نرمی، مہربانی، حیاء اور حسن خلق کا بیان
رفق عنف کی ضد ہے اور اس کے معنی ہیں نرمی و ملائمت اور فروتنی کا رویہ اختیار کرنا اپنے ساتھیوں کے حق میں مہربان نرم خو ہونا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آنا اور ہر کام اطمینان و خوش اسلوبی سے کرنا۔ حیاء سے مراد شرمندہ اور محبوب ہونا اور حیاء دراصل اس کیفیت کا نام ہے جو کسی انسان پر عیب برائی کے خوف و ندامت کے وقت طاری ہو اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بہترین حیاء وہی ہے جو نفس کو اس چیز میں مبتلا ہونے سے روکے جس کو شریعت نے بری قرار دیا ہے۔ حضرت جنید کا یہ قول کہ حیاء اس کیفیت کا نام ہے جو اللہ کی نعمتوں کے حاصل ہونے اور ان نعمتوں کا شکر ادا نہ کرنے کی وجہ سے وحشت کے ساتھ دل میں پائی جائے اور حضرت رقاق کا قول یہ ہے کہ حیاء اس کیفیت کا نام ہے جو آقا کے سامنے درخواست و طلب سے باز رکھتی ہے۔ حسن خلق یعنی خوش خلقی یا اچھے اخلاق کا سب سے واضح مطلب یہ ہے کہ اس چیز کی اتباع و پیروی کی جائے جس کو خاتم النبین حضرت محمد ﷺ نے اللہ کی طرف سے دنیا والوں کے سامنے پیش کیا ہے یعنی شریعت، آداب طریقت اور احوال حقیقت و معرفت۔ چناچہ جب حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا گیا کہ اللہ نے جو نبی کریم ﷺ کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ آیت (وانک لعلی خلق عظیم)۔ تو آپ کے وہ اخلاق کیا تھے جن کو خلق عظیم کہا گیا ہے حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا کہ آپ کا خلق قرآن کریم ہے یعنی قرآن مجید میں اچھی خصلتیں اور اعلی اوصاف بیان کئے گئے ہیں (خواہ ان کا تعلق اللہ کی نافرمانی سے ہو یا مخلوق اللہ کے ساتھ بدمعالگی سے آپ ان سب سے اجتناب فرماتے تھے رہی اتباع درجات کی بات تو ظاہر ہے کہ اتباع بقدر محبت و توفیق متابعت کے حاصل ہوتی ہے یعنی جو شخص نبی کریم ﷺ کی محبت سے جتنا زیادہ سرشار ہوتا ہے اس کو اتباع کرنے کی جس قدر توفیق نصیب ہوتی ہے وہ اتنا ہی زیادہ اور اسی قدر اتباع بھی کرتا ہے اور جس شخص کو نبی کریم ﷺ کی محبت کا جتنا کم حصہ ہوتا ہے اور اتباع کرنے کی جس قدر کم توفیق نصیب ہوتی ہے وہ اتباع میں اسی قدر پیچھے رہتا ہے۔
عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إن الله تعالى رفيق يحب الرفق ويعطي على الرفق ما لا يعطي على العنف وما لا يعطي على ما سواه . رواه مسلم . وفي رواية له قال لعائشة عليك بالرفق وإياك والعنف والفحش إن الرفق لا يكون في شيء إلا زانه ولا ينزع من شيء إلا شانه
اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نرم و مہربان ہے اور نرمی و مہربانی کو پسند کرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خود بھی نرم و مہربان ہے اور ان کو ایسے امور کا مکلف قرار نہیں دیتا جو ان کی قوت برداشت سے باہر ہوں اور جن کی وجہ س سے وہ دشواریوں اور سختیوں میں مبتلا ہوں اور وہ بندے کے تئیں بھی اس بات کو پسند کرتا ہے اور اس سے راضی و خوشی ہوتا ہے کہ وہ آپس میں نرمی و مہربانی کریں اور ایک دوسرے کو سختیوں اور دشواریوں میں مبتلا نہ کریں۔ اس لئے وہ نرمی و مہربانی پر وہ چیز عطا فرماتا ہے جو درشتی سختی پر عطا نہیں فرماتا اور نرمی و مہربانی پر جو چیز عطا کرتا ہے وہ نرمی و مہربانی کے علاوہ کسی چیز پر عطا نہیں فرماتا۔ مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا نرمی و مہربانی کو لازمی طور پر اختیار کرو اور سختی اور بےحیائی سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ کیونکہ جس چیز میں نرمی ہوتی ہے اور اس کو زینت بخشی جاتی ہے اور جس چیز میں سے نکالی جاتی ہے وہ عیب دار ہوجاتی ہے۔
تشریح
اللہ تعالیٰ نرم و مہربان ہے اور نرمی و مہربانی کو پسند کرتا ہے، کے ذریعے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کا نرمی و مہربانی کو پسند کرنا خود بندوں کے اس مفاد و مصالح کے پیش نظر ہے کہ آپس میں نفرمی و مہربانی اور شفقت و مروت کے جذبات کو فروغ دینا ایک ایسی خوبی ہے جس کے ذریعہ معاشرہ کو مطمئن و پر سکون اور انسانی زندگیوں کو مختلف پریشانیوں اور بےچینیوں سے محفوظ رکھنا ہے چناچہ جس معاشرہ کے افراد اپنے تمام امور میں ایک دوسرے سے نرم خوئی اور مہربانی کا برتاؤ کرتے ہیں ایک دوسرے کو سختیوں اور پریشانیوں میں مبتلا کرنے سے اجتناب کرتے ہیں اور باہمی معاملات کو سہولت و آسانی کی بنیاد پر استوار کرتے ہیں اور ان امور معاملات کا تعلق خواہ حصول معاش سے یا اس کے علاوہ معاشرتی زندگی کے کسی بھی پہلو سے ہو تو اس معاشرہ کا ہر فرد اپنے آپ کو فلاح یاب محسوس کرتا ہے اور پورے معاشرہ پر حق تعالیٰ کی طرف سے خیر و برکت اور اس کی نعمتوں کا نزول ہوتا ہے چنانچہ، ویعطی علی الرفق۔ کے ذریعہ نہ صرف یہ ترغیب دلائی گئی کہ اپنے امور معاملات میں باہمی نرمی و مہربانی کو اختیار کرو تاکہ حصول مقصد کو پہنچ سکو بشارت بھی دی گئی ہے کہ جو لوگ سختی کے بجائے نرمی و مہربانی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں ان کو حق تعالیٰ اجر وثواب عطا فرماتا ہے اور مقاصد میں کامیاب و کامران کرتا ہے۔ اور نرمی و مہربانی پر جو چیز عطا کرتا ہے یہ جملہ ماقبل عبارت کے مفہوم کو ایک دوسرے انداز میں کر رہا ہے یعنی پہلے تو نرمی و مہربانی کو سختی پر ترجیح دی گئی ہے اور یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ کی طرف سے اجر وثواب اور حصول مقصد کی جو نعمت نرمی و مہربانی اختیار کرنے پر ہوتی ہے وہ سختی اختیار کرنے پر نہیں ہوتی اور پھر آگے اس جملہ کے ذریعہ اس طرف اشارہ فرمایا کہ نرمی و مہربانی اپنی ضد یعنی سختی ہی پر نہیں بلکہ حصول مقصد کے اور دوسرے اسباب و وسائل پر بھی ترجیح و فضیلت رکھتی ہے البتہ اس موقع پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ اسباب وسائل از قسم نرمی ہوں تو ترجیح و فضیلت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر از قسم سختی ہوں تو نرمی و مہربانی کا سختی پر فضیلت و ترجیح رکھنا ماقبل عبارت سے واضح ہو ہی چکا ہے اس کے بعد اسی مفہوم کو دورباہ بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ دونوں جملوں کی عبارت میں ظاہری طور پر تفاوت ہے مگر حقیقت میں یہ دوسرا جملہ ماقبل عبارت کو مؤ کد کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور دونوں جملوں کا مقصد اس بات کو زیادہ اہمیت دینا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ اپنے مقاصد جیسے حصول معاش وغیرہ کی طلب اور سعی اور جدوجہد میں ایسا رویہ اختیار کرے جو نرم خوئی مہربانی اور ایک دوسرے کے ساتھ لحاظ و مروت کا ہو کیونکہ انسان کو اس کی مطلوب چیز دینے والا حقیقت میں اللہ ہے اور چونکہ نرمی و مہربانی اس کے نزدیک محبوب ہے اس لئے وہ نرمی و مہربانی کا رویہ اختیار کرنے والے کو زیادہ عطا فرماتا ہے بہ نسبت اس شخص کے جو اپنے مقاصد کے حصول میں سختی و درشتی اور عامیانہ انداز و رویہ اختیار کرتا ہے۔
جس شخص میں نرمی ومہربانی نہ ہو وہ نیکی سے محروم رہتا ہے
وعن جرير عن النبي صلى الله عليه وسلم من يحرم الرفق يحرم الخير . رواه مسلم
اور حضرت جریر ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جس شخص کو نرمی و مہربانی سے محروم کیا جاتا ہے وہ گویا نیکی سے محروم سے کیا جاتا ہے۔ (مسلم)
تشریح
جامع صغیر کی روایت میں ہے کہ خیبر کے ساتھ کلہ کا لفظ بھی ہے لہذا حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص نرمی و مہربانی کی خوبیوں سے عاری ہوتا ہے وہ تمام بھلائیوں سے محروم قرار پاتا ہے گویا اس ارشاد گرامی کا مقصد نرمی و مہربانی کے وصف کی فضیلت بیان کرنا اس عظیم وصف کو حاصل کرنے کی ترغیب دلانا اور سختی کی مذمت کرنا اور یہ بات واضح کرنا ہے کہ نرمی و مہربانی تمام بھلائیوں کے حاصل ہونے کا سبب ذریعہ ہے۔
وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على رجل من الأنصار وهو يعظ أخاه في الحياء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم دعه فإن الحياء من الإيمان . متفق عليه
اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ایک انصاری صحابی کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیاء کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اس کو کچھ مت کہو کیونکہ حیاء ایک شاخ ہے ایمان کی۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
وہ صحابی اپنے بھائی کو زیادہ حیاء کرنے سے منع کر رہے تھے کہ جو شخص زیادہ حیاء کرنے لگتا ہے وہ رزق علم حاصل کرنے سے باز رہتا ہے چناچہ جب نبی کریم ﷺ نے ان کو اس طرح کہتے ہوئے سنا تو ان کو منع کیا کہ تم اپنے اس بھائی کو حیاء کرنے سے نہ روکو کیونکہ حیاء بذات خود بہت اعلی وصف ہے اور ایمان کی ایک شاخ ہے۔ طیبی نے لفظ یعظ سے مراد ینذر ہے یعنی وہ صحابی اپنے بھائی کو ڈرا دھمکا رہے تھے امام راعب نے لکھا ہے کہ وعظ کے معنی ہیں کسی کو اس طرح تنبیہ کرنا کہ اس میں کچھ ڈر بھی ہو۔ خلیل نے یہ بیان کیا ہے کہ وعظ کہتے ہیں کہ خیر بھلائی کی اس طرح نصیحت کرنا کہ اس کے اس سے دل نرم ہوجائے لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہاں وعظ عتاب کے معی میں ہے جیسا کہ ایک روایت میں یعظ کے بجائے یعاتب کا لفظ منقول ہے۔
