معجزوں کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 183 · 80 hadiths · Page 2 of 4

5812Mishkaat-al-Masabih

پانی میں برکت کا معجزہ

وعن عوف عن أبي رجاء عن عمر بن حصين قا ل : كنا في سفر مع النبي صلى الله عليه و سلم فاشتكى إليه الناس من العطش فنزل فدعا فلانا كان يسميه أبو رجاء ونسيه عوف ودعا عليا فقال : اذهبا فابتغيا الماء . فانطلقا فتلقيا امرأة بين مزادتين أو سطحتين من ماء فجاءا بهاإلى النبي صلى الله عليه و سلم فاستنزلوهاعن بعيرها ودعا النبي صلى الله عليه و سلم بإناء ففرغ فيه من أفواه المزادتين ونودي في الناس : اسقوا فاستقوا قال : فشربنا عطاشا أربعين رجلا حتى روينا فملأنا كل قربة معنا وإداوة وايم الله لقد أقلع عنها وإنه ليخيل إلينا أنها أشد ملئة منها حين ابتدأ . متفق عليه

اور حضرت عوف (رح) ( تابعی) حضرت ابورجاء (رح) ( تابعی) سے اور وہ حضرت عمران ابن حصین ؓ ( صحابی) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ( یعنی حضرت عمران نے) بیان کیا ایک سفر میں ہم ( کچھ صحابہ) نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، ایک موقع پر لوگوں نے آپ سے ( پانی نہ ہونے کے سبب) پیاس کی شکایت کی، آپ ﷺ ( یہ سن کر) اسی جگہ اتر پڑے اور فلاں شخص کو بلایا۔ اس فلاں شخص کا نام ابوجاء نے تو بیان کیا تھا لیکن ( ان کے بعد کے راوی) عوف اس شخص کا نام بھول گئے اس لئے انہوں نے اس شخص کو لفظ فلاں سے تعبیر کیا۔ نیز آپ ﷺ نے حضرت علی کو بھی طلب کیا اور ان دونوں کو حکم دیا کہ جاؤ پانی تلاش کرو، چناچہ وہ دونوں ( یعنی وہ شخص اور حضرت علی پانی کی تلاش میں ادھر ادھر پھرنے لگے، انہوں نے ایک جگہ ایک عورت کو دیکھا، جو اونٹ پر ( لٹکے ہوئے) دو مشکیزوں کے درمیان بیٹھی تھی، یا یہ کہ پانی کے دو سطیحوں کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی، دونوں حضرات اس عورت کو، ( اس کے مشکیزے سمیت) نبی کریم ﷺ کے پاس لائے، پھر اس عورت کو ( یا جیسا کہ بعض حضرات نے لکھا ہے اس کے مشکیزوں کو اونٹ سے اتارا گیا، نبی کریم ﷺ نے ایک برتن منگا کر اس میں دونوں مشکیزوں کے دہانوں سے پانی انڈیلنے کا حکم دیا اور پھر لوگوں کو آوازدی گئی کہ آؤ پانی پیو اور پلاؤ ( اور اپنی اپنی ضرورت کے مطابق لے لو۔۔ )۔ چناچہ سب لوگوں نے خوب پانی پیا ( اور اپنے اپنے برتنوں میں اچھی بھر لیا )۔ حضرت عمران کہتے ہیں کہ اس وقت ہم لوگ چالیس آدمی تھے جو بری طرح پیاسے تھے ہم سب نے اس برتن میں سے خوب سیر ہو کر پانی پیا بھی اور اپنی اپنی مشکیں اور چھاگلیں بھی ہمارے ساتھ تھیں اچھی طرح بھر لی گئیں، اللہ کی قسم جب ہم لوگوں کو روک دیا گیا یعنی جب ہم پانی لے لے کر اس چھاگل کے پاس سے ہٹے تو ہم نے محسوس کیا کہ چھاگل پہلے سے زیادہ بھرئی ہوئی ہے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب نے اس چھاگل سے خوب سیر ہو کر پانی پیا اور جس جس کے پاس جو بھی برتن تھا اس کو اچھی طرح بھر لیا گیا، اس کے بعد اس چھاگل میں نہ صرف یہ کہ پانی جوں کا توں موجود تھا بلکہ یہ ایسا محسوص ہوا کہ یہ چھاگل اس وقت سے بھی زیادہ بھری ہوئی ہے جب اس سے پانی لینا، شروع کیا گیا تھا۔ اس حدیث کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں جو یہاں نقل نہیں ہوئے ہیں کہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے اس عورت کو کھانا اور غلہ وغیرہ دیا، جب وہ وہاں سے واپس ہو کر اپنی قوم میں پہنچی تو لوگوں سے سارا ماجرا بیان کر کے کہنے لگی کہ وہ شخص یا تو اتنا بڑا جادوگر ہے کہ اس کے برابر کوئی جادوگر زمین و آسمان میں نہیں ہے یا وہ شخص نبی برحق ہے۔

5813Mishkaat-al-Masabih

درختوں کی اطاعت کا معجزہ

وعن جابر قال : سرنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى نزلنا واديا أفيح فذهب رسول الله صلى الله عليه و سلم يقضي حاجته فلم ير شيئا يستتر به وإذا شجرتين بشاطئ الوادي فانطلق رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى إحداهما فأخذ بغصن من أغصانها فقال انقادي علي بإذن الله فانقادت معه كالبعير المخشوش الذي يصانع قائده حتى أتى الشجرة الأخرى فأخذ بغصن من أغصانها فقال انقادي علي بإذن الله فانقادت معه كذلك حتى إذا كان بالمنصف مما بينهما قال التئما علي بإذن الله فالتأمتا فجلست أحدث نفسي فحانت مني لفتة فإذا أنا برسول الله صلى الله عليه و سلم مقبلا وإذا الشجرتين قد افترقتا فقامت كل واحدة منهما على ساق . رواه مسلم

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) ہم رسول کریم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے کہ ایک جگہ پہنچ کر ایک وسیع و عریض میدان میں اترے اور کریم ﷺ قضائے حاجت کے لئے تشریف حاجت کے لئے بیٹھ سکتے، اچانک آپ ﷺ کی نظر دو درختوں پر پڑی جو میدان کے کنارہ پر کھڑے تھے، چناچہ رسول کریم ﷺ ان ایک درخت کے پاس پہنچے اور اس کی ایک ٹہنی پکڑ کر فرمایا کہ اللہ کے حکم سے (اوٹ بننے کے لئے) میری اطاعت کر۔ یہ سنتے ہی وہ درخت آپ ﷺ کے سامنے زمین پر) اس طرح جھک گیا جیسے نکیل پڑا ہوا اونٹ ( اپنے ہانکنے والے کی اطاعت کرتا ہے) پھر آپ دوسرے درخت کے پاس پہنچے اور اس کی ایک ٹہنی پکڑ کر فرمایا کہ اللہ کے حکم سے میری اطاعت کر، پہلے درخت کی طرح اس درخت نے فورا اطاعت کی (اور زمین پر جھک گیا) اس کے بعد آپ ﷺ نے ان دونوں درختوں کے درمیانی فاصلہ کے بیچوں پیچ پہنچ کر فرمایا کہ اب تم دونوں اللہ کے حکم سے ( ایک دوسرے کے قریب آکر) آپس میں اس طرح مل جاؤ کہ میں تمہارے نیچے چھپ جاؤں، چناچہ وہ دونوں درخت مل گئے ( اور آپ ﷺ ان دونوں درختوں کی اوٹ میں بیٹھ کر قضائے حاجت سے فارغ ہوئے۔ حضرت جابر کہتے ہیں کہ میں (اس واقعہ کو دیکھ کر حیران تھا اور اس عجیب و غریب کرشمہ سے متعلق غور و فکر کرکے سوچ رہا تھا کہ اللہ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کے ذریعہ یہ کیسا معجزہ ظاہر کیا ہے، یا یہ کہ اس واقعہ سے الگ میں اپنی کسی گہری سوچ میں پڑا ہوا تھا، کہ اچانک میری نظر ایک طرف کو اٹھی تو رسول کریم ﷺ کو تشریف لاتے دیکھا اور پھر کیا دیکھتا ہوں کہ وہ دونوں درخت ایک دوسرے سے جدا ہو کر اپنی اپنی جگہ پر جا کھڑے ہوئے ہیں ( مسلم )

5814Mishkaat-al-Masabih

زخم سے شفا یابی کا معجزہ !۔

عن يزيد بن أبي عبيد قال : رأيت أثر ضربة في ساق سلمة بن الأكوع فقلت يا أبا مسلم ما هذه الضربة ؟ فقال : هذه ضربة أصابتني يوم خيبر فقال الناس أصيب سلمة فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فنفث فيه ثلاث نفثات فما اشتكيتها حتى الساعة . رواه البخاري

اور حضرت یزید ابن عبید (رح) (تابعی) کہتے ہیں کہ (ایک دن) میں نے حضرت سلمہ ابن اکوع کی پنڈلی پر زخم کا نشان دیکھ کر ان سے پوچھا کہ ابومسلم! یہ کیسے زخم کانشان ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ زخم خیبر کی لڑائی میں تھا (اور زخم بھی اتنا سخت تھا کہ) لوگوں میں مشہور ہوگیا کہ سلمہ کام آگیا (یعنی زخم کی تاب نہ لا کر شہید ہوگیا) لیکن ہوا یہ کہ میں (اس زخم کے ساتھ) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچا، آپ ﷺ نے اس زخم پر تین بار دم کیا اور اس کی برکت سے وہ زخم (ایک لخت) ایسا اچھا ہوگیا کہ پھر اب تک مجھ کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ (بخاری )

5815Mishkaat-al-Masabih

ان دیکھے واقعہ کی خبر دینے کا معجزہ ،

وعن أنس قال نعى النبي صلى الله عليه و سلم زيدا وجعفرا وابن رواحة للناس قبل أن يأتيه خبرهم فقال أخذ الراية زيد فأصيب ثم أخذ جعفر فأصيب ثم أخذ ابن رواحة فأصيب وعيناه تذرفان حتى أخذ الراية سيف من سيوف الله حتى فتح الله عليهم . رواه البخاري

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے زید، جعفر اور ابن رواحہ کی شہادت کا حال، ان تینوں کے بارے میں خبر آنے سے پہلے ہی لوگوں کو سنا دیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا زید نے جھنڈا لیا اور شہید ہوگئے، پھر جعفر نے جھنڈا لیا اور وہ بھی شہید ہوگئے، پھر ابن رواحہ نے جھنڈا لیا اور وہ بھی شہید ہوگئے، آپ ﷺ یہ بیان کر رہے تھے اور (ان شہداء کے غم میں) آنکھوں سے آنسو جاری تھے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا آخر کار اس شخص نے جھنڈا لیا جو اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ حضرت انس یا بعد کے کسی روای کا بیان ہے کہ) اس سے آنحضرت ﷺ کی مراد خالد بن ولید کی ذات تھی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرما دی۔ (بخاری) تشریح یہ واقعہ جنگ موتہ کا ہے موتہ ایک جگہ کا نام ہے جو ملک شام میں واقع ہے، یہ جنگ سن ٨ ھجری میں رومیوں سے ہوئی تھی اور آنحضرت ﷺ نے وہاں لشکر بھیجتے ہوئے مذکورہ بالا تینوں جلیل القدر صحابہ کرام کو نامزد فرمایا تھا کہ اگر جنگ کے درمیان امیر لشکر زید بن حارث شیہد ہوجائیں تو ان کے بعد جعفر امیر لشکر ہوں گے اور اسلام کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں ہوگا، چناچہ اس جنگ میں ایسا ہی ہوا کہ یہ تینوں حضرات یکے بعد دیگرے شہید ہوگئے اور پھر اسلامی لشکر نے حضرت خالدابن ولید کو اپنا امیر چن لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی۔ پس آنحضرت ﷺ کی شہادت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں آئی تھی، مقام موتہ سے ایک ماہ کی مسافت کے فاصلہ پر ( مدینہ منورہ میں) بیٹھے بیٹھے اس واقع کی خبر دے دی تھی۔ یہ آپ ﷺ کا معجزہ ہوا۔ نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ موت کی خبر پہنچانا جائز ہے۔ جو اللہ کی تلوار میں ایک تلوار ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے بہادر ترین بندوں میں سے ایک بہادر ترین بندہ ہے اور اسی مناسبت سے ان کا لقب سیف اللہ ( اللہ کی تلوار) ہے، پس اس جملہ میں اللہ کی طرف تلوار کی نسبت، دراصل حضرت خالد کی عظمت اور ان کی بےمثال شجاعت کو ظاہر کرنے کے لئے ہے، چناچہ منقول ہے کہ وہ دشمن کے ایک ایک ہزار سپاہیوں پر تنہا حملہ کر کے ان کو پچھاڑ دیتے تھے اور اس دن لڑتے لڑتے ان کے ہاتھ سے آٹھ تلواریں ٹوٹی تھیں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرما دی۔ کے تحت محدثین اور شارحین کے اس بارے میں اختلافی اقوال ہیں کہ اس جنگ میں دشمنوں کو کامل ہزیمت اور شکست اٹھانا پڑی تھی اور مسلمان مال غنیمت کے ساتھ فائز المرام لوٹے تھے، یا فتح سے مراد مسلمانوں کا اپنے دفاع میں کامیاب ہوجانا ہے، کہ اسلامی لشکر دشمن کی تباہ کن طاقت کا پامردی سے مقابلہ کر کے صحیح وسالم واپس آگیا تھا؟ حضرت شیخ عبد الحق (رح) نے یہاں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح عطا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رومیوں کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کی مدد فرمائی اور مسلمان ان کے ہاتھوں شکست وہزیمت اٹھانے سے محفوظ رہے۔

5816Mishkaat-al-Masabih

غزوئہ حنین کا معجزہ

وعن عباس قال : شهدت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين فلما التقى المسلمون والكفار ولى المسلمون مدبرين فطفق رسول الله صلى الله عليه و سلم يركض بغلته قبل الكفار وأنا آخذ بلجام بغلة رسول الله صلى الله عليه و سلم أكفها إرادة أن لا تسرع وأبو سفيان آخذ بركاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أي عباس ناد أصحاب السمرة فقال عباس وكان رجلا صيتا فقلت بأعلى صوتي أين أصحاب السمرة فقال والله لكأن عطفتهم حين سمعوا صوتي عطفة البقر على أولادها فقالوا يا لبيك يا لبيك قال فاقتتلوا والكفار والدعوة في الأنصار يقولون يا معشر الأنصار يا معشر الأنصار قال ثم قصرت الدعوة على بني الحارث بن الخزرج فنظر رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو على بغلته كالمتطاول عليها إلى قتالهم فقال حين حمي الوطيس ثم أخذ حصيات فرمى بهن وجوه الكفار ثم قال انهزموا ورب محمد فوالله ما هو إلا أن رماهم بحصياته فما زلت أرى حدهم كليلا وأمرهم مدبرا . رواه مسلم

