وعن علي رضي الله عنه قال : استأذن عمار على النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ائذنوا له مرحبا بالطيب المطيب . رواه الترمذي
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن) عمار نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضری کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کو اندر آنے دو، پاک و پاکیزہ شخص کو خوش آمدید۔ (ترمذی)
تشریح
طیب سے تو حضرت عمار کے جوہر ذات کی پاکیزگی کی طرف اشارہ ہے اور مطیب سے ان کی اس پاکیزگی و بزرگی کی طرف اشارہ ہے جو تہذیب اخلاق وصفات کے ذریعہ ان کو حاصل ہوئی۔ اور ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ حضرت عمار کے نفس کی پاکی اور ان کے اخلاق و کردار کی پاکیزگی کو تعریف وتحسین کے نہایت بلیغ انداز میں بیان کرنے کے لئے طیب مطیب کے الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں جیسا کہ سایہ کو مبالغۃ بیان کرنے کے لئے ظل ظلیل کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔
وعن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما خير عمار بين أمرين إلا اختار أرشدهما رواه الترمذي
اور حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عمار کو جب کبھی دو کاموں میں سے کسی ایک کام کا اختیار دیا گیا تو اس نے ہمیشہ سخت ترین اور مشکل کام کو اختیار کیا۔ (ترمذی)
تشریح
مطلب یہ کہ ان دونوں میں سے جو کام طبیعت پر بہت بھاری اور نفس کے لئے دشوار ہوتا تھا اور اسی اعتبار سے زیادہ فضیلت بھی اسی کام کی ہوتی تھی تو عمار اسی کو اختیار کرتے جیسا کہ سالکان راہ قرب و ولایت کا طریقہ ہے۔ رہا آنحضرت ﷺ کا معاملہ کہ آپ ﷺ دو اختیاری کاموں میں سے اسی کام کو اختیار کرتے تھے جو سب سے آسان اور ہلکا ہوتا تھا تو اس کا مقصد امت کے لئے آسانی اور سہولت پیدا کرنا ہوتا تھا۔ ایک روایت میں یہ آیا ہے کہ عمار کو جب کبھی دو کاموں میں سے کسی ایک کام کا اختیار دیا گیا تو انہوں نے اسی کام کو اختیار کیا، جو زیادہ آسان ہوتا تھا، چونکہ ان دونوں روایتوں میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے، اس لئے علما نے لکھا ہے کہ اوپر والی روایت کا معنی تو یہ ہے کہ خود حضرت عمار کس کام کو سخت ترین اور دشوار سمجھتے تھے، چناچہ وہ جس کام کو دوسرے کام کی بہ نسبت زیادہ سخت اور دشوار سمجھتے تھے، اسی کو اختیار کرتے تھے اور اس دوسری روایت کو مبنی یہ ہے کہ ان کے علاوہ دوسرا آدمی کس کام کو زیادہ سخت اور دشوار سمجھتا تھا، یعنی دوسرا آدمی تو یہ سمجھتا تھا کہ عمار نے جس کام کو اختیار کیا ہے وہ آسان اور سہل ہے لیکن حقیت میں حضرت عمار کے نزدیک وہی کام زیادہ سخت اور دشوار ہوتا تھا۔
حضرت سعد بن معاذ کی فضیلت
وعن أنس قال : لما حملت جنازة سعد بن معاذ قال المنافقون : ما أخف جنازته وذلك لحكمه في بني قريظة فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إن الملائكة كانت تحمله . رواه الترمذي
اور حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب سعد بن معاذ کا جنازہ اٹھا کر لوگ چلے ( اور ان کو وہ جنازہ ہلکا لگا) تو منافقوں نے کہا کہ اس کا جنازہ کتنا ہلکا اس فیصلہ کی وجہ سے ہے جو اس نے بنوقریظہ کے بارے میں دیا ہے تھا۔ منافقوں کی یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کے جنازے کو فرشتے اٹھائے لئے جا رہے تھے۔ (ترمذی)
تشریح
اس فیصلہ کی وجہ سے ہے قصہ یہ ہوا تھا کہ مدینہ کے یہودیوں کے قبیلہ بنو قریظہ نے جب عزوہ خندق (ذیقعدہ ٥ ھ) کے موقع پر آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ بدعہدی اور اعتماد شکنی کا بدترین مظاہر کیا تو آنحضرت ﷺ نے اس غزوہ سے فارغ ہوتے ہی بنوقریظہ کو رخ کیا اور ان کے قلعہ کا محاصرہ کرلیا تاکہ ان کی مسلسل ریشہ دوانیوں، سازشوں اور بدعہدیوں کا ہمیشہ کے لئے فیصلہ کردیا جائے، بنوقریظہ کے یہودی نہ تو اپنے قلعہ سے باہر آکر مجاہدین اسلام کے مقابلہ کی ہمت پاتے تھے اور نہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت قبول کرنے پر آمادہ تھے۔ آخر کار جب یہ محاصرہ پچیس روز تک جاری رہا اور قلعہ کے اندر محصور یہودیوں کو کوئی راہ نجات نظر نہیں آئی تو انہوں نے آنحضرت ﷺ کے پاس پیغام بھیجا کہ ہم اپنے آپ کو اس شرط پر آپ ﷺ کے سپرد کرتے ہیں کہ سعد بن معاذ ہمارے لئے جو سزا تجویز کریں وہی سزا ہم کو دی جائے چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس کو قبول فرمالیا اور حضرت سعد بن معاذ کو حکم دیا کہ ان کے حکم میں ازراہ عدل و انصاف جو سزا ہم کو دی جائے چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس کو قبول فرما لیا اور حضرت سعد بن معاذ نے معاملہ کے تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد فیصلہ سنایا کہ بنوقریظہ کے تمام مرد قتل کردئیے جائیں ان کی عورتوں اور ان کے بچوں کے ساتھ اسیران جنگ کا سلوک کیا جائے اور ان کے اموال واملاک کو مسلمانوں میں تقسیم کردیا جائے، آنحضرت ﷺ نے اس فیصلہ پر عمل کیا اور حضرت سعد بن معاذ سے فرمایا کہ تمہارا یہ فیصلہ حق تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق ہے جو اس نے ساتوں آسمانوں کے اوپر صادر کیا۔ پس جب حضرت سعد بن معاذ کا انتقال ہوا اور ان کا جنازہ لے جایا جانے لگا تو ان منافقین نے کہ جو ہمیشہ اسلام اور اہل اسلام سے پوشیدہ دشمنی اور دشمنان دین سے خفیہ ساز باز اور ہمدری رکھتے تھے، حضرت سعد بن معاذ کے متعلق زبان اعتراض کھولنے کا موقع پایا اور ان پر طعن کیا کہ سعد یہ جنازہ اس سبب سے ہلکا پڑگیا ہے کہ انہوں نے بنوقریظہ کے بارے میں غیر منصفانہ فیصلہ دیا تھا۔ گویا ان منافقین نے حضرت سعد کی طرف ظلم کی نسبت کی اور ان کے فیصلہ کو ایک ظالمانہ فیصلہ قرار دیا، حالانکہ یہ ان منافقوں کا خبث باطن تھا جو انہوں نے اسلام اور مسلمانوں سے عناد کے تحت حضرت سعد کے نہایت موزوں اور مبنی برحقیقت فیصلہ کو ظالمانہ فیصلہ سمجھا اور ان کے جنازہ کے سبک ہونے کو مذکورہ فیصلہ سے جوڑ کر نہایت بیہودہ اور لغوبات کہی۔ ان کے جنازہ کو فرشتے اٹھائے لئے جا رہے تھے یعنی سعد کے جنازہ کا سبک وہلکا ہونا اس بات سے کوئی مناسبت ہی نہیں رکھتا جو ان جاہل منافقوں کے ذہن میں ہے اور جس کا اظہار بھی انہوں نے کیا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ سعد کے جنازہ کو اٹھا کر چلنے والوں میں فرشتے بھی شامل تھے اور چونکہ وہ جنازہ فرشتوں نے اٹھا رکھا تھا اس لئے لوگوں نے ہلکا اور سبک لگ رہا تھا۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی ہے کہ میت کا (نعش کا ہلکا وسبک ہونا بذات خوداچھی علامت ہے جب کہ اس کا بھاری لگنا کچھ اچھی علامت نہیں سمجھا جاتا۔ عارفین کا کہنا ہے کہ میت کا بھاری ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ شخص دنیا میں زیادہ رغبت وتعلق رکھتا تھا جب کہ میت کا ہلکا اور سبک ہونا دنیا سے اس کی بےرغبتی، آخرت اور مولیٰ کے تئیں اس کے کمال اشتیاق اور مقصد اعلی کی طرف اس کی روح کے جلد پرواز کرنے کو ظاہر کرتا ہے، بہرحال منافقوں نے مذکورہ بات چونکہ حضرت سعد کی حقارت وسب کی ملحوظ رکھ کر کہی تھی اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس طرح جواب دیا کہ جنازہ کے ہلکا ہونا وسبک ہونے سے حضرت سعد کی شان و حیثیت کا بڑھنا اور ان کی عظمت کا ظاہر ہونا لازم آجائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (للہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین ولکن المنافقین لایعلمون (عزت تو اللہ ہی کے لئے ہے اور اس کے رسول کے لئے اور مؤمن بندوں کے لئے لیکن منافق نہیں جانتے )
