مناقب کا جامع بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 197 · 71 hadiths · Page 2 of 4

6204Mishkaat-al-Masabih

انصار کی فضیلت

وعن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : آية الإيمان حب الأنصار وآية النفاق بغض الأنصار . متفق عليه

اور حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا (یعنی کمال ایمان) کی نشانی (تمام) انصار سے محبت رکھنا۔ اور نفاق کی نشانی انصار سے بغض و دشمنی رکھنا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح انصار کا لفظ لغوی طور پر ناصر یا نصر کی جمع ہے اور اصطلاحا اس لفظ کا اطلاق مدینہ کے ان لوگوں پر ہوتا ہے جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے اور جان ومال سے آپ ﷺ کی مدد کی دراصل مدینہ میں دو قبیلے آباد تھے۔ ایک کے مورث اعلی کا نام اوس اور دوسرے کامورث اعلی کا نام خزرج تھا اوس و خزرج دونوں بھائی تھے اور آگے چل کر ان دونوں کی نسلوں نے دو زبر دست قبیلوں کی صورت اختیار کرلی۔ مدینہ میں اسلام اور پیغمبر اسلام کی آمد سے پہلے یہ دونوں قبیلے ایک دوسرے کے خلاف بھیانک مخاصمت و دشمنی رکھتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ہجرت نبوی کے وقت تک مسلسل ایک سو بیس سال سے ان دونوں قبیلوں کے درمیان جنگ و عداوت چلی آرہی تھی، لیکن جوں ہی انہوں نے اسلام و توحید اور پیغمبر اسلام ﷺ سے تعلق قائم کیا ان کی باہمی عداوت ومخاصمت، باہمی محبت وموانست میں بدل گئی۔ آنحضرت ﷺ نے ان دونوں قبیلوں کو انصار کا لقب عطا فرمایا اور اسی لقب کے ذریعہ ان قبیلوں کے لوگ ممتاز ہوئے۔ ان کے بعد ان کی اولاد، ان کی نسلوں اور ان کے آزاد کردہ غلاموں کے لئے بھی یہ لقب باقی رہا۔ انصار کے فضائل ومناقب کا کوئی ٹھکانہ نہیں، اسلام میں بلند تر، شرف و اعزاز ان کو حاصل ہے قرآن کریم میں ان کی تعریف مذکور ہے اور یہ عظیم تر رتبہ ان کو اس بناء پر حاصل ہوا کہ انہوں نے نہایت مخلصانہ طور پر پیغمبر اسلام کو ٹھکانا دیا۔ جان ومال سے آپ ﷺ کی مدد کی اور آپ ﷺ کے دعوتی مشن کے نہایت زبردست اور موثر و معاون بنے۔ اور چونکہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی معاونت کر کے تمام عرب وعجم کے دشمنان دین کی عداوت مول لی۔ اس لئے ضروری ہوا کہ ان کی محبت کو ایمان کی علامت اور ان کی عداوت کو کفر ونفاق کی علامت، اسی طرح ان کے تئیں کمال محبت کو کمال ایمان کا موجب اور ان کے تئیں نقصان محبت کو نقصان ایمان کا موجب قرار دیا جائے بلکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر کوئی شخص اس بناء پر ان سے عدوات رکھے کہ وہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے معاون و مددگار بنے تو وہ شخص یقینی طور پر حقیقی کافر ہے۔

6205Mishkaat-al-Masabih

انصار کو محبوب رکھنے والا اللہ کا محبو ب

وعن البراء قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الأنصار لا يحبهم إلا مؤمن ولا يبغضهم إلا منافق فمن أحبهم أحبه الله ومن أبغضهم أبغضه الله . متفق عليه

اور حضرت براء بن عازب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے تھے سنا انصار سے وہی محبت رکھتا ہے جو (کامل) مؤمن ہم اور انصار سے وہی شخص عداوت و دشمنی رکھتا ہے جو ( حقیقی) منافق یا مجازی منافق یعنی فاسق ہے۔ بس جو شخص انصار کو محبوب رکھے گا اللہ اس کو محبوب رکھے گا۔ اور جو شخص انصار سے دشمنی رکھے گا اللہ اس سے دشمنی رکھے۔ (بخاری ومسلم )

6206Mishkaat-al-Masabih

بعض انصار کے شکوہ پر آنحضرت ﷺ کا پر اثر جواب

وعن أنس قال : إن ناسا من الأنصار قالوا حين أفاء الله على رسوله صلى الله عليه و سلم من أموال هوازن ما أفاء فطفق يعطي رجالا من قريش المائة من الإبل فقالوا : يغفر الله لرسول الله صلى الله عليه و سلم يعطي قريشا ويدعنا وسيوفنا تقطر من دمائهم فحدث رسول الله صلى الله عليه و سلم بمقالتهم فأرسل إلى الأنصار فجمعهم في قبة من أدم ولم يدع معهم أحدا غيرهم فلما اجتمعوا جاءهم رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ما كان حديث بلغني عنكم ؟ فقال فقهاؤهم : أما ذوو رأينا يا رسول الله فلم يقولوا شيئا وأما أناس منا حديثة أسنانهم قالوا : يغفر الله لرسول الله صلى الله عليه و سلم يعطي قريشا ويدع الأنصار وسيوفنا تقطر من دمائهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني أعطي رجالا حديثي عهد بكفر أتألفهم أما ترضون أن يذهب الناس بالأموال وترجعون إلى رحالكم برسول الله صلى الله عليه و سلم . قالوا بلى يا رسول الله قد رضينا . متفق عليه

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ انصار کے بعض لوگوں نے اس وقت شکوہ کا اظہار کیا جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو قبیلہ ہوازن کا وہ مال غنیمت عطا کرنا تھا اور آنحضرت ﷺ نے قریش میں کے کئی لوگوں کو سو سو اونٹ دینا شروع کئے چناچہ انصار میں سے ان بعض لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو بخشے آپ ﷺ قریش کو تو (اتنا زیادہ) عطا کر رہے ہیں اور ہم کو زیادہ نہیں دے رہے ہیں۔ حالانکہ ہماری تلواروں سے قریش کا خون ٹپک رہا ہے، چناچہ رسول کریم ﷺ کے علم میں جب ان لوگوں کا یہ شکوہ لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان تمام انصار کو بلا بھیجا اور ان کو اپنے اس خیمہ میں جمع کیا جو چمڑے کا بنا ہوا تھا۔ ان کے ساتھ کسی دوسرے کو نہیں بلایا گیا تھا۔ (یعنی صرف انصار ہی کو جمع کیا گیا، ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص نہیں بلایا گیا تھا) جب سب انصار جمع ہوئے تو رسول کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا وہ کیا بات ہے جو تمہاری طرف سے مجھ کو پہنچائی گئی ہے؟ ان (انصار) میں جو عقل مند ودانا لوگ تھے وہ بولے یا رسول اللہ ﷺ! ہم میں سے عقلمند اور ذی رائے لوگوں نے کچھ نہیں کہا ہاں ہم میں سے کچھ نوعمر اور نوجوان لوگوں نے (نا سمجھی سے یہ بات ضرور کہی ہے کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو بخشے۔ آپ ﷺ قریش کو تو (اتنا زیادہ) عطا کر رہے ہیں اور ہم انصار کو (زیادہ) نہیں دے رہے ہیں۔ حالانکہ ہماری تلواروں سے قریش کا خون ٹپک رہا ہے۔ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ابھی ابھی (چند ہی روز پہلے) کافر تھے انہی کو میں (اس مال میں سے) دے رہا ہوں ( اور اس طرح) ان کا دل ملاتا ہوں (یعنی ان کو زیادہ دینے کا واحد مقصد تالیف قلوب ہے۔ تاکہ وہ اسلام پر قائم رہیں) اس کے علاوہ اور کوئی مقصد یا جذبہ کار فرما نہیں ہے۔ اور اے انصار! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ (تمہارے علاوہ وہ) لوگ (کہ جو مولفتہ القلوب ہیں) مال و اسباب لے کر یہاں لوٹیں اور تم لوگ رسول اللہ ﷺ کو لے کر اپنے مکانوں کو واپس جاؤ۔ انصار (آپ ﷺ کا یہ پر اثر ارشاد سن کر) بول اٹھے ہاں یا رسول اللہ ﷺ! ہم اس پر راضی ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح وہ مال غنیمت عطا کیا جو عطا کرنا تھا اس جملہ میں کثرت اموال کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اس موقع پر بنو ہوازن سے جو مال غنیمت حاصل ہوا تھا وہ بہت زیادہ تھا۔ چناچہ روایتوں میں اس مال غنیمت کی جو تفصیل آئی ہے اس کے مطابق چھ ہزار قیدی، چوبیس ہزار اونٹ، چار ہزار اوقیہ چاندی (ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہوتا ہے) اور چالیس ہزار سے زاید بکریاں ہاتھ آئی تھیں اور ایک روایت میں تو یہ ہے کہ بکریوں کی تعداد شمار سے باہر تھی۔ سو سو اونٹ دینا شروع کئے جن لوگوں کو آپ ﷺ زیادہ اونٹ وغیرہ دئیے وہ دراصل مکہ کے لوگ تھے جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے اور دائرہ اسلام میں نئے نئے داخل ہوئے تھے ان لوگوں کے اندر ایمان نے ابھی پوری طرح جگہ نہیں پکڑی تھی اور مولفۃ القلوب کا مصداق تھے چناچہ آنحضرت ﷺ نے تالیف قلوب کے تحت ان کو سو سو اونٹ دینا شروع کئے تھے۔ تاکہ اسلام کی طرف ان کا میلان اور اہل اسلام کے ساتھ ان کی وابستگی مضبوط ہوجائے۔ امیر معاویہ ؓ کے والد ابوسفیان بھی ان لوگوں میں شامل تھے۔ مہاجرین و انصار میں سے جو باقی مخلص وصادق مسلمان تھے ان کو آپ ﷺ سو سو سے کم اونٹ عطا فرما رہے تھے مال غنیمت کی تقسیم کا یہ واقعہ مقام جعرانہ کا ہے جہاں آپ ﷺ نے (٨ ھ) فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین نامی جنگ میں بنوہوزان وغیرہ کو پسپا کر کے ان سے حاصل شدہ تمام مال و اسباب جمع کرادیا تھا اور پھر طائف سے واپس آکر اس مال غنیمت کو مجاہدین اسلام کے درمیان تقسیم فرمایا ہماری تلواروں سے قریش کا خون ٹپک رہا ہے ان لوگوں کا اشارہ ان غزوات اور معرکہ آرائیوں کی طرف تھا جن میں انصار نے پوری پامردی وجانثاری کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے دوش بدوش مشرکین قریش کے خلاف نبرد آزمائی کی۔ اللہ کی راہ میں ان کا خوان بہایا۔ ان لوگوں نے دراصل اس خیال کے تحت یہ بات کہی کہ آنحضرت ﷺ قومی تعلق اور قرابت داری کے تقاضہ سے قریش کے لوگوں کو زیادہ عطا کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ رعایت کر رہے ہیں۔ اور تم لوگ رسول اللہ ﷺ کو لے کر یعنی اگر ان کو مکہ والوں کو زیادہ مال و اسباب مل گیا تو کیا ہوا یہ لوگ تو دنیاوی مال ومتاع لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں گے جب کہ تم لوگ رسول اللہ ﷺ کی بابرکت ذات کو لے کر اپنے گھروں کو واپس جاؤ گے۔ اب تم خود ہی سوچ لو کہ دنیاوی مال ومتاع تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے یا اس مال ومتاع کے مقابلہ میں رسول اللہ ﷺ کی ذات زیادہ بہتر اور زیادہ قیمتی ہے۔ ہم اس پر راضی ہیں بلاشبہ ان سعید روحوں کو یہی جواب دینا تھا رسول اللہ کی ذات کے مقابلہ پر دنیاوی مال ومتاع کی بڑی سے بڑی تعداد بھی ان کی نظروں میں ہیچ تھی۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے رضینا قسمۃ الجبار فینا لنا علم وللا عداء مال فان المال یفنی عن قریب وان العلم باق لا یزال

6207Mishkaat-al-Masabih

انصار کی فضیلت

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لولا الهجرة لكنت امرءا من الأنصار ولو سلك الناس واديا وسلكت الأنصار واديا أو شعبا لسلكت وادي الأنصار وشعبها والأنصار شعار والناس دثار إنكم سترون بعدي أثرة فاصبروا حتى تلقوني على الحوض . رواه البخاري

