جھوٹا عذر بیان کرنے والا اپنے ہاتھ کی توانائی سے محروم ہوگیا
وعن سلمة بن الأكوع أن رجلا أكل عند رسول الله صلى الله عليه و سلم بشماله فقال : كل بيمينك قال : لاأستطيع . قال لا استطعت . ما منعه إلا الكبر قا ل : فما رفعها إلى فيه . رواه مسلم
اور حضرت سلمہ ابن اکوع ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ کے سامنے بائیں ہاتھ سے کھایا تو آپ ﷺ نے اس کو نصیحت فرمائی کہ دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اس شخص نے ( اس شخص نے نصیحت پر عمل کرنے کے بجائے) جواب دیا کہ میں داہنے ہاتھ سے نہیں کھا سکتا، آنحضرت ﷺ نے ( بد دعا کے طور پر) فرمایا تمہیں داہنے ہاتھ سے کھانے پر کبھی قدرت نہ ہو۔ ( در اصل) اس شخص نے گھمنڈ میں آکر داہنے ہاتھ سے نہیں کھایا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ ( آنحضرت ﷺ کی اس بددعا کے نتیجہ میں) وہ شخص اپنا داہنا ہاتھ منہ تک پہنچانے پر کبھی قادر نہیں ہوسکا۔ ( مسلم)
تشریح
اس شخص نے گمھنڈ میں آکر دائیں ہاتھ سے نہیں کھایا تھا یہ راوی کے الفاظ ہیں جن کے ذریعہ انہوں نے یہ وضاحت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جو رحمۃ للعلمین ہونے کے باوجود اس شخص کے حق میں جو بددعا فرمائی تو اس کی وجہ یہ تہی کہ اس شخص نے آنحضرت ﷺ کی نصیحت سن کر صحیح عمل کرنے کے بجائے اپنے غلط عمل کی جھوٹی تاویل کی اور جھوٹا عذر بیان کیا، اس شخص کا بائیں ہاتھ سے کھانا اس وجہ سے نہیں تھا کہ اس کے دائیں ہاتھ میں کوئی خرابی تھی یا وہ دائیں ہاتھ سے کہانے سے واقعۃ مجبور تھا بلکہ اس نے ایک گھمنڈی شخص کی طرح بلا کسی واقعی عذر کے اپنے بائیں ہاتھ سے کھایا اور آنحضرت ﷺ کی نصیحت کا بڑی بےباکی اور بیہودگی سے جواب دیا، لہٰذا آنحضرت ﷺ نے اس کے حق میں بددعا فرمائی اس بددعا کا یہ اثر ہوا کہ وہ شخص اپنے دائیں ہاتھ سے کھانے پر کبھی قادر نہیں ہوسکا اس کا دایاں ہاتھ اس طرح بیکار ہوگیا کہ سخت کوشش کے باوجود منہ تک اٹھتا ہی نہیں تھا۔
آنحضرت ﷺ کی سواری کی برکت سے سست رفتار گھوڑا تیز رفتار ہوگیا
وعن أنس أن أهل المدينة فزعوا مرة فركب النبي صلى الله عليه و سلم فرسا لأبي طلحة بطيئا وكان يقطف فلما رجع قال : وجدنا فرسكم هذا بحرا . فكان بعد ذلك لا يجارى وفي رواية : فما سبق بعد ذلك اليوم . رواه البخاري
اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رات میں) اہل مدینہ ( چوروں یا کسی دشمن کا خطرہ محسوس کر کے) گھبرا گئے) اور چیخ و پکار کرنے لگے، نبی کریم ﷺ ( صورت حال کی تحقیق کے لئے) ابوطلحہ ؓ کے ( ننگی پیٹھ والے) گھوڑے پر جو بہت سست رفتار اور مٹھا تھا سوار ہو کر ( اس سمت کہ جدھر سے خطرہ محسوس ہوا تھا) تشریف لے گئے اور جب واپس آئے تو ( ابوطلحہ سے) فرمایا کہ ہم نے تو تمہارے گھوڑے کو پانی کی طرح ( تیز اور کشادہ قدم) پایا۔ بس ( آنحضرت ﷺ کی سواری کے بعد) وہ گھوڑا ایسا تیز رفتار ہوگیا کہ کوئی گھوڑا اس سے آگے تو کیا نکلتا) اس کے ساتھ بھی نہیں چل سکتا تھا۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ پس اس دن کے بعد کوئی گھوڑا اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔ ( بخاری )
کجھوروں میں برکت کا معجزہ
وعن جابر قال : توفي أبي وعليه دين فعرضت على غرمائه أن يأخذو ا التمر بما عليه فأبوا فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت : قد علمت أن والدي استشهد يوم أحد وترك عليه دينا كثيرا وإني أحب أن يراك الغرماء فقال لي : اذهب فبيدر كل تمر على ناحية ففعلت ثم دعوته فلما نظروا إليه كأنهم أغروا بي تلك الساعة فلما رأى ما يصنعون طاف حول أعظمها بيدرا ثلاث مرات ثم جلس عليه ثم قال : ادع لي أصحابك . فما زال يكيل لهم حتى أدى الله عن والدي أمانته وأنا أرضى أن يؤدي الله أمانة والدي ولا أرجع إلى أخواتي بتمرة فسلم الله البيادر كلها وحتى إني أنظر إلى البيدر الذي كان عليه النبي صلى الله عليه و سلم كأنها لم تنقص تمرة واحدة . رواه البخاري
اور حضرت جابر ابن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ جب میرے والد کی وفات ہوئی تو ان کے ذمہ بہت سا قرضہ تھا، چناچہ میں نے ان کے قرض خواہوں کو پیشکش کی کہ ہمارے پاس جتنی کھجوریں ہیں وہ سب اس قرض کے بدلہ میں جو میرے والد پر تھا لے لیں، لیکن انہوں نے میری بات ماننے سے انکار کردیا ( کیونکہ وہ قرض خواہ، جو یہودی تھے ان کھجوروں کو اپنے دیئے ہوئے قرض کے مقابلہ میں بہت کم جانتے تھے) آخر کار میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاصر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ کو معلوم ہے میرے والد احد کی جنگ میں شہید ہوگئے ہیں اور انہوں نے بہت سا قرض چھوڑا ہے، میں چاہتا ہوں کہ قرض خواہ آپ ﷺ کو ( میرے پاس) دیکھیں ( یعنی کوئی ایسی صورت ہو کہ جب قرض خواہ میرے پاس آئیں تو آپ ﷺ تشریف فرما ہوں تاکہ وہ آپ ﷺ کو دیکھ کر میرے ساتھ کوئی رعایت کردیں، آپ ﷺ نے یہ سن کر مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اور ہر قسم کی کھجوروں کی الگ الگ ڈھیری بنا لو چناچہ میں نے ایسا ہی کیا کہ میرے پاس جتنی کھجوریں تھیں سب کو الگ الگ ڈھیریوں میں کردیا) اور اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو بلا لایا۔ قرض خواہوں نے آنحضرت ﷺ کو تشریف لاتے دیکھا تو اس وقت انہوں نے فورا ایسا رویہ اختیار کرلیا جیسے وہ مجھ پر حاوی ہوگئے ہوں ( یعنی انہوں نے یہ گمان کرلیا کہ آنحضرت ﷺ کلی یا جزوی طور پر قرض معاف کرنے کی ہمیں تلقین کریں گے یا کچھ اور دنوں تک صبر کرنے کا مشورہ دیں گے، لہٰذا آنحضرت ﷺ کو دیکھتے ہی انہوں نے مجھ پر برسنا اور بڑے لب و لہجہ میں قرض کی واپسی کا مطالبہ کرنا شروع کردیا اور اس طرح انہوں نے پہلے ہی سے اپنا ایسا رویہ ظاہر کیا جیسے وہ بتانا چاہتے ہوں کہ پورے قرض کی واپسی کے علاوہ اور کسی بات پر تیار نہیں ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے جب ان قرض خواہوں کا یہ رویہ دیکھا تو ( ان سے کچھ کہے بغیر) کھجوروں کی سب سے بڑی ڈھیری کے گرد تین بار چکر لگایا اور پھر ڈھیری پر بیٹھ کر ( مجھ سے) فرمایا کہ اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ ( جب وہ آگئے تو) آپ ﷺ کے حکم سے اس ڈھیری میں سے ناپ ناپ کر قرض خواہوں کو دینا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کا تمام قرضہ ادا کردیا، اگرچہ میری خوشی کے لئے یہی کیا کم تھا کہ اللہ تعالیٰ میری ان کھجوروں سے میرے والد کا تمام قرضہ ادا کرا دیتا خواہ اپنی بہنوں کے پاس لے جانے کے لئے ایک کھجور بھی باقی نہ بچتی لیکن اللہ تعالیٰ نے تو ( آنحضرت ﷺ کے معجزے سے) ساری ڈھیریوں کو محفوظ رکھا اور جس ڈھیری پر نبی کریم ﷺ بیٹھے ہوئے تھے میں نے اس کی طرف نظر اٹھائی تو ایسا لگا کہ اس میں سے بھی ایک کھجور کم نہیں ہوئی ہے اور جب اس ڈھیری ہی میں سے کچھ کم نہ ہوا جس میں سے ان قرض خواہوں کو ان کے طالبہ کے بقدر دیا گیا تھا تو باقی ڈھیریاں بدرجہ اولی محفوظ وسالم رہیں۔ ( بخاری)
تشریح
حضرت جابر ؓ کے والد نے اپنے پسماندگان میں کئی بیٹیاں چھوڑی تھیں جو حضرت جابر ؓ کی بہن ہوئی حضرت جابر ؓ کا مطلب یہ تھا کہ کھجوروں میں اپنے لئے یا اپنی بہنوں کے لئے میری کوئی خواہش نہیں تھی، میں تو اس میں خوش تھا کہ کسی طرح میرے والد کا تمام قرضہ اتر جائے خواہ ہمارے لئے ان کھجوروں میں سے کچھ نہ بچے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی برکت اور آپ ﷺ کے معجزے کے طفیل ان کھجوروں کے ذریعہ نہ صرف میرے والد کا تمام قرضہ ادا کردیا بلکہ تمام کجھورویں جوں کی توں بچ گئیں۔
گھی کی کپی کے متعلق ایک معجزہ
وعنه قال : إن أم مالك كانت تهدي للنبي صلى الله عليه و سلم في عكة لها سمنا فيأتيها بنوها فيسألون الأدم وليس عندهم شيء فتعمد إلى الذي كانت تهدي فيه للنبي صلى الله عليه و سلم فتجد فيه سمنا فما زال يقيم لها أدم بيتها حتى عصرته فأتت النبي صلى الله عليه و سلم فقال : عصرتيها قالت نعم قال : لو تركتيها ما زال قائما . رواه مسلم
اور حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ( ایک انصاری صحابیہ) حضرت ام مالک ؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک کپی میں گھی کا ہدیہ بھیجا کرتی تھیں، ( چناچہ اس کپی میں اتنی برکت آگئی تھی کہ) جب ام مالک ؓ کے بیٹے ( گھر میں) آکر روٹی کے ساتھ کھانے کے لئے) کوئی سالن مانگتے اور ان کے پاس کوئی سالن موجود نہیں ہوتا تھا ( کیونکہ روغن وگھی کی قسم سے ان کے پاس جو کچھ بھی ہوتا تھا اس کو وہ آنحضرت ﷺ کے پاس خدمت میں بھیج دیا کرتی تھیں) تو ام مالک ؓ کا آسرا وہی کپی بنتی جس میں وہ نبی کریم ﷺ کے لئے گھی بھیجا کرتی تھیں، ( یعنی وہ اس کپی کو اٹھا کر اس میں گھی دیکھتیں) اور ان کو اس میں سے گھی مل جاتا تھا، ( کافی دنوں تک) یہی سلسلہ جاری رہا کہ اس کپی میں لگا ہوا گھی ان کے پورے گھر کے لئے سالن کی ضرورت پوری کردیا کرتا تھا پھر ( ایک دن ایسا ہوا کہ ( ام مالک ؓ نے ( زیادہ گھی حاصل کرنے کی طمع میں) اس کپی کو پوری طرح نچوڑ لیا ( یعنی اس کپی میں جو گھی لگا ہوا تھا اس کو نچوڑ نچوڑ کر سارا نکال لیا، اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ اس کی برکت سے محروم ہوگئیں اور گھر والوں کو روٹی کھانے کے لئے جس چیز کا سہارا تھا، وہ ملنی بند ہوگئی کیونکہ حرص وطمع تو ہے ہی بری بلا، جس سے آخر الامر محرومی کے علاوہ کچھ نہیں ملتا) ام مالک ؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچیں ( اور یہ ماجرہ بیان کیا) آنحضرت ﷺ نے پوچھا کیا تم اس گھی کی کپی کو بالکل نچوڑ لیا تھا؟ انہوں نے کہا ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم کپی کو اس طرح نہ نچوڑتیں تو ہمیشہ تمہیں اس کپی سے سالن ( گھی) ملا کرتا ( کیونکہ اس کپی میں اگر ذرا سا بھی گھی لگا رہتا تو اس میں برکت اترتی رہتی اور جب کسی چیز میں برکت اترتی ہے تو وہ چیز کتنی ہی ذرا سی کیوں نہ ہو، بڑھ کر بہت ہوجاتی ہے۔ ( مسلم )
وعن أنس قال : قال أبو طلحة لأم سليم لقد سمعت صوت رسول الله صلى الله عليه و سلم ضعيفا أعرف فيه الجوع فهل عندك من شيء ؟ فأخرجت أقراصا من شعير ثم أخرجت خمارا لها فلفت الخبز ببعضه ثم دسته تحت يدي ولاثتني ببعضه ثم أرسلتني إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال فذهبت به فوجدت رسول الله صلى الله عليه و سلم في المسجد ومعه الناس فقمت عليهم فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : أرسلك أبو طلحة ؟ قلت نعم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لمن معه قوموا فانطلق وانطلقت بين أيديهم حتى جئت أبا طلحة فقال أبو طلحة يا أم سليم قد جاء رسول الله صلى الله عليه و سلم بالناس وليس عندنا ما نطعمهم فقالت الله ورسوله أعلم قال فانطلق أبو طلحة حتى لقي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأقبل رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبو طلحة معه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم هلمي يا أم سليم ما عندك فأتت بذلك الخبز فأمر به ففت وعصرت أم سليم عكة لها فأدمته ثم قال فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم ما شاء الله أن يقول ثم قال ائذن لعشرة فأذن لهم فأكلوا حتى شبعوا ثم خرجوا ثم قال ائذن لعشرة فأذن لهم فأكلوا حتى شبعوا ثم خرجوا ثم قال ائذن لعشرة فأذن لهم فأكلوا حتى شبعوا ثم خرجوا ثم أذن لعشرة فأكل القوم كلهم وشبعوا والقوم سبعون أو ثمانون رجلا . متفق عليه وفي رواية لمسلم أنه قال : أذن لعشرة فدخلوا فقال : كلوا وسموا الله . فأكلوا حتى فعل ذلك بثمانين رجلا ثم أكل النبي صلى الله عليه و سلم وأهل البيت وترك سؤرا وفي رواية للبخاري قال : أدخل علي عشرة . حتى عد أربعين ثم أكل النبي صلى الله عليه و سلم فجعلت أنظر هل نقص منها شيء ؟ وفي رواية لمسلم : ثم أخذ ما بقي فجمعه ثم دعا فيه با لبركة فعاد كما كان فقال : دونكم هذا
