معجزات معجزۃ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں وہ خارق عادت جس کو اللہ تعالیٰ کے نبی و رسول کے ہاتھ سے ظاہر کر دے اور دوسرے اس سے عاجز ہوں۔ لفظ معجزہ اصل میں عجز سے مشتق ہے جس کے معنی نا تو اں ہونا، عاجز ہونا کے ہیں اور جو حزم ( قادر ہونا) کی ضد ہیں۔ اسی لفظ سے معجزہ بنا ہے جس کے معنی ہیں، عاجز کرنے والا، اعجاز دکھانے والا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کی سچائی ثابت کرنے کے لئے اور ان کے ہاتھ سے معجزہ ظاہر ہوتا ہے اس کی امت اور قوم کے لوگ نہ صرف یہ کہ مقابلہ میں اس معجزہ کی طرح کا کوئی کرشمہ دیکھا نے اور پیش کرنے سے عاجز ہوتے ہیں بلکہ اگر کوئی چاہے کہ اس معجزہ کا توڑ کر دے تو یہ بھی ممکن نہیں ہوتا۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی (رح) نے لکھا ہے معجزہ کا لفظ اعجاز سے لیا گیا ہے جس کے معنی عاجز کرنے کے ہیں اور معجزہ اس چیز کو کہتے ہیں جو خارق عادت ہو اور جس سے نبوت و رسالت کا دعوی ظاہر وثابت ہوتا ہو اور جو خوارق عادات ظہور نبوت سے پہلے ظاہر ہوتے ہیں ان کو معجزات نہیں کہتے بلکہ ارہاصات کہتے ہیں جو ارہاص کی جمع ہے، ارہاص کے لغوی معنی مکان کو اینٹ مٹی اور پتھر کے ساتھ مضبوط ومستحکم بنانے کے ہیں، لہٰذا ظہور نبوت سے پہلے ظاہر ہونے والے خوارق عادات گویا نبوت و رسالت کی عمارت کو مستحکم و مضبوط بنانے کا ابتدائی ذریعہ ہوتے ہیں۔
خارق عادت، یعنی ایسی چیز کا وقوع پذیر ہونا جو جاری نظام قدرت سے الگ اور عادت وعام طریقہ کے خلاف ہو اور جس کو کرشمہ سمجھا جاتا ہو، مختلف نوعیتیں ہوتی ہیں اور اسی اعتبار سے ان کی الگ الگ قسمیں ہیں! اور پھر ان قسموں کو الگ الگ ناموں سے تعبیر کیا گیا ہے، تاکہ ان سب کی اپنی اپنی حیثیت بھی متعین ہوجائے اور ایک دوسرے سے ممتاز بھی رہیں، چناچہ خوارق عادات کی پہلی قسم تو وہ ہے جو نبی اور رسول سے ظاہر ہو جس کو معجزہ کہا جاتا ہے، دوسری قسم وہ ہے عام مسلمانوں سے ظاہر ہو، اس کو معونت کہا جاتا ہے، تیسری قسم وہ ہے، جو اولیائے اللہ سے ظاہر ہو اور جس کو کرامت کہا جاتا ہے اور چوتھی قسم وہ ہے جو کافروں اور فاسوں سے ظاہر ہو، اس کو استدراج کہا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان چاروں قسموں میں سے اول الذکر قسم کو چھوڑ کر باقی تینوں قسمیں اپنے اپنے مفہوم و مصداق کے اعتبار سے دعوی نبوت کی قید سے باہر ہیں، گویا ان تینوں قسموں میں سے کسی قسم کو بھی معجزہ نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ معجزہ تو وہی خرق عادت ہے جو نبوت کے دعویٰ کے ساتھ ہو۔
شعبدہ اور سحر یعنی جادو کو خرق عادت نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ شعبدہ اور سحر کا صدور و ظہور اسباب ظاہری کے تابع ہوتا ہے اور کوئی بھی شخص ان اسباب میں درک مہارت حاصل کر کے شعبدہ اور سحر ظاہر کرتا ہے، لہٰذا جو چیز ظاہری اسباب کے ذریعہ وجود میں آئے اس پر خرق عادت کا اطلاق نہیں ہوسکتا، اسی وجہ سے دواؤں اور طبی تدابیر کے ذریعہ حاصل ہونے والی شفاء کو بھی خارق عادت نہیں کہا جاتا اگر اس کو کوئی خارق عادت کہہ دے تو ظاہری صورت کے اعتبار سے ہوگا۔
عن أنس بن مالك أن أبا بكر الصديق رضي الله عنه قا ل : نظرت إلى أقدام المشركين على رؤوسنا ونحن في الغار فقلت يا رسول الله لو أن أحدهم نظر إلى قدمه أبصرنا فقال : يا أبا بكر ما ظنك باثنين الله ثالثهما متفق عليه
حضرت انس ابن مالک ؓ روای ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بیان فرمایا جب ہم غار میں چھپے ہوئے تھے اور میں نے مشرکوں کے پیروں کی طرف دیکھا جو گویا ہمارے سروں پر تھے تو میں نے عرض کیا! یا رسول اللہ ﷺ! اگر ان میں سے کسی ایک کی نظر اپنے پیروں کی طرف چلی گئی تو ہم کو دیکھ لے گا۔ آنحضرت ﷺ نے ( یہ سن کر) فرمایا۔ ان دو شخصوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ ہے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
غار سے مراد مشہور پہاڑ جبل ثور کے بالائی حصہ کی وہ غار ہے جس میں رسول کریم ﷺ نے مکہ سے مدینہ کو سفر ہجرت کے دوران تین راتیں بسر فرمائی تھیں اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ آپ کے ساتھ تھے، جبل ثور مکہ کے مشرقی جنوبی سمت تقریبًا ساڑھے تین سو میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ جب آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنا وطن عزیز چھوڑ کر مدینہ منورہ جانے کے لئے مکہ سے روانہ کر دئیے، ان کو حکم دیا گیا کہ جس طرح بھی ممکن ہو محمد ﷺ کو مکہ واپس لایا جائے آنحضرت ﷺ اپنے رفیق سفر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ جبل ثور کے اس غار میں چھپے ہوئے تھے کہ اچانک ان گماشتوں کی ایک ٹولی اس غار کے دہانے تک پہنچ گئی، اس غار کا محل وقوع اس طرح کا ہے کہ اگر کوئی شخص غار کے باہری کنارہ پر کھڑا ہو تو غار کے اندر موجود شخص کی نظر اس کے پیروں پر پڑتی ہے اور اگر باہری کنارہ پر کھڑا ہوا شخص نیچے نظر کر کے اپنے پیروں کی طرف دیکھے تو وہ غار کے اندر موجود شخص کو بڑی آسانی کے ساتھ دیکھ سکتا ہے، چناچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے دیکھا کہ مشرکین مکہ کے گماشتے آنحضرت ﷺ کی تلاش میں اس غار تک پہنچ گئے ہیں اور وہ لوگ بالکل غار کے منہ پر کھڑے ہوئے ہیں، جوں ہی ان میں سے کسی شخص کی نظر ان کے اپنے پیروں کی طرف جائے گی، وہ ہمیں دیکھ لے گا اور اس طرح آنحضرت ﷺ پر دسترس کا موقع ان لوگوں کو مل سکتا ہے، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنی اس تشویش اور گھبراہٹ کا اظہار آپ ﷺ کے سامنے کیا لیکن آپ ﷺ نے بڑے یقین کے ساتھ ان کو اطمینان دلایا کہ ہم اور تم وہ دو شخص ہیں جن کے ساتھ ایک تیسری ذات اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت بھی ہے ہمارا پروردگار ہماری حفاظت فرمائے گا اور ہمیں اپنے دشمنوں کے چنگل میں پڑنے سے بچائے گا۔ اور ایسا ہی ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ اور آپ کے پیارے ساتھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی اس طرح حفاظت فرمائی کہ وہ مشرکین مکہ جو غار کے منہ پر کھڑے ہوئے اپنی تیز نگاہوں سے ادھر ادھر آنحضرت ﷺ کو تلاش کر رہے تھے اور اس بات کا یقین رکھتے تھے کہ آنحضرت ﷺ اسی غار میں موجود ہیں، عین موقع پر حوصلہ ہار بیٹھے، نہ تو ان کو آگے تلاش کا موقع ملا اور نہ انہیں پیروں کی طرف غار کے اندر دیکھنا نصیب ہوسکا، صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ اور آنحضرت ﷺ کے معجزہ کا ظہور تھا۔ علامہ طیبی (رح) نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے ان مشرکوں کے حق میں یہ بد دعا فرمائی تھی، اے اللہ! ان کی آنکھوں کی بینائی معطل کر دے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان سب کو اس طرح بےبصر کردیا کہ وہ غار کے چاروں طرف گھومتے تھے مگر اس کے اندر موجود آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کو دیکھنے پر قادر نہیں ہوتے تھے اور جیسا کہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ اس موقع پر کبوتروں نے غار کے منہ پر انڈے رکھ دئیے اور مکڑیوں نے جالا تن دیا یہ بھی معجزہ ہی تھا۔
سفر ہجرت کے دوران دشمن کے خلاف معجزہ کا ظہور
وعن البراء بن عازب عن أبيه أنه قال لأبي بكر : يا أبا بكر حدثني كيف صنعتما حين سريت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أسرينا ليلتنا ومن الغد حتى قام قائم الظهيرة وخلا الطريق لا يمر فيه أحد فرفعت لنا صخرة طويلة لها ظل لم يأت عليها الشمس فنزلنا عندها وسويت للنبي صلى الله عليه و سلم مكانا بيدي ينام عليه وبسطت عليه فروة وقلت نم يا رسول الله وأنا أنفض ما حولك فنام وخرجت أنفض ما حوله فإذا أنا براع مقبل قلت : أفي غنمك لبن ؟ قال : نعم قلت : أفتحلب ؟ قال : نعم . فأخذ شاة فحلب في قعب كثبة من لبن ومعي إداوة حملتها للنبي صلى الله عليه و سلم يرتوي فيها يشرب ويتوضأ فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فكرهت أن أوقظه فوافقته حتى استيقظ فصببت من الماء على اللبن حتى برد أسفله فقلت : اشرب يا رسول الله فشرب حتى رضيت ثم قال : ألم يأن الرحيل ؟ قلت : بلى قال : فارتحلنا بعد ما مالت الشمس واتبعنا سراقة بن مالك فقلت : أتينا يا رسول الله فقال : لا تحزن إن الله معنا فدعا عليه النبي صلى الله عليه و سلم فارتطمت به فرسه إلى بطنها في جلد من الأرض فقال : إني أراكما دعوتما علي فادعوا لي فالله لكما أن أرد عنكما الطلب فدعا له النبي صلى الله عليه و سلم فنجا فجعل لا يلقى أحدا إلا قال كفيتم ما ههنا فلا يلقى أحدا إلا رده . متفق عليه