اور حضرت عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا ( ایک موقع پر) جب کہ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان شدید خون ریزی ہوئی تو پشت دے کر مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے ( یہ نازک صورت حال دیکھ کر) رسول کریم ﷺ نے اپنے خچر کو ایڑی لگانا اور ( بلا خوف) کفار کی طرف بڑھنا شروع کیا، اس وقت میں تو رسول کریم ﷺ کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھا اور اس خیال سے اس کو روک رہا تھا کہ کہیں وہ تیزی کے ساتھ کافروں میں نہ جا گھسے اور ( آنحضرت ﷺ کے چچا زاد بھائی) ابوسفیان بن حارث ( جن کا اصلی نام مغیرہ بن حارث بن عبد المطلب تھا، اظہار عقیدت و محبت اور محافظت کے طور پر) رسول کریم ﷺ کی رکاب تھامے ہوئے تھے، اسی دوران رسول کریم ﷺ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ عباس! اصحاب سمرہ کو آواز دو! حضرت عباس ؓ جو ایک بلند آواز آدمی تھے کہتے ہیں کہ میں نے ( آنحضرت ﷺ کے حکم پر پکار کر کہا کہاں ہیں اصحاب سمرہ!!؟ ( کیا تم اپنی وہ بیعت بھول رہے ہو جو تم نے آنحضرت ﷺ کی مدد و حفاظت کے لئے درخت کے نیچے کی تھی!؟ حضرت عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ( میری یہ پکار سن کر) اصحاب سمرہ اس طرح لوٹے اور دوڑتے ہوئے آئے) جیسے گائیں ( فرد محبت واشتیاق سے) اپنے بچوں کی طرف ( دوڑتی ہوئی) لوٹ کر آتی ہے) اور وہ ( اصحاب سمرہ) کہہ رہے تھے اے قوم ہم حاضر ہیں، اے قوم ہم حاضر ہیں۔ اس کے بعد مسلمان از سر نو ہمت اور جوش کے ساتھ ( کافروں سے بھڑ گئے۔ اور انصار صحابہ) نے آپس میں ایک دوسرے کو بلانے اور حوصلہ دلانے کے لئے غازیوں کی مانند) اس طرح پکارنا شروع کیا کہ اے گروہ انصار! اے گروہ انصار! ہمت سے کام لو اور دشمن پر ٹوٹ پڑو) پھر یہ پکارنا قبیلہ بنو حارث بن خزرج تک محدود ہوگیا ( یعنی صرف اولاد حارث ہی کو، جو انصار کا سب سے بڑا قبیلہ ہے، اے اولاد حارث اے اولاد حارث کہہ کر پکارا جانے لگا) اس دوران رسول کریم ﷺ نے، جو اپنے خچر پر ایک طاقتور اور قابو یافتہ سوار کی طرح جمے ہوئے تھے، لڑتے ہوئے مسلمانوں پر نظر ڈالی ( اور بعض حضرات نے کالمتطاول کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جو خچر پر گردن اونچی کر کے دیکھنے والے کی طرح بیٹھے ہوئے تھے، یعنی جس طرح کوئی اپنے سے دور کسی چیز کو دیکھنے کے لئے گردن اونچی کر کے نگاہ ڈالتا ہے اسی طرح آپ ﷺ نے کچھ کنکریاں ہاتھ میں اٹھائیں اور شاہت الوجوہ کہتے ہوئے ان کنکریوں کو کافروں کے منہ پر پھینک مارا اور ( یا تو از راہ تفاول یا پیش خبری کے طور پر) فرمایا رب محمد ﷺ کی قسم کافروں کو شکست ہوگئی۔ ( حضرت عباس ؓ کہتے ہیں کہ) اللہ کی قسم! یہ شکست جو کافروں کو ہوئی صرف آپ ﷺ کی کنکریاں پھینکنے کے سبب ہوئی ( کنکریاں پھینکنے کے بعد آخر تک) برابر دیکھتا رہا کہ کافروں کی تیزی اور شدت سے چلنے والی تلواریں ہلکی اور کند پڑ رہی تھیں اور ان کا انجام ذلت و خواری سے بھرا ہوا تھا۔ تشریح حنین مکہ اور طائف کے درمیان عرفات سے آگے ایک مقام کا نام ہے جہاں فتح مکہ کے بعد شوال سن ٨ ھ میں مسلمانوں اور اس علاقہ میں آباد مشہور قبائل ہو ازن وثقیف کے درمیان زبر دست جنگ ہوئی تھی، ابتداء جنگ میں مسلمانوں کو دشمن فوج کی طرف سے صبح کا ذب کی تاریکی میں اتنے سخت وشدید اور اچانک حملہ کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ ( مسلمان) سراسیمہ ہو کر رہ گئے اور سب سے پہلے اہل مکہ میں سے وہ لوگ جو بالکل نئے نئے مسلمان ہوئے تھے، حو اس باختہ ہو کر بھاگے تو ان کو دیکھ کر انصار و مہاجر صحابہ بھی سخت پریشانی میں ادھر ادھر منتشر ہونے لگے وہ دراصل مدد اور تحفظ چاہنے کے لئے لوٹ لوٹ کر آنحضرت ﷺ کے پاس آرہے تھے لیکن اس افرا تفری میں محسوس یہ ہو رہا تھا کہ مسلمان پشت دے کر بھاگ رہے ہیں، جب کہ درحقیقت نہ انہوں نے پشت دکھائی تھی اور نہ وہ بھاگ کھڑے ہوئے تھے، بہر حال مسلمانوں میں اس طرح کی ہلچل اور افراتفری ضرور پیدا ہوگئی تھی جس سے جنگ کا نقشہ مسلمانوں کے خلاف بھی ہوسکتا تھا لیکن آنحضرت ﷺ کی انتہائی شجاعت و استقلال، نہایت کامیاب حکمت عملی اور اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت نے تھوڑی ہی دیر بعد مسلمانوں کو سنبھال لیا اور دشمنوں کو شکست فاش کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس جنگ میں آنحضرت ﷺ جس خچر پر سوار تھے اس کا نام دلدل تھا اور فروہ ابن نفاثہ نے، جو ایک مشرک تھا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں تحفۃ بھیجا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ مشرکوں کا ہدیہ قبول کیا جاسکتا ہے، لیکن جیسا کہ احادیث میں منقول ہے آنحضرت ﷺ نے بعض مشرکوں کے ہدیئے رد کر دئیے تھے، لہٰذا بعض حضرات نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کہا کہ آنحضرت ﷺ کا ( دلدل) ہدیہ کا قبول کرلینا اس عمل کا ناسخ ہے کہ آپ ﷺ نے بعض مشرکوں کا ہدیہ قبول نہیں کیا تھا، لیکن یہ قول محل نظر ہے، کیونکہ تاریخ کے تعین کے ساتھ یہ بات ثابت نہیں ہے کہ قبول کرنے کا واقعہ پہلے کا ہے یا رد کرنے کا واقعہ پہلے پیش آیا تھا؟ نیز اکثر حضرات کا قول یہ ہے کہ رد منسوخ نہیں ہے، آپ ﷺ نے جو قبول کیا تو اس مشرک کا ہدیہ قبول کیا جس کے مسلمان ہوجانے کی توقع اور جس کے ذریعہ مسلمانوں کو فائدہ پہنچنے کی امید آپ ﷺ کو تھی اور جن مشرکوں کا معاملہ اس کے برعکس تھا ان کا ہدیہ آپ ﷺ نے رد کردیا۔ سمرہ کیکر کے درخت کو کہتے ہیں، حدیبیہ میں آپ ﷺ نے بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جس درخت کے نیچے جان نثاری کی بیعت لی تھی وہ کیکر کا درخت تھا اس بیعت کو بیعت الرضوان اور جن صحابہ سے بیعت لی گئی ان کو اصحاب سمرہ کہا جاتا ہے۔ اصحاب سمرہ کو آواز دے دو سے آپ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ جو لوگ حدیبیہ کے موقع پر موجود تھے اور جنہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی تھی ان کو آواز دے کر کہو یہی وقت تمہاری آزمائش کا ہے اللہ کی راہ میں اور میری حمایت و حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کردینے کا تم نے جو عہد کیا تھا اب اس کو پورا کرنے کے لئے پہنچو۔ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کے دو معجزوں کا ذکر ہے، ایک تو یہ کہ آپ ﷺ نے پہلے سے خبر دے دی کہ کفار کو شکت ہوگئی اور دوسرا معجزہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے کنکریاں اٹھا کر دشمن کے منہ پر پھینکیں تو وہ میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

5817Mishkaat-al-Masabih

غزوہ حنین میں آنحضرت ﷺ کی شجاعت وپامردی ،

وعن أبي إسحق قال قال رجل للبراء يا أبا عمارة فررتم يوم حنين قال لا والله ما ولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ولكن خرج شبان أصحابه ليس عليهم كثير سلاح فلقوا قوما رماة لا يكاد يسقط لهم سهم فرشقوهم رشقا ما يكادون يخطئون فأقبلوا هناك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ورسول الله صلى الله عليه و سلم على بغلته البيضاء وأبو سفيان بن الحارث يقوده فنزل واستنصر وقال أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب ثم صفهم . رواه مسلم . وللبخاري معناه وفي رواية لهما قال البراء كنا والله إذا احمر البأس نتقي به وإن الشجاع منا للذي يحاذيه يعني النبي صلى الله عليه و سلم

اور حضرت ابواسحٰق (رح) (تابعی) روایت کرتے ہیں ( ایک موقع پر) ایک شخص نے حضرت براء ابن عازب ؓ (صحابی) سے پوچھا کہ اے ابوعمارہ کیا (کیا یہ سچ ہے کہ) آپ لوگ غزوہ حنین میں دشمن کے مقابلہ سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے؟ حضرت براء ابن عازب ؓ نے جواب دیا نہیں اللہ کی قسم رسول کریم ﷺ نے ہرگز پشت نہیں دکھائی تھی صرف اتنا ہوا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے کچھ نوجوان صحابہ کرام کا جن کے پاس زیادہ ہتھیار نہیں تھے (اچانک) ایک تیر انداز قوم (بنو ہوازن) سے مقابلہ ہوگیا، اس کے لوگ ایسے (خطرناک) تیر انداز تھے کہ ان کا تیر کوئی زمین پر نہیں گرتا تھا (یعنی نشانہ خالی نہ جاتا تھا) ان لوگوں نے نوجوان صحابہ کرام پر تیربرسانا شروع کیا تو ان کا کوئی تیرخطا نہیں کررہا تھا، اس وقت وہ نوجوان صحابہ دشمن کے سامنے سے ہٹ کر رسول کریم ﷺ کے پاس آگئے۔ آنحضرت ﷺ (اس وقت) اپنے سفید خچر (دلدل) پر سوار تھے اور ابوسفیان ابن حارث (خچر کی لگام پکڑے ہوئے آگے تھے، آپ ﷺ (جنگ کا یہ پریشان کن نقشہ اور اپنے صحابہ کی سرآئیگی دیکھ کر) خچر سے اترے اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور فتح کی دعا کی، آپ ﷺ نے (بآواز بلند یہ بھی فرمایا میں نبی ہوں، اس میں کچھ جھوٹ نہیں ہے میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ اس کے بعد ( جب کہ اسلامی لشکر دشمن کے مقابلہ کے لئے از سر نو ہمت و ولولہ کے ساتھ مستعد ہوا اور مذکورہ نوجوان آپ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے تو) آپ ﷺ نے تمام مجاہدین کی صف بندی کی۔ ( مسلم) اور بخاری نے بھی اس مضمون کی روایت ( اپنے الگ الفاظ میں) نقل کی ہے۔ نیز بخاری ومسم کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ براء ابن عازب نے کہا، اللہ کی قسم جب لڑائی سخت ہوئی، ( یعنی دشمنوں کا حملہ سخت ہوجاتا ہے اور ہم ہتھیاروں کی کمی یا کسی کمزوری کے سبب زیادہ دباؤ محسوس کرتے) تو آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچ کر اپنی حفاظت کرتے ( اور ذات گرامی کی برکت سے مدد ونصرت کے طلب گار ہوتے) بلاشبہ اس وقت ہم میں زیادہ بہادر اور شجاع وہی شخص تھا جو ان کے یعنی رسول کریم ﷺ کے برابر میں آکر کھڑا ہوجاتا تھا۔ تشریح رسول کریم ﷺ نے ہرگز پشت نہیں دکھائی تھی۔۔۔ حضرت براء ابن عازب ؓ کا یہ جواب نہایت ہو شمندی وسمجھداری اور ذات رسالت کے تئیں انتہائی ادب و احترام پر مبنی تھا، دراصل پوچھنے والے کا مطلب یہ تھا کہ کیا آپ سب لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تھے؟ اور سب لوگ میں چونکہ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کا سوال بھی پوشیدہ ہوسکتا تھا اس لئے حضرت براء ابن عازب ؓ نے سب سے پہلے تو بڑے زور دار انداز اور واضح الفاظ میں بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے نہ تو حقیقتًا پشت دکھائی تھی اور نہ آپ ﷺ ان لوگوں میں شامل تھے جو دشمن کے سامنے سے ہٹ آئے تھے اور جن پر صورۃ پشت دکھانے کا اطلاق ہوسکتا تھا، پھر حضرت براء ابن عازب ؓ نے اس وقت کی اصل صورت حال کی وضاحت کی کہ ان لوگوں نے بھی حقیقتا پشت نہیں دکھائی تھی بلکہ ہوا یہ تھا کہ وہ چند نوجوان صحابہ کرام جن کے پاس کافی ہتھیار نہیں تھے جب دشمن کے مدمقابل ہوئے تو ان پر ایک ایسی جماعت نے نہایت شدت سے تیر برسانا شروع کردیا جو تیر اندازی میں بہت ماہر اور کامیاب نشانہ باز تھی ان لوگوں کا کوئی تیر بھی خطا نہیں کر رہا تھا، ایسی صورت میں ان نوجوان صحابہ کرام نے یہی مناسب سمجھا کہ بیکار اپنی جانیں گنوانے کے بجائے دشمن کے سامنے سے ہٹ جائیں اور آنحضرت ﷺ کے قریب پہنچ کر اور آپ ﷺ کی مدد سے دشمن کے خلاف کوئی دوسرا محاذ بنائیں! پس دشمن کے سامنے سے وقتی طور پر ان کے لوٹ آنے کو پشت دکھانا یا فرار اختیار کرنا ہرگز نہیں کہا جاسکتا، وہ صرف مدد حاصل کرنے آئے تھے کہ کمک لے کر دشمن کے خلاف زیادہ مؤثر طور پر لڑ سکیں۔ یہاں اس پر اشکال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے حضرت عباس ؓ کی روایت میں پشت دے کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ کے الفاظ ہیں جب کہ حضرت براء ابن عازب ؓ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ صحابہ دشمن کے سامنے سے ہٹ کر آنحضرت ﷺ کے پاس آگئے۔ ان دونوں تعبیر بیان میں تضاد معلوم ہوتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دشمن کے حملہ اور تیر اندازی کی شدت کے وقت شروع میں تو ایسا ہی دکھا دیا کہ جیسے اسلامی لشکر کے لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں، لیکن جب فورًا ہی آنحضرت ﷺ ان کی طرف متوجہ ہوگئے اور حضرت عباس ؓ نے ان کو پکارنا شروع کیا جس سے اسلامی لشکر میں جوش اور ولولہ کی ایک نئی لہرپیدا ہوگئی تو اس طرح وہ عمل جو فرار کی صورت میں نظر آیا تھا بعد میں قرار و استقامت کی صورت میں بدل گیا پس حضرت عباس ؓ نے تو ابتدائی صورت حال کا نقشہ کھینچا اور حضرت براء ابن عازب ؓ نے بعد کی صورت حال بیان کی۔ اور ابوسفیان ابن حارث ( خچر کی لگام پکڑے ہوئے) آگے تھے۔۔۔ اس حدیث کا یہ جملہ بھی بظاہر حضرت عباس ؓ کی روایت کے معارض ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے خچر کی لگام تو حضرت عباس ؓ نے پکڑ رکھی تھی اور حضرت ابوسفیان ؓ رکاب تھامے ہوئے تھے؟ لیکن حقیقت میں ان دونوں کے درمیان کوئی تضاد وتعارض نہیں ہے۔ کیونکہ اس بات کو تناوب ( باری باری پکڑنے) پر محمول کیا جاسکتا ہے، یعنی کبھی تو حضرت عباس ؓ لگام پکڑتے ہوں گے اور کبھی ابوسفیان ؓ رکاب تھامے رہتے ہوں گے اور کبھی حضرت ابوسفیان ؓ لگام پکڑ لیتے ہوں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ایسا موقع آگیا ہو کہ دونوں حضرات کے لئے خچر کی لگام پکڑنا ضروری ٹھہرا ہو، لہٰذا ان دونوں روایتوں میں الگ الگ ان دونوں حضرات کا ذکر کیا گیا۔ میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہے، میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں یہ انا النبی لا کذب انا ابن عبد المطلب کا ترجمہ ہے اور اس جملہ کے لفظ کذب اور مطلب کے ب پر جزم ہے، جو اس جملہ کی شعری ترکیب پر دلالت کرتا ہے، لیکن یہ جملہ آپ ﷺ کی موزونی طبیعت کے تحت بلا قصد آپ ﷺ کی زبان پر بروزن شعر جاری ہوگیا تھا لہٰذا اس کو شعر نہیں کہا جاسکتا۔ اس جملہ میں آپ ﷺ نے اپنی نسبت اپنے والد ماجد حضرت عبداللہ کی طرف نہ کر کے اپنے جد امجد عبد المطلب کی طرف کی، اس کی وجہ یہ ہے کہ عزت و بزرگی میں عبد المطلب ہی زیادہ مشہور تھے۔ نیز اس جملہ میں آپ ﷺ نے اپنی جو تعریف کی تو یہ غروروتکبر یا اپنی ذات و حیثیت کی نا مناسب نمائش کے طور پر نہیں تھی بلکہ اس طرح کی تھی جیسے عام طور پر میدان جنگ میں غازی اور مجاہد دشمنوں کے سامنے اپنی شجاعت وجوانمردی کا اظہار کرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ ایسے مواقع پر اور اس مقصد سے اپنی تعریف کرنا جائز ہے۔ اس وقت ہم میں زیادہ بہادر اور شجاع وہی شخص۔۔ الخ۔ یعنی اس وقت میدان جنگ کا نقشہ اتنا خطرناک اور دشمن کا حملہ اتنا خوفناک تھا کہ کوئی بھی مسلمان آنحضرت ﷺ سے زیادہ پامردی کے ساتھ جمے رہنے پر قادر نہیں تھا زیادہ سے زیادہ ایسا تھا کہ جو لوگ بہت زیادہ بہادر اور جوانمرد تھے وہ ادھر ادھر سے آکر اس جگہ پہنچنے کی کوشش کرتے جہاں آنحضرت ﷺ ہوتے اس طرح وہ لوگ اپنے اس حوصلہ کا اظہار کرتے تھے کہ وہ کسی بھی حال میں آنحضرت ﷺ کو تنہا چھوڑ کر میدان جنگ میں نہیں جائیں گے بلکہ ذات گرامی سے مدد و حوصلہ پا کر دشمن کے خلاف سینہ سپر ہوں گے، اگر کوئی شخص بزدل ہوتا تو وہ یقینًا آنحضرت ﷺ کے پاس آنے کے بجائے وہاں سے بھاگ کھڑے ہونے ہی میں اپنی عافیت دیکھتا۔ اس سے آنحضرت ﷺ کی بےپناہ شجاعت وبہادری اور اللہ کی ذات پر آپ ﷺ کے کامل اعتماد اور بھروسہ کا اظہار ہوتا ہے۔ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کے اس معجزہ کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے اس موقع پر اپنے خچر سے اتر کر اللہ تعالیٰ سے فتح ونصرت کی دعا مانگی ( اور کنکریاں اٹھا کر دشمن کے منہ پر پھینک ماریں) جس کے سبب اس طاقتور دشمن کو شکست فاش ہوئی۔

