عن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لكل نبي سبعة نجباء رقباء وأعطيت أنا أربعة عشرة قلنا : من هم ؟ قال : أنا وابناي وجعفر وحمزة وأبو بكر وعمر ومصعب بن عمير وبلال وسلمان وعمار وعبد الله بن مسعود وأبو ذر والمقداد . رواه الترمذي
حضرت علی کرم اللہ وجہہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر نبی کو سات نہایت مخصوص و برگزیدہ ترین لوگ اور اس کی ہر حالت میں نگہبانی و حفاظت کرنے والے عطا کئے جاتے تھے لیکن مجھ کو ایسے لوگ چودہ (یعنی دوچند) عطاکئے گئے ہیں (روای کہتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ہمارے سامنے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا تو) ہم نے ان سے پوچھا کہ وہ چودہ کون کون ہیں؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جواب دیا ایک تو میں ہوں اور میرے دونوں بیٹے (حسن و حسین ؓ ہیں۔ جعفر بن ابی طالب ہیں ؓ، حمزہ بن عبد المطلب ؓ ہیں، ابوبکر ؓ ہیں، عمر ؓ، مصعب بن عمیر ؓ ہیں، سلمان ؓ ہیں، عمار ؓ ہیں، عبداللہ ابن مسعود ؓ ہیں، ابوذر ؓ ہیں اور مقداد ہی ؓ،۔ (ترمذی)
تشریح
حضرت حمزہ ؓ کے علاوہ باقی حضرات کے اجمالی احوال پیچھے بیان ہوچکے ہیں حضرت حمزہ بن عبد المطلب آنحضرت ﷺ کے چچا ہیں، ان کی کنیت ابوعمارہ تھی۔ ابولہب کی لونڈی ثوبیہ نے آنحضرت ﷺ کو بھی دودھ پلایا تھا۔ اور حضرت حمزہ ؓ کو بھی اس لئے آنحضرت ﷺ اور حمزہ دودھ شریک بھائی بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت حمزہ ؓ عمر میں آنحضرت ﷺ سے چار سال بڑے تھے، لیکن ابن عبد البر نے لکھا ہے کہ میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ جب ثوبیہ نے دونوں کو دودھ پلایا ہے تو عمروں کا یہ تفاوت کیسے ہوسکتا ہے ہاں اگر یہ مانا جائے کہ ثوبیہ نے دونوں کو الگ الگ زمانوں میں دودھ پلایا ہے تو عمروں کا تفاوت ممکن ہے۔ اور بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے حضرت حمزہ دو سال بڑے تھے۔ سیدنا حمزہ نہایت بہادر اور جری انسان تھے ان کا لقب اسد اللہ ہے۔ قدیم الاسلام ہیں ایک قول کے مطابق انہوں نے نبوت کے دوسرے سال اسلام قبول کیا تھا۔ اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت حمزہ نے ٦ نبوی میں اسلام قبول کیا جب کہ آنحضرت ﷺ دار ارقم میں قیام پذیر تھے ان کے مسلمان ہونے سے اسلام کو زبردست طاقت و شوکت حاصل ہوئی اور اللہ نے ان کے ذریعہ اپنے دین کو بہت سربلند کیا، جنگ بدر میں شریک تھے اور جنگ احد میں وحشی بن حرب کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
وعن خالد بن الوليد قال : كان بيني وبين عمار بن ياسر كلام فأغلظت له في القول فانطلق عمار يشكوني إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فجاء خالد وهو يشكوه إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : فجعل يغلظ له ولا يزيده إلا غلظة والنبي صلى الله عليه و سلم ساكت لا يتكلم فبكى عمار وقال : يا رسول الله ألا تراه ؟ فرفع النبي صلى الله عليه و سلم رأسه وقال : من عادى عمارا عاداه الله ومن أبغض عمارا أبغضه الله . قال خالد : فخرجت فما كان شيء أحب إلي من رضى عمار فلقيته بما رضي فرضي
اور حضرت خالد بن ولید ؓ کہتے ہیں کہ (ایک موقع پر کسی معاملہ میں) میرے اور عماربن یاسر کے درمیان گفتگو چل رہی تھی کہ میں نے ان کے خلاف ایک سخت بات کہہ دی۔ چناچہ عمار میری شکایت لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور نبی کریم ﷺ سے شکایت کر رہے تھے کہ ادھر سے خالد بھی آگئے۔ راوی کا بیان ہے کہ (دربار رسالت میں اپنی شکایت سن کر) خالد (کو غصہ آگیا اور وہ) عمار کو سخت سست کہنے لگے اور ان کی سخت کلامی ودرشت گوئی میں اضافہ ہوتا رہا، اس وقت نبی کریم ﷺ چپ چاپ بیٹھے سن رہے تھے، ایک حرف زبان سے نہ فرماتے تھے (یہ صورت حال دیکھ کر کہ خالد کی سخت گوئی بڑھتی جارہی ہے اور آنحضرت ﷺ خاموش بیٹھے ہیں) عمار (مارے غصہ کے صبر کا دامن چھوڑ بیٹھے اور بےاختیار) رونے لگے اور (بلکتے ہوئے) بولے یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ﷺ دیکھ نہیں رہے (کہ خالد کیا کر رہے ہیں اور آپ کے سامنے مجھ کو کیا کیا کہہ رہے ہیں؟ ) نبی کریم ﷺ نے (یہ سن کر) اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا جو شخص عمار سے (زبان کی) دشمنی رکھے گا، اس کو اللہ دشمن رکھے گا اور جو شخص عمار سے (دل کا) بغض رکھے گا اللہ اس سے بغض رکھے گا حضرت خالد کہتے کہ (آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی سنتے ہی ہوش ٹھکانے آگئے اور میں نے یہ طے کر کے آپ کی مجلس سے) باہر آیا (کہ جس طرح بھی ہوگا عمار کو خوش اور راضی کروں گا) اور اس وقت کوئی چیز میری نظر میں عمار کے راضی وخوش ہوجانے سے زیادہ پسندیدہ اور بہتر نہیں تھی پھر یہ ہوا کہ میں نے عمار کو راضی وخوش کرنے کے لئے ان کے ساتھ ایسا سلوک اور ایسا رویہ اختیار کیا کہ وہ مجھ سے راضی وخوش ہوگئے (یعنی میں نے ان سے معافی کی تلافی کی، ان کے گلے لگا، ان کے ساتھ تواضع و انکساری سے پیش آنے لگا اور ان کو تحفے تحائف بھیجے اور ان سب باتوں نے ان کی ناراضگی اور ان کے غصہ کو زائل کردیا اور وہ مجھ سے بالکل خوش ہوگئے )۔
تشریح
خالد بھی آگئے یہ الفاظ اس راوی کے ہیں جس نے حضرت خالد سے اس روایت کو نقل کیا ہے اور فجاء خالد سے پہلے قال کا لفظ محذوف ہے، اس کی تائید آگے عبارت میں قال خالد فخرجت کے الفاظ سے بھی ہوتی ہے۔ تاہم ایک شارح کے مطابق یہ احتمال بھی ہے کہ یہ الفاظ خود حضرت خالد کے ہوں اور بیان حال میں یہاں انہوں نے اسلوب بدل دیا ہو۔
وعن أبي عبيدة أنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : خالد سيف من سيوف الله عز و جل ونعم فتى العشيرة . رواهما أحمد
اور حضرت ابوعبیدہ ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا خالد، اللہ بزرگ و برتر کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے، وہ اپنے قبیلہ (بنی مخزوم) کا (جو قریش کی ایک شاخ ہے) بہترین جوان ہے، ان دونوں روایتوں کو احمد نے نقل کیا ہے۔
تشریح
اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار یعنی خالد ایک ایسی تلوار کی طرح ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے خلاف نیام سے باہر نکالا ہو اور کفار کے سروں پر مسلط کیا ہو یا یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خالد کو صاحب شمشیر بنایا ہے۔ بہر صورت ان الفاظ کے ذریعہ حضرت خالد کی شجاعت وبہادری کی تعریف کی گئی ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں دشمنان دین سے خوب لڑے ہیں۔
وعن بريدة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تبارك وتعالى أمرني بحب أربعة وأخبرني أنه يحبهم . قيل يا رسول الله سمهم لنا قال : علي منهم يقول ذلك ثلاثا وأبو ذر والمقداد وسلمان أمرني بحبهم وأخبرني أنه يحبهم . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب
اور حضرت بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ کو چار آدمیوں سے (علی الخصوص) محبت رکھنے کا حکم دیا اور یہ بتایا کہ وہ (اللہ سبحانہ وتعالیٰ ) بھی ان چاروں سے محبت رکھتا ہے (یہ ارشاد سن کر) صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہمیں بھی ان چاروں کے نام بتادیجئے (تاکہ ہم بھی ان سے اس بناء پر محبت رکھیں کہ اللہ اور اللہ کا رسول ان سے محبت رکھتا ہے) آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان میں سے ایک تو علی ہیں، یہ الفاظ آپ نے تین مرتبہ فرمائے (تاکہ لوگ جان لیں کہ ان چاروں میں سے سب سے افضل علی ہیں یا اس طرف اشارہ کرنے کے لئے یہ الفاظ تین بار فرمائے کہ جتنی محبت مجموعی طور پر باقی تینوں سے رکھی جائے اتنی تنہا علی سے رکھنی چاہئے) ایک ابوذر ہیں ایک مقداد ہیں اور ایک سلمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں ان چاروں سے محبت رکھوں اور یہ بتایا کہ وہ بھی ان چاروں سے محبت رکھتا ہے اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب حسن ہے۔
