا اور علم و اجتہاد کے میدان میں جو کارہائے نمایاں انجام دئیے وہ صحابہ کے بعد صرف انہی کا وصف ہے۔ حضرت سلمان فارسی ؓ کا نام سلمان اور کنیت ابوعبداللہ ہے ان کا وطنی تعلق فارس (ایران) سے تھا اس لئے فارسی کی نسبت سے مشہور ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے آزاد کردہ غلام ہیں کیونکہ آپ ﷺ نے ان کو ایک یہودی سے خرید کر آزاد کیا تھا حضرت سلمان کا شمار نہایت جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے بیان کیا جاتا ہے کہ یہ فارس کے مشہور نسل رام ہرمزم سے ہیں جو مذہبًا مجوسی تھیں اور ابلق گھوڑوں کی پچاری سمجھی جاتی تھی حضرت سلمان شروع ہی سے دین حق کی جستجو میں لگ گئے تھے اسے سلسلے میں انہوں نے اپنا آبائی مذہب ترک کرکے عیسائیت کو اختیار کرلیا تھا اور اس کی مذہبی کتابوں کا علم حاصل کیا ان کے والد اور اعزاواقرابا کو ان کا عیسائی بن جانا پسند نہیں آیا، چناچہ ان سب نے ان کو سخت سزائیں اور اذیتیں دیں مگر انہوں نے ہر سختی اور ہر اذیت کو برداشت کیا اور عیسائیت کو ترک نہیں کیا۔ پھر یہ اپنا ملک و وطن چھوڑ کر شام آگئے اور یہاں عرب سے آئے ہوئے بعض لوگوں کے ہتھے چڑھ گئے، جنہوں نے ان کو مدینہ لا کر ایک یہودی کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ کہا جاتا ہے کہ اس زمانہ میں حضرت سلمان فارسی ؓ یکے بعد دیگرے دس آدمیوں کے ہاتھوں بیچے گئے۔ اور ان سب کی غلامی میں رہے۔ تاآنکہ نبی کریم ﷺ مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو یہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا سلمان جنتیوں میں سے ہے اور ان میں سے ایک ہیں جن کو جنت کا اشتیاق وانتظا رہے حضرت سلمان ؓ کی عمر بہت طویل ہوئی۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ وفات کے وقت ان کی عمر ساڑھے تین سو سال کی تھی اور بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے ڈھائی سو سال کی عمر میں وفات پائی۔ اور زیادہ صحیح یہی قول ہے انہوں نے یہ طویل عمر دین حق کی جستجو میں کھپائی یہاں تک کہ آخر میں نبی آخر الزمان ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر گوہر مقصود کو پہنچ گئے۔ حضرت سلمان محنت ومشقت کرکے اپنی روزی کماتے تھے اور اپنی کمائی کا زیادہ سے زیادہ حصہ اللہ کے راستہ میں خرچ کردینا ان کا معمول تھا۔ ان کے فضائل ومناقب بیشمار ہیں، سرکار دو عالم ﷺ نے ان کی بہت زیادہ مدح و تعریف فرمائی ہے۔ ٣٥ ھ میں بمقام مداین میں ان کا انتقال ہوا۔

6202Mishkaat-al-Masabih

حضرت ابوہریرہ کے حق میں دعائے محبوبیت

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم حبب عبيدك هذا يعني أبا هريرة وأمه إلى عبادك المؤمنين وحبب إليهم المؤمنين . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے دعا فرمائی اے اللہ! اپنے اس چھوٹے سے بندے یعنی ابوہریرہ اور اس کی ماں کو اپنے مؤمن بندوں کا محبوب بنا اور اہل ایمان کو ان کا محبوب بنا دے۔ (رواہ مسلم) تشریح یعنی اے اللہ! ایسا کر کہ یہ دونوں، جو نہایت غریب ونادار اور لاچار وبیکس ہیں، تیرے مؤمن بندوں کی نظر میں محبت و توجہ کا مرکز بن جائیں اور خود یہ بھی تیرے مسلمان بندوں کو اپنا محبوب، دوست اور غم خوار سمجھتے رہیں۔

6203Mishkaat-al-Masabih

کمزوروں اور لاچاروں کی عزت افزائی

وعن عائذ بن عمرو أن أبا سفيان أتى على سلمان وصهيب وبلال في نفر فقالوا : ما أخذت سيوف الله من عنق عدو الله مأخذها . فقال أبو بكر : أتقولون هذا لشيخ قريش وسيدهم ؟ فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره فقال : يا أبا بكر لعلك أغضبتهم لئن كنت أغضبتهم لقد أغضبت ربك فأتاهم فقال : يا إخوتاه أغضبتكم قالوا : لا يغفر الله لك يا أخي . رواه مسلم

