معجزوں کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 183 · 80 hadiths · Page 4 of 4

5852Mishkaat-al-Masabih

درخت کا معجزہ

وعن أنس بن مالك قال جاء جبريل إلى النبي صلى الله عليه و سلم وهو جالس حزين وقد تخضب بالدم من فعل أهل مكة من قريش فقال جبريل يا رسول الله هل تحب أن أريك آية قال نعم فنظر إلى شجرة من ورائه فقال ادع بها فدعا بها فجاءت وقامت بين يديه فقال مرها فلترجع فأمرها فرجعت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم حسبي حسبي . رواه الدارمي

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نہایت غمگین اور زخموں کے خون میں لتھڑے ہوئے بیٹھے تھے جو اہل مکہ نے پہنچائے تھے کہ اتنے میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور بولے کہ یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ پسند کریں تو میں آپ ﷺ کو ( آپ ﷺ کا) ایک معجزہ دکھاؤں (جو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی علامت ہوگی اور جس سے آپ ﷺ کو تسلی ہوجائے گی کہ اللہ کی راہ میں اذیت و پریشانی اٹھانا آپ ﷺ کے مراتب و درجات کی بلندی میں اضافہ کا باعث ہے) آپ ﷺ نے فرمایا کہ ضرور دکھاؤ۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے اس درخت کی طرف دیکھا جو ان کے پیچھے تھا اور پھر آنحضرت ﷺ سے کہا کہ اس درخت کو بلائیے۔ آنحضرت ﷺ نے درخت کو بلایا اور وہ آپ ﷺ کے سامنے ( تابعداروں کی طرح) آکر کھڑا ہوگیا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا اب اس کو واپس جانے کا حکم دیجئے، آنحضرت ﷺ نے اس کو واپسی کا حکم دیا تو واپس چلا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا مجھ کو کافی ہے مجھ کو کافی ہے (دارمی)۔ تشریح جو اہل مکہ نے پہنچائے تھے سے کفار مکہ کہ وہ بدسلوکی اور اذیت رسانی مراد ہے جو ان کی طرف سے آنحضرت ﷺ کو جنگ احد میں پہنچی تھی جس کے نتیجہ میں آپ ﷺ کا دندان مبارک شہید ہوا اور رخسار مبارک زخمی ہوگیا تھا۔ صورت میں بارگاہ حق میں اپنا بلند مرتبہ ومقام اور اپنی عظمت دیکھ کر مجھے اپنے زخموں کی اذیت کا احساس رہ گیا اور نہ کوئی رنج وغم رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کہ خارق عادت (یعنی معجزہ یا کرامت) کا ظہور یقین و اعتقاد کی مضبوطی اور غم وحزن کے دفعیہ میں موثر کردار ادا کرتا ہے نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ جن بندگان عالی کو بارگاہ رب العزت میں تقرب اور عظمت کا مقام حاصل ہوتا ہے اگر ان کو دشمنوں کی اور مخالفوں کی طرف سے جسمانی یا روحانی اذیت و تکلیف اور رنج وغم پہنچے تو اس پر صبر کرنا چاہئے کیونکہ دین کی راہ میں جس قدر مشقت اور پریشانی آتی ہے اتنا ہی اجر بڑھتا ہے۔

5853Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی رسالت کی گواہی کیکر کے درخت کی زبانی

وعن ابن عمر قال كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في سفر فأقبل أعرابي فلما دنا منه قال له رسول الله صلى الله عليه و سلم تشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله قال ومن يشهد على ما تقول ؟ قال : هذه السلمة فدعاها رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو بشاطئ الوادي فأقبلت تخد الأرض حتى قامت بين يديه فاستشهدها ثلاثا فشهدت ثلاثا أنه كما قال ثم رجعت إلى منبتها . رواه الدارمي

اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جہاد کے سفر میں تھے کہ ( لشکر گاہ کے پاس) ایک دیہاتی آگیا اور جب رسول کریم ﷺ کے قریب پہنچا تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم اس امر کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے اور جس کا کوئی شریک و ہمسر نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ دیہاتی نے کہا آپ ﷺ نے جو کچھ کہا ہے ( یعنی نبوت و رسالت کا جو دعوی کیا ہے) اس کی گواہی و شہادت دینے والا (نوع انسانی کے علاوہ) اور کوئی بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کیکر کا درخت ( جو سامنے کھڑا گواہی دے گا) اور پھر آپ ﷺ نے کیکر کو بلایا اس وقت آپ ﷺ ایک وادی کے کنارہ پر ٹھہرے ہوئے تھے کیکر کا درخت ( آپ ﷺ کا حکم سن کر) زمین چیرتا ہوا آیا اور آپ ﷺ کے سامنے کھڑا ہوگیا آپ ﷺ نے اس سے بار گواہی دینے کو کہا اور اس درخت نے تین بار گواہی دی ( کہ آپ ﷺ اپنے دعوے میں سچے ہیں اور یقینا رسول رب العالمین ہیں) اس کے بعد وہ درخت اپنے اگنے کی جگہ واپس چلا گیا (یعنی جس جگہ سے آیا وہیں واپس جا کر کھڑا ہوگیا۔ (دارمی)

5854Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی رسالت کی گواہی کیکر کے درخت کی زبانی

وعن ابن عباس قال جاء أعرابي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : بما أعرف أنك نبي ؟ قال : إن دعوت هذا العذق من هذه النخلة يشهد أني رسول الله فدعاه رسول الله صلى الله عليه و سلم فجعل ينزل من النخلة حتى سقط إلى النبي صلى الله عليه و سلم ثم قال : ارجع فعاد فأسلم الأعرابي . رواه الترمذي وصححه

اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ ( ایک دن) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا کہ میرے لئے اس بات کو جاننے ( اس پر یقین کرنے) کا ذریعہ کیا ہے کہ آپ ﷺ نبی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس ذریعہ سے کہ میں ابھی اس کھجور کے درخت پر لگے ہوئے خوشہ کو بلاتا ہوں وہ ( یہاں آکر) گواہی دے گا کہ میں اللہ کا نبی اور رسول ہوں۔ چناچہ رسول کریم ﷺ نے اس خوشہ کو بلایا اور وہ ( خوشہ) کھجور کے درخت سے الگ ہو کر اترنے لگا اور نبی کریم ﷺ کے قریب زمین پر آ کر گرا ( اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کی گواہی دی) پھر آپ ﷺ نے اس کو حکم دیا کہ واپس جاؤ اور زوہ خوشہ واپس ( اپنی جگہ) چلا گیا، ( یہ دیکھ کر) اس دیہاتی نے فورا اسلام قبول کرلیا۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے۔

5855Mishkaat-al-Masabih

بھیڑیے کے بولنے کا معجزہ

وعن أبي هريرة قال جاء ذئب إلى راعي غنم فأخذ منها شاة فطلبه الراعي حتى انتزعها منه قال فصعد الذئب على تل فأقعى واستذفر فقال عمدت إلى رزق رزقنيه الله عز و جل أخذته ثم انتزعته مني فقال الرجل تالله إن رأيت كاليوم ذئبا يتكلم فقال الذئب أعجب من هذا رجل في النخلات بين الحرتين يخبركم بما مضى وبما هو كائن بعدكم وكان الرجل يهوديا فجاء الرجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأسلم وخبره فصدقه النبي صلى الله عليه و سلم ثم قال النبي صلى الله عليه و سلم إنها أمارة من أمارات بين يدي الساعة قد أوشك الرجل أن يخرج فلا يرجع حتى تحدثه نعلاه وسوطه ما أحدث أهله بعده . رواه في شرح السنة

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک بھیڑیا ( بکریوں) کے ایک ریوڑ میں، جہاں اس کا چرواہا بھی موجود تھا، گھس آیا اور اس میں سے ایک بکری اٹھا کر بھاگا، چرواہے نے اس کا تعاقب کیا اور آخر کار بکری کو اس بھیڑئیے سے چھڑا لیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ پھر وہ بھیڑیا ایک ٹیلہ پر چڑھا اور وہاں اس طرح بیٹھ گیا جیسے کوئی بھیڑیا سرین کے بل بیٹھتا ہے اور دونوں پاؤں کھڑے کر کے اپنی دم ان دونوں پاؤں کے درمیان داخل کرلی اور چرواہے کو ( زور سے) مخاطب کر کے بولا میں نے اپنا وہ رزق لینا چاہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے لیکن تم نے میرا رزق مجھ سے چھین لیا ہے۔ چرواہے نے ( جو ایک بھیڑیا کو بولتے دیکھا تو ششدرہ رہ گیا، چناچہ اس نے بھڑئیے ہی کو مخاطب کر کے کہا اللہ کی قسم، جیسا عجوبہ، میں نے آج دیکھا ہے ایسا تو کبھی نہیں دیکھا کہ ایک بھیڑیا ( آدمی کی طرح) باتیں کر رہا ہے۔ بھیڑیا پھر بولا اس سے بڑا عجوبہ تو اس شخص ( محمد ﷺ کا حال ہے، جو کھجوروں کے درختوں کے پیچھے دو سنگستانوں کے درمیان ( یعنی مدینہ میں) رہتا ہے، وہ شخص تمہیں وہ باتیں بتادے گا جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں اور وہ باتیں بھی بتادے گا جو تمہارے بعد وقوع پذیر ہونے والی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ وہ آدمی ( چرواہا) جو ایک یہودی تھا بھیڑئیے کی زبانی سن کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کے سامنے ( بھیڑیے کے بولنے کا) قصہ بیان کرکے مسلمان ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے بیان کردہ قصہ کو درست تسلیم کیا اور پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس طرح کی باتیں قیامت سے پہلے کی ( یعنی قرب قیامت کی) علامتیں ہیں وہ وقت آیا ہی چاہتا ہے کہ آدمی ( اپنے گھر سے) باہر جائے گا اور جب لوٹ کر ( گھر میں) آئے گا تو اس کے جوتے اور اس کا کو ڑما ( وغیرہ) اس کو وہ تمام باتیں بتادے گا، جو اس کے گھر والوں نے اس کی عدم موجودگی میں کی ہوں گی۔ ع ( شرح السنۃ) تشریح علامہ تور پشتی (رح) نے لکھا ہے کہ اس چرواہے کا نام جو بعد میں مسلمان ہو کر شرف صحابیت سے سرفراز ہوئے اہبار بن اوس خزاعی تھا، اس واقعہ کی نسبت سے ان کو مکلم الذئب کہا جانے لگا تھا۔۔۔ لیکن روایت کے یہ الفاظ کہ جو ایک یہودی تھا اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ اہبار ابن اوس خزاعی تھے کیونکہ قبیلہ خزاعہ کے لوگ یہودی نہیں تھے، ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اہبار اوس کا تعلق قبیلہ خزاعہ ہی سے تھا اور انہوں نے اپنے قبیلہ والوں کے برخلاف یہودی مذہب اختیار کرلیا تھا اس صورت میں تورپشتی کے قول پر کوئی اعتراض وار نہیں ہوگا۔ کھجور کے درختوں کے پیچھے دو سنگستانوں کے درمیان سے مراد مدینہ شہر تھا اور دو سنگستانوں دراصل حرتین کا ترجمہ ہے، حرتین تثنیہ ہے حرہ کا، جس کے معنی کالی پتھریلی زمین کے ہیں مدینہ شہر ایک ایسے میدان میں آباد ہے جو اپنی مشرقی اور مغربی سمتوں سے دو حروں ( یعنی دو سنگستانوں کے درمیان واقع ہے۔ پہلے گزرنے والی باتوں سے پچھلی امتوں کے احوال انجام مراد ہیں اور بعد میں وقوع پذیر ہونے والی باتیں بتائے سے مراد آنے والے زمانوں میں جو اہم واقعات و حوادث رونما ہوں گے ان کی پیش خبری بھی ہے اور عقبی وآخرت کے حقائق و کوائف بتانا بھی۔

5856Mishkaat-al-Masabih

برکت کہاں سے آتی تھی

وعن أبي العلاء عن سمرة بن جندب قال كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم نتداول من قصعة من غدوة حتى الليل يقوم عشرة ويقعد عشرة قلنا : فمما كانت تمد ؟ قال : من أي شيء تعجب ؟ ما كانت تمد إلا من ههنا وأشار بيده إلى السماء . رواه الترمذي والدارمي

اور حضرت ابوالعلاء (رح) ( تابعی) سمرہ ابن اجندب ( صحابی) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا ( ظہور معجزہ کے وقت) ہم سب نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک بڑے پیالہ میں سے ( دس دس آدمی باری باری صبح سے شام تک ( یعنی پورے دن) کھاتے رہتے تھے، ہوتا یہ کہ دس آدمی کھا کر اٹھ جاتے تو ( ان کی جگہ) دوسرے دس آدمی آکر بیٹھ جاتے تھے۔ ہم نے ( حضرت سمرہ ؓ سے) پوچھا کہ آخر وہ کیا چیز تھی جس کے ذریعہ پیالہ کی مدد ہوتی تھی ( یعنی اس پیالہ میں سے کھانا کس چیز کے ذریعہ اور کہاں سے اتنا زیادہ ہوجاتا تھا؟ )۔ حضرت سمرہ ؓ نے جواب دیا تمہارے لئے اس میں تعجب کی کیا بات ہے، اس پیالہ میں ( کھانے کا اضافہ) وہاں سے، یہ کہہ کر انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ ( ترمذی، دارمی) تشریح تمہارے لئے اس میں تعجب کی کیا بات ہے سوال تو ان سب تابعین کی طرف سے تھا جن کے سامنے حضرت سمرہ بیان کررہے تھے، لیکن حضرت سمرہ نے جواب میں صرف حضرت ابوالعلاء کو مخاطب کیا کیونکہ اول تو وہ بھی سوال کرنے والوں میں سے ایک تھے اور دوسروں یہ کہ اس مجلس میں حضرت ابوالعلاء کی حیثیت جلیل القدر تابعین میں ہونے کی وجہ سے سب سے نمایاں تھی۔ یا یہ کہ حضرت سمرہ نے کسی ایک شخص کو یا صرف اس مجلس کے لوگوں کو مخاطب نہیں کیا بلکہ ان کا خطاب عمومی طور پر ہر شخص سے ہے جو اس حدیث کو سنے یا پڑ ہے، بہر حال حضرت سمرہ کا مطلب یہ تھا کہ اس میں تعجب کی بات نہیں ہے کہ اس ایک پیالہ میں موجود ( تھوڑے سے کھانے سے اتنے زیادہ آدمی دن بھر کھاتے رہتے تھے باوجودیکہ ظاہر طور پر ایسا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا جس سے اس پیالہ کے کھانے میں اضافہ ہوسکتا، کیونکہ یہ تو معجزے کی بات تھی، اللہ اور اللہ کے رسول کا معاملہ تھا، اللہ کے رسول ﷺ دعا کرتے تھے اور اپنے دست مبارک سے اس پیالہ کو چھوتے تھے جس کے سبب اللہ آسمان سے برکت نازل کرتا تھا اور اس پیالہ میں غیر مرئی طور پر عالم بالا سے کھانا اترتا رہتا تھا، اس میں گویا قرآن کریم کی اس آیت (وَفِي السَّمَا ءِ رِزْقُكُمْ ) 51۔ الزاریات 22) کی طرف اشارہ ہے۔