وعن عمران بن حصين قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الحياء لا يأتي إلا بخير . وفي رواية الحياء خير كله متفق عليه
اور حضرت عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حیاء نیکی اور بھلائی کے سوا کوئی بات پیدا نہیں کرتا ایک اور روایت میں یہ ہے کہ حیاء کی تمام صورتیں بہتر ہیں۔
تشریح
یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ بسا اوقات حیاء بعض حقوق کی ادائیگی جیسے امربالمعروف میں مخل ہوتی ہے تو اس اعتبار سے حیاء کی تمام صورتیں کو بہتر قرار دینا کیسے درست ہوسکتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ جو حیاء اظہار حقیقت اور حق کی ادائیگی سے باز رکھے اس کو حیاء کہا جاتا ہی نہیں ہے بلکہ اس کو عجز اور بزدلی کہیں گے جو ایک طرح کی خرابی اور نقصان ہے اور اگر اس کو حیاء کہا بھی جائے تو زیادہ سے زیادہ مجازا کہا جاسکتا ہے کیونکہ شریعت کی نظر میں حقیقی حیاء وہی ہے کہ جو برائی کو ترک کرنے کا باعث بنے علاوہ ازیں یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ حیاء کے زیادہ صحیح معنی نفس کا برائی سے رک جانا خواہ وہ برائی طبعی ہو یا شرعی۔ اور شریعت میں جس حیاء کو بہتر اور قابل تعریف کہا گیا ہے اس کی صحیح پہچان یہ ہے کہ نفس اس چیز کو اختیار کرنے سے باز رہے جس کو شریعت نے برائی قرار دیا ہے خواہ وہ حرام ہو یا مکروہ یا ترک اولی لہذا مذکورہ بالا اشکال کا زیادہ واضح جواب یہ ہے کہ یہ کلیہ حیاء خیر کلہ، حیاء کی ان صورتوں کے ساتھ خاص ہے جو حق تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے مطابق ہوں۔
ایک بہت پرانی بات جو پچھلے انبیاء سے منقول چلی آ رہی ہے۔
وعن ابن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن مما أدرك الناس من كلام النبوة الأولى إذا لم تستحي فاصنع ما شئت رواه البخاري
اور حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں نے پہلے انبیاء پر اترنے والے کلام میں سے جو بات پائی ہے وہ یہ کہ جب تو بےشرم ہوجائے تو جو جی چاہے کرے۔ (بخاری)
تشریح
ان مما ادرک الناس۔ کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بات پہلے انبیاء پر اترنے والے کلام سے ماخوذ ہے اور جس کا حکم ابھی تک باقی ہے نہ اس کو منسوخ قرار دیا گیا ہے اور نہ اس میں کوئی تغیر و تبدل ہوا ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ جملہ میں جو امر کا صیغہ استعمال ہوا ہے یعنی جو جی چاہے کر اس سے حکم دینا طلب مراد نہیں ہے بلکہ یہ امر بطور خبر کے ہے جس کا مطلب ہے کہ جو چیز بری باتوں سے باز رکھتی ہے وہ حیاء ہے اور جب حیاء نہ رہے اور آدمی بےحیائی کا شیوہ اپنا لے تو پھر وہ جو چاہے کرے گا اور اس سے کسی گناہ اور کسی برائی کو اختیار کرنے میں کوئی باک نہیں ہوگا یا یہ کہ امر کا صیغہ بطور تہدید و توبیخ کے ہے اور اس سے مقصد یہ آگاہی دینا ہے کہ جب تم نے بےحیائی کی کمر باندھ لی تو جی چاہے کرو۔ لیکن یاد رکھو کہ وہ وقت بہت جلد آنے والا ہے کہ جب تمہیں اپنے سارے کرتوتوں کی سزا بھگتنی پڑے گی گویا یہ جملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ آیت (اعملو ماشئتم)
وعن النواس بن سمعان قال سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البر والإثم فقال البر حسن الخلق والإثم ما حاك في صدرك وكرهت أن يطلع عليه الناس . رواه مسلم
اور حضرت نو اس بن سمعان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ نیکی خوش خلقی کا نام ہے اور گناہ وہ کام ہے جو تمہارے دل میں تردد پیدا کرے اور تم اس بات کو پسند نہ کرو لوگ تمہارے اس کام سے واقف ہوجائیں۔ (مسلم)
تشریح
تردد پیدا کرے کا مطلب یہ ہے کہ جب تم ایسا کام کرو جس پر تمہارے دل کو اطمینان نہ ہو بلکہ اس کی وجہ سے دل و دماغ میں ایک خلش پیدا ہوجائے تو سمجھو کہ تمہارا وہ کام بہتر نہیں ہے بلکہ گناہ کا باعث ہے لیکن واضح رہے کہ اس بات کا تعلق اس شخص سے ہے جس کے سینے کو اللہ نے اسلام کی دولت کے لئے کھول دیا ہے اور اس کا دل نور تقوی سے روش ہو علاوہ ازیں کام سے مراد وہ اعمال نہیں ہیں جن کی برائی کو شریعت نے واضح کردیا ہے اور جس کا گناہ ہونا کسی شک و شبہ سے بالاتر ہو بلکہ اس سے مراد کوئی ایسا فعل ہے جامم نوع ہونا شارع سے واضح طور پر منقول نہ ہو۔ اور اس کے متعلق علماء کے اختلافی اقوال ہوں اور تم اس بات کو پسند نہ کرو یہ گویا گناہ کی دوسری پہچان بیان فرمائی لیکن اس کا تعلق بھی انہی لوگوں سے ہے جو اچھے احوال کے ہوں۔