اور حضرت عائذ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ( امیر معاویہ ؓ کے والد) ابوسفیان (جب مدینہ آئے اور ایک موقع پر) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے سلمان فارسی، صہیب رومی اور بلال حبشی ؓ کے سامنے سے گزرے تو ان تینوں نے (ابو سفیان کو دیکھ کر) کہا کیا اللہ (کے ان بندوں) کی تلواروں نے ( کہ جو اللہ کے حکم کی تعمیل میں سر گرم رہتے ہیں) ادائے حق میں دشمن اللہ کی گردن ابھی نہیں اڑائی؟ حضرت ابوبکر صدیق ؓ (نے یہ سنا تو ان تینوں حضرات کو مخاطب کر کے) بولے! تم قریش کے اس بڑے آدمی کے بارے میں ایسی بات کہہ رہے ہو جو اپنی قوم کا سردار بھی ہے۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ کو اس واقعہ کی اطلاع دی، آنحضرت ﷺ نے (ساری تفصیل سنکر) فرمایا ابوبکر! تم نے شاید ان تینوں کو ناراض کردیا ہے اور اگر تم نے ان کو ناراض کیا ہے تو اللہ کی قسم تم نے اپنے پروردگار کو ناراض کردیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ( یہ سنتے ہی کانپ اٹھے اور فورا بھاگے ہوئے) ان تینوں کے پاس آئے اور بولے اے میرے بھائیو! کیا تم مجھ سے غصہ اور ناراض ہوگئے ہو؟ ان تینوں نے جواب دیا اے میرے بھائی اللہ آپ کو معاف کرے ( ہم آپ سے ناراض نہیں ہوئے ہیں )۔ ( مسلم) تشریح مدینہ میں ابوسفیان کی آمد کا یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور صلح نامہ حدیبیہ کی تجدید کے مشن پر قریش مکہ کے نمائندہ کے طور پر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے تھے۔ قریش مکہ دعوت اسلام کی راہ میں جس جارحانہ مزاحمت کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اہل اسلام کو جس بےدردی کے ساتھ اور جس ظالمانہ طریقہ سے ستاتے اور تکلیف پہنچاتے تھے۔ اور خود صلح نامہ حدیبیہ کی پامالی اور عہد شکنیوں کے جس طرح مرتکب ہوئے تھے اس بناء پر دین کے ان تینوں پر جوش اور مخلص خادموں یعنی سلمان، صہیب اور بلال کا ابوسفیان کو مدینہ میں دیکھ کر اس تاسف کا اظہار کرنا کہ اتنابڑا مشرک ابھی تک ہمارے ہاتھ سے نہیں مارا گیا۔ بالکل فطری امر تھا۔ تاہم ان تینوں کے اس طرح کے جذبات کے برملا اظہار پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جس ناگواری کا اظہار فرمایا وہ بھی تدبر اور مصلحت وقت کا تقاضا تھا کیونکہ اول تو ابوسفیان اس وقت ایک سفارتی مشن پر مدینہ آئے ہوئے تھے اور ان کو جان ومال اور عزت کے تحفظ کی ضمانت حاصل تھی اور اس ضمانت (امان) کا لحاظ کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری تھا۔ دوسرے دین کی طرف مائل کرنے کے لئے اور مصالح کے تحت ابوسفیان کی دلجوئی کا مقصد بھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے سامنے تھا جیسا کہ خود آنحضرت ﷺ بھی ایسے مواقع پر بعض مشرک سرداروں کے ساتھ خیر سگالی اور دلجوئی کا سلوک فرماتے تھے۔ تم نے شائد ان تینوں کو ناراض کردیا ہے یعنی تم نے ان تینوں کی بات پر جو مخالفانہ رد عمل ظاہر کیا ہے وہ چاہے تدبر اور مصلحت کے تحت تھا لیکن یہ بات نہ بھو لو کہ وہ تینوں دین کے مخلص خادم ہر حالت میں اللہ کے محب اور محبوب ہیں اور انہوں نے ابوسفیان کے تئیں جو کچھ کہا وہ صرف اللہ اور اللہ کے دین کی محبت میں اور ایک دشمن دین و خدا کی نفرت میں کہا، لہٰذا اس جہت سے تم نے ان تینوں کی مخالفت کر کے اگر ان کو ناراض کردیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم اللہ کے محبوب بندوں کے مقابلہ پر ایک دشمن دین کے پہلو کی رعایت کرنے کا مرتکب ہوگئے جس کا سبب گویا تم نے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لے لی ہے۔ لہٰذا تم فورا ان تینوں کے پاس جاؤ، ان سے معذرت کرو، اگر وہ ناراض ہوگئے ہیں تو ان کی ناراضگی کو دور کرو۔ نہیں اے میرے بھائی ظاہری اسلوب کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہاں یا اخانا (اے ہمارے بھائی) کہا جاتا، تاہم ہوسکتا ہے کہ یا اخی (اے میرے بھائی) کا لفظ ان تینوں کی طرف سے نہیں بلکہ ان میں سے ہر ایک کی طرف سے نقل کیا گیا ہے یعنی ان تینوں میں سے ہر ایک نے الگ الگ یوں کہا کہ نہیں اے میرے بھائی (میں آپ سے ناراض نہیں ہوں) واضح ہو کہ مشکوٰۃ کے بہت سے نسخوں میں یہ لفظ ہمزہ کے پیش کے ساتھ بصیغہ تصغیر یعنی اخی نقل ہوا ہے اور ایک نسخہ میں ہمزہ کے زیر اور ی کے جزم کے ساتھ بھی مذکور ہے ویسے ہمزہ کے زبر کے ساتھ بھی یہ لفظ کوئی قباحت نہیں رکھتا۔ مذکورۃ الصدر تینوں حضرات یعنی سلمان فارسی صہیب رومی اور بلال حبشی صحابہ کے اس طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو غلامی کی نسبت سے غیر مسلم سماج میں کمتر و پست سمجھے جاتے تھے اور معاشی و اقتصادی طور پر بھی نہایت غریب اور مفلوک الحال تھے۔ لہٰذا آنحضرت ﷺ ان حضرات کی دلداری و دلجوئی کا بڑا لحاظ رکھتے تھے۔ اور ایسی کوئی بات نہیں ہونے دیتے تھے۔ جس سے ان مخلصوں کو اپنی کمزوری و لاچاری کا احساس ہوا اور ان کی عزت ونفس کو دھکا لگے جس کی ایک مثال یہی حدیث ہے۔ چناچہ اس حدیث سے نہ صرف یہ کہ سماجی ومعاشی طور پر مفلس و کمزور صحابہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے بلکہ آنحضرت ﷺ نے گویا اس طرف توجہ دلائی کہ ان کی تعظیم و تکریم اور ان کی رعایت خاطر کو ہر حالت میں ملحوظ رکھا جائے۔ حضرت صہیب رومی صہیب بن سنان عبداللہ بن جدعان تیمی کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ ابویحییٰ کنیت ہے یہ اصل میں دجلہ وفرات کے درمیان موصل کے رہنے والے تھے۔ جب رومی فوجوں نے اس علاقہ پر دھاوا بولا اور لوٹ مار کی تو صہیب بھی ان لوگوں میں تھے جن کو رومی فوج نے قیدی بنا رکھا تھا اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ اس وقت یہ چھوٹی عمر کے تھے جب بڑے ہوئے تو شکل وشباہت سے بالکل رومی لگنے لگے۔ بعد میں قبیلہ کلب کے کچھ لوگوں نے ان کو رومیوں سے خرید لیا اور ان کو مکہ لے آئے۔ پھر عبداللہ بن جدعان نے ان کو خریدا اور آزاد کردیا۔ عبداللہ بن جدعان کی موت تک حضرت صہیب اسی کے ساتھ رہے۔ ایک روایت یہ ہے کہ صہیب جب روم میں رہتے ہوئے بڑے ہوگئے اور عقل وسمجھ آگئی تو وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور مکہ آگئے۔ مکہ میں عبداللہ بن جدعان کے پاس پہنچے اور اس کے حلیف بن کر اسی کے ساتھ رہنے لگے۔ حضرت صہیب قدیم ا الا سلام ہیں۔ انہوں نے دعوت اسلام کے ابتدائی زمانہ ہی میں مکہ میں اسلام قبول کرلیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت صہیب اور حضرت عمار بن یاسر ؓ نے ایک ہی دن اسلام قبول کیا تھا جب کہ رسول اللہ ﷺ دار ارقم میں مقیم تھے۔ اور اس وقت تک کچھ اوپر تیس آدمیوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ حضرت صہیب بھی ان کمزور و لاچار مسلمانوں میں ہیں جن کو اللہ کی راہ میں سخت ترین آزمائشوں سے گزرنا پڑا اور جو قریش مکہ کے بہت زیادہ ظلم وستم کا نشانہ بنے۔ بعد میں انہوں نے مکہ چھوڑ دیا اور ہجرت کرکے مدینہ آگئے۔ ٨٠ ھ میں بعمر ٧٠ سال مدینہ میں ان کا انتقال ہوا اور بقیع میں مدفون ہوئے۔ قرآن کی آیت (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَهُ ابْ تِغَا ءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ ) 2۔ البقرۃ 207) انہی کی شان میں نازل ہوئی تھی۔