5857Mishkaat-al-Masabih

جنگ بدر میں قبولیت دعا کا معجزہ

وعن عبد الله بن عمرو أن النبي صلى الله عليه و سلم خرج يوم بدر في ثلاثمائة وخمسة عشر قال : اللهم إنهم حفاة فاحملهم اللهم إنهم عراة فاكسهم اللهم إنهم جياع فأشبعهم ففتح الله له فانقلبوا وما منهم رجل إلا وقد رجع بجمل أو جملين واكتسوا وشبعوا . رواه أبو داود

اور حضرت عبداللہ ابن عمرو سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جنگ بدر کے دن تین سو پندرہ آدمیوں کو لے کر نکلے اور دعا فرمائی اے اللہ! یہ ( میرے صحابہ جو تیری راہ میں لڑنے کے لئے نکلے ہیں ننگے پاؤں ہیں ان کو سورای عطا فرما! یہ ننگے بدن ہیں (کہ ان کے جسم پر تہبند کے علاوہ کوئی کپڑا نہیں) ان کو لباس عطا کر، اے اللہ! یہ بھوکے ہیں، ان کو ( ظاہری و باطنی طور پر) شکم سیر فرما ( تاکہ ان کو تیری طاعت و عبادت کی طاقت حاصل ہو چناچہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ( مشرکین مکہ کے مقابلہ پر) فتح یاب کیا ( دشمن کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر آدمی جنگی قیدیوں کے طور پر ہاتھ لگے) مجاہدین اسلام، اس حالت میں واپس ہوئے کہ ان میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے پاس ایک یا دو اونٹ نہ ہوں، نیز سب کو لباس بھی نصیب ہوئے اور سب شکم سیر بھی ہوئے۔ ( ابوداؤد) تشریح مطلب یہ کہ ہزیمت خوردہ دشمن کے جو اونٹ، کپڑے اور غذائی سامان مال غنیمت کے طور پر اسلامی لشکر کے ہاتھ لگا۔ اس کی وجہ سے ان مجاہدین کو اونٹ بھی مل گئے، کپڑے بھی ملے اور شکم سیری بھی ہوگئی، پس آنحضرت ﷺ کی ایک ایک دعا قبول ہوئی۔۔۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعا کا قبول ہونا خصوصا ً اتنی جلدی اور اتنے مکمل طور پر قبول ہونا خارق عادت ( یعنی معجزہ و کر امت) کے قبیل سے ہے اور یہ نتیجہ تھا اس اس صبر کا جس کا مظاہرہ اللہ کی راہ میں پیش آنے والی تمام صعوبتوں اور پریشانیوں پر آنحضرت ﷺ اور مجاہدین اسلام کی طرف سے ہوا، جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے ان الصبر علی ما یکرہ فیہ خیر کثیر۔ ( ناگوار اور پریشان کن امور پر صبر کرنا درحقیقت بہت ساری بھلائیوں اور فائدوں کا استحقاق حاصل کرنا ہے) نیز اس صبر کا یہ تو وہ فوری ثمرہ تھا، جو اس دنیا میں ملا، اصل ثمرہ تو باقی ہی رہا، جو آخرت میں ملے گا۔ والاخرۃ خیر وابقی۔

5858Mishkaat-al-Masabih

ایک بشارت ایک ہدایت

وعن ابن مسعود عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قا ل : إنكم منصورون ومصيبون ومفتوح لكم فمن أدرك ذلك منكم فليتق الله وليأمر بالمعروف ولينه عن المنكر . رواه أبو داود

اور حضرت ابن مسعود ؓ رسول کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے زمانہ آئندہ میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی پیش خبری اور ان واقعات کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے فوائد کی بشارت کے طور پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مخاطب کر کے) فرمایا کہ یقینًا تمہیں ( دشمنوں کے مقابلہ پر) مدد ونصرت عطا ہوگئی، تمہیں ( مال غنیمت کی صورت میں بہت کچھ) ملے گا اور تمہارے ہاتھوں بہت بڑے بڑے علاقے اور مال و دولت سے بھرے ہوئے بہت سارے شہر فتح ہونگے پس تم میں سے جو شخص ان ( مذکورہ چیزوں) سے سرفراز ہو اس کو چاہئے کہ وہ ( درجہ کمال کو پہنچنے کے لئے دینی و دنیاوی معاملات ومشاغل میں) اللہ سے ڈرتا رہے لوگوں کو نیکی کی ہدایت و تلقین اور بری باتوں سے باز رکھنے کی سعی کرتا رہے۔ تشریح اس ارشاد کے ذریعہ آپ ﷺ نے گویا اعتدال و توازن کے راستہ کی راہنمائی فرمائی تاکہ کوئی شخص فتح و کامرانی حکومت وتاجداری اور مال و دولت کی سرفرازی میں اپنی حیثیت اور اپنے منصب ومقصد سے غافل نہ ہوجائے اور غروروتکبر، اسراف وخود نمائی اور ظلم وناانصافی کے راستہ پر چل کر اللہ کے غضب کا مورد نہ بن جائے دراصل اس ارشاد گرامی کے ذریعہ آپ ﷺ نے مسلمانوں کو قرآن کریم کی اس آیت کی طرف متوجہ کیا جس میں فرمایا گیا ہے۔ (اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ ) 22۔ الحج 41) یہ ( سچے مسلمان) لوگ ایسے ہیں کہ اگر ہم ان کو دنیا میں حکومت اور امارت دے دیں تو یہ لوگ ( خود بھی) نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور دوسروں کو بھی) نیک کاموں کی تلقین و ہدایت کریں اور برے کاموں سے منع کریں۔

5859Mishkaat-al-Masabih

زہر آلود گوشت کی طرف سے آگاہی کا معجزہ

وعن جابر بأن يهودية من أهل خيبر سمت شاة مصلية ثم أهدتها لرسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم الذراع فأكل منها وأكل رهط من أصحابه معه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ارفعوا أيديكم وأرسل إلى اليهودية فدعاها فقال سممت هذه الشاة فقالت من أخبرك قال أخبرتني هذه في يدي للذراع قالت نعم قالت قلت إن كان نبيا فلن يضره وإن لم يكن نبيا استرحنا منه فعفا عنها رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم يعاقبها وتوفي بعض أصحابه الذين أكلوا من الشاة واحتجم رسول الله صلى الله عليه و سلم على كاهله من أجل الذي أكل من الشاة حجمه أبو هند بالقرن والشفرة وهو مولى لبني بياضة من الأنصار . رواه أبو داود والدارمي

اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ اہل خیبر میں سے ایک یہودی عورت نے بھنی ہوئی بکری میں زہر ملایا اور پھر اس کو رسول کریم ﷺ کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیا، رسول کریم ﷺ نے اس بکری میں سے ایک دست لے کر خود بھی کھانا شروع کیا اور آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے صحابہ کی بھی ایک جماعت کھانے لگی، پھر ( ایک دم) رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنے ہاتھ روک لو ( اس میں سے کچھ نہ کھاؤ) اس کے بعد آپ ﷺ نے اس یہودی عورت کو بلانے کے لئے ایک آدمی بھیجا ( وہ آگئی تو) آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے اس بکری میں زہر ملایا ہے؟ عورت نے کہا آپ ﷺ کو کیسے معلوم ہوا؟ آپ ﷺ کے اللہ نے آپ ﷺ کو بتایا ہے یا مخلوق میں سے کسی نے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا؟ مجھے اس نے بتایا ہے جو میرے ہاتھ میں ہے، یہ بات آپ ﷺ نے دست کی طرف اشارہ کر کے کہی۔ تب اس عورت نے ( اعتراف کرتے ہوئے) کہا کہ ہاں میں نے اس بکری کو زہر آلود کردیا تھا۔ اور میں نے سوچا تھا کہ اگر محمد ﷺ نبی ہوں گے تو زہر آلود بکری ان کو ہرگز نقصان نہیں پہچائے گی اور اگر وہ نبی نہ ہوں گے تو ( زہر کے اثر سے ختم ہوجائیں گے اور) ہمیں ان سے نجات اور راحت مل جائے گی۔ پس رسول کریم ﷺ نے اس عورت کو معاف کردیا اور کوئی سزا نہیں دی اور صحابہ میں سے جن لوگوں نے اس بکری میں سے کھایا تھا ( ان میں سے ایک صحابی حضرت بشر ؓ نیز رسول کریم ﷺ نے بھی اس زہر آلود بکری کا گوشت کھالیا تھا اس کے اثرات کے دفعیہ کے لئے مونڈھوں کے درمیان سینگیاں کھنچوائیں اور ابوہند نے ( جن کا اصل نام یسار حجام تھا اور) جو ( ایک انصاری قبیلہ) بنو بیاضہ کے آزاد کردہ غلام تھے، شاخ اور چوڑی چھری کے ذریعہ سینگیاں کھینچیں۔ ( ابوداؤد، دارمی) تشریح اس یہودی عورت کا نام زینت حارث اور سلام ابن مشکم کی بیوی تھی۔ ایک اور روایت میں یہ بھی منقول ہے کہ اس عورت نے پہلے ہی کچھ لوگوں سے معلوم کرلیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کو کس حصہ کا گوشت زیادہ مرغوب ہے اس نے ایک بکری کا بچہ جو اس کے پاس تھا ذبح کیا اور اس کو بھون کر اس میں ایسا سریع الاثر زہر ملادیا کہ آدمی کھاتے ہی مرجائے، دست اور شانہ کے حصہ میں تو اس نے خصوصیت سے بہت زیادہ زہر ملایا اور پھر وہ بکری لا کر آنحضرت ﷺ اور ان صحابہ کے سامنے کہ جو اس وقت مجلس نبوی ﷺ میں حاضر تھے پیش کی۔ تو یہ زہر آلودبکری ہرگز نقصان نہیں پہنچائے گی یعنی یا تو اس وجہ سے کہ انبیاء پر زہر اس طرح اثر انداز نہیں ہوتا کہ ان کی زندگی ہی لے لے، یا اس بناء پر کہ دعوت اسلام کے اتمام اور دین کی تکمیل سے پہلے آپ ﷺ کی موت کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ پہلے احتمال کی صورت میں وہ روایت خلجان کی باعث ہوسکتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات اس زہر کی تاثیر کے سبب ہوئی جو خیبر میں آپ ﷺ کو کھانے میں دیا گیا ہے۔۔۔ لیکن چونکہ محققین نے لکھا ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں ہے اس کے خلجان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ ایک روایت میں تو یہ آیا ہے کہ کسی نے آنحضرت ﷺ سے ( مرض الموت میں) کہا کہ آپ ﷺ میں اس زہر کا اثر سرایت کر رہا ہے جو خیبر میں آپ ﷺ کو دیا گیا تھا؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھ کو اس کے علاوہ کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی جو میرے مقدر میں لکھی ہے اور جو اللہ چاہے۔ اس عورت کو معاف کردیا اور کوئی سزا نہیں دی اس ضمن میں بعض حضرات نے تو یہی کہا ہے کہ اس عورت کو نہ قتل کیا گیا اور نہ کوئی دوسری سزا دی گئی ہے اور اس نے اسلام قبول کرلیا تھا، چناچہ سلیمان تیمی نے اپنی کتاب المغازی میں یہ روایت نقل کرتے ہوئے فلن یضرہ کے بعد یوں نقل کیا ہے کہ وان کنت کا ذبا ارحت الناس منک وقد استبان لی انک صادق وانا اشہدک ومن حضرت علی دینک ان الا الہ الا اللہ وان محمد عبدہ ورسولہ۔ یعنی اس عورت نے کہا میں نے سوچا تھا کہ اگر محمد ﷺ نبی ہوں گے تو یہ زہر آلود بکری ان کو ہرگز نقصان نہیں پہنچائے گی) اور اگر آپ ﷺ جھوٹے ہیں تو میں ( اس زہر کے ذریعہ آپ ﷺ کا کام تمام کر کے) لوگوں کو آپ ﷺ سے نجات و راحت پاؤں گی، لیکن اب مجھ پر واضح ہوگیا ہے کہ یقینا آپ ﷺ ( سچے) نبی ہیں، میں آپ ﷺ کو اور اس شخص کو جو آپ ﷺ کے دین پر قائم ہے، گواہ کر کے اقرار کرتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں بلاشبہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ لیکن طیبی نے لکھا ہے کہ اس بارے میں اختلاف ہے ( کیونکہ جس طرح بعض روایتوں میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس عورت کو معاف کردیا اور کوئی سزا نہیں دی اسی طرح ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس عورت کے قتل کئے جانے کا حکم صادر فرمایا چناچہ اس کو قتل کردیا گیا۔ پس ان دونوں طرح کی روایتوں کی درمیان تطبیق یہ ہے کہ شروع میں آنحضرت ﷺ نے اس عورت کو معاف کردیا تھا اور کوئی سزا نہیں دی تھی ( اس اعتبار سے بعض روایتوں میں معافی کا ذکر کیا گیا ہے) لیکن پھر بعد میں جبکہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ اس زہر آلود بکری کو کھانے والوں میں سے ایک صحابی حضرت بشر ابن براء ابن معرور کا انتقال اس زہر آلود گوشت کھانے کے سبب ہوگیا۔ جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے منع کرنے سے پہلے ہی گوشت کا ایک ٹکڑا اپنے حلق سے نیچے اتار لیا تھا تو آنحضرت ﷺ نے اس یہودی عورت کے قتل کا حکم صادر فرمایا چناچہ وہ عورت حضرت بشر ؓ کے قصاص میں قتل کردی گئی ( اور اسی وجہ سے بعض روایتوں میں اس عورت سے قتل کئے جانے اور سزا پانے کا ذکر ہے۔

