اہل بدر میں سے ان صحابہ کے ناموں کا ذکر جو جامع بخاری میں مذکور ہیں

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 198 · 46 hadiths · Page 2 of 3

6275Mishkaat-al-Masabih

سعد بن خولہ

حضرت سعد بن خولہ کا تعلق قریش مکہ سے ہے، بنو عامر لوی میں سے ہیں ایک قول یہ ہے کہ بنو عامر بن لوی سے ان کا نسبی تعلق نہیں ہے بلکہ ان کے حلیف تھے۔ یہ ان مسلمانوں میں شامل تھے جنہوں نے دوسری بار مکہ سے حبشہ ہجرت کی تھی۔ جنگ بدر میں شریک تھے اور حجۃ الوداع کے زمانہ میں مکہ میں ان کا انتقال ہوا۔ ؓ،

6276Mishkaat-al-Masabih

سعید بن زید

حضرت سعید بن زید بن نفیل قریشی عدوی ہیں۔ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور حضرت عمر فاروق کے بہنوئی تھے، قدیم الاسلام ہیں یعنی انہوں نے مکہ میں اس وقت اسلام قبول کرلیا تھا، جب آنحضرت ﷺ دار ارقم میں قیام پذیر نہیں تھے۔ انہوں نے تمام غزوات میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ شرکت کی ہے غزوہ بدر کے موقع پر یہ طلحہ بن زبیر کے ساتھ قریش کے قافلہ کی خبر لانے کی مہم پر گئے تھے۔ حضرت سعید بن زید گندم گوں اور دراز قد تھے، گیارہویں پشت میں کعب بن لوی پر ان کا اور آنحضرت ﷺ کا سلسلہ نسب ایک ہوجاتا ہے۔ انہوں نے جب اسلام قبول کیا تھا تو اس وقت ان کی عمر بیس سال کی تھی۔ خود ان کا بیان ہے کہ جب عمر کو میرے قبول اسلام کی خبر ہوئی تو انہوں نے مجھ کو باندھ کر ڈال دیا تھا، ان کی بیوی حضرت فاطمہ بنت خطاب بھی اپنے بھائی حضرت عمر سے پہلے مشرف باسلام ہوچکی تھیں، حضرت سعید کا انتقال ٥١ ھ یا ٥٢ ھ میں مدینہ کے قریب وادی عقیق میں ہوا۔ ان کی عمر کچھ اوپر ٧٠ برس کی ہوئی۔ ان کے باپ زید بن نفیل نے زمانہ جاہلیت میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا دین اختیار کرلیا تھا اور مشرکوں کے ذبیحہ سے پرہیز کرتے تھے، انہوں نے قبل بعثت آنحضرت ﷺ سے بھی ملاقات کی تھی، ان کو موحد الجاہلیۃ کہا جاتا ہے۔

6277Mishkaat-al-Masabih

سہل بن حنیف

حضرت سہل بن حنیف انصاری ہیں، بدر اور احد اور دوسرے جہادوں میں شریک ہوئے اور غزوہ احد کے دن آنحضرت ﷺ کے ساتھ میدان کار زار میں ڈٹے رہے، آنحضرت ﷺ کے بعد سیدنا علی کے خاص مصاحبین میں شامل ہوگئے تھے، سیدنا علی نے ان کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا، پھر فارس ایران کی گورنری پر ان کو فائز کیا۔ ان کا انتقال کوفہ میں ٣٨ ھ میں ہوا اور سیدنا علی نے نماز جنازہ پڑھائی۔

6278Mishkaat-al-Masabih

ظہیر بن رافع اور ان کے بھائی

ظہیر بن رافع (یاملا علی قاری کے بموجب ظہیر) کے باپ کا نام رافع تھا، انصار مدینہ میں سے ہیں ان کے بھائی کا نام خدیج بن رافع ہے۔ جب کہ ملا علی قاری نے ظہیر نام لکھا ہے یہ دونوں بھائی بدری ہیں، ان دونوں نے جنگ بدر میں اور اس کے بعد کے دوسرے جہادوں میں شرکت کی تھی،