5818Mishkaat-al-Masabih

کنکریوں کا معجزہ

وعن سلمة بن الأكوع قال غزونا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حنينا فولى صحابة رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما غشوا رسول الله صلى الله عليه و سلم نزل عن البغلة ثم قبض قبضة من تراب من الأرض ثم استقبل به وجوههم فقال شاهت الوجوه فما خلق الله منهم إنسانا إلا ملأ عينيه ترابا بتلك القبضة فولوا مدبرين فهزمهم الله عز و جل وقسم رسول الله صلى الله عليه و سلم غنائمهم بين المسلمين رواه مسلم

اور حضرت سلمہ ابن اکوع ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم ﷺ کے ساتھ ( کافروں سے جہاد کے لئے) غزوہ حنین میں شریک تھے چناچہ ( اس غزوہ میں) جب رسول کریم ﷺ کے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دشمن کے سامنے سے بھاگنے لگے اور کافروں نے رسول کریم ﷺ کو گھیر لیا تو آپ ﷺ اپنے خچر سے اترے اور زمین سے ایک مٹھی خاک اٹھائی ( جس میں کنکریاں بھی تھیں) پھر اس خاک ( اور کنکریوں) کو کافروں کے منہ کے سامنے پھینک مارا اور فرمایا خراب ہوئے ان کے منہ ( یا یہ کہ خراب ہوں ان کے منہ ) چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کوئی ایسا انسان پیدا نہیں کیا تھا ( یعنی اس وقت دشمنوں میں ایسا کوئی شخص نہیں تھا) جس کی دونوں آنکھوں کو اللہ تعالیٰ نے اس ایک مٹھی خاک سے بھر نہ دیا ہو، پھر تو سارے کافر بھاگ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دی اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے ان کے مال کو (جو بطور غنیمت ہاتھ لگا) مسلمانوں میں تقسیم کردیا۔ ( مسلم) تشریح اس حدیث میں گویا تین معجزوں کا ذکر ہے، ایک تو یہ کہ آپ ﷺ نے جو ایک مٹھی مٹی کافروں کے منہ کی طرف، پھینک ماری وہ ان سب کی آنکھوں تک پہنچ گئی، دوسرے یہ کہ اتنی تھوڑی مٹی سے ان سب لوگوں کی آنکھیں بھر گئیں جن کی تعداد چار ہزار تھی اور تیسرے یہ کہ ظاہری طاقت کے بغیر محض اس مٹی اور کنکریوں کے ذریعہ اتنے بڑے لشکر کو شکست ہوگئی۔

5819Mishkaat-al-Masabih

ایک حیرت انگیز پیش گوئی جو بطور معجزہ پوری ہوئی

وعن أبي هريرة قال شهدنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حنينا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لرجل ممن معه يدعي الإسلام هذا من أهل النار فلما حضر القتال قاتل الرجل من أشد القتال وكثرت به الجراح فجاء رجل فقال يا رسول الله أرأيت الذي تحدثت أنه من أهل النار قد قاتل في سبيل الله من أشد القتال فكثرت به الجراح فقال أما إنه من أهل النار فكاد بعض الناس يرتاب فبينما هو على ذلك إذ وجد الرجل ألم الجراح فأهوى بيده إلى كنانته فانتزع سهما فانتحر بها فاشتد رجال من المسلمين إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا يا رسول الله صدق الله حديثك قد انتحر فلان وقتل نفسه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم الله أكبر أشهد أني عبد الله ورسوله يا بلال قم فأذن لا يدخل الجنة إلا مؤمن وإن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر . رواه البخاري

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھے وہاں جنگ شروع ہونے سے پہلے ( میدان جنگ میں) رسول کریم ﷺ نے اپنے لشکر کے لوگوں میں سے ایک ایسے شخص کے بارے میں کہ جو اپنے کو مسلمان کہتا تھا فرمایا یہ شخص دوزخی ہے۔ پھر جب لڑائی شروع ہوئی تو وہ شخص بڑی بےجگری سے لڑا اور اس کا جسم زخموں سے چور ہوگیا ( یہ دیکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے) ایک صاحب نے آکر، اظہار تعجب کے طور پر) عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! اس شخص کی حقیقت حال مجھے بتائیے جس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخی ہے ( جب کہ ظاہری حال تو یہ ہے کہ) وہ اللہ کی راہ میں بڑی بےجگری سے لڑا ہے اور بہت زخم اس نے کھائے ہیں، جس سے اس کا جنتی ہونا معلوم ہوتا ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا یاد رکھو وہ دوزخیوں میں سے ہے، یعنی حقیقت حال وہی ہے جو میں نے پہلے بتائی ہے کہ وہ شخص دوزخی ہے اگرچہ اس کا ظاہر حال اس کے خلاف ہی کیوں نہ نظر آئے، بات یہ ہے کہ آخرت کے متعلق ظاہری اعمال کا کچھ اعتبار نہیں اصل مدار حسن احوال اور حسن خاتمہ پر ہے۔ اور پھر قریب تھا کہ بعض ( ضعیف الایمان) لوگ ( میدان جنگ میں کافروں کے خلاف اس شخص کی جان فروشانہ لڑائی کو دیکھتے ہوئے آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کی سچائی میں) شک وشبہ کا شکار ہوجاتے، لیکن ( اسی وقت لوگوں نے دیکھا کہ) یکایک اس شخص نے اپنے زخموں کی تکلیف سے بےچین ہو کر اپنا ہاتھ ترکش کی طرف بڑھایا اور ایک تیر نکال کر اس کو ابنے سینہ میں پیوست کرلیا۔ ( یہ دیکھنا تھا کہ) بہت سے مسلمان دوڑے ہوئے رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی ( یہ) بات سچی کردی ( کہ وہ شخص دوزخی ہے) اس نے اپنا سینہ چیر کر خود کشی کرلی ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ بہت بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اس کا رسول ہوں۔ ( یہ الفاظ آپ ﷺ نے اس خوشی کے اظہار کے لئے فرمائے کہ آپ ﷺ کا کہنا سچ ہوا اس کے بعد آپ ﷺ نے حکم دیا کہ) بلال کھڑے ہو اور لوگوں کو آگاہ کردو کہ جنت میں صرف مؤمن داخل ہوگا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس دین کو فاسق شخص کے ذریعہ بھی مضبوط کرتا ہے۔ ( بخاری) تشریح یہاں اس واقعہ کا ذکر غزوہ حنین کی نسبت سے کیا گیا ہے جب کہ مواہب لدنیہ میں اس کا ذکر غزوہ خیبر کے موقع پر ہوا ہے اور صحیح بخاری میں یہی منقول ہے لہٰذا ہوسکتا ہے اس طرح کا واقعہ دونوں غزو وں میں پیش آیا ہو۔ حدیث میں جس شخص کا ذکر کیا گیا ہے اس کا نام قرمان تھا اور وہ ایک منافق تھا اگرچہ اس کا منافق ہونا ظاہر نہیں تھا۔ اور ایک تیر نکال کر اس کو اپنے سینہ میں پیوست کرلیا بخاری کی اکثر روایتوں میں سھما کے بجائے جمع کا صیغہ اسھما نقل کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص نے اپنے ترکش سے بیک وقت کئی تیر کھینچ کر ان سب کو اپنے سینہ میں گھسیڑ لیا تھا، نیز صحیح بخاری ہی کی ایک روایت میں نقل کیا گیا ہے کہ اس شخص نے اپنی تلوار زمین پر رکھی اور اس کی دھار پر اپنا سینہ رکھ کر زور سے دبایا یہاں تک کہ مرگیا۔ لیکن ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس نے پہلے تیر کے ذریعہ اپنا کام تمام کرنا چاہا ہو اور جب فوری طور پر وہ نہ مر سکا ہوگا تو پھر تلوار کے ذریعہ خود کشی کا عمل پورا کیا ہوگا۔ حاصل یہ کہ اس شخص کی موت اس حال میں آئی کہ اس کے اندر خبث باطن ( نفاق تھا) یا پھر وہ خود کشی کرلینے کے سبب فاسق کی موت مرا۔ اللہ تعالیٰ اس دین کو فاسق شخص۔۔ الخ۔ میں فاسق سے مراد یا تو منافق ہے یا وہ لوگ مراد ہیں جو نام ونمود کے لئے اور نمائش کے جذبہ سے اچھے عمل کرتے ہیں یا اچھے عمل بھی کرتے ہیں اور گناہ کے کام کرتے رہتے ہیں اور یا یہ کہ زندگی بھر تو اچھے عمل کرتے رہتے ہیں لیکن آخر میں کوئی ایسی بد عملی کرلیتے ہیں جس سے خاتمہ بالخیر نہیں ہوتا۔ ایک احتمال تو یہ ہے کہ اس جملہ کا تعلق بھی اس اعلان سے ہے جس کا حکم آنحضرت ﷺ نے حضرت بلال کو دیا، لیکن دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس جملہ کا تعلق اعلان سے نہیں ہے بلکہ آپ ﷺ نے یہ جملہ الگ سے فرمایا اور اس کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ زبانی قول ودعوی اور ظاہری اعمال بہر صورت حقیقت حال کے ترجمان نہیں ہوتے ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص زبان سے اپنی نیکی کا دعوی بھی کرتا ہے اور بظاہر نیک کام بھی کرتا دکھائی دیتا ہے مگر اس کے اندر نیت کے فساد یا نفاق کی ایسی برائی ہوتی ہے جس سے اس کے حقیقی احوال اور اس کے باطن کا اس کے ظاہر ہونے سے تعلق نہیں ہوتا اگرچہ اس کے ظاہری اعمال کے سبب دین کو فائدہ پہنچتا ہے اس کی بڑی مثال وہ لوگ ہیں جو محض مالی مفاد اور دنیاوی اغراض فاسدہ کے تحت دینی کتابوں کی تصنیف و تالیف اور درس و تدریس کا کام کرتے ہیں، یا اذان دیتے ہیں، امامت کرتے ہیں، وعظ وتقریر کرتے ہیں اور مسجد ومدرسہ بناتے ہیں، اس طرح کے لوگ بظاہر حسن عمل اور حسن خدمت میں مصروف نظر آتے ہیں اور ان کے اس عمل و خدمت سے یقینا اسلام کو، مسلمانوں اور نیکی کے طلبگاروں کو بہت فائدہ پہنچتا ہے اور وہ دین وملت کی تقویت کا باعث بنتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ خود اپنے اس عمل و خدمت پر اجر وثواب سے بےبہرہ ہوتے ہیں۔