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک دن) ابوطلح انصاری ؓ ( جو میرے سوتیلے باپ تھے، گھر میں آکر میری ماں، ام سلیم سے کہنے لگے، کہ ( آج) میں نے رسول کریم ﷺ کی آواز میں بڑی کمزوری محسوس کی جس سے مجھے محسوس ہوا کہ آپ بھوکے ہیں، کیا تمارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ ام سلیم ؓ نے جواب دیا کہ ہاں کچھ ہے اور پھر انہوں نے جو کی چند روٹیاں نکالیں اور پھر اپنی اوڑھنی لی اور اس کے ایک حصہ میں تو روٹیوں کو لپیٹا اور ایک حصہ سے میرے سر کو لپیٹ دیا اور پھر اوڑھنی میں لپٹی ہوئی ان روٹیوں کو میرے ہاتھ کے نیچے چھپایا اور مجھے رسول کریم ﷺ کے پاس بھیجا، میں وہ روٹیاں لے کر پہنچا تو رسول اللہ ﷺ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے اور بہت سارے لوگ ( جن کی تعداد اسی تھی) آپ ﷺ کے باس بیٹھے ہوئے تھے، میں نے سب کو سلام کیا رسول کریم ﷺ نے ( سلام کا جواب دینے کے بعد) مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہیں ابوطلحہ ؓ نے بھیجا ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں! پھر آپ ﷺ نے پوچھا کیا کھانا دے کر بھیجا ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں! رسول کریم ﷺ نے میرا جواب سن کر ان لوگوں سے جو آپ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے فرمایا کہ اٹھو ( ابوطلحہ کے گھر چلو) اس کے بعد آنحضرت ﷺ اور وہ تمام لوگ ( ابوطلحہ کے گھر کی طرف) روانہ ہوئے اور میں بہی آپ ﷺ کے آگے چل پڑا (جیسا کہ خادم اور میزبان آگے آگے چلتے ہیں، یا اس خیال سے آگے چلا کہ پہلے پہنچ کر ابوطلحہ ؓ کو آنحضرت ﷺ کے تشریف لانے کی اطلاع کر دوں) چناچہ ابوطلحہ ؓ کے پاس پہنچ کر ان کو ( آپ ﷺ کی تشریف آوری کی) خبر دی، ابوطلحہ ؓ نے ( آنحضرت ﷺ کے ساتھ اتنے سارے آدمیوں کے آنے کی خبر سنی تو) بولے کہ ام سلیم! رسول کریم ﷺ تشریف لا رہے ہیں اور آپ ﷺ کے ساتھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی ہیں جب کہ ہمارے پاس ( ان چند روٹیوں کے علاوہ کہ جو ہم نے آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجی تھی) اتنے سارے آدمیوں کے کھلانے کے لئے کوئی چیز نہیں ہے، ام سلیم ؓ نے جواب دیا، اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ پھر ابوطلحہ ؓ ( آنحضرت ﷺ کے استقبال کے لئے) گھر سے باہر نکلے اور ( راستہ میں پہنچ) کر رسول کریم ﷺ سے ملاقات کی اس کے بعد رسول کریم ﷺ ابوطلحہ ؓ کے تشریف لائے اور ( گھر میں پہنچ کر) فرمایا کہ ام سلیم ؓ ( از قسم روٹی) جو کچھ تمہارے پس ہے، لاؤ ام سلیم نے وہ روٹیاں جو ان کے پاس تھیں، لا کر ( آنحضرت ﷺ کے سامنے) رکھ دیں، آنحضرت ﷺ نے ( ابوطلحہ کو یا کسی اور کو حکم دیا کہ وہ روٹیوں کو توڑ توڑ کر چورا کردیں، چناچہ ان روٹیوں کو چورا کیا گیا اور ام سلیم ؓ نے ( گھی کی) کپی کو نچوڑ کر گھی نکالا اور اس کو سالن کے طور پر رکھا، اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے اس روٹی سالن کے بارے میں وہ فرمایا جو اللہ نے کہلانا چاہا۔ پھر آپ ﷺ نے ( مجھے یا ابوطلحہ کو یا اور کسی دوسرے کو) حکم دیا کہ دس آدمیوں کو بلاؤ، چناچہ دس آدمیوں کو بلایا گیا اور انہوں نے پیٹ بھر کر کھایا، پھر جب وہ دس آدمی اٹھ کر چلے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ دس ( اسی طرح) دس آدمیوں کو بلا کر کھلاتے رہو ( اور دس دس آدمیوں کو بلا کھلایا جاتا رہا) یہاں تک کہ تمام لوگوں نے ( اس تھوڑے سے کھانے میں خوب سیر ہو کر کھایا اور یہ سب ستر یا اسی آدمی تھے۔ ( بخاری) ومسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا دس آدمیوں کو کھانے پر بلاؤ اور جب وہ ( دس آدمی) آئے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اللہ کا نام لے کر کھاؤ! چناچہ انہوں نے ( اللہ کا نام لے کر) کھانا کھایا، اسی طرح ( دس دس آدمی کر کے) اسی آدمیوں کو کھلایا گیا اور جب سب لوگ کھاچکے تو) آخر میں نبی کریم ﷺ نے اور گھر کے آدمیوں نے کھانا کھایا اور پھر بھی پس خوردہ باقی رہا۔ اور بخاری کی ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا دس آدمیوں کو میرے پاس لاؤ۔ اسی طرح ( دس دس آدمی کر کے) چالیس آدمیوں کو شمار کیا اور ان کے بعد خود نبی کریم ﷺ نے کھانا تناول فرمایا اور میں برابر دیکھے جارہا تھا کہ کھانے میں سے کچھ کم ہوا ہے یا نہیں ( لیکن مجھے قطعا کوئی کمی نظر نہیں آرہی تھی۔ اور مسلم کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ بہی ہیں کہ ( جب سب لوگ شکم سیر ہوچکے ( تو آنحضرت ﷺ نے پس خوردہ کو) اٹھا اٹھا کر جمع کیا اور اس میں برکت کی دعا فرمائی، چناچہ وہ ایسا ہی ہوگیا، جیسا کہ پہلے تھا ( یعنی جس مقدار میں پہلے وہ کھانا تھا، اتنا ہی اب ہوگیا) پھر آپ ﷺ نے فرمایا لو اس کو رکھو ( اور پھر کھا لینا۔
تشریح
آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کھانا کھلانے اور تھوڑے سے کھانے میں برکت ہونے کا یہ واقعہ اسی طرح کا ہے جیسا کہ حضرت جابر ؓ کے ساتھ پیش آیا تھی اور حضرت جابر ؓ کے واقعہ کی طرح یہ واقعہ بھی غزوہ خندق کے موقع کا ہے لہٰذا حضرت انس ؓ کے ان الفاظ رسول کریم ﷺ! اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے۔ میں مسجد میں سے مراد خندق کے قریب کی وہ جگہ ہے جس کو آپ ﷺ نے دشمنوں کی طرف سے مدینہ کے محاصرہ اور خندق کھودے جانے کے موقع پر نماز پڑھنے کے لئے مخصوص کردیا تھا۔ آنحضرت ﷺ کے اس سوال پر کہ کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟ حضرت انس کو ؓ روٹیاں دے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا۔ کیا کھانا دے کر بھیجا ہے؟ آنحضرت ﷺ کا اس بات کو پہلی بات ( کیا تمہیں ابوطلحہ ؓ نے بھیجا ہے) سے الگ کر کے پوچھنا تو سمجھانے کے لئے تھا یا وحی اور علم کی تاخیر کے مطابق تھا، یعنی پہلے تو آپ ﷺ کو وحی کے ذریعہ صرف اس بات کا علم حاصل ہوا تھا کہ انس ؓ کو ابوطلحہ ؓ کے کہنے پر بھیجا گیا ہے، لہٰذا آپ ﷺ نے بس یہی سوال کیا کہ کیا تمہیں ابوطلحہ ؓ نے بھیجا ہے؟ پھر بعد میں جب دوبارہ وحی کے ذریعہ آپ ﷺ کو یہ علم ہوا کہ انس ؓ کے ساتھ کھانا بھی ہے تو آپ ﷺ نے پھر یہ سوال کیا کہ کیا کھانا دے کر بھیجا ہے؟ اٹھو ( ابوطلحہ کے گھر چلو) کے تحت شارحین نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو چونکہ ( وحی کے ذریعہ) یہ معلوم ہوچکا تھا کہ انس ؓ کے ساتھ چند ہی روٹیاں ہیں لہٰذا آپ ﷺ نے یہ پسند فرمایا کہ اتنے مجمع میں خود تنہا یا دو تین آدمیوں کے ساتھ کھا کر بیٹھ جائیں اور باقی لوگ بھوکے رہیں، اس کے ساتھ آپ ﷺ کا ارادہ اس معجزہ کے اظہار کا بھی ہوا جس کے نتیجہ میں چند روٹیوں سے ایک بڑی جماعت شکم سیر ہوئی اور اسی کے شمن میں دوسرا معجزہ الو طلحہ ؓ کے گھر میں کپی میں خیر و برکت کی صورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے، تاکہ انہوں نے اور ان کے گھر والوں نے آنحضرت ﷺ کے تئیں جس اخلاص و محبت، نیک نیتی اور خدمت گزاری کے جذبہ وعمل کا اظہار کیا اس کا پھل ان کو حصول برکت کی صورت میں ملے، پس آنحضرت ﷺ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو لے کر ابوطلحہ کے گھر تشریف لے گئے۔ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں اس جواب کے ذریعہ ام سلیم ؓ نے دارصل ابوطلحہ ؓ کو اطمینان دلایا کہ اگر آنحضرت ﷺ اتنے سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو لے کر تشریف لا رہے ہیں تو اس کی وجہ سے ہمیں اس گھبراہٹ میں مبتلا نہ ہونا چاہئے کہ ہم اتنا تھوڑا سا کھانا اتنے زیادہ آدمیوں کو کسی طرح کھلا پائیں گے، کیونکہ اس میں ضرور کوئی حکمت و مصلحت ہے، جس کو اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں اور اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ ہمارے ہاں آپ ﷺ کی آمد یقینًا ہمارے لئے خیروبرکت کا باعث ہوگی۔ گویا ام سلیم ؓ نے فورا محسوس کرلیا کہ آنحضرت ﷺ کی آمد ضرور کسی معجزے کے اظہار کے لئے ہے، اس سے ام سلیم کی دینداری دانشمندی اور قوت یقین کا اظہار ہوتا ہے کہ انہیں جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ آپ ﷺ کی آمد سے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوئی، بلکہ فوری طور پر ان کے دماغ میں یہی بات آئی کہ آنحضرت ﷺ کو کھانے کی نوعیت اور مقدار کا خوب علم ہے، اگر آپ ﷺ کوئی مصلحت نہ سمجھتے تو سب کو لے کر یہاں آنے کی ضرورت کیوں محسوس فرماتے، چونکہ آپ ﷺ کا کوئی فعل مصلحت و حکمت سے خالی نہیں ہوتا اس لئے جماعت کے ساتھ آپ ﷺ کی آمد میں یقینًا کوئی مصلحت پوشیدہ ہے۔ یہ بھی فیض رسالت کا اعجاز ہی تھا کہ اس زمانہ کی ایک عورت ہمارے زمانہ کے بہت سے مردوں سے بھی زیادہ یقین و ایمان کی قوت رکھتی تھی۔ ؓ وعن اہل عصر ہا وجعلنا فی زمرتہم امین یا رب العلمین۔ وہ فرمایا جو اللہ نے کہلانا چاہا کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے خیر و برکت کی دعا فرمائی، یا اسماء الہٰی پڑھ کر اس کھانے پر دم کیا۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے یہ الفاظ ارشاد فرمائے۔ بسم اللہ اللہم اعظم فیھا الرکۃ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ دس آدمیوں کو بلاؤ۔ آپ نے پوری جماعت کو ایک ہی مرتبہ کھانے پر بلانے کے بجائے دس دس آدمیوں کو بلا کر کھلانے کا حکم اس لئے دیا کہ جس برتن میں وہ کھانا تھا وہ بس اتنا ہی بڑا تھا کہ اس کے گرد دس آدمی بیٹھ کر اطمینان سے کھا سکتے تھے اور بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ مکان میں گنجائش کی کمی کے سبب سب آدمیوں کو بیک وقت بلانے کے بجائے دس دس آدمیوں کو بلا کر کھانے کا حکم دیا گیا۔ اور یہ سب ستر یا اسی آدمی تھے کی وضاحت میں اب ابن حجر (رح) نے لکھا ہے کہ یہاں تو تعداد کا ذکر شک ہی کے ساتھ ہے لیکن دوسری روایت میں تعین اور یقین کے ساتھ اسی کا ذکر ہے، نیز اس روایت میں اسی سے کچھ اوپر کا ذکر ہے تاہم ان دونوں روایتوں میں منافات نہیں ہے۔ کیونکہ اسی (٨٠) والی روایت کے بارے میں احتمال ہے کہ راوی نے تعداد ذکر کرتے وقت کسر کو حذف کردیا ہو، البتہ ایک اور روایت میں جس کو امام احمد بن حنبل (رح) نے نقل کیا ہے جو یہ بیان کیا گیا ہے، کہ اس کھانے میں چالیس آدمیوں نے کھایا اور پھر بھی کھانا جوں کا توں باقی رہا یا یہاں ہی امام بخاری (رح) کی دو دوسری روایت نقل کی گئی ہے اور جس میں چالیس آدمیوں کے کھانے اور ان کے بعد آنحضرت ﷺ کے کھانے کا ذکر ہے تو اس سے ان روایتوں میں واقعہ کا تعدد معلوم ہوتا ہے یعنی ان روتیوں میں ایک ہی واقعہ کا ذکر نہیں ہے بلکہ الگ الگ دو واقعوں کا ذکر ہے کہ ایک واقعہ میں تو اسی آدمیوں نے کھایا تھا اور ایک واقعہ میں چالیس آدمیوں نے، لیکن ایک شارح نے کہا ہے کہ واقعہ متعدد نہیں بلکہ ایک ہی ہے جس کا ذکر ان روایتوں میں ہے اور ان رویتوں میں تطبیق یہ ہے کہ ان اسی ( ٨٠) آدمیوں نے دو مرحلوں میں کھانا کھایا تھا، پہلے دس دس کر کے چالیس آدمی کھانے سے فارغ ہوئے اور اس کے بعد ان چالیس آدمیوں نے کھانا کھایا جو آنے میں پہلے چالیس آدمیوں سے پیچھے رہ گئے تھے یا آنحضرت ﷺ نے ان کو بعد میں بلا بھیجا تھا۔ اس تطبیق کی روشنی میں بخاری کی دوسری روایت کے یہ الفاظ کہ چالیس آدمیوں نے کھایا اور ان کے بعد آنحضرت ﷺ نے کھانا تناول فرمایا کی وضاحت یہ ہوئی کہ جب چالیس آدمی کھانے سے فارغ ہوگئے تو چالیس آدمیوں کی دوسری جماعت آنے سے پہلے آپ ﷺ نے کھانا تناول فرمالیا، اس طرح آپ ﷺ کی برکت پہلی جماعت کو بھی حاصل ہوگئی اور دوسری جماعت کو بھی۔