وعن جابر قا ل : كان عمر يقول : أبو بكر سيدنا وأعتق سيدنا يعني بلالا . رواه البخاري
اور حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق ؓ فرمایا کرتے تھے، ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور انہوں نے ہمارے سردار کو آزاد کیا ہے یعنی بلال کو۔ (بخاری)
تشریح
حضرت عمر فاروق ؓ کا حضرت بلال ؓ کو سردار کہنا ان کی کسرنفسی تھا ورنہ حقیقت میں حضرت عمر ؓ ان سے افضل ہیں اور اس پر تمام امت کا اجماع ہے بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ان الفاظ سے حضرت عمر ؓ کی مراد اس طرف اشارہ کرنا تھا کہ بلال بھی اہل اسلام کے سرداروں میں سے ایک سردار ہیں اور بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ سیادت (سرداری) افضلیت کو مستلزم نہیں، اس لئے حضرت عمر ؓ کے ان الفاظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت بلال ؓ حضرت عمر فاروق ؓ سے افضل ہوں اور شارح نے یوں لکھا ہے کہ ایک تو یہ کہ ضمیر متکلم مع الغیر، ضروری نہیں کہ ہر حال میں سب کو شامل ہو بلکہ اکثر کے اعتبار سے بھی اس کا مدعا و مرجع پورا ہوجاتا ہے، دوسرے یہ کہ سیدنا میں نا کی ضمیر سے صحابہ کی طرف اشارہ ہے پس پہلے سیدنا میں تو نا کی ضمیر مع الغیر سب صحابہ کو شامل ہے اور دوسرے سیدنا میں نا کی ضمیر اکثر صحابہ کو شامل ہے نیز اس سیدنا میں جو اضافت سے وہ تخصیص کے لئے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ حضرت عمر ؓ نے گویا فرمایا اور انہوں نے یعنی ہم سب کو سردار ابوبکر ؓ نے اس شخص یعنی بلال ؓ کو آزاد کیا جو ہم میں سے اکثر صحابہ کا سردار ہے۔
وعن قيس بن أبي حازم أن بلالا قال لأبي بكر : إن كنت إنما اشتريتني لنفسك فأمسكني وإن كنت إنما اشتريتني لله فدعني وعمل الله . رواه البخاري
اور حضرت قیس بن ابی حازم (تابعی) سے روایت ہے کہ حضرت بلال ؓ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کہا تھا کہ اگر آپ نے اپنی ذاتی خوشی کے لئے مجھ کو خریدا تھا تو مجھ کو اپنے پاس رکھ لیجئے ( اور جس خدمت پر چاہیں مامور کردیجئے) لیکن اگر آپ نے محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے خریدا تھا تو پھر مجھ کو اللہ کے کام کے لئے آزاد چھوڑ دیجئے۔ (بخاری)
تشریح
حضرت ابوبکر ؓ سے حضرت بلال ؓ کی اس گفتگو کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت بلال ؓ پہلے ایک غلام تھے اور دشمنان دین کے چنگل میں پھنسے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ایک بڑی رقم خرچ کر کے ان کو خریدا اور آزاد کردیا، اس کے بعد وہ نبی کریم ﷺ کے خصوصی خادموں میں شامل ہوئے اور آنحضرت ﷺ نے ان کو اذان دینے کی خدمت پر مامور کردیا اور وصال نبی تک حضرت بلال ؓ یہ خدمت انجام دیتے رہے۔ جب آنحضرت ﷺ کا وصال ہوا تو عشق نبوی سے سرشار حضرت بلال ؓ کے لئے مدینہ کا قیام ایک بڑی آزمائش بن گیا۔ اس تصور ہی سے ان کا پیمانہ صبر چھلک جاتا تھا کہ آنحضرت ﷺ موجود نہ ہوں اور وہ مسجد نبوی کی طرف دیکھیں اور اس میں جا کر اذان دیں، چناچہ انہوں نے ملک شام چلے جانا کا ارادہ کرلیا، حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو یہ معلوم ہوا تو انہوں نے حضرت بلال ؓ کو روکنا چاہا اور ان سے درخواست کی کہ آپ یہیں میرے پاس رہیں اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ کی طرف مسجد نبوی میں اذان دیتے رہے، اس وقت حضرت بلال ؓ نے یہ بات کہی کہ اگر آپ نے مجھ کو اس لئے خریدا تھا کہ میں آپ کی خوشی اور آپ کی خواہش کی تکمیل کرتا رہوں تو میں آپ کی بات ماننے پر مجبور ہوں جو بھی خدمت آپ میرے سپرد کریں گے اس کو انجام دینا اپنا فرض سمجھوں گا لیکن اگر آپ نے مجھ کو اس مقصد کے نہیں خریدا تھا بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کی خاطر خریدا اور آزاد کیا تو پھر میں چاہوں گا کہ آپ مجھ کو اپنا پابند نہ بنائیں، مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجئے کہ میں جہاں چاہوں چلا جاؤں اور مخلوق سے کوئی سروکار نہ رکھتے ہوئے اپنے خالق کے کاموں میں ہمہ تن اور ہمہ مصروف رہوں۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت بلال نے یہ بھی کہا تھا کہ مجھ کو گوارا نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بغیر اس طرف نظر اٹھاؤں جہاں آنحضرت ﷺ رہا کرتے تھے آپ ﷺ کے بغیر اب یہاں رہنا میرے لئے ناممکن ہے۔ چہ مشکل ترا زین بر عاشق زار کے بےدلدار بیند جائے دلدار اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت بلال ؓ کو مدینہ میں روکنے کی کوشش نہیں کی اور وہ اس لشکر میں شامل ہو کر سوئے دمشق روانہ ہوگئے جو شام جارہا تھا، پھر آخر عمر تک وہیں قیام پذیر رہے یہاں تک کہ ١٨ ھ یا ایک روایت کے مطابق ٢٠ ھ میں واصل بحق ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ روایت کے بالکل بےبنیاد ہے جس میں حضرت بلال ؓ کے شام جانے اور پھر وہاں خواب میں آنحضرت ﷺ کو دیکھ کر مدینہ لوٹ آنے اور مسجد نبوی میں اذان دینے اور اتنے دنوں بعد ان کی آذان سن کر مدینہ اور اہل مدینہ کے لرز جانے کا ذکر ہے۔
وعن أبي هريرة قال جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال إني مجهود فأرسل إلى بعض نسائه فقالت والذي بعثك بالحق ما عندي إلا ماء ثم أرسل إلى أخرى فقالت مثل ذلك وقلن كلهن مثل ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يضيفه ويرحمه الله فقام رجل من الأنصار يقال له أبو طلحة فقال أنا يا رسول الله فانطلق به إلى رحله فقال لامرأته هل عندك شيء قالت لا إلا قوت صبياني قال فعلليهم بشيء ونوميهم فإذا دخل ضيفنا فأريه أنا نأكل فإذا أهوى ليأكل فقومي إلى السراج كي تصلحيه فأطفئيه ففعلت فقعدوا وأكل الضيف فلما أصبح غدا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقد عجب الله أو ضحك الله من فلان وفلانة وفي رواية مثله ولم يسم أبا طلحة وفي آخرها فأنزل الله تعالى [ ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة ] متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں (ایک دن) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور بولا کہ میں نہایت پریشان حال اور تکلیف ومشقت میں گرفتار ہون (یعنی فقر و افلاس نے مجھ کو گھیر رکھا ہے اور بھوک سے پریشان حال ہو کر اس امید پر یہاں آیاں ہوں کہ آپ ﷺ کھانے کو کچھ عطا فرمائیں گے (یہ سن کر) آنحضرت ﷺ نے کسی آدمی کو اپنی بیوی کے پاس بھیجا (اور کہلایا کہ اگر گھر میں کچھ موجود ہو تو اس مصیبت زدہ شخص کے لئے بھیج دیں) انہوں نے جواب میں بھیجا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میرے پاس ایک پانی کے سوا (کھانے پینے کی) اور کوئی چیز موجود نہیں ہے پھر آپ ﷺ نے ایک دوسری بیوی کے پاس آدمی بھیجا اور انہوں نے بھی وہی جواب بھجوایا جو پہلی بیوی نے بھیجا تھا اور اس طرح (آپ ﷺ نے ایک ایک کرکے اپنی تمام بیویوں کے پاس آدمی بھیجے اور) سب بیویوں کے ہاں ایسا ہی جواب آیا، تب رسول کریم ﷺ نے (حاضرین مجلس کو مخاطب کر کے) فرمایا کہ جو شخص اس آدمی کو مہمان بنائے گا اس پر اللہ تعالیٰ اپنی (خاص) رحمت نازل فرمائے گا، (یہ سنتے ہی) انصار میں کے ایک شخص کو جن کو۔۔۔۔۔ ابوطلحہ کہا جاتا تھا، کھڑے ہوئے اور بولے کہ یا رسول اللہ ﷺ! اس آدمی کو میں اپنا مہمان بناؤں گا اور پھر ابوطلحہ ؓ اس شخص کو ساتھ لے کر اپنے گھر چلے گئے (گھر پہنچ کر) انہوں نے اپنی بیوی (ام سلمہ) سے دریافت کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ ان کی بیوی بولیں بس اتنا ہے کہ جو بچوں کی ضرورت کو ایک حد تک پورا کردے۔ حضرت ابوطلحہ ؓ نے کہا بچوں کو کسی طرح بہلا پھسلا کر سلائے رکھنا۔ اور جب ہمارا مہمان کھانے کے لئے گھر میں آئے ( اور دسترخوان پر بیٹھے) تو ایسا ظاہر کرنا کہ گویا ہم بھی اس کے ساتھ (اسی کھانے میں) کھا رہے ہیں اور جوں ہی ہمارا مہمان لقمہ اٹھانے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھائے تو تم یہ ظاہر کرکے کہ جیسے چراغ کی بتی کو ٹھیک کرنے اور اس کی روشنی بڑھانے کا ارادہ ہے چراغ کی طرف جانا ( اور آہستہ سے پھونک مار کر یا کسی اور طرح سے) چراغ گل کردینا۔ (تاکہ اندھیرا ہوجائے اور مہمان پر یہ ظاہر نہ ہو کہ ہم کھانا نہیں کھا رہے ہیں) چناچہ ان کی بیوی نے ایسا ہی کیا اور یہ ہوا (کہ دسترخوان پر) بیٹھے تو وہ تینوں (یعنی ابوطلحہ ان کی بیوی اور مہمان) لیکن کھانا صرف مہمان نے کھایا، ان دونوں میاں بیوی نے بھوکے رات گزاری، پھر جب صبح ہوئی اور ابوطلحہ ؓ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آنحضرت ﷺ کو (چونکہ بذریعہ کشف یا بذریعہ وحی یہ سارا قصہ معلوم ہوچکا تھا اس لئے آپ ﷺ نے فرمایا! فلاں مرد (یعنی ابوطلحہ) اور فلاں عورت (یعنی ابوطلحہ کی بیوی ام سلیم) کا یہ کام اللہ تعالیٰ کو بہت پسند لگا یا یہ فرمایا کہ (ان دونوں کے) اس کام پر اللہ تعالیٰ کو ہنسی آگئی (مراد یہ کہ اللہ تعالیٰ اس عمل پر ان دونوں سے بہت خوش ہوا) ابوہریرہ ہی کی ایک دوسری روایت میں ( جو لفظ ومعنا اسی روایت کی طرح ہے) ابوطلحہ کے نام کا ذکر نہیں ہے (یعنی اس میں یقال لہ ابوطلحہ کے الفاظ نہیں ہے) نیز اس روایت کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اسی واقعہ کے بعد یہ آیت نازل ہوئی (وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰ ي اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ) 69۔ الحشر 9) یعنی اور وہ لوگ جو اپنے آپ پر دوسروں کو (یعنی اپنے مہمانوں کو یا کسی بھی حاجب مند کو) ترجیح دیتے ہیں اگر وہ خود حاجت مند اور بھوکے ہوں الخ۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
سب بیویوں کے ہاں سے ایسا ہی جواب آیا بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ فتح خیبر اور غنائم و اموال کی آمد شروع ہوجانے سے پہلے کا ہے، جب کہ آنحضرت ﷺ اور تمام ازواج مطہرات کا بہت ہی تنگی ترشی کے ساتھ گزارا ہوتا تھا اور زیادہ تر بےسروسامانی کی حالت رہا کرتی تھی جو بچوں کی ضرورت کو ایک حد پورا کردے مطلب یہ کہ اس وقت گھر میں کھانے کی قسم سے جو کچھ ہے وہ بس اس قلیل مقدار کی صورت میں ہے جو چھوٹے بچوں کے لئے اس ضرورت سے اٹھا کر رکھ دیا گیا ہے کہ رات یا دن میں ان کو بار بار بھوک لگتی ہے اور وہ کسی وقت بھی کھانا مانگنے لگتے ہیں یہ وضاحت اس لئے ضروری ہے کہ وہ کھانا بچوں کو اسی وقت کے کھانے کے لئے ہوتا تو پھر مہمان کو نہیں کھلا سکتے تھے، کیونکہ بچوں کو بھوکا رکھ کر مہمان کو کھلانا جائز نہیں ہے،۔ کسی طرح بہلا پھسلا کر سلائے رکھنا یعنی بچے اگر جاگ رہے ہوں تو ان کو بہلا پھسلا کر جلدی سے سلا دو یہ کہ بچے اگر سو رہے ہوں تو کوشش کرنا کہ وہ جاگنے نہ پائیں تاکہ مہمان کو کھاتے دیکھ کر اس کھانے میں سے کچھ مانگنے نہ لگیں جیسا کہ چھوٹے بچوں کی عادت ہوتی ہے، گویا ہم بھی اس کے ساتھ کھا رہے ہیں حضرت ابوطلحہ نے یہ بات اس لئے کہی کہ کھانا اتنی مقدار میں تو تھا نہیں کہ مہمان کے ساتھ وہ دونوں بھی کھا سکتے، ادھر اگر وہ دونوں مہمان کے ساتھ کھانے پر بیٹھتے تو مہمان کو کھانے میں تکلف ہوتا، کیونکہ مہمان اگر دیکھتا ہے کہ صاحب خانہ اس کے ساتھ کھانے میں شریک نہیں ہے، تو وہ کھاتے ہوئے جھجک محسوس کرتا اور اس کو خلجان ہوتا ہے کہ کہیں کھانے کی کمی کی وجہ سے تو صاحب خانہ میرے ساتھ نہیں کھارہا ہے، واضح رہے کہ یہ واقعہ غالباً پردہ کا حکم نافذ ہونے سے پہلے کا ہے اسی لئے حضرت ابوطلحہ کو اپنے مہمان کو گھر میں لانے اور بیوی کے سامنے کرنے میں کوئی تکلف نہیں ہوا۔
وعنه قال : نزلنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم منزلا فجعل الناس يمرون فيقول رسول الله صلى الله عليه و سلم من هذأ يا أبا هريرة ؟ فأقول : فلان . فيقول : نعم عبد الله هذا ويقول : من هذا ؟ فأقول : فلان . فيقول : بئس عبد الله هذا حتى مر خالد بن الوليد فقال : من هذا ؟ فقلت : خالد بن الوليد . فقال : نعم عبد الله خالد بن الوليد سيف من سيوف الله رواه الترمذي
اور حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ (ایک سفر کے دوران) ہم لوگوں نے رسول کریم ﷺ کے ساتھ ایک مقام پر پڑاؤ کیا تو اس وقت (جب کہ رسول کریم ﷺ اپنے خیمہ کے اندر آرام فرما رہے تھے اور میں خیمہ کے باہر تھا) لوگ (آنحضرت ﷺ کے خیمہ کے سامنے سے) ادھر ادھر آنے جانے لگے، چناچہ رسول کریم ﷺ (جب خیمہ کے باہر کسی شخص کے گزرنے کی آہٹ پاتے تو) پوچھتے، ابوہریرہ! گزرنے والا کون شخص ہے اور میں آپ ﷺ کو بتاتا کہ فلاں شخص ہے، پھر آپ ﷺ (اس شخص کا نام سن کر) فرماتے کہ یہ اللہ کا اچھا بندہ ہے۔ یا (کسی شخص کے بارے میں) آپ ﷺ پوچھتے کہ یہ کون شخص؟ ہے اور میں بتاتا کہ فلاں شخص ہے تو آپ ﷺ (اس شخص کا نام سن کر) فرماتے یہ اللہ کا برا بندہ ہے۔ (یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا) یہاں تک کہ جب خالد بن ولید گزرے اور آپ ﷺ نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے تو میں نے بتایا کہ خالد بن ولید ہیں آپ ﷺ نے ان کا نام سن کر) فرمایا خالد بن ولید اللہ کا اچھا بندہ ہے، اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ (ترمذی)
تشریح
یہ اللہ کا برا بندہ یہ آپ ﷺ کسی ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہوں گے جس کا منافق ہونا آپ ﷺ کے علم میں ہوگا، ورنہ کسی مؤمن کے بارے میں تو اس طرح فرمانا آپ ﷺ کی شان سے بعید معلوم ہوتا ہے اور نہ کہیں یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے کسی بھی مؤمن کے بارے میں اس طرح کے الفاظ فرمائے ہوں خواہ کوئی برے ہی راستہ پر آپ ﷺ کو کیوں نہ نظر آیا ہو۔ علاوہ ازیں اس وقت کے اہل ایمان میں اس طرح کے برے لوگ تھے بھی نہیں کہ آپ ﷺ کسی کے حق میں ایسی بات فرماتے اور اگر کوئی ایسا رہا بھی ہوتا توشاذ ونادر رہا ہوگا۔
انصار کے ساتھ شفقت وعنایت
وعن زيد بن أرقم قال : قالت الأنصار : يا نبي الله لكل نبي أتباع وإنا قد اتبعناك فادع الله أن يجعل أتباعنا منا فدعا به رواه البخاري
اور زیدابن ارقم کہتے ہیں کہ (ایک موقع پر) انصار نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! جس طرح ہر نبی کے کچھ تابعدار تھے اسی طرح آپ ﷺ کے (سچے وپ کے) تابعدار ہم لوگ ہیں، آپ ﷺ دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے تابعداروں کو بھی ہم میں سے کردے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کے لئے دعا کردی۔ (بخاری)
تشریح