6279Mishkaat-al-Masabih

عبداللہ بن مسعود ہزلی

ہزلی ایک قبیلہ ہزیل کی طرف نسبت ہے، جو غیرقریش قبائل میں سے ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود کی کنیت ابوعبدالرحمن تھی، صاحب السواد والسواک کے لقب سے مشہور تھے۔ ان کا انتقال مدینہ میں ٣٢ ھ میں ہوا کچھ اوپر ساٹھ سال عمر پائی،۔

6280Mishkaat-al-Masabih

عبد الرحمن بن عوف زہری

حضرت عبدالرحمن بن عوف زہری، زہرہ بن کلاب کی اولاد سے ہیں، کلاب بن مرہ پر ان کا اور آنحضرت ﷺ کا سلسلہ نسب ا کی ہوجاتا ہے۔ دور جاہلیت میں ان کا نام عبد الکعبہ تھا، ان کی ولادت واقعہ فیل کے دس سال بعد ہوئی ابتداء اسلام ہی میں انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا تھا، ان کی والدہ بھی مسلمان ہوگئی تھیں، حبشہ کی طرف انہوں نے دوہجرتیں کیں، جنگ بدر میں شریک ہوئے اور دوسرے تمام غزوات میں بھی آنحضرت ﷺ کے دوش بدوش رہے، جنگ احد میں کے دن میدان کار زار میں پوری ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹے رہنے والوں میں عبدالرحمن بن عوف بھی تھے، اس دن انہوں نے بیس سے زیادہ زخم کھائے تھے۔ ایک سفر میں آنحضرت ﷺ نے ان کے پیچھے نماز ادا کی تھی۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف غزوہ تبوک میں نہیں جاسکتے تھے اور اس کی تلافی انہوں نے اس طرح کی تھی کہ چار ہزار دینار اللہ کی راہ میں صدقہ کئے، پھر چالیس ہزار دینار اور اللہ کی راہ میں خرچ کئے، پانچ سو گھوڑے مجاہدین اسلام کے لئے پیش کئے اور اسی طرح پانچ سو اونٹ دئیے، آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد ازواج مطہرات کی خبر گیری اور ان کے اخراجات زندگی کا تکفل حضرت عبدالرحمن نے اپنے ذمہ لیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عبدالرحمن کو اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ مال و دولت سے نوازا تھا اور فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا حوصلہ بھی اتنا ہی زیادہ ان کو عطا کیا تھا، تجارت ان کا پیشہ تھا اور ان کا بیشتر مال وزر تجارت ہی سے ان کو حاصل ہوا تھا، منقول ہے کہ یہ جب ہجرت کرکے مدینہ آئے تھے تو بالکل مفلس وقلاش تھے اور پھر اس پاک شہر میں ان کو خیر و برکت حاصل ہونی شروع ہوئی تو اللہ نے وہم و گمان سے زیادہ ان کو نوازا بیان کیا جاتا ہے کہ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے چار بیویاں تھیں اور ان کو ترکہ کے آٹھویں حصہ کے چوتھائی پر مصالحت کرنی پڑی اور اس صورت میں بھی ان کے حصہ میں اسی ہزار درہم یا دینار آئے۔ حضرت عبدالرحمن کی میراث ایک ہزار ساٹھ آدمیوں کے درمیان تقسیم ہوئی اور ہر ایک کو اسی اسی ہزار درہم ملے۔ یہ منقول ہے کہ انہوں نے اپنی میراث میں سے ہر بدری صحابی کو چار چار سو دینار دینے کی وصیت کی تھی جو پوری کی گئی۔ روایت ہے کہ ایک دن ام المؤمنین حضرت عائشہ نے حضرت عبدالرحمن ؓ بیان کیا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا میں نے عبدالرحمن کو بہشت میں جاتے ہوئے دیکھا اور وہ بہشت میں اسی طرح گھس رہے تھے جیسے کوئی بچہ سرین یا ہاتھ پاؤں کے بل چلتا ہے، جس دن حضرت عائشہ نے عبدالرحمن کو یہ حدیث سنائی اسی دن ان کا ایک تجارتی قافلہ سات سو اونٹوں پر مال لادے ہوئے ملک شام سے چل کر مدینہ پہنچا تھا، انہوں نے اپنے بارے میں دخول جنت کی یہ بشارت سن کر شکرانہ میں وہ تمام لدے پھندے اونٹ مع ان کو پالانوں اور جھولوں کے اللہ کی راہ میں صدقہ کردئیے روایت ہے کہ وفات کے وقت حضرت عبدالرحمن بےہوش ہوگئے تھے جب کچھ دیر کے لئے ہوش میں آئے تو بولے ابھی میرے پاس دو فرشتے آئے تھے جو بڑے سخت اور درشت خومعلوم ہوتے تھے انہوں نے میری طرف اشارہ کرکے آپس میں کہا کہ ہم اس شخص کو حاکم امین عزیز کے حضور لے جا رہے ہیں، اتنے میں دو فرشتے آگئے اور ان دونوں نے پہلے فرشتوں سے پوچھا کہ اس شخص کو کہاں لے جا رہے ہو؟ وہ دونوں بولے! حاکم امین عزیز کے حضور۔ نو وارد فرشتوں نے کہا یہ تو وہ شخص ہے جس میں سعادت ونیک بختی نے اسی وقت گھر کرلیا تھا جب یہ ماں کے پیٹ میں تھا، حضرت عبدالرحمن کی علمی حیثیت بھی بہت بلند تھی، فقہی تبحر اور دینی احکام و مسائل پر عبور رکھنے کے سبب صحابہ میں نہایت ممتاز درجہ رکھتے تھے، چناچہ حضرت ابوبکر حضرت عمر اور حضرت عثمان تینوں کے عہد خلافت میں فتوی دینے کی بڑی ذمہ داری انہی کے سپرد تھی۔ حضرت عبدالرحمن کی رنگت سرخ سفید تھی، قد دراز تھا، چہرہ چھوٹا تھا اور پاؤں کو تیر لگنے سے جو نقصان پہنچا تھا اس کے سبب لنگڑے ہوگئے تھے ان کی وفات حضرت عثمان کے عہد خلافت میں ہوئی،