5860Mishkaat-al-Masabih

غزوہ حنین میں فتح کی پیش گوئی کا ذکر

وعن سهل ابن الحنظلية أنهم ساروا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين فأطنبوا السير حتى كانت عشية فجاء فارس فقال يا رسول الله إني طلعت على جبل كذا وكذا فإذا أنا بهوازن على بكرة أبيهم بظعنهم ونعمهم اجتمعوا إلى حنين فتبسم رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال تلك غنيمة المسلمين غدا إن شاء الله ثم قال من يحرسنا الليلة قال أنس بن أبي مرثد الغنوي أنا يا رسول الله قال اركب فركب فرسا له فقال : استقبل هذا الشعب حتى تكون في أعلاه . فلما أصبحنا خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى مصلاه فركع ركعتين ثم قال هل حسستم فارسكم قالوا يا رسول الله ما حسسنا فثوب بالصلاة فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي وهو يلتفت إلى الشعب حتى إذا قضى الصلاة قال أبشروا فقد جاء فارسكم فجعلنا ننظر إلى خلال الشجر في الشعب فإذا هو قد جاء حتى وقف على رسول الله صلى الله عليه و سلم فسلم فقال إني انطلقت حتى كنت في أعلى هذا الشعب حيث أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما أصبحت اطلعت الشعبين كليهما فلم أر أحدا فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم هل نزلت الليلة قال لا إلا مصليا أو قاضي حاجة قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فلا عليك أن لا تعمل بعدها . رواه أبو داود

اور حضرت سہل ابن حنظلیہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر ( حنین کے مقام پر جانے کے لئے) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسول کریم ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے تو سفر کا سلسلہ طویل ہوگیا ( یعنی کہیں رکے بغیر مسلسل چلتے رہے) یہاں تک کہ جب رات آئی تو ( ایک جگہ پہنچ کر جہاں پڑاؤ ڈالنا تھا) ایک سوار خدمت اقدس میں) حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں ایسے اور ایسے پہاڑ پر چڑھا ( اور دشمن کا جائزہ لے رہا تھا) کہ اچانک میں نے دیکھا کہ ہوازن ( جو مشہور اور بہت بڑا قبیلہ ہے) اپنے باپ کے اونٹ پر آگیا ہے یعنی قبیلہ کے تمام لوگ آگئے ہیں) ان کے ساتھ ان کی عورتیں بھی ہیں اور ان کے مویشی بھی ہیں اور وہ سب حنین کے مقام پر جمع ہوگئے ہیں۔ آنحضرت ﷺ ( سن کر معنی خیز انداز میں) مسکرائے اور فرمایا۔ انشاء اللہ یہ سب چیزیں کل کے دن مسلمانوں کا مال غنیمت ہوں گی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ( تمام اہل لشکر کی طرف روئے سخن کر کے) فرمایا آج کی رات ہماری نگہبانی کا ذمہ کون لیتا ہے؟ ( ایک صحابی) حضرت انس ابن ابی مرقد غنوی ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! تم اس پہاڑی راستہ سے جا کر اس پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ جاؤ ( اور وہاں سے دشمن پر نگاہ رکھو)۔ پھر جب صبح ہوئی تو رسول کریم ﷺ نماز پڑھنے کی جگہ تشریف لائے ( جو پہلے سے مقرر تھی) آپ ﷺ نے (فجر کی سنت کی) دو رکعتیں پڑھیں اور ( اہل لشکر کو مخاطب کر کے فرمایا کیا تمہیں اپنے سوار کی کچھ آہٹ ملی؟ ( یعنی تم میں سے کسی نے اس کو آتے دیکھا ہے یا اس کی آواز کسی نے سنی ہے جس سے یہ پتہ چلے کہ وہ کس حال میں ہے؟ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! نہیں ( ہم میں سے کسی کو کوئی آہٹ وخبر نہیں ہے) اتنے میں نماز فجر کی تکبیر کہی گئی ( اور نماز شروع ہوگئی) رسول کریم ﷺ ( کے اضطراب کا یہ حال تھا کہ آپ ﷺ نماز کے دوران بھی کن انکھیوں سے اسی پہاڑی راستہ کی طرف دیکھتے رہے یہاں تک کہ جب نماز سے فارغ ہوگئے تو فرمایا خوش ہوجاؤ، تمہارا ( وہ) سوار آرہا ہے ( جو تمہاری نگہبانی کر رہا تھا) چناچہ ہم لوگوں نے اس پہاڑی راستہ کے درختوں میں دیکھنا شروع کیا یہاں تک وہ سوار آتا ہوا دکھائی دیا اور پھر وہ آکر رسول کریم ﷺ کے سامنے کھڑا ہوگیا اور بیان کیا کہ میں ( یہاں سے) روانہ ہوا پہاڑی راستہ سے ہوتا ہوا ( پہاڑ کی) اس چوٹی پر پہنچا، جہاں جانے کا رسول کریم ﷺ نے حکم دیا تھا ( اور پوری رات اسی جگہ کھڑا ہوا نگہبانی کرتا رہا) پھر جب صبح ہوئی تو میں پہاڑ کے دونوں راستوں ( اور اس کی ادھر ادھر کی گھاٹیوں) میں آیا ( تاکہ اس بات کا اچھی طرح اندازہ لگا لوں کہ دشمن کے کچھ لوگ ادھر ادھر تو نہیں چھپے ہوئے ہیں، لیکن میں نے وہاں کسی کو نہیں دیکھا۔ رسول کریم ﷺ نے انس ابن مرثد سے پوچھا کیا رات میں گھوڑے سے اترے تھے؟ انہوں نے کہا صرف نماز پڑھنے کے لئے یا استنجاء کرنے کے لئے ( ذرا سی دیر کے لئے) اترا تھا ( ورنہ پوری رات گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھا نگہبانی کرتا رہا) آنحضرت ﷺ نے ( یہ سن کر) فرمایا پھر تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اس رات کے بعد کوئی عمل نہ کرو۔ ( ابوداؤد) تشریح بکرۃ۔ جوان اونٹ کو کہتے ہیں اور علی بکرۃ ابیہم۔ ( اپنے باپ کے اونٹ پر) دراصل عربوں کا ایک محاورہ ہے ان لوگوں کے حق میں استعمال ہوتا ہے جو کسی جگہ آئیں اور سب کے سب آجائیں ان میں سے کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔ یہ محاورہ یہاں سے چلا کہ کسی زمانہ میں ایک جگہ عربوں کی ایک جماعت کے لوگ کہیں جانے کے لئے تیار ہوئے چناچہ جب انہوں نے کوچ کیا تو جس شخص کو جہاں بھی کوئی اونٹ کھڑا ہوا ملا اس نے اس کو پکڑا اور اس پر بیٹھ کر روانہ ہوگیا، اتفاق کی بات کہ وہ اونٹ خود ان لوگوں کی ذاتی ملکیت نہیں تھے بلکہ ان کے باپ کے تھے۔ جو ادھر ادھر چر رہے تھے اس طرح وہ تمام لوگ ان اونٹوں پر سوار ہو کر منزل مقصود کو روانہ ہوگئے ان میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہیں بچا جو ان اونٹوں میں سے کسی اونٹ پر بیٹھ کر روانہ نہ ہوا ہو، پس اس کے بعد یہ محاورہ ہوگیا کہ جب کسی جماعت یا قبیلے کے لوک اجتماعی طور پر کہیں آتے تو ان کی اس اجتماعیت کو اہمیت کے ساتھ بیان کرنے کے لئے کہا جاتا کہ جاؤ ا علی بکرۃ ابیہم۔ ( وہ لوگ اپنے باپ کے اونٹوں پر آگئے) اور قاضی نے لکھا ہے کہ علی بکرۃ ابیہم دراصل مع کے معنی میں ہے اور یہ جملہ ضرب المثل کے طور پر استعمال ہوا ہے اور یہ مثل یہاں سے چلی کہ ایک عرب خاندان کے کچھ لوگوں کے کسی حادثہ یا واقعہ کے پیش آجانے پر اپنی آبادی چھوڑنا پڑی، چناچہ ان تمام لوگوں نے یہاں سے کوچ کیا چونکہ وہ لوگ اپنے پیچھے کوئی چیز چھوڑنا نہیں چاہتے تھے اس لئے ایک ایک چیز اپنے ساتھ لے لی، یہاں تک کہ اونٹ جو ان کے پاس تھا اس کو بھی اپنے ساتھ لے لیا اس پر کچھ لوگوں نے کہا جاؤ ا علی بکرۃ ابیہم۔ یہ لوگ ( سب کچھ لے کر) آگئے یہاں تک کہ اپنے باپ کا اونٹ بھی لیتے آئے اس کے بعد سے یہ جملہ ایسے لوگوں کے حق میں ضرب المثل کے طور پر استعمال ہونے لگا جو ابنے ساتھ اپنے تمام مال و اسباب اور تمام آدمیوں کو لے کر پہنچتے چاہے ان کے ساتھ اونٹ ہوتا یا نہ ہوتا اور بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ ایک شخص اپنی تمام اولاد کو اپنے اونٹ پر لئے پھرتا تھا اس کو دیکھ کر کسی نے یہ جملہ کہا اور جب سے یہ ضرب المثل بن گیا۔ کہ اس رات کے بعد کوئی عمل نہ کرو اس ارشاد کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے اس سوار یعنی حضرت انس ابن مرثد ؓ کو بشارت دی کہ تمہارے لئے اللہ کے نزدیک آج کی رات ہی کافی ہے۔ تمہارے نامہ اعمال میں اس رات کی خدمت کے عوض اتنا اجر وثواب جمع ہوگیا ہے اور تمہیں اتنی فضیلت مل گئی ہے کہ اگر تم از قسم فضائل ونوافل اور کوئی عمل نہ بھی کرو، تو آخرت میں بلندی درجات کی طرف سے تمہیں کوئی فکر نہ ہونی چاہئے۔ پس اس جملہ میں یہاں عمل سے نوافل وحسنات مراد ہیں نہ کہ فرائض، کیونکہ فرائض تو کسی حال میں ساقط نہیں ہوتے اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ اس ارشاد گرامی میں عمل سے مراد جہاد ہے، مطلب یہ ہے کہ تم نے آج کی رات اللہ کی راہ میں ہماری نگہبانی کی ذمہ داری جس محنت ومشقت اور جان نثاری کے جذبہ سے نبھائی ہے، اس کے بعد اگر تم جہاد میں شریک نہ بھی ہو تو تم پر کوئی مؤ اخذہ نہیں۔

5861Mishkaat-al-Masabih

کجھوروں میں برکت کا معجزہ

وعن أبي هريرة قال أتيت النبي صلى الله عليه و سلم بتمرات فقلت يا رسول الله ادع الله فيهن بالبركة فضمهن ثم دعا لي فيهن بالبركة فقال خذهن واجعلهن في مزودك كلما أردت أن تأخذ منه شيئا فأدخل فيه يدك فخذه ولا تنثره نثرا فقد حملت من ذلك التمر كذا وكذا من وسق في سبيل الله فكنا نأكل منه ونطعم وكان لا يفارق حقوي حتى كان يوم قتل عثمان فإنه انقطع . رواه الترمذي

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک دن) میں رسول کریم ﷺ کے پاس (اکیس) ٢١ کھجوریں لے کر آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اللہ سے ان کھجوروں میں برکت کی دعا فرما دیجئے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کھجوروں کو اپنے ہاتھ میں لیا ( یا یہ کہ ان کھجوروں پر اپنا ہاتھ رکھا) اور پھر میرے لئے ان کھجوروں کو اپنے توشہ دان میں رکھ لو، جب تم ان میں سے کچھ لینا چاہوں تو توشہ دان میں اپنا ہاتھ ڈالو اور نکال لو اور اس توشہ دان کو جھاڑ پھونک کر کبھی خالی نہ کرنا حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ( آنحضرت ﷺ کے حکم کے مطابق ان کھجوروں کو ایک توشہ دان میں رکھ لیا اور پھر ان چند کھجوروں میں اتنی برکت دیکھی کہ اس توشہ دان سے نکال نکال کر) اتنے اتنے وسق تو کھجوریں اللہ کی راہ میں خرج کردیں اور ہم ( یعنی میرے دوست و احباب) ان کھجوروں میں سے کھاتے اور کھلاتے رہتے تھے، وہ توشہ دان میری کمر ( پر بندھا رہتا تھا جہاں) سے کسی وقت الگ نہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ حضرت عثمان کے شہید ہونے کے دن وہ توشہ دان میری کمر سے کھل کر گرپڑا ( اور ضائع ہوگیا )۔ (ترمذی) تشریح روایت کے آخری الفاظ سے معلوم ہوا کہ جب معاشرہ میں فتنہ و فساد پھیل جاتا ہے اور و لوگوں میں افتراق ونتشار بڑھ جاتا ہے تو خیر و برکت اٹھ جاتی ہے، ایک روایت میں منقول ہے کہ حضرت عثمان کی شہادت کے دن حضرت ابوہریرہ اپنا درد وکرب اس شعر کی صورت میں ظاہر کرتے ہیں۔ للناس ہم ولی الیوم ہم ان بینہم ہم الجراب وہم الشخ عثمانا ( آج کے دن اور و لوگوں کو تو ایک ہی غم کا سامنا ہے اور مجھ پر دو غم پڑے ہیں ایک غم تو توشہ دان کے ضائع ہونے کا اور ایک غم حضرت عثمان کی شہادت کا )