وعن عبد الله بن عمرو قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما أظلت الخضراء ولا أقلت الغبراء أصدق من أبي ذر . رواه الترمذي
اور حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے سنا ابوذر ؓ بڑھ کر سچی زبان کے آدمی نیلگوں آسمان نے سایہ کیا اور نہ غبار آلود زمین نے ان سے بڑھ کر کر سچے آدمی کو اٹھایا۔ (ترمذی)
تشریح
حضرت ابوذر غفاری ان بزرگان صحابہ میں سے ہیں جو زہد و قناعت، فقر واستغناء اور تجرد کی زند گی گزارنے کے سبب دنیا کی ہر لذت ونعمت سے اپنے کو دور رکھتے تھے۔ ان کا ذکر پیچھے اپنے موقع پر ہوچکا ہے۔ یہاں حضرت ابوذر کے ذکر میں جو حصر ہے اس سے تاکید اور مبالغہ مراد ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ علی الا طلاق سب سے بڑھ کر سچی زبان والے تھے اور کوئی بھی شخص ان سے زیادہ سچا نہیں تھا۔ یہ وضاحت اس لئے ضروری ہے کہ حضرت ابوبکر اس امت کے صدیق ہیں اور نبی کریم ﷺ کے بعد اس امت کے سب سے افضل واعلی شخص ہیں لہٰذا یہ کہنا موزوں نہیں ہوسکتا کہ حضرت ابوذر، حضرت ابوبکر صدیق سے بھی بڑھ کر سچی زبان والے تھے اور پھر خود رسول کریم ﷺ اور انبیاء (علیہم السلام) یقینی طور پر حضرت ابوذر ؓ کہیں زیادہ سچے اور ان سے کہیں بڑھ کر سچی زبان والے تھے۔
وعن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أظلت الخضراء ولا أقلت الغبراء من ذي لهجة أصدق ولا أوفى من أبي ذر شبه عيسى بن مريم يعني في الزهد . فقال عمر بن الخطاب كالحاسد : يا رسول الله أفتعرف ذلك له ؟ قال : نعم فاعرفوه له . رواه الترمذي وقال : حديث حسن غريب
حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کسی ایسے بولنے والے پر نہ تو نیلگوں آسمان نے سایہ کیا اور نہ زمین نے اس کو اٹھایا جو ابوذر ؓ زیادہ راست گو ہو اور اللہ اور اللہ کے رسول کا حق ابوذر ؓ زیادہ ادا کرنے والاہو۔ وہ ابوذر جو عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے مشابہ ہیں یعنی زہد میں۔ (ترمذی)
تشریح
اوفی کا ترجمہ بعض شارحین نے یہ کیا ہے کہ جو کلام و گفتگو کا حق ابوذر ؓ زیادہ ادا کرنے والا ہو اور کلام کا ایک حق تو یہ ہے کہ صحیح، سچی اور نیک بات کے علاوہ اور کچھ زبان پر نہ لایا جائے اور ایک حق یہ ہے کہ تلفظ کی ادائیگی، جملوں کی ساخت الفاظ کے استعمال اور مفہوم ومعنی کے اظہار میں کوئی فروگزاشت نہ ہو پس حدیث کا حصل یہ ہے کہ ابوذر اظہار حق میں ذرا بھی چشم پوشی ومداہنت نہیں کرتے ہمیشہ راست گفتاری وصاف گوئی سے کام لیتے ہیں جس بات کو حق اور سچ سمجھتے ہیں برملا کہہ دیتے ہیں چاہے وہ کیسی ہی تلخ ہو اور کسی کے لئے کتنی ہی ناگوار ہو نیز وہ اللہ اور اللہ کے رسول کے پکے مطیع و فرمانبردار ہیں، یا یہ کہ وعدہ اور عہد کو پورا کرتے ہیں اور یہ کہ اپنی بات کو بڑی وضاحت اور فصاحت کے ساتھ پیش کرتے ہیں غرضیکہ آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر کوئی شخص ابوذر کے برابر راست گو اور اپنی بات کا پورا، یا اللہ اور اللہ کے رسول کا حق ادا کرنے والا فصیح اللسان نہیں ہے۔ جو عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے مشابہ ہیں ان الفاظ میں حضرت ابوذر کے کمال زہد ودرع اور ان کے تجرد کی طرف اشارہ ہے چناچہ ان کے زہد اور دنیا سے ان کی بےتعلقی وبے رغبتی کا عالم یہ تھا کہ دنیا کی ناجائز ومباح لذتوں سے بھی اپنے آپ کو محروم رکھتے تھے، تجرد کی بےکیف زندگی پر پوری طرح قانع وصابر تھے مال جمع کرنا ان کے نزدیک حرام تھا، چاہے وہ کتنے ہی جائز ذرائع سے حاصل کیا گیا ہو اور زکوٰۃ وغیرہ کتنی ہی پابندی و احتیاط سے ادا گئی ہو۔ منقول ہے کہ ایک دن حضرت ابوذر ہاتھ میں عصا لئے ہوئے سیدنا عثمان غنی کی مجلس میں آئے تو وہاں کعب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ سیدنا عثمان غنی نے حضرت کعب سے پوچھا، کعب (تمہیں معلوم ہی ہے) عبدالرحمن بن عوف اس حال میں اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں کہ ان کے پاس مال و دولت کی فروانی تھی۔ ان کا ترکہ نہایت کثیر مقدار سونے چاندی اور دوسرے مال و اسباب پر مشتمل ہے اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے (مال و دولت کی اس قدر کثرت وفراوانی عبدالرحمن کے درجہ کمال کی راہ میں کسی نقصان کا باعث تھی یا نہیں) حضرت کعب بولے اگر عبدالرحمن اس مال و دولت میں اللہ کا حق یعنی زکوٰۃ وغیرہ ادا کرتے تھے تو پھر اس مال و دولت میں ان کے لئے کوئی نقصان اور خدشہ کی کوئی بات نہیں، حضرت ابوذر نے حضرت کعب کی جو یہ بات سنی تو اپنا عصا اٹھا کر ان کو مارا اور بولے میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اگر میں پاس اس پہاڑ (یعنی احد پہاڑ) کے برابر سونا ہو اور میں اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کروں تو اس کے باوجود کہ میرا وہ خرچ کرنا قبول کرلیا جائے میں بالکل پسند نہیں کروں گا کہ میں اس میں سے چھ اوقیہ (دوسوچالیس درہم کے برابر) بھی سونا چھوڑ جاؤں، پھر حضرت ابوذر نے حضرت عثمان غنی کو مخاطب کرکے کہا کہ میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بتاؤ تم نے بھی آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے یہ ارشاد سنا ہے؟ ابوذر نے یہ بات تین مرتبہ کہی، حضرت عثمان غنی نے جواب دیا۔ ہاں آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے میں نے بھی یہ ارشاد سنا ہے۔ بہرحال حضرت ابوذر چونکہ کامل درویش اور تارک الدنیا تھے اور زہد وفقر پر سختی سے کار بند تھے اس لئے ان کا مسلک یہ تھا روپیہ پیسہ اور مال وزر جمع کرنا، بچا کر رکھنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جو کچھ دے سب اسی کی راہ میں خرچ کردینا چاہئے۔ اس سلسلہ میں ان کے مزاج میں اتنی شدت تھی کہ دولت کے جواز میں کوئی بات سننا پسند نہیں کرتے تھے چناچہ جب حضرت کعب نے حضرت عبدالرحمن کی دولت کے جواز میں بات کہی تو حضرت ابوذر پر ان کا یہی سخت جذبہ غالب آگیا اور انہوں نے حضرت کعب پر اپنا عصا کھینچ مارا۔ لیکن جہاں تک اصل مسئلہ کا تعلق ہے تو جمہور کا مسلک یہی ہے کہ اگر زکوٰۃ وغیرہ ادا کی جاتی رہے تو مال و دولت جمع کرنے اور بچا کر رکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو رہی آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کی بات جو حضرت ابوذر نے بیان کیا تو اس سے مال و دولت کی برائی یا مال و دولت جمع کرنے کے عدم جواز کا کوئی پہلو نہیں نکلتا جیسا کہ شائد حضرت ابوذر سمجھتے تھے آنحضرت ﷺ نے تو محض اپنے جذبہ انفاق فی سبیل اللہ اور دنیاوی مال و دولت سے اپنی بےرغبتی کا اظہار فرمایا تھا نہ کہ اس دولت کے جمع کرنے اور رکھنے کے عمومی عدم جواز کا اظہار مقصود تھا جو جائز وسائل و ذرائع سے آتی ہو۔ اور جس کے حق (یعنی زکوٰۃ وغیرہ) کی ادائیگی کا اہتمام رکھا جاتاہو۔ یعنی زہد میں یہ الفاظ کسی روای کے ہیں، اصل روایت کا جزء نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ صاحب استیعاب نے ایک روایت نقل کی ہے جس میں رسول کریم ﷺ کے یہ الفاظ بیان کئے گئے ہیں۔ جو شخص حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تواضع و انکسار کے دیکھنے کی خواہش وسعادت حاصل کرنا چاہتا ہو وہ ابوذر کو دیکھ لے اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ حدیث بالا میں آنحضرت ﷺ نے ابوذر کی جس صفت میں حضرت عیسیٰ کے مشابہ فرمایا ہے وہ تواضع اور انکسار ہے۔ اس صورت میں کہا جائے گا کہ جس روای نے یعنی فی الزہد کے الفاظ میں مشاہبت کی توضیح کرنی چاہی ہے ان کے علم میں یہ حدیث نہیں تھی، جس کو صاحب استیعاب نے نقل کیا ہے اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ زہد اور تواضع کے درمیان کوئی منافات نہیں یہ دونوں صفتیں ایک ساتھ ہوسکتی ہیں بلکہ جو شخص زاہد ہوگا وہ متواضع ومنکسر المزاج بھی یقینا ہوگا۔ علاوہ ازیں یعنی فی الزہد کے الفاظ اصل کتاب یعنی مصابیح میں موجود نہیں ہیں بلکہ صاحب مشکوٰۃ کے بڑھائے ہوئے ہیں۔
علمی بزرگی رکھنے والے چار صحابہ
وعن معاذ بن جبل لما حضره الموت قال : التمسوا العلم عند أربعة : عند عويمر أبي الدرداء وعند سلمان وعند ابن مسعود وعند عبد الله بن سلام الذي كان يهوديا فأسلم فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إنه عاشر عشرة في الجنة . رواه الترمذي
اور حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ جب ان کی موت کا وقت آیا تو انہوں نے وصیت کی کہ علم چار آدمیوں سے حاصل کرو، عویمر سے جن کی کنیت ابودرداء ہے سلمان فارسی سے، عبداللہ بن مسعود سے اور عبداللہ بن سلام سے جو یہودی تھے۔ اور پھر انہوں نے اسلام قبول کیا میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ وہ ( عبداللہ بن سلام) جنت کے دس شخصوں میں سے دسواں شخص ہے۔ (ترمذی)
تشریح
علم چار آدمیوں سے حاصل کرو میں علم سے مرادیا تو عمومی طور پر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کا علم ہے یا اس علم کمال کا وہ خاص فن کہ جس سے حلال و حرام امور کی معرفت و پہچان حاصل ہوتی ہے اور یہ دوسرا احتمال زیادہ قوی اور زیادہ واضح ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد اعلمکم بالحلال والحرام معاذ بن جبل (حلال و احرام امور کا علم تم میں سے سب سے زیادہ معاذ بن جبل کو حاصل ہے) کے بموجب اسی خاص علم وفن سے حضرت معاذ بن جبل کو مناسبت تامہ بھی حاصل ہے اور اسی سے ان کی وجہ خصوصیت بھی ظاہر ہوتی ہے۔ جن کی کنیت ابودرداہ ہے ان کا اصل نام عویمر ہی تھا لیکن مشہور اپنی کنیت ابودرداء کے ساتھ تھے درداء ان کی بیٹی کا نام تھا۔ حضرت عویمر یعنی حضرت ابودرداء انصاری خزرجی ہیں، زبر دست فقیہہ، بلند پایہ عالم، بزرگ مرتبہ زاہد اور نہایت اونچے درجہ کے حکیم ودانا تھے۔ اصحاب صفہ میں سے ہیں اور آنحضرت ﷺ نے ان کے اور حضرت سلمان فارسی کے درمیان بھائی چارہ کرایا تھا۔ بعد میں انہوں نے ملک شام میں سکونت اختیار کرلی تھی اور ٣٢ ھ میں بمقام دمشق ان کا انتقال ہوا۔ اور پھر انہوں نے اسلام قبول کیا حضرت عبداللہ بن سلام پہلے یہودی تھے اور دین موسوی کے زبر دست عالم مانے جاتے تھے تورات کے علوم پر پورا عبور رکھتے تھے۔ اور اس کے رموز واشارات سے پوری طرح واقف تھے اس آسمانی کتاب میں آنحضرت ﷺ سے متعلق جتنی پیشنگوئیاں اور ہدایات تھیں ان کو پوری طرح سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ ان کو ابتداء ہی سے آنحضرت ﷺ کی بعثت کا انتظار اور آپ ﷺ کے دیدار کا اشتیاق پوری شدت کے ساتھ تھا، چناچہ جب آنحضرت ﷺ مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو پہلے ہی دن انہوں نے خدمت اقدس میں حاضری دی اور اسی وقت مشرف بہ اسلام ہوگئے۔ دس شخصوں میں سے دسواں شخص ہے ان الفاظ سے بظاہریہ مفہوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن سلام عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے، اس لئے ان الفاظ معنی یوں بیان کئے جائیں گے کہ عبداللہ بن سلام گو یا ان دس شخصوں میں سے دسویں شخص کی مانند ہیں جن کو جنت کی بشارت ہوئی اور ایک شارح نے اس جملہ کے یہ معنی لکھے ہیں کہ عبداللہ بن سلام صحابہ میں کے نو شخصوں کے بعد بہشت میں داخل ہوں گے۔ یعنی صحابہ جس ترتیب کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے اس میں دسواں نمبر عبداللہ بن سلام کا ہوگا۔ لیکن اس معنی میں یہ خرابی ہے کہ اس سے عبداللہ بن سلام کا بعض عشرہ مبشرہ سے پہلے جنت میں داخل ہونا لازم آتا ہے، بہرحال اس جملہ کے ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ عبداللہ بن سلام ان دس یہودیوں میں کے دسویں شخص ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا یا یہ معنی مراد ہیں کہ عشرہ مبشرہ کے بعد جو پہلے دس شخص جنت میں داخل ہوں گے ان میں کے دسویں شخص عبداللہ بن سلام ہیں اس طرح صحابہ جس ترتیب کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے ان میں عبداللہ بن سلام کا نمبر انیسواں ہوگا۔
حذیفہ اور ابن مسعود کی فضیلت
وعن حذيفة قال : قالوا : يا رسول الله لو استخلفت ؟ قال : إن استخلفت عليكم فعصيتموه عذبتم ولكن ما حدثكم حذيفة فصدقوه وما أقرأكم عبد الله فاقرؤوه . رواه الترمذي
اور حضرت حذیفہ بن الیمان بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن) چند صحابہ بولے کہ یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ ﷺ اپنے سامنے ہی صحابہ میں سے کسی کو اپنا خلیفہ مقرر فرما دیتے تو اچھا ہوتا (یا یہ معنی ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ! اگر آپ ﷺ خود کسی کو اپنا خلیفہ مقرر فرماتے تو وہ کون ہوتا! ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر میں کسی کو تمہارے اوپر خلیفہ مقرر کردوں اور پھر تم اس کی نافرمانی کرو تو تم عذاب میں پکڑے جاؤگے، تاہم (میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ) حذیفہ تم سے جو کچھ کہیں یا جو حدیث بیان کریں اس کو سچ جانو اور عبد بن مسعود تم کو جو کچھ پڑھائیں اس کو پڑھو۔ (ترمذی)
تشریح