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں کا ایک آدمی ہوتا۔ اگر لوگ ایک وادی میں (یعنی حسی یا معنوی راستہ پر) چلیں اور انصار کسی دوسرے راستہ پر چلیں۔ یا یہ فرمایا کہ ( اور انصار) کسی دوسرے پہاڑی درہ میں چلیں تو میں اسی راستہ پر یا اسی پہاڑی درہ میں چلوں جو جماعت انصار کا راستہ ہے۔ انصار تو شعار کے مانند ہیں اور دوسرے لوگ دثار کے مانند (اے انصار)! تم میرے بعد دیکھو گے کہ دوسرے لوگوں کو تم پر بلا استحقاق فضیلت دی جائے گی تو تم صبر کئے رہنا یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پر آکر ملو۔ (بخاری) تشریح تو میں بھی انصار میں کا ایک آدمی ہوتا اس سے نسب ولادی (پیدائشی نسب ونسل) میں تبدیلی کی خواہش یا تمنا کا اظہار مقصود نہیں ہے۔ کیونکہ اول تو نسب ولادی میں تبدیلی حرام ہے دوسرے یہ کہ خود آنحضرت ﷺ کا نسب چونکہ دنیا کے تمام نسبوں اور نسلوں سے اعلی و اشرف ہے اس لئے اس نسب ونسل کی نسبت چھوڑ کر کسی دوسرے نسب ونسل کی طرف نسبت کی خواہش یا تمنا کے اظہار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہاں یہاں نسب بلادی یعنی وطنیت وشہریت کی نسبت ضرور مراد ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ہجرت کا تعلق اگر دین سے نہ ہوتا اور اس کی طرف منسوب ہونا ضروری نہ ہوتا تو میں اس بات کو پسند کرتا کہ اپنی اصل وطنی وشہری نسبت کو ترک کرکے انصار کے شہر کی طرف اپنے کو منسوب کرتا اور مہاجر کہلانے کی بجائے انصار کہلاتا۔ لیکن ہجرت چونکہ بجائے خود ایک بہت بڑا دینی شرف ہے اور اس کی طرف منسوب ہونا بڑی فضیلت کی بات ہے اس لئے میں اپنی اس خواہش یا تمنا کی تکمیل نہیں کرسکتا پس اس ارشاد گرامی میں اگرچہ انصار کا اکر ام اور ان کی زبر دست عزت افزائی نیز نصرت کی طرف منسوب ہونے کی بڑی فضیلت ہے، لیکن اس میں ہجرت کی افضلیت اور رتبہ مہاجرین کی برتری کی طرف بھی ارشاد ہے کیونکہ مہاجرین تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی محبت میں اپنا وطن ودیار، اپنا گھر بار اپنے اہل و عیال اور اپنے قرابتداروں کو چھوڑ دینے کی بےمثال قربانی دی۔ جب کہ انصار نے گو اللہ کے دین اور اللہ کے رسول کی مدد ونصرت اور اس راہ میں بےپناہ ایثار کی فضیلت کاملہ حاصل کی لیکن وہ بہرحال ترک وطن، ترک قبیلہ اور ترک اہل و عیال جیسی عقوبت سے دوچار نہیں ہوئے۔ لہٰذا نصرت کی فضیلت ہجرت کی بعد کی اور انصار کی فضیلت مہاجرین کے بعد کی ہے اور بعض حضرات نے اس ارشاد گرامی کی مراد یہ بیان کی ہے کہ جو چیز مجھ کو انصار سے ممتاز کرتی ہے وہ ہجرت کی فضیلت ہے۔ اگر ہجرت کا شرف اور اس کی فضیلت میرے ساتھ نہ ہوتی۔ تو پھر میں بھی انصار کے ایک فرد کی طرح ہوتا اور رتبہ میں ان کے برابر اور ان کی مثل ہوتا، اس صورت میں کہا جائے گا کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے لئے تو تواضع اور کسر نفی کا پہلو اختیار فرمایا اور انصار کا دل ملانے کے لئے ان کی رفعت ومنزلت ظاہر فرمائی۔ یا یہ فرمایا کہ یہاں روای کو شک ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہاں یا تو وادیاً کا لفظ فرمایا تھا یا شعبا کا اصل میں وادی تو اس قطعہ زمین یا اس راستہ کو کہتے ہیں جو دو پہاڑوں یا دو ٹیلوں کے درمیان ہو جس کو عربی میں فرجہ بھی کہتے ہیں اور فارسی میں کا واک اور شعب اس راستہ کو کہتے ہیں جو کسی پہاڑ کے اندر ہو کر گزرتا ہے۔ حجاز میں چونکہ پہاڑ اور پہاڑیاں بہت ہیں اس لئے وادیاں اور شعب یعنی درے اور گھاٹیاں بھی کثرت سے ہیں۔ اس زمانہ میں ہوتا یہ تھا کہ کسی قافلہ یا قبیلہ کا سردار جس درے یا گھاٹی میں ہو کر گزرنا چاہتا سارا قافلہ اور سارا قبیلہ اس کے پیچھے پیچھے اسی درے یا گھاٹی میں داخل ہوتا اور پھر وہاں سے گزر کر سب اپنی منزل یا کھلے راستہ پر پہنچ جاتے۔ پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کبھی ایسا ہو کہ تمام لوگ دو گرہوں میں بٹ کر کسی منزل کی طرف چلیں، ان میں سے ایک گروہ انصار پر مشتمل ہو اور دوسرا گروہ باقی لوگوں پر اور ان دونوں گروہوں کے راستے الگ الگ ہوں تو میں دوسرے گروہ کا راستہ چھوڑ کر اس راستہ پر چلوں گا جو انصار نے اختیار کیا ہوگا، اس صورت میں کہا جائے گا کہ اس ارشاد گرامی ﷺ کا مقصد انصار کے تئیں آنحضرت ﷺ کے کمال تعلق وارتباط اور ان پر آپ کے کمال عنایت و شفقت کا اظہار ہے اس میں دوسرا قول یہ ہے کہ وادی اور شعب کے جو معنی یہاں مراد ہیں وہ مسلک اور رائے کے ہیں مطلب یہ کہ کسی معاملہ میں لوگوں کے درمیان رائے اور مسلک کے اختلاف کا اظہار ہو تو میں اسی رائے اور مسلک کو اختیار کروں گا، جو انصار کا اختیار کردہ ہوگا اور انہی کی موافقت کا اظہار کروں گا۔ اس صورت میں یہ کہا جائے گا کہ اس ارشاد گرامی سے آپ ﷺ کا مقصد انصار کے ساتھ حسن موافقت ومرافقت کا اظہار کرنا ہے کیونکہ انصار نے بھی آپ ﷺ کے تئیں حسن وفا اور اچھی خدمت گزاری کا ثبوت دیا ہے۔ اس سے یہ مراد ہرگز نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے انصار کی اتباع اور ان کی طرف احتیاج کا اظہار کیا ہے کیونکہ آپ ﷺ کی ذات تو متبوع مطلق ہے اور سب آپ کے تابع ہیں۔ شعار اور دثار شعار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو پہننے میں جسم اور شعر یعنی بالوں سے لگا ہو جیسے کرتا وغیرہ اور دثار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو پہنے ہوئے کپڑوں کے اوپر رہتا ہے جیسے چادر وغیرہ۔ پس آپ ﷺ نے انصار کو شعار کے ساتھ اس اعتبار سے تشبیہہ دی کہ صدق ایمان اور خلوص محب کا جوہر ان میں پیوست ہے گویا آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ انصار میرے خاص اعتباری اور راز دار لوگ ہیں سب لوگوں میں باعتبار قدرو منزلت کے مجھ سے بہت قریب یہی لوگ ہیں۔ دوسرے لوگوں کو تم پر بلا استحقاق فضیلت دی جائے گی اَثرۃً یا اُثرۃً یا اِثرۃً کے معنی ہیں حق تلفی اور بلا استحقاق دوسرے کسی شخص کو عہدہ یا منصب یا عطا میں فضیلت دینا۔ چناچہ آپ ﷺ نے انصار سے فرمایا کہ میرے بعد وہ زمانہ آئے گا جب لوگ عہدہ ومنصب کی تقسیم میں اپنی ذات کو مقدم رکھیں گے اور تم پر ترجیح دینگے، امارت و حکومت پر خود فائز کریں گے اور ایسے ایسے لوگ کہ جو حقیقی مرتبہ ومنزلت کے اعتبار سے کم رتبہ ہوں گے اعلی عہدہ ومناصب حاصل کرلینے کے سبب تم سے بالا تر و افضل بن جائیں گے، چناچہ مخبر صادق ﷺ نے جو کچھ فرمایا تھا وہ پورا ہو کر رہا، خصوصا حضرت امیر المؤمنین عثمان غنی ؓ کے عہد خلافت میں بعض عمال خلافت کی طرف سے اور اموی دور حکومت میں عام طور پر انصار کی بڑی حق تلفیاں کی گئیں۔ ان کے فضل وشرف کو نظر انداز کیا گیا اور حکومت وامارت کے مناصب سے ان کو محروم رکھنے کی کوشش کی گئی۔ یا اس ارشاد گرامی سے آپ کا مطلب یہ تھا کہ فتوحات میں حاصل ہونے والا مال غنیمت امراء و حکام خود بانٹ لیا کریں گے اور عطا کے مال میں تمہارے حق میں نظر انداز کر کے اپنی ذات کو یا تم سے کم تر لوگوں کو تم پر فضیلت و ترجیح دیں گے۔ یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پر ملو یعنی حق تلفی کی صورت میں تمہیں جس دل شکستگی اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا اگر تم نے اس پر صبر کیا اور تمامتر شکایات کے باوجود نہ تو حاکم وقت سے بغاوت کے مرتکب ہوئے اور نہ ملی شیرازہ بکھرنے کا سبب بنے تو اس کا اجر تم کو اس وقت ملے گا جب حشر کے دن تم حوض کوثر پر آکر مجھ سے ملوگے، کہ میری زیارت اور وہاں کی لازوال نعمتیں تمہیں باغ باغ کردیں گی، پس یہ ارشاد گرامی دراصل انصار کے اس صبر کے عوض ان کے لئے سرفرازی جنت کی بشارت ہے منقول ہے کہ امیر معاویہ ؓ کے عہد حکومت میں ایک دن بعض انصار کے پاس بعض مہاجرین کی شکایت لے کر آئے، حضرت امیر معاویہ ؓ ان کی شکایت کا ازالہ نہ کرسکے۔ اس پر انصار نے امیر معاویہ ؓ کو مخاطب کرکے کہا کہ سرکار دوعالم ﷺ نے سچ ہی فرمایا تھا کہ (اے انصار) تم میرے بعد دیکھوگے کہ دوسرے لوگوں کو تم پر بلا استحقاق ترجیح دی جائے گی (یہ سن کر) امیر معاویہ ؓ نے پوچھا پھر اس وقت کے لئے آنحضرت ﷺ نے تمہیں کیا حکم دیا تھا، انصار نے کہا صبر کرنے کا، حضرت امیر معاویہ ؓ بولے تو پھر (شکوہ شکایت کے بجائے ) تمہیں صبر ہی کرنا چاہئے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں اسی بات کا حکم دیا ہے۔