5820Mishkaat-al-Masabih

خود کشی کا مرتکب دوزخی

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قتل نفس ( یعنی خود کشی) کا مرتکب دوزخ میں جائے گا، لیکن اس مسئلہ میں علماء کرام نے لکھا ہے کہ اگر ایسا شخص ( کہ جس نے خود کشی کر کے اپنے آپ کو ختم کرلیا ہو) مؤمن ہے اور تصدیق ایمانی رکھتا تھا تو دوزخ میں ہمیشہ نہیں رہے گا، جیسا کہ کسی مؤمن کو عمداً قتل کرنے والے مؤمن کا حکم ہے، چناچہ کسی مؤمن کا اپنے آپ کو ختم کرلینا ( یعنی خودکشی کرلینا) ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی دوسرے مؤمن کو قتل کردیا ہو۔ واضح رہے کہ قرآن مجید کی ایک آیت میں قاتل مؤمن کے متعلق خلود نار ( دوزخ کے ابدی عذاب) کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ لیکن علماء کرام نے اس آیت میں تاویلیں کی ہیں کیونکہ قرآن کریم ہی کی دوسری آیتوں اور احادیث سے مؤمن کے قتل عمد کا ارتکاب کرنے والے کے بارے میں عدم خلود نار ( دوزخ کے غیر ابدی عذاب) کا حکم ثابت ہوتا ہے۔ تاہم وہ محدثین جن کا تعلق اہل ظواہر سے ہے انہوں نے کہا ہے کہ ایسا شخص ( جس نے خود کشی کرلی ہو) اگرچہ مؤمن بھی ہو تو دوزخ کے ابدی عذاب کا مستوجب ہوگا، گویا ان کے نزدیک دوزخ کا ابدی عذاب کافر ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے مگر یہ قول شاذ ہے اور اہل سنت والجماعت کے متفقہ مسلک کے بالکل خلاف ہے۔

5821Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ پر سحر کئے جانے کا واقعہ

وعن عائشة قالت سحر رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى إنه ليخيل إليه أنه فعل الشيء وما فعله حتى إذا كان ذات يوم وهو عندي دعا الله ودعاه ثم قال أشعرت يا عائشة أن الله قد أفتاني فيما استفتيته جاءني رجلان فجلس أحدهما عند رأسي والآخر عند رجلي ثم قال أحدهما لصاحبه ما وجع الرجل قال مطبوب قال ومن طبه قال لبيد بن الأعصم اليهودي قال في ماذا قال في مشط ومشاطة وجف طلعة ذكر قال فأين هو قال في بئر ذروان فذهب النبي صلى الله عليه و سلم في أناس من أصحابه إلى البئر فقال هذه البئر التي أريتها وكأن ماءها نقاعة الحناء ولكأن نخلها رءوس الشياطين فاستخرجه متفق عليه

اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ( جب) رسول کریم ﷺ پر جادو کیا گیا تو ( تو آپ ﷺ کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ) کسی کام کے بارے میں آپ ﷺ کا خیال ہوتا کہ کرلیا ہے حالانکہ وہ کام کیا نہ ہوتا تھا ( کافی دنوں تک آپ ﷺ کی یہی حالت رہی) تاآنکہ ایک دن اس وقت جب کہ آپ ﷺ میرے پاس تھے آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور پھر دعا کی اور پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتادی ہے جو میں نے اس سے دریافت کی تھی؟ اس کے بعد آپ ﷺ نے بیان کیا کہ (اللہ تعالیٰ نے میری حالت کے بارے میں مجھ پر اس طرح منکشف کیا کہ) میرے پاس آدمیوں کی صورت میں دو فرشتے آئے، ان میں سے ایک تو میرے سرہانے بیٹھا اور دوسرا پائینتی، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے ( میری طرف اشارہ کر کے) پوچھا! اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے کہا اس پر جادو کیا گیا ہے۔ پھر پہلے نے پوچھا جادو کس نے کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا لبید ابن اعصم یہودی نے پہلے نے پوچھا کس چیز میں جادو کیا گیا ہے۔ دوسرے نے جواب دیا کنگھی میں، ان بالوں میں جو کنگھی سے جھڑتے ہیں اور تر کھجور کے خوشہ کے خول میں۔ پہلے نے پوچھا یہ جادو کی ہوئی چیزیں کہاں رکہی ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا مدینہ کے ایک کنویں ذروان میں۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ اپنے چند مخصوص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ اس کنویں پر تشریف لے گئے اور فرمایا یہی وہ کنواں ہے جو مجھ کو دکھایا گیا ہے۔ اس کنویں کا پانی حنا کی طرح سرخ تھا اور کھجور کے وہ خوشے ( جو اس کنویں میں ڈالے گئے تھے) ایسے تھے جیسے وہ شیطانوں کے سر ہوں، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان سب چیزوں کو کنویں سے نکال لیا۔ ( بخاری ومسلم) تشریح کسی کام کے بارے میں آپ ﷺ کا خیال ہوتا۔۔ الخ۔ بعض شارحین نے اس جملہ کا یہ مطلب یہ لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر جو سحر ( جادو) کیا گیا تھا اس کے اثر سے آپ ﷺ پر نسیان ( بھول) کا غلبہ اس طرح ہوگیا تھا کہ کسی کام کرنے کے یا نہ کرنے کا خیال بہک جاتا تھا، مثلا آپ ﷺ کے خیال میں یہ بات آجاتی تھی کہ میں نے فلاں کام کرلیا ہے حالانکہ وہ کام آپ ﷺ کا کیا نہ ہوتا تھا، کسی بھی دینی معاملہ میں یہ صورت ہرگز پیش نہیں آتی تھی۔ اس حدیث میں آپ ﷺ کی ذہنی کیفیت و حالات کو ظاہر کرنے کے لئے یخیل کا جو لفظ استعمال کیا گیا ہے اس کی نظیر قرآن میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یخیل الیہ من سحرہم انہا تسعی یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے خیال میں یہ بات آئی کہ جادو کے اثر سے خود یہ رسیاں دوڑ رہی ہیں، حالانکہ رسیاں نہیں دوڑ رہی تھیں، بلکہ یہ تو ان کافر جادو گروں کی طرف سے نظر بندی کا اثر تھا کہ زمین پر پڑی ہوئی ساکت وصامت رسیاں خیال میں دوڑتی ہوئی معلوم ہو رہی تھیں یا یہ کہ جادوگر نے ان رسیوں پر پہلے سے پارہ جیسی کوئی چیز مل رکھی تھی اور، جب وہ رسیاں دھوپ میں زمین پر ڈال دی گئیں تو سورج کی تمازت سے ان کی ظاہری سطح پر اس طرح کی لرزش اور تھرتھرا ہٹ نمایاں ہوگئی جس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خیال میں آیا کہ یہ رسیاں خود حرکت کر رہی ہیں۔ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ اس حالت کو جو سحر کے اثر سے آپ ﷺ میں پیدا ہوگئی تھی، اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے خیال میں آتا کہ اپنی کسی بیوں سے ہمبستری کریں لیکن پھر نہیں کرتے تھے، یعنی آپ ﷺ میں خواہش پیدا ہوتی تھی اور یہ جانتے تھے کہ ہمبستری کی قدرت رکھتا ہوں لیکن جب بیوی کے پاس جاتے تھے تو ان پر قادر نہیں ہوتے تھے۔ واضح رہے کہ دوسرے امراض کی طرح سحر بھی ایک مرض ہی ہوتا ہے پس انبیاء (علیہم السلام) کی بشریت کے تحت جس طرح ان پر دوسرے جسمانی امراض اور بیماریوں کا اثر ہوتا تھا اسی طرح سحر کا بھی ان پر اثر انداز ہونا ان کی نبوت کے منافی نہیں ہے، نیز آنحضرت ﷺ کے جسم شریف میں سحر کی تاثیر اس حکمت کا اظہار بھی تھا کہ سحر کی تاثیر کا ایک حقیقت ہونا اس طرح ثابت ہوجائے کہ جب اشرف المخلوقات کی سب سے عظیم شخصیت بھی سحر سے متاثر ہوسکتی ہے تو دوسرے کی کیا حیثیت ہے اس سے آنحضرت ﷺ کی نبوت کی ایک واضح دلیل بھی ان کفار کے سامنے آئی جو آنحضرت ﷺ کو ساحر کہا کرتے تھے، چونکہ سحر خود ساحر پر اثر انداز نہیں ہوتا۔۔۔ اور آنحضرت ﷺ پر سحر نے اثر کیا تھا لہٰذا ثابت ہوا کہ آپ ﷺ ساحر نہیں ہیں۔ آپ ﷺ سے سحر کئے جانے کا یہ واقعہ ذی الحجہ سن ٦ ھ کا ہے جب کہ آپ ﷺ صلح حدیبیہ کے بعد مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئے تھے اور علماء کرام نے لکھا ہے کہ سحر کا یہ اثر آپ ﷺ پر چالیس سال تک رہا، ایک روایت میں چھ مہینے کی مدت بھی منقول ہے اور ایک قول کے مطابق تو یہ اثر پورے سال تک رہا۔ تاہم ان روایتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ غالب گمان یہ کہ اس سحر کا اثر پوری شدت اور غلبہ کے ساتھ چالیس دن تک رہا پھر اس کی کچھ علامتیں چھ ماہ تک باقی رہیں اور کچھ ہلکا سا اثر پورے سال تک رہا۔ بہر حال جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ نے مذکورہ صورت میں آپ ﷺ پر اس سحر کی حقیقت کو منکشف فرمایا اور اس سے نجات عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور پھر دعا کی۔۔۔ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ بار بار دعا کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ سے التجا میں مسلسل مصروف رہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی ناپسندیدہ اور تکلیف دہ صورت حال کے پیش آجانے اور کسی آفت وبلاء کے نازل ہونے پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اور گلوخلاصی کی دعا مانگنا مستحب ہے۔ اس موقع پر علماء کرام نے یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ حق تعالیٰ اپنے خاص اور برگزیدہ بندوں کے دل میں دعاء کا داعیہ اس وقت ڈالتا ہے جب قبولیت کی گھڑی آجاتی ہے ان کے برخلاف عالم لوگوں کا معاملہ دوسرا ہوتا ہے ان کو ان کی حالت پر چھوڑے رکھا جاتا ہے کہ وہ دعا کئے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب وقت قبولیت آتا ہے تو ان کی دعا قبول ہوتی ہے۔ لبید ابن اعصم یہودی نے بعض حضرات نے لکھا ہے کہ یہاں لبید سے مراد اس کی بیٹیاں ہیں، گویا اس فرشتے نے بتایا کہ لبید ابن اعصم کی بیٹیوں نے آنحضرت ﷺ پر سحر کیا ہے، ان حضرات نے یہ مراد قرآن کریم کی سورت قل اعوذبرب الناس اور الفلق کے ان الفاظ کی بنیاد پر بیان کی ہے کہ ومن شرالنفاثات فی العقد یعنی جادوگروں کا پڑھ پرھ کر گنڈہ پر پھونکنا اور گرہ لگاتے جانا، بھی ہوسکتا ہے۔ قاضی نے خاص طور پر شر نفاثات سے پناہ مانگنے کا سبب لکھتے ہوئے بیان کیا ہے کہ ایک یہودی نے آنحضرت ﷺ پر جو سحر کیا تھا اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ اس ( یہودی) نے کمان کے چلہ کو گنڈہ بنایا اور اس میں گیارہ گرہیں، لگائیں ( جن پر وہ منتر پڑھ پڑھ کر پھونکتا رہا) اور پھر اس نے اس چلہ ( یا گنڈہ) کو کنویں میں گاڑ دیا، چناچہ آنحضرت ﷺ اس اثر سے بیمار ہوگئے، تب اللہ تعالیٰ نے معوذتین یعنی قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس نازل فرمائی اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ کو وہ کنواں بتایا جہاں گنڈہ دفن تھا، آنحضرت ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بھیجا اور وہ اس گنڈہ کو نکال کر لائے اور اس پر یہ دونوں سورتیں پڑھائیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ جب ایک آیت پڑھتے تو اس گنڈہ کی ایک ایک گرہ خود بخود کھل جاتی، اس طرح ہر آیت پر ایک ایک گرہ کر کے تمام گرہیں کھل گئیں، اس کے بعد کا سچ ثابت ہونا لازم نہیں آتا جو وہ کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ تو سحر زدہ ہیں۔ وہ تو یہ بات اس معنی میں کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ پر کسی ایسے سحر کا اثر ہے جس نے ( نعوذ باللہ) ان کی عقل کو ماؤف کردیا ہے اور ان پر دیوانگی طاری کردی ہے جب کہ آنحضرت ﷺ پر کئے جانے والے اس سحر اور اس کے اثرات کی نوعیت بالکل دوسری تھی۔ بہر حال بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ قاضی نے جو روایت بیان کی ہے وہ ایک دوسرا واقعہ ہے اور اس واقعہ کے علاوہ ہے جو یہاں ( حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی) حدیث میں بیان کیا گیا ہے، تاہم یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ واقعہ تو ایک ہی ہے مگر الگ الگ دو صورتوں میں ایک ساتھ پیش آیا تھا، یعنی خود لبید نے بھی اپنی تدبیروں کے ساتھ آنحضرت ﷺ پر سحر کیا اور اس کی بیٹیوں نے بھی کیا تھا اور اس طرح حق تعالیٰ نے گویا آپ کے ثواب کو دو چند کرنے کے لئے دونوں سحر کے اثرات میں مبتلا کیا۔ جیسے وہ شیطانوں کے سر ہو۔ کھجور کے وہ خوشے کچھ تو منتر کے اثرات کی وجہ سے اور کچھ پانی میں پڑے رہنے یا نم زمین میں دفن رہنے کی وجہ سے جتنے زیادہ بد ہیت اور جس قدر وحشت ناک ہوگئے تھے اس کو ظاہر کرنے کے لئے ان کو شیطانوں کے سروں کے ساتھ مشابہت دی کیونکہ اہل عرب شیطان کے سر کو بد ہیتی اور وحشت ناکی کی علامت جانتے تھے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہاں شیطانوں کے سر سے ہیبت ناک سانپ مراد ہیں، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ کھجور کے وہ خوشے اس طرح کے ہوگئے تھے جسے ہیبتناک سانپ ہوں۔ اس واقعہ سے متعلق حضرت ابن عباس ؓ کی بھی ایک روایت ہے جس میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ سحر اور اس کی جگہ کا انکشاف ہونے کے بعد) آنحضرت ﷺ اور حضرت علی اور حضرت عمار کو سحر کی یہ چیزیں نکالنے کے لئے ذروان کنویں پر بھیجا۔ جب ان دونوں نے کھجور کا وہ خوشہ کنویں سے نکالا تو اس کے خول میں ان کو موم کا بنا ہوا آنحضرت ﷺ کا ایک پتلا ملا، اس پتلے میں سوئیاں چھبوئی ہوئی تھیں اور اس کے اوپر ایک ڈورا گیارہ گرہوں کے ساتھ لپٹا ہوا تھا پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) معوذتین ( سورت قل اعوذ برب الناس اور قل اعوذ برب الفلق) لے کر نازل ہوئے ان دونوں سورتوں کا پڑھا جانا شروع ہوا تو ہر آیت پر ایک گرہ کھلنے لکی اور اس پتلے میں سے کوئی سوئی نکالی جاتی تو آنحضرت ﷺ کو تسکین و راحت محسوس ہوتی اسی طرح ایک ایک کر کے تمام گرہیں کھل گئیں اور اس پتلے میں سے سب سوئیاں نکال لی گئیں۔ اس روایت کے متعلق شارحین نے لکھا ہے کہ ان دونوں حضرات کے ساتھ آنحضرت ﷺ بھی تشریف لے گئے ہوں گے اور حضرت علی وحضرت عمار کو کنویں میں جا کر ان چیزوں کے نکال لانے کا حکم فرمایا ہوگا۔ دوسری روایتوں میں بھی یہ آیا ہے کہ سحر اور ساحر کے اس انکشاف کے بعد آنحضرت ﷺ نے اس یہودی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی اور نہ کچھ کہا بلکہ یہ فرمایا! کہ میں فتنہ ابھارنے کو پسند نہیں کرتا۔