حضرت براء ابن عازب ؓ اپنے محترم ( حضرت عازب) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے پوچھا کہ اے ابوبکر! جب ( آنحضرت ﷺ نے ہجرت کے ارادہ سے مکہ چھوڑا اور مدینہ روانہ ہوئے اور) تم نے رات میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ سفر کیا تو ( غار سے نکلنے کے بعد) تمہیں کیا کیا حالات اور واردات پیش آئے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا! ( غار سے نکل کر) ہم ساری رات چلتے رہے اور اگلے دن کا کچھ حصہ بھی ( یعنی دوپہر تک) سفر میں گزرا یہاں تک کہ جب ٹھیک دوپہر ہوگئی اور سورج ٹھہر گیا اور راستہ ( آنے جانے والوں سے) بالکل خالی ہوگیا تو ہمیں ایک چٹان نظر آئی جس کے نیچے سایہ تھا اور سورج اس پر نہیں آیا تھا ( یعنی اس چٹان کے نیچے جو کھوہ یا غار تھا اس میں دھوپ نہیں تھی۔ چناچہ ہم اس چٹان کے نیچے اتر گئے اور میں نے وہاں رسول کریم ﷺ کے لئے ایک جگہ اپنے ہاتھوں سے ہموار اور صاف کی تاکہ آپ ﷺ اس پر سو رہیں پھر میں نے اس جگہ پر پوستین بچھایا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ یہاں سو جائیے، میں آپ ﷺ کے ادھر ادھر نگرانی رکھوں گا کہ کسی طرف سے دشمن کا کوئی آدمی تو ہماری ٹوہ میں نہیں ہے، اگر کوئی ادھر آئے گا تو اس کو روکوں گا) رسول کریم ﷺ سوگئے اور وہاں سے نکل کر آنحضرت ﷺ کی حفاظت کے لئے چاروں طرف نگرانی رکھے ہوئے تھا کہ اچانک میں نے ایک چرواہے کو دیکھا جو سامنے سے آرہا تھا (جب وہ میرے قریب آگیا تو) میں نے پوچھا کہ کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے کہا ہاں ہے، کیا تو دودھ دوہ کر دے گا؟ اس نے کہا ہاں! پھر اس نے ایک بکری کو پکڑا اور لکڑی کے پیالے میں تھوڑا سا دودھ دوہ دیا، میرے پاس ایک چھاگل تھی جو میں نے نبی کریم ﷺ کے استعمال کے لئے رکھی تھی، اس میں پانی رہتا تھا جو آپ ﷺ کے پینے اور وضو کے کام آتا تھا، میں دودھ لے کر) نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ سو رہے تھے، میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا اور خود بھی آپ ﷺ کا ساتھ دیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ خود بیدار ہوئے (اور میں بھی اٹھ گیا) پھر میں نے دودھ میں (اتنا) پانی ڈالا کہ نیچے تک ٹھنڈا ہوگیا اور پھر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! نوش فرمائے۔ آپ ﷺ نے وہ دودھ نوش فرمایا اور میں بہت خوش ہوا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا کوچ کا وقت آیا؟ میں نے کہا! ہاں آگیا ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ کہتے ہیں کہ پس ہم نے سورج ڈھلنے کے بعد (ٹھنڈے وقت) وہاں سے کوچ کیا اور ( آگے سفر شروع ہوا تو) پیچھے سے سراقہ ابن مالک آگیا، میں نے (اس کو دیکھ کر) عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! دشمن ہمیں پکڑ نے آگیا ہے۔۔۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ڈرو نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے سراقہ کے لئے بددعا کی اور سراقہ کا گھوڑا اس کو لئے ہوئے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ (اس صورت حال سے دوچار ہو کر بدحو اس ہوگیا اور) کہنے لگا کہ میں جانتا ہوں، تم دونوں نے میرے لئے بددعا کی ہے، اب میری نجات وخلاصی کے لئے بھی تم دعا کرو مجھ کو اس گرفت سے نجات دلا دو تو) میں اللہ کو گواہ بنا کر وعدہ کرتا ہوں کہ میں کفار کو تمہارا تعاقب کرنے سے روک دوں گا۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے اس کے لئے دعا فرمائی اور وہ اس گرفت سے نجات پا گیا۔ اور سراقہ نے (اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے یہ کیا) کہ آنحضرت ﷺ کی تلاش میں مکہ سے روانہ ہونے والے کافروں میں سے) جو بھی اس راستہ میں ملتا وہ اس سے کہتا کہ تمہارے لئے میرا تلاش کرنا کافی ہے (یعنی میں بہت دور سے محمد ﷺ کو تلاش کرکے دیکھ چکا ہوں ان کا کہیں پتہ نہیں چلا تم ان کو تلاش کرنے کی زحمت برداشت نہ کرو) سراقہ کو جو شخص بھی ملتا اس کو وہ یہی کہہ کر واپس کردیتا۔ ( بخاری و ومسلم)
تشریح
۔ اور خود بھی آپ ﷺ کا ساتھ دیا یہ فوافقتہ کا ترجمہ ہے، یعنی آپ ﷺ کو سوتا دیکھ کر نہ صرف یہ کہ میں نے آپ ﷺ کو جگانا پسند کیا بلکہ آپ ﷺ کی طرح میں خود بھی ایک طرف کو لیٹ کر سوگیا۔ اور ایک روایت میں یہ لفظ ف پر ق کی تقدیم کے ساتھ ہے، اس صورت میں ترجمہ ومطلب یہ ہوگا کہ میں نے آپ ﷺ کو سوتا دیکھ کر توقف کیا یعنی آپ ﷺ کو جگانا مناسب نہیں سمجھا اور اس وقت تک انتظار کرتا رہا جب تک آپ ﷺ خود بیدار نہ ہوگئے۔ پھر میں نے دودھ میں پانی ڈالا عربوں کی عادت تھی کہ دودھ کی حرارت کو زائل کرنے کے لئے اس میں ٹھنڈا پانی ملالیتے تھے اور پھر اس کو پیتے تھے، چناچہ اس موقع پر حضرت ابوبکر ؓ نے بھی اس عادت ومعمول کے مطابق بکری کے اس دودھ میں اتنا پانی ملادیا جس سے وہ دودھ خوب ٹھنڈا ہوگیا۔ اور میں بہت خوش ہوا۔ یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو اس بات سے بہت خوشی و طمانیت محسوس ہوئی کہ ان کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ آنحضرت ﷺ کو کچھ دیر استراحت کا موقع مل گیا بلکہ دودھ بھی فراہم ہوگیا جس کو آپ ﷺ نے بشاشت وخوش طبعی کے ساتھ نوش فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ محب کی اصل خوشی محبوب کی خوشی اور راحت میں ہوتی ہے۔ اس موقع پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی بکریوں کا دودھ کیسے دوہا اور پیا گیا جس کی مالک کی اجازت حاصل نہیں تھی؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ وہ بکریاں کسی ایسے شخص کی تھیں جو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا دوست اور معتمد تھا۔ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اپنے اس دوست کی اجازت کا اعتماد رکھتے تھے، دوسرا جواب یہ ہے کہ عربوں اور خاص طور پر اہل مکہ کی عادت تھی کہ وہ اپنے چرواہوں کو پہلے ہی اجازت دیدیتے تھے کہ انہیں جو مسافر یا بھوکا ملے اور طلبگار ہو تو اس کو بلاتوقف دودھ نکال کر دے دیا کریں اور ایک تیسرا جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مطلوبہ قیمت دیکر وہ دودھ حاصل کیا ہوگا! سراقہ ابن مالک ان لوگوں میں سے ایک تھا جن کو قریش مکہ نے آنحضرت ﷺ کے تعاقب پر مامور کیا تھا اور یہ اعلان کیا تھا کہ جو شخص بھی محمد ﷺ کو پکڑ کر لائے گا اور ہمارے حوالے کردے گا اس کو بطور انعام سو اونٹ دئیے جائینگے۔ یہ سراقہ ابن مالک فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوگئے تھے! اور وہ گرفت سے نجات پا گیا ایک روایت میں یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بددعا کے نتیجہ میں سراقہ کے زمین میں دھنسنے اور پھر آنحضرت ﷺ کی دعا کے بعد نجات پانے کا واقعہ تین بار ہوا یعنی وہ ہر بار آنحضرت ﷺ سے دعا کرا کر نجات پا جاتا اور پھر آپ ﷺ کو پکڑنے کے لئے آگے بڑھنے لگتا، یہاں تک کہ وہ جب تیسری مرتبہ اپنے گھوڑے کے ساتھ زمین میں دھنسا اور اس کی لجاجت پر آنحضرت ﷺ نے اس کے حق میں دعا کر کے اس کو نجات دلوائی تو وہ اپنے برے ارادہ سے باز آگیا اور پھر نہ صرف یہ کہ آنحضرت ﷺ کو پکڑنے کے لئے خود آگے نہیں بڑھا بلکہ واپسی میں اس کو جو شخص بھی آنحضرت ﷺ کے تعاقب میں آتا ہوا ملا اس کو اس نے واپس کردیا اور کسی کو آنحضرت ﷺ تک پہنچنے نہیں دیا۔ اس حدیث سے جہاں آنحضرت ﷺ کے معجزے اور مختلف وجوہ سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے وہیں کئی قیمتی اور مفید باتیں بھی سامنے آتی ہیں ایک تو یہ کہ تابع کو اپنے متبوع کی خدمت میں اپنی پوری کوشش اور صلاحیت صرف کرنی چاہئے، دوسرے یہ کہ سفر میں ایسا برتن ( یعنی چھاگل یا لوٹا وغیرہ) ساتھ رکھنا کہ جو پانی پینے اور طہارت و وضو کے کام آئے نہایت ضروری ہے اور تیسرے یہ کہ بندہ کو ہر حالت میں اپنے اللہ پر اعتماد اور توکل رکھنا چاہئے کہ نتیجہ اور انجام کی بہتری اسی صورت میں حاصل ہوتی ہے۔
عبداللہ ابن سلام کے ایمان لانے کا واقعہ
وعن أنس قا ل سمع عبد الله بن سلام بمقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو في أرض يخترف فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إني سائلك عن ثلاث لا يعلمهن إلا نبي : فما أول أشراط الساعة وما أول طعام أهل الجنة ؟ وما ينزع الولد إلى أبيه أو إلى أمه ؟ قا ل : أخبرني بهن جبريل آنفا أما أول أشراط الساعة فنار تحشر الناس من المشرق إلى المغرب وأما أول طعام يأكله أهل الجنة فزيادة كبد الحوت وإذا سبق ماء الرجل ماء المرأة نزع الولد وإذا سبق ماء المرأة نزعت . قال : أشهد أن لاإله إلا الله وأنك رسول الله يا رسول الله إن اليهود قوم بهت وإنهم إن يعلموا بإسلامي من قبل أن تسألهم يبهتوني فجاءت اليهود فقال : أي رجل عبد الله فيكم ؟ قالوا : خيرنا وابن خيرنا وسيدنا وابن سيدنا فقال : أرأيتم إن أسلم عبد الله بن سلام ؟ قالوا أعاذه الله من ذلك . فخرج عبد الله فقال أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله فقالوا : شرنا وابن شرنا فانتقصوه قال : هذا الذي كنت أخاف يا رسول الله رواه البخاري
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن سلام ایک جگہ درختوں سے پھل چن رہے تھے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کے ( مکہ سے مدینہ میں) آنے کا حال سنا، وہ فورا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں ( نبوت کی علامتوں کی تصدیق کے لئے) آپ ﷺ سے تین باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں، جن کو نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا، ایک تو یہ کہ قیامت کی پہلی علامت کیا ہوگی؟ دوسرے یہ کہ جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہوگا۔ ( جو وہ جنت میں پہنچ کر سب سے پہلے کھائیں گے) تیسرے یہ کہ وہ کونسی چیز ہے جو اولاد کو ماں یا باپ کے مشابہ کرتی ہے ( یعنی اولاد جو شکل و صورت کے اعتبار سے کبھی باپ کے مشابہ ہوتی ہے اور کبھی ماں کے مشابہ تو اس کا کیا سبب ہے؟ ) آنحضرت ﷺ نے ( عبداللہ ابن سلام کے یہ تینوں سوال سن کر) فرمایا ابھی ابھی جبرائیل (علیہ السلام) نے ان سوالوں کے جواب سے آگاہ کیا ہے ( اور وہی تمہیں بتاتا ہوں) کہ قیامت کی پہلی علامت تو وہ آگ ہوگی جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف جمع کر کے لے جائے گی اور جنتی جنت میں سب سے پہلے جو کھانا کھائیں گے وہ مچھلی کے جگر کا زائد حصہ ہوگا ( یعنی مچھلی کے جگر کا وہ حصہ جو جگر سے علیحدہ لٹکتا ہے اور جو مچھلی کا لذیذ ترین جزء ہوتا ہے) اور جہاں تک اولاد میں ماں باپ کی مشابہت کا سوال ہے تو) اگر مرد کا پانی ( منی) عورت کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو مرد اولاد کو اپنی مشابہت کی طرف کھینچ لیتا ہے اور اگر عورت کا پانی ( مرد کے پانی پر) غالب آجاتا ہے تو عورت اولاد کو اپنی مشابہت کی طرف کھینچ لیتی ہے۔ عبداللہ ابن سلام نے ( اپنے سوالوں کے یہ جواب سن کر) کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ ﷺ یقینًا اللہ کے رسول ہیں ( اس قبول اسلام کے بعد عبداللہ ابن سلام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! یہ یہودی بڑے افتراش اور بہتان تراش ہیں، اگر آپ ﷺ کے پوچھنے سے پہلے ان کو میرا مسلمان ہونا معلوم ہوگیا تو مجھ پر جھوٹے بہتان باندھیں گے ( یعنی ان کو یہ معلوم ہونے کے بعد کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں، آپ ﷺ ان سے میرے بارے میں کچھ پوچھیں گے تو وہ مخالفت پر اترآئیں گے اور مجھ پر بڑے بڑے الزام لگا ڈالیں گے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ ان کو میرے اسلام کی خبر ہونے سے پہلے آپ ان سے میرے بارے میں جو پوچھنا چاہیں پوچھ لیں تاکہ وہ میرے متعلق صحیح حالات سے آپ ﷺ کو آگاہ کریں )۔ چناچہ اتفًاقا یا آنحضرت ﷺ کے بلانے پر، اسی وقت) کچھ یہودی مجلس نبوی میں آگئے اور عبداللہ ابن سلام ایک گوشہ میں چھپ گئے، آنحضرت ﷺ نے ان یہودیوں سے پوچھا کہ تم میں ( یا تمہارے گمان وعلم میں) عبداللہ ابن سلام کیسے شخص ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ ہم میں سے بہترین آدمی ہیں، ہم میں سے بہترین آدمی کا بیٹا ہے ( یعنی عبداللہ ابن سلام نہ صرف یہ کہ اپنی ذات کے اعتبار سے ہم میں، علمی، اخلاقی اور سماجی حیثیت رکھتے ہیں اور ہمارے سردار ہیں بلکہ حسب ونسب کے اعتبار سے بھی ہم پر ان کو فضیلت حاصل ہے ( آنحضرت ﷺ نے ان کا یہ جواب سن کر) پھر یہ پوچھا کہ اچھا بتلاؤ کہ عبداللہ ابن سلام مسلمان ہوجائیں ( تو کیا تم بھی مسلمان ہوجاؤ گے، یہودیوں نے کہا اللہ اس کو اسلام سے بچائے اور اپنی حفاظت میں رکھے ( یا یہ کہ معاذ اللہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے) جبھی عبداللہ ابن سلام ان کے سامنے آگئے اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا معبود نہیں اور یہ کہ بلاشبہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ یہودیوں نے یہ ( سنتے ہی) کہنا شروع کردیا کہ یہ شخص تو ہم میں بہت برا ہے اور بدترین شخص کا بیٹا ہے اور ان میں طرح طرح کے عیب نکالنے لگے۔ عبداللہ ابن سلام نے کہا ( آپ ﷺ نے دیکھا) یا رسول اللہ ﷺ! یہی وہ بات ہے جس سے میں ڈرتا تھا ( اور اسی وجہ سے میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا تھا کہ ان سے میرا حال پہلے پوچھ لیجئے، تاکہ آپ ﷺ کو اندازہ ہوجائے کہ یہ قوم کیسی دوغلی اور جھوٹی ہے۔ ( بخاری)
تشریح
عبداللہ ابن سلام ایک جگہ درختوں کے پھل چن رہے تھے یا تو صورت واقعہ یہی تھی کہ عبداللہ ابن سلام نے اپنے باغ میں درختوں سے پھل اتارنے اور اکٹھا کرنے میں لگے ہوئے تھے کہ کسی نے آکر ان کو بتایا ہوگا کہ نبوت کا دعویٰ اور دین اسلام کی دعوت لے کر محمد ﷺ مدینہ میں آگئے ہیں، یہ سنتے ہی وہ اپنا سارا کام کاج چھوڑ کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔۔۔ یا یہ کہ عبداللہ ابن سلام آنحضرت ﷺ کی آمد کی خبر سن کر آپ ﷺ کی خدمت میں جس عجلت واشتیاق کے ساتھ حاضر ہوئے اس کو ان الفاظ کے ذریعہ مبالغہ کے طور بیان کیا گیا ہے مطلب یہ کہ عبداللہ ابن سلام اگر چاہتے تو اپنا کام کاج نمٹانے کے بعد فرصت کے وقت اور اطمینان سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آتے، لیکن انہوں نے چونکہ تورات میں آنحضرت ﷺ کی صفات و خصوصیات کو پڑھ رکھا تھا اور نبی آخرالزمان ﷺ کے ظہور کے شدت سے منتظر تھے اس لئے جوں ہی ان کو آنحضرت ﷺ کی آمد کی خبر ملی وہ ذرا بھی توقف کئے بغیر خدمت اقدس میں پہنچ گئے۔ مدتے برد کہ مشتاق نقایت بودم لاجز روئے ترا دیدار واز جارفتم عبداللہ ابن سلام کا سلسلہ نسب حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ملتا ہے، یہود مدینہ کے سرداروں میں سے تھے، بڑے عقل مند وعالم، دانشور اور تورات پر زبردست عبور رکھتے تھے، آنحضرت ﷺ، مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو یہ اس تشریف آوری کا علم ہوتے ہی آنحضرت ﷺ کی خدخت میں حاضر ہوئے اور ایمان واسلام کی دولت سے سرفراز ہو کر نہایت اونچے درجہ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں شمار ہوئے۔ ؓ۔ جن کو نبی ﷺ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ اس سے عبداللہ ابن سلام کی یہ مراد تھی کہ میں جو تین چیزیں پوچھ رہا ہوں ان کے بارے میں صحیح بات جاننا اور بتانا صرف نبی کے بس میں ہے۔ نبی کے علاوہ وہی شخص جان سکتا ہے جس کو یا تو نبی نے بتایا ہو یا اس نے اللہ کی کتاب سے معلوم کیا ہو۔ یہ بیان مراد اس لئے ضروری ہے کہ خود عبداللہ ابن سلام بھی تو ان چیزوں کے بارے میں اجمالی وتفصیلی طور پر جانتے تھے اور ان کو یہ علم تورات سے حاصل ہوا تھا اور ان سوالات سے ان کا اصل مقصد آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کی تصدیق حاصل کرنا تھا، ان تینوں چیزوں کے جوابات گویا ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کا معجزہ ثابت ہوئے اور ان کو آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کا علم یقین حاصل ہوا اور غالبًا اسی مناسبت سے اس حدیث کو یہاں معجزات کے باب میں نقل کیا گیا ہے۔ ابھی ابھی جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے ان سوالوں کے جواب سے آگا کیا ہے۔ اپنے سوالات کے جواب سن کر عبداللہ ابن سلام کو یہ وہم اور شبہ ہوسکتا تھا کہ انہوں نے ( یعنی آنحضرت ﷺ نے) شاید یہ کسی اہل کتاب ( تورات جاننے والے) سے پہلے ہی یہ باتیں سن رکھی ہوں گی۔ اور اسی بنیاد پر میرے سوالات کے جواب دئیے۔ لہٰذا آنحضرت ﷺ نے اس وہم اور شبہ کی راہ پہلے ہی روک دینے کے لئے واضح فرمایا کہ یہ جواب جو میں تمہارے سامنے بیان کر رہا ہوں اللہ کی طرف سے جبرائیل (علیہم السلام) نے مجھ تک پہنچائے ہیں، نیز ان الفاظ سے آپ ﷺ کا مقصد عبداللہ ابن سلام کو متنبہ فرمانا بھی تھا کہ گوش ہوش سے اپنے سوالات کے جواب سنو، علاوہ ازیں ان کو وجود وحی اور نزول جبرائیل سے (علیہ السلام) کو آگاہ کرنا بھی مقصود تھا۔ اذا سبق ماء الرجل الخ میں سبق کے معنی ملا علی قاری (رح) نے علا اور غلب لکھے ہیں اور ترجمہ میں اسی معنی کی رعایت ملحوظ رکھی گئی ہے۔ اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی (رح) نے اس کے معنی پیش میشود یعنی رحم میں پہلے پہنچنا لکھے ہیں مطلب یہ ہے کہ مرد اور عورت میں جس کا پانی عورت کے رحم میں پہلے پڑتا ہے اس کی شکل وشباہت کی چھاپ اولاد پر پڑتی ہے، شیخ عبد الحق محدث دہلوی (رح) نے بعد میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کے ماں باپ کے مشابہ ہونے کا سبب ان دونوں میں سے ایک کے پانی کا سبقت کرنا ہے جب کہ ایک اور حدیث میں جو باب الغسل میں نقل ہوئی ہے مشابہت کا سبب غلبہ اور سبقت دونوں کو بتایا گیا ہے۔ اس اعتبار سے سبق کے معنی غلبہ اور سبقت دونوں کے ہوسکتے ہیں؟
جنگ بدر سے متعلق پیش خبری کا معجزہ
وعنه قا ل : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم شاور حين بلغنا إقبال أبي سفيان وقام سعد بن عبادة فقال : يا رسول الله والذي نفسي بيده لو أمرتنا أن نخيضها البحر لأخضناها ولو أمرتنا أن نضرب أكبادها إلى برك الغماد لفعلنا . قال : فندب رسول الله صلى الله عليه و سلم الناس فانطلقوا حتى نزلوا بدرا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذا مصرع فلان ويضع يده على الأرض ههنا وههنا قا ل : فما ماط أحدهم عن موضع يد رسول الله صلى الله عليه و سلم . رواه مسلم
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس وقت جب کہ ہمیں ابوسفیان کے آنے کی خبر ملی، ( مدینہ والوں سے) صلاح مشورہ کیا تو سعد ابن عبادہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! اس پاک ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر آپ ﷺ ہمیں اپنی سواری کے جانوروں کو سمندر میں ڈال دینے کا حکم دیں تو بلاشبہ ہم ایسا ہی کریں گے ( یعنی روئے زمین پر موقوف نہیں اگر آپ ﷺ کا حکم ہوگا تو ہم دشمن تک پہنچنے اور اس کا قلع قمع کرنے کے لئے سمندر میں اپنے گھوڑے دوڑا دیں گے) اور اگر آپ ﷺ کا حکم ہو کہ ہم اپنے اونٹوں اور گھوڑوں کے جگر کو برک غماد تک ماریں تو ہم بیشک ایسا ہی کریں گے۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے تمام لوگوں یعنی مہاجرین و انصار کو ( جنگ کے لئے) جوش و خروش سے بھر دیا اور تیار کیا اور سب لوگ روانہ ہوگئے یہاں تک کہ جب بدر کے مقام پر پہنچے ( معرکہ آرائی کے لئے اس جگہ کو منتخب کیا گیا) تو رسول کریم ﷺ نے ( مجاہدین اسلام کو مخاطب کر کے) فرمایا ( دیکھو) یہ جگہ فلاں شخص کے ہلاک ہونے اور اس کی نعش گرنے کی ہے ( اور اس جگہ فلاں شخص قتل ہو کر گرے گا) اس طرح آپ ﷺ مکہ کے کفار واشقیاء کے نام لیتے جاتے تھے اور زمین پر ( ایک ایک جگہ) ہاتھ رکھتے ( اور کہتے جاتے تھے کہ) فلاں شخص یہاں مر کر گرے گا اور فلاں شخص کی لاش یہاں گرے گی۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے جہاں جہاں ہاتھ رکھ دیا تھا وہاں سے ایک شخص بھی متجاوز نہیں ہوا۔ ( مسلم)
تشریح