آنحضرت ﷺ نے جس انداز میں جواب دیا، اس کا تعلق حکیمانہ اسلوب سے ہے آپ ﷺ نے گویا یوں فرمایا کہ یہ بات تمہارے لئے اتنی ضروری نہیں ہے کہ ابھی سے خلافت کی فکر میں لگ جاؤ اور منصب خلافت کے لئے کسی کو نامزد یا مقرر کرنے کی درخواست مجھ سے کرو۔ کیونکہ یہ تو وہ معاملہ ہے جو اللہ کے حکم سے اپنے وقت پر تمہارے سامنے بہرصورت ظاہر ہوجائے گا، بایں طور کہ تم جس اہل وموزوں شخص پر اتفاق واجماع کر لوگے وہی خلیفہ بن جائے کا۔ علاوہ ازیں، میری طرف سے منصب خلافت کے لئے کسی کی نامزدگی یا تقرری میں ایک مانع یہ بھی ہے کہ فرض کرو کہ میں نے تمہاری درخواست پر کسی کو ابھی سے خلیفہ متعین یا نامزد کردیا اور پھر میرے بعد تم نے اس خلیفہ کی نافرمانی کی یا اس کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا تو بالیقین اللہ تعالیٰ کے سخت عذاب میں پکڑے جاؤگے۔ لہٰذا تو خلافت کی فکر چھوڑو اور کتاب وسنت پر عمل پیرا اور ان کے راستہ پر مضبوطی سے گامزن رہنے کی دھن باندھو کہ یہی بات تمہارے لئے سب سے اہم اور سب سے ضروری ہے۔ حذیفہ تم سے جو کچھ کہیں یہاں خاص طور پر انہی دونوں صحابہ یعنی حضرت حذیفہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود کا ذکر اس سبب سے ہوا کہ اول تو علم و یقین میں ان کو ممتاز حیثیت اور ان کی بڑھی ہوئی فضیلت کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا دوسرے یہ کہ کسی صاحب ایمان کو جس چیز سے اجتناب و پرہیز سب سے زیادہ کرنا چاہئے وہ نفاق ہے اور جس چیز کو سب سے زیادہ ماننا اور بجا لانا چاہئے وہ احکام شریعت ہیں چناچہ پہلی چیز یعنی نفاق کا علم و ادراک رکھنے والے سب سے اہم صحابی حضرت حذیفہ تھے کہ ان کو صاحب سر رسول اللہ ﷺ کا خصوصی درجہ حاصل تھا اور منافقوں کے بارے میں جتنا کچھ وہ جانتے تھے اتنا کوئی صحابی نہیں جانتا تھا۔ دوسری چیز یعنی احکام شریعت کا بہت زیادہ علم رکھنے والے صحابی حضرت عبداللہ ابن مسعود تھے جن کے بارے میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے رضیت لامتی مارضی بہ ابن ام عبد (میری امت کے لئے ابن عبد یعنی عبداللہ بن مسعود کی پسند میری پسند ہے) نیز آپ ﷺ نے فرمایا تمسکوا بعہدابن عبد (اے مسلمانو! ابن عبد یعنی عبداللہ بن مسعود کی تلقین و نصیحت اور ان کی رائے پر پوری طرح عمل کرو) یہاں علماء نے بطور نکتہ لکھا ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں اور اسی طرح اس فصل کی پہلی حدیث میں ایک طرح سے حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کا بیان بھی ہے چناچہ روایتوں میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد جب خلیفہ کے انتخاب کا مسئلہ درپیش تھا۔ تو حضرت عبداللہ ابن مسعود نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو خلیفہ بنانے کی رائے دیتے ہوئے کہا تھا ابوبکر وہ شخص ہیں جن کو آنحضرت ﷺ نے ہماری پیشوائی (یعنی امامت نماز کے لئے) آگے کیا تھا اس لئے ہمیں اپنی دنیاوی قیادت کے لئے بھی انہی کو آگے رکھنا چاہئے۔
حضرت محمد بن مسلمہ کی فضیلت
وعنه قال : ما أحد من الناس تدركه الفتنة إلا أنا أخافها عليه إلا محمد بن مسلمة فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا تضرك الفتنة . رواه أبو داود
اور حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ جب ( دنیا بدامنی و انتشار اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف وافتراق کا) فتنہ لوگوں کو گھیرے گا تو مجھ کو خوف ہے کہ کوئی شخص اس کے اثر سے محفوظ نہ رہے گا علاوہ محمد بن مسلمہ کے چناچہ میں نے رسول کریم ﷺ کو (محمد بن سلمہ سے) یہ فرماتے سنا ہے کہ فتنہ تم کو ضرر نہ پہنچائے گا اس روایت کو ابوداؤد نے نقل کیا ہے اور اس کے بارے میں سکوت اختیار کیا ہے تاہم (نامور محدث) عبد العظیم مندری نے اس حدیث کو ثابت کیا ہے۔
تشریح
حضرت محمد بن مسلمہ انصاری خزرجی اشہلی، بلند پایہ صحابی ہیں انہوں نے مدینہ میں حضرت مصعب بن عمیر کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ تبوک کے علاوہ تمام غزوات میں شریک ہوئے ہیں اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر انہی کو مدینہ میں اپنا خلیفہ چھوڑا تھا، آنحضرت ﷺ کے حکم کے مطابق انہوں نے باہمی اختلاف و انتشار کے ہر فتنہ سے اپنا دامن بچائے رکھا، جب بھی اس طرح کا کوئی ناگوار موقع آتا تھا۔ حضرت محمد بن مسلمہ گوشہ نشین ہوجاتے تھے اور اس طرح فتنہ و فساد کے شرر وضرر سے محفوظ رہتے تھے باختلاف روایات ٤٣ ھ یا ٤٦ ھ میں واصل بحق ہوئے۔ اور اس کے بارے میں سکونت اختیار کیا ہے یعنی امام ابوداؤد نے اس حدیث کو نہ مطعون کیا ہے اور نہ اس کی تصحیح وتحسین کی ہے واضح ہو کہ جس حدیث کے بارے میں امام ابوداؤد نے سکوت اختیار کیا ہو اس کے متعلق محدثین کے اختلافی اقوال ہیں۔ بعض حضرات ایسی حدیث کو صحیح کا درجہ دیتے ہیں بعض حضرات حسن کہتے ہیں اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ وہ حدیث ضعیف ہے مگر لائق استناد ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مشکوٰۃ کے اصل نسخہ میں رواہ کے بعد جگہ خالی چھوٹی ہوئی ہے۔ اور حاشیہ پر مذکورہ بالا عبارت جزری کے حوالہ سے لکھی ہوئی ہے۔
وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه و سلم رأى في بيت الزبير مصباحا فقال : يا عائشة ماأرى أسماء إلا قد نفست ولا تسموه حتى أسميه فسماه عبد الله وحنكه بتمرة بيده . رواه الترمذي
اور حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ (ایک رات کو خلاف معمول) نبی کریم ﷺ نے زبیر کے گھر میں چراغ جلتے دیکھا تو فرمایا کہ عائشہ! میرے خیال میں اسماء کے بچہ پیدا ہوا ہے (کیونکہ ان کے ہاں ولادت قریب تھی اور اس وقت خلاف معمول چراغ کا جلنا اس بات کی علامت ہے) تم لوگ اس بچہ کا نام نہ رکھنا جب تک کہ میں نام نہ رکھوں چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس بچہ کا نام عبداللہ رکھا اور کھجور کے ذریعہ اپنے دست مبارک سے اس بچہ کو تحنیک کیا۔ (ترمذی)
تشریح
تحنیک کے معنی ہیں کچاچبا کر بچہ کے منہ میں دینا، چناچہ کھجور یا کوئی میٹھی چیز چبا کر نومولود بچہ کے منہ میں دینا یا اس کے تالوں کو لگانا مستحب ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس کے یہاں بچہ پیدا ہو تو اس کو چاہئے کہ کسی نیک و صالح شخص سے اس بچہ کا نام رکھوائے اور کھجور یا شہد اور یا کسی بھی میٹھی چیز کے ساٹھ اس کی تحنیک کرائے جس سے اس کو برکت حاصل ہو۔ حضرت زبیر بن العوام، آنحضرت ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ کے بیٹے اور حضرت ابوبکر صدیق کے داماد ہیں۔ حضرت عائشہ کی بہن حضرت اسماء ان کے نکاح میں تھیں۔ بڑی قدر منزلت رکھتے والے صحابی ہیں اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ حضرت عبداللہ، حضرت زبیر، وحضرت اسماء کے بیٹے ہیں، سرکار دوعالم ﷺ نے ان کی کینت ان کے نانا حضرت ابوبکر صدیق کی کنیت پر رکھی تھی اور ان کا نام بھی نانا ہی کے نام پر رکھا تھا، ہجرت کے بعد مدینہ میں مہاجرین کے یہاں جو لڑکے پیدا ہوئے ان میں سب سے پہلے حضرت عبداللہ بن زبیر ہی ١ ھ میں پیدا ہوئے تو حضرت ابوبکر صدیق نے ان کے کان میں اذان دی، حضرت اسماء ان کو آنحضرت ﷺ کے پاس لائیں اور آپ ﷺ کی بابرکت گود میں دیا، آنحضرت ﷺ نے کھجور منگائی اور اس کو اپنے منہ میں ڈال کر چبایا پھر اپنا مبارک لعاب دہن ان کے منہ میں ڈالا اور ان کو تحنیک کیا، اس طرح حضرت عبداللہ کے پیٹ میں جو چیز سب سے پہلے داخل ہوئی وہ آنحضرت ﷺ کا مبارک لعاب دہن تھا، اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے ان کے لئے خیر و برکت کی دعا کی فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر نہایت پاکباز اور پاک نفس انسان تھے، روزے بہت رکھتے تھے اور نمازیں بھی بہت پڑھتے تھے۔ صلہ رحمی کا بہت خیال رکھتے تھے اور ناطے داروں سے حسن سلوک میں مشہور تھے۔ نہایت بہادر اور زبردست سپہ سالار تھے، میدان جنگ میں ان کی شجاعت اور شہ سواری تمام قریش میں ضرب المثل اور وجہ افتخار تھی حق گوئی ان کا طرہ امتیاز تھا، نہایت خوش تقریر اور جہر الصوت تھے، جب بولتے تھے تو آواز پہاڑوں سے جا کر ٹکرایا کرتی تھی، ایک بہت بڑی جماعت کو ان سے روایت حدیث کا شرف حاصل ہے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے امیر معاویہ کی وفات کے بعد یزید بن معاویہ کی امارت وحکمرانی کو تسلیم نہیں کیا تھا اور امارت معاویہ کے مقرر کردہ حاکم مدینہ کے تسلط سے نکل کر مکہ مکرمہ آگئے تھے، یہاں مکہ کے شرفاء اور عمائدین کی اکثریت پہلے ہی سے یزید کے خلاف تھی، ان سب نے حضرت عبداللہ بن زبیر کے ہاتھ پر بیعت کرکے مکہ پر ان کی حکومت قائم کرادی اور یزید اپنی سخت ترین کوششوں کے باوجود اپنی پوری مدت حکومت میں مکہ پر کبھی بھی اپنا تسلط قائم نہ کر پایا، یزید کی موت کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر نے ٦٤ ھ میں باقاعدہ اپنی خلافت کا اعلان کیا اور عام لوگوں سے بیعت لی، جس کے بعد بہت جلد شام کے بعض مقامات کے سوا تمام عالم اسلام نے ان کی خلافت کو تسلیم کرلیا اور تقریبا نوسال تک حجاز عراق، یمن اور خراسان وغیرہ ممالک ان کی خلافت کے تحت رہے۔ جمادی الاول ٧٢ ھ میں دمشق (شام) کے اموی حکمران عبد الملک نے مشہور ظالم حجاج بن یوسف ثقفی کی کمانڈاری میں ایک زبردست لشکر حضرت عبداللہ بن زبیر کے خلاف مکہ پر چڑھائی کے لئے روانہ کیا۔ اس لشکر نے پہلے طائف پر قبضہ کیا اور یہاں سے حضرت عبداللہ بن زبیر کے خلاف جنگی کاروائیاں جاری کیں، جن کا سلسلہ کئی ماہ تک چلتا رہا پھر حجاج نے عبد الملک سے مزید کمک منگوائی اور زبردست جنگی تیاریوں کے ساتھ رمضان المبارک ٧٦ ھ میں بہت بڑا حملہ کرکے مکہ مکرمہ کا محاصرہ کرلیا، یہ محاصرہ بھی کئی ماہ تک جاری رہا، جس کے دوران حجاج کی فوجیں شہر مکہ اور کعبۃ اللہ پر منجنیق سے سنگ باری کرکے تباہی پھیلاتی رہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر اپنی محدود فوجی طاقت کے ساتھ حجاج کا مقابلہ بڑی بہادری اور جانبازی سے کرتے رہے، ایک ایک کر کے ان کے تمام سپاہی کام آگئے، یہاں تک کہ دنیا کا عظیم الشان بہادر و متقی انسان تن تنہا داد شجاعت دیتا ہوا اس ظالم فوج کے ہاتھوں شہید ہوا۔ حجاج نے اس مردہ شیر کا سرتن سے جدا کر کے لاش کو ایک دار پر لٹکوایا اور پھر کافی دنوں بعد اس نے لاش کو دفن کرنے کی اجازت دی۔
وعن عبد الرحمن بن أبي عميرة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال لمعاوية : اللهم اجعله هاديا مهديا واهد به . رواه الترمذي
اور حضرت عبدالرحمن بن عمیرہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے حضرت معاویہ کے حق میں یوں دعا فرمائی اے اللہ! اس کو راہ راست دکھانے والا اور راہ راست پایا ہوا بنا اور اس کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت عطا فرما۔ (ترمذی)
تشریح
اس میں شک نہیں کہ آنحضرت ﷺ کی دعا مستجاب ہے پس جس شخص کے حق میں آپ ﷺ نے یہ مستجاب دعا فرمائی ہو اس کے بارے میں کسی طرح کا شک وشبہ کرنا اور کوئی برا خیال قائم کرنا ہرگز روا نہیں ہے۔ حضرت معاویہ اموی قریشی ہیں ان کی ماں کا نام ہندہ ہے جو قریش کے ایک بڑے سردار کی بیٹی تھیں اور ان کے والد ابوسفیان ہیں جو خود قریش کے ایک بڑے سردار تھے جن لوگوں نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا ابوسفیان ان میں سے ایک ہیں۔ مسلمان ہوجانے کے بعد یہ ابوسفیان کچھ دنوں تک مؤ لفۃ القلوب میں شمار ہوئے پھر اسلام اور مسلمانوں کے جاں نثار اور وفا شعا رخادم بنے حضرت معاویہ ان صحابہ میں سے ایک ہیں جو آنحضرت ﷺ کے کاتب وحی تھے، لیکن بعض حضرات کا کہنا ہے کہ وحی کی کتابت انہوں نے مطلق نہیں کی البتہ خطوط نویسی کا کام ان کے سپرد تھا گویا آنحضرت ﷺ کے منشی تھے حضرت عمر فاروق کے دور میں شام کے حاکم مقرر ہوئے اور تقریبا بیس سال یعنی حضرت عثمان غنی کے آخر میں عہد خلافت تک اسی عہدہ پر رہے۔ پھر سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت اور معاویہ کی حکومت شام کے درمیان ٹکراؤ رہا اور باقاعدہ جنگوں تک کی نوبت آئی۔ حضرت علی کی وفات کے بعد جب سیدنا امام حسن اور امیر معاویہ کے درمیان مصالحت ہوگئی تو تمام عالم اسلام نے امیر معاویہ کو خلیفہ وقت تسلیم کیا اور تقریبا بیس سال تک تمام اسلامی دنیا کے خلیفہ و امیر رہے ماہ رجب ٦٠ ھ میں بعمر اٹھتر سال دمشق میں ان کا انتقال ہوا آخر عمر میں ان کو لقوہ ہوگیا تھا اپنے آخر زمانہ میں بڑی حسرت سے فرمایا کرتے تھے کہ کاش میں قریش کے معمولی فرد کی طرح (مکہ کے ایک مقام) ذی طویٰ میں پڑا رہتا اور اس حکومت و خلافت کی کوئی چیز نہ دیکھتا، منقول ہے کہ حضرت امیر معاویہ کے پاس آنحضرت ﷺ کے کچھ تبرکات محفوظ تھے جن میں آپ ﷺ کی ایک چادر، ایک تہبند اور ایک کرتا تھا، ان مبارک کپڑوں کے علاوہ آپ ﷺ کے کچھ موئے مبارک اور ناخن بھی تھے مرتے وقت حضرت امیر معاویہ نے وصیت کی کہ آنحضرت ﷺ کے کرتے میں مجھ کو کفنایا جائے، آپ ﷺ کی چادر میں مجھ کو لپیٹا جائے آپ ﷺ کے تہبند کو میرا ازار بنایا جائے۔ اور آپ ﷺ کے جو موئے مبارک اور ناخن ہیں ان میں سے کچھ کو میرے حلق کے گڑھے میں بھر دیا جائے اور کچھ کو میرے سجدے کی جگہوں پر باندھ دیا جائے اور پھر میرے ارحم الراحمین کے درمیان تخلیہ کردیا جائے، یعنی دفنا کر کے مجھ کو میرے اللہ کے سپرد کردیا جائے۔
وعن عقبة بن عامر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أسلم الناس وآمن عمرو بن العاص . رواه الترمذي وقا ل : هذا حديث غريب وليس إسناده بالقوي
اور حضرت عقبہ بن عامر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں نے تو اسلام قبول کیا اور عمرو بن العاص ایمان لائے اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد قوی نہیں۔
تشریح
لوگوں نے اسلام قبول کیا میں لوگوں سے مکہ اور قریش کے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے دن اس حالت میں اسلام قبول کیا اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا جب اسلام ایک فاتح طاقت کی حیثیت سے ان پر غالب آگیا تھا اور پیغمبر اسلام کے دامن عاطفت میں پناہ لینے کے علاوہ اور کوئی راستہ ان کے سامنے نہیں رہ گیا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تو پھر ان کا ایمان مضبوط اور کامل ہوا اور وہ سب مخلص مؤمن و مسلمان بن گئے ان لوگوں کے برخلاف حضرت عمرو بن العاص فتح مکہ سے ایک سال پہلے برضا ورغبت ایمان لے آئے تھے، اللہ اور اللہ کے رسول کی محبت میں اپنا پیارا وطن مکہ چھوڑ کر ہجرت کی اور مدینہ منورہ آگئے تھے پس آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان گویا یہ جتلانا ہے کہ اہل قریش میں سے جو لوگ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے، انہوں نے تو ڈر کی وجہ سے اسلام قبول کیا تھا۔ جب کہ عمر و بن العاص برضا ورغبت اور اخلاص و یقین کے ساتھ ایمان لائے تھے۔ ایک شارح نے یہ لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس موقع پر خاص طور سے عمر و بن العاص کے برضا ورغبت ایمان لانے کا ذکر اس پس منظر کی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لئے کیا جو ان کے قبول اسلام کا محرک وسبب بنا۔ ہوا یہ تھا کہ حضرت عمر وبن العاص کو مکہ اور قریش کے سرداروں نے اپنا خصوصی نمائندہ بنا کر حبش کے بادشاہ نجاشی کے پاس اس مشن پر بھیجا تھا کہ وہ ان مسلمانوں کو حبش سے مکہ واپس لائیں جو مکہ سے ہجرت کرکے حبش چلے گئے تھے اور نجاشی کی پناہ میں تھے، عمر وبن العاص نے اپنے اس مشن کے تحت جب نجاشی سے ان مسلمانوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو نجاشی نے ان کا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا اور ان سے کہا عمر و! مجھے بڑی حیرت ہے کہ محمد ﷺ تمہارے چچا کے بیٹے ہیں اور تم ان کی حقیقت سے بیخبر ہو! اللہ کی قسم، وہ اللہ کے سچے رسول ہیں عمر و ( یہ سن کر) بولے آپ ایسا کہتے ہیں؟ نجاشی نے کہا ہاں اللہ کی قسم یہ میں کہہ رہا ہوں تم میری بات کو سچ مانو، بس اسی وقت ان کے دل و دماغ میں نور ایمان کی کرن پھوٹی اور وہ اپنے مشن سے دست بردار ہو کر بار ادہ ایمان وہاں سے لوٹ پڑے کسی نے ان کو ایمان کی دعوت نہیں دی کسی نے ان کو اسلام کی طرف نہیں بلایا از خود ان کی فطرت سلیم بیدار ہوگئی اپنے آپ قبول ایمان کا جذبہ ان میں امڈ پڑا اور وہ ڈورتے بھاگتے ہوئے مدینہ چلے اور آنحضرت ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر مشرف بایمان ہوئے اور مخلص وصادق مسلمان بن گئے، آنحضرت ﷺ نے ان کی بڑی پذیرائی کی، یہاں تک کہ مسلمان ہوتے ہی ان کو ایسے لشکر کا سردار بنادیا جس میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی شامل تھے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو یہ اعزاز اور یہ فضیلت اس بنا پر عطا فرمائی کہ وہ چونکہ قبول اسلام سے پہلے آنحضرت ﷺ سے سخت عداوت رکھتے تھے اور آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے آزاروہلاکت کے بہت درپے رہتے تھے، اس لئے قبول اسلام کے بعد وہ اپنے ماضی کے تئیں نہ صرف بہت دہشت زدہ بھی تھے بلکہ مسلمانوں کے درمیان خود کو اپنی نظر میں اجنبی اجنبی سا بھی محسوس کررہے تھے لہذا آنحضرت ﷺ نے ان کو ایک دم اتنا بڑا اعزاز عطا فرمایا تاکہ ان کے دل و دماغ سے اس اجنبیت و وحشت کا اثر بھی زائل ہوجائے اور آنحضرت ﷺ کی طرف سے اپنے کو مطمئن ومامون سمجھیں نیز اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں، ایک روایت میں آیا ہے کہ عمر و بن العاص جب قبول اسلام کے ارادہ سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خود ان کی درخواست پر آنحضرت ﷺ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا یا تاکہ وہ دست مبارک پر بیعت کرکے ایمان لائیں تو معًا انہوں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، آنحضرت ﷺ نے پوچھا، عمرو! تم نے اپنا ہاتھ کیوں کھینچ لیا، عمر و بولے میں کچھ شرط کرنا چاہتا ہوں۔ آنحضور ﷺ نے پوچھا کیا شرط ہے؟ انہوں نے کہا میں اس شرط پر ایمان لاتا ہوں کہ میں نے پہلے جو گناہ کئے ہیں ان کو معاف کردیا جائے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا عمر و! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام ان تمام گناہوں کو ڈھانپ لیتا ہے جو قبول اسلام سے پہلے کئے گئے ہوں اور ہجرت ان تمام گناہوں کو ڈھانپ لیتی ہے جو اس ہجرت سے پہلے کئے گئے ہوں اوکما قال، ایک روایت میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا عمروبن العاص اور ان کے بھائی ہشام بن العاص دونوں (مخلص وصادق) مؤمن ہیں ایک حدیث میں فرمایا گیا عمر و بن العاص، قریش میں سے ہیں ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عمروبن العاص کو مخاطب کرکے فرمایا انک الرشید ( بلاشبہ تم ہدایت یافتہ ہو) اور یہ بھی آنحضرت ﷺ ہی کا ارشاد ہے کہ عمر وبن العاص اوروں سے بہتر صدقہ لے کر آئے ہیں۔ حضرت عمرو بن العاص نہایت ذکی اور ذہین اور عقلمند انسان تھے۔ تمام عرب میں ان کی دانائی اور ان کے تدبر کا لوہا مانا جاتا تھا، حضرت عمر فاروق جب کسی احمق مالدار کو دیکھتے مالدار کو دیکھتے تو کہتے سبحان اللہ جس ذات نے اس شخص کو پیدا کیا ہے اسی نے عمر و بن العاص کو بھی پیدا کیا منقول ہے کہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں حضرت عمر وبن العاص پر خوف، بےتابی اور بےقراری کا زبردست غلبہ ہوگیا تھا خشیت الہٰی کا غیر معمولی اثر ان پر نمایاں رہتا تھا ان کی یہ حالت دیکھ کر ایک دن ان کے بیٹے عبداللہ بن عمر وبولے! بابا جان، آپ کو رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہے نگاہ رسالت میں آپ کو اعتبا رواعتماد کا بلند مقام حاصل تھا، جہادوں میں آپ رسول اللہ ﷺ رہا کرتے تھے پھر آپ پر آخر اتنی گھبراہٹ اور اتنا خوف کیوں طاری ہے؟ حضرت عمرو بن العاص نے (یہ سن کر) کہا جان پدر! تم جانتے ہو میری پوری زندگی تین مرحلوں پر گزری ہے پہلے میں اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کا سخت معاند اور دشمن رہا۔ پھر اللہ نے مجھے ہدایت فرمائی اور میں مسلمان ہو کر رسول اللہ ﷺ کے فیض سے بہرہ ور ہوتا رہا۔ اور پھر میری امارت وحکمرانی کا دور آیا کہ اسلامی حکومت کی طرف سے مختلف علاقوں میں عامل وحاکم کی حیثیت سے سرفراز رہا اور اس کے سبب دنیا سے جو کچھ حصہ مجھے ملنا تھا ملا، اب میں نہیں جانتا کہ ان تینوں مرحلوں میں کس مرحلہ کے مطابق میرے ساتھ سلوک ہونا ہے اور کس طرح کا انجام میرے سامنے آنے والا ہے (اسی فکر میں ہر وقت لرزاں وترساں رہتا ہوں )۔
حضرت جابر کے والد کی فضیلت
وعن جابر قال : لقيني رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا جابر ما لي أراك منكسرا قلت يا رسول الله استشهد أبي قتل يوم أحد وترك عيالا ودينا قال أفلا أبشرك بما لقي الله به أباك قال قلت بلى يا رسول الله قال ما كلم الله أحدا قط إلا من وراء حجاب وأحيا أباك فكلمه كفاحا فقال يا عبدي تمن علي أعطك قال يا رب تحييني فأقتل فيك ثانية قال الرب عز و جل إنه قد سبق مني أنهم إليها لا يرجعون قال وأنزلت هذه الآية [ ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا ] الآية . رواه الترمذي
اور حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ سے میری ملاقات ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا جابر! کیا بات ہے کہ میں تم کو افسردہ و غمگین دیکھ رہا ہوں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے والد (حضرت عبداللہ) کو غزوہ احد میں شہید کردیا گیا اور وہ (ایک بڑا) کنبہ اور قرضہ چھوڑ گئے ہیں، گویا میری پریشانی اور افسردگی کے کئی سبب پیدا ہوگئے ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیا میں اس معاملہ کی خبر دے کر تمہیں خوش نہ کردوں جو اللہ نے تمہارے والد کے ساتھ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ﷺ! (مجھ کو خوش خبری سے ضرور نوازئیے) آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی سے کلام کیا ہے۔ حجاب کے پیچھے سے کیا ہے، مگر تمہارے والد کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا اور پھر ان سے رودبرو کلام فرمایا (یعنی اللہ تعالیٰ اور تمہارے والد کے درمیان نہ کوئی حجاب حائل تھا اور نہ کوئی دوسرا واسطہ) اور فرمایا اے میرے (خاص) بندے میرے فضل و کرم کے سہارے آرزو کر (یعنی جس چیز کی خواہش ہو مجھ سے مانگ) میں تجھ کو عطا کروں گا (یہ سن کر) تمہارے والد گویا ہوئے، میرے پروردگار! (میں بس یہ چاہتا ہوں کہ) مجھ کو زندہ کرکے دنیا میں بھیج دے تاکہ تیری راہ میں لڑتا ہوا ایک مرتبہ پھر مارا جاؤں (اور تیری رضا و خوشنودی مزید حاصل کرنے کا ایک اور وسیلہ مجھ کو مل جائے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس بارے میں یہ حقیقت محلوظ رہنی چاہئے کہ میرا یہ حکم پہلے سے نافذ ہے کہ جو مرچکے ہیں دنیا میں لوٹ کر نہیں آئیں گے اور پھر (انہی تمہارے والد اور دوسرے شہداء احد کے حق میں) یہ آیت نازل ہوئی (جس کا ترجمہ ہے) اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ہیں ان کو مردہ مت خیال کرو الخ۔ (ترمذی)