6208Mishkaat-al-Masabih

انصار سے کمال قرب وتعلق کا اظہار

وعنه قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم الفتح فقال : من دخل دار أبي سفيان فهو آمن ومن ألقى السلاح فهو آمن . فقالت الأنصار : أما الرجل فقد أخذته رأفة بعشيرته ورغبة في قريته . ونزل الوحي على رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : قلتم أما الرجل فقد أخذته رأفة بعشيرته ورغبة في قريته كلا إني عبد الله ورسوله هاجرت إلى الله وإليكم فالمحيا محياكم والممات مماتكم قالوا : والله ما قلنا إلا ضنا بالله ورسوله . قال : فإن الله ورسوله يصدقانكم ويعذرانكم . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں فتح مکہ کے دن ہم لوگ رسول کریم ﷺ کی معیت میں تھے ( اس دن) آپ ﷺ نے اعلان فرمایا تھا کہ مشرکین میں سے جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ امن میں ہے اور (مشرکین میں سے) جو شخص ہتھیار ڈال دے وہ امن میں ہے (بعض) انصار (یہ اعلان سن کر آپس میں) کہنے لگے کہ اس شخص (یعنی آنحضرت ﷺ پر اپنی قوم کے تئیں مروت و مہربانی اور اپنی بستی والوں (یعنی مکہ) کے تئیں رغبت و چاہت کا جذبہ (طبعی طور پر) غالب آگیا چناچہ رسول کریم ﷺ پر وحی نازل ہوئی (جس کے ذریعہ آپ کو مطلع کیا گیا کہ انصار اس اس طرح کہہ رہے ہیں اس پر آپ نے انصار کو بلایا) اور (ان سے) فرمایا تم نے یہ کہا ہے کہ اس شخص پر اپنی قوم کے تئیں مروت و مہربانی اور اپنی بستی والوں کے تئیں رغبت و چاہت کا جذبہ غالب آگیا ہے۔ نہیں، ایسا نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ اور اللہ کا رسول ہوں میں نے اللہ کی طرف (یعنی اللہ کے حکم سے اور اللہ کے اجر و انعام حاصل کرنے کے لئے) اور تمہاری طرف (یعنی تمہارے دیار کی طرف) ہجرت کی ہے اب تو زندگی بھی تمہاری زندگی کے ساتھ ہے اور مرنا بھی تمہارے ساتھ ہے (یہ سن کر) ان انصار نے (معذرت کا اظہار کرتے ہوئے) عرض کیا واللہ ہم نے یہ بات صرف اس لئے کہی کہ اللہ اور اللہ کے رسول کے ساتھ ہم کو بخل تھا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہیں راست گومانتے ہیں اور تمہاری یہ معذرت قبول کرتے ہیں۔ (مسلم) تشریح وہ امن میں ہے یعنی جو مشرک ابوسفیان کے گھر میں پہنچ جائے اور جو مشرک ہتھیار ڈال دے اس کو جان کی امان دی جاتی ہے، کوئی مسلمان اس پر تلوار نہ اٹھائے، اس کو مارے نہیں۔ ابوسفیان بن صخر بن حرب، امیر معاویہ کے والد ہیں۔ قریش کے بڑے سرداروں اور زعماء میں سے تھے۔ فتح مکہ کے دن انہوں نے اسلام قبول کیا اور جنگ حنین میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے۔ چونکہ یہ مولفۃ القلوب تھے اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس جنگ کے مال غنیمت میں سے ان کو حصہ سے زائد عطا کیا جیسا کہ روایتوں میں آتا ہے کہ ایک سو اونٹ اور چالیس اوقیہ چاندی ان کو دی گئی۔ محاصرہ طائف کے دوران ان کی ایک آنکھ بےکار ہوگئی تھی اور ہمیشہ کے لئے کانے ہوگئے تھے، پھر جنگ یرموک میں ان کی دوسری آنکھ بھی پتھر کی چوٹ سے پھوٹ گئی تھی۔ ٣٤ ھ میں مدینہ میں ان کا انتقال ہوا اور بقیع میں مدفون ہوئے۔ روایتوں میں آیا ہے کہ فتح مکہ کے دن جب ابوسفیان نے اسلام قبول کرلیا تو حضرت عباس ؓ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ شخص عزت اور بڑائی کی چاہ رکھتا تھا، اس لئے اس کو ایسی عزت بخش دیجئے جس کو یہ اپنے لئے باعث فخر سمجھے۔ چناچہ حضرت عباس ؓ کے اسی مشورہ پر آنحضرت ﷺ نے یہ اعلان فرمایا تھا کہ جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ امن میں ہے۔ اور بعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی مکی زندگی میں جب قریش آپ ﷺ کی ایذاء رسانی کے درپے رہتے تھے، ایک دن ابوسفیان نے آپ ﷺ کو امن (تحفظ) دیا۔ اور اپنے گھر لے آئے تھے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے فتح مکہ کے دن ان کے گھر کو جو دارالامن قرار دیا وہ ان کے اسی دن کے عمل کا بدلہ تھا۔ رغبت و چاہت کا جذبہ غالب آگیا ہے دراصل انصار نے جب یہ دیکھا کہ آنحضرت ﷺ نے اس ابوسفیان کو اتنی بڑی عنایت وعزت اور رعایت سے نوازا ہے جو اتنے طویل عرصہ تک آنحضرت ﷺ مسلمانوں اور اسلام کا سخت ترین معاندودشمن رہا ہے تو ان کو سخت حیرت ہوئی۔ اور یہ بات ان کو اپنی غیرت وحمیت کے منافی محسوس ہوئی چناچہ اسی حمیت و غیرت کے تحت سادگی اور ناسمجھی میں ان کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے۔ نہیں، ایسا نہیں ہے یعنی حقیقت میں وہ بات نہیں ہے جو تمہارے خیال میں آئی ہے کہ میں نے ابوسفیان کو اس طرح کی عزت عطا کر کے گویا اس امر کا اظہار کیا ہے کہ میں اب مکہ ہی میں رہ پڑوں گا اور مدینہ واپس نہیں جاؤں گا، بلکہ میری ہجرت آخری اور حتمی ہے اور وہ ہجرت چونکہ اللہ کے حکم سے اور خالص اللہ کے لئے ہوئی ہے، لہٰذا اس سے پھر نے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں اللہ کا بندہ اور اللہ کا رسول ہوں یعنی میری اس حیثیت اور میرے اس منصب کا تقاضا ہی یہ ہے کہ اب میں اس شہر کا تصور ہی نہ لاؤں جس کو میں نے اللہ کی خاطر چھوڑ دیا تھا اور اپنے اس سابقہ وطن میں ذرا بھی رغبت اور دلچسپی ظاہر نہ کروں جہاں سے میں اللہ کے لئے ہجرت کرچکا ہوں۔ اور میں تمہاری طرف یعنی اصل میں تو میری ہجرت اللہ کی طرف تھی اور یہ اسی کے حکم پر منحصر تھا کہ کون سا دیار میرا دارالہجرت بنتا ہے پس پس چونکہ تم لوگ میرے اور مہاجرین کے تئیں قلبی تعلق ومیلان رکھتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے والذین تبوء الدار والایمان من قبلہم یحبون من ہاجر الیہم لہٰذا اللہ نے تمہارے دیار کو میرا دار الہجرت قرار دیا اور میں اپنے قبیلہ اور اپنی قوم کا دیار چھوڑ کر تمہارے دیار وطن میں آگیا۔ اور میرا مرنا بھی تمہارے ساتھ ہے یعنی زندگی اور موت کسی حال میں تم سے جدا نہیں ہوں گا تم میرے ساتھ ہو اور میں تمہارے ساتھ رہوں گا، جب تک زندہ ہوں تمہارے ہی شہر میں رہوں گا اور مروں کا بھی تمہارے شہر میں، اس بارے میں خاطر جمع رکھو۔ اللہ اور اللہ کے رسول کے ساتھ ہم کو بخل تھا یعنی یہ بات ہم نے محض اس وجہ سے کہی ہے کہ آپ ﷺ کی میزبانی اور آپ ﷺ کی ہمسائیگی وقرب کا جو عظیم تر اعزاز اور فضل وشرف ہمیں اللہ اور اللہ کے رسول نے عطا کیا ہے اس میں کسی اور کی شرکت ہمیں گوارا نہیں ہے یہ بات ہماری غیرت کو ابھارنے والی ہے۔ کہ آپ ﷺ کی محبت اور آپ ﷺ کا میلان دوسروں کی طرف ظاہر ہو، جو ہمیں آپ ﷺ کی عنایت و شفقت آپ ﷺ کی محبت وقربت اور آپ ﷺ کی ہمسائیگی و صحبت سے محروم کر دے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی غیرت وحمیت محبت کو مستلزم ہے اور محبت کو ہرگز گوارا نہیں ہوتا کہ محبوب غیروں کی طرف توجہ والتفات کی نظر سے دیکھے غیر تم با تو چنا نست کہ گر دست دہد نہ گزارم کہ در آئے بہ خیال دیگراں انصار کی اس مراد کو دوسرے لفظوں میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ جیسی نعمت ہمیں عطا کی ہے۔ چونکہ آدمی اپنے اقا رب اور اپنے وطن کی محبت پر مجبور ہے اس لئے ہمیں خدشہ ہوا کہ شائد آپ ﷺ اپنی صحبت وقربت سے ہمیں محروم کرکے اہل مکہ کو نوازنا چاہتے ہیں اور اس خوف نے ہمیں اتنا مضطر کردیا کہ ایسے الفاظ اپنی زبان سے نکال بیٹھے اس صورت میں ان انصار پر اعتراض وارد نہیں ہوتا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم لاتجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا کے باوجود ایسا معمولی جملہ زبان سے کیوں ادا کیا۔

6209Mishkaat-al-Masabih

انصار کی فضیلت

وعن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم رأى صبيانا ونساء مقبلين من عرس فقام النبي صلى الله عليه و سلم فقال : اللهم أنتم من أحب الناس إلي اللهم أنتم من أحب الناس إلي يعني الأنصار . متفق عليه

اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ نے (انصار کے) بچوں اور عورتوں کو کسی شادی وغیرہ کی دعوت طعام سے واپس آتے دیکھا تو نبی کریم ﷺ (ان کے راستہ میں، یا ان سے ملنے کے لئے ایک جگہ پر) کھڑے ہوگئے اور (ان سے مخاطب کرکے) فرمایا خداوند (میں تجھ کو گواہ کرکے انصار کی ان عورتوں اور بچوں سے کہتا ہوں کہ اے انصار) تمام لوگوں میں تم میرے نزدیک محبوب ترین ہو، خداوند! (میں تجھ کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ اے انصار) تمام لوگوں میں تم میرے نزدیک محبوب ترین ہو، آنحضرت ﷺ کی مراد تمام انصار سے تھی۔ (بخاری ومسلم) تشریح تمام لوگوں میں تم میرے نزدیک محبوب ترین ہو یہ بات دو بار آپ ﷺ نے تاکیدًا فرمائی اور صحیح بخاری کی روایت میں ان الفاظ کا تین بار فرمانا نقل ہوا ہے نیز بعض نسخوں میں الی کے لفظ کو زیادہ صحیح ظاہر کرتا ہے۔ اللہم (خداوند) کا لفظ یا تو قسم کے معنی میں استعمال ہوا ہے یا اس معنی میں اے اللہ تو خوب جانتا ہے کہ میں یہ بات صدق دل سے کہہ رہا ہوں۔ گویا آنحضرت ﷺ نے جب عورتوں اور بچوں کو خوش خوش آتے دیکھا تو ان کی نظر پڑتے ہی آپ ﷺ باغ باغ ہوگئے اور ان کے تئیں آپ ﷺ کے جذبات محبت امڈ پڑے جن کا اظہار آپ ﷺ نے مذکورہ الفاظ میں کیا اور کمال عنایت ومکرمت کے سبب ان جذبات و احساسات پر حق سبحانہ تعالیٰ کو گواہ کیا۔

6210Mishkaat-al-Masabih

انصار کی فضیلت

وعنه قال : مر أبو بكر والعباس بمجلس من مجالس الأنصار وهم يبكون فقال : ما يبكيكم ؟ قالوا : ذكرنا مجلس النبي صلى الله عليه و سلم منا فدخل أحدهما على النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره بذلك فخرج النبي صلى الله عليه و سلم وقد عصب على رأسه حاشية برد فصعد المنبر ولم يصعده بعد ذلك اليوم . فحمد الله وأثنى عليه . ثم قال : أوصيكم بالأنصار فإنهم كرشي وعيبتي وقد قضوا الذي عليهم وبقي الذي لهم فاقبلوا من محسنهم وتجاوزوا عن مسيئهم . رواه البخاري

اور حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ (آنحضرت ﷺ کے مرض وفات کے دوران ایک دن) حضرت ابوبکر اور حضرت عباس ؓ انصار کی ایک مجلس کے پاس سے گذرے تو ( دیکھا کہ) وہ اہل مجلس ہمیں یاد آگئی تھی۔ (یہ سن کر) ان دونوں میں ایک صاحب (یعنی یا تو حضرت ابوبکر یا حضرت عباس ؓ ما) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو اس بات سے آگاہ کیا۔ کہ (انصار کی جماعت آپ ﷺ کی مجلس مبارک کو یاد کر کے رو رہی ہے) چناچہ نبی کریم ﷺ اس حالت میں حجرہ مبارک سے باہر تشریف لائے کہ (درد سر کو کم کرنے کے لئے) چادر کا ایک کونہ بطور پٹی سر مبارک پر باندھ رکھا تھا، پھر آپ ﷺ (خطبہ دینے کے لئے منبر پر چڑھے اور اس دن کے بعد پھر آپ ﷺ کو منبر پر چڑھنا نصیب نہیں ہوا۔ پہلے آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی کامل ثنا بیان کی اور پھر فرمایا (اے مہاجرو) میں تم کو انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں (کہ ان کے ساتھ رعایت و حمایت اور سلوک کا رویہ اختیار کئے رہنا) کیونکہ انصار میرا معدہ اور میری گٹھری ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان پر جو حق تھا اس کو انہوں نے ادا کردیا اور جو کچھ ان کا ہے (یعنی اجروثواب اور سرفرازی جنت) وہ اللہ کے ہاں باقی ہے پس ان کے نیک لوگوں کا عذر (کہ جو اپنی لغزش اور کوتاہی کے سلسلہ میں بیان کریں) قبول کرو اور ان کے برے لوگوں برے کاموں سے (کہ جن کا عذر پیش کرنے سے وہ عاجز ہوں) درگزر کرو (بخاری) تشریح کرش ( اور ایک نسخہ کے مطابق کرش) اصل میں چوپایوں (یعنی بیل اور گائے وغیرہ) کے کوٹھے یا اوجھ کو کہتے ہیں جو آدمیوں کے لئے معدہ کہلاتا ہے اور عیبہ جامہ دانی یعنی بغچی یا گٹھری کو کہتے ہیں۔ پس انصار میرا معدہ اور میری گٹھری ہیں سے مراد یہ ہے کہ انصار میرے راز دار، ولی دوست اور تمام امور میں میرے محرم اسرار اور معتمد علیہ ہیں۔ گویا آپ ﷺ نے انصار کو ان چیزوں سے مشابہت اس بناء پر دی کہ جیسے اوجھ یا معدہ میں چارہ اور کھانا جا کر جمع ہوجاتا ہے اور جامہ دانی میں کپڑے محفوظ رکھے جاتے ہیں، اسی طرح آنحضرت ﷺ کی راز کی باتیں اور امانتیں انصار کے پاس رہتی ہیں۔ اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ لغت میں کرش کے ایک اور معنی عیال، چھوٹے بچوں اور جماعت کے بھی آتے ہیں لہٰذا حدیث میں مذکورہ کرش کا لفظ اس معنی پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے۔ اس صورت میں آپ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ انصار میری جماعت میرے اصحاب ورفیق اور میرے لئے میرے عیال اور میرے چھوٹے بچوں کی مانند ہیں۔ جن پر میری شفقت و مہربانی ہے۔ اور جن کا میں غمخوار ہوں۔ ان پر جو حق تھا میں حق سے مراد جان ومال سے امداد ومعاونت اور خیرخواہی ہے۔ اس جملہ کا حاصل یہ ہے کہ انصار کے نمائندوں نے مدینہ سے مکہ پہنچ کر لیلۃ العقبہ میں میرے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کرتے ہوئے جو وعدہ اور جو عہد کیا تھا کہ اللہ کی راہ میں جان مال سے ہر طرح میری مدد کریں گے۔ اور اس کے عوض میں اللہ تعالیٰ نے ان سے جنت کا وعدہ کیا تھا۔ جیسا کہ اس موقع پر نازل ہونے والی اس آیت (اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ ) 9۔ التوبہ 111) سے واضح ہے، تو اپنے اس عہد کو انصار نے کماحقہ پورا کردیا ہے۔