5862Mishkaat-al-Masabih

شب ہجرت کا واقعہ اور غار ثور کے محفوظ ہونے کا معجزہ

وعن ابن عباس قال تشاورت قريش ليلة بمكة فقال بعضهم إذا أصبح فأثبتوه بالوثاق يريدون النبي صلى الله عليه و سلم وقال بعضهم بل اقتلوه وقال بعضهم بل أخرجوه فأطلع الله عز و جل نبيه صلى الله عليه و سلم على ذلك فبات علي على فراش النبي صلى الله عليه و سلم تلك الليلة وخرج النبي صلى الله عليه و سلم حتى لحق بالغار وبات المشركون يحرسون عليا يحسبونه النبي صلى الله عليه و سلم فلما أصبحوا ثاروا إليه فلما رأوا عليا رد الله مكرهم فقالوا أين صاحبك هذا قال لا أدري فاقتصوا أثره فلما بلغوا الجبل اختلط عليهم فصعدوا في الجبل فمروا بالغار فرأوا على بابه نسج العنكبوت فقالوا لو دخل هاهنا لم يكن نسج العنكبوت على بابه فمكث فيه ثلاث ليال . رواه أحمد

حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ قریش مکہ نے ایک روز رات کے وقت (دارالندوہ) میں اپنی مجلس مشاورت منعقد کی (جس میں ابلیس شیطان بھی ایک نجدی شیخ کی صورت میں شریک ہوا) چناچہ بعض نے یہ مشورہ دیا کہ صبح ہوتے ہی اس شخص کی مشکیں کس لو (یعنی رسیوں سے باندھ کر قید میں ڈال دو ) اس شخص سے مراد نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی تھی، بعض نے یہ رائے دی کہ (نہیں بلکہ اس کو قتل کرڈالو اور بعض نے (حقارت کے ساتھ) یہ کہا کہ اس کو اپنی سر زمین سے نکال کر باہر کرو یعنی جلاوطن کردو۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعہ) اپنے نبی ﷺ کو (قریش مکہ کے مشورہ و فیصلہ سے) آگا کردیا (اور حکم دیا کہ آپ ﷺ آج کی رات اپنے بستر پر حضرت علی کو سلادیں اور (ابو بکر کو ساتھ لے کر) مکہ سے نکلے اور غار ثور میں جا چھپے، ادھر قریش مکہ نے یہ سمجھ کر پوری رات علی کی نگرانی میں رات گزاردی کہ وہ نبی کریم ﷺ ہیں (یعنی گھر کے اندر آنحضرت ﷺ کے بستر پر تو حضرت علی سوئے ہوئے تھے اور قریش مکہ آنحضرت ﷺ کو سویا ہوا سجھ کر پوری رات گھر کی نگرانی کرتے رہے) یہاں تک کہ جب صبح ہوئی تو انہوں نے (یعنی قریش مکہ نے) اس (بستر) پر (کہ حضرت علی سوئے ہوئے تھے، آنحضرت ﷺ کا گمان کرکے) دھاوا بول دیا لیکن جب انہوں نے (آنحضرت ﷺ کے بجائے) حضرت علی کو دیکھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی بدخواہی کو انہی پر لٹا دیا تو (وہ بڑے سٹپٹائے اور) حضرت علی ؓ سے پوچھنے لگے کہ تمہارا یہ دوست (جس کا یہ بستر ہے یعنی محمد ﷺ کہاں گیا؟ حضرت علی نے جواب دیا کہ مجھ کو نہیں معلوم۔ قریش مکہ (صورت حال کو سمجھ کر فوراحرکت میں آگئے اور آپ ﷺ کو ڈھونڈھ کر پکڑ لانے کے لئے) آپ ﷺ کے قدموں کے نشان پر آپ ﷺ کے تعاقب میں نکل پڑے، یہاں تک کہ جبل ثور تک پہنچ گئے مگر وہاں قدموں کے نشان مشتبہ ہوگئے تھے (جس کی وجہ سے ان کو آگے رہنمائی نہیں مل سکی) پھر وہ پہاڑ کے اوپر گئے اور ادھر ادھر ٹوہ لگاتے ہوئے) غار کے منہ پر پہنچ گئے (ان کا گمان تھا کہ آنحضرت ﷺ اس غار میں چھپے ہوں گے) لیکن انہوں نے غار کے اوپر گئے اور ادھر ادھر ٹوہ لگاتے ہوئے) غار کے منہ پر پہنچ گئے (ان کا گمان تھا کہ کہ آنحضرت ﷺ اس غار میں چھپے ہوں گے) لیکن انہوں نے غار کے منہ پر مکڑی کا جالا دیکھا تو کہنے لگے کہ اگر محمد ﷺ اس غار میں داخل ہوئے ہوتے تو اس کے منہ پر مکڑی کا جالا نہ ہوتا (اس طرح وہ لوگ وہاں سے مایوس ہو کر واپس ہوگئے) اور آنحضرت ﷺ تین رات دن اسی غار میں چھپے رہے۔ (احمد ) تشریح آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ جب مشرکین مکہ کو یہ معلوم ہوا کہ محمد ﷺ کی دعوت اسلام مدینہ تک پہنچ گئی ہے اور وہاں کے متعدد لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے ہیں تو انہیں سخت تشویش ہوئی، اس مسئلہ پر غور وفکر اور آنحضرت ﷺ کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے کے لئے ان کے سارے بڑے بڑے سردار اور زعماء دارالندوہ میں جمع ہوئے، عین اس وقت جب کہ ان سرداروں کی مشاورتی مجلس شروع ہونے والی تھی ابلیس ایک بوڑھے اور تجربہ کا رظاہر ہونے والے شخص کی صورت میں اس مشاورتی مجلس میں پہنچا اور بولا کہ میں نجد سے آیا ہوں، جب مجھے تو لوگوں کے اس اجتماع کا علم ہوا تو میری خواہش ہوئی کہ میں بھی تمہارے اس اجتماع میں شریک ہو کر کوئی مناسب اور کار گر رائے پیش کروں بلاشبہ عقل و دانائی اور خیرخواہی میں تم میں سے کوئی شخص مجھ سے بڑھا ہوا نہیں ہے حاضرین مجلس ابلیس کی اس بات سے بہت متاثر ہوئے اور اس کو عزت و احترام کے ساتھ اپنے درمیان جگہ دی۔ اس کے بعد اس مشاورتی کمیٹی کی کار وائی کا آغاز ہوا اور مختلف لوگوں کی طرف سے اظہار خیال وآراء کا سلسلہ شروع ہوگیا، ابوالبختری نے کہا میری رائے یہ ہم کہ اس شخص محمد ﷺ کو قید کرکے کسی ایسی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں بند کردو جس میں آمدورفت کو کوئی ذریعہ اور کوئی دروازہ ودر کھلا نہ رہ جائے، صرف ایک ایسا بڑا سوراخ باقی رکھا جائے، جس میں سے اس کے کھانے پینے کی چیزیں ڈال دی جایا کریں اور اس کو اس کوٹھڑی میں اس وقت تک محبوس رکھنا چاہیے جب تک کہ وہ اس میں پڑاپڑا مر نہ جائے۔ یہ سن کر اس شیخ نجدی (کی صورت میں ابلیس نے کہا یہ رائے نہایت غیرموزوں ہے کیونکہ جب تم اس کو قید کروگے تو اس کے خاندان کے لوگ اس کے عزیز و اقا رب تم پر دھاوا بول دیں گے اور جنگ وجدل کے ذریعہ تمہاری قید سے اس کو آزاد کرا کے لے جائیں گے۔ پھر ہشام ابن عمرو نے یہ رائے دی کہ اس شخص کو اچھی طرح ذلیل ورسوا کر کے ایک اونٹ پر سوار کرا دو اور اپنی سر زمین سے باہر نکال دو، وہ یہاں جلاوطن ہو کر جہاں کہیں جائے گا اور وہاں اپنے دین کی اشاعت میں جو کچھ کرے گا اس سے کم از کم تم لوگ تو محفوظ رہوگے۔ ابلیس نے اس رائے کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ اس طرح تو اس شخص کو کھیل کھیلنے کا خوب موقعہ مل جائے گا اور یہاں سے کہیں اور جا کر اپنی مظلومیت کے قصے سنائے گا اور لوگوں کی اپنی طرف متوجہ کرے گا، اگرچہ یہاں کے لوگ اس کی دعوت سے محفوظ رہیں گے مگر وہ دوسری جگہ کے لوگوں کو اپنا ہمنوا اور ہمدرد بنا لے گا اور پھر ان لوگوں کی مدد سے طاقت پاکر تم پر حملہ آور ہوجائے گا آخر میں لعین ابوجہل بولا اور اس نے رائے دی کہ تم لوگ ہر قبیلہ و خاندان میں ایک ایک نوجوان منتخب کرلو اور ان سب کو تلواریں دے کر کہو کہ وہ سب ایک ساتھ اس شخص پر اپنی تلواروں سے حملہ کرکے اس کا کام تمام کردیں، اس طرح اس کا خون تمام قبیلوں اور خاندانوں میں پھیل جائے گا یعنی اس کے قتل کا کوئی ایک قبیلہ و خاندان ذمہ دار ہونے کے بجائے اجتماعی جنگ کرنے اور اس شخص کے خون کا قصاص لینے سے عاجز ہوں گے۔ اور مجبورًا دیت (خون بہا) لینے پر راضی ہوجائیں گے۔۔۔۔۔۔۔ جب وہ دیت طلب کریں گے تو ہم سب مل کر ان کو دیت دے دیں گے اور قصہ تمام ہوجائے گا ابلیس نے اس رائے کی بڑی تعریف کی اور کہا کہ اس جوان نے بالکل صحیح بات کہی پھر تو سب لوگ ہی ابوجہل کی رائے پر متفق ہوگئے اور یہی طے پایا کہ آج رات بھر محمد ﷺ کے گھر کا محاصرہ رکھا جائے اور صبح ہوتے ہی ان پر حملہ کرکے قصہ تمام کردیا جائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیج کر قریش کی اس سازشی کاروائی سے آنحضرت ﷺ کو آگاہ کردیا کہ آپ ﷺ اپنے بستر پر حضرت علی کو سلا کر ابوبکر کے ساتھ ہجرت کے ارادہ سے رات ہی میں مکہ سے نکل جائیں، قرآن کریم کی اس آیت میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ واذ یمکربک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک او یخرجوک۔ اور جب (مکہ کے) کافر آپ ﷺ کے بارے میں یہ سازش کر رہے تھے کہ آپ ﷺ کو قید میں ڈال دیں یا آپ کو قتل کردیں یا آپ ﷺ کو جلاوطن کر ڈالیں۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے اپنے بستر پر حضرت علی کو سلادیا اور خود حضرت ابوبکر کو لے کر راتوں رات مکہ سے نکل کر جبل ثور کے ایک غار میں جا چھپے اس وقت جب کہ قریش مکہ کی ایک خونخوار جماعت آپ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کئے ہوئے تھی، آپ ﷺ کا گھر سے باہر نکلنا اور ان کافروں کا آپ ﷺ کو گھر سے نکلتے ہوئے دیکھنا، پھر ان سے آپ ﷺ کا گفتگو کرنا اور ان کی نظروں کے سامنے سے گزرتے ہوئے صاف بچ کر نکل جانا ایک حیرت انگیز قصہ اور زبردست معجزہ تھا جس تفصیل تاریخ سیر کتابوں میں مذکور ہے۔ بحرحال قریش مکہ اپنے اس گمان کے مطابق کہ محمد ﷺ گھر کے اندر نہیں سوئے ہوئے تھے رات بھر آپ ﷺ کے گھر کی نگرانی کرتے رہے ان کا منصوبہ تھا کہ پوری رات آپ ﷺ کی نگرانی رکھنے کے بعد صبح سویرے گھر میں گھس پڑیں گے اور آپ ﷺ کا کام تمام کردیں گے حالانکہ گھر کے اندر تو حضرت علی سوئے ہوئے تھے اور آنحضرت ﷺ ان کی نظروں کے سامنے سے باہر نکل گئے تھے، چناچہ صبح ہوتے ہی جب انہوں نے گھر کے اندر دھاوا بول دیا تو وہاں حضرت علی کو دیکھ کر سخت حیران ہوئے اور فورا آپ ﷺ کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے وہ آپ ﷺ کے قدموں کے نشان دیکھ دیکھ کر جبل ثور تک پہنچ گئے اور پھر اس غار کے منہ پر بھی جاپہنچے، جہاں آپ ﷺ حضرت ابوبکر کے ساتھ چھپے ہوئے تھے، اس جگہ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت ﷺ کا معجزہ ظاہر ہوا جس غار کے اندر آپ ﷺ اور حضرت ابوبکر چھپے ہوئے تھے اس کا منہ صرف ایک بالشت چوڑا اور ایک ہاتھ لمبا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسی وقت دو کبوتر بھیج دئے جنہوں نے غار کے منہ کے نیچے کی جانب انڈے دئیے اور قدرت الہٰی کے حکم سے ایک مکڑی نے آکر جبھی غار کے منہ پر جلا تن دیا، ایسی صورت میں قریش مکہ کے ان گماشتوں کو، جو آنحضرت ﷺ کے تعاقب میں غار تک پہنچ گئے تھے، یہ خیال بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ اس غار کے اندر دو انسان چھپے ہوئے ہیں، لہٰذا وہ اس جگہ سے مایوس ہو کر لوٹ گئے۔ ایک روایت میں تو یہ بھی آیا ہے کہ قریش مکہ کے وہ گماشتے غار کے منہ کے قریب ایسی جگہ پہنچ گئے تھے کہ اگر ان کی نظر اپنے پیروں کی طرف چلی جاتی تو بڑی آسانی سے وہ لوگ آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر کو غار کے اندر دیکھ لیتے، حضرت ابوبکر غار کے اندر سے ان لوگوں کو اپنے سر پر کھڑا دیکھ ہی رہے تھے انہیں آنحضرت ﷺ کے تئیں سخت تشویش ہوئی، چناچہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اپنے خوف کا اظہار کیا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان دو آدمیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ تعالیٰ ہے (یعنی ہم دونوں یہاں بےیارومددگار نہیں ہیں بلکہ ایک تیسری ذات یعنی اللہ تعالیٰ بھی ہمارے ساتھ ہے جو یقینا ہم دونوں کی حفاظت کرے گا چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کو اس طرح بےبصر کردیا کہ وہ غار کے چاروں طرف گھوم گھوم کر دیکھتے تھے لیکن غار کے اندر آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر کو دیکھ نہیں پائے۔ تفسیر بحرالعلوم میں اس آیت ( اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِه لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا) 9۔ التوبہ 40)۔ کے تحت لکھا ہے کہ اس آیت میں صاحب (ساتھی) سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ہیں، جو ہجرت کی رات میں اس موقع پر جب کہ کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ کے قتل کا پختہ ارادہ کرلیا تھا، آنحضرت ﷺ کے ساتھ مکہ سے نکلے تھے اور دونوں غار ثور میں جا کر چھپ گئے تھے اس غار میں ابوبکر نے جب دیکھا کہ کفار مکہ غار کے منہ تک آپہنچے ہیں تو آنحضرت ﷺ سے کہا کہ اگر ان کفار میں کسی نے بھی اپنے پیروں کی طرف سے دیکھا تو اس کی نظر یقینا ہم تک پہنچ جائے گئی، اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ (فکر و تشویش کی کوئی بات نہیں ہے) اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے نیز آپ ﷺ نے فرمایا ابوبکر ان دو آدمیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ تعالیٰ ہے۔ اور یہیں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر کی صحابیت کا منکر، نص قرآن کے انکار کے سبب کافر ہے جب کہ دوسرے صحابہ کی صحابیت کا منکر کافر بلکہ مبتدع ہے۔ واقعہ ہجرت کے سلسلہ میں جو روایت حضرت عائشہ ؓ منقول ہے اس میں انہوں نے یوں بیان کیا ہے کہ میرے والدین اپنے زمانہ عقل وبلوغ کی ابتداء ہی سے دیندار تھے اور کوئی دن ایسا نہیں گزرا تھا کہ آنحضرت ﷺ ہمارے ہاں صبح وشام نہ آتے ہوں، جب مسلمانوں پر کفار مکہ کا ظلم وستم اپنے عروج کو پہنچ گیا تو آنحضرت ﷺ نے (ایک دن) میرے والد حضرت ابوبکر سے فرمایا کہ تمہارا دارالہجرت مجھے دکھایا گیا ہے، وہ دو سنگتانوں کے درمیان کھجوروں کے باغات والی ایک بستی ہے اس کے بعد آنحضرت ﷺ کے حکم سے مسلمانوں کا مدینہ کو ہجرت کا سلسلہ شروع ہوگیا اور حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے والے مسلمان بھی مدینہ آگئے اسی بناء حضرت ابوبکر نے بھی مدینہ کو ہجرت کی تیاری شروع کی لیکن آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر! ابھی توقف کرو، میں امید رکھتا ہوں کہ مجھے بھی ہجرت کی اجازت ملنے والی ہے اس دن سے حضرت ابوبکر کا یہ حال ہوگیا کہ وہ ہر وقت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتے کسی موقع پر بھی آپ ﷺ سے جدا نہیں ہوتے تھے، علاوہ ازیں انہوں نے پہلے ہی سے دو اونٹ مہیا کرلئے تھے جو کسی بھی وقت روانگی کی تیاری کے ساتھ چار مہینے تک گھر میں بندھے کھڑے رہے تاآنکہ ایک دن ٹھیک دوپہر میں آنحضرت ﷺ حضرت ابوبکر کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو ہجرت کی اجازت مل گئی ہے، حضرت ابوبکر نے ایک اونٹ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، عائشہ اور اسماء نے زاد راہ تیار کیا اور پھر اسی دن جو ربیع الاول ١٤ نبوی کی تاریخ تھی اور پنجشنبہ کا دن تھا، رات کے وقت آپ ﷺ (اپنے مکان سے نکل کر) حضرت ابوبکر کے گھر آئے اور وہاں سے یہ دونوں روانہ ہو کر جبل ثور کے ایک غار میں جا چھپے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے اسی رات میں اس غار کے منہ پر کیکر کا درخت اگ آیا، جنگلی کبوتر نے غار کے منہ پر گھونسلہ بنا کر انڈے دئیے اور مکڑی نے جالا تن دیا، کفار مکہ جب اس غار کے قریب پنچے تو اس کے حصہ پر ایسی عامتیں دیکھ کر جو غار کے اندر کسی شخص کی موجودگی کی نفی کرتی تھیں محروم و مایوس واپس لوٹ گئے۔ نیز جب آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر رات کی تاریکی میں مکہ سے روانہ ہوئے تو پورے راستہ حضرت ابوبکر کبھی آنحضرت ﷺ کے آگے چلتے تھے اور کبھی پیچھے ہوجاتے تھے اور اس کا مقصد اس بات کی نگرانی رکھنا تھا کہ کوئی کافر آگے سے یا پیچھے سے آکر اچانک دھاوا نہ بول دے، پھر جب غار کے قریب پہنچے تو انہوں نے انہوں نے آنحضرت ﷺ کو باہر کھڑا کیا اور پہلے خود غار کے اندر جا کر اس کو صاف کیا اور آنحضرت ﷺ کو غار کے اندر لے گئے، یہ دونوں تین راتیں اسی غار میں چھپے رہے انہیں نے اپنے دونوں اونٹ بن الدئل کے ایک شخص کے حوالہ کرکے اس کو اس بات پر تیار کرلیا تھا کہ وہ تین راتیں گزرنے پر ان اونٹوں کو لے کر غار کے قریب موجود رہے، نیز اس کو معقول معاوضہ دیا گیا اور اس کام کے لئے بھی آمادہ کرلیا تھا کہ وہ مدینہ تک رہبری کے فرائض انجام دے، غار ثور میں قیام کے دوران تینوں راتوں حضرت عبداللہ بن ابوبکر کفار مکہ کے تمام حالات اور دن بھر کی تمام کار روائیوں سے رات کے وقت آکر مطلع کرتے رہے پھر تین راتوں کے بعد یہ دونوں حضرات اپنے اپنے اونٹ پر سوار ہوئے اور اس رہبر کو ساتھ لے کر عام راستہ کے بجائے ساحل سمندر کے ساتھ والے راستہ کے ذریعہ مدینہ کو روانہ ہوئے، جب بنی مدلج کے علاقوں میں پہنچے تو پیچھے سے سراقہ ابن مالک آپہنچا جو قریش مکہ کی طرف سے آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر یا ان دونوں کو زندہ یا مردہ پکڑ کر لانے کے عوض بھاری انعام کے لالچ میں ان کا تعاقب کررہا تھا، جب وہ دونوں کے قریب پہنچا تو اچانک اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ زمین پر گرپڑا اور پھر اٹھ کر گھوڑے پر سوار ہوا اور اتنا قریب پہنچ گیا کہ آنحضرت ﷺ کی گفتگو اس کو سنائی دینے لگی اور عین اس وقت کہ وہ دھاوا بولنا چاہتا تھا اس کے گھوڑے کے دونوں پاؤں زانوں تک زمین میں دھنس گئے اور سراقہ الٹے منہ زمین پر گرپڑا اب اس کو تنبہ ہوا اور وہ گڑ گڑا کر امان کی دہائی دینے لگا، آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر اس کی آواز سن کر کھڑے ہوگئے سراقہ نے ان دونوں کی خدمت میں کچھ زاد راہ پیش کرنا چاہا لیکن آنحضرت ﷺ نے قبول نہیں فرمایا البتہ اس کو معاف کرتے ہوئے یہ حکم دیا کہ ہمارے بارے میں کسی کو نہ بتانا چناچہ سراقہ وہاں سے لوٹا اور راستہ میں جو بھی کافر آنحضرت ﷺ کے تعاقب میں آتا ہوا ملتا اس کو تدبیروں سے واپس کردیتا تھا اس طرح آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر بحفاظت تمام مدینہ پہنچ گئے۔