انگلیوں سے پانی ابلنے کا معجزہ
وعنه قا ل : أتي النبي صلى الله عليه و سلم بإناء وهو بالزوراء فوضع يده في الإناء فجعل الماء ينبع من بين أصابعه فتوضأ القوم قال قتادة : قلت لأنس : كم كنتم ؟ قال : ثلاثمائة أو زهاء ثلاثمائة . متفق عليه
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں ( ایک موقع پر) جب کہ نبی کریم ﷺ (مدینہ کے قریب) زوراء گاؤں میں تشریف فرما تھے آپ ﷺ کی خدمت میں ( پانی) کا ایک برتن لایا گیا، آپ ﷺ نے اپنا مبارک ہاتھ اس برتن میں رکھ دیا اور آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کا فوارہ ابلنے لگا، چناچہ پوری جماعت نے اسی پانی سے وضو کیا۔ ( حدیث کے راوی) حضرت قتادہ تابعی (رح) ( جنہوں نے یہ روایت حضرت انس ؓ سے نقل کی ہے؟ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے سوال کیا اس موقع پر آپ لوگ کتنے آدمی تھے؟ حضرت انس ؓ نے جواب دیا تین سو، یا تخمینا تین سو ( آدمی ہوں گے )۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
انگلیوں کے درمیان سے پانی کا فوارہ ابلنے لگا۔ کی وضاحت میں دو قول ہیں، ایک تو یہ کہ خود انگلیوں ہی سے پانی نکلنے لگا تھا۔ یہ قول مزنی کا ہے اور اکثر علماء کا رجحان اسی طرف ہے نیز اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔ فرأیت الماء من اصابعہ یعنی میں نے آپ ﷺ کی انگلیوں سے پانی ابلتے دیکھا۔ اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اصل معجزہ کی بڑائی بھی اسی بات سے ثابت ہوتی ہے اور آنحضرت ﷺ کی اس معجزہ کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس معجزہ سے افضل ہونا بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے عصا کی ضرب سے پتھر سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے تھے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس برتن میں جو پانی پہلے موجود تھا اس کو دست مبارک کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اتنا زیادہ کردیا کہ آنحضرت ﷺ کی مبارک انگلیوں کے درمیان سے فوارے کی طرح ابلنے لگا۔
انگشتہائے مبارک سے پانی نکلنے اور کھانے سے تسبیح کی آواز آنے کا معجزہ
وعن عبد الله بن مسعود قال : كنا نعد الآيات بركة وأنتم تعدونها تخويفا كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر فقل الماء فقال : اطلبوا فضلة من ماء فجاءوا بإناء فيه ماء قليل فأدخل يده في الإناء ثم قال : حي على الطهور المبارك والبركة من الله فلقد رأيت الماء ينبع من بين أصابع رسول الله صلى الله عليه و سلم ولقد كنا نسمع تسبيح الطعام وهو يؤكل . رواه البخاري
اور عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ( ہم صحابہ) تو آیات کو برکت و خوشحالی کا سبب سمجھتے تھے اور ( اے لوگو) تم سمجھتے ہو کہ آیات بس ( منکرین صداقت کو) ڈرانے کے لئے ہیں۔ ( اس کے بعد حضرت ابن مسعود ؓ نے ایک معجزہ بیان کیا کہ) ہم رسول کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ ( راستہ میں) پانی کی قلت کا مسئلہ پیدا ہوگیا، آنحضرت ﷺ نے حکم دیا کہ ( کسی کے پاس برتن میں تھوڑا سا بھی) بچا ہوا پانی ہو تو اس کو دیکھ کر ( میرے پاس لاؤ چناچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ ﷺ کی خدمت میں ایک ایسا برتن لے کر آئے جس میں بہت تھوڑا سا پانی تھا آپ ﷺ اپنا دست مبارک اس برتن میں ڈال دیا اور فرمایا آؤ جلدی سے یہ پاک اور بابرکت پانی حاصل کرو اور یہ وہ برکت ہے جو ( کسی ظاہری سبب و ذریعہ سے نہیں بلکہ ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ اور ( حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نے کہا) اس وقت رسول کریم ﷺ کی مبارک انگلیوں سے فوارہ کی طرح پانی ابلتے میں نے خود دیکھا۔ نیز ( حضرت ابن مسعود ؓ نے ایک اور معجزہ یہ بیان کیا کہ) کھانا کھاتے وقت ہم کھانے کی تسبیح کی آواز سنا کرتے تھے۔ ( بخاری)
تشریح
آیات سے مراد یا تو قرآن کریم کی آیتیں ہیں جو آسمان سے نازل ہوئی تھی یا وہ معجزات مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کے ذریعہ ظاہر فرماتا ہے زیادہ صحیح اور حدیث کے سیاق سے زیادہ مناسبت یہی ہے کہ آیات سے مراد معجزات لئے جائیں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ آیات اگرچہ کافروں اور منکروں کو ڈرانے کے لئے ہیں، یہ وضاحت حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی (رح) نے علامہ طیبی (رح) کے حوالہ سے نقل کی ہے اور ملا علی قاری (رح) نے لکھا ہے کہ آیات سے مراد صرف معجزات اور کرامات ہیں انہوں نے واضح کیا ہے کہ یہاں آیات سے آیات قرآنی مراد لینا غیر موزوں ہے۔ اس حدیث کے الفاظ سے صریح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی مبارک انگلیوں ہی سے پانی نکلتا تھا جیسا کہ جمہور علماء کرام کا قول ہے اور اسی نسبت سے آنحضرت ﷺ کے اس معجزے کو پتھر سے پانی نکلنے کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ پر ترجیع دی جاتی ہے لہٰذا یہ قول ناقابل اعتناء ٹھہر جاتا ہے کہ پانی انگلیوں سے نہیں نکلا تھا بلکہ جو تھوڑا سا پانی برتن میں پہلے موجود تھا وہی بڑھ گیا اور اتنا زیادہ بڑھا کہ آپ ﷺ کی مبارک انگلیوں کے درمیان سے فوارہ کی طرح ابلنے لگا، یہ قول دراصل الفاظ حدیث کی تاویل ہے اور نہیں معلوم کہ حدیث کے واضح مفہوم کے باوجود اس تاویل کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ہاں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ پانی کے اس معجزہ کا اظہار تو خالی برتن کے ذریعہ بھی ہوسکتا تھا، پھر تھوڑا سا پانی تلاش کرا کے منگانے کی کیا ضرورت تھی؟ اس میں یقینا کوئی حکمت و مصلحت ہی ہو کیا لیکن وہ حکمت و مصلحت کیا تھی محدثین وشارحین بسیار غور وفکر کے بعد بھی اس کی جڑ تک نہیں پہنچ سکے ہیں، لہذا اس کا علم اللہ کے سپرد کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر ہے۔ حضرت انس ؓ نے دوسرے معجزہ میں کھانے کی تسبیح کا ذکر کیا ہے، انہی کی ایک روایت میں یہ ہے کہ ( ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے ایک مٹھی میں سنگریزے اٹھائے تو وہ سنگریزے آپ ﷺ کے دست مبارک میں تسبیح ( یعنی اللہ کی پاکی بیان) کرنے لگے اور ہم نے خود ان کی تسیبح کی آواز سنی۔
وعن أبي قتادة قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال إنكم تسيرون عشيتكم وليلتكم وتأتون الماء إن شاء الله غدا فانطلق الناس لا يلوي أحد على أحد قال أبو قتادة فبينما رسول الله صلى الله عليه و سلم يسير حتى ابهار الليل فمال عن الطريق فوضع رأسه ثم قال احفظوا علينا صلاتنا فكان أول من استيقظ رسول الله صلى الله عليه و سلم والشمس في ظهره ثم قال اركبوا فركبنا فسرنا حتى إذا ارتفعت الشمس نزل ثم دعا بميضأة كانت معي فيها شيء من ماء قال فتوضأ منها وضوءا دون وضوء قال وبقي فيها شيء من ماء ثم قال احفظ علينا ميضأتك فسيكون لها نبأ ثم أذن بلال بالصلاة فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ركعتين ثم صلى الغداة وركب وركبنا معه فانتهينا إلى الناس حين امتد النهار وحمي كل شيء وهم يقولون يا رسول الله هلكنا وعطشنا فقال لا هلك عليكم ودعا بالميضأة فجعل يصب وأبو قتادة يسقيهم فلم يعد أن رأى الناس ماء في الميضأة تكابوا عليها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أحسنوا الملأ كلكم سيروى قال ففعلوا فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يصب وأسقيهم حتى ما بقي غيري وغير رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم صب فقال لي اشرب فقلت لا أشرب حتى تشرب يا رسول الله قال إن ساقي القوم آخرهم شربا قال فشربت وشرب قال فأتى الناس الماء جامين رواء . رواه مسلم هكذا في صحيحه وكذا في كتاب الحميدي وجامع الأصول وزاد في المصابيح بعد قوله آخرهم لفظة شربا