5822Mishkaat-al-Masabih

فرقہ خوارج کے بارے میں پیشگوئی جو حرف بہ حرف پوری ہوئی

وعن أبي سعيد الخدري قال بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يقسم قسما أتاه ذو الخويصرة وهو رجل من بني تميم فقال يا رسول الله اعدل فقال ويلك ومن يعدل إذا لم أعدل قد خبت وخسرت إن لم أكن أعدل فقال عمر له ائذن لي أضرب عنقه فقال دعه فإن له أصحابا يحقر أحدكم صلاته مع صلاتهم وصيامه مع صيامهم يقرءون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية ينظر إلى نصله إلى رصافه إلى نضيه وهو قدحه إلى قذذه فلا يوجد فيه شيء قد سبق الفرث والدم آيتهم رجل أسود إحدى عضديه مثل ثدي المرأة أو مثل البضعة تدردر ويخرجون على حين فرقة من الناس قال أبو سعيد أشهد أني سمعت هذا الحديث من رسول الله صلى الله عليه و سلم وأشهد أن علي بن أبي طالب قاتلهم وأنا معه فأمر بذلك الرجل فالتمس فأتي به حتى نظرت إليه على نعت النبي صلى الله عليه و سلم الذي نعته وفي رواية : أقبل رجل غائر العينين ناتئ الجبين كث اللحية مشرف الوجنتين محلوق الرأس فقال يا محمد اتق الله فقال : فمن يطيع الله إذا عصيته فيأمنني الله على أهل الأرض ولا تأمنوني فسأل رجل قتله فمنعه فلما ولى قال : إن من ضئضئ هذا قوما يقرءون القرآن لا يجاوز حناجرهم يمرقون من الإسلام مروق السهم من الرمية يقتلون أهل الإسلام ويدعون أهل الأوثان لئن أدركتهم لأقتلنهم قتل عاد . متفق عليه

حضرت سعید خدری کہتے ہیں کہ اس جب کہ ہم ( مقام جعرانہ میں) رسول کریم ﷺ کے ساتھ تھے اور آپ ( غزوہ حنین میں حاصل شدہ) مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے ایک جس کا نام ذوالخویصرہ تھا اور جو ( مشہور قبیلہ) بنی تمیم سے تعلق رکھتا تھا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آکر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ ( مال غنیمت کی تقسیم میں) عدل و انصاف سے کام لیجئے۔ آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر) فرمایا تجھ پر افسوس ہے، میں عدل و انصاف نہیں کروں گا تو کون کرے گا، اگر میں عدل و انصاف سے کام نہ لوں تو یقینا تو محروم ہوجائے گا اور ٹوٹے میں رہے گا۔ حضرت عمر نے بارگاہ رسالت میں اس شخص کی یہ گستاخانہ فقرہ بازی دیکھ کر) عرض کیا کر یا رسول اللہ ﷺ! اجازت دیجئے کہ اس (گستاخ اور بدبخت) انسان کا سرقلم کر دوں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا (نہیں) اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو کیونکہ کچھ لوگ اس کے تابعدار ہوں گے جن کی نمازوں کے مقابلہ پر تم اپنی نمازوں کو) اور جن کے روزوں کے مقابلہ پر تم اپنے روزوں کو حقیر جانوگے، وہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہ جائے گا۔ اور وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جب تیر شکار کو چھیدتا اور پار نکل جاتا ہے تو چاہے اس کے حلق سے نیچے نہ جائے گا۔ اور وہ دین سے اس نکل جائیں گے جس طرح جب تیر شکار کو چھیدتا اور پار نکل جاتا ہے تو چاہے اس کے پیکان کو دیکھا جائے چاہے اس کے رصاف کو دیکھا جائے چاہے اس کے پروں کو دیکھا جائے کہیں بھی کچھ نہیں پایا جاتا حالانکہ وہ تیر نجاست اور خون میں سے ہو کر نکلتا ہے اور اس شخص (ذو الخویصرہ) کے تابعداروں ( کے سردار) کی علامت یہ کہ وہ سیاہ رنگ کا آدمی ہوگا جس کے ایک بازو میں عورت کے پستان کی مانند (ابھرا ہوا گوشت) کا ایک ٹکڑا ہوگا جو ہلتا ہوگا ( اسی بناء پر اس کو ذو الثدیہ کہا جائے گا) اور وہ لوگ (یعنی اس شخص کے تابعدار) لوگوں کے ایک بہترین طبقہ ( یعنی حضرت علی اور ان کے تابعداروں) کے خلاف بغاوت کریں گے۔ حضرت ابوسعید بیان کرتے ہیں کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے خود یہ حدیث رسول کریم ﷺ سے سنی ہے اور پھر یہ بھی شہادت دیتا ہوں کہ امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس فرقہ کے لوگوں سے (جن کی طرف آنحضرت ﷺ نے اس حدیث میں ارشاد فرمایا) جنگ کی اور میں اس جنگ میں حضرت علی کے ساتھ تھا حضرت علی نے (اس جنگ میں فتحیاب ہونے اور دشمنوں کی پسپائی کے بعد) اس شخص کو تلاش کرنے کا حکم دیا (جس کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی فرمائی تھی، چناچہ مقتولین میں سے تلاش کرکے حضرت علی کے پاس اس شخص کو لایا گیا تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ نے اس کی جو علامت بیان کی تھی وہ اس میں (ہوبہو) موجود تھی۔ اور ایک روایت میں (آنحضرت ﷺ ذوالخویصرہ کی آمد کے ذکر کے بجائے یوں مذکور ہے کہ (اس وقت جب کہ آنحضرت ﷺ مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے) ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس کی آنکھیں اندر دھنسی ہوئی تھیں، پیشانی ابھری ہوئی تھی، داڑھی گنجان تھی رخسار اٹھے ہوئے تھے اور سر منڈا ہوا تھا، اس نے کہا اے محمد ﷺ! اللہ سے ڈور (یعنی اللہ کی اطاعت کرو اور تقسیم میں عدل و انصاف سے کام لو) آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کروں گا تو پھر کون اللہ کی اطاعت کرے گا (یعنی میں مقام نبوت وعصمت پر فائز ہونے کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا اور سب سے زیادہ اس کی اطاعت کرنے والا ہوں، بھلا تو مجھ کو اطاعت گزاری کا کیا سبق دیتا ہے) مجھ کو اللہ تعالیٰ روئے روئے زمین کے لوگوں میں (سب سے بڑا) امین جانتا ہے (اور مخلوق میں عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے مجھے اس دنیا میں بھیجا ہے) صرف تو ہے جو مجھ کو امین نہیں سمجھتا اور مجھ پر اعتماد نہیں کرتا۔ ایک صحابی یعنی حضرت عمر نے (اس شخص کی یہ گستاخی دیکھ کر) آنحضرت ﷺ سے اس شخص کا سرقلم کردینے کی اجازت چاہی لیکن آپ ﷺ نے اس کو منع فرمایا اور جب وہ شخص واپس چلا گیا تو فرمایا اس شخص کی اصل سے ایک قوم نمودار ہوگی۔ وہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا، اسلام (یعنی کمال اسلام کے دائرہ یا امام وقت کی اطاعت) سے وہ اس طرح نکل جائیں گم جس طرح تیر شکار میں نکل جاتا ہے، پھر وہ لوگ (یعنی خارجی، اہل اسلام کو تو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں گے (مطلب یہ کہ جن لوگوں سے جنگ کرنا زیادہ اہم ہوگا، یعنی کافروں اور بت پرستوں سے، ان سے تو جنگ کریں گے نہیں البتہ مسلمانوں کے خلاف جنگ وجدل میں مصروف رہیں گے) اگر میں ان لوگوں کو پاؤں تو ان کو اس طرح قتل کردوں جس طرح قوم عاد کے لوگ قتل کئے گئے تھے (بخاری ومسلم) تشریح ذوالخویصرہ نامی شخص جس کا حدیث میں ذکر ہوا، دراصل منافق تھا اور جیسا کی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی فرمائی، امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زمانہ میں جس طبقہ نے حضرت علی ؓ سے خروج و بغاوت کی راہ اختیار کی تھی جو فرقہ خوارج کے نام سے مشہور ہوا اس کی اصل بنیاد یہی شخص تھا اس کے حق میں قرآن کی یہ آیت (وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ ) 9۔ التوبہ 58) نازل ہوئی تھی۔ ایک شارح نے جو یہ کہا ہے کہ ذوالخویصرہ، خارجیوں کا سردار تھا تو یہ بات صحیح نہیں کیونکہ خارجیوں کا ظہور حضرت علی کے کرم اللہ وجہہ کے زمانہ میں ہوا ہے۔ غزوہ حنین میں غنیمت کے طور پر جو مال و اسباب اسلامی لشکر کے ہاتھ لگا تھا اس کو آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں میں اس طرح تقسیم فرمایا کہ جس شخص کی جتنی ضرورت و حاجت تھی اس کو اسی اعتبار سے عطا فرمایا اس منافق ذوالخویصرہ کو یہ بات ناگوار ہوئی اور اس نے اپنی بدظنی کے اظہار میں آنحضرت ﷺ پر گویا یہ اعتراض کیا کہ آپ ﷺ کو مال غنیمت کو تقسیم اس طرح نہیں کرنی چاہئے۔ بلکہ ہر شخص کو برابر برابر تقیسم کا جو طریقہ میں نے اختیار کیا ہے اس کی بنیاد عدل و انصاف کے سوا کچھ نہیں، عدل کا مطلب یہی نہیں ہے کہ ہر شخص کو برابر برابر دیا جائے خواہ کسی کی ضرورت کتنی ہی زیادہ ہو اور کسی کی حاجت کتنی ہی کم ہو، یہ بھی عدل ہی ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ ضرورت مند ہے اس کو اتنا ہی زیادہ دے کر اس کی ضرورت کو پورا کیا جائے اور جو شخص کم ضرورت رکھتا ہے اس کو کم دیا جائے، پھر آپ ﷺ نے اس شخص کو واضح فرمادیا کہ میں رحمۃ للعالمین بنا کر دنیا میں بھیجا گیا ہوں تاکہ ہر ایک کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کروں اگر کوئی شخص میری عدالت اور میری انصاف پسندی پر انگلی اٹھاتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کے نصیب میں مایوسی و محرومی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، لہٰذا تیری بہرہ مندی اور امیدواری تو اسی صورت میں تھی جب تجھے میری عدالت پر اعتماد ہوتا، اگر میرے عدل پر تجھے بھروسہ نہیں ہے اور تیرے نزدیک میں انصاف سے کام نہیں لے رہا ہوں تو سمجھ لے کہ تو خود اپنے گمان کے مطابق ناامید محروم ہوگیا اور ٹوٹے میں رہا۔ شرح السنۃ میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر کو تو اس شخص کے قتل سے منع کردیا، لیکن دوسری روایت کے بموجب آپ ﷺ نے اپنے اس عزم کا اظہار فرمایا کہ اگر میں اس شخص کے تابعداروں کو پاؤں تو قتل کر دوں؟ ان دونوں میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے عزم کے اظہار کی صورت میں ان لوگوں کے قتل کو جو مباح فرمایا تو اس کا تعلق اس صورت سے ہے، جب وہ لوگ باقاعدہ اپنا گروہ بنائیں اور بہت سارے مل کر اور ہتھیار باندھ کر دوسرے لوگوں ( یعنی اہل اسلام) سے تعارض کریں اور ان کے خلاف جنگ وجدال کر معرکہ گرم کرنے کے درپے ہوں، جب کہ حضرت عمر کو منع کرنے کے وقت یہ صورت نہیں تھی وہ تو بس ایک شخص تھا جس نے اپنی بدباطنی اور اپنے نفاق کا اظہار کردیا تھا یہ اس کے فتنہ انگیز تابعداروں کا ظہور اور ان کے فتنہ و فساد کی اصل ابتداء حضرت علی کے زمانہ میں ہوئی۔ چناچہ حضرت علی نے ان کا مقابلہ کیا اور ان میں سے بہت سوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ لیکن زیادہ صحیح اور عمدہ بات وہ ہے جو ایک شارح نے لکھی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا حضرت عمر کو اس شخص کی قتل کی اجازت نہ دینا دراصل آنحضرت ﷺ کی اس حسن اخلاق اور کمال تحمل وبردباری کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کبھی بھی اپنی ذات کے بارے میں کسی سے بدلہ و انتقام نہیں لیتے تھے حالانکہ اس شخص نے زیادتی اور عداوت کے اظہار میں کئی کسر نہیں چھوڑی تھی اس نے براہ راست ذات رسالت کو مخاطب کرکے کہا، عدل و انصاف سے کام لو، دوسری روایت کے مطابق اس نے یہ کہا کہ اللہ سے ڈرو۔ اور ایک روایت میں اس کے یہ الفاظ منقول ہیں کہ ( اے محمد ﷺ! ) تم جس طرح مال غنیمت تقسیم کر رہے ہو اس میں عدل و انصاف نہیں ہے اس کے اس طرح کے الفاظ اس بات کے لئے کافی تھے کہ اس کو فورا قتل کردیا جاتا، کیونکہ اس نے رسول کریم ﷺ کی نکتہ چینی کی اور آپ ﷺ کو عیب لگایا، اسی لئے اگر کوئی شخص آج بھی ذات رسالت ﷺ کے متعلق اس طرح کے الفاظ زبان سے نکالے تو اس پر کفر و ارتداد کا حکم لگادیا جائے گا، لیکن اس کے باوجود آنحضرت ﷺ نے اس سے داوگیر نہیں کی اور اس کو قرار واقعی سزا دینے کی اجازت عطا نہیں فرمائی۔ جن کی نمازوں کے مقابلہ پر تم اپنی نمازوں کو۔۔ الخ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کے تابعدار وہ لوگ ( جو فرقہ خوارج کے نام سے موسوم اور مشہور ہوں گے، بظاہر بڑے دین دار اور متبع شریعت نظر آئیں گے، وہ عام مسلمانوں کی نظر میں اپنا سکہ جمانے کے لئے ایسی اچھی نمازیں پڑھیں گے، بظاہر بڑے دین دار اور متبع شریعت نظر آئیں گے، وہ عام مسلمانوں کی نظر میں اپنا سکہ جمانے کے لئے ایسی اچھی نمازیں پر ھیں گے، وہ قرآن کی تلاوت بھی کریں گے اور اس طرح کریں گے کہ ترتیل وتجوید اور مخارج حروف کی رعایت کے تمام آداب و شرائط پر اتریں گے، لیکن ان کے دل میں چونکہ نفاق ہوگا اس لئے ان کی تلاوت حلق سے نیچے نہیں جائے گی، یعنی نہ ان کی تلاوت وقرآت عند اللہ مقبول ہوگی اور نہ ان کی عبادت و ریاضت اور اعمال اوپر چڑھیں گے اور ثمر آور ہوں گے یا یہ کہ ان کی تلاوت صرف ان کی زبان تک محدود رہے گی، نہ دل تک جائے گی اور نہ اس کے اثرات روح تک پہنچیں گے۔ پھر جب وہ لوگ اپنا مضبوط اور وسیع جتھہ بنالیں کے اور طاقتور جماعت کی صورت اختیار کرلیں گے تو پھر دین کی اطاعت و فرمانبرداری یا امام وقت کی اطاعت اور یا سرے سے اسلام کے دائرہ سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے بیچ میں سے نکل جاتا ہے، چناچہ جس جطرح شکار کے بیچ سے نکلے ہوئے تیر کے اوپر سے لے کر نیچے تک، کسی بھی حصہ پر خون یا نجاست کا نشان ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا، حالانکہ وہ تیر خون اور نجاست ہی میں سے باہر نکلتا ہے اسی طرح ان لوگوں کے دین سے نکلنے کے بعد ان پر دینداری، اسلام کی وابستگی اور مسلمانوں کی محبت کا ذرا بھی کوئی اثر نہیں رہے گا حالانکہ وہ بڑے نمازی، قرآن کی بہت تلاوت کرنے والے اور تہجد گزار وشب بیدار ہوں گے۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے۔۔ الخ۔ حدیث کا یہ جملہ ان علماء کی دلیل ہے جو خوارج کی تکفیر کے قائل ہیں اور خطابی نے کہا ہے کہ دین سے نکل جائیں گے۔ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ لوگ سرے سے دین اسلام کے دائرہ ہی سے خارج ہوجائیں گے بلکہ ان کا امام وقت کے خلاف بغاوت کرنا مراد ہے۔ اور سر منڈا ہوا تھا یہ گویا اس شخص کی طرف سے اس ہیبت و صورت کی ظاہری مخالفت تھی جس پر آنحضرت ﷺ کے اکثر صحابہ کرام تھے، چناچہ اکثر صحابہ کرام سر پر بال رکھتے تھے منڈاتے نہیں تھے علاوہ اس موقع کے جب حج سے فارغ ہونے کے بعد سر منڈانا ضرور ہوتا ہے، البتہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اکثر اپنا سر منڈایا کرتے تھے اور وہ بھی اس احتیاط کے پیش نظر کہ غسل میں کہیں بالوں کی وجہ سے پانی سر تک پہنچنے سے نہ رہ جائے۔ جس طرح قوم عاد کے لوگ قتل کئے گئے تھے میں قتل سے مراد ان کی اجتماعی ہلاکت اور ان کا مکمل استیصال ہے اور اس چیز یعنی ہلاکت واستیصال کو قتل سے تعبیر کرنا محض مشاکلت کے لئے ہے ورنہ جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے تو قوم عاد کو قتل نہیں کیا گیا تھا، بلکہ سخت آندھی اور طوفان کے ذریعہ اس طرح ان کو ہلاک و برباد کیا گیا تھا کہ قوم کی قوم نیست ونابود ہو کر رہ گئی تھی۔