6211Mishkaat-al-Masabih

انصار کی فضیلت

وعن ابن عباس قال : خرج النبي صلى الله عليه و سلم في مرضه الذي مات فيه حتى جلس على المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : أما بعد فإن الناس يكثرون ويقل الأنصار حتى يكونوا في الناس بمنزلة الملح في الطعام فمن ولي منكم شيئا يضر فيه قوما وينفع فيه آخرين فليقبل عن محسنهم وليتجاوز عن مسيئهم رواه البخاري

اور حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنی اس بیماری کے دوران کہ جس میں آپ ﷺ نے وفات پائی، (ایک دن) حجرہ مبارک سے باہر آئے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ اول آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کی، پھر فرمایا بعد ازاں جان لو، لوگو یعنی مسلمانوں کی تعداد ( روز بروز) بڑھے گی (جن میں کا معتد بہ حصہ اپنے اپنے وطن چھوڑ کر بہ نیت ہجرت مدینہ میں آئے گا) اور انصار کی تعداد کم ہوجائے گی یہاں تک دوسرے لوگوں میں ان (انصار) کا تناسب کھانے میں نمک کے برابر رہ جائے گا، پس (اے مہاجرین) تم میں سے جو شخص کسی بھی طرح کے اقتدار کا مالک بنے اور اس کے سبب وہ کچھ لوگوں یعنی نیکوکاروں کو فائدہ پہنچانے اور کچھ لوگوں یعنی بدکاروں کو نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہو اس شخص کو چاہئے کہ انصار کے نیکو کاروں (کی نیکی) کو قبول کرے اور ان کے بدکاروں (کی برائی) سے درگزر کرے۔ (بخاری) تشریح اور انصار کی تعداد کم ہوجائے گی یعنی انصار چونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس جماعت سے عبارت ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کو اپنے یہاں ٹھکانہ دیا اور جان ومال سے آپ ﷺ کی اور مسلمانوں کی مدد کی اس لئے انصار ہونا ایک ایسا وصف ہے جو ایک خاص زمانہ میں جن لوگوں کا نصیب بننا تھا بن گیا، اب آگے یہ وصف کسی کو حاصل نہیں ہوگا اور اس اعتبار سے انصار کی جماعت میں اضافہ کا کوئی سوال نہیں، جب کہ ہجرت کا وصف باقی ہے۔ اور باقی رہے گا جوں جوں لوگ اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑ کر اور ہجرت کر کے مدینہ آتے رہیں گے ویسے مہاجرین کی جماعت مدینہ میں بڑھتی رہے گی۔ پس ظاہر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان الفاظ کے ذریعہ گویا یہ پیشین گوئی فرمائی کہ مہاجرین تو بڑھتے رہیں گے، ان کی اولاد کا سلسلہ بھی بہت پھیلے گا اور وہ نہ صرف یہ کہ مختلف شہروں اور علاقوں میں وسیع بنیادوں پر سکونت اختیار کریں گے۔ بلکہ ملکوں کی حکمرانی وجہانبانی بھی انہی کے حصہ میں آئے گی۔ ان کے برخلاف انصار کا طبقہ روز بروز محدود ہوتا جائے گا اور پوری ملت میں ان کا وجود نہایت محدود تعداد میں رہ جائے گا۔ چناچہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ واقع میں وہی ہوا جو مخبر صادق ﷺ نے خبر دی تھی۔ کھانے میں نمک کے برابر اس تشبیہہ میں بھی انصار کے کم ہوجانے کی خبر ہے۔ اور ان کی تعریف کی طرف اشارہ بھی ہے یعنی جس طرح نمک کھانے کا ذائقہ سنوارتا، بناتا ہے۔ اسی طرح انصار کا وجود اہل اسلام کے سنوار اور بناؤ کا باعث ہوگا۔

6212Mishkaat-al-Masabih

انصار اور ان کی اولاد در اولاد کے حق میں دعا

وعن زيد بن أرقم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الله اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار وأبناء أبناء الأنصار . رواه مسلم

اور حضرت زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے دعا فرمائی اے اللہ! انصار کے بیٹوں کو اور انصار کے پوتوں کو بخش دے۔ (مسلم) تشریح پہلے درجہ والے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہوئے دوسرے درجہ والے تابعین اور تیسرے درجہ والے تبع تابعین ہوئے، پس آنحضرت ﷺ نے انصار کے تینوں قرنوں کے حق میں دعا فرمائی جو خیر القرون کا مصداق ہیں اور یہ بھی بعید نہیں کہ بیٹوں اور پوتوں سے ان کی قیامت تک کی نسلیں مراد ہوں جن میں بیٹوں کے ساتھ بیٹیاں بھی شامل ہوں کیونکہ ابناء کا لفظ اولاد کے معنی پر بھی محمول ہوسکتا ہے۔

6213Mishkaat-al-Masabih

انصار کے بہترین قبائل

وعن أبي أسيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير دور الأنصار بنو النجار ثم بنو عبد الأشهل ثم بنو الحارث بن الخزرج ثم بنو ساعدة وفي كل دور الأنصار خير . متفق عليه

اور حضرت ابی اسید ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا؟ انصار کے بہترین گھر یعنی ان کے افضل قبائل بنونجار پھر بنوعبد الاشہل پھر بنوحارث اور پھر بنو ساعدہ ہیں اور انصار کے تمام ہی قبیلوں میں بھلائی اور نیکی ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح اور انصار کے تمام قبیلوں میں میں تعمیم بعد تخصیص ہے۔ یعنی پہلے تو آپ ﷺ نے بعض خاص خاص قبیلوں کی فضیلت کا ذکر فرمایا اور پھر مجموعی طور پر تمام ہی قبیلوں کے بارے میں فرمایا کہ انصار کے سارے ہی قبائل خیر و بھلائی کی فضیلت رکھتے ہیں۔ اور ان کے سب قبیلے دوسرے تمام اہل مدینہ سے افضل ہیں۔ عسقلانی نے لکھا ہے کہ پہلے جو خیر کا لفظ ہے وہ تو افضل کے معنی میں ہے اور دوسرا خیر فضل کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ کہ یوں تو انصار کے تمام ہی قبائل کو خیر و بھلائی حاصل ہے۔ لیکن مراتب کے اعتبار سے ان میں تفاوت ہے۔ اور علماء لکھتے ہیں کہ یہ تفاوت قبول اسلام میں سبقت کے اعتبار سے یعنی جس قبیلے نے قبول اسلام میں جس قدر سبقت کی تھی اسی قدر اس کی فضیلت بڑھی ہوئی ہے واضح ہو دار (یعنی گھر) سے مراد قبیلہ ہے۔ انصار کے تمام قبائل مدینہ کے اپنے الگ الگ محلوں میں رہتے تھے۔ اور جس محلہ میں جو قبیلہ رہتا تھا وہ اسی قبیلہ کی نسبت سے دار بنو فلاں کے نام سے جانا جاتا تھا۔ چناچہ اس اعتبار سے کہ قبیلہ کا اصل نام بنو فلاں کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا تھا، بہت سی روایتوں میں بنو فلاں کا لفظ دار کے بغیر ہی نقل ہوا ہے۔ اسی حدیث سے معلوم ہوا کہ اقوام و قبائل اور اشخاص میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دینا اور اس افضلیت کو بیان کرنا جائز ہے، اس کا شمار غیبت میں نہیں ہوگا۔ بشرطیکہ اس کی بنیاد کسی کی عداوت یا تنقیص اور خواہش نفس نہ ہو۔

6214Mishkaat-al-Masabih

حاطب بن ابی بلتعہ کا واقعہ

وعن علي رضي الله عنه قال : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم أنا والزبير والمقداد - وفي رواية : أبا مرثد بدل المقداد - فقال : انطلقوا حتى تأتوا روضة خاخ فإن بها ظعينة معها كتاب فخذوا منها فانطلقنا تتعادى بنا خيلنا حتى أتينا الروضة فإذا نحن بالظعينة قلنا لها : أخرجي الكتاب قالت : ما معي كتاب . فقلنا لتخرجن الكتاب أو لتلقين الثياب فأخرجته من عقاصها فأتينا به النبي صلى الله عليه و سلم فإذا فيه : من حاطب بن أبي بلتعة إلى ناس من المشركين من أهل مكة يخبرهم ببعض أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا حاطب ما هذا ؟ فقال : يا رسول الله لا تعجل علي إني كنت امرأ ملصقا في قريش ولم أكن من أنفسهم وكان من معك من المهاجرين من لهم قرابات يحمون بها أموالهم وأهليهم بمكة فأحببت إذ فاتني ذلك من النسب فيهم يدا يحمون بها قرابتي وما فعلت كفرا ولا ارتدادا عن ديني ولا رضى بالكفر بعد الإسلام . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنه قد صدقكم فقال عمر : دعني يا رسول الله أضرب عنق هذا المنافق . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنه قد شهد بدرا وما يدريك لعل الله اطلع على أهل بدر فقال : اعملوا ما شئتم فقد وجبت لكم الجنة وفي رواية فقد غفرت لكم فأنزل الله تعالى [ يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم أولياء ] . متفق عليه