جب کہ ہمیں ابوسفیان کے آنے کی خبر ملی۔ یہ غزوہ بدر کی ابتدائی مرحلہ کا ذکر ہے کہ مکہ کا ایک سردار ابوسفیان اپنے تجارتی قافلہ کے ہمراہ ملک شام سے مکہ واپس آرہا تھا، قافلہ میں آدمی تو صرف چالیس سوار تھے لیکن مال اسباب بہت زیادہ تھا، جب مدینہ میں مسلمانوں کو ابوسفیان کے اس تجارتی قافلہ کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اہل مکہ پر بھر پور اقتصادی ومالی ضرب لگانے کے لئے اس موقع کو غنیمت جانا، ان کا خیال تھا کہ قافلہ کے چالیس سواروں کو زیر کر کے ان تمام مال و اسباب پر قبضہ کرلیا جائے گا، لیکن اول تو خود ابوسفیان کو مسلمانوں کے حملہ کی اطلاع مل گئی اور اس نے عام راستہ چھوڑ کر ساحلی راستہ اختیار کرلیا جس سے مسلمانوں کی زد سے وہ محفوظ ہوگیا دوسرے یہ خبر مکہ بھی پہنچ گئی اور اہل مکہ نے مسلمانوں سے فیصلہ کن جنگ کرنے کا ارادہ کرلیا، چناچہ ابوجہل نے کعبہ کی چھٹ پر چڑھ کر اہل مکہ کو مسلمانوں کے خلاف للکارا اور انہیں نہایت مشتعل کر کے جنگ پر آمادہ کیا! جب پوری تیار ہوگئی تو ابوجہل زبر دست حربی طاقت کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوا، راستہ میں کچھ لوگوں نے اس کو سمجھایا بھی کہ جب ہمارا قافلہ ساحلی علاقہ پر لگ گیا ہے اور مسلمانوں کی زد سے محفوظ واپس آرہا ہے تو اب مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے جانے میں کوئی عقلمندی نہیں ہے، بہتر یہ ہے کہ ہم لوگ مکہ لوٹ جائیں لیکن ابوجہل کے تو زوال کا وقت آگیا تھا، اس نے لوگوں کا یہ مشورہ ماننے سے انکار کردیا اور بدر پہنچ گیا۔ اسی موقع پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور آنحضرت ﷺ کو خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں صورتوں میں سے ایک صورت کا وعدہ کیا ہے، چاہے قافلہ کو زیر کر کے مال حاصل کرلو اور چاہے ( جنگ کر کے) دشمنوں پر فتح حاصل کرلو۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے مہاجر و انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جمع کر کے مشورہ فرمایا کہ ابوسفیان تو ساحلی راستہ اختیار کر کے ہماری زد سے بچ گیا ہے اور اب جب کہ ابوجہل ہمیں نیست ونابود کردینے کا عزم لے کر زبردست فوجی طاقت کے ساتھ ہمارے مقابلہ پر نقل کھڑا ہوا ہے تو ہمیں کیا رویہ اور طریقہ کار اختیار کرنا چاہئے! آنحضرت ﷺ کا یہ مشورہ طلب کرنا دراصل انصار مدینہ کو آزمانا اور ان کا رد عمل جاننا تھا، کیونکہ آنحضرت ﷺ نے ابتداء میں ان سے جو بیعت لی تھی اس میں یہ بات شامل نہیں تھی کہ وہ ( انصار) جہاد کے لئے آنحضرت ﷺ کے ساتھ نکلیں گے اور دشمن کے مقابلہ پر مسلمانوں کی اقدامی کا روائی میں جانی ومالی مدد دیں گے، ان سے صرف اس بات پر بیعت لی گئی تھی کہ وہ ان لوگوں سے، آنحضرت ﷺ کی حفاظت کریں گے جو آپ پر حملہ آور ہوں گے، اس وقت یہ صورت حال تھی کہ کوئی دشمن آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں پر حملہ آور نہیں ہو رہا تھا بلکہ خود مسلمانوں سے جنگ کی طرف سے ابوسفیان کے تجارتی قافلہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور اس کے شاخسانہ کے طور پر اہل مکہ مسلمانوں سے جنگ کرنے نکل کھڑے ہوئے تھے، لہٰذا آنحضرت ﷺ نے ضروری جانا کہ انصار سے مشورہ کر کے ان کا رد عمل جان لیا جائے کہ آیا وہ اس کار روائی میں ہماری مدد کرتے ہیں یا نہیں۔ آنحضرت ﷺ کو انصار کی طرف سے نہایت حوصلہ افزا جواب ملا انہوں نے نہ صرف اس موقع پر تن من، دھن سے جان نثاری کا ثبوت دیا بلکہ بعد میں بھی جب کوئی ایسا موقع آیا انہوں نے پوری یگانگت اور موافقت کے ساتھ خود کو آنحضرت ﷺ اور مہاجرین کے دوش بدوش رکھا۔ آنحضرت ﷺ کے اس مشورہ طلب کرنے میں امت کے لئے بھی تلقین و ترغیب ہے کہ اپنے مسائل و معاملات میں اصحاب عقل و دانش اور اپنے رفقاء ومعاونین سے مشورہ کرنا حسن مآل تک پہنچنے کا بابرکت ذریعہ ہے۔ سعد ابن عبادہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا۔۔۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا مشورہ طلب کرنے سے آنحضرت ﷺ کا اصل مقصد چونکہ انصار کا ردعمل جاننا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ کے ارشاد پر حضرت سعد ابن عبادہ جواب دینے کے لئے کھڑے ہوئے جو انصار کے ایک سردار تھے انہوں نے آنحضرت ﷺ کو جواب دیا اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم کسی بھی حالت میں آپ کی مدد کرنے سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں، یہ تو بہت نزدیک کے دشمن کے مقابلہ پر جانے کی بات ہے اگر ہمیں دور دراز علاقوں میں جانے کا حکم دیں تو چاہے ہمیں زمین پر سفر کرنا پڑے چاہے سمندر میں اتر کر جانا پڑے ہم آپ ﷺ کے دشمنوں کا مقابلہ کریں گے۔ برک غماد ایک مقام کا نام تھا جو مدینہ سے بہت دور یمن میں واقع تھا، یا ہجر کے پر لے کنارہ پر اور یا اس کی آبادیوں کے بالکل آخری کنارہ پر تھا۔۔۔ اونٹوں یا گھوڑوں کے جگر کو مارنا، سورای کے جانور کو نہایت تیز ہانکنے سے کنایہ ہے۔ اور اس میں لفظی مناسبت یہ ہے کہ جب کوئی شخص مثلا گھوڑے پر سوار ہوتا ہے اور گھوڑا تیز بھاگتا ہے تو سوار کے پیر اس گھوڑے کے جسم کے اس حصہ پر زور زور سے لگتے جاتے ہیں جہاں جگر ہوتا ہے اس جملہ کا مطلب یہی تھا کہ اگر آپ ہمیں اپنی سواریوں کو تیز بھگا کر برک غماد تک جو یہاں سے بہت دور واقع ہے، دشمن کے مقابلہ پر پہنچنے کا حکم دیں تو ہم آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل میں یہاں سے فورًا روانہ ہوجائیں گے اور کہیں رکے بغیر نہایت تیز رفتاری سے برک غماد پہنچ کر ہی دم لیں گے۔ حدیث کے آخر میں آنحضرت ﷺ کے ایک بڑے معجزہ کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے بدر کے مقام پر پہنچ کر جنگ شروع ہونے سے بھی پہلے ستر کافروں کی لاشیں گرنے کی جگہوں کے بارے میں بتادیا تھا، آپ ﷺ نے ان سب کے نام لے لے کر اور ایک ایک جگہ ہاتھ رکھ کر اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آگاہ فرمایا تھا کہ ان میں سے فلاں شخص اس جگہ مقتول ہو کر گرے گا اور فلاں شخص کی لاش یہاں گرے گی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ جب جنگ شروع ہوئی اور مجاہدین اسلام نے کافروں کو قتل کرنا شروع کیا آپ ﷺ نے جس کافر کے لئے جس جگہ کا اشارہ فرما دیا وہ اسی جگہ مارا گیا اور اس کی لاش وہاں سے ذرا بھی ادھر ادھر نہیں گری۔
جنگ بدر کے دن آنحضرت ﷺ کی دعا
وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال وهو في قبة يوم بدر : اللهم أنشدك عهدك ووعدك اللهم إن تشأ لا تعبد بعد اليوم فأخذ أبو بكر بيده فقال حسبك يا رسول الله ألححت على ربك فخرج وهو يثب في الدرع وهو يقول : [ سيهزم الجمع ويولون الدبر ] . رواه البخاري
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جنگ بدر کے دن ایک خیمہ میں یہ دعا مانگ رہے تھے۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیری امان مانگتا ہوں اور تیرے وعدہ کا ایفاء چاہتا ہوں اے اللہ! اگر تو یہی چاہتا ہے ( کہ یہاں دشمنوں کے مقابلہ پر مسلمان ہلاک ہوجائیں) تو (روئے زمین پر کوئی مسلمان باقی نہیں رہے گا اور) آج کے بعد تیری عبادت نہیں ہوگی جب آپ ﷺ گڑ گڑا کر یہ دعا مانگتے ہی رہے تو حضرت ابوبکر ؓ نے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا یا رسول اللہ! بس کیجئے اتنا ہی دعا مانگنا بہت کافی ہے، آپ ﷺ نے بہت الحاح وزاری کے ساتھ اپنے پروردگار سے فتح ونصرت کی التجا کی ہے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ زرہ پہنے ہوئے تھے ( فرط مسرت سے) بڑی تیزی کے ساتھ اپنے خیمہ سے باہر آئے اور یہ آیت ( جو اس وقت نازل ہوئی تھی) آپ ﷺ ( بآواز بلند) پڑھ رہے تھے۔ (سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ) 54۔ القمر 45) ( کفار کی) یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ اس روایت کو بخاری نے نقل کیا ہے۔
تشریح
تیرے وعدہ کا ایفاء چاہتا ہوں یہ آپ نے اس آیت (وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّا ى ِفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ ) 8۔ الانفال 7) اور جب اللہ تعالیٰ تم سے ان دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کرتے تھے کہ وہ تمہارے ہاتھ آجائے گی) کی طرف اشارہ کیا جس میں حق تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر مسلمان کفار مکہ سے جنگ کو اختیار کریں گے تو انہیں اس جنگ میں فتح عطا کی جائے گی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ تو عارف باللہ تھے اور خوب جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جو وعدہ فرما لیتے ہیں اس کے خلاف نہیں ہوتا اور جب اللہ نے فتح کا وعدہ فرما لیا تھا تو وہ حاصل ہونی ہی تھی ایسی صورت میں آپ ﷺ نے دعا کیوں کی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو اس دعا سے آپ کا مقصد اس حکم کی تعمیل تھا کہ بندہ کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے مدد و توفیق اور حصول مقصد کی دعا والتجا کرنی چاہئے خواہ اس مقصد کے حصول کا یقینی ہونا اس کو معلوم ہو یا نہ ہو، دوسرے یہ کہ علم باللہ بجائے خود حق تعالیٰ سے خوف، کا متقاضی ہونا ہے اور انبیاء (علیہم السلام) اس خوف سے خالی نہیں ہوتے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے محض اس خوف کے پیش نظر دعا کی ہو کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے فتح ونصرت کا وعدہ فرمایا ہے، لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ خود میری طرف سے کوئی ایسی چیز پیش آئے جو فتح ونصرت کی راہ کی رکاوٹ بن جائے اور حق تعالیٰ کی طرف سے وہ موعودہ فتح ونصرت رد کردی جائے۔ نیز یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سے نصرت کا وعدہ بیشک فرمایا تھا لیکن عطائے نصرت کا کوئی وقت متعین نہیں کیا تھا اور آنحضرت ﷺ تاخیر سے ڈرتے تھے اس لئے آپ ﷺ نے دعا مانگی کہ وہ وعدہ آج ہی پورا ہوجائے۔ اس سلسلہ میں یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ شاید اس موقع پر آنحضرت ﷺ کا ذہن اس آیت (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ ) 35۔ فاطر 16) اور اس آیت ( اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ ) 29۔ العنکبوت 6) کے مفہوم کی طرف متوجہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی کامل بےپرواہی اور بےنیازی پر دلالت کرتا ہے، چناچہ آپ ﷺ نے ان آیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حق تعالیٰ سے مدد ونصرت کی دعا فرمائی۔ اسی بات کو امام غزالی نے بھی لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا احساس و ادراک نہایت کامل تھا اور حق تعالیٰ کی شان بےنیازی اور اس کے سطوت و جلال کے تئیں آپ ﷺ کا عمل وعرفان وسیع تر تھا اس لئے آپ ﷺ نے حق تعالیٰ کے وعدہ نصرت کے باوجود فتح کی دعا نہایت منت وسماجت کے ساتھ فرمائی جب کہ حضرت ابوبکر صدیق کی نظر محض حق تعالیٰ کے ظاہری وعدہ پر تھی اس لئے انہوں نے زیادہ دعا کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ کے کے وعدہ پر پوار بھروسہ اور اعتماد رکھنے کے باوجود آنحضرت ﷺ کا دعا کرنا اور اس دعا میں الحاح وزاری اختیار کرنا ایک خاص مقصد بھی رکھتا ہے اور وہ تھا صحابہ اور مجاہدین اسلام کے دل کو تقویت دینا، ان کو ثابت قدم رکھنا اور ان میں ولولہ اور حوصلہ پیدا کرنا کیونکہ صحابہ جانتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کی دعا یقینی طور پر مستجاب ہے۔ خصوصا وہ دعا جو زیادہ سے زیادہ الحاح اور زاری سے ہو۔ فرط مسرت سے بڑی تیزی کے ساتھ اپنے خیمہ سے باہر آئے۔۔ الخ۔۔ پہلے تو آنحضرت ﷺ خوف ورجاء کے درمیان تھے، لیکن جب اللہ تعالیٰ کا یہ حتمی وعدہ نازل ہوا کہ دشمنوں کو شکست ہوگی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے تو رجاء ( امید) کا پہلو غالب آگیا اور آپ کفار کے مقابلہ پر فتح کے احساس سے خوش ہوگئے، اسلامی مجاہدین کو کفار کی شکست اور مسلمانوں کی فتح کی خوش خبری دینے کے لئے آپ مذکورہ آیت باواز بلند پڑھتے ہوئے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ ایک معجزہ تھا کہ دشمنوں کے مقابلہ پر مسلمانوں کی فتح کی بات جو اس وقت تک اللہ کے علاوہ اور کسی کے علم میں نہیں تھی، آپ نے اللہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت و اطلاع پاکر لوگوں کو بتادی۔
جنگ بد میں جبرئیل (علیہ السلام) کی شرکت
وعنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال يوم بدر : هذا جبريل آخذ برأس فرسه عليه أداة الحرب . رواه البخاري
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جنگ بدر کے دن فرمایا یہ جبرائیل (علیہ السلام) ہیں جو اپنے گھوڑے کا سر ( یعنی باگ) پکڑے ہوئے ( لڑنے کے لئے مستعد کھڑے) ہیں اور جنگ کا سامان لئے ہوئے ہیں۔ ( بخاری)
تشریح
اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کے اس معجزہ کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے جنگ بدر میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے کفار کو شکست دلانے اور مسلمانوں کو فتح سے ہم کنار کرانے کے لئے آسمان سے اترے تھے۔ واضح رہے کہ بدر دراصل ایک کنویں کا نام ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان مدینہ سے چار منزل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ کفار مکہ اور اہل اسلام کے درمیان ہونے والی یہ پہلی باقاعدہ جنگ، جو ١٧، رمضان سن ٢ ھ جمعہ کے دن ہوئی۔ اس کنویں کے پاس ایک میدان میں ہوئی تھی اس لئے اس کو جنگ بدر یا غزوہ بدر کہا جاتا ہے۔
وعنه قا ل : بينما رجل من المسلمين يومئذ يشتد في إثر رجل من المشركين أمامه إذ سمع ضربة بالسوط فوقه وصوت الفارس يقول : أقدم حيزوم . إذ نظر إلى المشرك أمامه خر مستلقيا فنظر إليه فإذا هو قد خطم أنفه وشق وجهه كضربة السوط فاخضر ذلك أجمع فجاء الأنصاري فحدث رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : صدقت ذلك من مدد السماء الثالثة فقتلوا يومئذ سبعين وأسروا سبعين . رواه مسلم
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اس دن ( یعنی جنگ بدر کے دن) جب کہ ایک مسلمان ایک مشرک کا تعاقب کر رہا تھا آگے بھاگا جارہا تھا، تو اچانک اس ( مسلمان) نے مشرک پر پڑتے ہوئے چابک کی آواز سنی، پھر اس نے ایک سوار کی آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا حیزوم اقدام کر۔۔۔ پھر اس مسلمان کی نظر اپنے آگے بھاگتے ہوئے مشرک کی طرف گئی تو دیکھا کہ وہ زمین پر چت پڑا ہوا ہے، اس نے یہ بھی دیکھا کہ اس مشرک کی ناک پر نشان پڑا ہوا تھا اور اس کا منہ پھٹا ہوا تھا جو چابک کی مار کی علامت تھی اور وہ تمام جگہ جہاں چابک پڑا تھا سبز و سیاہ ہوگئی تھی ( یعنی) جس طرح کوئی جگہ چوٹ کھا کر نیلی ہوجاتی ہے اسی طرح اس کی ناک کا وہ حصہ جس پڑ چابک کا وہ نشان نظر آرہا تھا، نیلا پڑگیا تھا۔ چناچہ وہ انصاری مسلمان ( جس نے اس مذکورہ مشرک کو مذکورہ حال میں دیکھا تھا) آنحضرت ﷺ کے پاس جب آیا تو آپ ﷺ سے (یہ سارا واقعہ) بیان کیا، آپ ﷺ نے ( پورا واقعہ سن کر فرمایا کہ تم سچ کہتے ہو، وہ فرشتہ ( جس نے اس مشرک کو چابک مار کر ہلاک کیا) تیسرے آسمان کی فوجی کمک کا فرشتہ تھا اس دن کی جنگ میں) مسلمانوں نے ستر کافروں کو قتل کیا اور ستر کو گرفتار کرلیا تھا۔ ( مسلم)
تشریح
خیزوم اقدام کرنا یہ اقدام حیزوم کا ترجمہ کیا گیا ہے، اصل میں اقدام کے معنی ہیں! جنگ میں دشمن کا للکارنا اور خوفزدہ کرنا اور جرأت وبہادری دکھانا! لیکن یہ معنی اس صورت میں مراد لئے جاتے ہیں جب لفظ اقدم۔ ا کے زبر، ق کے جزم اور د کے زیر کے ساتھ ہو اور اگر یہ لفاظ ا اور د کے پیش کے ساتھ ہو تو پھر اس کے معنی آگے بڑھنے کے ہوں گے، اس صورت میں اقدام حیزوم کا ترجمہ یہ ہوگا کہ حیزوم! آگے بڑھ کر۔۔۔ حیزوم حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کا نام ہے جیسا کہ قاموس میں ذکر کیا گیا ہے، لیکن بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ ایک اور فرشتہ کے گھوڑے کا نام ہے۔ جنگ بدر میں مسلمانوں کو جو غیب سے آسمانی مدد حاصل ہوئی اور اس مدد سے تعلق رکھنے والے ایک فرشتہ کی کاروائی ایک صحابی پر مذکورہ بالا صورت میں جو کشف و اظہار ہو اوہ دراصل ان صحابی کی کرامت ہے۔ اور تابع یعنی صحابی سے ظاہر ہونے والی کرامت چونکہ اس کے متبوع یعنی نبی کریم ﷺ کے معجزہ ہی کی ایک صورت ہوتی ہے خاصل طور سے ایسی حالت میں جب کہ وہ کرامت نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں ظاہر ہوئی ہو، اس کی مناسبت سے اس حدیث کا معجزات کے باب میں نقل کیا جانا غیرموزوں نہیں ہے۔۔۔ یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس حدیث میں جس واقعہ کا ذکر ہے اس کی خبر صحابی ثقہ نے دی اور صادق ومصدوق، ﷺ نے اس کی تصدیق کی اور یہ تصدیق صرف آپ کا کام تھا، جس کا علم اعجاز رسالت سے ہے، لہٰذا اس واقعہ کو آنحضرت ﷺ کے معجزات میں شمار کرنا بھی صحیح ہے۔
جنگ احد میں فرشتوں کی مدد کا معجزہ
وعن سعد بن أبي وقاص قال : رأيت عن يمين رسول الله صلى الله عليه و سلم وعن شماله يوم أحد رجلين عليهما ثياب بيض يقاتلان كأشد القتال ما رأيتهما قبل ولا بعد يعني جبريل وميكائيل . متفق عليه
اور حضرت سعد ابن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے احد کی لڑائی میں، رسول کریم ﷺ کے دائیں بائیں سفید کپڑوں میں ملبوس دو آدمیوں کو دیکھا ( جن میں سے ایک تو آنحضرت ﷺ کے دائیں طرف اور ایک بائیں طرف تھا) اور وہ دونوں نہایت شدت کے ساتھ ( ہمارے دشمنوں سے لڑ رہے تھے، ان دونوں کو میں نے نہ تو اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا (اس سے ثابت ہوا کہ وہ دونوں دراصل فرشتے ( یعنی، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اور حضرت میکائیل (علیہ السلام) تھے۔ ( بخار ومسلم)
تشریح
یعنی حضرت جبرائیل اور میکائیل تھے یہ وضاحت خود راوی نے کی ہے اور انہوں نے ان دونوں کا فرشتہ جبرائیل ومیکائیل ہونا یا تو اسی بات سے سمجھا کہ نہ کبھی اس سے پہلے انہوں نے ان دونوں کو دیکھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا، یا انہوں نے خود آنحضرت ﷺ سے سنا ہوگا کہ وہ دونوں اجنبی حضرت جبرائیل اور میکائیل تھے۔
دست مبارک کے اثر سے ایک صحابی کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ درست ہوگئی
وعن البراء قال بعث النبي صلى الله عليه و سلم رهطا إلى أبي رافع فدخل عليه عبد الله بن عتيك بيته ليلا وهو نائم فقتله فقال عبد الله بن عتيك : فوضعت السيف في بطنه حتى أخذ في ظهره فعرفت أني قتلته فجعلت أفتح الأبواب حتى أنتهيت إلى درجة فوضعت رجلي فوقعت في ليلة مقمرة فانكسرت ساقي فعصبتها بعمامة فانطلقت إلى أصحابي فانتهيت إلى النبي صلى الله عليه و سلم فحدثته فقال : ابسط رجلك . فبسطت رجلي فمسحها فكأنما لم أشتكها قط . رواه البخاري
اور حضرت براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کی ایک جماعت کو ابورافع کی طرف بھیجا، چناچہ ( جب وہ جماعت اس کے قلعہ پر پہنچی تو ایک صحابی) عبداللہ ابن عتیک رات کے وقت ابورافع کی خوابگاہ میں جب کہ سو رہا تھا، داخل ہوگئے اور اس کو مار ڈالا عبداللہ ابن عتیک نے بیان کیا کہ میں نے ابورافع کے پیٹ پر تلوار رکھی یہاں تک کہ وہ پشت کے طرف سے باہر نکل گئی، جب میں نے سمجھ لیا کہ اس کا کام تمام ہوگیا ہے تب میں نے ( قلعہ) کے دروازے کھولنے شروع کئے ( تاکہ جماعت کے باقی لوگ بھی جو میرے ساتھ اس مہم میں آئے تھے، اندر آجائیں) اور پھر میں ایک زینہ پر پہنچا اور ( اس خیال سے آگے زمین ہے) جونہی میں نے پاؤں رکھا پھیلی ہوئی چاندنی میں ( اس طرح) گرپڑا ( کہ) میری پنڈلی ٹوٹ گئی، میں نے اپنا عمامہ کھول کر پنڈلی کو باند ھ لیا اور اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا ( جو قلعہ کے نیچے کھڑے تھے) پھر میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے سارا ماجرا بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنا پاؤں پھیلاؤ! میں نے اپنا پاؤں پھیلادیا، آنحضرت ﷺ نے میرے پاؤں پر اپنا دست مبارک پھیرا اور اسی وقت میرا پاؤں اس طرح اچھا ہوگیا جیسے اس میں کوئی تکلیف ہی نہیں ہوئی تھی۔ ( بخاری)
تشریح