5863Mishkaat-al-Masabih

خیبر کے یہودیوں کے متعلق معجزہ

وعن أبي هريرة أنه قال لما فتحت خيبر أهديت لرسول الله صلى الله عليه و سلم شاة فيها سم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اجمعوا لي من كان ها هنا من اليهود فجمعوا له فقال لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم إني سائلكم عن شيء فهل أنتم صادقي عنه فقالوا نعم يا أبا القاسم فقال لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم من أبوكم قالوا فلان فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم كذبتم بل أبوكم فلان فقالوا صدقت وبررت قال : هل أنتم مصدقي عن شيء إن سألتكم عنه قالوا نعم يا أبا القاسم وإن كذبناك عرفت كما عرفته في أبينا قال لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم من أهل النار قالوا نكون فيها يسيرا ثم تخلفوننا فيها فقال لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم اخسئوا فيها والله لا نخلفكم فيها أبدا ثم قال لهم فهل أنتم مصدقي عن شيء إن سألتكم عنه قالوا نعم يا أبا القاسم قال : هل جعلتم في هذه الشاة سما . قالوا نعم فقال ما حملكم على ذلك فقالوا أردنا إن كنت كذابا نستريح منك وإن كنت نبيا لم يضرك . رواه البخاري

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوگیا تو رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک بھنی ہوئی بکری بطور ہدیہ پیش کی گئی جس میں زہر ملا ہوا تھا، رسول کریم ﷺ نے حکم دیا کہ اس جگہ (خیبر میں) جتنے یہودی ہوں سب کو میرے پاس لایا جائے، چناچہ تمام یہودیوں کو جمع کر کے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا، رسول کریم ﷺ نے ان (یہودیوں) سے فرمایا کیا میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں (اور یہ کہ اگر تم نے میرے سوال کا جواب غلط دیا اور میں نے اس کی تردید کی تو) تم میری اس بات کو باور کروگے؟ یہودیوں نے کہا ہاں ابوالقاسم (ہم آپ ﷺ کے سوال کا جواب دیں گے اور اگر آپ ﷺ نے ہمارے جواب کی صحیح تردید کی تو ہم اس کو باور کریں گے) پس رسول کریم ﷺ نے ان سے سوال کیا کہ تمہارا باپ (یعنی تمہارا جد اعلی جس کو قبیلہ کا باپ کہا جاتا ہے) کون ہے؟ یہودیوں نے (آنحضرت ﷺ کو پرکھنے کے لئے اپنے جداعلی کا صحیح نام نہیں بتایا بلکہ غلط طور پر کوئی اور نام لے کر) کہا کہ فلاں شخص ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم غلط کہتے ہو، تمہارا باپ فلاں شخص ہے یہودیوں نے کہا آپ ﷺ نے سچ فرمایا اور بجا فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا۔ اگر میں تم سے سوال کوئی اور کروں (اور تمہارے غلط جواب کی تردید کرتے ہوئے صحیح بات بتاؤں) تو کیا تم میری اس بات کو باور کر لوگے؟ یہودیوں نے کہا ہاں اے ابوالقاسم! اگر ہم جھوٹ بولیں گے تو آپ ﷺ کو ہمارا جھوٹ معلوم ہوجائے گا جیسا کہ آپ ﷺ کو ہمارے باپ کے بارے میں (ہمارا غلط جواب) معلوم ہوگیا تھا۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا (تو پھر بتاؤ) دوزخی کون ہے؟ (یہودیوں نے جواب دیا کچھ دن تو ہم لوگ رہیں گے اور پھر جب ہم دوزخ سے باہر آئیں گے تو) ہمارے جانشین تم لوگ ہوں گے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ارے کم بختو، پرے رہو دوزخ کے بارے میں ( اتنی جھوٹ بات مت کہو) اللہ کی قسم ہم دوزخ میں کبھی بھی تمہارے جانشیں نہ ہوں گے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں تم سے کوئی اور سوال کروں۔ (اور تمہارے غلط جواب کی تردید کرتے ہوئے صحیح بات بتاؤں) تو کیا تم میری اس بات کو باور کر لوگے؟ یہودیوں نے کہا کہ ہاں اے ابوالقاسم! آنحضرت ﷺ نے ان سے پوچھا (اچھا بتاؤ) کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں آپ ﷺ نے پوچھا تمہیں کس چیز نے اس ذلیل حرکت پر اکسایا ہے انہوں نے کہا دراصل ہم نے سوچا تھا کہ اگر آپ ﷺ کا دعوی نبوت جھوٹا ہم تو (یہ زہر آپ ﷺ کی ہلاکت کا سبب بن جائے گا اور ہم کو آپ ﷺ سے نجات اور رحت مل جائے گی اور اگر آپ ﷺ اپنے دعوی میں سچے ہیں تو یہ (زہر) آپ ﷺ کو کوئی ضرر نہیں پہنچائے گا (بخاری) تشریح ہاں اے ابوالقاسم آپ ﷺ کو مخاطب کرنے کا یہ یہودیوں کا خاص اسلوب تھا، وہ بدنصیب آپ ﷺ کو محمد ﷺ کہہ کر مخاطب نہیں کرتے تھے، کیونکہ یہ مبارک نام تورات اور انجیل میں مذکور اور مشہور تھا جو آپ ﷺ کے دعوی نبوت کی واضح دلیل تھا لہٰذا تعصب اور مخاصمت کی بناء انہیں گوار نہیں ہوتا تھا کہ وہ اپنی زبان سے اس کا نام کا اظہار کریں جو خود ان کی آسمانی کتابوں کی رو سے پیغمبر آخر الزمان ﷺ کی صداقت کی علامت تھا۔ پھر ہمارے جانشین تم لوگ ہوگے یہودی مسلمانوں سے یہی کہا کرتے کہ جنت کے اصل مستحق ہم ہی ہیں، اگر ہم اپنی بدعملی کی وجہ سے دوزخ میں داخل بھی ہوگئے تو وہ چند دنوں کی سزا ہوگی، جب ہم اپنی سزا کی وہ مدت پوری کرکے دوزخ سے نکالے جائیں گے تو پھر تم مسلمانوں کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا، جہاں تم لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہوگے ان کی اس بات کو قرآن کریم نے بھی یوں نقل کیا ہے لن تمسنا النار الا ایاما معدودات۔ (یہودی یوں کہتے ہیں کہ) ہم کو صرف گنتی کے تھوڑے دنوں تک دوزخ کی آگ لگے گی۔ یہ گویا ان یہودیوں کا عقیدہ تھا جو حقیقت کے اعتبار سے اعتقاد باطل اور زعم فاسد سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہم وہ اپنے اعتقاد کے مطابق جس بات کو صحیح سمجھتے تھے اور آنحضرت ﷺ کے سوال کا جو جواب ان کے نزدیک صحیح تھا وہی انہوں نے بیان کیا۔ تو یہ زہر آپ ﷺ کو کوئی ضرر نہیں پہنچائے گا یہودیوں کے اس جواب کا مطلب یہ تھا کہ میں نے تو محض امتحان و آزمائش کے جذبہ سے بکری میں زہر ملادیا تھا کہ اگر آپ ﷺ اپنی نبوت کے دعویٰ میں جھوٹے ہوں گے تو اس زہر آلود بکری کا گوشت کھا کر ہلاک ہوجائیں گے اور اس صورت میں ہمیں آپ ﷺ سے نجات مل جائے گی اور اگر آپ ﷺ کو نبی تسلیم کرلیں گے۔ یہ تو یہودیوں کی بات تھی اور وہ اپنے اس قول میں کہاں تک سچے تھے اس کا اندازہ تو اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب زہر نے آنحضرت ﷺ پر کوئی اثر نہیں کیا تو اس کے اپنے کہنے کے مطابق آنحضرت ﷺ کا نبی ہونا سچ ثابت ہوگیا تھا لیکن وہ لوگ نہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے اور نہ اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی سے باز آئے۔