اور حضرت علی کرم اللہ علیہ وجہہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو، زبیر کو اور مقداد کو اور ایک روایت میں مقداد کے بجائے ابومرثد کا ذکر کیا۔ روانگی کا حکم دیا اور فرمایا کہ تم لوگ (تیز رفتاری سے) سفر کرکے روضہ خاخ پہنچو، وہاں ایک عورت ملے گی جو اونٹ کی سواری پر کجاوہ میں بیٹھی ہوگی، اس کے پاس ایک خط ہوگا، تم لوگ وہ خط اس سے حاصل کر کے لے آؤ۔ چناچہ ہم (فورًا) روانہ ہوگئے۔ اور اپنے گھوڑوں کو تیزی سے دوڑاتے ہوئے روضہ خاخ پہنچے اور اس عورت کو جالیا۔ ہم نے (اس عورت سے) کہا لاؤ، خط نکال کر ہمارے حوالہ کرو! وہ عورت بولی میرے پاس کوئی خط وط نہیں ہے۔ ہم نے (ذرا تیز ہو کر) کہا تو خط نکالتی ہے یا ہم تیرے کپڑے اتروائیں (یعنی اگر تو نے خط نکال کر نہیں دیا تو مجبورًا تجھ کو ننگی کرنا پڑے گا تاکہ وہ خط برآمد ہوجائے) تب اس عورت نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال کر ہمارے حوالہ کردیا اور ہم اس خط کو لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، (جب وہ خط کھول کر دیکھا گیا تو) اس میں لکھا تھا حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے اہل مکہ میں مشرکین کے نام اور پھر آگے حاطب نے مشرکین مکہ کو رسول اللہ ﷺ کے بعض اہم اقدامات اور منصوبوں کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے (حاطب کو طلب کیا اور اس سے) فرمایا ارے حاطب! یہ کیا ہے؟ (مجھے بتا تو نے یہ کیا حرکت کی ہے اور کیوں کی ہے) حاطب بولا، یا رسول! میرے بارے میں عجلت نہ کیجئے (یعنی میری پوری بات سنے بغیر اس حرکت کی پاداش میں میرے متعلق کفر اور سزا کا فیصلہ نہ کیجئے) دراصل میں ایک ایسا شخص ہوں جو قریش کے لوگوں میں باہر سے آکر مل گیا ہے (یعنی قریش سے میرا کوئی نسبی اور قرابتی تعلق نہیں ہے، بلکہ باہر سے آکر ان میں شریک ہوگیا ہوں اور محض ان کا حلیف ہوں، جب کہ میں آپ ﷺ کے ساتھ جو (دوسرے) مہاجرین ہیں وہ مکہ والوں سے قرابت رکھتے ہیں اور مشرکین مکہ اس قرابت کا لحاظ کرکے مکہ میں ان مہاجرین کے مال وجائداد اور ان کے اہل و عیال کی دیکھ بھال رکھتے ہیں، پس اس بناء پر کہ میرے اور مشرکین مکہ کے درمیان نسبی وقرابتی تعلق معدوم ہے میں نے چاہا کہ ان کے لئے کوئی ایسا کارنامہ انجام دوں جس کے بدلے میں وہ مکہ میں میرے قرابتداروں کی حفاظت کریں (آپ کو صدق دل سے یقین دلاتا ہوں کہ) میں نے یہ حرکت اس وجہ سے نہیں کی کہ میں (سرے سے دائرہ ایمان واسلام میں داخل ہی نہیں ہوا تھا اور) کافر ہوں، نہ اس وجہ سے کہ میں (پہلے مسلمان تو ہوگیا تھا لیکن اب دائرہ اسلام سے نکل گیا ہوں اور نہ اس وجہ سے کہ اسلام کے بعد اب کفر مجھ کو اچھا لگتا ہے (اور نور ایمان سے تعلق توڑ کر کفر کے اندھیرے میں جانا چاہتا ہوں) (حاطب کا یہ پورا بیان سن کر) رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ سے) فرمایا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حاطب نے تمہارے سامنے بالکل سچابیان دیا ہم (حقیقت حال یہی ہے جو اس نے بتائی ہے) لیکن عمر فاروق ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ! مجھ کو اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن اڑادوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اس طرح مت سوچو اور) اس حقیقت پر نظر رکھو کہ حاطب غزوہ بدر میں شریک ہوا ہے (اس پر حضرت عمر فاروق ؓ بولے ہوں گے کہ یہ اگر غزوہ بدر میں شریک ہوا ہے تو ہوا کرے۔ اب تو اس نے جاسوسی کر کے گویا غداری کا ارتکاب کیا ہے اور اس پر قرار واقعی سزا کا مستوجب ہوگیا ہے۔ تب آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہوگا) اور تمہیں حقیقت حال کا کیا علم ہے (یعنی تم یہ بات کیسے کہہ سکتے ہو کہ حاطب مستوجب قتل ہوگیا ہے) ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو اپنی خصوصی نظر و کرم و مغفرت سے نواز رکھا ہو۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ تم جو چاہو کرو، حقیقت تو یہ ہے کہ جنت تمہارے لئے واجب ہوگئی ہے اور ایک روایت میں ( تمہارے لئے جنت واجب ہوچکی ہے کہ بجائے) یہ ہے کہ میں تم کو بخش چکا ہوں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے (حاطب اور اس جیسے لوگوں کو اس طرح مذموم حرکت کے خلاف متنبہ کرنے کے لئے) یہ آیت نازل فرمائی (جس کا ترجمہ ہے ) اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو (یعنی وہ لوگ کہ جن کو میں دشمن رکھتا ہوں یا جن سے تم دشمنی رکھتے ہو، ان کو) اپنا دوست نہ سمجھو الخ۔ (بخاری ومسلم) تشریح مقداد کے بجائے ابومرثد کا ذکر ہے یعنی اس روایت میں تو یہ ہے کہ اس مہم پر بھیجے جانے والوں میں حضرت علی کے ساتھ حضرت زبیر اور حضرت مقداد، تھے، جب کہ دوسری روایت میں حضرت علی کے ساتھ حضرت زبیر اور حضرت مرثد ؓ کا بھیجا جانا مذکور ہے، بہرحال حضرت مقداد تھے عمروکندی کے بیٹے ہیں۔ نہایت قدیم الا سلام ہیں، ایک روایت کے مطابق یہ چھٹے مسلمان ہیں، ان سے پہلے صرف پانچ آدمیوں نے اسلام قبول کیا تھا ان کا انتقال ٣٥ ھ میں مدینہ سے تین کوس کے فاصلہ پر مقام جوف میں ہوا اور ان کا جسد خاکی وہاں سے مدینہ منورہ لا کر بقیع میں دفن کیا گیا اس وقت ان کی عمر ٧٠ سال تھی۔ اور حضرت ابومرثد بھی جو حصین غنوی کے بیٹے ہیں، کبار صحابہ میں سے ہیں غزوہ بدر میں انہوں نے بھی شرکت کی تھی اور ان کے بیٹے حضرت مرثد بھی شریک تھے، ابن سعد نے لکھا ہے کہ حضرت مرثد غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق اور دوسرے تمام غزوات میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے ان کا انتقال مدینہ میں بعہد خلافت ابوبکر ١٢ ھ میں کے وقت چھیاسٹھ برس کے تھے۔ روضہ خاخ پہنچو روضہ خاخ ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ سے مکہ کے راستہ پر مدینہ کے قریب ہی واقع ہے دراصل روضہ تو باغ اور سبزہ زار کو کہتے ہیں اور خاخ ایک پھل شفتالو کہا جاتا ہے اس مقام پر شفتالو کے درخت بہت تھے اس مناسبت سے وہ جگہ روضہ خاخ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ وہاں ایک عورت ملے گی اس عورت کا نام سارہ تھا اور بعض حضرات نے ام سارہ لکھا ہے وہ قریش میں کی ایک آزاد کردہ باندی تھی اور مشرکین مکہ کے نام ایک خط لے کر مکہ کو جارہی تھی، یہاں آنحضرت ﷺ کا یہ معجزہ ثابت ہوا کہ جاسوسی کی اتنی بڑی کاروائی آپ ﷺ پر بغیر کسی مادی وسیلہ و ذریعہ کے منکشف ہوگئی۔ وہ خط اپنی چوٹی سے نکال کر اور ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ اس نے وہ خط اپنی کمر سے نکال کردیا تھا پس اس دونوں روایتوں کے درمیان تطبیق یہ ہے کہ اس کی چوٹی خاص دراز ہوگی جو کمر تک پہنچتی ہوگی اور اس خط کو اس نے چوٹی کے نچلے حصہ میں باندھ کر کمر میں اڑس رکھا ہوگا بعض اہم اقدامات اور منصوبوں کے بارے میں وہ اقدامات اور منصوبے فتح مکہ کے لئے لشکر کشی سے متعلق جن کو آنحضرت ﷺ نے جنگی مصالح کے تحت پوشیدہ رکھا تھا۔ اس قصہ کی اصل یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے فتح مکہ کے قصد سے مسلمانوں کو سفر اور لڑائی کی تیاری کا حکم دیا تو ساتھ ہی آپ ﷺ نے جنگ کی اس تیاری اور اصل منصوبہ کو پوشیدہ رکھنے کی تاکید بھی مجاہدین اسلام کو فرمائی تھی۔ بلکہ ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے قصد تو مکہ کا کیا تھا اور روانگی خیبر کے لئے ظاہر فرمائی تھی یہ احتیاط خالص جنگی مصالح کے تحت تھی اور اس وقت کے حالات میں اس جنگی منصوبہ کا پوشیدہ رکھا جانا نہایت ضروری تھا۔ حاطب بن ابی بلتعہ ایک صحابی تھے، وہ اس منصوبہ کو جانتے تھے۔ انہوں نے اپنے مفاد کی خاطر آنحضرت ﷺ کے اصل منصوبہ کی اطلاع قریش مکہ کو دینی چاہی اور نہایت خفیہ طور پر ایک خط مذکورہ عورت کے ہاتھ مکہ روانہ کردیا، اس خط میں انہوں نے اہل مکہ کو مطلع کیا تھا کہ پیغمبر اسلام اپنے لشکر کے ساتھ تم پر چڑھائی کے لئے آرہے ہیں، ہوشیار رہنا۔ لیکن اس عورت کے روانہ ہوتے ہی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور انہوں نے آنحضرت ﷺ کو آگاہ کیا کہ ایک عورت ایسا خط لے کر مکہ جاری ہے اور روضہ خاخ تک پہنچ چکی ہے چناچہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ وغیرہ کو اسی وقت روانہ فرمایا اور خط منگوا کر ملاحظہ کیا، یہاں یہ معلوم ہوا کہ جاسوسوں کی پردہ دری اور ان کے خطوط پڑھنا جائز ہے، اسی طرح کسی بھی مفسد کی پردہ دری جائز ہے جب کہ مصلحت اس کی متقاضی ہو یا پردہ پوشی کسی مفسدہ کو جنم دینے کا باعث بنتی ہو۔ ان کے لئے کوئی ایسا کارنامہ انجام دوں الخ اپنے آخر تک یہ جملہ اس عبارت کا تر جمہ ہے ان اتخذفیہم یدا یحمون بہا قرابتی اور طیبی نے لکھا ہے کہ یحموں صفت ہے یداً کی اور ید (ہاتھ) سے مراد یا تو انعام عطا کرنے والا ہاتھ ہے یا مدد پہنچانے والی طاقت وقدرت، اس طرح اس عبارت کا لفظی ترجمہ یوں ہوگا (میں نے چاہا کہ) ان سے یہ انعام یا ایسی طاقت وقدرت حاصل کروں کہ وہ لوگ میری قرابت یا قرابتداروں کی مدد و حمایت کریں۔ حاطب کا مطلب یہ تھا کہ اس حرکت بیجا سے میری اصل غرض وغایت اپنے قرابتداروں کا تحفظ حاصل کرنا تھی۔ میں اتنی مفید معلومات فراہم کر کے قریش مکہ کو خوش کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ میری اس خوشامد کے سبب مکہ میں میرے قرابتداروں کی دیکھ بھال رکھ سکیں، واضح رہے کہ حاطب نے اہل مکہ کو جو خط بھیجنا چاہا تھا اس سے ان کو مقصد آنحضرت ﷺ کو زک اور ایذاء پہنچانا ہرگز نہیں تھا، اگر ان کا مقصد یہ ہوتا تو پھر ان کے کافر ہوجانے میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا تھا، حقیقت یہی ہے کہ وہ اپنے طور پر یہ خیال کر کے کہ میرے اس خط لکھنے سے آنحضرت ﷺ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی، اس حرکت کے ارتکاب کی نادانی کر بیٹھے تھے۔ چناچہ جب انہوں نے اپنا مقصد بیان کیا جو ان کے خط لکھنے کا محرک بنا تھا، تو آنحضرت ﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی۔ اگر ان کی نیت اور ان کے مقصد میں آنحضرت ﷺ کو تکلیف یا نقصان پہنچانے کا ارادہ شامل ہوتا تو لسان نبوت ان کے بیان کی تصدیق ہرگز نہ کرتی۔ ہاں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ ایک بڑے اجتہادی قصور میں مبتلا ہوئے بایں طور کہ انہوں نے اپنے اس معاملہ کو چھپایا اور آنحضرت ﷺ سے اجازت لئے بغیر ایسا کام کیا۔ اس منافق کی گردن اڑادوں اس عبارت کے تحت ملا علی قاری نے تو یہ لکھا ہے کہ رسول ﷺ نے صحابہ کو مخاطب کرکے حاطب کے بیان عذر کی تصدیق فرمائی لیکن اس کے باوجود حضرت عمر نے جو یہ بات کہی تو اس کا محرک دین کے تئیں وہ شدت اور سخت گیری تھی جو حضرت عمر کی ذات کا خاصہ تھا۔ وہ دین و مذہب کے معاملات میں ذرا بھی نرمی اور رعایت کے قائل نہیں تھے اور پھر حاطب کا معاملہ تو ویسے بھی بڑی سنگین نوعیت کا تھا۔ دوسرے یہ کہ اس زمانہ میں بعض لوگ تھے بھی اس طرح کہ ان کی طرف نفاق کی نسبت کی جاتی تھی، چناچہ انہوں نے یہی سوچا کہ جس شخص نے نبی کریم ﷺ کی مخالفت کی ہے وہ قتل کا مستوجب ہوگیا لیکن اس سوچ میں چونکہ خود ان کے نزدیک بھی یقین کا پہلو غالب نہیں تھا اس لئے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے حاطب کے قتل کی اجازت مانگی۔ رہی یہ بات کہ انہوں نے حاطب پر منافق کا اطلاق کس وجہ سے کیا تو ہوسکتا ہے کہ حضرت عمر نے اس بارے میں بھی سوچا ہو کہ حاطب نے شائد صحیح بات نہیں بتائی ہے، ان کے دل میں کچھ اور ہے اور بیان انہوں نے کچھ اور دیا ہے، ان کا مذکورہ عذر محض بات بنانے کے لئے ہے اور حضرت شیخ عبد الحق لکھتے ہیں ہوسکتا ہے کہ اس واقعہ کو بیان کرنے میں کچھ تقدیم و تاخیر ہوگئی ہو۔ ورنہ آنحضرت ﷺ کی تصدیق کے بعد حضرت عمر کا یہ بات کہنا مستبعد معلوم ہوتا ہے، گویا حضرت شیخ کے نزدیک اس بات کا قوی احتمال ہے کہ حضرت عمر نے یہ بات پہلے ہی کہی ہو اور آنحضرت ﷺ کی تصدیق کا جزء بعد کا ہو۔ تم جو چاہو کرو یہ اہل بدر ہی کو خطاب ہے اور اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ عملی زندگی میں تمہیں پوری طرح آزادی دے دی گئی ہے کہ اچھا برا جو بھی چاہو کرو اور فرائض وارکان دین کی بجاآوری میں بھی ہر تقصیر و کوتاہی تمہارے لئے معاف ہے بلکہ اس ارشاد قدسی کی اصل مراد اہل بدر کے تئیں حق تعالیٰ کے خصوصی کرم اور اس کی خصوصی عنایت کو ظاہر کرنا اور ان کے اس خصوصی مرتبہ کی نشاندہی کرنا ہے کہ غزوہ بدر میں شرکت کے عوض تمہیں آخرت کے تمام بلند مراتب و درجات حاصل ہوگئے ہیں وہاں کی تمہاری اعلی حیثیت متعین ہوگئی ہے۔ اب تمہیں اجازت ہے کہ اعمال صالحہ اور افعال نافلہ میں سے چاہے تھوڑا کرو چاہے بہت کرو، جو بھی کر لوگے کافی ہوجائے گا۔ جنت تمہارے لئے واجب ہوگئی ہے یعنی یہ ثابت ہوگیا کہ تم جنت میں جاؤ گے یا یہ کہ حق تعالیٰ کے وعدے کے بموجب تمہارے لئے جنت واجب ہوچکی ہے۔ نیز طیبی نے لکھا ہم کہ آنحضرت ﷺ نے پہلے لعل (ممکن ہے) کا جو لفظ استعمال فرمایا وہ اپنے اعتبار سے نہیں فرمایا بلکہ اس میں ترجی اور امید رکھنے کے معنی حضرت عمر کی طرف راجع ہیں، کیونکہ آنحضرت ﷺ کے نزدیک تو یہ بات محقق اور یقینی تھی۔ اور زیادہ قرین یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اہل بدر کی طرف کے جنتی اور مغفور ہونے کے پہلو کو لفظ لعل کے ساتھ اس لئے بیان فرمایا تاکہ اہل بدر اس پر اس طرح اعتماد اور بھروسہ کرکے نہ بیٹھ جائیں کہ فرائض و واجبات تک سے غفلت اختیار کرلیں اور اعملوا ماشئتم (تم جو چاہو کرو) سے یہ نتیجہ اخذ کرلیں کہ ہر فعل وعمل کی آزادی ہمیں مل گئی ہے۔ اب جو چاہے کرتے پھریں میں تم کو بخش چکا ہوں یعنی، میں نے تم لوگوں کو اپنی نظر رحمت و مغفرت سے نواز دیا ہے۔ اہل بدر کے حق میں اس عفو و مغفرت کا تعلق صرف آخرت سے ہے نہ کہ اس دنیا سے بھی، مطلب یہ کہ ان میں سے اگر کوئی شخص کسی ایسے فعل کا مرتکب ہوجائے جس پر حد وغیرہ جاری ہوتی ہے تو وہ مستوجب مواخذہ ہوگا، چناچہ ایک صحابی مسطح بن اثاثہ حالانکہ اہل بدر میں سے تھے لیکن جب انہوں نے حضرت عائشہ پر افتراب اندھا اور قرآن کریم نے ان کے افترا کا پردہ چاک کرکے عائشہ صدیقہ کی پاکدامنی کی تصدیق کی۔ تو آنحضرت ﷺ نے مسطح کو مستوجب مواخذہ گرانا اور ان پر حد افترا قائم فرمائی۔ یہ آیت نازل فرمائی اس سے سورت ممتحنہ کی وہ ابتدائی آیتیں مراد ہیں جن کا شان نزول حاطب کا یہی قصہ ہے یہ آیتیں یوں ہے (يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَا ءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَا ءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِيْ سَبِيْلِيْ وَابْتِغَا ءَ مَرْضَاتِيْ ڰ تُسِرُّوْنَ اِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ ڰ وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَا اَخْفَيْتُمْ وَمَا اَعْلَنْتُمْ وَمَنْ يَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَا ءَ السَّبِيْلِ اِنْ يَّثْقَفُوْكُمْ يَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَا ءً وَّيَبْسُطُوْ ا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ وَاَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْ ءِ وَوَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ۔ لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَلَا اَوْلَادُكُمْ ڔ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ڔ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۔ قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْ اِبْرٰهِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَه اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰ ؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَا ءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَه اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَا اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَاِلَيْكَ اَنَبْنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ۔ ) 60۔ الممتحنہ 1 تا 4) اے ایمان والو! تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ کہ ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو حالانکہ تمہارے پاس جو دین آچکا ہے وہ منکر ہیں، رسول کو اور تم کو اس بناء پر کہ تم اپنے پروردگار اللہ پر ایمان لے آئے شہر بدر کرچکے ہیں، اگر تم میرے رستہ پر جہاد کرنے کی غرض سے اور میری رضا مندی سے ڈھونڈنے کی غرض سے (اپنے گھروں سے) نکلے ہو، تم چپکے چپکے دوستی کی باتیں کرتے ہو حالانکہ مجھ کو سب چیزوں کا خوب علم ہے تم جو کچھ چھپا کر کرتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو (یاد رکھو) جو شخص تم میں سے ایسا کرے گا تو راہ راست سے بھٹکے گا اگر ان کو تم پر دسترس ہوجائے تو ( فورًا) اظہار عداوت کرنے لگیں (بایں طور کہ) تم پر برائی کے ساتھ دست درازی اور زبان درازی کرنے لگیں، وہ اس بات کے متمنی ہیں کہ تم کافر ہوجاؤ تمہارے رشتہ دار اور اولاد قیامت کے دن تمہارے کام نہ آویں گے اللہ تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال کو خوب دیکھتا ہے، تمہارے لئے ابراہیم (علیہ السلام) میں اور ان لوگوں میں جو کہ ان کے ساتھ تھے ایک نمونہ ہے۔ جب کہ ان سب نے اپنی قوم سے کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن کو تم اللہ کے سوا معبود سمجھتے ہو ان سے بیزار ہیں، ہم تمہارے منکر ہیں اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ کے لئے عداوت اور بغض ظاہر ہوگیا جب تک تم واحد پر ایمان نہ لاؤ، لیکن ابراہیم (علیہ السلام) کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی کہ میں تمہارے لئے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لئے (استغفار سے زیادہ) مجھ کو اللہ سے آگے کسی بات کا اختیار نہیں۔ اے ہمارے پروردگار! ہم آپ پر توکل کرتے ہیں اور آپ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ آیات کریمہ اگرچہ حاطب کے سلسلہ میں نازل ہوئی تھی لیکن خطاب عمومی طور پر ہے تاکہ حاطب جیسے لوگ بھی اس کے تحت آجائیں، اسی لئے کہا گیا ہے العبرۃ بعموم اللفظ لابخصوص السبب یعنی یہ اصولی قاعدہ ہے کہ اعتبار عموم لفظ کا ہوتا ہے نہ کہ خصوص سبب کا۔ مطلب یہ کہ کوئی آیت مثلا کسی خاص واقعہ کے سلسلہ میں یا کسی خاص شخص کے متعلق نازل ہوئی تو یہ نہیں کہ وہ آیت بس اسی واقعہ یا اسی شخص کے ساتھ مخصوص سمجھی جائے گی بلکہ اس کا مصداق ومحمول عمومی نوعیت کا ہوگا کہ جو بھی شخص اس آیت کے مفہوم و مضمون سے مطابقت رکھے گا وہ اس آیت کے تحت آئے گا اور یہ سمجھاجائے گا کہ گویا یہ آیت اسی شخص کے متعلق نازل ہوئی ہے۔