ابورافع ایک یہودی تاجر تھا، اس کی کنیت ابوالحقیق تھی نہایت بدظن اور کمینہ خصلت شخص تھا تمام طرح یہ بھی آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کا دشمن تو تھا ہی، لیکن اس نے اپنی عہد شکنیوں، فتنہ انگیزیوں اور اذیت رسانیوں سے آنحضرت ﷺ کو بہت زیادہ تنگ کردیا تھا، اس بدبخت نے رسالت مآب ﷺ کی شان اقدس میں ناپاک ہجو بھی کہی تھی، آخر کار آنحضرت ﷺ نے مجبور ہو کر اس کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا ارادہ فرمالیا اور حضرت عبداللہ ابن عتیک کی سر کردگی میں چند انصاری نوجوانوں کو اس کے قید کرنے یا قتل کر ڈالنے کے لئے بھیجا جو پہلے سے صورت حال کا اندازہ لگا اپنے محفوظ قلعہ میں محصور ہوگیا، عبداللہ ابن عتیک ایک بڑی عجیب اور حیرت انگیز تدبیر کے ساتھ ( جو واقعہ کی پوری تفصیل کے ساتھ تاریخ وسیر کی کتابوں کے علاوہ خود بخاری کی کتاب المغازی کی تفصیلی روایت میں مذکور ہے) پہلے اس کے قلعہ میں اور پھر جب رات کے کھانے کے بعد ابورافع سوگیا تھا اس کی خوب گاہ میں داخل ہوگئے اور اپنی تلوار سے اس کا کام تمام کردیا۔ جب وہ اپنی کاروائی مکمل کر کے واپس ہونے لگے تو انہیں ایک زینہ سے اترنا پڑا اور وہ جب نیچے اتر رہے تھے تو چاند رات ہونے کی وجہ سے اندر زینہ تک اس طرح کی روشنی رہ گی جس میں نگاہ الجھ جاتی ہے، چناچہ عبداللہ ابن عتیک نے یہ سمجھ کر اپنا قدم اٹھایا کہ زینہ ختم ہوگیا ہے اور آگے زمین مگر وہاں ابھی تک ایک زینہ باقی تھا اور ان کا پاؤں اس طرح پڑا کہ وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور نیچے گرگئے اس کی وجہ سے ان کی پنڈلی ٹوٹ گئی، بعد میں وہ جب آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور پورا واقعہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے ان کے پاؤں پر اپنا دست مبارک پھیرا اور اس کی برکت سے ٹوٹی ہوئی پنڈلی درست ہوگئی اور ساری تکلیف بھی جاتی رہی، یہ ذات رسالت کا اعجاز تھا۔
غزوہ احزاب میں کھانے کا معجزہ
وعن جابر قا ل إنا يوم الخندق نحفر فعرضت كدية شديدة فجاؤوا النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا : هذه كدية عرضت في الخندق فقال : أنا نازل ثم قام وبطنه معصوب بحجر ولبثنا ثلاثة أيام لانذوق ذوقا فأخذ النبي صلى الله عليه و سلم المعول فضرب فعاد كثيبا أهيل فانكفأت إلى امرأتي فقلت : هل عندك شيء ؟ فإني رأيت بالنبي صلى الله عليه و سلم خمصا شديدا فأخرجت جرابا فيه صاع من شعير ولنا بهمة داجن فذبحتها وطحنت الشعير حتى جعلنا اللحم في البرمة ثم جئت النبي صلى الله عليه و سلم فساررته فقلت : يا رسول الله ؟ ذبحنا بهيمة لنا وطحنت صاعا من شعير فتعال أنت ونفر معك فصاح النبي صلى الله عليه و سلم : يا أهل الخندق إن جابرا صنع سورا فحي هلا بكم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تنزلن برمتكم ولا تخبزن عجينكم حتى أجيء . وجاء فأخرجت له عجينا فبصق فيه وبارك ثم عمد إلى برمتنا فبصق وبارك ثم قال ادعي خابزة فلتخبز معي واقدحي من برمتكم ولا تنزلوها وهم ألف فأقسم بالله لأكلوا حتى تركوه وانحرفوا وإن برمتنا لتغط كما هي وإن عجيننا ليخبز كما هو . متفق عليه
اور جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ( یعنی صحابہ) خندق کے دن ( یعنی عزوہ احزاب کے موقع پر دشمنوں سے بچاؤ کے لئے مدینہ کے گرد) خندق کھود رہے تھے کہ سخت پتھر نکل آیا ( جو کسی طرح ٹوٹ نہیں رہا تھا) صحابہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ کھدائی کی جگھ ایک سخت پتھر نکل آیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں خود ( خندق میں) اتر کر دیکھوں گا، چناچہ آپ ﷺ فورا اٹھ کھڑے ہوائے اس وقت ( شدت بھوک سے) آپ ﷺ کے شکم مبارک پر پتھر بندھا ہوا تھا۔ اور ہم سبھی لوگ تین دن سے اس حال میں تھے کہ ہم نے کچھ نہیں کھایا تھا کوئی چیز چکھی تک نہیں تھی، آنحضرت ﷺ نے کدال ہاتھ میں لیا اور ( خندق میں اتر) کر پتھر پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ سخت پتھر ریت کی مانند ( ذرہ ذرہ ہوگیا) بکھر گیا۔ حضرت جابر کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں وہاں سے اپنے گھر آیا اور اپنی بیوی ( سہیلہ بنت معود انصاری سے) پوچھا کہ کیا تمہارے پاس ( کھانے کی کوئی) چیز ہے؟ میں نے رسول کریم ﷺ پر بھوک کا شدید اثر دیکھا ہے ( یہ سن کر) میری بیوی نے تھیلا نکال کردیا جس میں تقریبا سیر جو تھے اور ہمارے ہاں بکری کا ( دنبہ اور یا گھر کی پلی ہوئی پھیڑکا) ایک چھوٹا سا بچہ تھا، میں نے اس بچہ کو ذبح کیا اور میری بیوی نے آٹا پیسا اور پھر ہم نے گوت کو ہانڈی میں ڈال کر ( چولہے پر) چڑھا دیا پھر میں نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچا اور آپ ﷺ سے چپکے سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہم نے بکری کا ایک بچہ ذبح کیا ہے اور میری بیوی نے تقریبا ساڑھے تین سیر جو پیسے ہیں ( اس طرح کچھ لوگوں کے لئے میں نے کھانا تیار کرا لیا ہے) اب آپ ﷺ چند لوگوں کے ساتھ تشریف لے چلے۔ یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے بآواز بلند اعلان کیا کہ خندق والو! چلو، جابر نے تمہاری ضیافت کے لئے کھانا تیار کیا ہے، جلدی چلو۔ پھر آپ ﷺ نے ( مجھ سے) فرمایا کہ تم جا کر کھانے کا انتظام کرو لیکن، اپنی ہانڈی چولہے سے نہ اتارنا اور نہ آٹا پکانا جب تک میں نہ آجاؤں۔ پھر آپ ﷺ ( اپنے تمام ساتھیوں سمیت میرے ہاں، تشریف لائے، میں نے گندھا ہوا آٹا آپ ﷺ کے سامنے لا کر رکھ دیا، آپ ﷺ نے اس میں اپنا لعاب دہن ڈال کر برکت کی دعا فرمائی پھر ہانڈی کی طرف بڑھے اور اس میں لعاب ڈال کر برکت کی دعا فرمائی اس کے بعد آپ ﷺ نے ( میری بیوی کے بارے میں) فرمایا کہ روٹی پکانے والی کو بلاؤ تاکہ وہ تمہارے ساتھ روٹی پکا کردیتی رہے اور چمچے سے ہانڈی میں سالن نکالتے رہو لیکن ہانڈی کو چولہے پر رہنے دینا۔ حضرت جابر کہتے ہیں کہ اس وقت خندق والے ایک ہزار آدمی تھے ( جو تین دن سے بھوکے تھے) اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان سب نے ( اس کھانے میں سے خوب شکم سیر ہو کر) کھایا لیکن کھانا ( جوں کا توں) بچارہا، جب وہ سب لوگ واپس ہوئے تو ہانڈی اسی طرح چولہے پر پک رہی تھی جیسی کہ پہلے تھی اور آٹا اسی طرح پکایا جارہا تھا جیسا کہ وہ شروع میں تھا۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث میں لفظ سور جس کا ترجمہ ضیافت کا کھانا، کیا گیا ہے، دراصل فارسی کا لفظ ہے، جو آنحضرت کی زبان مبارک پر جاری ہوا، یہ لفظ اہل فارس کی اصطلاح میں شادی کے کھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے کہ اس لفظ کے علاوہ فارسی کے اور بھی کئی الفاظ مختلف مواقع پر آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے ادا ہوئے۔ کھانے کی اس مقدار نے جو چند ہی آدمیوں کے لئے کافی ہوسکتی تھی نہ صرف یہ کہ ایک ہزار آدمیوں کا شکم سیر کرا دیا بلکہ جوں کا توں بچ بھی گیا دراصل اس ذات گرامی کی برکت کا طفیل تھا جو تمام برکتوں کی منبع ومخزن ہے اور تمام ذات کائنات بلکہ زمین وآمان ان ہی کی برکتوں سے معمور ہیں، ﷺ۔ اس طرح کے بیشمار معجزات یعنی کھانے کی قلیل مقدار کا بڑھ جانا انگلیوں سے پانی کا ابل پڑنا اور ذرا سے پانی کا بہت ہوجانا، کھانے سے تسبیح کی آواز آنا، کھجور کے درخت کے تنہ کا آو زاری کرنا، وغیرہ وغیرہ ایسے واقعات ہیں جو احادیث اور تاریخ وسیر کی کتابوں میں کثرت سے مذکور ہیں اور ان سے متعلق روایتیں حد تواتر کو پہنچتی ہوئی ہیں جن سے علم قطعی حاصل ہوتا ہے، ان معجزات کو جو آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کی دلیل ہیں، مختلف محقق علماء نے بڑی کاوش و محنت کر کے اپنی کتابوں میں جمع کیا ہے، اس سلسلہ میں زیادہ عمدہ کتاب امام بیہقی کی دلائل النبوۃ کو مانا گیا ہے۔
عمار ابن یاسر کے بارے میں پیشن گوئی
وعن أبي قتادة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لعمار حين يحفر الخندق فجعل يمسح رأسه ويقول : بؤس بن سمية تقتلك الفئة الباغية . رواه مسلم
اور حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ عمار ابن یاسر خندق کھود رہے تھے اور رسول کریم ﷺ ان کے سر پر ہاتھ پھیر پھیر کر ان کے سر سے دھول مٹی جھاڑتے جاتے تھے اور یہ فرماتے تھے ہائے سمیہ کے بیٹے عمار ابن یاسر) کی سختی و مصیبت تمہیں باغیوں کا گروہ قتل کر ڈالے گا۔ ( مسلم)
تشریح
سمیۃ ایک صحابی خاتون کا نام ہے، انہوں نے بالکل شروع ہی میں مکہ میں اسلام قبول کیا تھا اور دوسرے مسلمانوں کی طرح یہ بھی کفار مکہ کے ظلم وستم کا تختہ مشق بنی تھیں، ایک عورت ہو کر بھی انہوں نے ظالموں کے ہاتھوں سخت سے سخت اذیتیں اور مصیبتیں سہیں لیکن دین کے راستہ سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوئیں، آخر کار لعین ابوجہل نے ای دن ان کی شرمگاہ میں خنجر مار کر ان کو شہید کردیا، حضرت عمار ابن یاسر اسلام کی ان ہی مایہ ناز خاتون کے عظیم سپوت تھے۔ غزوہ احزاب کے موقع پر جب مدینہ کی حفاظت کے لئے صحابہ کرام خندق کھود رہے تھے تو حضرت عمار ابن یاسر بھی پوری جان فشانی اور محنت کے ساتھ اس کام میں مصروف تھے، آنحضرت ﷺ نے ان کو دیکھا ان کی محنت و شفقت کا احساس فرمایا اور پھر عالم الغیب نے آپ ﷺ پر منکشف کردیا کہ عمار کی موت باغیوں کے ہاتھوں ہوگی، چناچہ آپ ﷺ کا قلب مبارک عمار کے تئیں جذبہ ترحم و محبت سے لبریز ہوگیا اور آپ ﷺ کی زبان مبارک پر مذکورہ حسرتنا تک الفاظ جاری ہوگئے ان الفاظ میں آپ ﷺ نے یا تو عمار کی سختی و مصیبت کو کیا مگر اصل مخاطب خود عمار جس کا مطلب یہ تھا کہ عمار مجھے تمہارے اوپر بڑا ترس آرہا ہے، تمہیں ایک دن ایسی سختی و مصیبت کا سامنا بھی کرنا ہوگا کہ باغیوں کی ایک جماعت جس نے امام برحق اور خلیفہ وقت کے خلاف علم بغاوت بلند کر ہوگا، تمہیں شہید کر دے گا۔