5864Mishkaat-al-Masabih

قیامت تک پیش آنے والے تمام اہم وقائع اور حوادث کی خبر دینے کا معجزہ

وعن عمرو بن أخطب الأنصاري قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما الفجر وصعد المنبر فخطبنا حتى حضرت الظهر فنزل فصلى ثم صعد المنبر فخطبنا حتى حضرت العصر ثم نزل فصلى ثم صعد المنبر حتى غربت الشمس فأخبرنا بما هو كائن إلى يوم القيامة فأعلمنا أحفظنا . رواه مسلم

اور حضرت عمر وبن اخطب انصاری کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور پھر منبر پر چڑھ کر ہمارے سامنے (وعظ) ارشاد فرمایا جس کا سلسلہ ظہر کے وقت تک جاری رہا، پھر منبر سے اتر کر آپ ﷺ نے (ظہر کی) نماز پڑھائی اور پھر منبر پر چڑھ کر وعظ فرمانے لگے یہاں تک کہ عصر کا وقت آگیا، پھر منبر سے اتر کر آپ ﷺ نے (عصر کی) نماز پڑھائی اور پھر منبر پر چڑھ کر وعظ ارشاد فرمانے لگے اور وعظ کا یہ سلسلہ غروب آفتاب پر جا کر ختم ہوگیا (گویا پورا دن وعظ میں گزر گیا) اور (اس وعظ کے دوران) آپ ﷺ نے ان تمام باتوں سے مطلع کیا جو قیامت تک پیش آنے والی ہیں یہ روایت بیان کرنے کے بعد (حضرت عمر وابن اخطب نے کہا) (آج) ہمارے درمیان ان تمام باتوں کو سب سے زیادہ یاد رکھنے والا شخص وہ ہے جو آج کل ہم میں دانا تر ہے۔ (مسلم ) تشریح حضرت عمر و بن اخطب جو ایک انصاری صحابی ہیں، اپنی کنیت ابوزید اعرج کے ساتھ زیادہ مشہور تھے آنحضرت ﷺ کے ساتھ عزو وں میں شریک رہا کرتے تھے۔ منقول ہے کہ ان کو تیرہ عزوؤں میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، ایک دن آنحضرت ﷺ نے ان کے سر پر دست مبارک پھیر کر خوبصورتی کی دعا فرمائی، اس کی برکت ان کو اس طرح حاصل ہوئی، کہ سو سال اوپر ان کی عمر ہوئی اور آخر تک چہرہ گلاب کی طرح تروتازہ رہا سر اور ڈاڑھی کے بال بھی بس چند ہی سفید ہوئے تھے۔

5865Mishkaat-al-Masabih

جنات کی آمد کی اطلاع درخت کے ذریعہ

وعن معن بن عبد الرحمن قال سمعت أبي قال : سألت مسروقا : من آذن النبي صلى الله عليه و سلم بالجن ليلة استمعوا القرآن ؟ قال حدثني أبوك يعني عبد الله ابن مسعود أنه قال : آذنت بهم شجرة . متفق عليه

اور حضرت معن ابن عبدالرحمن تابعی (جو حضرت عبداللہ ابن مسعود کے پوتے ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (حضرت عبدالرحمن ؓ سنا وہ فرماتے تھے کہ جب میں نے (جلیل القدر تابعی) حضرت مسروق سے پوچھا کہ اس رات میں، جب کہ جنات نے قرآن مجید سنا، ان (جنات) کی آمد کی اطلاع نبی کریم ﷺ کو کس نے دی تھی؟ تو حضرت مسروق نے کہا کہ مجھ سے تمہارے والد یعنی حضرت عبداللہ ابن مسعود نے بیان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جنات کے آنے کی خبر ایک درخت نے دی تھی۔ (بخاری ومسلم) تشریح یعنی بطور معجزہ ایک درخت نے اطلاع دی کہ یا رسول کریم ﷺ جنات ایمان لانے اور قرآن سننے کے لئے آئے ہیں چناچہ نبی کریم ﷺ آبادی سے باہر تشریف لے گئے اور ایک جگہ پہنچ کر جنات کو دیکھا اور ان کے سامنے قرآن کریم پڑھا۔

5866Mishkaat-al-Masabih

جنگ سے پہلے ہی مقتول کافروں کے نام ان کی لاشیں گرنے کی جگہوں کی نشاندہی کا معجزہ

وعن أنس قال كنا مع عمر بين مكة والمدينة فتراءينا الهلال وكنت رجلا حديد البصر فرأيته وليس أحد يزعم أنه رآه غيري قال فجعلت أقول لعمر أما تراه فجعل لا يراه قال يقول عمر سأراه وأنا مستلق على فراشي ثم أنشأ يحدثنا عن أهل بدر فقال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يرينا مصارع أهل بدر بالأمس يقول هذا مصرع فلان غدا إن شاء الله قال فقال عمر فوالذي بعثه بالحق ما أخطئوا الحدود التي حد رسول الله صلى الله عليه و سلم قال فجعلوا في بئر بعضهم على بعض فانطلق رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى انتهى إليهم فقال يا فلان بن فلان ويا فلان بن فلان هل وجدتم ما وعدكم الله ورسوله حقا فإني قد وجدت ما وعدني الله حقا قال عمر يا رسول الله كيف تكلم أجسادا لا أرواح فيها قال ما أنتم بأسمع لما أقول منهم غير أنهم لا يستطيعون أن يردوا علي شيئا . رواه مسلم

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ (ایک سفر کے موقع پر) ہم لوگ حضرت عمر ابن خطاب کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان (ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے) کہ وہاں ہم نے نئے مہینے کا چاند دیکھنے کی کوشش کی، میں چونکہ تیز نظر شخص تھا اس لئے میں نے چاند کو دیکھ لیا میرے علاوہ اور کوئی شخص نہیں تھا جس نے یہ کہا ہو کہ اس نے چاند دیکھا ہے میں عمر کو چاند دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے ان سے کہتا تھا کہ کیا آپ کو چاند نظر نہیں رہا ہے (دیکھئے وہ کیا ہے) لیکن وہ چاند کو دیکھ نہیں پا رہے تھے۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ (جب میرے باربار دکھانے پر بھی حضرت عمر کو چاند نظر نہیں آسکا تو) انہوں نے کہا بس رہنے دو ) میں تو عنقریب اپنے بستر پر لیٹا ہوا اس چاند کو دیکھ لوں گا۔ اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے ہمارے سامنے (کافروں میں سے ان) اہل بدر کا ذکر شروع کردیا، جو جنگ بدر میں مارے گئے تھے) اور بیان کیا کہ رسول کریم ﷺ نے جنگ سے ایک دن پہلے ہی مارے جانے والے مشرکوں کے مقتول ہونے کی جگہ ہمیں بتادی تھیں چناچہ آپ (ایک ایک جگہ کی طرف اشارہ کر کے) فرماتے تھے کہ (دیکھو) یہ وہ جگہ ہے) جہاں کل انشاء اللہ فلاں مشرک مارا جائے گا اور یہ وہ جگہ ہے جہاں انشاء اللہ فلاں مشرک مرا ہوا پڑا ہوگا (گویا کہ آپ نے اہل اسلام کے ہاتھوں قتل ہونے والے مشرکوں کے نام لے لے کر ان کی نشاند ہی کردی تھیں بلکہ ان میں سے ہر ایک کے لئے الگ الگ جگہیں تک متعین کر کے بیان کردی تھیں جہان ان مشرکوں کی لاشیں پڑنے والی تھیں پھر حضرت عمر ؓ نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے آنحضرت ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا، رسول کریم ﷺ نے جو جگہیں متعین کر کے بیان کی تھیں قتل ہونے والے مشرک ان سے ذرا بھی ادھر ادھر نہیں ہوئے (یعنی آپ ﷺ نے جس مشرک کے بارے میں جو جگہ متعین کر کے بتائی تھی وہ قتل ہو کر ٹھیک اسی جگہ گرا) پھر جب ان مشرکوں کی لاشوں کو ایک کے اوپر ایک کر کے (اس) کنویں میں ڈال دیا گیا (جو پانی لینے کے کام نہیں آتا تھا، تو رسول کریم ﷺ چل کر کنویں پر آئے اور ان (مشرکوں) کے نام لے لے کر (ان) کو مخاطب کیا اور فرمایا! اے فلاں ابن فلاں اور اے فلاں ابن فلاں کیا تم نے اس چیز کو حق اور درست پایا جس کا تم سے اللہ نے اور رسول نے وعدہ کیا تھا؟ میں نے تو اس چیز کو حق اور درست پایا جس کا مجھ سے میرے اللہ نے وعدہ فرمایا تھا۔ عمر نے (یہ بیان کیا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو ان مشرکوں کی لاشوں سے اس طرح مخاطب دیکھ کر) عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! آپ ایسے جسموں سے کس طرح مخاطب ہیں جو روحوں سے خالی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو کچھ کہہ رہا ہوں اس کو تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو ہاں وہ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے (مطلب یہ کہ میری یہ بات جس طرح تم نے سنی ہے اس طرح ان سب نے بھی سنی ہے بس فرق یہ ہے کہ جواب دینے کی قدرت ان کو حاصل نہیں ہے۔ (مسلم) تشریح میں تو عنقریب اپنے بستر پر لیٹا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔ ان الفاظ کے ذریعہ دراصل حضرت عمر نے ؓ اس چاند کو دیکھنے کے لئے زیادہ جدوجہد اور کوشش کے غیر ضروری ہونے کی طرف اشا رہ کیا، ان کا مطلب یہ تھا کہ جن لوگوں نے اپنی آنکھوں سے چاند دیکھ لیا ہے ان کی شہادت پر روایت ثابت ہوجائے گی، یا یہ کہ مجھے خود نیا چاند دیکھنا ہی ہوگا تو کچھ دنوں کے بعد یا اگلے دن جب چاند زیادہ بڑا اور زیادہ روشن ہوجائے گا اور آسانی سے نظر آجائے گا تو دیکھ لونگا، اس وقت چاند مجھے نظر نہیں آرہا ہے تو اس کو دیکھنے کے لئے زیادہ تعب اور مشقت اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز ضروری نہ ہو اس کی کھوج کرید میں اپنا وقت اور اپنی طاقت ضائع کرنا ایک لایعنی چیز میں وقت اور طاقت جیسی قیمتی چیز گنوانا ہے۔

5867Mishkaat-al-Masabih

ایک پیش گوئی کے حرف بحرف صادق آنے کا معجزہ

وعن أنيسة بنت زيد بن أرقم عن أبيها أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل على زيد يعوده من مرض كان به قال : ليس عليك من مرضك بأس ولكن كيف لك إذا عمرت بعدي فعميت ؟ قال : أحتسب وأصبر . قال : إذا تدخل الجنة بغير حساب . قال : فعمي بعد ما مات النبي صلى الله عليه و سلم ثم رد الله بصره ثم مات

اور حضرت زید ابن ارقم ؓ کی بیٹی حضرت انیسہ اپنے والد (حضرت زید ابن ارقم) سے نقل کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ زید ابن ارقم کی عیادت کو تشریف لے گئے جو بیمار ہوگئے تھے آپ ﷺ نے (ان کو تسلی وتشفی دیتے ہوئے فرمایا اس مرض کا تمہیں کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے (کیونکہ تم بالکل اچھے ہوجاؤ گے) لیکن اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم میرے بعد زندہ رہوگے اور تمہاری بینائی جاتی رہے گی؟ زید ابن ارقم نے عرض کیا میں ثواب کا آرزو مند ہوں گا اور (اپنے رب کے حکم پر) صابر و راضی رہوں گا۔ آنحضرت ﷺ نے (ان کا یہ جواب سن کر) فرمایا پھر تو تم بغیر حساب کتاب کے جنت میں جاؤ گے راوی نے (خواہ وہ حضرت انیسہ ہوں یا ان کے علاوہ دوسرا) بیان کیا ہے کہ زید ابن ارقم نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد اندھے ہوگئے تھے، پھر (بہت زمانہ کے بعد) اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی دوبارہ واپس کردی اور پھر ان کا انتقال ہوا۔ تشریح آنحضرت ﷺ کی مذکورہ پیش گوئی حرف بحرف صادق ہوئی کہ جس بیماری میں آنحضرت ﷺ زید کی عیادت کو گئے تھے اس سے صحت یاب ہوگئے پھر آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد ان کی بینائی جاتی رہی۔ تاہم آنحضرت ﷺ نے یہ بھی پیش گوئی کرتے وقت زید ابن ارقم کے سامنے ان کی بینائی کے پھر بحال ہونے کا جو ذکر نہیں فرمایا تو اس کی وجہ شاید آپ ﷺ کی یہ خواہش ہوگی کہ اس صورت میں زید ابن ارقم صبر میں زیادہ سے زیادہ تعب اور تکلیف برداشت کریں اور پھر اس کے بعد ان کو زیادہ سے زیادہ اذیت اور پریشانی ہوتی اور نہ ان کو کامل صبر کا وہ مقام نصیب ہوتا جس کے سبب اللہ تعالیٰ کی مدد نصرت ان کو حاصل ہوئی۔