6215Mishkaat-al-Masabih

اصحاب بدر کا مرتبہ

وعن رفاعة بن رافع قال : جاء جبريل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ما تعدون أهل بدر فيكم . قال : من أفضل المسلمين أو كلمة نحوها قال : وكذلك من شهد بدرا من الملائكة . رواه البخاري

اور حضرت رفاعہ بن رافع بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور پوچھا کہ غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کو آپ اپنوں میں سے کس طبقہ کے لوگوں میں شمار کرتے ہیں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہم ان کو سب سے اعلی وسب سے بہتر مسلمانوں میں شمار کرتے ہیں، یا آپ ﷺ نے اسی طرح کے کچھ الفاظ میں جواب دیا ( اور ظاہر یہ ہے کہ آپ ﷺ نے یوں فرمایا ہوگا ہم افضل المسلمین یعنی وہ اصحاب بدر سب سے اعلی وسب سے بہتر مسلمان ہیں) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) (یہ سن کر) بولے ایسا ہی ان فرشتوں کے بارے میں (ہم سمجھتے ہیں) جو غزوہ بدر میں (اہل اسلام کی مدد کے لئے) شریک ہوئے تھے۔ (بخاری) تشریح حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا مطلب یہ تھا کہ آپ ﷺ اصحاب بدر کو دوسرے تمام مسلمانوں سے افضل جانتے ہیں۔ اسی طرح ہمارا خیال بھی یہی ہے کہ فرشتوں میں سے جو فرشتے غزوہ بدر میں شریک ہوئے وہ ان تمام فرشتوں سے افضل ہیں جن کو اس غزوہ میں شرکت کا موقع نصیب نہیں ہوا۔

6216Mishkaat-al-Masabih

اصحاب بدر وحدیبیہ کی فضیلت

وعن حفصة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني لأرجو أن لا يدخل النار إن شاء الله أحد شهد بدرا والحديبية قلت : يا رسول الله أليس قد قال الله تعالى : [ وإن منكم إلا واردها ] قال : فلم تسمعيه يقول : [ ثم ننجي الذين اتقوا ] وفي رواية : لا يدخل النار إن شاء الله من أصحاب الشجرة - أحد - الذين بايعوا تحتها . رواه مسلم

اور ام المؤمنین حضرت حفصہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں امید رکھتا ہوں کہ جو شخص بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوا وہ انشاء اللہ دوزخ کی آگ میں داخل نہ ہوگا، میں نے (یہ سن کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو دوزخ پر وارد نہیں ہو! آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیا تم نے یہ نہیں سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (اس کے بعد) یہ بھی فرمایا ہے کہ پھر ہم ان لوگوں کو دوزخ میں جانے سے بچائیں گے جنہوں نے تقوی اختیار کیا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اصحاب شجرہ میں سے کوئی شخص انشاء اللہ دوزخ کی آگ میں داخل نہ ہوگا اور اصحاب شجرہ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے (حدیبیہ کے مقام پر) درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔ (بخاری ومسلم) تشریح ان منکم الا واردہا یہ قرآن کی آیت کے الفاظ ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص کو پل صراط سے گزرنا ہوگا اور پل صراط چونکہ دوزخ کے اوپر قائم کیا جائے گا اس لئے دوزخ کا سامنا لامحالہ ہر شخص کو کرنا پڑے گا اور علامہ نووی نے لکھا ہے کہ دوزخ پر وارد ہونے مراد پل صراط سے گزرنا ہے، بہر حال جب پل صراط پر سے گزرنے کا مرحلہ سلامتی کے ساتھ طے کرلیں گے۔ اور جنت میں چلے جائیں گے۔ لیکن حضرت حفصہ کے خیال میں یہ بات تھی کہ قرآن کے ان الفاظ میں واردہا کے معنی داخلہا (اور دوزخ میں داخل ہونے) کے ہیں، چناچہ انہوں نے سوچا کہ جب قرآن کے ان الفاظ کے مطابق دوزخ میں داخل ہونے سے کوئی بھی شخص مستثنیٰ نہیں ہوگا تو اہل بدر و حدیبیہ کے حق میں دخول دوزخ کی نفی کا مصداق ومحمول کیا ہوسکتا ہے اس پر آنحضرت ﷺ نے ان کو سمجھایا کہ خود اسی آیت میں ان الفاظ کے بعد (ثُمَّ نُ نَجِّي الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِيْنَ فِيْهَا جِثِيًّا) 19۔ مریم 72) کے جو الفاظ ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر شخص دوزخ میں داخل نہیں ہوگا بلکہ وہی لوگ دوزخ میں جائیں گے جو نجات کے مستحق نہیں ہونگے بلکہ مستوجب عذاب قرار دئیے جاچکے ہوں گے اور یہ کہ واردہا کے معنی دوزخ میں داخل ہونے کے نہیں بلکہ دوزخ کے اوپر سے گذرنے کے ہیں واضح رہے کہ حضرت حفصہ نے آنحضرت ﷺ کا ارشاد سن کر جو کچھ کہا وہ مناظرہ بازی کے انداز میں اور اعتراض کے طور پر نہیں تھا بلکہ اصل میں جب حضرت حفصہ نے آنحضرت ﷺ کے ارشاد کو اپنے خیال کے مطابق بظاہر آیت قرآنی کے موافق نہیں پایا تو ان کو حدیث کا مفہوم سمجھنے میں دقت ہوئی اور تب انہوں نے بغرض استفادہ مذکورہ الفاظ میں آنحضرت ﷺ سے سوال کیا۔ گویا حضرت حفصہ کا یہ سوال اس حکم کی تعمیل میں تھا کہ اگر کسی آیت یا کسی حدیث کے معنی سمجھ میں نہ آئیں، یا کسی آیت اور حدیث کے درمیان تطبیق سمجھ میں نہ آئے اور یا کوئی بھی دینی بات سمجھ میں نہ آتی ہو تو اس کو کسی عالم سے پوچھ لینا چاہئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( فَسْ َ لُوْ ا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) 16۔ النحل 43) (پس تم اہل ذکر یعنی اہل علم سے دریافت کرلو اگر تم ناواقف اور لاعلم ہو)۔

6217Mishkaat-al-Masabih

اہل حدیبیہ کی فضیلت

وعن جابر قال : كنا يوم الحديبية ألفا وأربعمائة . قال لنا النبي صلى الله عليه و سلم : أنتم اليوم خير أهل الأرض . متفق عليه