وعن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن من أحبكم إلي أحسنكم أخلاقا . رواه البخاري
اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے وہ شخص مجھ کو بہت پیارا ہے جو اچھے اخلاق کا حامل ہو۔ (بخاری)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ تم میں سے وہ شخص میرے نزدیک بہت محبوب ہے جو اچھے طور و عادات رکھتا ہو اور بہترین خصلتوں کا حامل ہو بایں طور کہ اللہ کے حقوق بھی ادا کرتا ہو اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی تقصیر و کوتاہی نہ کرتا ہو۔
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن من خياركم أحسنكم أخلاقا
اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔
عن عائشة رضي الله عنها قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم من أعطي حظه من الرفق أعطي حظه من خير الدنيا والآخرة ومن حرم حظه من الرفق حرم حظه من خير الدنيا والآخرة . رواه في شرح السنة
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کو نرمی میں سے حصہ دیا گیا اس کو گویا دنیا و آخرت کی بھلائیوں میں سے حصہ دیا گیا جو شخص نرمی میں سے اپنے حصے سے محروم رہا وہ گویا دنیا و آخرت کی بھلائیوں میں سے اپنے حصہ سے محروم رہا۔ (شرح السنہ۔
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الحياء من الإيمان والإيمان في الجنة . والبذاء من الجفاء والجفاء في النار . رواه أحمد والترمذي
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حیاء یعنی برے کاموں سے حجاب رکھنا ایمان کا جز ہے اور ایمان یعنی مومن جنت میں جائے گا اور بےحیائی بدی کا جز ہے اور بد دوزخ کی آگ میں جائے گا۔ (احمد، ترمذی)
خوش خلقی بہترین عطیہ خداوندی ہے
وعن رجل من مزينة قال قالوا يا رسول الله ما خير ما أعطي الإنسان ؟ قال الخلق الحسن رواه البيهقي في شعب الإيمان وفي شرح السنة عن أسامة بن شريك
اور قبیلہ مزنیہ کے ایک شخص نے بیان کیا کہ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ جو چیزیں انسان کو عطا کی گئی ہیں ان میں سے بہترین چیز کیا ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا خوش خلقی اس روایت کو بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے اور شرح السنہ میں یہ روایت اسامہ بن شریک سے منقول ہے۔
بدخلقی اور سخت کلامی کی مذمت
وعن حارثة بن وهب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يدخل الجنة الجواظ ولا الجعظري قال والجواظ الغليظ الفظ رواه أبو داود في سننه . والبيهقي في شعب الإيمان وصاحب جامع الأصول فيه عن حارثة . وكذا في شرح السنة عنه ولفظه قال لا يدخل الجنة الجواظ الجعظري . يقال الجعظري الفظ الغليظ وفي نسخ المصابيح عن عكرمة بن وهب ولفظه قال والجواظ الذي جمع ومنع . والجعظري الغليظ الفظ
اور حضرت حارثہ بن وہب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں نہ تو سخت کلام داخل ہوگا اور نہ بدخلق راوی کہتے ہیں کہ جو اظ کے معنی ہیں سخت کلام اور بدخلق۔ اس روایت کو ابوداؤد نے اپنی سنن میں اور بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے نیز صاحب جامع الاصول نے بھی جامع الاصول میں اس روایت کو حارثہ ہی سے نقل کیا ہے اور اسی طرح یہ روایت شرح السنہ میں حضرت حارثہ ؓ ہی سے ان الفاظ کے ساتھ نقل کی گئی ہے کہ جنت میں جو اظ جعظری داخل نہیں ہوں گے۔ گویا ان الفاظ میں جعظری کو جو اظ کی صفت قرار دیا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ جعظری کے معنی ہیں بدخلق اور سخت کلام اور مصابیح کے بعض نسخوں میں یہ روایت حضرت عکرمہ بن وہب ؓ سے منقول ہے ان میں یوں بیان کیا گیا ہے راوی نے کہا ہے کہ جو اظ اس شخص کو کہتے ہیں جو مال و دولت جمع کرے لیکن سائل کو کچھ نہ دے۔ اور جعظری اس شخص کو کہتے ہیں جو سخت کلام اور بدخلق ہو۔
تشریح
جیسا کہ اوپر کی عبارتوں سے واضح ہوا کہ بعض روایتوں سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو اظ اور جعظری دونوں ایک معنی ہیں اور بعض روایتوں سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ جو اظ کے معنی متکبر کے ہیں اور جعظری کے معنی بدخلق لیکن ان سب روایتوں کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ یہ دونوں الفاظ معنی و مفہوم کے اعتبار سے ایک دوسرے کے قریب ہیں اور دونوں کے درمیان زیادہ تفاوت نہیں ہے۔ اور ملا علی قاری کہتے ہیں کہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ جو اظ اور جعظری سے مراد وہ شخص ہے جو سخت دل اور بدخلق ہو یعنی جس کے باطنی احوال کی گمراہیوں اور عادات و اطور کی خرابیوں نے اس کو شقی القلب بنادیا ہے کہ نہ اس پر کسی وعظ کا اثر ہوتا ہو اور نہ اس کو اللہ کا خوف برائیوں سے روکتا ہو اسی لئے نبی کریم ﷺ نے ایسے شخص کے بارے میں فرمایا کہ وہ جنت میں داخل نہ ہوگا اس کا قرینہ وہ روایت ہے جس کو خطیب نے حضرت عائشہ ؓ سے بطریق مرفوع نقل کیا ہے کہ حضور نے فرمایا کہ ہر چیز کے لئے توبہ ہے مگر بدخلق کے حق میں توبہ گا رگر نہیں ہے کیونکہ وہ ایک تو گناہ سے توبہ کرتا ہے تو اس سے بڑے دوسرے گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ (اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی بدچلنی اور بداطواری اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ لایدخل الجنۃ الجواظ ولاالجعظری میں لفظ جعظری سے پہلے لا زائد لانا اس بات کی طرف اشارہ ہے یہ جو شخص ان دونوں بری خصلتوں میں سے کسی بھی ایک خصلت میں مبتلا ہوگا اس کو جنت میں داخل نہیں کیا جائے گا اگر وہ شخص منافقین میں سے ہے تو اس کا جنت میں داخل نہ کیا جانا مطلق معنی پر محمول ہوگا اور اگر اس کا تعلق مومنین سے ہو تو پھر کہا جائے گا کہ اس کے حق میں ان الفاظ کہ وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا کا مطلب یہ ہے کہ وہ نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ ابتداء جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
خوش خلقی کی فضیلت اور فحش گوئی کی مذمت
وعن أبي الدرداء عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إن أثقل شيء يوضع في ميزان المؤمن يوم القيامة خلق حسن وإن الله يبغض الفاحش البذيء . رواه الترمذي وقال حديث حسن صحيح . وروى أبو داود الفصل الأول
اور حضرت ابودرداء نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن مومن کی میزان اعمال میں رکھی جانے والی چیزوں میں بہت سی وزنی چیز حسن خلق ہے اور اللہ تعالیٰ فحش بکنے والے بےہودہ گو سے سخت نفرت کرتے ہیں اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے نیز ابوداؤد نے بھی اس روایت کا حصہ یعنی خلق حسن نقل کیا ہے۔
تشریح
حضرت شیخ عبدالحق نے لفظ بذی کا ترجمہ بےہودہ گو لیا لیکن ملا علی قاری نے کسی شارح سے اس لفظ کے معنی بدخلق نقل کئے ہیں اور لکھا ہے کہ یہی معنی موقع کے مناسب ہیں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ حدیث میں پہلے جملے کے مقابلہ پر جو دوسرا جملہ لایا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن میزان اعمال میں بدخلقی بہت بےوزن چیز ہوگی۔
خوش خلقی اختیار کرنے والے کا مرتبہ
وعن عائشة رضي الله عنها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن المؤمن ليدرك بحسن خلقه درجة قائم الليل وصائم النهار . رواه أبو داود
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مومن یعنی کامل مومن کہ جو عالم با عمل ہوتا ہے) خوش خلقی کے سبب وہ درجہ و مرتبہ حاصل کرتا ہے جو عبادت و ذکر الٰہی کے لئے شب بیداری کرنے والے اور ہمیشہ دن میں روزہ رکھنے والے کو ملتا ہے۔ (ابوداؤد)
تشریح
حضرت سہیل فرماتے ہیں کہ خوش خلقی کا سب سے کم تر درجہ یہ ہے کہ لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کو برداشت کیا جائے انتقام لینے سے گریز کیا جائے اور یہ کہ نہ صرف ظالم کے ظلم سے درگزر کیا جائے بلکہ اس کے حق میں مغفرت و بخشش کی دعا کی جائے اور اس کے تئیں رحم و شفقت کو اختیار کیا جائے۔
لوگوں سے جو معاملہ کرو خوش خلقی کے ساتھ کرو
وعن أبي ذر قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم اتق الله حيثما كنت وأتبع السيئة الحسنة تمحها وخالق الناس بخلق حسن . رواه أحمد والترمذي والدارمي
اور حضرت ابودرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا اللہ سے ڈرو تم جہاں کہیں بھی ہو اگر تم سے کوئی برائی سرزد ہوجائے تو اس کے بعد نیک کام ضرور کرو تاکہ اس برائی کو مٹا دے اور لوگوں سے خوش خلقی کے ساتھ معاملہ کرو۔ (احمد، ترمذی، دارمی)
تشریح