اور حضرت ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ( ایک سفر کے دوران) ہمارے سامنے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا کہ تم اس رات کے اول حصہ میں اور آخر حصہ میں ( یعنی رات) سفر کرو گے اور انشاء اللہ کہ تمہیں پانی مل جائے گا ( یعنی آپ ﷺ نے گویا اس پانی کی طرف اشارہ فرمایا جو بطریق معجزہ حاصل ہونا تھا اور جس کا ذکر آگے آرہا ہے) چناچہ تمام لوگ اس طرح ( بےتحاشا) چلنے لگے کہ کسی کو کسی کی پرواہ نہیں تھی ( کیونکہ ہر شخص پر بس ایک ہی دھن سوار تھی کہ کسی طرح جلد سے جلد پانی تک پہنچ جائے اور اس دھن میں نہ کسی کو کسی کا ساتھ پکڑنے کا خیال تھا اور نہ کوئی کسی کو ساتھ لے کر چلنے کی طرف دھیان دے رہا تھا (بلکہ ہر شخص علیحدہ علیحدہ چلا جا رہا تھا )۔ ابو قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ ( اسی رات میں) رسول کریم ﷺ بھی چلے جا رہے تھے کہ جب آدھی رات گزر گئی تو آپ ﷺ ( سونے کے ارادہ سے) راستہ سے ہٹ کر ( ایک کنارے پر) اتر گئے اور سر رکھ کر لیٹ گئے اور اور ( سونے سے پہلے کسی خادم کو ہدایت فرمائی کہ ہماری نماز کا خیال رکھنا، کہیں ایسا نہ ہو کی سب لوگ بیخبر سو جائیں اور فجر کے وقت آنکھ نہ کھلنے کے سبب نماز قضاء ہوجائے، لیکن ایسا ہی ہوا کہ سب لوگ بیخبر ہوگئے اور نیند کے غلبہ سے فجر کے وقت کسی کی بھی آنکھ نہیں کھلی) پھر سب سے پہلے رسول کریم ﷺ بیدار ہوئے جب کہ دھوپ آپ ﷺ کی پشت مبارک پر پڑنے لگی آپ ﷺ نے (سب کو جگا کر) فرمایا کہ فورا تیار ہوجاؤ ( اور یہاں سے چل دو ) چناچہ ہم لوگ ( جلدی جلدی) اپنی سواریوں پر بیٹھے اور وہاں سے چل پڑے یہاں تک کہ جب سورج ( ایک نیزہ کے بقدر یا اس سے زیادہ) بلند ہوا تو آنحضرت ﷺ ( سواری) سے اتر گئے، پھر آپ ﷺ نے وضو کا برتن منگایا جو میرے پاس تھا اور جس میں تھوڑا سا پانی باقی تھا اور اس سے آپ ﷺ نے مختصر وضو کیا ( یعنی جن اعضاء کو تین تین بار دھویا جاتا ہے ان کو آپ ﷺ نے پانی کی قلت کے سبب ایک ایک بار یا دو دو بار ہی دھونے پر اکتفا کیا )۔ اور ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ ( وضو کے بعد) ذرا سا اس برتن میں بچ گیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا اس برتن ( کے پانی) کو حفاظت سے رکھنا، اس لئے کہ عنقریب اب پانی سے ( بطریق معجزہ) ایک ( اہم اور عظیم الشان) بات ظہور پذیر ہوگی ( جس کا بڑا فائدہ تمہیں ہی پہنچے گا) اس کے بعد بلال ؓ نے نماز کے لئے اذان کہی اور رسول کریم ﷺ نے ( سنت کی) دو رکعتیں پڑھ کر ( ہمراہی صحابہ کے ساتھ) فجر کی قضاء نماز باجماعت ادا کی۔ نماز سے فراغت کے بعد آنحضرت ﷺ سوار ہوئے اور ہم بھی اپنی سواریوں پر بیٹھ گئے ( اور آگے کا سفر شروع ہوگیا) یہاں تک کہ ہم ( قافلہ کے ان لوگوں سے جا ملے ( جو ہم سے کچھ آگے جا کر اترے تھے، اس وقت دن چڑھ چکا تھا اور سورج اوپر آگیا تھا جس سے ہر چیز تپنے لگی تھی لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہم تو ہلاک ہوگئے ( یعنی گرم ہوا کے تھپیڑوں اور دھوپ کی تمازت نے ہمارا برا حال کردیا ہے) اور چونکہ پانی نہیں ہے اس لئے) پیاس ( کی شدت بڑھ رہی ہے )۔۔۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمہارے لئے ہلاکت نہیں )۔ پھر آپ ﷺ نے وضو کے پانی کا وہی برتن طلب فرمایا اور اس برتن سے پانی ڈالنا شروع کردیا اور ابوقتادہ ؓ نے لوگوں کو پلانا شروع کیا، اہل قافلہ نے جیسے ہی اس برتن سے پانی گرتے ( اور کچھ لوگوں کو پیتے) دیکھا تو سب کے سب ایک دم ٹوٹ پڑے اور ایک دوسرے پر گرنے لگے، آنحضرت ﷺ نے ( ان کی بےصبری دیکھ کر) فرمایا خوش اسلوبی اختیار کرو اور اخلاق سے کام لو، تم سب مل کر اس پانی سے) سیراب ہوجاؤ گے۔ چناچہ فورًا ہی) سب لوگوں نے تنظیم وخوش اسلوبی اختیار کر ( اور الگ الگ ہو کر وقار و قطار کے ساتھ کھڑے ہوگئے) پھر رسول کریم ﷺ نے پانی ڈالا اور مجھ سے فرمایا کہ لو پیو، میں نے عرض کیا کہ میں اس وقت تک نہیں پی سکتا جب تک آپ ﷺ نہ پی لیں، آپ ﷺ نے فرمایا لوگوں کا ساقی ان کا آخری آدمی ہوتا ہے۔ یعنی جو شخص لوگوں کو پلاتا ہے وہ خود سب کے بعد پیتا ہے کیونکہ یہ آداب میں سے ہے کہ ساقی جب سب کو سیراب کرلے تب خود پئے، حضرت ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ ( ارشاد گرامی کی اتباع میں) میں نے پی لیا اور پھر آنحضرت ﷺ نے پانی نوش فرمایا۔ ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد اہل قافلہ پانی ( کی جگہ) پر اس حال میں پہنچے کہ سیراب تھے اور راحت پاچکے تھے۔ اس روایت کو مسلم نے نقل کیا ہے اور صحیح مسلم میں اسی طرح منقول ہے۔ نیز کتاب حمیدی اور جامع الاصول میں بھی یہ روایت ان ہی الفاظ کے ساتھ منقول ہے، البتہ مصابیح میں، ساقی القوم اخرہم کے بعد شربا کا لفظ مزید ہے۔
تشریح
آنحضرت ﷺ نے جو آنکھ کھلتے ہی قضاء نماز نہیں پڑھی بلکہ اس کو کچھ مؤخر کر کے اس جگہ سے روانہ ہوگئے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ کسی جگہ پہنچ کر نماز پڑھنا چاہتے تھے، جہاں پانی دستیاب ہو، یا یہ وجہ تھی کہ جس وقت آپ ﷺ کی آنکھ کھلی وہ نماز کے لئے وقت کراہت تھا اس لئے آپ ﷺ نے اس وقت کراہت کو نکالنے کے لئے نماز کو کچھ اور مؤخر کیا اور وہاں سے روانہ ہوگئے جیسا کہ پہلی روایت کے الفاظ فرکبنا فسرنا حتی اذا ارتفعت الشمس دلالت کرتے ہیں اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس جگہ سے فورا منتقل ہوجانا چاہئے جہاں حکم الٰہی کی تعمیل میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہو یا کسی ممنوع بات کا ارتکاب ہوگیا ہو اگرچہ وہ ارتکاب قصدا نہ ہوا ہو۔ نیز آپ ﷺ نے فجر کی قضاء نماز ادا کرنے سے پہلے جو رکعتیں پڑھیں وہ سنتیں تھیں اور مسئلہ یہی ہے کہ اگر آنکھ نہ کھلنے یا کسی اور سبب سے فجر کی نماز وقت پر ادا نہ ہو سکے اور پھر اس کی قضاء زوال آفتاب سے پہلے ادا کی جائے تو اس کے ساتھ سنت کی دو رکعتیں بھی پڑھنی چاہئیں، ہاں اگر فرض نماز فوت نہ ہوئی ہو بلکہ صرف سنتیں فوت ہوئی ہوں تو اس کی قضا نہیں ہے لیکن امام محمد کا قول یہ ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد زوال آفتاب سے پہلے فوت شدہ سنتوں کی قضاء نماز پڑھ لینی چاہئے، گویا کسی بھی امام کے مسلک میں زوال آفتاب کے بعد اس کی قضاء نہیں ہے۔ فجر کی قضاء نماز ( باجماعت) ادا کی سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس بھی اپنے اپنے برتن تھے جن میں وہ اتنا پانی رکھتے تھے کہ اس وقت وضو کرکے آنحضرت ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوئے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس اتنا بھی پانی نہیں تھا کہ آنحضرت ﷺ کی طرح مختصر ہی وضو کرلیتے، لہٰذا انہوں نے تیمم کر کے نماز میں شرکت کی، بہر حال اس سلسلہ میں حدیث کے الفاظ بالکل خاموش ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے علاوہ باقی لوگوں نے وضو کیا یا تیمم کیا تھا۔ تم پر ہلاکت نہیں ہے اس ارشاد کے ذریعہ آپ ﷺ نے لوگوں کو گویا تسلی و بشارت دی کہ گھبراؤ نہیں، تمہیں کسی ہلاکت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے غیب سے پانی بھیجے گا، اس اعتبار سے یہ جملہ خبریہ ہوا، یا یہ کہ ارشاد دراصل جملہ دعائیہ تھا یعنی آپ ﷺ نے گویا یہ فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں ہلاکت سے دور رکھے اور عیب سے تمہاری سیرابی کا انتظام فرمائے۔
تبوک میں کھانے کی برکت کا معجزہ
وعن أبي هريرة قال : لما كان يوم غزوة تبوك أصاب الناس مجاعة فقال عمر : يا رسول الله ادعهم بفضل أزوادهم ثم ادع الله لهم عليها بالبركة فقال : نعم قال فدعا بنطع فبسط ثم دعا بفضل أزوادهم فجعل الرجل يجيء بكف ذرة ويجيء الآخر بكف تمر ويجيء الآخر بكسرة حتى اجتمع على النطع شيء يسير فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بالبركة ثم قال خذوا في أوعيتكم فأخذوا في أوعيتهم حتى ما تركوا في العسكر وعاء إلا ملؤوه قال فأكلوا حتى شبعوا وفضلت فضلة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله لا يلقى الله بهما عبد غير شاك فيحجب عن الجنة . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے دن ( توشہ کی کمی کے سبب) جب سخت بھوک نے لوگوں کو ستایا تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ جو تھوڑا بہت توشہ لوگوں کے پاس بچا ہوا ہے اس کو منگوا لیجئے اور پھر اس توشہ پر ان کے لئے اللہ سے برکت کی دعا فرمائیے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا اچھا۔ اور پھر آپ ﷺ نے چمڑے کا دستر خوان منگوا کر بچھوایا اور لوگوں سے ان کا بچا ہوا توشہ لانے کے لئے کہا گیا چناچہ لوگوں نے چیزیں لانا شروع کیں، کوئی مٹھی بھر چنے لے کر آیا، کوئی مٹھی بھر کھجور لے کر آیا اور کوئی روٹی کا ٹکڑا لایا، اس طرح اس دستر خوان پر کچھ تھوڑی سی چیزیں جمع ہوگئیں تو رسول کریم ﷺ نے نزول برکت کی دعا فرمائی اور پھر ( سب لوگوں سے) فرمایا لو ( جس کا جتنا جی چاہے اس میں سے اپنا برتن بھر لے) چناچہ لوگوں نے اپنے اپنے برتن میں لینا شروع کیا یہاں تک کہ لشکر میں کوئی ایسا برتن نہیں بچا جس کو بھر نہ لیا گیا ہو۔۔۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ پھر سارے لشکر نے ( جو تقریبًا ایک لاکھ مجاہدین پر مشتمل تھا) خوب پیٹ بھر کر کھایا اور بھر بھی بہت سارا کھانا بچ رہا۔ اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ بلاشبہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اور یاد رکھو) ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص ان دو گواہیوں کے ساتھ کہ جن میں سے اس کو کوئی شک وشبہ نہ ہو، اللہ تعالیٰ سے جا کر ملے اور پھر اس کو جنت میں جانے سے روکا جائے۔ ( مسلم)
تشریح
تبوک ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے تقریبا ٤٦٥ میل کے فاصلہ پر واقع ہے، ماہ رجب سن ٩ ھ میں آنحضرت ﷺ عزوہ کے لئے وہاں اسلامی لشکر لے کر گئے تھے کہا جاتا ہے کہ اس لشکر میں ایک لاکھ کے قریب مجاہدین اسلام شامل تھے اور آنحضرت ﷺ کا یہ سب سے آخری غزوہ تھا۔ جو تھوڑا بہت توشہ لوگوں کے پاس بچا ہوا تھا۔۔ الخ۔ سے مراد حضرت عمر کا مطلب یہ تھا کہ عام طور پر اہل لشکر غذائی سامان کی قلت کا شکار ہیں اور بہت سے لوگ بھوگے رہ رہے ہیں، تاہم کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے پاس ان کی حاجت و ضرورت سے زائد کچھ سامان خوراک ہوگا، لہٰذا آپ ﷺ ان لوگوں کو ہدایت فرمائیے، کہ وہ اس بچے ہوئے سامان خوراک کو لے کر آپ ﷺ کے پاس آجائیں۔ دراصل اس روایت میں یہاں اختصار سے کام لیا گیا ہے، پوری روایت یوں ہے کہ جب ( اہل لشکر کو سامان خوراک کی قلت کا سامنا کرنے پڑا اور) لوگ بھوکے رہنے لگے تو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! اگر آپ ﷺ اجازت دیں تو ہم اپنے اونٹ ذبح کر کے اپنی غذائی ضرورت پوری کرلیں، آنحضرت ﷺ نے ان کو اجازت دے دی، لیکن جب حضرت عمر کو یہ معلوم ہوا تو وہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! اگر آپ ﷺ نے لوگوں کو اونٹ ذبح کرنے کی اجازت دے دی تو اس سے لشکر کو سواریوں کی قلت کا ( زیادہ پریشان کن) مرحلہ پیش آجائے گا؟ لہٰذا آپ ﷺ ان لوگوں کو ( اپنے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت دینے کے بجائے) یہ حکم دیجئے کہ جس شخص کے پاس جو بچا ہوا توشہ ہو اس کو آپ ﷺ کے پاس لے آئے۔۔ الخ۔۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص۔۔ الخ۔ اس ارشاد گرامی کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے اس حقیقت کو واضح فرمایا کہ جس شخص نے کامل یقین و اعتقاد کے ساتھ توحید و رسالت کی گواہی دی ( یعنی کملہ گو ہوا) اور پھر ذرا بھی تشکیک وترد رکھے بغیر اسی یقین و اعتقاد کے ساتھ اس حالت میں اس کا انتقال ہوگیا تو اس کو جنت میں جانے سے روکا نہیں جائے گا۔
ام المؤمنین حضرت زینب کے ولیمہ میں برکت کا معجزہ
وعن أنس : كان النبي صلى الله عليه و سلم عروسا بزينب فعمدت أمي أم سليم إلى تمر وسمن وأقط فصنعت حيسا فجعلته في تور فقالت يا أنس اذهب بهذا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقل بعثت بهذا إليك أمي وهي تقرئك السلام وتقول إن هذا لك منا قليل يا رسول الله قال فذهبت فقلت فقال ضعه ثم قال اذهب فادع لي فلانا وفلانا وفلانا رجالا سماهم وادع من لقيت فدعوت من سمى ومن لقيت فرجعت فإذا البيت غاص بأهله قيل لأنس عدد كم كانوا ؟ قال زهاء ثلاث مائة . فرأيت النبي صلى الله عليه و سلم وضع يده على تلك الحيسة وتكلم بما شاء الله ثم جعل يدعو عشرة عشرة يأكلون منه ويقول لهم : اذكروا اسم الله وليأكل كل رجل مما يليه قال : فأكلوا حتى شبعوا . فخرجت طائفة ودخلت طائفة حتى أكلوا كلهم قال لي يا أنس ارفع . فرفعت فما أدري حين وضعت كان أكثر أم حين رفعت . متفق عليه