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے موقع پر ہماری تعداد ایک ہزار اور چار سو تھی (اور) ہمارے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا، آج کے دن تم زمین والوں میں سب سے بہتر لوگ ہو۔ (بخاری ومسلم) تشریح ایک ہزار چار سو حدیبیہ کے موقع پر موجود صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین کی تعداد کے بارے میں جو اختلافی روایتیں ہیں اور ان مختلف روایتوں کے درمیان جو وجہ تطبیق بیان کی جاتی ہے اس کا ذکر پیچھے ہوچکا ہے۔ اسی حدیث کے مطابق بعض حضرات نے جن میں علامہ سیوطی (رح) بھی ہیں لکھا ہے کہ صحابہ میں سب سے افضل خلفائے اربعہ ہیں۔ پھر عشرہ مبشرہ، پھر اہل بدر اور پھر اہل احد اور پھر اہل حدیبیہ۔

6218Mishkaat-al-Masabih

اصحاب بدر کا مرتبہ

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يصعد الثنية ثنية المرار فإنه يحط عنه ما حط عن بني إسرائيل . وكان أول من صعدها خيلنا خيل بني الخزرج ثم تتام الناس فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كلكم مغفور له إلا صاحب الجمل الأحمر . فأتيناه فقلنا : تعال يستغفر لك رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لأن أجد ضالتي أحب إلي من أن يستغفر لي صاحبكم . رواه مسلم وذكر حديث أنس قال لأبي بن كعب : إن الله أمرني أن أقرأ عليك في باب بعد فضائل القرآن

اور حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ (حدیبیہ کے سفر کے دوران) رسول کریم ﷺ نے جب یہ فرمایا کہ ثنیۃ المرار پر جو چڑھے گا اس کے گناہ اسی طرح معاف کردیئے جائیں گے جیسے اسرائیل کے گناہ معاف کردئیے گئے تھے تو سب سے پہلے جو لوگ اس (ثنیۃ المرار) پر چڑھے وہ ہمارے گھوڑے یعنی قبیلہ خزرج کے (گھوڑ سوا ر) تھے۔ اس کے بعد آگے پیچھے سب لوگ چڑھے۔ پس رسول کریم ﷺ نے فرمایا سب کو بخش دیا گیا علاوہ اس شخص کے جو سرخ اونٹ والا ہے (یعنی منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی) (آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد سن کر) ہم اس (سرخ اونٹ والے شخص یعنی عبداللہ بن ابی) کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ آؤ ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم رسول اللہ ﷺ سے تمہارے حق میں بخشش و مغفرت کی درخواست کریں، مگر وہ (بدبخت) بولا حقیقت یہ ہے کہ میں اپنی گم شدہ چیز پاجاؤں، یہ میرے نزدیک اس بات سے زیادہ پسندیدہ اور عزیز ہے کہ تمہارے صاحب میرے لئے بخشش و مغفرت چاہیں۔ (مسلم) اور حضرت انس کی حدیث قال رسول اللہ ﷺ لابی بن کعب ان اللہ امرنی ان اقرء علیک فضائل قرآن کے بعد والے باب میں نقل کی جاچکی ہے (یعنی صاحب مصابیح نے اس حدیث کو یہاں اس باب میں نقل کیا تھا لیکن اس حدیث میں چونکہ قرآن کا ذکر تھا اس لئے مؤلف مشکوٰۃ نے اس کو وہاں نقل کیا ہے)۔ تشریح ثنیۃ المرار میں ثنیۃ سے مراد پہاڑ کے درمیان (گھاٹی) کا راستہ ہے۔ اور مرار) ایک جگہ کا نام ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان اس راستہ پر واقع ہے جو حدیبیہ کو ہو کر گزرتا ہے۔ یہ ارشاد گرامی اس وقت کا ہے جب آپ ﷺ ٦ ھ میں عمرہ کی نیت سے مکہ کو روانہ ہوئے تھے لیکن حدیبیہ کے مقام پر پہنچ کر رک گئے تھے اور صلح حدیبیہ کا مشہور واقعہ پیش آیا تھا، اسی سفر کے دوران جب آپ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ رات میں ثنیۃ المرار (مرار کی گھاٹی) پر پہنچے تو لوگوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے مذکورہ الفاظ ارشاد فرمائے۔ اور حوصلہ بڑھانے کی ضرورت یا تو اس لئے پیش آئی تھی کہ وہ گھاٹی نہایت دشوار گزار تھی اور اوپر چڑھنا کوئی آسان کام نہیں تھا، یا یہ کہ آپ ﷺ کو چونکہ یہ اندیشہ تھا کہ اس گھاٹی کے پیچھے شاید اہل مکہ گھاٹ لگائے بیٹھے ہوں اور منصوبہ بند طریقہ سے رات کی تاریکی میں اچانک حملہ آور ہوجائیں اس لئے صورت حال کی ٹوہ لینا ضروری تھا اور اس مقصد کے لئے اوپر چڑھنا ظاہر ہے جان جوکھوں کا کام تھا۔ جیسے بنی اسرائیل کے گناہ معاف کردیئے تھے ان الفاظ کے ذریعہ بنی اسرائیل سے متعلق قرآن کریم کے ان الفاظ وقولوا حطۃ نغفرلکم خطایا کم کی طرف اشارہ ہم۔ اصل قصہ یوں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں جب بنی اسرائیل میدان تیہ میں چالیس سال تک پریشان و سرگرداں پھرتے رہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے ازراہ کرم و عنایت ان کو بادل کا سایہ مہیا کیا اور ان کے کھانے کو من وسلوی نازل فرمایا اور پھر ان کو ملک شام کے ایک شہر اریحا جانے کا حکم دیا گیا۔ اس وقت ان کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ اس شہر میں داخل ہوتے وقت عجز و انکساری اور فروتنی اختیار کرنا اور حطۃ (توبہ ہے، توبہ ہے) کہتے ہوئے داخل ہونا، اگر تم نے ہماری اس ہدایت پر عمل کیا اور توبہ انابت اور استغفار کرتے ہوئے اس شہر میں داخل ہوئے تو ہم تمہارے پچھلے گناہوں کو معاف کردیں گے اور تمہیں مغفرت و بخشش سے نوازینگے۔ لیکن بنی اسرائیل نے نہ صرف یہ کہ اس خدائی حکم و ہدایت پر عمل نہیں کیا بلکہ یہ شرارت بھی کی کہ شہر میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اس لفظ کو جو طلب توبہ و استغفار کے معنی رکھتا تھا، بدل کر ایک ایسا لفظ بولنے لگے جو ان کی دنیاوی طلب و خواہش کے معنی رکھتا تھا، اس کی پاداش میں ان پر طاعون کا سخت عذاب نازل کیا گیا جس نے ان کو ستر ہزار آدمیوں کو ہلاک کرڈالا پس آنحضرت ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ جیسے بنی اسرائیل کے گناہ معاف کردئیے گئے تھے تو گناہ معاف کئے جانے سے مراد گناہ معاف کرنے کا وعدہ ہے گویا آنحضرت ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح بنی اسرائیل سے مغفرت کا وعدہ کیا گیا تھا اور اگر وہ اس وقت خدائی حکم و ہدایت پر عمل کرلیتے تو ان کے تمام گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔ وہ ہمارے گھوڑے یعنی قبیلہ خزرج خزرج انصار مدینہ کا ایک قبیلہ تھا اور حضرت جابر ؓ اسی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے یہ بات پہلے بتائی جاچکی ہے کہ اوس اور خزرج دو بھائی تھے اور آگے چل کر ان دونوں کی اولاد اور نسلیں دد الگ الگ قبیلوں میں تبدیل ہوگئیں اور یہ دونوں قبیلے اپنے اپنے مورث اعلی کے نام سے موسوم ہوئے۔ چناچہ انصار مدینہ میں سے کچھ لوگ تو قبیلہ اوس سے تعلق رکھتے تھے اور کچھ لوگ قبیلہ خزرج سے۔ میں اپنی گم شدہ چیز پاجاؤں بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت عبداللہ بن ابی کا وہی سرخ اونٹ ادھر ادھر ہوگیا ہوگا، یا اس کی کوئی اور چیز گم ہوگئی ہوگی۔ چناچہ صحابہ نے اس سے کہا کہ چلو ہم رسول اللہ ﷺ سے درخواست کرتے ہیں کہ تمہارے حق میں بھی استغفار کریں اور تمہاری بخشش کی دعا کریں تو اس نے نہایت بےاعتنائی سے کہا کہ اس وقت تمہارے صاحب ( رسول اللہ ﷺ کے پاس مجھے جانے کی فرصت کہاں ہے، اپنی گم شدہ چیز کو تلاش کرنا اور پالینا میرے نزدیک اس بات سے زیادہ اہم اور زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں طلب مغفرت کے لئے تمہارے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤں، عبداللہ ابن ابی کے یہ الفاظ یقینی طور پر اس کے صریح کفر کے غماز تھے۔ اور اس میں شبہ نہیں کہ وہ خبث باطن کے سبب راندہ درگاہ ہی رہا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اسی کی طرف اشا رہ کرتے ہوئے فرمایا واذا قیل الہم تعالوا یستغفر لکم رسول اللہ ﷺ لووا رء وسہم ورایتہم یصدون وہم مستکبرون سواء علیہم استغفرت لہم ام لم تستغفرلہم لن یغفر اللہ لہم۔ (الا یۃ) اور جب ان (منافقوں) سے کہا جاتا ہے کہ آؤ ( رسول اللہ ﷺ کے پاس چلو) تاکہ رسول اللہ ﷺ تمہارے لئے استغفار کردیں تو وہ اپنا سر پھیر لیتے ہیں اور آپ ﷺ ان کو دیکھیں گے کہ وہ (اس ناصح سے اور تحصیل استغفار سے ) تکبر کرتے ہوئے بےرخی کرتے ہیں۔ (جب ان کے کفر کی یہ حالت ہے تو) ان کے حق میں دونوں باتیں برابر ہیں خواہ ان کے لئے استغفار کریں یا ان کے لئے استغفار نہ کریں۔ (اور) اللہ تعالیٰ ہرگز ان کی مغفرت نہیں فرمائیں گے۔

6219Mishkaat-al-Masabih

شیخین اور ابن مسعود کی فضیلت

عن أبن مسعود عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : اقتدوا باللذين من بعدي من أصحابي : أبي بكر وعمر واهتدوا بهدي عمار وتمسكوا بعهد ابن أم عبد . رواه الترمذي

اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا تم ان دونوں کی پیروی جو میرے صحابہ میں سے ہیں اور میرے بعد خلیفہ ہوں گے، وہ ابوبکر اور عمر ہیں، عمار بن یاسر کی سیرت اور ان کی راہ روش اختیار کرکے سیدھی سچی راہ پر چلو اور ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ ابن مسعود) کے عہد کو مضبوط پکڑو اور ایک دوسری روایت میں، جو حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے ام عبداللہ کے بیٹے کے عہد کو پکڑو کے بجائے یہ الفاظ ہیں کہ ابن مسعود تم سے جو حدیث بیان کریں (اور دین کے احکام و مسائل سے متعلق جو بات بتائیں) اس میں ان کو راست گو جانو۔ (ترمذی) تشریح اور میرے بعد خلیفہ ہوں گے یہ ترجمہ حضرت شیخ عبد الحق کے ترجمہ کے مطابق ہے۔ جب کہ ملا علی قاری کے مطابق ترجمہ یوں ہونا چاہئے کہ تم میری وفات کے بعد یا میری پیروی کے بعد ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے صحابہ میں سے ہیں اور وہ ابوبکر وعمر ہیں پس نحوی اعتبار سے ابوبکر و عمر بدل یا بیان ہم الذین کا۔ سیدھی سچی راہ پر چلو واضح ہو کر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے تعلق سے تو اقتدا کا لفظ لایا گیا ہے جب کہ حضرت عماربن یاسر کے تعلق سے اہتدا کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے ان دونوں کے درمیان فرق یہ ہے اقتداء میں اہتداء سے زیادہ عمومیت ہے بایں جہت کہ اقتداء میں قول اور فعل، دونوں کا لحاظ ہوتا ہے جب کہ اہتدا کا تعلق صرف فعل سے ہوتا ہے گویا اقتداء تو مطلق پیروی کرنے کو کہتے ہیں خواہ فعل میں ہو یا قول میں اور اہتداء فقط فعل کی پیروی کو کہتے ہیں۔ حدیث کے ان الفاظ میں نہ صرف یہ کہ حضرت عمار بن یاسر کی فضیلت و کمال کو ذکر ہے کہ ان کا کوئی بھی فعل وعمل جادہ حق سے ہٹا ہوا نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ اس سے امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کا برحق اور مبنی بر صداقت ہونا بھی ثابت ہوتا ہے، کیونکہ امیر المؤمنین حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کے درمیان جو معرکہ آرائی پیش آئی تھی اس میں حضرت عمار سیدنا حضرت علی کے ساتھ تھے۔ ام عبد کے بیٹے کے عہد میں عہد سے مراد قول اور وصیت ہے، یعنی عبداللہ ابن مسعود دینی احکام و مسائل میں جو بات کہیں اور جو تلقین و وصیت کریں اس کو پلے باندھ لو اور اس پر پوری طرح عمل کرو، چناچہ یہی وہ حکم رسول ہے جس کو حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے اپنی فقہ کی ایک مضبوط بنیاد بتایا ہے۔ استنباط مسائل میں حضرت امام اعظم، خلفاء اربعہ کے بعد تمام صحابہ میں سے سب سے زیادہ جس صحابی کی روایت اور قول کو اختیار کرتے ہیں وہ حضرت عبداللہ بن مسعود ہی ہیں جس کے کمال فقاعت اور اخلاص وصیت میں کسی کو شبہ نہیں تورپشتی نے بھی عہد کے تقریبا یہی معنی بیان کئے ہیں لیکن انہوں نے اپنے نزدیک اس بات کو اولی قرار دیا ہے کہ ام عبد کے عہد سے مراد خلافت کے بارے میں حضرت عبداللہ ابن مسعود کی رائے اور ان کا فیصلہ ہے گویا اس ارشاد رسالت کے ذریعہ امت کو ہدایت کی گئی کہ وصال نبوی کے بعد خلافت کے بارے میں عبداللہ ابن مسعود اپنی جس رائے اور جس فیصلہ کا اظہار کریں اسی سے تم سب لوگ رہنمائی حاصل کرو، چناچہ آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر کی خلافت کی حقانیت و صحت کی گواہی سب سے پہلے حضرت عبداللہ ابن مسعود ہی نے دی اور تمام اکابر صحابہ کی رائے اور مشورہ خلافت صدیق کے قیام میں شامل رہا، ان کی گواہی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ استحقاق خلافت میں ہم اس ہستی کو پیچھے کیسے رکھ سکتے ہیں جس کو رسول اللہ ﷺ نے (اپنے مرض وفات میں ہماری نماز کی امامت کے لئے) آگے کیا تھا یہ ممکن ہی نہیں کہ جس شخص کو آنحضرت ﷺ نے (امامت نماز کی صورت میں) ہمارے دینی پیشوائی کے لئے منتخب کیا تھا اس کو ہم (بصورت خلافت) اپنی دنیاوی قیادت کے لئے منتخب نہ کریں۔ اسی طرح کا مضمون سید نا علی کرم اللہ وجہہ سے بھی منقول ہے، بہرحال حدیث کے اول اقتدوا بالذین من بعد ای ابوبکر وعمر اور آخری جز تمسکوا بعہد ابن ام عبد کے درمیان جو مناسبت ہے اس کو تو تورپشتی کے اسی قول کی تائید ہوتی ہے۔ لیکن دوسری روایت میں حضرت حذیفہ نے جو الفاظ نقل کئے ہیں ان سے اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ عہد سے مراد قول اور وصیت ہے۔