5868Mishkaat-al-Masabih

جھوٹی حدیث بیان کرنے والے کے بارے میں وعید

وعن أسامة بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تقول علي مالم أقل فليتبوأ مقعده من النار . وذلك أنه بعث رجلا فكذب عليه فدعا عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فوجد ميتا وقد انشق بطنه ولم تقبله الأرض . رواهما البيهقي في دلائل النبوة

اور حضرت اسامہ ابن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے جو شخص (قصداً ) میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے جس کو میں نے نہ کہا ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں تیار سمجھے اور اس ارشاد گرامی کا بس م نظریہ ہے کہ (ایک مرتبہ) آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو (کچھ لوگوں کی طرف یا کسی شخص کے پاس) بھیجا تھا اس نے آپ ﷺ کی طرف سے کوئی جھوٹی بات بنا کر کہی، (جب) رسول کریم ﷺ (پر یہ منکشف ہوا یا کسی ذریعہ سے آپ ﷺ کو اس بات کی خبر ہوئی تو (آپ ﷺ نے اس شخص کے حق میں بددعا فرمائی، چناچہ وہ شخص (ایک دن) اس حال میں مردہ پایا گیا کہ اس کا پیٹ پھٹ گیا تھا اور (جب اس کو دفن کیا گیا تو) زمین نے اس کو قبول نہیں کیا۔ دونوں روایتوں کو بیہقی نے دلائل النبوۃ میں نقل کیا ہے۔ تشریح روایت کے آخری الفاظ اس بات کی علامت ہیں کہ وہ شخص ہمیشہ کے لئے دوزخی قرار پایا، اس اعتبار سے یہ روایت اس قول کی مؤید ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قصدا آنحضرت ﷺ کی طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرنے والا (یعنی جھوٹی حدیث گھڑنے والا) کافر ہوجا تا ہے۔

5869Mishkaat-al-Masabih

برکت کا معجزہ

وعن جابر أن رسول الله جاءه رجل يستطعمه فأطعمه شطر وسق شعير فما زال الرجل يأكل منه وامرأته وضيفهما حتى كاله ففني فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : لو لم تكله لأكلتم منه ولقام لكم رواه مسلم

اور حضرت جابر سے روایت ہے کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص نے حاضر ہو کر کھانا مانگا، آپ ﷺ نے اس کو آدھا وسق جو عطا فرمائے، (اس نے وہ جو لے کر گھر رکھ دئیے اور پھر) نہ صرف خود وہ شخص بلکہ اس کی بیوی اور ان دونوں کے (ہاں آنے جانے والے) مہمان مستقل اسی جو میں سے لے کر کھاتے تھے (لیکن وہ جو ختم نہیں ہوتا تھا، یہاں تک کہ ایک دن، اس شخص نے (باقی ماندہ) جوؤں کو ناپا (جس کا اثر یہ ہوا کھ) پھر وہ جو ختم ہوگئے، اس کے بعد وہ شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا (اور صورت حال عرض کی، آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم اس جو کو نہ ناپتے تو تم لوگ ہمیشہ اسی جو میں سے لے کر کھاتے رہتے اور (میری برکت کے سبب) وہ (جوں کے توں) تمہارے پاس باقی رہتے۔ (مسلم )

5870Mishkaat-al-Masabih

مشتبہ کھانا حلق سے نیچے نہیں اتر ا

وعن عاصم بن كليب عن أبيه عن رجل من الأنصار قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في جنازة فرأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو على القبر يوصي الحافر يقول : أوسع من قبل رجليه أوسع من قبل رأسه فلما رجع استقبله داعي امرأته فأجاب ونحن معه وجيء بالطعام فوضع يده ثم وضع القوم فأكلوا فنظرنا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يلوك لقمة في فمه ثم قال أجد لحم شاة أخذت بغير إذن أهلها فأرسلت المرأة تقول يا رسول الله إني أرسلت إلى النقيع وهو موضع يباع فيه الغنم ليشترى لي شاة فلم توجد فأرسلت إلى جار لي قد اشترى شاة أن أرسل إلي بها بثمنها فلم يوجد فأرسلت إلى امرأته فأرسلت إلي بها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أطعمي هذا الطعام الأسرى رواه أبو داود والبيهقي في دلائل النبوة

اور حضرت عاصم ابن کلیب (رح) (تابعی) اپنے والد سے اور وہ ایک انصاری شخص (یعنی ایک انصاری صحابی) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا (ایک دن) ہم رسول کریم ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ کی نماز اور تدفین میں شرکت کے لئے گئے (قبرستان پہنچ کر میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ قبر (کے کنارہ) پر بیٹھ گئے اور گورکن کو ہدایت دینے لگے آپ ﷺ اس (گورکن) سے فرماتے تھے کہ پائنتی کی قبر کو کشادہ کردو اور سر کی جانب سے کشادہ کردو۔ پھر جب آپ ﷺ (تدفین سے فارغ ہو کر) واپس ہونے لگے، تو سامنے سے اس شخص نے آکر آنحضرت ﷺ کو میت کی بیوی کی طرف سے کھانے کی دعوت دی جس کو آپ ﷺ نے قبول فرما لیا (چنانچہ آنحضرت ﷺ اس کے گھر تشریف لے گئے اور) ہم بھی آپ ﷺ کے طفیل میں ساتھ ہولئے) جب کھانا لایا گیا تو آنحضرت ﷺ نے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور سب لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ بڑھائے اور کھانا کھانے لگے، لیکن پھر (کھانا کھاتے) ہم نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ (نے جو پہلا) لقمہ (منہ میں ڈالا تھا اسی) کو چبائے جارہے ہیں یعنی اپنے منہ میں ادھر ادھر گھما رہے ہیں (ابھی ہم حیرت سے یہ دیکھ ہی رہے تھے کہ) آپ ﷺ نے فرمایا میں نے اس گوشت کو ایک ایسی بکری کا گوشت محسوس کر رہا ہوں جس کو اس کی مالک کی اجازت و رضا کے بغیر لے لیا گیا ہے۔ اس عورت (کو آنحضرت ﷺ کی اس بات کا علم ہوا تو اس) نے آدمی بھیج کر صورت حال عرض کرائی کہ یا رسول اللہ ﷺ! میں نے بکری خریدنے کے لئے ایک آدمی کو نقیع بھیجا تھا۔ وہ (نقیع) ایک جگہ کا نام ہے جہاں بکریوں کی خریدو فروخت ہوتی ہے۔ لیکن وہاں بکری دستیاب نہیں ہوئی تو میں نے اپنے ہمسایہ کے پاس آدمی بھیجا جس نے ایک بکری خرید رکھی تھی اور کہلوایا کہ اس نے جس قیمت پر وہ بکری خریدی ہے اسی قیمت پر اس بکری کو میرے ہاتھ فروخت کردے، لیکن وہ ہمسایہ بھی اپنے گھر) نہ ملا۔ تب میں نے اس ہمسایہ کی بیوی کے پاس آدمی بھیجا اور اس نے وہ بکری میرے پاس بھیج دی۔ (یہ تفصیل سن کر) رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ کھانا قیدیوں کو کھلادو۔ اس روایت کو ابوداؤد نے اور دلائل النبوۃ میں بیہقی نے نقل کیا ہے۔ تشریح ملا علی قاری (رح) نے لکھا ہے کہ میت کے کھانے کے سلسلہ میں فقہاء کے جو اقوال ہیں بظاہر یہ حدیث ان کے خلاف ہے مثلا بزازیہ میں لکھا ہے کہ (میت کے ورثاء کی طرف سے پہلے دن (یعنی موت والے دن) یا تیسرے دن اور ساتویں دن کھانا کھلانا مکروہ ہے، اسی طرح خلاصہ میں مذکور ہے کہ تیسرے دن (تیجا کے نام پر) کھانے کا اہتمام کرنا اور لوگوں کو اس کھانے پر بلانا مباح نہیں ہے۔ زیلعی نے کہا کہ ہم تین دن تک (غم منانے کے لئے) بیٹھنے میں مضائقہ نہیں ہے بشرطیکہ ممنوع چیزوں کا ارتکاب نہ ہو، جیسے بچھونے بچھانا اور دعوت و ضیافت کا اہتمام کرنا۔ نیز ابن ہمام (رح) نے بھی لکھا ہے کہ اہل میت کی ضیافت کرنا مکروہ ہے۔ ان فقہا نے علت یہ بیان کی ہے کہ ضیافت خوشی میں مشروع ہے نہ کہ غمی میں اور ابن ہمام (رح) نے یہ بھی کہا ہے کہ اہل میت کا ضیافت (جو غمی میں دی جائے) بدعت سیہ ہے نیز امام احمد اور ابن ماجہ صحیح اسناد کے ساتھ حضرت جریر ابن عبداللہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ( تدفین کے بعد) میت کے گھر میں لوگوں کے جمع ہونے اور اہل میت کی طرف سے کھانا دیئے جانے کو ہم نوحہ میں شمار کرتے تھے (جس کی سخت ممانعت منقول ہے) پس عاصم ابن کلیب کی روایت کردہ مذکورہ حدیث چونکہ فقہاء کے ان اقوال کے خلاف جاتی ہے اس لئے (اس حدیث اور فقہی روایتوں کے درمیان تطبیق کی خاطر) ضروری ہے کہ فقہا کے اقوال کو یا تو خاص نوعیت کے ساتھ مقید کیا جائے مثلا یہ کہا جائے کہ فقہی روایتوں کے مطابق میت کے گھر لوگوں کو اکٹھا ہونے کی جو ممانعت ہے وہ اس صورت میں ہے جب کہ لوگ محض رسمی طور پر یا ظاہری داری کے لئے میت کے گھر اکٹھا ہوں اور اہل میت کو شرما شرمی ان کے کھانے کا انتظام کرنے پر مجبور ہونا پڑے (جیسا کہ ہمارے ہاں دستور ہے کہ دور قریب کی عورتیں میت کے گھر جا کر ڈھی دیتی ہیں اور میت کے پسماندگان اگر استطاعت نہیں رکھتے تو قرض ادھار کر کے شرما شرمی ان کے کھانے پینے کا انتظام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں) یا ان فقہی روایتوں کو اس صورت میں محمول کیا جائے جس میں کھانے کا انتظام میت کے ترکہ میں سے ہو اور ورثاء میں سے صغیرالسن ہوں یا موجود نہ ہوں اور یا ان کی اجازت ورضا معلوم نہ ہو، یا یہ کہ کھانے کا انتظام کسی شخص نے اپنے ذاتی مال سے نہ کیا ہو بلکہ میت کے اس مال سے جو ورثاء کے درمیان تقسیم نہ ہوا ہو، ان کے علاوہ کچھ دوسری صورتیں بھی ہیں جن میں میت کا کھانا مختلف اسباب کی بنا پر مکررہ ہے (جیسے ہمارے یہاں بعض مقامات پر دستور ہے کہ بعض مقررہ تاریخوں پر یا ان سے آگے پیچھے کھانا پکا کر محض نام آوری کے لئے کھلوایا یا بانٹا جاتا ہے اور بعض لوگ تو قرض ادھار کر کے اس طرح کے اسراف کا مرتکب ہوتے ہیں) نیز قاضی خاں کا یہ قول بھی انہی صورتوں پر محمول ہے کہ غمی اور مصیبت کے دنوں میں ضیافت اور تقریب کا اہتمام کرنا مکروہ ہے کیونکہ وہ دن رنج والم کے اظہار کے ہیں اور جو چیز خوشی ومسرت کے موقع کی غماز ہوتی ہے (جیسے ضیافت اور تقریب کا اہتمام) اس کو غمی کے موقع پر اختیار کرنا نہایت موزوں ہے ہاں اگر (میت کے ثواب پہنچانے کی نیت سے) فقراء کو کھلانے کے لئے کھانے کا اہتمام کیا جائے تو یہ بیشک اچھا عمل ہوگا، جہاں تک اس صورت کا تعلق ہے اگر کوئی شخص یہ وصیت کر جائے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کے مال میں سے کھانے کا اہتمام کرکے لوگوں کو تین دن تک کھلایا جائے تو زیادہ صحیح روایت کے مطابق یہ وصیت سرے سے باطل قرار پائے گی، گو بعض حضرات نے کہا ہے کہ وصیت تہائی مال میں جائز ہوگی اور یہی قول زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ یہاں تک جو کچھ نقل ہوا ہے وہ ملاعلی قاری (رح) کے کلام کا خلاصہ ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لینا چاہیے کہ انہوں نے فقہی روایتوں کو چند صورتوں پر محمول کرکے باقی اور تمام صورتوں میں اہل میت کی طرف سے کھانے کے اہتمام کو مطلق جائز قرار دے دیا ہے، بلکہ ان صورتوں میں غور کیا جائے، جن کو ممنوع اور مکروہ کہا گیا ہے، تو حقیقت واضح ہوگی کہ میت کے کھانے کی جو بھی صورتیں اور قسمیں ہمارے یہاں رائج ہیں کہ وہ کسی نہ کسی حیثیت سے اور کسی نہ کسی سبب کی بناء پر ممنوع اور مکروہ صورتوں اور قسموں کے دائرہ حکم سے باہر نہیں جاتیں، کہیں ممانعت و کر اہت کا کوئی سبب پایا جاتا ہم اور کہیں متعدد اسباب پائے جاتے ہیں۔ رہی اس حدیث کی بات جس میں آنحضرت ﷺ کا میت کے کھانے کی دعوت قبول کرنے کا ذکر ہے تو اس کی حقیقت خود حدیث میں غور وفکر کے بعد واضح ہوجاتی ہے اور وہ یہ کہ حدیث میں کھانا کھلانے کی اس صورت کا ذکر ہے جس کے بارے میں قاضی خاں نے لکھا ہے کہ اگر (میت کو ثواب پہنچانے کی نیت سے) فقراء کو کھانا کھلایا جائے تو یہ اچھا عمل ہوگا۔ پس بظاہر یہی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کہ حدیث میں جس کھانے کا ذکر ہے وہ دراصل میت کی بیوی نے ایصال ثواب کی نیت سے فقراء اور مساکین کو بطور صدقہ کھلانے کے لئے تیار کیا تھا اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں وہ کھانا بطور ہدیہ پیش کیا گیا، اسی بناء پر آنحضرت ﷺ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ کہ جو ضرورت مند اور مفلس تھے، میت کے گھر اس کھانے پر تشریف لے گئے علاوہ ازیں بعض فقہاء نے یہ لکھا ہے کہ جو لوگ تجہز وتکفین اور تدفین میں شریک ہوں ان کے لئے اہل میت کی طرف سے پیش کئے جانے والے طعام کو کھانا درست ہے یہی نہیں بلکہ جو فقہاء طعام مصیبت (میت وغیرہ کے موقع پر تیار کئے گئے کھانے) کو مکروہ لکھتے ہیں انہوں نے بھی اس صورت کو مستثنیٰ رکھا ہے لہٰذا میت کے گھر کھانے پر آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جانے کو اس صورت پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے کہ چونکہ وہ سب تجہزوتکفین اور تدفین میں شریک تھے اس لئے میت کے اہل بیت کی دعوت پر کھانا کھانے چلے گئے۔ اس بحث کی روشنی میں یہ واضح ہوگیا کہ اس حدیث اور فقہی روایتوں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ وہو موضع یباع فیہ الغنم۔ (وہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں بکریوں کی خریدو فروخت ہوتی ہے) یہ الفاظ اصل روایت کا جزء نہیں ہے بلکہ کسی راوی نے نقیع کی وضاحت کے لئے روایت میں شامل کئے ہیں واضح رہے کہ نقیع جس کا پہلا حرف نون ہے) مدینہ منورہ سے وادی عقیق کی جانب تقریبا بیس میل کے فاصلہ پر ایک جگہ کا نام ہے، جہاں قدیم میں بکریوں کی خریدو فروخت ہوتی تھی نقیع اس بقیع کے علاوہ ہے (جس کا پہلا حرف ب ہے اور جہاں مدینہ منورہ کا مشہور قبرستان ہے۔ اور اس نے وہ بکری میرے پاس بھیج دی) میت کی بیوی نے بکری حاصل کرنے کی جو تفصیل بیان کی ہے اس سے ثابت ہوگیا کہ وہ بکری درست طور پر خرید کر حاصل نہیں کی گئی تھی کیونکہ اس ہمسایہ کی رضامندی کہ جو بکری کا اصل مالک تھا، اس بکری کی فروختگی کے لئے صریحا حاصل نہیں تھی اس بکری کی خریدو فروخت کے مذکورہ معاملہ میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس صورت کے قریب تھا جس کو فقہاء نے بیع فضولی سے تعبیر کیا ہے اور اس صورت میں بیع کا صحیح ہونا مالک کی اجازت کے حصول پر موقوف رہتا ہے بہرحال یہ بات طے تھی کہ اس بکری کا گوشت مشتبہ مال تھا اور اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بطور معجزہ اس کے گوشت کو آپ ﷺ کے پیٹ میں جانے سے باز رکھا۔ یہ کھانا قیدیوں کو کھلادو۔ میں قیدیوں سے مراد جنگی قیدی ہیں اور جن کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ وہ مفلس تھے اور جیسا کہ طیبی (رح) نے لکھا ہے کہ وہ کافر بھی تھے۔ مطلب یہ کہ اس وقت چونکہ بکری کا اصل مالک موجود نہیں تھا جس کی اجازت اور رضا مندی حاصل کرکے بکری کی خریداری کو درست قرار دیا جاتا اور اس کے گوشت سے تیار شدہ طعام آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کھانا روا ہوتا اور اگر مالک کے آنے اور دستیاب ہونے کا انتظار کیا جاتا تو یہ طعام خراب ہوجانے کے سبب کسی کے بھی کھانے کے مصرف کا نہ رہ جاتا، ادھر ان قیدیوں کے کھانے کا بھی انتظام کرنا ہی تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نے وہ پورا کھانا قیدیوں کو کھلانے کا حکم دے دیا، تاہم اس بکری کے تلف ہونے کی وجہ سے مالک کے لئے اس کی پوری قیمت ادا کرنا اس عورت کے لئے ضروری قرار پایا تھا جس کو کھلانے کا حکم دے دیا، تاہم اس بکری کے تلف ہونے کی وجہ سے مالک کے لئے اس کی قیمت ادا کرنا اس عورت کے لئے ضروری قرار پایا تھا جس کو اس نے ادا بھی کیا لہٰذا اس کھانے کا ان قیدیوں کو کھلانا اس عورت کی طرف سے صدقہ کے حکم میں ہوگیا۔