5823Mishkaat-al-Masabih

حضرت ابوہریرہ کی والدہ کے اسلام لانے کا واقعہ

وعن أبي هريرة قال كنت أدعو أمي إلى الإسلام وهي مشركة فدعوتها يوما فأسمعتني في رسول الله صلى الله عليه و سلم ما أكره فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا أبكي قلت يا رسول الله : ادع الله أن يهدي أم أبي هريرة فقال : اللهم اهد أم أبي هريرة . فخرجت مستبشرا بدعوة النبي صلى الله عليه و سلم فلما صرت إلى الباب فإذا هو مجاف فسمعت أمي خشف قدمي فقالت مكانك يا أبا هريرة وسمعت خضخضة الماء قال فاغتسلت فلبست درعها وعجلت عن خمارها ففتحت الباب ثم قالت يا أبا هريرة أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله فرجعت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا أبكي من الفرح فحمد الله وأثنى عليه وقال خيرا . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں اپنی والدہ کو جو مشترکہ تھیں قبول اسلام کی تلقین کیا کرتا تھا، چناچہ ایک دن میں نے ان کو ( معمول کے مطابق) اسلام قبول کرنے کی تلقین کی تو انہوں نے رسول کریم ﷺ کی شان اقدس میں ( ایک نازیبا اور گستاخانہ) بات کہی کہ مجھ کو سخت ناگوار ہوئی (بلکہ میں تو اب بھی اس کو نقل کرنے گوارا نہیں کرتا میں ( اس بات سے مغموم اور رنجیدہ ہو کر کہ انہوں نے میرے سامنے اتنے برے الفاظ زبان سے نکالے ہیں اور ماں ہونے کی وجہ سے میں ان کی تادیب بھی نہیں کرسکتا) روتا ہوا رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! اب تو آپ ہی اللہ سے دعا فرما دیجئے کہ ابوہریرہ ؓ کی ماں کو ہدایت عطا فرمائے، آپ ﷺ نے دعا فرمائی۔ اے اللہ! ابوہریرہ ؓ کی ماں کو ہدایت عطا فرما! میں نبی کریم ﷺ کی دعا سے بڑی خوش آیند امید لے کر ( بارگاہ نبوت سے) واپس لوٹا اور جب اپنی والدہ کے گھر کے دروازہ پر پہنچا تو دیکھا کہ دروازہ بند ہے، لیکن میری والدہ نے میرے قدموں کی آواز سن لی تھی انہوں نے، ( اندر سے آواز دے کر کہا کہ ابوہریرہ! وہیں ٹھہرو ( یعنی ابھی گھر میں نہ آؤ) پھر میں نے پانی گر نے کی آواز سنی میری والدہ نے غسل کیا، کپڑا پہنا اور مارے جلدی کے دوپٹہ اوڑھے بغیر دروازہ کھول دیا اور ( مجھے دیکھ کر) کہا، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتی ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں یہ دیکھتے ہی کہ میری پیاری ماں کو ہدایت مل گئی اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا، الٹے پاؤں لوٹا اور خوشی کے آنسو گراتا ہوا رسول کریم ﷺ کے خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے اللہ کی تعریف کی اور میری والدہ کے اسلام پر شکر ادا کیا اور اچھا فرمایا۔ ( مسلم) تشریح اور خوشی کے آنسو گراتا ہوا۔۔ الخ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان محض رنج وغم کے وقت ہی آنسو نہیں بہاتا بلکہ انتہائی مسرت اور خوشی کے موقع پر بھی اس کی آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں۔ کسی زندہ دل نے بڑی پیاری بات کہی ہے کہ خوشی کا رونا اس سبب سے ہوتا ہے کہ غم آنسووں کی صورت میں بہہ کی نکل جانا چاہتا ہے۔ اور اچھا فرمایا کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے یہ خوشخبری سن کر دعا و بشارت پر مشتمل کوئی اچھا جملہ ارشاد فرمایا۔ یا یہ کہ خیر کا لفظ ایک ایسی عبارت سے متعلق ہے جو الفاظ میں تو مذکور نہیں ہے لیکن اس کا مفہوم مراد لیا گیا ہے یعنی آنحضرت ﷺ نے گویا یہ فرمایا اے ابوہریرہ! تم اپنی والدہ کے اسلام لانے کے سبب اچھا اجر و انعام پانے کے مستحق ہوگئے۔ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کے اس معجزہ کا ذکر ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی والدہ باوجود یہ کہ کفر و انکار پر شدت سے قائم تھیں اور اسلام کے تئیں سخت بغض ونفرت رکھتی تھیں، لیکن آنحضرت ﷺ کی دعا نے فورا اثر کیا اور ان کے قلب و دماغ میں حیرت انگیز طور پر انقلاب آیا کہ دین اسلام کی آغوش میں آگئیں۔

5824Mishkaat-al-Masabih

حضرت ابوہریرہ کا کثیر الروایت ہونا اعجاز نبوی کا طفیل ہے

وعنه إنكم تقولون أكثر أبو هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم والله الموعد وإن إخوتي من المهاجرين كان يشغلهم الصفق بالأسواق وإن إخوتي من الأنصار كان يشغلهم عمل أموالهم وكنت امرأ مسكينا ألزم رسول الله صلى الله عليه و سلم على ملء بطني وقال النبي صلى الله عليه و سلم يوما : لن يبسط أحد منكم ثوبه حتى أقضي مقالتي هذه ثم يجمعه إلى صدره فينسى من مقالتي شيئا أبدا فبسطت نمرة ليس علي ثوب غيرها حتى قضى النبي صلى الله عليه و سلم مقالته ثم جمعتها إلى صدري فوالذي بعثه بالحق ما نسيت من مقالته تلك إلى يومي هذا . متفق عليه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے ایک دن تابعین کو مخاطب کر کے یا جیسا کہ بعض حضرات نے کہا ہے صحابہ متاخرین کو مخاطب کر کے کہا کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے بہت زیادہ حدیثیں نقل کرتے ہیں ( تو پہلے یہ سمجھ لو کہ) اللہ کا وعدہ ( برحق ہے) اور پھر سنو میں زیادہ حدیثیں بیان کرنے کا سبب تمہیں بتاتا ہوں کہ میرے مہاجر بھائیوں کو تو بازار میں ہاتھ پر ہاتھ مارنے ( یعنی خریدو فروخت کی مشغولیت الجھائے رکھتی تھی اور میرے انصار بھائیوں کو ان کی زمین جائیداد فرصت نہیں دیتی تھی، جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں ایک مسکین ومفلس شخص تھا اور پیٹ بھر کر کھانا مل جانے پر قناعت کر کے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں پڑا رہتا تھا۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ) رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا کپڑا پھیلائے اور اس وقت تک پھیلائے رہے جب تک میں اپنی بات ( یعنی دعا) پوری نہ کرلوں اور پھر وہ شخص اپنے کپڑے کو سمیٹ کر اپنے سینہ سے لگالے تو یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ وہ میرے بات ( حدیث) کو کلی طور پر یا جزوی طور پر کبھی بھی بھول جائے۔ چناچہ میں نے ( فورا) اپنی کملی پھیلا لی جس کے علاوہ میرے پاس اور کوئی کپڑا نہیں تھا اور اس کو اس وقت تک پھیلائے رکھا جب تک آپ ﷺ نے اپنی بات پوری نہ کرلی اور پھر اس کو سمیٹ کر اپنے سینہ سے لگا لیا، قسم ہے اس ذات کی جس نے آنحضرت ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ( اس کے بعد سے) آج تک میں آنحضرت ﷺ سے سنا ہوا کوئی ارشاد نہیں بھولا ہوں۔ ( بخاری ومسلم) تشریح اللہ کا وعدہ برحق ہے میں اللہ کے وعدہ سے مراد قیامت کا دن ہے، اس بات سے حضرت ابوہریرہ ؓ کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن ہم سب کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اگر میں نے آنحضرت ﷺ کی حدیث بیان کرنے میں کمی بیشی یا خیانت کی ہوگی تو یقینا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجھ کو سزا دے گا، کیونکہ آنحضرت ﷺ نے یہ فرما دیا ہے کہ جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے یعنی میری طرف نسبت کرکے جھوٹی حدیث بیان کرے تو اس کو اپنا ٹھکانا دوزخ میں تیار سمجھنا چاہئے۔ دوسرے صحابہ کی بہ نسبت حضرت ابوہریرہ زیادہ حدیثیں کیوں بیان کرتے ہیں؟ خود انہوں نے اس کے دو سبب بیان کئے ہیں، پہلا تو یہ کہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں سب سے زیادہ حاضر باشی کی سعادت انہی کو حاصل تھی، جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا مہاجر صحابہ جو زیادہ تر تجارت پیشہ تھے، اپنی تجارت اور کاروباری مصروفیات کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ہمہ وقت حاضر نہیں رہتے تھے، اسی طرح انصار صحابہ اپنی زمین جائیداد کی مصروفیت جیسے کھجور کے باغات کی دیکھ بھال اور کھیتی باڑی وغیرہ میں لگے رہنے کے سبب بارگاہ نبوت میں خاص خاص اوقات میں ہی حاضر ہوتے تھے ان سب کے برعکس حضرت ابوہریرہ ؓ کا نہ گھر بار تھا نہ کاروبار، زراعت اور نہ معاشی زندگی کی کوئی مشغولیت، وہ تو ایک مفلس وقلاش انسان تھے ان کی قناعت کے لئے یہی بہت کافی تھا کہ کہیں سے کھانے پینے کی کوئی چیز آگئی اور انہوں نے اپنی بھوک مٹالی، اس کے علاوہ اور کسی چیز کی نہ ان کو ضرورت تھی اور نہ خواہش اس وجہ سے وہ اپنا تقریبا سارا وقت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر باشی میں گزارتے تھے اور اسی بناء پر آنحضرت ﷺ کے احوال و معاملات کو دیکھنے اور آپ ﷺ کے ارشادات کو سننے کا سب سے زیادہ موقع ان ہی کو ملتا تھا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جو دوسرا سبب بیان کیا وہ دراصل ارشادات نبوی ﷺ کو سن کر جوں کا توں اپنے دماغ میں محفوظ رکھنے کا وہ خصوصی وصف تھا جو ایک سعادت کے طور پر انہیں اعجاز نبوی کے طفیل میں حاصل ہوا، اس سعادت کے حصول کی جو صورت پیش آئی اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے اس کا ذکر جن الفاظ میں کیا اس کی وضاحت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ چاہتے تھے کہ میری امت کے جو لوگ مجھ سے حدیث سنیں وہ اس کو اچھی طرح یاد رکھیں تاکہ اس کے ذریعہ ہدایت وصلاح کا سلسلہ بلاکم وکاست جاری رہے، چناچہ آپ ﷺ نے ایک دن فرمایا کہ اس وقت میں اپنے پروردگار سے یہ دعا کرنے جارہا ہوں کہ میرے صحابہ میری جو حدیثیں سنیں وہ ان کے دماغ میں پوری طرح محفوظ رہیں۔ لہٰذا اس موقع پر جو شخص اپنا کپڑا پھیلالے گا اور میری دعا ختم ہونے تک اس کپڑے کو پھیلائے رکھے گا اور اس کے بعد پھر اس کپڑے کو سمیٹ کر اپنے سینہ سے لگا لے گا تو اس دعا کی برکت سے، جو پہلے کپڑے میں اور پھر کپڑے کے ذریعہ سینہ تک پہنچے گی اس کا حافظہ اس قدر قوی ہوجائے گا کہ وہ میری جو حدیث سنے گا اس کو زندگی بھر کبھی نہیں بھولے گا، چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے اپنی کملی کو جو اس وقت ان کے پاس واحد کپڑا تھا، فورا پھیلا دیا آنحضرت ﷺ نے دعا مانگنی شروع کردی اور جب تک آپ دعا مانگتے رہے، حضرت ابوہریرہ اپنی کملی پھیلائے بیٹھے رہے، جب آنحضرت نے دعا ختم کرلی تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے کملی کو سمیٹ کر اپنے سینہ سے لگا لیا، اس کا اثر یہ ہوا کہ حضرت ابوہریرہ آنحضرت ﷺ سے جو بھی ارشاد گرامی سنتے وہ جوں کا توں آپ کے دماغ میں محفوظ ہوجاتا اس طرح آپ کا سینہ اور دماغ احادیث نبوی ﷺ کا محفوظ گنجینہ بن گیا۔