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا ام المؤمنین حضرت زینب ؓ کے ساتھ نکاح ہوا تو (شب عروسی کے بعد) میری والدہ ام سلیم نے کجھور، گھی اور قروت ( پنیر) لے کر مالیدہ سا بنا لیا اور اس مالیدہ کو ایک پیالہ میں رکھ کر مجھ سے کہا کہ انس ؓ! اس کو رسول کریم ﷺ کی خدمت میں لے جاؤ اور کہنا کہ میری مان نے یہ ( حقیر ہدیہ) آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا ہے اور آپ ﷺ کو سلام عرض کیا ہے اور کہا ہے کہ ( یا رسول اللہ ﷺ! ) یہ ایک چھوٹا سا ہدیہ ( جو) ہماری طرف سے آپ ﷺ کے لئے ہے ( اگرچہ آپ ﷺ کی شان کے لائق نہیں ہے لیکن آپ ﷺ کے الطاف کریمانہ سے امید ہے کہ اس کو قبول فرمائیں گے) چناچہ میں اس کو لے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ میری والدہ نے کہا تھا عرض کردیا۔ آپ ﷺ نے ( بڑی خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے) فرمایا کہ اس کو رکھ دو اور پھر فرمایا کہ فلاں فلاں اور فلاں شخص کو جن کے نام آپ ﷺ نے بتائے تھے جا کر بلا لاؤ اور ( دیکھو) راستہ میں جو شخص ملے اس کو بھی بلاتے لانا چناچہ میں گیا اور ان لوگوں کو کہ جو مجھے راستہ میں ملے، بلا کرلے آیا اور جب میں گھر میں واپس آیا، تو دیکھا کہ پورا گھر لوگوں سے بھرا ہوا تھا، حضرت انس ؓ سے پوچھا کہ ( اس وقت) تم سب کتنے لوگ ہوگے؟ حضرت انس ؓ نے جواب دیا کہ تین سو کے قریب۔ پھر میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ نے اس مالیدہ پر اپنا دست مبارک رکھ کر وہ کہا جو اللہ نے چاہا ( یعنی خیر و برکت کی دعا فرمائی، اس کے بعد آپ ﷺ نے دس دس آدمیوں کو بلانا شروع کیا اور وہ ( یکے بعد دیگرے دس دس) آدمی کھانے ( کے لئے آنے) لگے اور ( جو لوگ کھانے پر آتے ان سے) آپ ﷺ فرماتے! اللہ کا نام لے کر کھاؤ اور ہر شخص کو اپنے سامنے سے کھانا چاہئے ( کیونکہ کھانے کا یہ مسنون طریقہ ہے جس سے تہذیب وشائستگی کا اظہار بھی ہوتا ہے اور کھانے میں خیر و برکت بھی اترتی ہے۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں جب دس آدمیوں کی ایک جماعت کھانے سے فارغ ہو کر چلی جاتی تو ( اتنے ہی آدمیوں) کی دوسری جماعت آجاتی، یہاں تک کہ سب لوگوں نے ( خوب آسودہ ہو کر) کھالیا اور پھر آنحضرت ﷺ نے مجھ سے فرمایا انس! ( سب لوگ کھانے سے فارغ ہوگئے ہیں) اب اس پیالہ کو اٹھالو۔ میں نے پیالہ کو اٹھالیا اور میں نہیں کہہ سکتا کہ جس وقت میں نے پیالہ رکھا تھا اس وقت اس میں مالیدہ زیادہ تھا، یا اس وقت جب کہ ( تمام لوگوں کے اس کھانے سے فراغت کے بعد) میں نے اس کو اٹھایا۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
جن کے نام آپ ﷺ نے بتائے تھے۔ ان الفاظ کے ذریعہ حضرت انس نے یہ بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے تو متعین ومشخص کر کے ان تین آدمیوں کے نام بتائے تھے لیکن اس وقت میرے ذہن میں وہ تینوں نام محفوظ نہیں ہیں لہٰذا میں نے یہاں ان تینوں کو فلاں فلاں اور فلاں لفظ سے تعبیر کیا ہے اس سے واضح ہوا کہ رجالا سما ہم کے الفاظ خود حضرت انس کے ہیں جو نحوی طور پر فلان و فلاں وفلاں کا بدل واقع ہوئے ہیں یا یہ کہ ان الفاظ سے پہلے اعنی یا یعنی کا لفظ مقدر ( محذوف) ہے۔ اور میں نہیں کہہ سکتا کہ۔۔ الخ۔ یعنی ظاہری صورت کے اعتبار سے تو میں صحیح اندازہ نہیں لگا سکا کہ وہ مالیدہ پہلے زیادہ تھا یا جب میں نے وہاں سے اٹھایا تو ای وقت زیادہ تھا، تاہم جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آنحضرت ﷺ کا بابرکت ہاتھ رکھے جانے اور ان کے مقدس صحابہ کا پس خورجہ ہونے کے سبب وہ مالیدہ اس وقت جب کہ میں نے اس کو وہاں سے اٹھایا زیادہ بابرکت تھا۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ حدیث کے ظاہری مفہوم سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ام المؤمنین حضرت زینب کا ولیمہ اسی مالیدہ سے ہوا جو حضرت انس کی والدہ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا، لیکن دوسری روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ولیمہ کا کھانا روٹی اور گوشت پر مشتمل تھا جیسا کہ خود حضرت انس کی ایک روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت زینب کے ولیمہ میں بکری ذبح کی اور اس موقع پر ایک ہزار آدمیوں کو گوشت اور روٹی سے شکم سیر کیا۔ لہٰذا ان دونوں روایتوں میں بظاہر جو تضاد نظر آتا ہے اس کو دور کرنے کے لئے) یہ کہا گیا ہے کہ دراصل وہ مالیدہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اس وقت پہنچا تھا جب آپ ولیمہ کا کھانا ( جو گوشت اور روٹی پر مشتمل تھا) لوگوں کو کھلانے جا رہے تھے، اس طرح اس دعوت ولیمہ میں دونوں چیزیں کھلائی گئیں۔ یعنی مالیدہ بھی اور گوشت روٹی بھی۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک دن تو یہ مالیدہ والا واقعہ ہوا ہوگا اور دوسرے دن روٹی اور گوشت کھلانے کا واقعہ پیش آیا ہوگا! مگر ملا علی قاری نے اس حدیث کی شرح میں یہ لکھا ہے کہ اس حدیث سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت انس کی والدہ نے جو مالیدہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا اسی کا ولیمہ ہوا بلکہ انہوں نے وہ مالیدہ ہدیہ کے طور پر آپ ﷺ کو بھیجا تھا جس کو آپ ﷺ نے تین سو کے قریب لوگوں کو کھلایا تھا اور پھر اسی دن شام کو یا اگلے دن آنحضرت ﷺ نے بکری ذبح کر کے ولیمہ کیا اور اس ایک بکری کے گوشت اور روٹی میں اللہ تعالیٰ نے اتنی برکت عطا فرمائی کہ ایک ہزار شکم سیر ہوئے پس نہ تو ان دونوں روایتوں میں کوئی منافات ہے اور نہ ان دونوں معجزوں میں کوئی معارضہ
وعن جابر قال : غزوت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا على ناضح لنا قد أعيا فلا يكاد يسير فتلاحق بي النبي صلى الله عليه و سلم فقال لي ما لبعيرك قلت : قدعيي فتخلف رسول الله صلى الله عليه و سلم فزجره ودعا له فما زال بين يدي الإبل قدامها يسير فقال لي كيف ترى بعيرك قال قلت بخير قد أصابته بركتك قال أفتبيعنيه بوقية . فبعته على أن لي فقار ظهره حتى المدينة فلما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة غدوت عليه بالبعير فأعطاني ثمنه ورده علي . متفق عليه
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں ایک جہاد کے سفر میں رسول کریم ﷺ کے ہمراہ تھا اور آب کش اونٹ پر سوار تھا، وہ اونٹ ( اتنا زیادہ) تھک گیا تھا) کہ جیسا اس کو چلنا چاہئے تھا اس طرح چلنے پر قادر نہیں تھا ( ایک جگہ پہنچ کر) میرا اور نبی کریم ﷺ کا ساتھ ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے اونٹ کو کیا ہوگیا ہے ( کہ اچھی طرح نہیں چل رہا ہے) میں نے کہا کہ تھک گیا ہے ( یہ سن کر رسول کریم ﷺ میرے اونٹ کے پیچھے آگئے اور ( یا تو کسی چیز سے مار کر یا محض آواز کے ذریعہ) اس کو ہانکا اور پھر اس کے حق میں ( تیز روی کی) دعا فرمائی اس کا اثر یہ ہوا کہ میرا اونٹ سب سے آگے رہنے لگا، پھر آپ ﷺ نے پوچھا ( کہو) اب تمہارے اونٹ کا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا آپ ﷺ کی برکت سے اب خوب چلتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم اس اونٹ کو چالیس درہم کے بدلے بیچٹے ہو؟ میں نے اس شرط پر اس اونٹ کو ( آپ ﷺ کے ہاتھ) بیچ دیا کہ مدینہ تک یہ اونٹ میری ہی سواری میں رہے گا۔ پھر رسول کریم ﷺ اور ہم لوگ) جب مدینہ پہنچ گئے تو اگلے ہی دن صبح کو میں اونٹ لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ( تاکہ اونٹ سپرد کر کے اس کی طے شدہ رقم لے لوں) آپ ﷺ نے معاملہ کے مطابق) قیمت مجھے عطا فرما دی لیکن ( ازراہ) عنایت وہ اونٹ بھی مجھ ہی کو دے دیا۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
میں نے اس شرط پر اس اونٹ کو بیچ دیا۔۔ الخ۔ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز بیچتے وقت ایسی شرط عائد کرنا جس سے بیچنے والے کو فائدہ ہو جائز ہے حالانکہ مسئلہ کی رو سے یہ جائز نہیں ہے! پس یا تو اس مسئلہ میں یہ حدیث منسوخ کے حکم میں ہے یا یہ کہ مذکورہ شرط کا تعلق عین عقد سے نہیں تھا بلکہ خریدو فروخت کا معاملہ ہو جانیکے بعد یا تو حضرت جابر کی درخواست پر یا خود آنحضرت ﷺ کی عنایت سے یہ طے پایا کہ مدینہ تک یہ اونٹ جابر کی سواری میں رہے گا تاہم یہ وضاحت حدیث کی ظاہری عبارت سے میل نہیں رکھتی۔
غزوئہ تبوک کے موقع کے تین اور معجزے
وعن أبي حميد الساعدي قال : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم غزوة تبوك فأتينا وادي القرى على حديقة لامرأة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اخرصوها فخرصناها وخرصها رسول الله صلى الله عليه و سلم عشرة أوسق وقال : أحصيها حتى نرجع إليك إن شاء الله وانطلقنا حتى قدمنا تبوك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ستهب عليكم الليلة ريح شديدة فلا يقم فيها أحد منكم فمن كان له بعير فليشد عقاله فهبت ريح شديدة فقام رجل فحملته الريح حتى ألقته بجبلي طيئ ثم أقبلنا حتى قدمنا وادي القرى فسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم المرأة عن حديقتها كم بلغ ثمرها فقالت عشرة أوسق . متفق عليه
اور حضرت ابوحمید ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کے لئے ( مدینہ سے) روانہ ہو کر جب مدینہ سے تین دن کی مسافت پر واقع) وادی قریٰ میں پہنچے تو ایک باغ سے گزرے جو ایک عورت کا تھا، رسول کریم ﷺ نے ( اس باغ میں پہنچ کر ہم لوگوں سے فرمایا اندازہ کر کے بتاو اس باغ میں کتنے پھل ہونگے؟ ہم سب نے اپنا اپنا اندازہ بتایا ( کسی کا اندازہ کچھ ہوا اور کسی کا کچھ) پھر رسول کریم ﷺ نے بھی اندازہ کیا اور فرمایا کہ اس باغ میں دس وسق پھل ہوں گے۔ اس کے بعد اس عورت سے فرمایا ( جب پھل اتریں اور تم ان کا وزن کرو تو ( وزن کو یاد رکھنا تاآنکہ ہم لوٹ کر آئیں انشاء اللہ۔ وہاں سے روانہ ہو کر جب ہم تبوک پہنچے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ آج کی رات تم پر سخت آندھی آئے گی اس وقت کوئی شخص ( اپنی جگہ سے) کھڑا نہ ہو اور جس کے پاس اونٹ ہو وہ اس کے عقال ( رسی) مضبوطی سے باندھ دے ( مطلب یہ کہ آندھی سے حفاظت کے پیش نظر اس وقت کوئی شخص نہ تو چلے پھرے اور نہ اپنے اونٹ کو کھلی جگہ چھوڑ دے) چناچہ ( ایسا ہی ہوا کہ رات میں اتنی ( سخت آندھی آئی کہ ایک شخص کو جو آنحضرت ﷺ کی ہدایت کے مخالف کھڑا ہوگیا تھا، اڑا کرلے گئی اور طے کے پہاڑوں کے درمیان پھینک دیا۔ جب ہم ( غزوہ تبوک سے فارغ ہو کر) واپس ( مدینہ) روانہ ہوئے اور وادی قریٰ میں پہنچے تو رسول کریم ﷺ نے اس عورت سے باغ کے بارے میں پوچھا کہ ( اب بتاؤ) پھل کتنے ہوئے اس نے کہا دس وسق! ( بخاری ومسلم)
تشریح