شارحین حدیث نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اس پیشن گوئی کو پورا ہونا تھا اور وہ پوری ہوئی۔ حضرت عمار ابن یاسر جنگ صفین میں امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف سے شریک ہوئے اور حضرت معاویہ کے گروہ کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس تنازعہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ حق پر تھے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ عمار کی موت باغیوں کے ہاتھوں ہوگی اور حضرت معاویہ کے گروہ نے انہیں قتل کردیا۔ ایک روایت میں نقل کیا گیا ہے کہ جب اس جنگ میں حضرت عمار شہید ہوگئے تو حضرت عمر وبن العاص جو حضرت معاویہ کے ساتھ تھے، نہایت سراسیمہ ہوئے اور حضرت معاویہ کے پاس آکر کہنے لگے یہ تو بڑی پریشانی کی بات پیدا ہوگئی کہ عمار ہمارے لشکر کے ہاتھوں مارے گئے معاویہ نے کہا کیوں اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ عمر و بن العاص نے کہا میں نے آنحضرت ﷺ کو عمار سے یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تمہیں باغیوں کا گروہ قتل کرے گا۔ معاویہ نے جواب دیا تو عمار کو ہم نے کب قتل کیا ہے، اصل میں تو علی نے ان کو مارا ہے وہی ان کو اپنے ساتھ جنگ میں لائے تھے۔ یہ بھی منقول ہے کہ حضرت معاویہ اس حدیث کے الفاظ تاویل کرتے تھے ان کا کہنا تھا کہ لفظ باغیہ، یہاں بغی سے مشتق نہیں ہے جس کے معنی بغاوت کے ہیں بلکہ بغاء سے مشتق ہے جس کے معنی ڈھونڈ ھنا، طلب کرنا ہیں اس اعتبار سے ان کے نزدیک آنحضرت ﷺ کے ارشاد تقتلک الفئۃ الباغیۃ کا ترجمہ یہ ہوا کہ ( عمار) تمہیں مطالبہ کرنے والوں کا ایک گروہ قتل کرے گا، مطلب یہ کہ جو گروہ قصاص اور خون بہا کا مطالبہ کرے گا، اسی کے ہاتھوں عمار کا قتل ہوگا، چناچہ حضرت معاویہ کہا کرتے تھے کہ نحن فئۃ باغیۃ طالبۃ لدم عثمان ( ہم مطالبہ کرنے والا گروہ ہیں، جو حضرت عثمان کے خون بہا کا طالب ہے) لیکن عقل ونقل کی روشنی میں حضرت معاویہ کی یہ تاویل نہیں بلکہ صریح تحریف ہے۔ بعض روایتوں میں تو یہاں تک نقل کیا گیا ہے۔ کہ جب حضرت عمر و بن العاص نے حضرت معاویہ کے سامنے مذکورہ پریشانی کا ذکر کیا تو معاویہ نے ان سے کہا کہ تم عجیب آدمی ہو اپنے سے کمتر آدمی کے معاملہ میں پھسلے جاتے ہو یعنی عمار تو تمہارے مقابلہ میں ایک ادنیٰ شخص تھے، پھر یہ کیا ہے کہ تم ان کا معاملہ لے کر تذبذب کا شکار ہوگئے ہو اور ہماری رفاقت سے الگ ہونا چاہتے ہو۔ لیکن ملا علی قاری نے شیخ اکمل الدین کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہ دونوں باتیں حضرت معاویہ پر افتراء ہے، انہوں نے نہ تو حدیث کی یہ تاویل کی ہے جو تحریف کے مرادف ہے اور نہ حضرت عمار کے بارے میں ایسی پست بات کہی۔
بلاشبہ اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ حضرت علی اور حضرت معاویہ کے درمیان جو محاذ آرائی ہوئی اس میں حضرت علی حق پر تھے اور جو لوگ بھی ان کی اطاعت سے باہر ہو جر جنگ کے لئے کمر بستہ ہو انہوں نے خراج کیا لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ لوگ اس حدیث کو دیکھ کر اور اس کے محمول و مصداق کو جان کر حضرت معاویہ کے حق میں زبان لعن وطعن دراز کریں اور ان کی ذات کو ہدف ملامت کریں۔ راسخ العقیدہ اور صحیح الخیال مسلمان کے لئے صرف یہی نجات کی رہا ہے کہ اس نازک مسئلہ میں اپنی زبان کو روکے اور ان دونوں کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دے، حضرت معاویہ ایک جلیل القدر صحالی تھے اور دربار رسالت میں بڑی عزت و اہمیت رکھتے تھے، ان کی شان میں کوئی بھی ناز یبابات زبان سے نکالنا صحابی کی شان میں گستاخی کرنا ہے اور صحابی کی شان میں گستاخی کرنا اللہ کا عذاب مول لینا ہے، آنحضرت ﷺ نے اپنے تمام صحابہ کے بارے میں ارشاد فرمایا لوگو! میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، ان کو کبھی ہدف ملامت نہ بنانا ( یاد رکھوں! ) جس شخص نے میرے صحابہ کو دوست رکھا اس نے مجھ سے محبت رکھنے کے سبب ان کو دوست رکھا اور جس شخص نے میرے صحابہ کو مبغوض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھنے کے سبب ان کو مبغوض رکھا اور جس شخص نے میرے صحابہ کو ( اپنے قول وعمل سے) ایذاء پہنچائی اس نے درحقیقت مجھ کو ایذاء پہنچائی اور جس شخص نے مجھ کو ایذاپہنچائی اس نے ( گویا) اللہ تعالیٰ کو ایذاء پہنچائی اور جس شخص نے اللہ کو ایذاء پہنچائی اس کو جلد ہی اللہ تعالیٰ عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اس ارشاد گرامی کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور اس کتاب میں بھی آگے فضائل صحابہ کے باب میں ایسی بہت سی احادیث آئیں گی، نیز اس طرح کی بھی بہت حدیثیں منقول ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سکوت ہی میں بھلائی ہے، ان میں سے یہی ایک حدیث سبق حاصل کرنے کے لئے بہت کافی ہے کہ من سکت سلم ومن سلم نجا ( جس نے سکوت اختیار کیا سلامت رہا اور جو سلامت رہا نجات پا گیا )۔ اس کے علاوہ بعض حدیثیں خود حضرت معاویہ کی فضیلت میں منقول ہیں، جیسے پیچھے باب علامت النبوۃ میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت میرے سامنے پیش کی گئی جن کو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اور سمندر کی پشت پر اس طرح سفر کرتے ہوئے دکھا یا گیا جیسے وہ بادشاہوں کی مانند تخت پر بیٹھے ہوں۔۔ الخ۔۔ عع اس حدیث کا مصداق یہی حضرت معاویہ اور ان کے لشکر والے تھے جنہوں نے سمندر پار کر کے کفار کے ساتھ جہاد کیا۔ غرض یہ کہ حضرت معاویہ کی شان میں گستاخی کرنے ان سے بغض ونفرت رکھنے اور ان کو برابھلا کہنے سے پوری طرح اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ یہ رفض وشیعت کے عقائد میں سے ہے اللہ تعالیٰ اس قسم کے برے عقیدہ سے محفوظ رکھے بعض سنی بھی جہالت ونادانی کے سبب اس فتنہ کا شکار ہوجاتے ہیں اور صحابی کے حق میں نہایت نازیبا الفاظ و خیال کا اظہار کرتے ہیں! ملا علی قاری نے شرح، فقہ اکبر میں صاف طور پر ( حضرت علی اور حضرت معاویہ سے متعلق) اس معاملہ کو خطائے اجتہادی پر محمول کیا ہے۔ پس اہل سنت کو تو خاص طور پر اس سلسلہ میں احتیاط کا دامن پکڑنا چاہئے! اور اپنے دل کو کسی بھی صحابی کے بغض سے پاک رکھنا چاہئے خواہ ان کا تعلق اہل بیت نبوی سے ہو، یا عام صحابہ کی جماعت سم، نیز آنحضرت ﷺ کی اس ارشاد پر نظر رکھتے ہوئے اپنی زبان پر مہر سکوت لگا لینی چاہئے کہ لیحجرک عن الناس ما تعلم من نفسک اور جب عام لوگوں کے بارے میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ولا تذکر الناس الا بخیر ( لوگوں کا ذکر کرو تو اچھائی کے ساتھ کرو) تو صحابہ تو بدرجہ اولیٰ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے تذکرے میں ایسا کوئی لفظ نہ آئے جس سے ان کی شان اور ان کی حیثیت پر حرف آتا ہو اور ایک بات یہ بھی یادر کھنی چاہئے کہ جن مقدس، ہستیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ ونزعنا ما فی صدورہم من غل اخوانا علی سرر متقبلین ( اور ان کے دلوں میں جو کینہ تھا ہم سب دور کریں گے اور سب بھائی بھائی کی طرح رہیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھا کریں گے، تو کیا یہ بدبختی نہیں ہے کہ ہم ان ہستیوں کے بارے میں طعن وتشنیع کے ذریعہ اپنی زبانیں گندی کریں۔
ایک پیش گوئی جو پوری ہوئی
وعن سليمان بن صرد قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم حين أجلي الأحزاب عنه : الآن نغزوهم ولا يغزونا نحن نسير إليهم . رواه البخاري
اور حضرت سلیمان ابن صرد کہتے ہیں کہ جب غزوہ احزاب سے دشمنوں کا لشکر بھاگ گیا ( اور مدینہ کا محاصرہ ہٹ گیا) تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اب دشمن ہم پر چڑھائی نہ کرسکیں گے، ہاں ہم ان سے جہاد کریں گے اور ان پر لشکر کشی کریں گے۔ ( بخاری )
تشریح
یہ غزوہ خندق کا ذکر ہے جب تمام کفار بشمول یہود ہزارہا کی تعداد میں مدینہ پر چڑھ آئے تھے اور مدینہ کی حفاظت کے لئے آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہ کے ساتھ مل کر شہر کے گرد خندق کھودی تھی، قریش کے لشکر کے سردار ابوسفیان تھے، اسی طرح مشرکین و کفار کے دوسرے گروہوں کے بھی اپنے الگ الگ سردار تھے، دشمن نے مسلسل ایک مہینہ تک مدینہ کا محاصرہ رکھا اور خندق کے اس پار ڈٹے رہے اس عرصہ میں کوئی باقاعدہ جنگ نہیں ہوئی، کبھی کبھار تیر اندازی اور پتھر اؤ کا سلسلہ کچھ دیر کے لئے شروع ہوجاتا تھا، آخر کار اللہ تعالیٰ نے اپنی غیبی مدد ظاہر فرمائی، ملائکہ نازل ہوئے دشمن کی نگاہوں میں ظاہر نہ ہونے کے باوجود اس کے قلع قمع میں لگ گئے، ہوا اور آندھی کا ایسا سخت طوفان آیا جس نے کفار کے لشکر میں سخت ابتری پھیلا دی اور اس طرح ان کے دلوں میں ایسا خوف اور رعب بیٹھ گیا کہ پورا لشکر تتر بتر ہو کر بھاگ کھڑا ہوا، اسی مناسبت سے اس کو عزوہ احزاب بھی کہا جاتا ہے، اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے، پیش گوئی فرمائی تھی کہ آج مشرکوں کی ہمت بالکل ٹوٹ گئی ہے، اب کبھی بھی ہمارے دشمن کو ہم پر حملہ آور ہونے کی جرأت نہیں ہوگی، تو اب ہم ہی ان پر لشکر کشی کریں گے، چناچہ ایسا ہی ہوا کہ اس غزوہ کے بعد کفار کا لشکر مدینہ پر حملہ آور نہیں ہوا بلکہ رسول کریم ﷺ نے مکہ اور دوسرے مقامات پر لشکر کشی فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے ہر موقع پر مسلمانوں کو فتح دی۔
حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اور فرشتوں کی مدد کا معجزہ
وعن عائشة قالت : لما رجع رسول الله صلى الله عليه و سلم من الخندق وضع السلاح واغتسل أتاه جبريل وهو ينفض رأسه من الغبار فقال قد وضعت السلاح والله ما وضعته أخرج إليهم قال النبي صلى الله عليه و سلم فأين فأشار إلى بني قريظة فخرج النبي صلى الله عليه و سلم . متفق عليه وفي رواية للبخاري قال أنس : كأني أنظر إلى الغبار ساطعا في زقاق بني غنم موكب جبريل عليه السلام حين سار رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى بني قريظة