یعنی ہمارے اخلاف وموالی کا بھی ہمارے ہی زمرہ میں شمار ہو بایں طور کہ ان کو بھی انصار کہا جائے تاکہ آپ ﷺ نے ہمارے ساتھ احسان اور اچھے سلوک کی جو تلقین و وصیت عام مسلمانوں کو کی ہے اس میں ہمارے وہ اخلاف وموالی بھی شامل رہیں جیسے آپ ﷺ نے عام مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اوصیکم بالانصار یعنی (اے مسلمانو! ) میں تم کو انصار کے تئیں اچھے سلوک اور احسان و اکرام کا برتاؤ کرنے کی) تلقین و وصیت کرتا ہوں یا آپ نے فرمایا ان (انصار) کے نیکوکاروں کی معذرت قبول کرو اور ان کے بدکاروں سے چشم پوشی کرو۔ غرض کہ جو بھی مناقب و فضائل آپ ﷺ نے ہمارے حق میں ارشاد فرمائے ہیں اور اپنی جن خصوصی عنایتوں مہربانیوں اور عزت افزائیوں سے ہمیں نوازا ہے ان کے فضل وشرف اور ان کی برکات کے تحت ہمارے اخلاف وموالی بھی آجائیں یا انصار کا یہ مطلب تھا کہ آپ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے تابعداروں یعنی ہمارے اخلاف وموالی اور ہماری اولاد کو ہمارا واقعی تابعدار اور سچا پیرو کار بنادے بایں طور کہ جس نیک اور سیدھے راستہ پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں گامزن کیا ہے اسی پر وہ چلیں اور ہماری روش و سیرت اور ہمارے طور طریقوں کی پیروی کریں۔
وعن قتادة قال ما نعلم حيا من أحياء العرب أكثر شهيدا أعز يوم القيامة من الأنصار . قال : وقال أنس : قتل منهم يوم أحد سبعون ويوم بئر معونة سبعون ويوم اليمامة على عهد أبي بكر سبعون . رواه البخاري
اور حضرت قتادہ (تابعی) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا قبائل عرب میں سے کسی قبیلہ یا قوم کے بارے میں ہمیں یہ علم نہیں کہ اس کے شہیدوں کی تعداد انصار کے شہیدوں سے زیادہ ہو اور قیامت کے دن انصار سے زیادہ باعزت مانے جائیں حضرت انس کا بیان ہے کہ احد کی جنگ میں ستر انصار شہید ہوئے، بیر معونہ میں ستر انصار (جوقراء تھے) شہید ہوئے اور یمامہ کی جنگ میں جو حضرت ابوبکر کے عہد خلافت میں (مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی) ستر انصار شہید ہوئے۔ (بخاری)
تشریح
انصار سے زیادہ وہ باعزت مانے جائیں مطلب یہ کہ جس قبیلہ کے شہیدوں کی تعداد زیادہ عزت ملے گی لہٰذا ہمارے علم کے مطابق انصار ہی چونکہ ایک ایسا قبیلہ اور ایسی قوم ہے جس کے افراد نے اللہ کی راہ میں سب سے زیادہ اپنی جانیں قربان کی ہیں اور اس اعتبار سے ان کے شہیدوں کی تعداد الگ الگ سب قبیلوں اور قوموں کے شہیدوں سے زیادہ ہے اس لئے قیامت کے دن وہ عزت کہ جو اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کے لئے اللہ کے ہاں مقرر ہے سب سے زیادہ انصار ہی کو ملے گا۔ احد کی جنگ میں ستر انصار شہید ہوئے یہاں مراد یہ ہے کہ جنگ احد میں جو ستر اہل ایمان شہید ہوئے تھے ان میں چند کو چھوڑ کر سب ہی انصار تھے، یہ وضاحت اس لئے ضروری ہے کہ حدیث وتاریح اور سیر کی مستند روایتوں کی مطابق جنگ احد میں کل ستر مسلمان شہید ہوئے تھے جن میں سے چونسٹھ انصار میں سے تھے اور چھ مہاجرین میں سے۔
وعن قيس بن حازم قال : كان عطاء البدريين خمسة آلاف . وقال عمر : لأفضلنهم على من بعدهم . رواه البخاري
اور حضرت قیس بن ابی حازم (رح) (تابعی) کہتے ہیں کہ جو لوگ جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے ان میں سے ہر ہر شخص کا وظیفہ پانچ پانچ ہزار درہم تھا جو بیت المال سے ادا کیا جاتا تھا اور حضرت عمر نے فرمایا تھا میں جنگ بدر میں شریک ہونے والوں کو (مرتبہ میں) دوسرے تمام لوگوں پر ترجیح دیتا ہوں۔ (بخاری)
تشریح