طے دراصل اس مشہور قبیلہ کے مورث اعلی کا نام ہے جو قبیلہ طے کہلاتا ہے اور سابق جغرافیائی تقسیم کے مطابق یمن میں آباد تھا، مشہور تاریخی شخصیت حاتم طائی کا تعلق اسی قبیلہ سے تھا، وہ علاقہ جہاں قبیلہ طے آباد تھا اور جو تلا دطے کہلاتا تھا اور وہاں کے پہاڑ جبال طے کے نام سے مشہور تھے، موجودہ جغرافیائی تقسیم میں سعودی عرب کے خطہ نجد میں شامل ہے اور منطقہ شمر کہلاتا ہے۔ اس حدیث میں گویا آنحضرت ﷺ کے تین معجزوں کا ذکر ہے، ایک تو پھلوں کا، کہ آپ ﷺ نے درخت پر لگے ہوئے پھلوں کا بالکل صحیح وزن بتادیا، دوسرا سخت آندھی کا معجزہ کہ آپ ﷺ نے کسی ظاہری علامت یا آثار کے نمودار ہوئے بغیر سخت آندھی کی پیش گوئی فرمائی جو جوں کی توں درست ہوئی اور تیسرا معجزہ یہ ہوا کہ جس شخص نے آپ ﷺ کی ہدایت پر عمل نہیں کیا اس کو آندھی نے اڑا لیا اور اتنی دور لے جا کر پھینک دیا۔ اس موقع پر ان تینوں معجزوں کا اظہار یا تو ان منافقوں پر آپ ﷺ کی نبوت کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے ہوا جو آپ ﷺ کے لشکر میں شامل تھے یا اہل ایمان کے یقین و اعتقاد کو مزید پختہ کرنے کے لئے۔
وعن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنكم ستفتحون مصر وهي أرض يسمى فيها القيراط فإذا فتحتموها فأحسنوا إلى أهلها فإن لها ذمة ورحما أو قال : ذمة وصهرا فإذا رأيتم رجلين يختصمان في موضع لبنة فاخرج منها . قال : فرأيت عبد الرحمن بن شرحبيل بن حسنة وأخاه يختصمان في موضع لبنة فخرجت منها . رواه مسلم
اور حضرت ابوذر غفاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یقینا وہ وقت قریب ہے، جب تم مصر کو فتح کر لوگے اور مصر وہ زمین ہے جہاں قیراط بولا جاتا ہے۔ جب تم مصر کو فتح کرلو تو وہاں کے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا کیونکہ ان کو امان ہے اور ان سے قرابت ہے۔ یا یہ فرمایا کہ۔ ان کو امان ہے۔ اور ان سے سسرالی رشتہ ہے اور جب تم لوگ دیکھو کہ وہاں دو آدمی ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑا کرتے ہیں، تو تم وہاں سے نکل آنا۔ حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنے قیام مصر کے دوران) عبدالرحمن ابن شرجیل ابن حسنہ اور اس کے بھائی ربیعہ کو ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑتے دیکھا تو سر زمین مصر سے نکل آیا۔ ( مسلم)
تشریح
قیراط ایک سکہ کا نام تھا جو پانچ جو سونے کے برابر ہوتا تھا اور اس زمانہ میں مصر میں رائج تھا، مصر کے علاوہ دوسرے علاقوں میں بھی قیراط کا چلن تھا اور مختلف اوزان ومالیت رکھتا تھا مثلا مکہ معظمہ اور اس کے علاقوں میں ایک قیراط دینار کے چوبیس حصہ کے برابر اور عراق میں دینار کے بیسویں حصہ کے برابر ہوتا تھا۔ جہاں قیراط بولا جاتا ہے کے ذریعہ نہ صرف یہ کہ آپ ﷺ نے اس کے سکہ سے مصر کا تعارف کرایا اور پتہ بتایا بلکہ اس طرف بھی اشارہ فرمایا کہ اس ملک کے لوگ، جو اس وقت قبطی کافر تھے، دناء ۃ اور خست کا مزاج رکھتے تھے جس کی علامت یہ ہے کہ ان کی زبان پر قیراط کا ذکر بہت رہتا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ عالی حوصلہ اور کریم النفس ہوتے ہیں ان کی زبان پر حقیر وخسیس چیزوں کا ذکر زیادہ نہیں رہتا۔ وہاں کے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ اس ہدایت کا مطلب یہ تھا کہ اگرچہ مصری لوگ اپنی مخصوص مزاجی کیفیت ( یعنی دناء وخست) کے اعتبار سے تم لوگوں کے لئے تکلیف دہ ہوں گے مگر اس کے باوجود ان کے ساتھ تمہیں اچھا سلوک کرنا چاہئے۔ اگر تم ان کے ایسے افعال و اعمال دیکھو جو تمہارے نزدیک برے ہوں اور ان سے تمہیں ذہنی یا جسمانی اذیت پہنچتی ہو تو تم بہر حال ان سے عفو و درگزر کا معاملہ کرنا، ایسا نہ ہو کہ ان کی کسی بات یا کسی فعل سے مشتعل ہو کر تم ان کو تکلیف پہنچانے کے درپے ہوجاؤ۔ اور یہ ہدایت اس لے ہے کہ مصریوں سے ہمارے دو خصوصی تعلق ہیں ایک تو اس امان و حرمت کے سبب جو ہمارے بیٹے ابراہیم ابن محمد ﷺ کی نسبت سے مصریوں کو حاصل ہے، ابراہیم کی والدہ جن کا نام ماریہ قبطیہ تھا، مصری قوم ہی سے تعلق رکھتی تھیں اور ان سے دوسرا تعلق یہ ہے کہ ہمارے جد امجد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسبت سے مصریوں سے ہماری قرابت بھی ہے، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ حضرت ہاجرہ مصری النسل تھیں۔ یا یہ فرمایا کہ۔ ان کو امان ہے اور ان سے سسرالی رشتہ ہے۔ یہاں الفاظ اوشک کے لئے ہے جس کے ذریعہ راوی نے یہ ظاہر کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یا تو فان لہا ذمۃ ورحما کے الفاظ ارشاد فرمائے تھے، یا فان لہا ذمۃ وصھرا کے الفاظ، اس دوسری روایت کی صورت میں ذمہ ( امان) کا تعلق حضرت ہاجرہ کی نسبت سے ہوگا اور مصاہرت ( سسرالی رشتہ) کا تعلق حضرت ماریہ قبطیہ کی نسبت سے۔ جب تم لوگ دیکھو کہ وہاں دو آدمی۔۔ الخ۔ ان الفاظ کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے گویا اہل مصر کی ( دناءۃ اور خست کا حال بیان فرمایا کہ وہ لوگ ایک ایک اینٹ کی جگہ کے لئے لڑتے جھگڑتے ہیں۔ اس جملہ میں جو را تم ( تم لوگ دیکھو) کا لفظ ( بصغیہ جمع) فرمایا گیا ہے، اس کی مناسبت سے آگے جمع ہی کے صیغہ فاخر جوا ( تو تم لوگ وہاں سے نکل آنا) کا لفظ استعمال ہونا چاہئے تھا لیکن آپ ﷺ نے واحد کا صیغہ و اخرج استعمال فرما کر صرف حضرت ابوذر کو خطاب فرمایا جو حضرت ابوذر کے تئیں آنحضرت ﷺ کے خصوصی تعلق اور کمال شفقت پر دلالت کرتا ہے، لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عمومی ہی مراد ہو۔ مصر حضرت عمر بن الخطاب ؓ کے زمانہ میں فتح ہوا اور حضرت ابوذر غفاری ؓ نے وہاں اپنے قیام کے دوران دو آدمیوں کو ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑتے دیکھا تو فورا مصر چھوڑ کر چلے آئے، یہ حضرت عثمان غنی کی خلافت کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ پس آنحضرت ﷺ کو غیب سے معلوم ہوگیا تھا کہ ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑنا دراصل مصریوں کی خصومت، جنگ جوئی اور فتنہ آرائی کی وہ علامت ہوگی جس کے پیچھے فتنہ و فساد اور شرانگیزی کا جنم لینا والا ایک طویل سلسلہ چھپا ہوگا اور جس کے نتیجہ میں مسلامانوں اور اسلام کو زبر دست نقصان سے دوچار ہونا ہوگا، چناچہ بعد میں مصریوں کا خلافت عثمانی سے بغاوت کرکے مدینہ پر چڑھ آنا، حضرت عثمان کو شہید کردینا اور پھر مصر میں حضرت علی کی طرف سے تعینات حاکم حضرت محمد ابن ابوبکر کو قتل کردینا وہ واقعات ہیں جن کا علم آنحضرت ﷺ کو پہلے ہوگیا تھا، اسی لئے آپ ﷺ نے حضرت ابوذر کو ہدایت اور وصیت فرمائی کہ جب مصر میں ذرا سی بات میں دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہونے لگے تو تم ان سے ملنے جلنے ان کے درمیان رہنے اور ان کے ملک میں قیام کرنے سے اجتناب کرنا، چناچہ حضرت ابوذر نے ایسا ہی کیا۔
منافقوں کے عبرتناک انجام کی پیش خبری
وعن حذيفة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : في أصحابي وفي رواية قا ل : في أمتي اثنا عشر منافقا لا يدخلون الجنة ولا يجدون ريحها حتى يلج الجمل في سم الخياط ثمانية منهم تك ( فيهم الدبيلة : سراج من نار يظهر في أكتافهم حتى تنجم في صدورهم . رواه مسلم وسنذكر حديث سهل بن سعد : لأعطين هذه الراية غدا في باب مناقب علي رضي الله عنه وحديث جابر من يصعد الثنية في باب جامع المناقب إن شاء الله تعالى
اور حضرت حذیفہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا میرے صحابہ میں۔ ایک اور روایت میں یہ ہے کہ۔ میری امت میں بارہ منافق ہیں جو جنت میں نہیں داخل ہوں گے بلکہ جنت کی بو بھی نہیں پائیں گے جب تک کو سوئی کے ناکہ میں سے اونٹ نہ گز جائے۔ اور ان بارہ میں آٹھ منافقوں کو تو دبیلہ نمٹا دے گا ( یعنی ان کو ہلاک کرے ان کے شر اور فتنہ کو ختم کر دے گا) وہ ( دبیلہ) ایک آگ کا شعلہ ہوگا جو ان کے مونڈھوں میں پیدا ہوگا اور پھر سینوں یعنی پیٹوں تک پہنچ جائے گا۔ ( مسلم) او ہم حضرت سہل ابن سعد کی روایت لا عطین ہذہ ارایۃ کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مناقب میں اور حضرت جابر کی روایت من یصعد الثنیۃ کو جامع المناقب میں نقل کریں گے۔ ( انشاء اللہ تعالیٰ )
تشریح
جب تک کہ سوئی کے ناکے میں سے اونٹ نہ گزر جائے یہ مبالغہ اور تعلیق بالمحال ہے، مطلب کہ جس طرح سوئی کے ناکہ میں سے اونٹ کا گزرنا محال اور ناممکن ہے، اسی طرح ان منافقوں کا جنت میں جانا محال اور ناممکن ہے، قرآن میں بھی یہ الفاظ آئے ہیں اور وہاں یہ بات کفار کے حق میں فرمائی گئی ہے۔ ولا یدخلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط یعنی اور وہ کافر جنت میں داخل نہیں ہونگے، جب تک کہ سوئی کے ناکے میں سے اونٹ نہ گزر جائے۔ واضح رہے کہ امت ع کا اطلاق منافقوں پر ہوسکتا ہے اگر امت سے مراد امت دعوت ہو، لہٰذا میری امت میں بارہ منافق ہیں۔ میں میری امت سے آپ ﷺ کی مراد امت دعوت ہی تھی یعنی انسانیت عامہ جو آپ ﷺ کی دعوت اسلام کی مخاطب ہے اور جس کو اسلام کی طرف بلانا آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد ہے، ہاں منافقوں پر صحابہ کا اطلاق نہیں ہوسکتا، لہٰذا میرے صحابہ میں بارہ منافق ہیں کی تاویل کی جائے گی کہ آپ ﷺ نے ان منافقوں پر صحابہ کا اطلاق ان کے ظاہر احوال کے اعتبار سے کیا کہ اگرچہ ان کے اندر نفاق تھا لیکن بظاہر وہ کلمہ گو تھے اور اپنی اس ظاہری حیثیت کی بناء پر وہ جماعت صحابہ سے اختلاط رکھتے اور ان کے درمیان رہتے سہتے تھے، مطلب یہ کہ ان کے ظاہری احوال کے اعتبار سے اور صحابہ کے ساتھ ان کے اختلاط کو دیکھتے ہوئے آپ ﷺ نے ان کو مجاذا صحابی فرمایا اس اعتبار سے امت کے بارے میں بھی کہا جاسکتا ہے، کہ امت دعوت نہیں بلکہ امت اجابت ہی مراد ہے۔ حضرت حذیفہ کی ایک روایت میں منقول ہے کہ ان منافقین کی تعداد چودہ ١٤ تھی لیکن ان میں سے دو نے توبہ کرلی تھی اور بارہ نفاق پر قائم رہے اور جیسا کہ مخبر صادق ﷺ نے خبر دی تھی وہ بدبخت اسی حالت میں مرے۔ بہر حال آنحضرت ﷺ نے اپنے بعض مخصوص اور مقرب صحابہ کو ان منافقین کے بارے میں تشخص کے ساتھ بتادیا تھا، تاکہ وہ ان کے مکرو فریب اور فتنہ پر دارزیوں سے ہوشیار رہیں، ان منافقین نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنے عناد آمیز عزائم کے تحت جو فتنہ پردازیاں کیں ان کے ذکر سے اسلامی تاریخ بھری پڑی ہے، ان بدبختوں کے مکروہ عزائم کا نقطہ عروج اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے غزوہ تبوک سے واپسی کے سفر کے دوران ایک گھاٹی میں دغا اور فریب کی راہ میں آنحضرت ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو محفوظ رکھا۔ دبیلۃ دبل یا دبلۃ کی تصغیر ہے، جس کے معنی اس پھوڑے کی ہیں جو پیٹ میں ہوتا ہے اور جس کے سبب اکثر موت واقع ہوجاتی ہے، بعض حضرات نے کہا ہے کہ دبیلہ طاعون کا ورم مراد ہے جس کو انگریزی میں پلیگ کہتے ہیں ویسے دبل کے ایک معنی آفت اور مصیبت کے بھی ہیں۔ جو ان کے مونڈھوں میں پیدا ہوگا۔۔ الخ۔ ان الفاظ کے ذریعہ دبیلہ کی وضاحت کی گئی ہے اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ الفاظ آنحضرت ﷺ کے اصل ارشاد کے جزو نہیں بلکہ حضرت حذیفہ کے اپنے الفاظ ہیں، نیز ان الفاظ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ دبیلہ سے طاعون کا ورم ہی مراد ہے۔ حضرت حذیفہ ؓ سے ایک روایت میں یہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان منافقوں کے بارے میں مجھے پوری طرح بتادیا تھا کہ وہ کون کون سے لوگ ہیں اور کسی طرح مریں گے) چنا چہ وہ سب اسی طرح مرے جس طرح آنحضرت ﷺ نے مجھے بتایا تھا۔