تشریح
اور تمہیں خوش نہ کردوں آنحضرت ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ دنیا کی جو پریشانی آتی ہے اور جو بھی غم پڑتا ہے وہ دیر سویر زائل ہوجاتا ہے اور آسانی کی راہ نکل ہی آتی ہے۔ تمہارے والد نے جو بڑا کنبہ چھوڑا ہے اللہ اس کے تکفل کا انتظام کرادے گا اور جو قرضہ وہ چھوڑ گئے ہیں اللہ کے فضل سے اس کی ادائیگی بھی ہوجائے گی۔ لہٰذا اس وقت جس دنیاوی غم واندوہ کا تمہیں سامنا ہے اس کا صبر وشکر کے ساتھ انگیز کرنا چاہئے اور محض اس کی وجہ سے اپنے آپ کو غمگین ودل گیر نہ رکھنا چاہئے، بلکہ تمہیں تو خوش ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ کو شہادت کا مرتبہ عظمی عطا فرمایا اور اس سعادت سے مشرف فرمایا جو مولیٰ کی رضا وقرب اور مولیٰ کے کرم کو ظاہر کرتی ہے۔ پس اس ارشاد گرامی میں ایک تو اس طرف اشارہ ہے کہ اگر اولاد سیدھی راہ پر ہو تو باپ کی فضیلت و بزرگی اس میں بھی سرایت کرتی ہے اور دوسرے اس طرف اشارہ ہے کہ باپ کو حاصل ہونے والی خوشی وسعادت پر اولاد کو بھی خوش ہونا چاہئے۔ اللہ نے جب بھی کسی سے کلام کیا یعنی تمہارے والد سے پہلے جس کسی سے بھی اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تو رودر رو کلام نہیں کیا بلکہ پردہ کے پیچھے سے کیا۔ ان الفاظ میں گویا اس طرف اشارہ ہے کہ وہ (یعنی جابر کے والد) بالخصوص ان تمام شہیدوں سے افضل ہیں جو ان سے پہلے شہید ہوئے کیونکہ ان میں سے جس کسی سے بھی اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہوگا وہ پردہ کے پیچھے سے کیا ہوگا۔ واضح ہو کر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا او من ورآء حجاب (الایۃ) یہ تو اس کا تعلق صرف اس دنیا سے ہے نہ کہ آخرت سے تمہارے والد کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کے بارے میں جب یہ فرمایا کہ بل احیاء عندہم (بلکہ وہ شہداء اپنے رب کے پاس زندہ ہیں) تو پھر حضرت جابر ؓ کے شہید والد کے متعلق آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا کیا معنی رکھتا ہے! اس کا جواب ایک شارح نے یوں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی روح کو سبز جانور کے قلب میں منتقل کیا اور پھر اس جانور کو اس روح کے ذریعہ حیات عطا کی جیسا کہ ہر شہید کے ساتھ ہوتا ہے، پس آنحضرت ﷺ نے ان کو اسی حیات عطا کئے جانے کو زندہ کیا سے تعبیر فرمایا اور ایک جواب یہ لکھا ہے کہ یہاں زندہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی روح کو اتنی قوت عطا فرمائی جس سے ان کو روبرو کلام میں دیدار الہٰی کا تحمل حاصل ہوا۔ دنیا میں لوٹ کر نہیں آئیں گے یعنی یہ تو اللہ تعالیٰ کا اٹل فیصلہ ہے کہ جو مرچکے ہیں ان کو اس دنیا میں اس طرح دوبارہ زندگی نہیں ملے گی کہ پھر وہ مدت دراز تک جیتے رہیں اور اس مدت میں نیکیاں کرتے ہیں۔ اس وضاحت کی روشنی میں یہ ارشاد گرامی اس بات کے منافی ہوگا کہ بعض مردوں کا دوبارہ اسی دنیا میں جی اٹھنا ثابت ہے جیسا کہ مثلا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ اعجاز منقول ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کچھ عرصہ کے لئے مردوں کو دوبارہ زندہ کردیتے تھے اور اس سے بھی زیادہ وضاحت یہ ہے کہ یہ حق تعالیٰ کا اٹل فیصلہ ہے کہ جو لوگ ایک مرتبہ مرچکے ہیں وہ درخواست یا آرزو کرکے اس دنیا میں دوبارہ زندہ نہیں ہوسکتے اس صورت میں شہید دجال والی روایت کے تحت بھی اس ارشاد گرامی پر کوئی اشکال لازم نہیں آئے گا، نیز سید جمال الدین نے یوں لکھا ہے کہ انہم لایرجعون (وہ دنیا میں لوٹ کر نہیں آئیں گے) میں انہم کی ضمیر کا مرجع صرف شہداء میں اور شہداء سے بھی چاہے جنگ احد کے شہداء مراد لئے جائیں یا مطلق شہداء اور یہ خاص مرجع متعین کرنے کی ضرورت اس لئے ہے کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کے واقعہ کی بنا پر اس ارشاد گرامی میں اشکال واقع نہ ہو۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی اور پوری آیت یوں ہے (وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْيَا ءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ ) 3۔ ال عمران 169) اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ہیں ان کو مردہ مت خیال کرو، بلکہ اپنے رب کے پاس (ایک ممتاز حیات کے ساتھ) زندہ ہیں، ان کو رزق بھی ملتا ہے (اور) وہ خوش ہیں اس چیز سے جو ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے عطا فرمائی اور جو لوگ ان کے پاس نہیں پہنچے ان سے پیچھے رہ گئے ہیں ان کی بھی اس حالت پر وہ خوش ہوتے ہیں کہ ان پر بھی کسی طرح کا خوف واقع ہونے والا نہیں اور نہ وہ مغموم ہوں گے۔
وعنه قال : استغفر لي رسول الله صلى الله عليه و سلم خمسا وعشرين مرة . رواه الترمذي
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے میرے لئے پچیس مرتبہ مغفرت کی دعا مانگی ہے۔ (ترمذی)
تشریح
ایک احتمال تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جابر کے حق میں مغفرت کی دعا پچیس بار ایک ہی وقت میں مانگی اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ مختلف اوقات اور مختلف مواقع پر مجموعی طور سے پچیس بار مغفرت کی دعا مانگی لیکن حضرت جابر ؓ ہی کی ایک اور روایت سے پہلے احتمال کی تائید ہوتی ہے، اس روایت کے الفاظ ہیں استغفرلی رسول اللہ ﷺ لیلۃ البعیر خمسا وعشرین۔ ( رسول کریم ﷺ نے جس رات کو میرا اونٹ خریدا میرے لئے پچیس بار مغفرت کی دعا مانگی )۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ مشہور صحابی ہیں انصار مدینہ میں سے ہیں اور سلمی ہیں، ان سے بہت زیادہ روایتیں نقل کی جاتی ہیں، غزوہ بدر میں شریک تھے اور اس کے بعد تقریبا اٹھارہ غزوات میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے شام ومصر کی مہمات میں بھی شامل تھے۔ ان سے روایت حدیث کرنے والوں کی تعداد کثیر ہے۔ اخیر عمر میں بینائی سے محروم ہوگئے تھے، ان کا انتقال مدینہ میں ٧٤ ھ میں ہوا اس وقت ان کی عمر چورانوے سال تھی۔ ایک قول کے مطابق مدینہ میں وفات پانے والے آخری صحابی یہی جابر بن عبداللہ ہیں۔
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كم من أشعث أغبر ذي طمرين لا يؤبه له لو أقسم على الله لأبره منهم البراء بن مالك رواء الترمذي والبيهقي في دلائل النبوة