جنگ بدر میں شریک ہونے والے ہر صحابی کے لئے حضرت ابوبکر کے عہد خلافت میں بیت المال سے پانچ ہزار درہم سالانہ کا وظیفہ مقرر ہوا تھا جو مقدار میں دوسرے تمام لوگوں کے وظائف سے زیادہ تھا، حضرت عمر فاروق نے اپنے عہد خلافت میں وظائف کے جو منضبط درجات قائم کئے اس میں بھی چند مخصوص لوگوں (جیسے حضرت عباس اور ازواج مطہرات) کو چھوڑ کر تمام درجات کے وظائف کی تعداد اصحاب بدر کے وظائف کی تعداد سے کم ہی رکھی اور اس طرح حضرت عمر فاروق نے بھی نہ صرف یہ کہ عملی طور پر اصحاب بدر ہی کا درجہ ورتبہ دوسرے تمام لوگوں سے بلندو برتر رکھا بلکہ مذکورہ بالا الفاظ کے ذریعہ گویا وضاحت بھی کردی کہ اگرچہ آنحضرت ﷺ کی مخصوص نسبت کا لحاظ کرکے میں نے بعض وظائف اصحاب بدر کے وظائف سے زائد مقرر کئے ہیں لیکن جہاں تک درجاتی رتبہ کا تعلق ہے تو میرے نزدیک بھی اصحاب بدر ہی کا درجہ دوسرے تمام لوگوں کے درجات سے بلند ہے اور ان کے وظائف دوسرے تمام درجات کے وظائف سے زیادہ ہونے چاہئیں۔ اہل بدر میں سے ان صحابہ کے ناموں کا ذکر جو جامع بخاری میں مذکور ہیں واضح ہو کہ امام بخاری نے جنگ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ میں سے کچھ مخصوص صحابہ کے اسماء اپنی کتاب بخاری شریف کے ایک الگ باب میں بطریق اجمال مفصل ذکر کئے ہیں یہ بدری صحابہ وہ ہیں جن کے بدری ہونے کا ذکر بخاری میں آیا ہم اور جن کی روایتیں اس کتاب (بخاری) میں نقل ہوئی ہے اور ایک الگ باب میں ان مخصوص بدری صحابہ کے اسماء کے ذکر سے امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ دوسرے تمام بدری صحابہ پر ان مخصوص صحابہ کی فضیلت سبقت اور برتری کا اظہار ہو اور ان کے حق میں الگ سے بطور خاص دعاء رحمت ورضوان کی جائے یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے، علماء نے لکھی ہے کہ بخاری شریف کے اس باب اصحاب بدر کے جو اسماء مذکور ہیں ان کے ذکر وبیان کے وقت جو بھی دعا مانگی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کو قبول فرماتا ہے۔ امام بخاری اس باب میں سب سے پہلے سرکار دوعالم ﷺ کا اسم مبارک، پھر خلفاء اربعہ کے اسماء گرامی لائے ہیں اور پھر باقی صحابہ کے نام حروف تہجی کی ترتیب سے ذکر کئے گئے ہیں۔ امام بخاری کے مقصد اور ان کی اتباع کی برکت حاصل کرنے کے لئے مشکوٰۃ المصابیح کے مؤلف نے بھی ان اسماء مبارک کو جوں کا توں یہاں نقل کیا ہے۔ اور ملاعلی قاری نے لکھا ہے اس باب میں ان اصحاب بدر کے ناموں کا ذکر ہے جن کے حقیقۃ یا حکما ً بدری ہونے کا ذکر صحیح بخاری میں آیا ہے ارویہ (حقیقۃً یا حکماً کی قید) اس لئے ہے تاکہ اس زمرہ میں حضرت عثمان غنی کا نام شامل کرنا درست مانا جائے (جو آنحضرت ﷺ کے حکم سے حقیقۃً تو جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے لیکن حکماً ان کو بھی بدری مانا جاتا ہے پس اس باب میں ان بدری صحابہ کے نام نہیں ہے جو نہ تو بخاری نے اپنے اس باب میں بیان کئے ہیں اور نہ سرے سے ان کا ذکر بخاری میں آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام بخاری نے اصحاب بدر کی فہرست پر مشتمل اپنے اس باب میں صرف ان بدری صحابہ کے نام ذکر کئے ہیں جن کے متعلق صحیح بخاری شریف میں صراحت کے ساتھ ذکر ہوا ہے کہ انہوں نے جنگ بدر میں شرکت کی ہے خواہ خود ان صحابہ نے اپنے بارے میں صراحۃ ً ایسا بیان کیا ہو یا دوسروں نے جنگ بدر میں ان کے شریک ہونے کو صراحت کے ساتھ روایت کیا ہو۔ اس طرح ان بدری صحابہ نے اپنے بارے میں صراحۃً ایسا بیان کیا ہو یا دوسروں نے جنگ بدر میں ان کے شریک ہونے کو صراحت کے ساتھ روایت کیا ہو۔ اس طرح ان بدری صحابہ کے نام اس باب میں ذکر نہیں ہوئے ہیں جن کا ذکر گو صحیح بخاری شریف میں آیا ہے، مگر اس صراحت کے ساتھ نہیں آیا ہے کہ وہ جنگ بدر میں شریک تھے۔ اس وضاحت کی روشنی میں اس بات پر حیرت واشکال کا موقع نہیں رہ جاتا کہ مخصوص بدری صحابہ کی فہرست پر مشتمل اس باب میں ایک جلیل القدر بدری صحابی حضرت ابوعبیدۃ الجراح کا اسم گرامی ذکر نہیں ہوا ہے۔ حضرت عبیدہ بلاشبہ جنگ بدر میں شریک تھے اور اس پر تمام ہی محدثین اور اصحاب سیر کا اتفاق ہے، علاوہ ازیں بخاری شریف میں متعدد مواقع پر ان کا ذکر بھی آیا ہے مگر بخاری کی کسی روایت میں صراحت کے ساتھ بیان نہیں ہوا ہے کہ وہ جنگ بدر میں شریک تھے۔