5825Mishkaat-al-Masabih

حضرت جریر کے حق میں دعا

وعن جرير بن عبد الله قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا تريحني من ذي الخلصة ؟ فقلت : بلى وكنت لا أثبت على الخيل فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فضرب يده على صدري حتى رأيت أثر يده في صدري وقال : اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا . قال فما وقعت عن فرسي بعد فانطلق في مائة وخمسين فارسا من أحمس فحرقها بالنار وكسرها . متفق عليه

اور حضرت جریر ابن عبداللہ بجلی کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تم ذولخلصہ کو توڑ کر مجھے راحت نہیں پہنچاؤ گے؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں ( اس کو توڑ کر آپ ﷺ کو ضرور راحت پہنچاؤں گا ( لیکن میرے لئے ایک پریشانی یہ تھی کہ) میں گھوڑے کی سواری پر پوری طرح قادر نہیں تھا اور کبھی کبھی گرپڑتا تھا) لہٰذا میں نے نبی کریے ﷺ سے اس کا ذکر کیا ( کہ ذو الخلصہ تک پہنچنے کے لئے گھوڑے پر سفر کرنا پڑے گا اور میں گھوڑے کی سواری پر پوری طرح قادر نہیں ہوں) آنحضرت ﷺ نے ( یہ سن کر) میرے سینے پر ( اتنے زور سے ہاتھ مارا کہ میں نے اس کا اثر اپنے سینہ کے اندر تک محسوس کیا اور پھر ( میرے حق میں) یہ دعا فرمائی اے اللہ! اس ( جریر) کو ( ظاہر و باطن میں) ثابت وقائم رکھ اور اس کو راہ راست دکھانے والا اور راہ راست پانے والا بنا۔ حضرت جریر کہتے ہیں کہ اس دعا کے بعد میں کبھی گھوڑے سے نہیں گرا اور پھر احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو لے کر جریر ( ذولخلصہ توڑنے کے لئے) روانہ ہوئے، وہاں پہنچ کر انہوں نے ذوالخلصہ کو آگ لگا دی اور اس کو توڑ پھوڑ ڈالا۔ ( بخاری ومسلم) تشریح ذوالخلصہ ( یا ذو الخصلہ) عرب کے قبیلہ خثعم کے بت خانہ کا نام تھا اس کو کعبۃ الیمامہ بھی کہا جاتا تھا، اس میں ایک بہت بڑا بت تھا جس کا نام خلصہ تھا، اس بت کی بڑے پیمانہ پر پوجا ہوتی تھی، یہ صورت حال آنحضرت ﷺ کے لئے انتہائی تکلیف دہ تھی اس لئے آپ ﷺ نے حضرت جریر سے فرمایا کہ اگر تم بت خانہ کو توڑ پھوڑ ڈالو تو مجھے چین مل جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نفوس مقدسہ اور کاملین کو غیرہ اللہ کی عبادت و پرستش اور خلاف شرع امور دیکھ کر سخت صدمہ ہوتا ہے اور اذیت محسوس ہوتی ہے۔ احمس جو احمر کے وزن پر ہے، دراصل لفظ حماسہ سے بنا ہے جس کے معنی شجاعت وبہادری کے ہیں، قریش کے کچھ قبیلے جو شجاعت وبہادری اور جنگجوئی میں امتیازی حیثیت رکھتے تھے ان کو احمس کہا جاتا ہے۔ اور پھر احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو لے کر جابر روانہ ہوئے۔۔ الخ۔ ٰ روایت میں اس آخری جزء کے بارے میں شارحین نے لکھا ہے کہ یہ اس راوی کے الفاظ ہیں جس نے اس روایت کو حضرت جریر سے نقل کیا ہے، لیکن بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ یہ جملے بھی اصل روایت ہی کے ہیں اور حضرت جریر کے اپنے الفاظ ہیں روایت میں یہاں پہنچ کر انہوں نے وہ اسلوب اختیار کیا جس کو التفات کہا جاتا ہے۔ یعنی اس جملہ میں انہوں نے اپنے ذکر کے لئے متکلم کا صیغہ چھوڑ کر غائب کا صیغہ اختیار کیا۔

5826Mishkaat-al-Masabih

زبان مبارک سے نکلا ہوا لفظ اٹل حقیقت بن گیا

وعن أنس قال : إن رجلا كان يكتب للنبي صلى الله عليه و سلم فارتد عن الإسلام ولحق بالمشركين فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن الأرض لا تقبله . فأخبرني أبو طلحة أنه أتى الأرض التي مات فيها فوجده منبوذا فقال : ما شأن هذا ؟ فقالوا : دفناه مرارا فلم تقبله الأرض . متفق عليه

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ ایک شخص کو نبی کریم ﷺ کی وحی لکھتا تھا مرتد ہوگیا اور مشرکوں سے جاملا۔ نبی ﷺ (کو اس کے بارے میں اطلاع ملی تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کو زمین قبول نہیں کرے گی۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ ابوطلحہ نے (جو میری ماں کے شوہر تھے) مجھ کو بتایا کہ جب وہ (ابو طلحہ) اس مقام پر پہنچے جہاں اس شخص کی موت و تدفین ہوئی تھی تو دیکھا کہ وہ قبر سے باہر پڑا ہوا ہے انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ اس کو کیا ہوا (کہ قبر سے باہر پڑا ہوا ہے) لوگوں نے جواب دیا کہ ہم اس شخص کو کئ بار دفن کرچکے ہیں لیکن زمین اس کو قبول نہیں کرتی (ہر مرتبہ ایسا ہوا کہ ہم اس کو دفن کرکے گئے اور جب آکر دیکھا تو باہر پڑا ہوا پایا۔ آخر تنگ آکر ہم نے اس کو دفن کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ (بخاری ومسلم) وہ شخص پہلے نصرانی ( عیسائی) تھا پھر ایمان لایا اور مسلمان ہوگیا، چونکہ لکھنا پڑھنا جانتا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس کو وحی کی کتابت پر مامور کردیا، لیکن پھر نہ معلوم کیا ہوا کہ اسلام سے پھر گیا اور مرتد ہو کر دوبارہ نصرانی بن گیا اور مخالفین اسلام یعنی مشرکوں کی صف میں شامل ہوگیا۔ اس بات سے آنحضرت ﷺ کو سخت تکلیف ہوئی اور زبان مبارک سے یہ الفاظ ادا ہوئے کہ اس شخص کو زمین بھی قبول نہیں کرے گی اور اس کی لاش کو اپنے اندر سے باہر پھینک دے گی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ جب وہ شخص مرا اور مشرکوں نے ان کی لاش کو دفن کردیا تو صبح ہو کر انہوں نے دیکھا کہ اس کی لاش قبر سے باہر پڑی ہوئی ہے انہوں نے کہنا شروع کیا کہ یہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے کہ قبر کھود کر اس کی لاش کو باہر ڈال دیا ہے اور پھر انہوں نے بڑی محنت سے جہاں تک کھود سکے بہت گہری قبر کھودی اور اس کو دفن کردیا، جب اگلی صبح کو پھر آکر دیکھا تو لاش قبر سے باہر پڑی ہوئی ہے اب اس کو احساس ہوا کہ یہ کسی آدمی کا کام نہیں ہے چناچہ وہ مایوس ہو کر واپس لوٹ گئے اور لاش کو اسی جگہ پڑے رہنے دیا۔

5827Mishkaat-al-Masabih

قبور یہود کے احوال کا انکشاف

وعن أبي أيوب قا ل : خرج النبي صلى الله عليه و سلم وقد وجبت الشمس فسمع صوتا فقال : يهود تعذب في قبورها . متفق عليه

اور حضرت ابوایوب انصاری کہتے ہیں کہ ( ایک دن) نبی کریم ﷺ غروب آفتاب کے بعد گھر سے نکلے تو ایک آواز سنی اور ( وہ آواز سن کر) فرمایا یہ یہود ہیں ( یعنی یہ آواز ان یہودیوں کی ہے) جن کو قبر میں عذاب دیا جار ہا ہے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح ایک آواز سنی کے بارے میں شارحین نے لکھا ہے کہ وہ آواز یا تو ان ملائکہ کی تھی جو قبر میں آوازدینے پر مامور تھے یا ان یہودیوں کی تھی جن کو قبروں میں عذاب دیا جارہا تھا اور یا وقوع عذاب کی آواز تھی۔ حدیث کی عبارت یھود تعذب فی قبورھا کے پیش نظر دوسرا احتمال زیادہ قرین قیاس ہے۔ اس حدیث سے عذاب قبر کا ثبوت ملتا ہے اور آنحضرت ﷺ کا یہ معجزہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ﷺ پر ان یہودیوں کی قبر کا حال منکشف ہوا اور آپ ﷺ نے اس کو بیان فرمایا۔

5828Mishkaat-al-Masabih

آندھی دیکھ کر ایک منافق کے مر نے کی خبر دینے کا معجزہ

وعن جابر قا ل : قدم النبي صلى الله عليه و سلم من سفر فلما كان قرب المدينة هاجت ريح تكاد أن تدفن الراكب فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بعثت هذه الريح لموت منافق . فقدم المدينة فإذا عظيم من المنافقين قد مات . رواه مسلم

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک دن) نبی کریم ﷺ سفر سے واپس مدینہ تشریف لا رہے تھے کہ مدینہ کے قریب پہنچے تو سخت آندھی آئی اور سخت بھی اتنی کہ سوار کو زمین میں دفن کر دے ( یعنی اس آندھی کی شدت اور تیزی دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی سوار زمین پر قائم نہیں رہ سکے گا، طوفانی آندھی کا کوئی سخت جھونکا اڑا کرلے جائے گا اور کہیں ( دور نامعلوم جگہ پر ہلاک کر ڈالے گا) آنحضرت ﷺ نے ( اس موقع پر) فرمایا یہ آندھی ایک منافق کے مرنے پر بھیجی گئی ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ جب مدینہ میں داخل ہوئے تو معلوم ہوا کہ منافقوں کا ایک بڑا سردار مرگیا ہے۔ ( مسلم) تشریح بعض حضرات نے تو یہ بھی لکھا ہے کہ مرنے والے منافق کا نام رفاعہ بن درید تھا اور یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ ﷺ غزوہ تبوک کے سفر سے واپس تشریف لا رہے تھے اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اس منافق کا نام رافع تھا اور یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آنحضرت ﷺ غزوہ بنی مصطلق سے واپس آرہے تھے۔ اس بڑے منافق کے مرنے پر اتنی سخت آندھی آنا دراصل اس وحشت و بدحالی اور آلودگی وپراگندگی کا قدرت کی طرف سے اظہار تھا جس سے منافق و بدکار مرتے وقت دوچار ہوتے ہیں اور یہ اس بات کی علامت تھی کہ آئندہ کی زندگی ( آخرت) میں بھی اس طرح کے لوگوں کو اسی حالت سے کہ جو سراسر کلف و پریشانی اور تباہی میں مبتلا کرنے والی ہے، دوچار ہونا ہوگا۔

5829Mishkaat-al-Masabih

مدینہ کی حفاظت کے بارے میں معجزانہ خبر

وعن أبي سعيد الخدري قال : خرجنا مع النبي صلى الله عليه و سلم حتى قدمنا عسفان فأقام بها ليالي فقال الناس : ما نحن ههنا في شيء وإن عيالنا لخلوف ما نأمن عليهم فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فقال : والذي نفسي بيده ما في المدينة شعب ولا نقب إلا عليه ملكان يحرسانها حتى تقدموا إليها ثم قال : ارتحلوا فارتحلنا وأقبلنا إلى المدينة فوالذي يحلف به ما وضعنا رحالنا حين دخلنا المدينة حتى أغار علينا بنو عبد الله بن غطفان وما يهيجهم قبل ذلك شيء . رواه مسلم