5871Mishkaat-al-Masabih

ام معبد کی بکری سے متعلق ایک معجزہ کا ظہور

وعن حازم بن هشام عن أبيه عن جده حبيش بن خالد - وهو أخو أم معبد - أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حين أخرج من مكة خرج مهاجرا إلى المدينة هو وأبو بكر ومولى أبي بكر عامر بن فهيرة ودليلهما عبد الله الليثي مروا على خيمتي أم معبد فسألوها لحما وتمرا ليشتروا منها فلم يصيبوا عندها شيئا من ذلك وكان القوم مرملين مسنتين فنظر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى شاة في كسر الخيمة فقال : ما هذه الشاة يا أم معبد ؟ قالت : شاة خلفها الجهد عن الغنم . قال : هل بها من لبن ؟ قالت : هي أجهد من ذلك . قال : أتأذنين لي أن أحلبها ؟ قالت : بأبي أنت وأمي إن رأيت بها حلبا فاحلبها . فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم فمسح بيده ضرعها وسمى الله تعالى ودعا لها في شاتها فتفاجت عليه وردت واجترت فدعا بإناء يربض الرهط فحلب فيه ثجا حتى علاه البهاء ثم سقاها حتى رويت وسقى أصحابه حتى رووا ثم شرب آخرهم ثم حلب فيه ثانيا بعد بدء حتى ملأ الإناء ثم غادره عندها وبايعها وارتحلوا عنها . رواه في شرح السنة وابن عبد البر في الإستيعاب وابن الجوزي في كتاب الوفاء وفي الحديث قصة

اور حضرت حزام ابن ہشام اپنے (والد حضرت ہشام) سے اور وہ حزام کے دادا (یعنی اپنے والد) حبیش سے جو ام معبد کے بھائی ہیں روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو جب مکہ چھوڑ دینے کا حکم ہوا اور آپ ﷺ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت ابوبکر ؓ کے آزادہ کردہ غلام عامر ابن فہیرہ اور ان دونوں (یعنی آنحضرت ﷺ اور ابوبکر) کو راستہ بتانے والے عبداللہ لیثی (ان چاروں) کا گزر (مدینہ کے راستہ میں ایک جگہ، ام معبد کے دو خیموں پر ہوا (جو اس ویرانے میں قیام پذیر تھیں) ان حضرات نے اہل خیمہ سے کچھ گوشت اور کھجوریں خریدنی چاہیں لیکن ان دونوں کو ام معبد کے پاس ان میں سے کوئی چیز دستیاب نہیں ہوئی کیونکہ اس زمانہ میں عام طور پر لوگ قحط زدگی اور بےسروسامانی کا شکار تھے۔ اتنے میں اچانک رسول کریم ﷺ کی نظر ایک بکری کی طرف گئی، جو خیمہ کی ایک جانب (بندھی کھڑی) تھی، آپ ﷺ نے وہ بکری دیکھ کر) پوچھا کہ ام معبد! اس بکری کو کیا ہوا؟ ام معبد ؓ نے جواب دیا اس کے دبلے پن نے اس کو ریوڑ سے الگ کر رکھا ہے (یعنی اتنی کمزور اور لاغر ہے کہ چرنے کے لئے دوسری بکریوں کے ساتھ چراگاہ تک جانے پر قادر نہیں ہے) آپ ﷺ نے پوچھا! کیا یہ دودھ دیتی ہے؟ ام معبد نے کہا! جس مصیبت میں یہ مبتلا ہے اس میں دودھ کہاں سے دے سکتی ہے (مطلب یہ کہ ذرا سا بھی دودھ دینے کی صلاحیت اس میں باقی نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم مجھے اجازت دیتی ہو کہ میں اس کا دودھ دوہوں؟ ام معبد نے کہا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان، اگر آپ ﷺ کو اس میں دودھ معلوم ہوتا ہے تو ضرور دوہ لیں (یعنی جب اس میں سرے سے دودھ ہی ہے نہیں تو آپ ﷺ دو ہیں گے؟ ) رسول کریم ﷺ نے یہ سن کر بکری کو منگوایا، پھر آپ ﷺ نے اس کے تھنوں پر اپنا دست مبارک پھیرا، بسم اللہ پڑھی اور ام معبد کے لئے ان کی بکری کے تئیں برکت کی دعا فرمائی، چناچہ بکری نے دودھ دینے کے لئے اپنے پاؤں آپ ﷺ کے سامنے کشادہ کردئیے (جیسا کہ دودھ والے جانور کی عادت ہوتی ہے کہ دوہے جانے کے وقت اپنے دونوں پاؤں کو پھیلا دیتا ہے۔ پھر وہ بکری دودھ بہانے اور جگالی کرنے لگی، آپ ﷺ نے ایک اتنا بڑا برتن منگایا جو ایک جماعت کو شکم سیر کرے اور اس برتن میں خوب بہتا ہوا دودھ دوہا یہاں تک کہ دودھ کے جھاگ برتن کے اوپر تک آگئے، اس کے بعد آپ ﷺ نے وہ دودھ (پہلے ام معبد کو پلایا جنہوں نے خوب سیر ہو کر پیا پھر اس کے ساتھیوں کو پلایا وہ بھی اچھی طرح سیر ہوگئے اور پھر سب کے بعد خود آپ ﷺ نے پیا، کیونکہ خود آپ ﷺ کا ارشاد ہے لوگوں کو پلانے والا خود سب کے بعد پیتا ہے) پھر پہلی مرتبہ دوہنے کے بعد (کچھ دیر) بعد آپ ﷺ نے دوبارہ اسی برتن میں دوہا، یہاں تک کہ وہ برتن دودھ سے لبریز ہوگیا اور وہ دودھ آپ ﷺ نے ام معبد کے پاس چھوڑ دیا (تاکہ وہ اپنے خاوند کو بھی یہ معجزہ دکھا دیں) پھر آپ ﷺ نے ام معبد کو مسلمان کیا اور ان کے ہاں سے روانہ ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔ اس روایت کو بغوی نے شرح السنۃ میں، ابن عبد البر نے استعیاب میں اور ابن جوزی نے کتاب الوفاء میں نقل کیا ہے نیز حدیث میں واقعہ کی اور بھی تفصیل ہے۔ تشریح ام معبد کا اصلی نام عاتکہ بنت خالد خزاعیہ ہے، آنحضرت ﷺ اپنے سفر ہجرت کے دوران ان کے خیمہ میں تشریف لائے تھے اور ان کو حلقہ بگوش اسلام فرمایا تھا ام معبد بڑے مضبوط اعصاب اور قوی دل و دماغ کی مالک خاتون تھیں اور اس ویرانہ میں قیام پذیر تھیں، وہ اپنے خیمہ کے باہر مسند لگا کر بیٹھ جایا کرتی تھی اور ہر راہ چلتے ہر ضرورت مند و مسکین کے کھانے پینے کی ضرورت پوری کیا کرتی تھیں، اس حدیث میں واقعہ کی اور تفصیل بھی ہے اور وہ یہ کہ جب آنحضرت ﷺ ام معبد کے خیمہ سے آگے سفر پر روانہ ہوگئے اور ام معبد کے خاوند ابومعبد نے ( پورا واقعہ بیان کیا اور) نہایت فصیح وبلیغ الفاظ میں آنحضرت ﷺ کے اوصاف و فضائل بیان کرتے ہوئے کہا کہ نہایت بابرکت ہستی ہمارے خیمہ میں آئی تھی اور یہ دودھ اسی کی مبارک آمد کے طفیل ہے ابومعبد نے (یہ سب کچھ سن کر) کہا! یقینا وہ ہستی قریش میں سے وہی شخص ہے جس کے بہت سے اوصاف میں نے مکہ میں سنے ہیں۔ اگر میں جانے کی قدرت رکھوں تو واللہ میں اس ہستی کی خدمت میں باریاب ہونے اور اس کی صحبت سے سرفراز ہونے کا قصد رکھتا ہوں۔ ایک روایت میں منقول ہے کہ جب آنحضرت ﷺ ہجرت کی رات میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو لے کر مکہ سے روانہ ہوگئے اور اہل مکہ یہ معلوم کرنے میں ناکام رہے کہ آنحضرت ﷺ کہاں اور کس طرف گئے ہیں تو ایک مسلمان جبل ابوقیس پر چڑھا اور وہاں زور زور سے کچھ اشعار پڑھنے لگا مکہ کے لوگ حیرت سے اس آواز کو سن رہے تھے، جو ان کے کانوں میں صاف آرہی تھی لیکن وہ آواز جس طرف سے آرہی تھی وہاں ان کو کوئی نظر نہیں آرہا تھا، ان اشعار میں سے دو شعر یہ ہیں۔ جزی اللہ رب الناس خیر جزاہ رفیقین خلاخیمتی ام معبد ہما نزلا بالہدی واہتدیت بہ فقد فازمن امسی رفیق محمد