6281Mishkaat-al-Masabih

عبیدہ بن حارث

حضرت عبیدہ بن حارث قریشی ہیں ان کے باپ حارث، مطلب بن عبد مناف کے بیٹے تھے۔ حضرت عبیدہ کی کنیت ابوالحارث تھی اور بعض حضرات نے ابومعاویہ کنیت لکھی ہے، یہ آنحضرت ﷺ سے دس سال بڑے تھے، انہوں نے آنحضرت ﷺ کے دار ارقم میں آنے سے پہلے ہی اسلام قبول کرلیا تھا۔ یہ اور ان کے دو بھائی، جن کے نام طفیل اور حصین تھے، ایک ساتھ ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تھے، جنگ بدر میں ان کا مقابلہ ولید بن عتبہ سے ہوا تھا اور دونوں کے درمیان دو دو چوٹیں ہوئیں، اس مقابلہ میں حضرت عبیدہ شیہد ہوگئے لیکن ولید بھی اسی دن مارا گیا۔

6282Mishkaat-al-Masabih

عبادہ بن صامت

حضرت عبادہ بن صامت انصار مدینہ میں سے ہیں اور ان کا شمار سرداروں میں ہوتا ہے تھا۔ عقبہ اولی، عقبہ ثانیہ اور عقبہ ثالثہ، تینوں میں یہ موجود تھے، انہوں نے جنگ بدر اور دوسرے جہادوں میں شرکت کی یہ ان صحابہ میں سے ایک ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے عہد میں قرآن جمع کیا تھا۔ حضرت عبادہ دراز قد اور خوبصورت جسم کے تھے، حضرت عمر نے اپنے عہد خلافت میں ان کو شام کا قاضی ومعلم بنا کر بھیجا تھا، چناچہ انہوں نے حمص میں اقامت اختیار کرکے اپنے فرائض انجام دئیے پھر بعد میں فلسطین چلے گئے تھے اور وہیں رملہ میں وفات پائی، بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ان کی وفات بیت المقدس میں ٣٤ ھ میں ہوئی تھی، اس وقت ان کی عمر ٧٢ سال کی تھی، ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت عبادہ، حضرت معاویہ کے زمانہ تک زندہ رہے۔

6283Mishkaat-al-Masabih

عمر و بن عوف

حضرت عمرو بن عوف انصاری ہیں یہ بنو عامر لوی کے حلیف تھے اور مدینہ کی سکونت اختیار کر رکھی تھی، انہوں نے بدر میں شرکت کی ان کا انتقال امیر معاویہ کے آخرعہد امارت میں مدینہ میں ہوا اور لاولد اس دنیا سے رخصت ہوگئے، انہوں نے بہت پہلے اسلام قبول کرلیا تھا، اس لئے ان کو قدیم الاسلام کہا جاتا ہے، یہ ان مقدس ہستیوں میں سے ہیں جن کے حق میں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ فرمایا تری اعینہم تفیض من الدمع انہوں نے آنحضرت ﷺ سے وہ حدیث روایت کی ہے جس میں آپ ﷺ نے (اہل اسلام کو مخاطب کرکے فرمایا مجھ کو تمہارے فقر و افلاس سے کوئی خوف نہیں ہے میں تو اس وقت سے ڈرتا ہوں جب دنیا (اپنے مال وزر کے ساتھ) تم پر کشادہ وفراخ ہوجائے گی،

6284Mishkaat-al-Masabih

عقبہ بن عمرو انصاری

حضرت عقبہ بن عمر و انصاری مشاہیر صحابہ میں سے ہیں بدری ہیں، عقبہ ثانیہ میں موجود تھے، جمہور علماء کا کہنا ہے کہ ان کو بدری اس نسبت سے کہا جاتا ہے کہ یہ بدر میں رہا کرتے تھے نہ کہ اس اعبتار سے کہ انہوں نے جنگ بدر میں شرکت کی تھی ان کی وفات حضرت علی کی عہد خلافت میں ہوئی، لیکن بعض حضرات کا کہنا ہے کہ انہوں نے ٤١ ھ یا ٤٢ ھ میں وفات پائی۔

6285Mishkaat-al-Masabih

عامر بن ربیعہ غنری

غنری اصل میں ایک شخص غنرہ کی طرف نسبت ہے جو حضرت عامر بن ربیعہ کے اجداد میں سے تھا، جامع الاصول میں یہ لفظ غنوی لکھا ہوا ہے، حضرت عامر چونکہ بنوعدد کے حلیف تھے اس لئے ان کو عددی بھی کہا جاتا ہے اور کاشف میں یہ لکھا ہے کہ حضرت عامر آل خطاب کے حلیف تھے۔ حضرت عامر نے دو ہجرتیں کیں، جنگ بدر میں بھی شریک تھے اور دوسرے جہادوں میں بھی۔ انہوں نے حضرت عمر سے پہلے اسلام قبول کیا تھا، ان کی وفات ٣٢ ھ یا ٤٣ ھ یا ٣٥ ھ میں ہوئی۔