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ( مکہ سے مدینہ روانہ ہوئے) اور جب ( مکہ سے تقریبا ٣٢ میل کے فاصلہ پر) مقام عسفان پہنچے تو آنحضرت ﷺ نے وہاں کئی راتیں قیام کیا بعض لوگوں ( یعنی منافقوں اور ضعیف الاسلام لوگوں نے ( اس جگہ کے قیام سے گھبرا کر) کہا کہ ہم یہاں بیکار کیوں پڑے ہوئے ہیں جب کہ ہمارے اہل و عیال ہم سے دور ( مدینہ میں تنہا) ہیں اور ہمیں ان کے بارے میں اطمینان نہیں ہے ( کہ ہماری عدم موجودگی) کا فائدہ اٹھا کر کہیں کوئی دشمن ان کی غارت گری پر نہ اتر آئے) ان لوگوں کی یہ بات نبی کریم ﷺ تک بھی پہنچی، آپ ﷺ نے یہ ( سن کر) فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مدینہ کا کوئی راستہ اور کوئی کوچہ ایسا نہیں ہے جس پر دو دو فرشتے متعین نہ ہوں اور وہ فرشتے ( مدینہ کے راستوں اور کوچوں کی) نگہبانی اور حفاظت پر اس وقت تک مامور رہیں گے جب تک تم مدینہ نہیں پہنچ جاؤ گے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے وہاں سے کوچ کا حکم دیا اور ہم روانہ ہوئے اور مدینہ پہنچ گئے، قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے ( یعنی اللہ کی قسم) ہم نے ( مدینہ پہنچ کر) ابھی ( اپنے اونٹوں کی پیٹھ سے) اپنا سامان بھی نہیں اتارا تھا کہ ( اچانک) بنو عبداللہ بن غطفان ہم ( اہل مدینہ) پر چڑھ آئے جب کہ ہمارے آنے سے پہلے ایسی کوئی بات پیش نہیں آئی جوان کو جنگ پر ابھارنے والی ہوتی۔ ( مسلم) تشریح لفظ شعب کے لغوی معنی اس راستہ کے ہیں جو پہاڑ کے درمیان سے گزرتا ہو، اسی طرح نقب کے معنی بھی اس راستہ کے ہیں جو پہاڑوں کے درمیان ہو، لیکن یہاں حدیث میں شعب سے مراد وہ راتسہ ہے جو شہر وآبادی میں آنے جانے کا ذریعہ ہو اور نقب سے مراد وہ گزرگاہ ہے جو دونوں طرف بنے ہوئے مکانات کے درمیان ہو جس کو گلی اور کوچہ کہتے ہیں، جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے انقاب مدینہ ( مدینہ کی گلی کوچوں) پر فرشتے متعین ہیں ان کی وجہ سے مدینہ شہر میں نہ تو طاعون آئے گا اور نہ دجال داخل ہوسکے گا۔ بنو عبداللہ ابن غطفان ہم پڑ چڑھ آئے۔ بنو عبداللہ ابن غطفان ایک قبیلہ کا نام ہے مطلب یہ کہ ہم لوگوں کی عدم موجودگی میں مدینہ بالکل محفوظ تھا جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے بطور معجزہ ہمیں بتایا تھا اور اس وقت تک ہمارے کسی بھی دشمن کے جارحانہ عزائم کی راہ میں فرشتوں کی نگہبانی اور حفاظت گیری کے علاوہ کوئی بھی ظاہری رکاوٹ نہیں تھی، چناچہ مدینہ پہنچنے کے بعد ہم نے آنحضرت ﷺ کی دی ہوئی اس خبر کی صداقت کا مشاہدہ کرلیا کہ جب تک ہم لوگ مدینہ نہیں پہنچے فرشتوں کی نگہبانی کی وجہ سے کوئی بھی دشمن حملہ آور نہیں ہوسکا اور نہ ہمارے اہل و عیال کو کوئی نقصان پہنچا سکا، ہمارے مدینہ پہنچتے ہی ایک ایسادشمن قبیلہ ہم پر حملہ آور ہوگیا جس کے حملہ کا باعث ہماری آمد سے پہلے پیدا نہیں ہوا تھا، ایسا محسوس ہوا کہ محض ہمیں نقصان پہچانے کے لئے اس دشمن کو حملہ آور ہونا پڑا اور ہماری عدم موجودگی اس کے جارحانہ عزائم کی تکمیل کا بہترین موقع ثابت ہونا چاہئے تھی، مگر یہ غیبی طاقت ہی تھی جس نے اس دشمن سے ہمارے اہل و عیال کی حفاظت کی اور اس کو ہماری عدم موجودگی میں مدینہ میں داخل نہیں ہونے دیا اور آبادی پر حملہ کرنے سے باز رکھا۔

5830Mishkaat-al-Masabih

بارش سے متعلق قبولیت کا معجزہ

وعن أنس قال أصابت الناس سنة على عهد النبي صلى الله عليه و سلم فبينا النبي صلى الله عليه و سلم يخطب في يوم جمعة قام أعرابي فقال يا رسول الله هلك المال وجاع العيال فادع الله لنا فرفع يديه وما نرى في السماء قزعة فوالذي نفسي بيده ما وضعها حتى ثار السحاب أمثال الجبال ثم لم ينزل عن منبره حتى رأيت المطر يتحادر على لحيته صلى الله عليه و سلم فمطرنا يومنا ذلك ومن الغد وبعد الغد والذي يليه حتى الجمعة الأخرى وقام ذلك الأعرابي أو قال غيره فقال يا رسول الله تهدم البناء وغرق المال فادع الله لنا فرفع يديه فقال اللهم حوالينا ولا علينا فما يشير بيده إلى ناحية من السحاب إلا انفرجت وصارت المدينة مثل الجوبة وسال الوادي قناة شهرا ولم يجئ أحد من ناحية إلا حدث بالجود وفي رواية قال : اللهم حوالينا ولا علينا اللهم على الآكام والظراب وبطون الأودية ومنابت الشجر . قال : فأقلعت وخرجنا نمشي في الشمس متفق عليه

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ( ایک مرتبہ خشک سالی کی وجہ سے قحط پڑگیا، انہی دنوں نبی کریم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے مال و اسباب ( یعنی کھیتی باڑی) مویشی اور باغات پانی نہ لینے کی وجہ سے) برباد ہوگئے اور اہل و عیال بھوکے بلبلا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ سے ہمارے لئے دعا فرمائیں کہ آپ ﷺ نے ( یہ سنتے ہی) اپنے دست مبارک ( دعا کے لئے) اٹھا دیئے اس وقت آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا بھی ہمیں نظر نہیں آرہا تھا، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے آپ ﷺ نے ( دعا ختم کر کے) ابھی اپنے ہاتھ نہ چھوڑے تھے کہ اچانک پہاڑوں کی مانند بادل اٹھا اور آپ ﷺ منبر سے نیچے نہ اترنے پائے تھے کہ میں نے دیکھا کہ بارش کا پانی آپ ﷺ کی ریش مبارک پر گرنے لگا تھا پھر اس ( جمعہ کے) دن ( کے باقی حصے میں) پانی برسا دوسرے روز برسا اور تیسرے روز برسا یہاں تک کہ دوسرے جمعہ تک اس بارش کا سلسلہ جاری رہا اور ( جب مسلسل بارش جاری رہنے کی وجہ سے لوگوں کا نقصان ہونے لگا تو) دوسرے جمعہ کو ( آنحضرت ﷺ کے خطبہ کے دوران) وہی دیہاتی ( یا کوئی دوسرا شخص) کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! مکان گر رہے ہیں اور مال و اسباب ڈوب رہے ہیں آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لئے دعا فرمائیے ( کہ بارش تھم جائے۔ آنحضرت ﷺ نے ( یہ سن کر) اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی! اے اللہ! ہمارے اطراف میں ( یعنی کھیتوں اور باغات پر) برسا، ہمارے اوپر ( یعنی ہمارے گھروں پر) نہ برسا۔ ( اس دعا کے بعد) آپ ﷺ جس طرف اشارہ کرتے جاتے تھے ابر اس جانب سے کھلتا جاتا تھا یہاں تک کہ مدینہ کے ایک گول گڑھے کی مانند ہوگیا ( یعنی مدینہ شہر کے باہری حصوں میں چاروں طرف بادل چھائے ہوئے تھے اور بارش ہو رہی تھی جب کہ بیچ میں مدینہ شہر کا مطلع باکل صاف ہو کر گول گڑھے کی طرح ایسا نمایاں ہوگیا تھا کہ پوری آبادی کے اوپر بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آرہا تھا) اور مدینہ کے باہری اطراف میں مسلسل بارش کی وجہ سے) وہ نالہ جس کا نام قناۃ تھا ایک مہینہ تک بہتا رہا۔ ان اطراف سے جو بھی شخص ( مدینہ شہر میں) آیا اس نے کثرت سے بارش ہونے کی خبر دی۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یوں دعا فرمائی اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا ہم پر نہ برسا۔ اے اللہ! ٹیلوں پر، پہاڑوں پر، نالوں کے اندر اور درختوں کے اگنے کی جگہ ( یعنی کھیتی و باغات) پر برسا۔ حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ ( اس دعا کے بعد شہر کے باہر اطراف میں تو بارش ہوتی ہی، لیکن آبادی کے حصہ میں) ابر بالکل کھل گیا اور ہم اس حال میں باہر نکلے کہ دھوپ میں چل رہے تھے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح لفظ یتحادر اصل میں تو ینزل ویقطر کے معنی ظاہر کرتا ہے لیکن یہاں حدیث میں یہ لفظ یتساقط کے معنی میں ہے مطلب یہ ہے کہ بارش کا پانی براہ راست آپ ﷺ کی ریش مبارک پر گر رہا تھا۔ مشکوۃ کے بعض نسخوں میں علی لحیۃ کے الفاظ ہیں اور ترجمہ میں اسی کا لحاظ رکھا گیا ہے لیکن بعض نسخوں میں عن لحیۃ کے الفاظ ہیں چناچہ حضرت شیخ عبد الحق نے اس کے اعتبار سے یہ ترجمہ کیا ہے کہ بارش کا پانی آپ ﷺ کی ریش مبارک پر ٹپکنے لگا تھا۔۔۔ حاصل یہ کہ آنحضرت ﷺ نے بارش کی دعا فرمائی اور ابھی آپ ﷺ منبر سے اترے بھی نہیں تھے اور مسجد سے باہر نہیں نکلے تھے کہ زور دار بارش شروع ہوگئی۔ امام نووی (رح) نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب بارش کا سلسلہ زیادہ شدت کے ساتھ طویل ہوجائے اور اس کی وجہ سے مکانات وغیرہ کو نقصان پہنچنے لگے تو یہ دعا مانگنا مستحب ہے کہ اے اللہ اب ہمارے گھروں پر بارش نہ برسا! لیکن اس دعا کے لئے نماز پڑھنا اور آبادی سے باہر جنگل و میدان میں جا کر دعا مانگنا، جیسا کہ استسقاء کی نماز کا حکم ہے) مشروع نہیں ہے۔

5831Mishkaat-al-Masabih

اسطوانہ حنانہ کا معجزہ

وعن جابر قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا خطب استند إلى جذع نخلة من سواري المسجد فلما صنع له المنبر فاستوى عليه صاحت النخلة التي كان يخطب عندها حتى كادت تنشق فنزل النبي صلى الله عليه و سلم حتى أخذها فضمها إليه فجعلت تئن أنين الصبي الذي يسكت حتى استقرت قال بكت على ما كانت تسمع من الذكر . رواه البخاري

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب ( مسجد نبوی میں) خطبہ ارشاد فرماتے تو کھجور کے اس سوکھے تنے سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے تھے جو ایک ستون کے طور پر مسجد میں کھڑا تھا، پھر جب منبر تیار ہوگیا اور آنحضرت ﷺ خطبہ پڑھنے کے لئے اس ( منبر) پر کھڑے ہوئے تو کھجور کا وہ تنا جس سے ( منبر بننے سے پہلے) ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے چلانے لگا ( یعنی زور زور سے رونے لگا) اور قریب تھا کہ وہ ( آنحضرت ﷺ کے فراق کی اذیت کی شدت سے پھٹ جائے کہ نبی کریم ﷺ ( منبر سے) اترے اور اس کے پاس جا کر اس کو ( ہاتھوں سے پکڑا اور پھر ( اس کو تسلی کے لئے) اس کو گلے لگایا اس کے بعد تو اس ستون نے اس بچہ کی طرح رونا شروع کردیا جس کو ( مختلف حیلوں تدبیروں سے) چپ کرایا جاتا ہے ( اور وہ جلدی چپ نہیں ہوتا) آخر کار اس ستون کو قرار آگیا اور وہ چپ ہوگیا۔ پھر آنحضرت ﷺ نے ( اس ستون کے رونے کا سبب یہ) بیان فرمایا یہ ستون اس وجہ سے رویا کہ ( اللہ کا) جو ذکر سنتا تھا اس سے محروم ہوگیا ہے ( بخاری) تشریح آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مسجد نبوی ﷺ کے ستون کھجور کے سوکھے تنوں کے تھے، چناچہ ابتدائی زمانہ میں جب کہ منبر شریف بن کر تیار نہیں ہوا تھا آنحضرت ﷺ خطبہ ارشاد فرماتے وقت انہی ستونوں سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے تھے، جب منبر تیار ہوگیا اور آپ ﷺ خطبہ دینے کے لئے اس ستون سے ٹیک لگا کر کھڑے ہونے کے بجائے منبر پر کھڑے ہوئے تو وہ ستون اپنی اس سعادت کی محرومی پر بلک بلک کر رونے لگا آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے ذکر یعنی خطبہ کے وقت اس کو میرا جو قرب حاصل تھا اور نہایت قریب سے میرا جو خطبہ سنتا تھا اس سے محرومی نے اس کو رونے پر مجبور کردیا ہے اس واقعہ کے بعد سے اس ستون کو اسطوانہ حنانہ کہا جانے لگا۔ یہ حدیث جس میں اس ستون کے رونے کا ذکر ہے، جماعت صحابہ کرام کے اتنے متعدد طرف سے منقول ہے کہ اس کے بارے میں کوئی شک وشبہ ہی نہیں کیا جاسکتا اور بعض محدثین نے تو اس حدیث کو متواتر کہا ہے، یہ دراصل آنحضرت ﷺ کا ایک بڑا معجزہ تھا کہ کھجور کے سوکھے تنے جیسی بےجان چیز آنحضرت ﷺ کے قرب کی سعادت سے محرومی پر رونے لگی اور اس کے رونے کی آواز کو مسجد نبوی میں موجود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے کانوں سے سنا۔ حضرت حسن بصری (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ جب وہ اس حدیث کو بیان کرتے تو بےاختیار رونے لگتے تھے اور کہا کرتے تھے لوگو! کھجور کی سوکھی ہوئی لکڑی آنحضرت ﷺ کے شوق و محبت میں روتی تھی تمہیں تو اس سے زیادہ آنحضرت ﷺ کی محبت اور شوق ملاقات میں بےقرار ہونا چاہئے۔ سنگے وگیا ہے کہ درد خاصیتے ہست زآد میی دان کہ درد معرفتی نیست