عن أبي موسى قال : خرج أبو طالب إلى الشام وخرج معه النبي صلى الله عليه و سلم في أشياخ من قريش فلما أشرفوا على الراهب هبطوا فحلوا رحالهم فخرج إليهم الراهب وكانوا قبل ذلك يمرون به فلا يخرج إليهم قال فهم يحلون رحالهم فجعل يتخللهم الراهب حتى جاء فأخذ بيد رسول الله صلى الله عليه و سلم قال هذا سيد العالمين هذا رسول رب العالمين يبعثه الله رحمة للعالمين فقال له أشياخ من قريش ما علمك فقال إنكم حين أشرفتم من العقبة لم يبق شجر ولا حجر إلا خر ساجدا ولا يسجدان إلا لنبي وإني أعرفه بخاتم النبوة أسفل من غضروف كتفه مثل التفاحة ثم رجع فصنع لهم طعاما فلما أتاهم به وكان هو في رعية الإبل فقال أرسلوا إليه فأقبل وعليه غمامة تظله فلما دنا من القوم وجدهم قد سبقوه إلى فيء الشجرة فلما جلس مال فيء الشجرة عليه فقال انظروا إلى فيء الشجرة مال عليه فقال أنشدكم بالله أيكم وليه قالوا أبو طالب فلم يزل يناشده حتى رده أبو طالب وبعث معه أبو بكر بلالا وزوده الراهب من الكعك والزيت . ( علق الشيخ أن ذكر بلال في الحديث خطأ إذ لم يكن خلق بعد )
اور حضرت ابوموسی بیان کرتے ہیں ( کہ ایک مرتبہ) ابوطالب نے ( تجارت کی غرض) شام کا سفر کیا تو ان کے ساتھ نبی کریم ﷺ بھی گئے ( جو اس وقت بارہ سال کی عمر کے تھے، یہ تجارتی قافلہ ( ملک شام کے ایک مقام بصری میں) ایک راہب یعنی عیسائی پادری ( بحیرا نام) کے ہاں مقیم ہوا) اور سب نے اپنے کجاوے کھول لئے راہب ان لوگوں سے ملاقات کے لئے خود چلا آیا، حالانکہ اس سے پہلے جب بھی یہ لوگ ادھر سے گزرے اور اس راہب کے ہاں قیام کیا تو اس نے کبھی باہر آکر ان سے ملاقات نہیں کی تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے کجاوے کھول رہے تھے اور راہب ان کے درمیان کسی کو ڈہونڈتا پھر رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے آکر نبی کریم ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا یہی ہے، تمام جہانوں کا سردار، یہی ہے تمام جہانوں کے پروردگار کا رسول ( جو انسانیت عامہ کی ہدایت کے لئے آیا ہے) یہی وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہان ولاوں کے لئے رحمت ورافت کا ذریعہ بنا کر بھیجا ہے۔ قریش کے شیوخ نے راہب کو یہ کہتے سنا تو) کسی شیخ نے اس سے پوچھا کہ تم اس ( نوعمر) کے بارے میں ( یہ سب باتیں) کہاں سے جانتے ہو؟ راہب نے جواب دیا جب تم دو پہاڑوں کے درمیان والے راستہ سے نکل کر سامنے آئے تو ( میں یہاں سے دیکھ رہا تھا کہ، کوئی درخت اور کوئی پتھر ایسا نہ تھا جو سجدہ میں نہ گرا ہو اور درخت وپتھر بڑے پیغمبر کے علاوہ اور کسی کو سجدہ نہیں کرتے، نیز میں نے ایک اس شخص کو اس مہر نبوت کے ذریعہ بھی پہچانا ہے جو اس کے شانہ کی ہڈی کے نیچے سیب کے مانند واقعہ ہے۔ پھر وہ راہب اپنے گھر میں گیا اور قافلہ والوں کے لئے کھانا تیار کیا اور جب وہ کھانا لے کر ان کے پاس آیا تو) آنحضرت ﷺ اونٹ چرانے گئے ہوئے تھے، راہب نے قافلہ والوں سے کہا کہ اس شخص کو بلوا لو ( کیونکہ میرا مہمان خصوصی اصل میں وہی شخص ہے اور اسی کے اعزاز میں میں نے کھانا تیار کرایا ہے) چناچہ ( بلابھیجنے پر یا از خود) آنحضرت ﷺ تشریف لے آئے اور جب آپ ﷺ آرہے تھے ابر کا ایک ٹکڑا آپ پر سایہ کئے ہوئے تھا، پھر جب آپ ﷺ لوگوں کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ایسی جگہوں پر کہ جہاں درخت کا سایہ تھا وہ لوگ پہلے ہی قبضہ کر کے پیٹھ گئے تھے تو فورا درخت کی شاخوں نے ایک ٹکڑا آپ ﷺ پر سایہ کرلیا ( یہ ماجرا دیکھ کر) راہب نے قافلہ والوں سے کہا کہ درخت کے سایہ کو دیکھوں جو اس شخص پر جھک آیا ہے۔ پھر اس نے کہا، میں تم لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں) یہ بتاؤ کہ تم میں سے کون شخص اس ( نوعمر) کا سرپرست ہے؟ لوگوں نے کہا ابوطالب ہیں۔ ( یہ سن کر) راہب بڑی دیر تک ابوطالب کو اس بات کے لئے سمجھاتا رہا اور قسم دیتا رہا کہ وہ آپ ﷺ کو مکہ واپس بھیج دیں بالآخر ابوطالب نے آنحضرت ﷺ کو مکہ واپس بھیج دیا، ینز ابوبکر نے بلال کو آپ ﷺ کے ہمراہ کردیا اور راہب نے کنک اور روغن زیت کا توشہ آپ ﷺ کے ساتھ کیا۔ ( ترمذی)
تشریح
نیز میں نے اس شخص کو اس مہر نبوت کے ذریعہ بھی پہچانا ہے۔۔ الخ۔ بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ راہب اہل قافلہ کو یہ جواب دینے کے بعد کھڑا ہوا اور آنحضرت ﷺ کو گلے لگایا اور پھر اہل قافلہ سے آنحضرت ﷺ کی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت سے سوال کئے کہ ان کے شب وروز کس طرح گزرتے ہیں، ان کے رہنے سہنے، اٹھنے بیٹھنے، لیٹنے، سونے اور کھانے پینے کا کیا انداز ہے اور لوگوں کے ساتھ ان کے اخلاق و معاملات کیسے ہیں وغیرہ وغیرہ اہل قافلہ نے جو جواب دیئے ان کو اس نے اپنی کتابوں میں پڑھی ہوئی باتوں اور اپنی معلومات کے بالکل مطابق پایا۔ درخت کی شاخوں نے جھک کر آپ ﷺ پر سایہ کرلیا کے تحت شارحین نے لکھا ہے کہ اگرچہ اس وقت آنحضرت ﷺ کے سر پر ابر کے اس ٹکڑے کا سایہ موجود تھا جو راستہ سے آپ ﷺ پر سایہ فگن چلا آرہا تھا لیکن اس کے باوجود درخت نے جھک کر آپ ﷺ پر جو سایہ کیا وہ آپ ﷺ کی امتیازی حیثیت اجاگر کرنے اور آپ ﷺ کے اعزاز کو ظاہر کرنے کے لئے تھا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس وقت ابر کا سایہ ہٹ گیا تھا، اس لئے درخت نے جھک کر سایہ کرلیا جس میں آپ ﷺ کے معجزہ کا اظہار تھا۔ بہر حال سر مبارک پر بادل کا سایہ فگن ہونا آپ ﷺ کے معجزات میں سے ہے، لیکن علماء نے لکھا ہے کہ یہ صورت ہمیشہ نہیں رہتی تھی بلکہ کبھی ضرورت و احتیاج کے وقت یہ معجزہ ظاہر ہوتا تھا۔ درخت کے سایہ کو دیکھو جو اس پر جھک آیا ہے سے راہب کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم ( بادل کی صورت میں) آسمان کے سایہ کو نہیں دیکھ یکتے تو زمین کے اس سایہ ہی کو دیکھ لو جو درخت کی شاخوں کی صورت میں اس ہستی پر جھکا ہوا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ راہب کی مراد اہل قافلہ کو سر کی آنکھوں سے نہیں دل کی آنکھوں سے دیکھنے کی طرف متوجہ کرنا تھا کیونکہ سر کی آنکھوں سے توہ لوگ خود ہی دیکھ رہے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنی فطرت سلیم مسخ کر کے جہل و انکار کی تاریکی میں بھٹکنا ہی اپنا مقدر بنا لیا تھا ان کی دل کی آنکھیں تو تعصب اور ہٹ دھرمی سے ایسی بند ہوئیں کہ انہوں نے پیغمبر آخر الزماں ﷺ کی آسمانی صداقت کی اس بڑی سے بڑی علامتیں کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود نورہدایت کی کوئی کرن حاصل نہیں کی، وہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی سب نشانیاں ( سر کی آنکھوں سے) دیکھتے تھے لیکن دل کی آنکھوں کا) ایسا دیکھنا ان کو نصیب نہیں ہوتا تھا جو ان کے کام آتا اور ان کو راہ راست پر لگا دیتا جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا وترہم ینظرون الیک وہم لا یبصرون اور ان کافروں) کو آپ دیکھتے ہیں کہ گویا آپ کو دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ بالآخر ابوطالب نے آنحضرت ﷺ کو مکہ واپس بھیج دیا بات دراصل یہ تھی کہ بصری رومی سلطنت کے زیر نگین تھا جہاں عیسائی شہنشاہیت کا پرچم لہرا رہا تھال اور وہاں بڑے بڑے عیسائی پادریوں نے اپنے علم وقیافہ کی بنیاد پر نبی آخر الزمان کی بعثت کی خبر دی تھی، جس سے ایک طرح کی سراسیمگی اس عیسائی شہنشاہیت پر طاری ہوگئی تھی اور اس بات کا وسیع پیمان پر انتظام کیا گیا تھا کہ جس طرح بھی ممکن ہو اس نئے نبی کو اپنے اثرات پھیلانے سے پہلے ہی دنیا سے ختم کردیا جائے! راہب بحیرا چونکہ آسمانی کتابوں کا سچا عالم تھا اور نبی آخر الزمان کے تئیں عقیدت رکھتا تھا اس لئے اس نے آنحضرت کو پہچان کر حضرت ابوطالب پر زور ڈالا کہ آپ کو مکہ واپس کردیں، اس کو خوف تھا کہ اگر رومی سلطنت کے گماشتوں کو آنحضرت ﷺ کی بھنک ملی گئی تو وہ فوارا گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے جائیں گے اور قتل کر ڈالیں گے، چناچہ ترمذی اور حاکم نے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ ادھر تو حضرات ابوطالب کے تجارتی قافلہ کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا سفر شروع ہوا ادھر رومی سلطنت کے گماشتے جن کی تعداد سات تھی، آپ ﷺ کی ٹوہ میں لگ گئے کہ جہاں بھی ملیں قتل کردیا جائے، اس ٹوہ میں وہ بحیرا راہب تک بھی پہنچ گئے، بحیرا نے ان کو دیکھ کر کہا کہ تم لوگ یہاں کیا کرنے آگئے؟ انہوں نے کہا ہمیں معلوم ہوا ہے کہ پیغمبر آخر الزمان ﷺ اس مہینے ( اپنے ملک سے) سفر پر روانہ ہونے والے ہیں، لہٰذا ہر ہر راستہ پر آدمی لگا دئیے گئے ہیں کہ وہ جب بھی ہماری سلطنت کی حدود میں) داخل ہوں ان کو فورا مار ڈالا جائے۔ بحیرا نے کہا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو مقدر کردیا ہے تو کیا کوئی شخص اس کو بدل سکتا ہے، ان گماشتوں نے جواب دیا نہیں، تب بحیرا نے کہا ( میں تمہیں سچی بات بتاتا ہوں کہ تم لوگ جس شخص کی تلاش میں ہو وہ یقینا اللہ کا سب سے بڑا پیغمبر بننے والا ہے، دنیا کی کوئی طاقت اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی لہٰذا تم اپنے اس خیال خام سے باز آجاؤ کہ اس کو قتل کر دوگے اور بہتر یہی ہے کہ) تم اس کی اطاعت کو قبول کر کے اس کے ساتھ عقیدت و محبت رکھو۔ کنک اور روغن زیت کا توشہ آپ ﷺ کے ہمراہ کیا کنک موٹی روٹی کو کہتے ہیں اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ کنک اس خاص قسم کی روٹی کو کہتے تھے جو آٹے، دودھ اور شکر کو ملا کر بناتے تھے، اس روٹی کے ساتھ روغن زیت اس لئے دیا تھا کہ روٹی سے لگا کر کھانے کے کام آئے۔ جزری نے اس حدیث کے بارے میں لکھا ہے کہ ویسے تو اس کی اسناد صحیح ہے اور اس کے رجال بخاری اور صحیح مسلم یا ان دونوں میں سے کسی ایک کے سلسلے سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم اس حدیث میں حضرت ابوبکر اور حضرت بلال کو جو ذکر ہے، وہ غیر محفوظ ہے ( یعنی اصل روایت کا جزو نہیں ہے) کسی راوی کے سہو سے یہ جز و نقل ہوگیا ہے) کیونکہ اس وقت خود آنحضرت ﷺ کی عمر بارہ سال کی اور حضرت ابوبکر آنحضرت ﷺ سے دو یا ڈھائی سال چھوٹے تھے اور حضرت بلال تو شاید ان دنوں میں پیدا بھی نہ ہوئے ہوں گے۔ پس یہ کہنا کہ ابوبکر اور بلال کو آنحضرت ﷺ کے ہمراہ کردیا تھا کوئی معنی نہیں رکھتا، اسی لئے ذہبی نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے گو بعض حضرات نے ذہبی کہ اس قول کو مسترد کیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے اس حدیث کے بارے میں لکھا ہے کہ اس کے راوی ثقات ہیں اور اس میں کوئی منکر نہیں ہے علاوہ اس جزء کے ( جس میں یہ مذکور ہے کہ ابوبکر نے بلال کو آنحضرت ﷺ کے ہمراہ کردیا تھا۔ بہر حال یہ بات تو ثابت ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے، ہاں اس کے مذکور جزء کے بارے میں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے یہ اصل روایت کا جزء نہیں ہے بلک کسی روای کے سہو سے نقل ہوگیا ہے۔