اور حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے غزوہ خندق سے واپس آکر ( اپنے جسم سے) ہتھیار اتا رے اور غسل ( کا ارادہ) کیا تھا کہ آپ ﷺ کی خدمت میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے، درآنحالیکہ وہ اپنے سر سے ( غزوہ خندق میں پڑی ہوئی) گرد و غبار جھاڑ رہے تھے۔ اور کہنے لگے کہ آپ ﷺ نے تو ہتھیار اتار کر رکھ دئیے ہیں اور قسم اللہ کی میں نے ابھی ہتھیار نہیں اتارے ہیں ( جیسا کہ آپ ﷺ مجھے دیکھ ہی رہے ہیں ( چلئے ابھی تو ان کافروں پر لشکر کشی کرنی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے پوچھا کہاں چلنا ہے، کس پر لشکر کشی کرنی ہے؟ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے بنی قریظہ کی طرف اشارہ کیا اور آنحضرت ﷺ ( فورا مسلح ہو کر اپنے صحابہ کے ساتھ قریظہ کی طرف روانہ ہوگئے ( جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو فتح عطا فرمائی) اور بخاری کی ایک روایت میں حضرت انس ؓ سے یہ الفاظ بھی منقول ہیں کہ۔ گویا میں اس غبار کو اب بھی دیکھ رہا ہوں جو بنو غنم کے کوچہ میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ہمراہ چلنے والی ( سوار فرشتوں کی) جماعت کے سبب اس وقت اٹھ رہا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ بنو قریظہ کی طرف جار ہے تھے۔
تشریح
غسل کیا تھا سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ نے غسل کا ارادہ کیا تھا اور نہانے جا ہی رہے تھے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آگئے اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جس وقت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے تو آپ ﷺ غسل کر رہے تھے، سر کا ایک حصہ دھونا باقی تھا، گویا اس وقت تک آپ ﷺ کا غسل پورا نہیں ہوا تھا۔ درآنحالیکہ وہ اپنے سر سے ( غزوہ خندق میں پڑی ہوئی) گردوغبار جھاڑ رہے تھے۔ اس میں ہو کی ضمیر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف راجع ہوسکتی ہے اور آنحضرت ﷺ کی طرف بھی، حاصل یہ کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا آنا اور آنحضرت ﷺ کا بنی قریظہ سے جنگ کے لئے روانہ ہونا غزوہ خندق سے واپسی کے فورا بعد کا واقعہ ہے۔ بنو قریظہ سے مراد یہودیوں کی وہ قوم ہے جو مدینہ شہر سے باہر تین چار میل کے فاصلہ پر آباد تھی، وہاں ان کی حویلیاں تھیں اور ایک بہت مضبوط قلعہ بھی تھا، انہوں نے عہد شکنی کا ارتکاب کیا تھا اور آنحضرت ﷺ سے مصالحانہ معاہدہ کے باوجود غزوہ خندق میں دشمنوں کا ساتھ دیا اور مسلمانوں کی تباہی کا پورا منصوبہ بنایا تھا۔ بہر حال آنحضرت ﷺ نے ان سے جنگ کی اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو فتح عطا فرمائی اس کی تفصیل تاریخ وسیر کی کتابوں میں مذکور ہے۔ غنم انصار کے ایک قبیلہ کا نا ہے، آنحضرت ﷺ بنو قریظہ کی طرف جاتے ہوئے اس قبیلہ کے محلہ سے گزرے تھے اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اس محلہ کے گلی کوچہ میں لوگوں کی آمد ورفت نہیں تھی، اسی وجہ سے اس کو چہ میں اٹھتا ہوا گردوغبار دیکھ کر حضرت انس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ فرشتوں کا لشکر ساتھ چل رہا ہے اور اس کے قدموں سے یہ گردوغبار اٹھ رہا ہے، نیز غالب گمان یہ ہے کہ فرشتوں کے اس لشکر کے کمانڈر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تھے جو یا تو لشکر کے ساتھ ہی تھے یا آنحضرت ﷺ کے ہمراہ چل رہے تھے۔ اس حدیث میں جو چیز آنحضرت ﷺ کا معجزہ کو ظاہر کرتی ہے وہ ایک تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا مسلح ہو کر اپنے لشکر سمیت آنحضرت ﷺ کے دشمنوں سے جنگ کے لئے آنا ہے اور دوسری چیز فرشتوں کے قدموں سے اٹھتے ہوئے گردوغبار کا نظر ہے جب کہ خود وہ فرشتے کسی کو نظر نہیں آرہے تھے۔
وعن جابر قال عطش الناس يوم الحديبية ورسول الله صلى الله عليه و سلم بين يديه ركوة فتوضأ منها ثم أقبل الناس نحوه قالوا : ليس عندنا ماء نتوضأ به ونشرب إلا ما في ركوتك فوضع النبي صلى الله عليه و سلم يده في الركوة فجعل الماء يفور من بين أصابعه كأمثال العيون قال فشربنا وتوضأنا قيل لجابر كم كنتم قال لو كنا مائة ألف لكفانا كنا خمس عشرة مائة . متفق عليه
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ مقام حدیبیہ میں ( ایک دن ایسا ہوا کہ پانی کی شدید قلت کے سبب) لوگوں کو سخت پیاس کا سامنا کرنا پڑا، اس وقت آنحضرت ﷺ کے پاس ایک لوٹا تھا جس سے آپ ﷺ نے وضو فرمایا تھا ( اور اس میں بہت تھوڑا سا پانی بچا) لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ہمارے لشکر میں پینے اور وضو کرنے کے لئے بالکل پانی نہیں ہے، بس وہی تھوڑا سا پانی ہے جو آپ ﷺ کے لوٹے میں بچ گیا ہے ( اور ظاہر ہے) کہ اس سے سب لوگوں کا کام نہیں چل سکتا) آپ ﷺ نے ( یہ سن کر) اپنا دست مبارک اس لوٹے ( کے اندر یا اس کے منہ) میں ڈال دیا اور آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے اس طرح پانی ابلنے لگا جیسے چشمے جاری ہوگئے ہوں۔ حضرت جابر کا بیان ہے ہم سب لوگوں نے خو پانی پیا اور وضو کیا۔ حضرت جابر سے پوچھا گیا کہ اس موقع پر تم سب کتنے آدمی تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم ایک لاکھ ( آدمی) ہوتے تب بھی وہ پانی کافی ہوتا، ویسے اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
ہم سب لوگوں نے خوب پانی پیا کتنے قابل رشک تھے وہ لوگ جن کو اس مقدس پانی کے پینے کی سعادت نصیب ہوئی اور اس کے طفیل میں ظاہر و باطن کی کیسی پاکیزگی ان کو حاصل ہوئی، کیونکہ زمین و آسمان میں اس پانی سے زیادہ افضل اور کوئی پانی نہیں تھا۔ اگر ہم ایک لاکھ ہوتے حضرت جابر کا یہ جواب ایک لطیف طنز تھا، کہ بھلا معجزہ کے معاملہ میں کمیت کے بارے میں پوچھنا بھی کوئی بات ہوتی! تاہم انہوں نے بعد میں واضح جواب دیا کہ اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی نیز انہوں نے ایک پانچ سو کہنے کے بجائے پندرہ سو اس نکتہ کے پیش نظر کہا کہ کثرت کا جو شدید تاثر پندرہ سو کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے وہ ایک ہزار پانچ سو کے الفاظ سے ظاہر نہیں ہوتا علاوہ ازیں بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر مقام حدیبیہ میں جو صحابہ کرام موجود تھے وہ الک الک جماعتوں کی صورت میں تقسیم تھے اور ہر جماعت ایک سو افراد پر مشتمل تھی۔ لہٰذا حضرت جابر نے پندرہ سو کے ذریعہ پندرہ جماعتوں کی طرف اشارہ کیا۔
آب دہن کی برکت سے خشک کنوں لبریز ہوگیا
وعن البراء بن عازب قا ل : كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم أربع عشرة مائة يوم الحديبية والحديبية بئر فنزحناها فلم نترك فيها قطرة فبلغ النبي صلى الله عليه و سلم فأتاهافجلس على شفيرها ثم دعا بإناء من ماء فتوضأ ثم مضمض ودعا ثم صبه فيها ثم قال : دعوها ساعة فأرووا أنفسهم وركابهم حتى ارتحلوا . رواه البخاري
اور حضرت براء ابن عازب ؓ کہتے ہیں کہ حدیبیہ میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ ہم چودہ سو افراد تھے، حدیبیہ میں ایک کنواں تھا جس کا پانی ہم سب نے کھینچ کر استعمال کرلیا تھا اور اس میں ایک قطرہ بھی پانی نہیں رہا تھا، جب نبی کریم ﷺ کو یہ معلوم ہوا ( کہ کنواں خشک ہوگیا ہے اور پانی ختم ہوجانے کی وجہ سے لشکر کے تمام لوگ پریشان ہیں) تو آپ ﷺ کنویں پر تشریف لائے اور اس کے کنارے بیٹھ گئے، پھر آپ ﷺ نے وضو کے پانی کا برتن منگا کر وضو کیا اور وضو کے بعد منہ میں پانی لیا اور دعا مانگی، اس کے بعد آپ ﷺ نے وہ آب دہن کنویں میں ڈال دیا اور فرمایا کہ ساعت بھر کنویں کو چھوڑ دو اور پھر، ( ایک ساعت کے بعد کنویں میں اتنا پانی ہوگیا کہ) تمام لشکر والے خود بھی اور ان کے مویشی بھی اور جب تک وہاں سے کوچ کیا اسی کنویں سے پانی لیتے رہے۔ ( بخاری)
تشریح
حضرت جابر کی روایت میں پندرسو کی تعداد بیان کی گئی تھی جب کہ یہاں حضرت براء کی روایت میں چودہ سو کی تعداد بیان کی گئی ہے، تو جیسا کہ بعض حضرات نے کہا ہے، اصل تعداد چودہ سو سے زائد اور پندرہ سو سے کم تھی روای نے کسر کو شمار کر کے بیان کیا اس نے پندرہ سو کی تعداد بیان کی اور جس راوی نے کسر کو چھوڑ دیا اس نے چودہ سو کی تعداد بیان کی۔ یا یہ کہ اہل حدیبیہ چونکہ جماعتوں میں تقسیم تھے اور ایسا ہوتا تھا کہ پانی کے لئے کچھ جماعتیں آتی تھیں تو کچھ جماعتیں پانی لے کر چلی جاتی تھیں اس صورت میں کسی وقت تو مجموعی تعداد چودہ سو ہوجاتی تھی اور کسی وقت پندرہ سو۔۔۔ لہٰذا جس راوی نے جو تعداد دیکھی اس کو بیان کردیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے پہلے کل تعداد پندہ سو تھی جس کو حضرت جابر نے جو بیان کیا اور جب براء نے بیان کیا تو اس وقت تعداد گھٹ کر چودہ سو ہوگئی تھی، ایک قول یہ بھی ہے کہ ان میں سے کسی بھی راوی نے ایک ایک آدمی کو شمار کر کے یقینی تعداد نہیں بیان کی ہے بلکہ جس نے جو بھی تعداد بیان کی اندازہ اور تخمینہ کے طور پر بیان کی ہے کسی نے چودہ سو کا اندازہ لگایا تو کی نے پندرہ سو کا۔ نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جابر نے جو واقعہ بیان کیا ہے وہ اس واقعہ سے کہ جس کو حضرت براء نے بیان کیا ہے، پہلے کا ہے اور حدیبیہ میں اس طرح کے معجزے متعدد بار ظہور میں آئے لہٰذا تعددواقعہ کو دیکھتے ہوئے ان دونوں روایتوں میں بیان تعداد کا کوئی تضاد نہیں رہ جاتا۔ ساعت بھر کنویں کو چھوڑ دو کا مطلب یہ تھا کہ تھوڑی سی دیر کے لئے اس کنویں کو اسی طرح رہنے دو، ابھی اس میں سے پانی نکالنے کا ارادہ نہ کرو، کچھ دیر بعد جب کنواں بھر جائے گا تو اس میں سے پانی کھینچنا۔ ہوسکتا ہے کہ اس طرح آپ ﷺ نے یہ اشارہ فرمایا ہو کہ کنویں میں پانی بڑھ جانے کی جو دعا کی گئی ہے اس کی قبولیت کی ساعت بتدریج آئے گی۔