6286Mishkaat-al-Masabih

عاصم بن ثابت انصاری

حضرت عاصم بن ثابت انصاری نے جنگ بدر میں شرکت کی تھی، یہ حضرت عاصم بن عمر فاروق کے جد مادری ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک موقع پر ان کی جان کو مشرکوں سے جس طرح بچایا تھا وہ ایک بہت ہی غیر معمولی واقعہ ہے، ہوا یہ تھا کہ غزوہ ذات الرجیع میں انہوں نے ایک بڑے مشرک سردار کو قتل کردیا تھا سارے مشرک اپنے سردار کا بدلہ لینے کے لئے حضرت عاصم بن ثابت کی تاک میں لگ گئے اور موقع پاکر ان کو گھیر لیا اور قریب تھا کہ ان کا سر کاٹ لیں مگر اسی وقت اللہ کی مدد حاصل ہوئی۔ دراصل حضرت عاصم نے خدائے عزوجل سے دعا مانگی تھی کہ کسی مشرک کا ہاتھ مجھ تک نہ پہنچے اور ان کی یہ دعا مقبول تھی، چناچہ جب مشرک حضرت عاصم کا سر کاٹنے کے لئے بڑھے تو اچانک ایسا لگا کہ بھڑوں کا ایک چھتہ ٹوٹ کر ان مشرکوں پر گرا ہو اور پھر ان بھڑوں نے حضرت عاصم کو ان کے ہاتھوں سے بچالیا۔

6287Mishkaat-al-Masabih

عویم بن ساعدہ انصاری

حضرت عویم بن ساعدہ انصاری عقبہ ثانیہ میں مدینہ سے مکہ آکر آنحضرت ﷺ کی زیارت وبیعت کرنے والوں میں شریک تھے، انہوں نے جنگ بدر میں شرکت کی ہے اور دوسرے جہادوں میں بھی ان کا انتقال آنحضرت ﷺ کی حیات میں ہوگیا تھا انہوں نے ٦٥ یا ٦٦ سال کی عمر پائی۔

6288Mishkaat-al-Masabih

عتبان بن مالک انصاری

حضرت عتبان بن مالک انصاری خزرجی ہیں جنگ بدر میں شریک تھے، انہوں نے آنحضرت ﷺ سے احادیث روایت کی ہیں اور ان سے جن لوگوں نے احادیث نقل کی ہیں ان میں حضرت انس بن مالک اور محمود بن ربیع شامل ہیں، حضرت عتبان نابینے تھے، صحیح بخاری کی ایک روایت میں ان کے متعلق یہ مذکور ہے کہ انہوں نے نماز کے لئے مسجد میں آنے سے اپنا عذر بیان کیا تو آنحضرت ﷺ ان کے گھر تشریف لے گئے اور وہاں ایک جگہ نماز پڑھی تاکہ عتبان اسی جگہ کو اپنی نماز پڑھنے کے لئے مختص کرلیں۔ انہوں نے حضرت معاویہ کے زمانہ میں وفات پائی

6289Mishkaat-al-Masabih

قتادہ بن نعمان انصاری

یہ وہ قتادہ نہیں ہیں جو اہل علم اور محدثین میں بہت مشہور ہیں، وہ تابعی تھے، بصرہ کے تھے، بینائی سے اللہ تعالیٰ نے محروم کر رکھا تھا۔ لیکن علم و معرفت کی دولت وافر ان کو عطا فرمائی تھی۔ وہ حافظ تھے، مفسر تھے، محدث تھے اور ان کا حافظہ اتنا قوی تھا کہ جو کچھ ایک بار سن لیتے تھے اس کو کبھی نہیں بھولتے تھے۔ حضرت انس بن مالک حضرت حسن بصری اور حضرت سعید بن مسیب سے روایت کرتے تھے اور یہ قتادہ بن نعمان جن کا یہاں ذکر ہے، صحابی ہیں، انصاری ہیں، عقبہ میں موجود تھے جنگ بدر میں شریک تھے اس کے بعد دوسرے جہادوں میں شریک ہوئے، ان کا شمار فضلاء صحابہ میں ہوتا ہے ان کا انتقال ہوا اور حضرت عمر نے نماز جنازہ پڑھائی۔