اللہ سے ڈرو، کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جن امور کو تم پر واجب کیا ہے ان سب کی بجا آوری و فرمانبرداری کرو اور جن چیزوں سے منع کیا ہے یعنی تمام طرح برائیاں ان سے اجتناب و پرہیز کرو۔ کہ اسی کو تقوی کہا گیا ہے اور تقوی دین کی بنیاد ہے جس کے ذریعہ ایقان و معرفت کے مراتب درجات حاصل ہوتے ہیں تقوی کا سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ شرک سے بےزاری و پاکی اختیار کی جائے اور اس کا سب سے اعلی درجہ یہ ہے کہ ماسوا اللہ سے اعراض کیا جائے ان دونوں درجوں کے درمیان تقوی کے دوسرے مراتب ہیں جن میں سے بعض کو بعض پر ترجیح حاصل ہے جیسے ممنوعات کو ترک کرنا ایک مرتبہ ہے اس سے برتر مرتبہ یہ ہے کہ مکروہات کو بھی ترک کیا جائے اور اس سے بھی برتر مرتبہ یہ ہے کہ جو چیزیں مباح ہیں ان میں سے بھی ان چیزوں کو ترک کیا جائے جو غیرضروری اور بےفائدہ ہوں۔ تم جہاں کہیں ہوں کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا اللہ سے ڈرنا یعنی احکام الٰہی پر عمل کرنا کسی خاص وقت کسی خاص جگہ اور کسی خاص حالت پر موقوف نہیں ہونا چاہیے بلکہ تم خواہ سفر میں ہو یا حضر میں خواہ نعمتوں سے بہرمندی کی حالت میں ہوں یا آفات بلاؤں میں مبتلا ہوں اور خواہ جلت میں ہوں یا خلوت میں غرض تم کسی جگہ پر اور کسی حالت میں ہو اور اس وقت اس جگہ اور اس حالت سے متعلق جو بھی احکام الٰہی ہوں ان پر عمل پیرا ہوں کیونکہ اللہ کے نزدیک تمہاری کوئی حالت پوشیدہ نہیں ہے اور وہ کسی بھی وقت تمہاری طرف سے غافل نہیں رہتا وہ جس طرح تمہاری ظاہری باتوں کو جانتا ہے اسی طرح تمہاری پوشیدہ باتیں بھی خوب جانتا ہے لہذا تمہارے لئے ضروری ہے اس کے احکام کی بجا آوری اور اس کی معصیت سے اجتناب کے جو تقاضے اور جو آداب ہیں ان کو بہر صورت نگاہ میں رکھو۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت داؤد طائی کسی قبر کے پاس سے گزر رہے تھے کہ اللہ نے ان پر اس قبر کے اندر کے حالات منکشف کئے بایں طور کہ انہوں نے سنا قبر کے اندر سے ایک آواز باہر آرہی ہے جس میں مردہ کہہ رہا ہے کہ پروردگار کیا میں نے تیری نمازیں ادا نہیں کی ہیں کیا میں نے تیری زکوٰۃ ادا نہیں کی ہے اور کیا میں نے یہ نہیں کیا ہے وہ نہیں کیا ہے؟ یعنی اس نے دنیا میں جتنے بھی نیک کام کئے تھے ان سب کو گنواتا رہا اس کی یہ بات سن کر فرشتوں نے جواب دیا کہ اے دشمن اللہ بیشک تو نے یہ سب کام کئے لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جب تو خلوت میں ہوتا تھا اور اس وقت اللہ کے خوف پر گناہوں کو ترجیح دیتا تھا اور تجھے اس بات کا کوئی لحاظ نہیں ہوتا تھا کہ اس حالت میں بھی تو اللہ کی نگاہ میں ہے۔ اگر تم سے برائی سرزد ہوجائے کا مطلب یہ ہے کہ انسان بہر حال انسان ہے یہ ضروری ہے کہ اس سے کبھی کوئی گناہ سرزد نہ ہو اور لغزشیں اس کے پائے استقامت پر اثر انداز نہ ہوں، لہذا اگر……بشریت تم سے کوئی گناہ صادر ہوجائے تو اس کے بعد فورا نیک کام کرلو تاکہ وہ نیکی اس گناہ برائی کے اثرات کو مٹا دے۔ رہی یہ بات کہ نیک کام سے کیا مراد ہے؟ تو اس سے توبہ اور مطلق کوئی بھی مراد ہے یا یہ نیکی مراد ہے جو گناہ و برائی کی ضد ہو چناچہ طیبی نے کہا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ نیک کام کرنے کے ذریعہ برائیوں کے اثرات مٹانے سے کسی بھی لمحہ غافل نہ رہے اس سے جو بھی برائی صادر ہو اس کے بدلہ میں اسی کی جنس سے کوئی نیک کام ضرور کرلے، اگر شراب نوشی کا گناہ سرزد ہوجائے تو اس کے بدلے میں جو حلال چیزیں اللہ کے واسطے لوگوں کو پلائے اگر کسی وقت تکبر میں مبتلا ہوجائے تو تواضع اختیار کرے اگر کسی جگہ گانا بجانا سننے کا اتفاق ہوجائے تو ان لوگوں کی ہم نشینی میں کچھ وقت گزارنا پڑا ہو جو گانے بجانے کی لغویت میں مبتلا ہوں تو اس کے بدلے میں قرآن پاک کی تلاوت سنے اور ذکر و نصیحت کی مجلس میں بیٹھے اور اسی طرح بخل کا تدارک، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ کرے۔ جو یہ فرمایا گیا ہے کہ تاکہ وہ نیکی اس برائی کو مٹا دے تو مٹانے سے مراد یہ ہے کہ اللہ اس نیکی کے ذریعہ یا تو اس بندے کے دل پر سے برائی کے اثرات مٹا دیتا ہے یا اعمال لکھنے والے فرشتے کے رجسٹر میں سے اس برائی کو محو کردیتا ہے اور یہ مٹانا بھی اس صورت میں ہوتا ہے کہ جب کہ اس برائی کا تعلق کسی حقوق العباد سے ہوتا ہے بایں طور کہ کوئی شخص کسی کے حق کو تلف کرتا ہے یا کسی پر ظلم کرتا ہے تو اس حق تلفی یا ظلم کا تدارک اس طرح کیا جاتا ہے کہ حق تلفی کرنے والے یا ظلم کرنے والے کے نامہ اعمال میں جو نیکیاں ہوتی ہیں ان میں سے اس کے بقدر نیکیاں صاحب حق کو دیدی جاتی ہیں یہ اور بات ہے کہ اللہ اپنے فضل و کرم سے دوسرے اجر و انعامات کے ذریعہ صاحب حق کو خوش کر دے اور وہ اس شخص کو معاف کرنے پر راضی ہوجائے۔ منقول ہے کہ ایک بزرگ کا اتنقال ہوگیا کچھ عرصہ کے بعد ایک دوسرے بزرگ نے خواب دیکھا کہ تو پوچھا کہ اللہ نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ نے مجھ کو احسان و انعام سے نوازا اور میری بخشش فرما دی لیکن حساب کتاب ضرور ہوا یہاں تک کہ اس دن کے بارے میں بھی مجھ سے مواخذہ ہوا جب کہ میں روزے سے تھا اور ایک دوست کی دکان پر بیٹھا ہوا تھا جب افطار کا وقت ہوا تو میں نے گہیوں کی ایک بوری میں سے گہیوں کا ایک دانہ اٹھا لیا اور اس کو توڑ کر کھانا ہی چاہتا تھا کہ مجھے احساس ہوا کہ یہ گہیوں میرا نہیں ہے چناچہ میں نے وہ گہیوں فورا اسی جگہ ڈال دیا جہاں سے اٹھایا تھا اور اب اس کا بھی حساب لیا گیا یہاں تک کہ اس گہیوں کے توڑے جانے کے نقصان کے بقدر میری نیکیاں مجھ سے لی گئی ہیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ نیکیاں صغیرہ گناہوں کا بھی کفارہ ہوتی ہیں اور کبائر میں بھی ان گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہیں جو پوشیدہ ہوں کیونکہ حق تعالیٰ کا یہ ارشاد آیت (لنکفرن عنکم سیاتکم) بھی عموم پر دلالت کرتا ہے اور مذکورہ بالا حدیث بھی مطلق اور عام ہے البتہ جو کبیرہ گناہ ظاہر ہوگئے ہیں اور حاکم قاضی کے نزدیک ثابت ہوجائیں ان پر حد یعنی شرعی سزا کا نفاذ ساقط نہیں ہوگا۔ اور نہ وہ توبہ سے معاف ہوں گے۔
نرم مزاج اور نرم خو شخص کی فضیلت
وعن عبد الله بن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ألا أخبركم بمن يحرم على النار وبمن تحرم النار عليه ؟ على كل هين لين قريب سهل . رواه أحمد والترمذي وقال هذا حديث حسن غريب
اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں بتاؤں کہ وہ شخص کون ہے جو آگ پر حرام ہوگا جس پر آگ حرام ہوگی، تو سنو دوزخ کی آگ ہر اس شخص پر حرام ہوگی جو نرم مزاج، نرم طبعیت، لوگوں سے نزدیک اور نرم خو ہو، اس روایت کو احمد، ترمذی نے نقل کیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح
سوال۔ کیا میں بتاؤں الخ میں از راہ مبالغہ و تاکید دونوں صورتیں یعنی اس شخص کا آگ پر حرام ہونا اور آگ کا اس شخص پر حرام ہونا ذکر فرمائیں اور چونکہ دونوں عبارتوں کا حاصل ایک ہی ہے یعنی اس شخص کا دوزخ کی آگ سے محفوظ رہنا اس لئے جواب میں دوسری ہی صورت کے بیان پر اکتفاء کیا اور ویسے بھی یہ بات عام بول چال کے زیادہ قریب ہے کیونکہ عام طور پر اس طرح کہا جاتا ہے کہ دوزخ کی آگ فلاں شخص پر حرام ہے۔
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال المؤمن غر كريم والفاجر خب لئيم . رواه أحمد والترمذي وأبو داود
اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا نیکوکار مومن بڑا بھولا اور شریف ہوتا ہے جب کہ بدکار بڑا مکار و بخیل و کمینہ ہوتا ہے۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد)۔
تشریح
غر کے معنی ہیں دھوکہ کھانے والا شخص اسی طرح صراحی وغیرہ میں غر کے معنی ناآزمودہ یا ناتجربہ کار نوجوان کے لکھے ہیں خب کے معنی ہیں وہ شخص جو دھوکہ دینے والا اور چالاک ہو۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نیکو کار شخص چونکہ طبعا مطیع و فرمانبردار ہونے کی وجہ سے نرم مزاج، شریف النفس اور سادہ لوح ہوتا ہے اس لئے وہ ہر فریب کار شخص سے دھوکہ کھا جاتا ہے وہ نہ تو لوگوں کے مکر و فریب سے آگاہ ہوتا ہے اور نہ مکر و فریب کی باتوں اور چالوں کی چھان بین اور دھوکہ بازوں کے احوال کی تحقیق و جستجو کرتا ہے اور اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ وہ جاہل و نادان ہوتا ہے بلکہ اس کی سب سے بڑی وجہ اس کے مزاج کی نرمی و مروت حلم و کرم، عفو، درگزر کرنے کی عادت اور خوش خلقی ہوتا ہے۔ بعض حضرات نے حدیث کا مطلب اس اسلوب میں بیان کیا ہے کہ نیکوکار شخص چونکہ سلیم القلب اور سادہ لوح ہوتا ہے اس لئے وہ لوگوں کے بارے میں ہمیشہ نیک گمان رکھتا ہے کسی کے اندر کیا ہے اس کو وہ نہیں دیکھتا جس کے سینے میں کینہ ہوتا ہے اس کو وہ پہچانتا نہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو شخص اس کے سامنے جو کچھ کہہ دیتا ہے اس کو مان لیتا ہے اور دھوکہ کھا جاتا ہے ایک بات یہ بھی ہوتی ہے کہ اس کے سامنے آخرت کے معاملات اور نفس کی اصلاح کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے اور دنیا کے معاملات اس کی نظر میں زیادہ اہمیت نہیں رکھتے لہذا وہ اپنے نفس کی اصلاح اور آخرت کے کاموں میں مشغول رہتا ہے اور دنیا کے کاموں پر زیادہ توجہ نہیں دیتا اس لئے اگرچہ وہ دنیاوی معاملات میں دھوکہ کھا جاتا ہے مگر آخرت کے معاملات میں ہوشیار اور عقل میں کام ہوتا ہے نیکو کار مومن کی اس حالت کو اگرچہ تعریف کے طور پر بیان فرمایا گیا ہے مگر اس کے باوجود حضور نے اپنے اس ارشاد لایلدغ المومن من جحر واحد مرتین کے ذریعہ آگاہ بھی فرمایا ہے کہ مومن کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ غفلت اختیار کرے مسلسل دھوکہ کھاتا رہے اور ہوشیاری کے طریقہ کو بالکل ترک کر دے اور بات پہلے بھی بتائی جا چکی ہے کہ لایلدغ المومن۔۔ کے ذریعہ مومن کو جس ہوشیاری و بیداری مغزی کی تلقین کی گئی ہے اس کا تعلق دنیا و آخرت دونوں معاملات سے ہے اگرچہ بعض حضرات نے اس کو صرف اخروی معاملات کے ساتھ مخصوص کیا ہے۔ نیکوکار کے برخلاف فاجر یعنی منافق وغیرہ کی خصلت یہ بیان فرمائی گئی ہے چونکہ دھوکہ دہی اور مکاری اس کی فطرت ہی میں داخل ہوتی ہے، فتنہ و فساد پھلانا ہی اس کا شیوہ ہوتا ہے اور اس کے نزدیک چشم پوشی ایک بےمعنی چیز ہوتی ہے اس لئے وہ جلد دھوکا نہیں کھاتا الاّ یہ کہ کوئی شخص اس سے بھی بڑا مکار و عیار ہو اور وہ اس کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوجائے تاہم اگر وہ دانستہ دھوکا کھا بھی جاتا ہے تو اس کو برداشت نہیں کرتا بلکہ انتقام لینے کی سعی کرتا ہے۔
وعن مكحول قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم المؤمنون هينون لينون كالجمل الآنف إن قيد انقاد وإن أنيخ على صخرة استناخ . رواه الترمذي مرسلا
اور حضرت مکحول کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایمان رکھنے والے لوگ بردبار، نرم خو اور فرمانبردار ہوتے ہیں اس اونٹ کی طرح جس کی ناک میں نکیل میں پڑی ہو کہ اگر اس کو کھینچا جائے تو چلا آئے اور اگر پتھر پر بیٹھایا جائے تو پتھر پر بیٹھ جائے اس حدیث کو ترمذی نے بطریق ارسال نقل کیا ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مومن طبعا فرمان بردار ہوتا ہے وہ شریعت کا اتباع بلا چوں و چرا کرتا ہے، اللہ اور اللہ کے رسول کے احکامات جس طرح ہوتے ہیں ان کو اسی طرح بجا لاتا ہے ان میں اپنی طرف سے کوئی دخل اندازی نہیں کرتا اور ان احکام کی بجا آوری اور شریعت کی اتباع میں جو مشقت پیش آتی ہے اس کو برضا ورغبت برداشت کرتا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس حدیث میں مسلمانوں کی اس خصوصیت کو بیان کرنا مقصود ہو جو وہ آپس میں ایک دوسرے کی اتباع و فرمانبرداری اور ایک دوسرے کے ساتھ تواضع و انکساری اختیار کرنے اور غرور تکبر کرنے کی صورت میں رکھتے ہیں اور حقیقت میں یہ خصوصیت بھی احکام الٰہی کی اطاعت میں شامل ہے۔
لوگوں کے ساتھ رابطہ واختلاط عزلت وگوشہ نشینی سے افضل ہے۔
وعن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال المسلم الذي يخالط الناس ويصبر على أذاهم أفضل من الذي لا يخالطهم ولا يصبر على أذاهم . رواه الترمذي وابن ماجه
اور حضرت ابن عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو مسلمان لوگوں کے ساتھ ربط و اختلاط رکھے اور ان کی اذیتوں پر صبر کرے وہ افضل ہے اس شخص سے جو لوگوں سے ربط و اختلاط نہ رکھے اور ان کی اذیتوں پر صبر نہ کرے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لوگوں کے ساتھ ربط و اختلاط اور میل جول رکھنا عزلت و تنہائی اور گوشہ نشینی اختیار کرنے سے افضل ہے چناچہ اکثر تابعین اس پر عامل تھے اور یہ چیز امر بالمعروف و نہی عن المنکر، خیر و بھلائی کے پھیلانے، باہمی امداد و تعاون اور دین و اسلام کی استعانت کے اعتبار سے بھی زیادہ کامل اور زیادہ افضل ہے، رہی یہ بات کہ عزلت و گوشہ نشینی کے بارے میں بھی احادیث منقول ہیں جس سے عزلت و گوشہ نشینی کا افضل و بہتر ہونا ثابت ہوتا ہے تو اس سلسلے میں اس حقیقت کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس اختلاف کا تعلق زمان و مکان اور لوگوں کے احوال کے اختلاف سے ہے یعنی بعض موقعہ و مقام اور بعض لوگوں کے حالات کا تقاضا یہ ہوتا کہ ان کے ساتھ ربط و اختلاط رکھا جائے چناچہ ایسی صورت میں لوگوں سے ملنا جلنا عزلت و گوشہ نشینی اور لوگوں سے الگ تھلگ رہنا ہی افضل و بہتر ہوتا ہے، تاہم اس بارے میں جس درمیانی راہ کو اختیار کرنے کی ہدایت ہے وہ یہ ہے کہ ذہنی طور پر ضروری اور ناگزیر حالات کے علاوہ باقی اوقات میں عوام الناس سے الگ تھلگ رہا جائے اور جمعہ ان کے ساتھ اکٹھا ہونے پر اکتفا کیا جائے البتہ خواص یعنی صالحین وغیرہ کے ساتھ برابر ربط و اختلاط رکھا جائے اور ان سے عزلت و گوشہ نشینی اختیار نہ کی جائے لیکن عوام الناس سے عزلت و گوشہ نشینی اختیار کرنا اس صورت میں سود مند ہوگا جبکہ باعث عمل حاصل کیا جا چکا ہو اور زہد و توکل کا وہ درجہ نصیب ہوگیا ہو جہاں پہنچ کر انسان مخلوق سے بالکل بےنیاز ہوجاتا ہے اور کسی طرح کی طمع و خواہش نہیں رکھتا اسی لئے بعض عارفین نے کہا کہ عزلت و گوشہ نشینی بغیر علم کے ذلت و رسوائی ہے اور بغیر زہد و قناعت کے علت و خرابی ہے چناچہ کامل صوفیاء جیسے نقشبندیہ، شاذلیہ اس طریقہ پر عامل تھے کہ وہ لوگوں سے الگ تھلگ بھی رہتے تھے اور پھر ان سے ربط و اختلاط بھی رکھتے تھے۔