6220Mishkaat-al-Masabih

عبداللہ بن مسعود کی فضیلت

وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو كنت مؤمرا من غير مشورة لأمرت عليهم ابن أم عبد رواه الترمذي وابن ماجه

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک موقعہ) پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا اگر میں مشورہ کے بغیر کسی کو امیر وحاکم بناتا تو لوگوں کا امیر وحاکم ام عبد کے بیٹے یعنی عبداللہ ابن مسعود کو بناتا۔ (ترمذی، ابن ماجہ) تشریح یعنی عبداللہ ابن مسعود ایسی صلاحیت و کمال رکھتے ہیں کہ ان کو امیر وحاکم بنانے میں کسی مشورہ اور غور وفکر کی حاجت نہیں ہے، علماء لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بات کسی خاص لشکر کا امیر و سردار بنانے کے سلسلہ میں کہی تھی یا اپنی حیات ہی میں کسی خاص معاملہ کی ذمہ داری سونپنے کے سلسلہ میں کہی تھی بہرصورت آپ کے ارشاد کا مطلب اس خلافت عامہ سے ہرگز نہیں تھا۔ جو وصال نبوی کے بعد قائم ہوئی۔ خلافت کی ایک بڑی شرط قریشی النسل ہونا تو آپ ﷺ خود بیان فرما چکے تھے اور حضرت عبداللہ ابن مسعود قریش میں سے نہیں تھے۔

6221Mishkaat-al-Masabih

چند مخصوص صحابہ کے فضائل

وعن خيثمة بن أبي سبرة قال : أتيت المدينة فسألت الله أن ييسر لي جليسا صالحا فيسر لي أبا هريرة فجلست إليه فقلت : إني سألت الله أن ييسر لي جليسا صالحا فوفقت لي فقال : من أين أنت ؟ قلت : من أهل الكوفة جئت ألتمس الخير وأطلبه . فقال : أليس فيكم سعد بن مالك مجاب الدعوة ؟ وابن مسعود صاحب طهور رسول الله صلى الله عليه و سلم ونعليه ؟ وحذيفة صاحب سر رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ وعمار الذي أجاره الله من الشيطان على لسان نبيه صلى الله عليه و سلم ؟ وسلمان صاحب الكتابين ؟ يعني الإنجيل والقرآن . رواه الترمذي

اور حضرت خیثمہ بن ابی سبرۃ (جو کبار تابعین اور ثقات میں سے ہیں) بیان کرتے ہیں کہ میں جب مدینہ آیا تو میں نے اللہ سے دعا مانگی کہ مجھ کو نیک ہمنشین میسر ہو ( یعنی مجھ کو کوئی ایسا نیک بخت مل جائے جو ہمنشین بننے کی کامل استعداد و صلاحیت رکھتا ہو اور اس کی ہمنشینی سے استفادہ کیا جاسکتا ہو) چناچہ حق تعالیٰ نے حضرت ابوہریرہ جیسی ہستی مجھ کو میسر فرمائی جن کی صحبت و ہم نشینی میں نے اختیار کی اور (بغرض استفادہ ان کی خدمت میں حاضری دینے لگا) میں نے (ایک دن ان سے) عرض کیا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تھی کہ مجھ کو نیک ہمنشین میسر ہو اور اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کرکے آپ جیسا ہمنشین مجھ کو میسر فرمایا حضرت ابوہریرہ ؓ نے پوچھا، تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ میں نے عرض کیا میں کوفہ کا رہنے والا ہوں اور (کوفہ سے چل کر) یہاں اس لئے آیا ہوں کہ (نیک وبابرکت ہمنشینی کے ذریعہ) خیر کا جو یا اور (اپنے نفس کے لئے) خیر کا طلب گار ہوں، (یہ سن کر) حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کیا تمہارے درمیان (یعنی تمہارے شہر میں) سعد بن مالک نہیں ہیں جو مستجاب الدعوات ہیں کیا تمہارے یہاں عبداللہ ابن مسعود نہیں ہیں جو رسول اللہ ﷺ (کے خادم خاص ہونے کی حیثیت سے سفرو حضر میں آپ کے ساتھی ہیں) کہ مسواک ونعلین مبارک (اور تکیہ وچھاگل وغیرہ) اپنے رکھا کرتے تھے، کیا تمہارے پاس حذیفہ نہیں ہیں (جو منافقین وغیرہ کے متعلق) رسول اللہ ﷺ کے محرم اسرار تھے، کیا تمہارے یہاں عمار جیسی ہستی نہیں ہے۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی زبان مبارک کے ذریعہ شیطان سے امن و تحفظ عطا کیا۔ اور کیا تمہارے ہاں سلمان نہیں ہیں جو دو کتابوں یعنی انجیل اور قرآن کے ماننے والے ہیں؟ (جب خیر و برکت اور علم وفضل رکھنے والی اتنی بڑی بڑی ہستیاں خود تمہارے شہر میں موجود ہیں تو محض صحبت وہمنشینی کے ذریعہ طلب خیر اور استفادہ علم کی خاطر تمہیں اپنا شہر چھوڑ کر یہاں آنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی )۔ (ترمذی) تشریح اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کرکے یہفوفقت لیکا تو ضیحی ترجمہ ہے۔ وققتاصل میں وفق سے صیغہ مجہول ہے جس کے معنی ہیں موافق ہونا سازو وار پڑنا، واضح ہو کہ مشکوٰۃ کے بعض نسخوں میں فوفقت لیسے پہلے فیسرلی کے الفاظ منقول ہیں۔ خیرکا جو یا اور میں خیر سے مراد علم وعمل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں حکمت کے لفظ سے تعبیر کیا ہے ومن یوتی الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا۔ سعد بن مالک یہ وہی سعد بن ابی وقاص ہیں جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے اور جن کا مستجاب الدعوات ہونا بھی بیان ہوا ہے اور وقاص کا اصل نام ملک تھا اور اسی وجہ سے حضرت سعد کو سعد بن ابی وقاص بھی کہا جاتا ہے اور سعد بن مالک بھی۔ حضرت عمار کے بارے میں آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے چونکہ یہ دعا جاری ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ عمار کو شیطان اور شیطان کی پیروی سے محفوظ رکھے اور یہ دعا قبول ہوئی اس لئے حضرت عمار گویا آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک کے طفیل میں شیطان اور شیطان کی ذریات سے امن و پناہ میں ہیں۔ جو دو کتابوں یعنی انجیل اور قرآن کے ماننے والے ہیں یعنی حضرت سلمان چونکہ اسلام کی روشنی تک پہنچنے سے پہلے عیسائیت کے پیرو تھے انہوں نے انجیل پڑھی اور اس پر ایمان لائے اور پھر اسلام پاتے ہی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اسلام لائے، قرآن پڑھا اور قرآن پر عمل پیرا ہوئے، اس اعتبار سے وہ دونوں کتابوں کے ماننے والے ہوئے، حضرت سلمان کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ انہوں نے ڈھائی سو سال کی طویل عمر پائی ان کا لقب سلمان الخیر تھا۔ ان کے باپ کا نام کوئی نہیں جانتا تھا اگر کوئی شخص ان سے ان کا نسب اور ان کے باپ کا نام پوچھتا تو وہ جواب دیتے انا ابن اسلام یعنی میں اسلام کا بیٹا ہوں۔

6222Mishkaat-al-Masabih

چند صحابہ کی فضیلت

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم الرجل أبو بكر نعم الرجل عمر نعم الرجل أبو عبيدة بن الجراح نعم الرجل أسيد بن حضير نعم الرجل ثابت بن قيس بن شماس نعم الرجل معاذ بن جبل نعم الرجل معاذ بن عمرو بن الجموح . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

اور حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ابوبکر بھی کیا اچھا آدمی ہے، عمر بھی کیا اچھا آدمی ہے، ابوعبیدہ بن الجراح بھی کیا اچھا آدمی ہے اسید بن حضیر بھی کیا اچھا آدمی ہے، ثابت بن قیس بن شماس بھی کیا اچھا آدمی ہے، معاذ بن جبل بھی کیا اچھا آدمی ہے، عمر وبن الجموع بھی کیا اچھا آدمی ہے۔ روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے یہ حدیث غریب ہے تشریح سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا ابوعبیدہ، سیدنا ثابت بن قیس اور سیدنا معاذ بن جبل کا ذکر پیچھے ہوچکا ہے۔ سیدنا اسید بن حضیر انصار مدینہ میں ہے سے ہیں اور قبیلہ اوس سے تعلق رکھتے ہیں۔ بیت عقبہ میں حاضر ہونے والوں اور غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں میں شامل ہیں بعد کے غزوات میں بھی شریک ہوئے صحابہ کی ایک جماعت نے ان سے احادیث کی روایت کی ہے۔ مدینہ میں ٢٠ ھ میں ان کا انتقال ہوا اور بقیع میں مدفون ہوئے۔ سیدنا عمر وبن الجموح بھی انصار مدینہ میں سے ہیں لیکن ان کا تعلق قبیلہ خزرج سے ہے، یہ بھی بیعت عقبہ میں حاضر تھے اور بدری ہیں۔ ان کا انتقال حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں ہوا۔ بہرحال حدیث میں مذکورہ تمام صحابہ کبار مہاجرین و انصار میں سے ہیں، غالباً یہ سب حضرات کسی موقع پر آنحضرت ﷺ کی مجلس مبار میں یکجا رہے ہوں گے۔ کہ آپ ﷺ نے ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ مدح وثنا سے مشرف فرمایا یا مذکورہ تعریفی الفاظ میں ان سب کو الگ الگ ذکر کا کوئی خاص سبب بیش آیا ہوگا۔

6223Mishkaat-al-Masabih

وہ تین صحابہ، جنت جن کی مشتاق ہے

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الجنة تشتاق إلى ثلاثة علي وعمار وسلمان . رواه الترمذي

اور حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ جنت میں تین آدمیوں کی (بہت) مشتاق ہے اور وہ علی عمار اور سلمان ہیں۔ (ترمذی) تشریح اس ارشاد گرامی کا اصل مقصد ان تینوں حضرت کے جنتی ہونے کو زیادہ سے زیادہ بلیغ اور زور دار انداز میں بیان کرنا ہے۔ گویا آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ یہ تینوں شخص ایسے جنتی ہیں کہ خود جنت بھی ان کی بہت مشتاق ہے اور تیار ہو کر ان کے انتظار میں ہے کہ کب یہ لوگ میرے اندر آتے ہیں اور بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ جنت کے مشتاق ہونے سے مراد اہل جنت یعنی ملائکہ اور حوروغلمان وغیرہ کا مشتاق ہونا ہے۔ نیز طیبی نے لکھا ہے کہ ان تینوں کے تئیں جنت کا مشتاق ہونا ایسا ہی ہے جیسا کہ پیچھے ایک حدیث میں حضرت سعد بن معاذ کے انتقال پر عرش کے ہلنے کا ذکر آیا ہے