درخت اور پتھر کے سلام کرنے کا معجزہ
وعن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال كنت مع النبي صلى الله عليه و سلم بمكة فخرجنا في بعض نواحيها فما استقبله جبل ولا شجر إلا وهو يقول : السلام عليك يا رسول الله . رواه الترمذي والدارمي
اور حضرت علی ابن ابی طالب کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مکہ میں تھا ( ایک دن) جب ہم مکہ کے نواح میں ایک طرف گئے تو جو بھی پہاڑ ( یعنی پتھر) اور درخت سامنے آیا اس نے کہا السلام علیک یا رسول اللہ! ( ترمذی والدارمی)
تشریح
زیادہ صحیح تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو بھی پتھر اور درخت آنحضرت ﷺ کو سلام کرتا تھا اس کی آواز حضرت علی بھی سنتے تھے اس اعتبار سے واقعہ معجزہ اور کرامت دونوں کی ظاہر کرتا ہے، معجزہ آنحضرت ﷺ کی نسبت سے اور کرامت حضرت علی کی نسبت سے۔ تاہم یہ احتمال بھی ہے کہ ان کے سلام کرنے کی آواز خود حضرت علی نے نہیں سنی تھی بلکہ ان کو آنحضرت ﷺ نے بتایا تھا۔
وعن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم أتي بالبراق ليلة أسري به ملجما مسرجا فاستصعب عليه فقال له جبريل : أبمحمد تفعل هذا ؟ قال : فما ركبك أحد أكرم على الله منه قال : فارفض عرقا . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب
اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ شب معراج میں جب نبی کریم ﷺ کی سواری کے لئے براق لایا گیا جس کی زین کسی ہوئی اور لگام چڑھی ہوئی تھی اور آنحضرت ﷺ اس پر سوار ہونے لگے تو وہ شوخیاں کرنے لگا۔ ( جس کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کو اس پر سوار ہونا دشوار ہوگیا) پس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس ( براق) کو مخاطب کر کے کہا کیا محمد ﷺ کے ساتھ تو یہ شوخیاں کر رہا ہے ( جب کہ تو نے اس سے پہلے کسی نبی کے ساتھ شوخی نہیں کی اور اگر پہلے نبیوں کے ساتھ بھی شوخی کی تھی تب بھی ان کے ساتھ تو ہرگز شوخی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ) وہ وہ ذات گرامی ہے اللہ کی نظر میں جن سے بہتر کوئی شخص تجھ پر سوار نہیں ہوا۔ راوی کا بیان ہے کہ ( حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی یہ بات سن کر) براق پسینہ پسینہ ہوگیا۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
یہ وہ ذات گرامی ہے۔۔ الخ۔ اس عبارت کے بین السطور سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس براق پر آنحضرت ﷺ سے پہلے دوسرے انبیاء (علیہم السلام) بھی سوار ہوچکے تھے، اس سلسلہ میں تفصیلی تحقیق باب المعراج میں گزر چکی ہے۔ براق پسینہ پسینہ ہوگیا کے تحت شارحین نے لکھا ہے کہ وہ براق تو اس خوشی کے مارے اچھل رہا تھا کہ آنحضرت ﷺ کی سواری کا شرف مجھے حاصل ہو رہا ہے لیکن حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے یہ گمان کیا کہ اس کی اچھل کود شوخی کے طور پر ہے لہٰذا جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے براق کو متنبہ کیا اور براق کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے اس گمان کا احساس ہوا تو مارے شرم کے پسینہ پسینہ ہوگیا۔
معراج سے متعلق ایک اور معجزہ
وعن بريدة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لما انتهينا إلى بيت المقدس قال جبريل بأصبعه فخرق بها الحجر فشد به البراق . رواه الترمذي
اور حضرت بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ( معراج کی رات میں) جب ہم بیت المقدس پہنچے تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا اور اس اشارہ کے ذریعہ پتھر میں سوارخ ہوگیا اور پھر ( میں نے یا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے) اس سوراخ کئے ہوئے پتھر سے براق کو باندھا۔ ( ترمذی)
تشریح
باب المعراج میں حضرت انس ؓ کی یہ روایت گزری ہے کہ براق کو اس حلقہ سے باندھا جس سے تمام انبیاء (علیہم السلام) ( اپنے براق) باندھتے تھے، پس اس روایت اور اس روایت کے درمیان بظاہر جو تضاد نظر آتا ہے اس کو رفع کرنے کے لئے شارحین نے لکھا ہے کہ حضرت انس ؓ والی روایت میں حلقہ سے مراد شاید وہ جگہ ہوگی، جہاں حلقہ ( سوراخ) تھا اور پھر بند ہوگیا تھا، شب معراج میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنی انگلی سے اشارہ کر کے اسی بند سوراخ کو کھولا ہوگا، دونوں روایتوں میں بس فرق یہ ہے کہ حضرت انس ؓ کی روایت میں تو حلقہ ( سوراخ) کھولنے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے اور یہاں حضرت بریدہ ؓ کی روایت میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔
اونٹ کی شکایت، درخت کے سلام اور ایک کے اثرات بد سے نجات کا معجزہ
وعن يعلى بن مرة الثقفي قال ثلاثة أشياء رأيتها من رسول الله صلى الله عليه و سلم بينا نحن نسير معه إذ مررنا ببعير يسنى عليه فلما رآه البعير جرجر فوضع جرانه فوقف عليه النبي صلى الله عليه و سلم فقال أين صاحب هذا البعير فجاءه فقال بعنيه فقال بل نهبه لك يا رسول الله وإنه لأهل بيت ما لهم معيشة غيره قال أما إذ ذكرت هذا من أمره فإنه شكا كثرة العمل وقلة العلف فأحسنوا إليه قال ثم سرنا فنزلنا منزلا فنام النبي صلى الله عليه و سلم فجاءت شجرة تشق الأرض حتى غشيته ثم رجعت إلى مكانها فلما استيقظ رسول الله صلى الله عليه و سلم ذكرت له فقال هي شجرة استأذنت ربها عز و جل أن تسلم على رسول الله صلى الله عليه و سلم فأذن لها قال ثم سرنا فمررنا بماء فأتته امرأة بابن لها به جنة فأخذ النبي صلى الله عليه و سلم بمنخره فقال اخرج إني محمد رسول الله قال ثم سرنا فلما رجعنا من سفرنا مررنا بذلك الماء فسألها عن الصبي فقالت والذي بعثك بالحق ما رأينا منه ريبا بعدك . رواه في شرح السنة
اور یعلی ابن مرہ ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے ( ایک ہی سفر میں) رسول کریم ﷺ ( کے معجزات میں) سے تین چیزیں دیکھیں، وہ اس طرح کے ہم آنحضرت ﷺ کے ساتھ جا رہے تھے کہ ناگہاں آب کش ( پانی کھینچنے والے) اونٹ کے پاس سے گزرے اس اونٹ نے جب آنحضرت ﷺ کو دیکھا تو بڑ بڑ کر کے اپنی گردن ( زمین پر رکھ دی) نبی کریم ﷺ اس کے پاس ٹھہر گئے اور پوچھا کہ اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ مالک حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا یہ اونٹ میرے ہاتھ بیچ دو! اس نے عرض کیا یار سول اللہ! میں اس اونٹ کو بیچ تو نہیں سکتا ہاں ( آپ ﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ کے احترام میں) اس کو آپ ﷺ کی خدمت میں ( بلا قیمت نذر کرتا ہوں، ویسے ( یہ عرض کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں دیکھتا کہ) یہ اونٹ ایسے گھر والوں کا ہے ( یعنی میرا اور میرے اہل و عیال کا) کہ جن کا ذریعہ معاش اس اونٹ کے علاوہ کچھ نہیں ہے آپ ﷺ نے یہ سن کر، فرمایا جب کہ تم نے اونٹ کے بارے میں حقیقت حال بیان کردی ہے تو ( میں بھی تمہیں یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ میں اپنی ضرورت کے لئے اس اونٹ کو خریدنا نہیں چاہتا تھا، بلکہ اصل مقصد اس اونٹ کو تنگی اور مصیبت سے نجات دلانا تھا کیونکہ) اس اونٹ نے درحقیقت مجھ سے شکوہ کیا ہے کہ اس سے کام زیادہ لیا جاتا ہے اور کھانے کو کم دیا جاتا ہے، پس اگر تم اس اونٹ کو بیچ کر اپنے سے جدا نہیں کرسکتے تو یہ تو کرسکتے ہو کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو ( یعنی اس کو گھاس دانہ خوب دو اور کام کم لو اگرچہ زیادہ کھلا کر زیادہ کام لینا جائز ہے یا اگر چارہ زیادہ دینے کی استطاعت نہیں ہے تو کام بھی کم لینا چاہئے لیکن یہ ظلم کی بات ہے کہ کھلاؤ کم اور کام زیادہ لو) اس کے بعد حضرت یعلی نے دوسرا معجزہ بیان کیا کہ) پھر ہم آگے روانہ ہوئے یہاں تک کہ ایک جگہ اتر کر آرام کرنے لگے اور نبی کریم ﷺ سوگئے اس وقت ( میں نے دیکھا کہ) ایک درخت زمین کو چیرتا ہوا آیا اور آنحضرت ﷺ کو ڈھانک لیا (یعنی آپ ﷺ پر جھک گیا) اور پھر وہ اپنی جگہ پر واپس چلا گیا جب رسول کریم ﷺ بیدار ہوئے تو میں نے آپ ﷺ سے اس درخت کے آنے اور جانے کا ذکر کیا آپ ﷺ نے (پورا واقعہ سن کر) فرمایا یہ وہ درخت ہے جس نے اپنے پروردگار سے اس بارے میں اجازت مانگی تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو سلام کرے چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اجازت دیدی (اور وہ مجھے سلام کرنے آیا تھا) حضرت یعلی تیسرا معجزہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم پھر آگے بڑھے اور ایک پانی کی جگہ (یعنی ایسی آبادی میں) پہنچے (جہاں پانی دستیاب تھا) وہاں ایک عورت اپنے لڑکے کو لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس آئی اس لڑکے پر دیوانگی طاری تھی (یعنی کسی جن یا شیطان کے اثرات بد میں گرفتار تھا) آنحضرت ﷺ نے لڑکے کی ناک پکڑ کر (اس جن یا شیطان سے) کہا کہ نکل جاؤ، میں محمد ﷺ اللہ کا رسول ہوں اس کے بعد ہم نے آگے کا سفر پورا کیا اور جب واپسی میں اس پانی والی آبادی کے پاس سے گزرے تو آنحضرت ﷺ نے اس عورت سے اس لڑکے کا حال دریافت کیا عورت نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم نے آپ ﷺ (کے جانے) کے بعد ( یا آپ ﷺ کی دعا کے بعد) اس لڑکے میں تشویش کی کوئی بات نہیں دیکھی (یعنی وہ بالکل اچھا ہوگیا ہے) اور سارے اثرات بد زائل ہوگئے ہیں) اس روایت کو بغوی نے شرح السنہ میں نقل کیا ہے۔
ایک اور لڑکے کے شیطانی اثر سے نجات پانے کا معجزہ
وعن ابن عباس قال : إن امرأة جاءت بابن لها إلى رسول الله رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت يارسول الله إن ابني به جنون وإنه ليأخذه عند غدائنا وعشائنا ( فيخبث علينا ) فمسح رسول الله رسول الله صلى الله عليه و سلم صدره ودعا فثع ثعة وخرج من جوفه مثل الجرو الأسود يسعى . رواه الدارمي
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک عورت۔۔۔ اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئی اور بولی کہ یا رسول اللہ ﷺ میرے بیٹے پر جنون کا اثر ہے جس کا دورہ (ہر دن) دوپہر اور رات کے کھانے کا وقت آنے پر (یا صبح اور شام کے وقت پڑتا ہے) آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر) اس لڑکے کے سینہ پر دست مبارک پھیرا اور دعا فرمائی، چناچہ اس لڑکے کو ایک بڑی قے ہوئی جس کے ذریعہ اس کے پیٹ سے ایک ایسی (ہیبتناک) شئ نکلی جسیے دوڑتا ہوا کالا پلہ ہو۔ (ترمذی)