6290Mishkaat-al-Masabih

معاذ بن عمرو بن الجموع

حضرت معاذ عمر وبن الجموع کے بیٹے ہیں، عقبہ میں موجود تھے، جنگ بدر میں یہ بھی شریک تھے اور ان کے باپ عمر وبن الجموع بھی، یہ وہی نوعمر معاذ بن عمر و ہیں جنہوں نے جنگ بدر میں ابوجہل پر پہلے حملہ کیا اور اس کا ایک پاؤں کاٹ ڈالا تھا اور پھر بعد میں معاذ ومعوذ بن عفراء نے اس کا کام تمام کیا تھا،

6291Mishkaat-al-Masabih

معوذ بن عفرائ اور ان کے بھائی

حضرت معوذ بن عفراء اور ان کے بھائی حضرت معاذ بن عفراء دونوں جنگ بدر میں شریک تھے عفراء ان دونوں کی ماں کا نام ہے، ان کے باپ حارثہ بن رفاعہ انصاری ہیں، یہ معوذہی تھے جنہوں نے جنگ بدر میں اپنے بھائی معاذ بن عفراء کی مدد سے ابوجہل کو قتل کیا تھا۔ معوذ اس جنگ میں شہید ہوگئے تھے، لیکن معاذ باقی رہے اور انہوں نے دوسرے جہادوں میں بھی شرکت کی معوذ اور معاذ کے ایک بھائی عوف بن عفر اء بھی جنگ بدر شریک تھے اور ان کو بھی اس جنگ میں شہادت نصیب ہوئی تھی۔

6292Mishkaat-al-Masabih

مالک بن ربیعہ ابواسید انصاری

اصل نام مالک بن ربیعہ ہے اور ابواسید کنیت ہے نام کے بجائے کنیت سے زیادہ مشہور ہیں، جنگ بدر میں اور دوسرے تمام غزوات میں شریک ہوئے، قبیلہ سے مساعدی ہیں۔ ٦٠ ھ میں ان کی وفات ہوئی اس وقت ان کی عمر ٧٧ سال یا ٧٨ سال اور نابیناء ہوچکے تھے، اصحاب بدر میں سب کے بعد انہیں کا انتقال ہوا۔

6293Mishkaat-al-Masabih

مسطح بن اثاثہ

حضرت مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب بن عبد المناف، جنگ بدر اور جنگ احد میں شریک تھے اور بعد کی جنگوں میں بھی شریک ہوئے۔ یہ وہی مسطح ہیں جنہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کی ذات پر بہتان باندھا تھا اور ان پر حد قدف (زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی سزا) نافذ ہوئی تھی اور ان کو درے لگائے گئے تھے۔ یہ واقعہ افک کے نام سے مشہور ہے، بعض حضرات نے لکھا ہے کہ مسطح ان کا لقب ہے، اصل نام عوف ہے، ان کا انتقال ٣٤ ھ بعمر ٥٦ سال ہوا۔

6294Mishkaat-al-Masabih

مرارہ بن ربیع انصاری

حضرت مرارہ بن ربیع انصار ی، بنوعمر وبن عوف میں سے ہیں، جنگ بدر میں شریک تھے، یہ ان تین صحابہ میں سے ہیں جو غزوہ تبوک میں نہیں گئے تھے۔ ان میں سے زیادہ مشہور حضرت کعب بن مالک ہیں دوسرے حضرت ہلال بن امیہ اور تیسرے یہ حضرت مرارہ۔ اللہ تعالیٰ نم ان تینوں کی توبہ قبول فرمائی تھی اور ان کے حق میں قرآن کی آیتیں نازل فرمائیں اور اسی مناسبت سے اس سورت کا نام توبہ رکھا جس میں یہ آیتیں شامل ہیں۔