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کتنے ہی لوگ ہیں جو (بظاہر تو) پراگندہ حال، خاک آلودہ بال اور دو پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہوتے ہیں ( اور اپنی اس ظاہری حالت کے سبب اس طرح حقیر سمجھے جاتے ہیں کہ) کوئی نہ ان کی پرواہ کرتا ہے اور نہ ان کی طرف ملتفت ہوتا ہے لیکن (ان کے باطن کا یہ حال ہوتا ہے کہ) اگر وہ اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ ان کو اس قسم میں سچا کرتا ہے (یعنی اگر وہ قسم کھا کر کہہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کی لاج رکھتا ہے اور ویسا ہی کرتا ہے۔ یا یہ کہ اگر وہ اپنے کسی کام کے بارے میں قسم کھا کر کہہ دیتے ہیں کہ ہم فلاں کام کر کے رہیں گے تو اللہ تعالیٰ اس کام کے ذرائع و اسباب مہیا فرما دیتا ہے اور ان کو اس کام کے کرنے کی توفیق و طاقت عطا فرما دیتے ہے) اور ایسے ہی لوگوں میں سے ایک براء بن مالک بھی ہیں اس روایت کو ترمذی نے اور دلائل النبوۃ میں بیہقی نے نقل کیا ہے۔
تشریح
حضرت براء بن مالک ؓ حضرت انس بن مالک ؓ کے حقیقی بھائی ہیں، فضلاء صحابہ میں سے ہیں عرب کے نامور دلیروں اور پہلوانوں میں شمار ہوتے ہیں احد اور اس کے بعد غزوات میں شریک ہوئے، اللہ نے اتنی شجاعت اور طاقت عطا فرمائی تھی کہ باقاعدہ مقابلہ کی صورت میں انہوں نے ایک سو دشمنوں کو تنہا موت کے گھاٹ اتارا دوسروں کے ساتھ مل کر جن دشمنوں کو انہوں نے جہنم رسید کیا ان کی تعداد اس کے علاوہ ہے جنگ یمامہ میں (بعہد خلافت صدیق) انہوں نے بےپناہ شجاعت وبہادری کا مظاہرہ کیا تھا۔ اور ٢٠ ھ میں شہید ہوئے۔
وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا إن عيبتي التي آوي إليها أهل بيتي وإن كرشي الأنصار فاعفوا عن مسيئهم واقبلوا من محسنهم . رواه الترمذي وقال هذا حديث حسن
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جان لو میرے خاص لوگ اور میرے محرم اسرار و امین کہ جن کے درمیان میں ٹھکانا حاصل کرتا ہوں میرے اہل بیت ہیں اور میرے ولی و دوست انصار ہیں۔ پس تم ان (انصار) کے خطا کاروں کی خطاؤں سے چشم پوشی کرو اور ان کے نیکو کاروں کے عذر کو قبول کرو۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔
تشریح
لفظ عیبہ کی تفصیلی و وضاحت اول میں حضرت انس ؓ کی روایت کے تحت ہوچکی ہے اس روایت میں یہ لفظ انصار کی تعریف میں نقل ہوا ہے۔ لیکن یہ اس بات کے منافی نہیں ہے کہ ان کے علاوہ بھی کسی کی تعریف میں یہ لفظ منقول ہو خصوصا اہل بیت کی تعریف میں کہ جو اس لفظ سے بہت ہی خاص مناسبت رکھتے ہیں۔
وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يبغض الأنصار أحد يؤمن بالله واليوم الآخر . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن صحيح
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ انصار سے بغض و عداوت نہیں رکھتا، اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وعن أنس وأبي طلحة قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : أقرئ قومك السلام فإنهم ما علمت أعفة صبر . رواه الترمذي
اور حضرت انس ؓ (اپنے سوتیلے باپ) حضرت ابوطلحہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا رسول کریم ﷺ نے مجھ کو فرمایا تھا کہ تم اپنی قوم کو میرا سلام پہنچا دو، کیونکہ جہاں تک مجھ کو علم ہے کہ وہ پاکباز اور صابر لوگ ہیں۔ (ترمذی )
وعن جابر أن عبدا لحاطب جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم يشكو حاطبا إليه فقال : يا رسول الله ليدخلن حاطب النار فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كذبت لا يدخلها فإنه شهد بدرا والحديبية . رواه مسلم
اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ (ایک دن) حاطب بن ابی بلتعہ کا غلام نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ ﷺ سے حاطب کی سخت شکایت کی اور بولا کہ یا رسول اللہ ﷺ! حاطب (چونکہ مجھ پر بڑی سختیاں کرتے ہیں اس لئے وہ) ضرور دوزخ میں جائیں گے، رسول اللہ ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا تو اپنی اس بات میں کہ (حاطب ضرور دوزخ میں جائیں گے) جھوٹا ہے، حاطب دوزخ میں نہیں جائیں گے کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شریک رہے ہیں۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ کہ جو لوگ جنگ بدر میں شریک ہوئے ہیں یا حدیبیہ میں آنحضرت ﷺ کے دست مبارک پر اللہ کی راہ میں جاں نثاری کی بیعت کرنے والوں میں شامل تھے ان کے بارے یہ یقین ہے یا قوی امید ہے کہ وہ دوزخ کی آگ سے محفوظ ومامون رہیں گے۔ اور حاطب بھی چونکہ بدر و حدیبیہ میں شریک تھے اس لئے ان کے بارے میں جزم و یقین کے ساتھ یہ کہنا کہ وہ دوزخ میں جائیں گے، کذب گوئی ہے، علاوہ ازیں حاطب کا صاحب ایمان ہونا خود قرآن کی اس آیت (يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَا ءَ ) 60۔ الممتحنہ 1) سے ثابت ہوتا ہے جس کے پہلے مخاطب حاطب ہی ہیں اور جو ان کی ایک بڑی غلطی پر سرزنش کے نازل ہوئی تھی، لہٰذا کسی صاحب ایمان کو یقینی طور پر دوزخی کہنا صریحا کذب گوئی اور لغوبات ہے۔
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم تلا هذه الآية : [ وإن تتولوا يستبدل قوما غيركم ثم لا يكونوا أمثالكم ] قالوا : يا رسول الله من هؤلاء الذين ذكر الله إن تولينا استبدلوا بنا ثم لا يكونوا أمثالنا ؟ فضرب على فخذ سلمان الفارسي ثم قال : هذا وقومه ولو كان الدين عند الثريا لتناوله رجال من الفرس . رواه الترمذي
اور حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے یہ آیت وان تتولوا یستبدل قوما غیرکم ثم لایکونوا امثالکم تلاوت فرمائی تو بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! وہ کون لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر ہم روگردانی کریں تو ان کو ہماری جگہ کھڑا کردیا جائے اور وہ ہماری طرح نہ ہوں؟ ( یہ سن کر) آنحضرت ﷺ نے سلمان فارسی کی ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا وہ لوگ، یہ سلمان اور اس کی قوم والے (یعنی اہل عجم اور اہل فارس) ہیں اگر دین ثریا (کی بلندی) پر بھی ہو تو ان (اہل فارس میں سے) کتنے لوگ اس کو وہاں سے بھی حاصل کرنے سے باز نہ رہتے۔ (ترمذی)
تشریح
فرس سے یا تو مطلق اہل عجم یعنی عرب مراد تھے یا وہ لوگ مراد تھے جن کی زبان فارسی تھی اور یا یہ کہ صرف وہ لوگ مراد تھے جن کا نسلی و وطنی تعلق فارس (ایران) سے تھا اور زیادہ صحیح پہلا احتمال ہے کیونکہ اس کی تائید اگلی حدیث سے ہوتی ہے۔
وعنه قال : ذكرت الأعاجم عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأنا بهم أو ببعضهم أوثق مني بكم أو ببعضكم رواه الترمذي
اور حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ (ایک موقع پر) رسول کریم ﷺ کے سامنے عجمی لوگوں کا ذکر ہوا تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں (دین کی مخالفت اور دیانتداری کے معاملہ میں) ان عجمی لوگوں یا ان میں سے بعض لوگوں پر تم (اہل عرب) سے یا تمہارے بعض لوگوں سے زیادہ اعتماد و بھروسہ رکھتا ہوں۔ (ترمذی)
تشریح
طیبی کا کہنا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی کے مخاطب عرب کے ایک خاص قبیلہ کے لوگ تھے جن کو آنحضرت ﷺ نے جہاد میں مال خرچ کرنے کا حکم دیا تھا اور انہوں نے اس حکم کی تعمیل میں سستی وکاہلی دکھائی تھی۔ بہرحال اس حدیث میں اہل عجم کی تعریف اور ان کے تئیں آنحضرت ﷺ کی شفقت و عنایت اور توجہ التفات کا اظہار ہوتا ہے۔