غصہ پر قابو پانے کی فضیلت
وعن سهل بن معاذ عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال من كظم غيظا وهو يقدر على أن ينفذه دعاه الله على رؤوس الخلائق يوم القيامة حتى يخيره في أي الحور شاء . رواه الترمذي وأبو داود وقال الترمذي هذا حديث غريب وفي رواية لأبي داود عن سويد بن وهب عن رجل من أبناء أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم عن أبيه قال ملأ الله قلبه أمنا وإيمانا . وذكر حديث سويد من ترك لبس ثوب جما ل في كتاب اللباس
اور حضرت سہل بن معاذ اپنے والد (حضرت معاذ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے غصہ کو پی جائے باوجودیکہ وہ اس غصہ پر عمل کرنے کی قدرت رکھتا ہو تو قیامت کے دن اللہ اس کو مخلوق کے روبرو بلائے گا اور اس کو یہ اختیار دے گا کہ وہ جس حور کو چاہے پسند کرلے، اس روایت کو ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور ابوداؤد کی ایک اور روایت میں کہ جو انہوں نے سوید بن وہب سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کے کسی صحابی کے ایک صاحبزادے سے نقل کی ہے یہ الفاظ ہیں کہ حضور نے (تو قیامت کے دن اللہ اس کو مخلوق کے روبرو بلائے گا الخ۔ ) کے بجائے اس طرح فرمایا کہ اللہ اس شخص کے دل کو امن وامان سے معمور کرے (جو اپنے غصہ کو پی جائے) اور حضرت سوید کی یہ روایت من ترک لبس ثوب جمال الخ۔۔ کتاب اللباس میں نقل کی جا چکی ہے۔
تشریح
اللہ اس کو مخلوق کے روبرو بلائے گا کا مطلب یہ کہ حق تعالیٰ قیامت کے دن ساری مخلوق کے درمیان اس شخص کو نیک شہرت دے گا، اس کی تعریف و توصیف کرے گا اور اس پر فخر کا اظہار کرے گا نیز اس کے بارے میں اعلان کیا جائے گا کہ یہ وہ شخص ہے جس کے اندر اتنی بڑی خوبی تھی۔ غصہ پر قابو پانے کی صفت کو اتنا اونچا مقام دینے کی وجہ یہ ہے کہ غصہ دراصل نفس امارہ کی ہیجانی کیفیت کا نام ہے اور جس نے اپنا غصہ پی لیا اس نے گویا اپنے نفس امارہ کو کچل ڈالا اسی لئے غصہ پر قابو پانے والوں کی تعریف حق تعالیٰ نے بھی ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ آیت (والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس) اور جو شخص اپنے نفس کو اس کی خواہش سے باز رکھتا ہے اس کا آخری ٹھکانہ جنت اور اس کا انعام حور عین ہے واضح رہے کہ جب اتنا عظیم اجر محض غصہ کو پی جانے پر حاصل ہوگا تو اس شخص کے مقام و مرتبہ کی بلندی کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے جو محض غصہ کو پی جانے پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس کے ساتھ عفو و احسان کا برتاؤ بھی کرے چناچہ امام ثوری فرماتے ہیں کہ اصل احسان یہی ہے کہ تم اس شخص پر احسان کرو جو تمہارے ساتھ برائی کرے کیونکہ جس شخص نے تم پر احسان کیا ہے اگر تم اس پر احسان کرتے ہو تو وہ تمہارا احسان نہیں بلکہ بدلہ چکانا ہے۔
عن زيد بن طلحة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن لكل دين خلقا وخلق الإسلام الحياء . رواه مالك مرسلا . ورواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان عن أنس وابن عباس
اور حضرت زید بن طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر دین اور مذہب میں ایک خلق ہے (یعنی ہر مذہب والوں میں ایک ایسی صفت و خصلت ہوتی ہے جو ان کی تمام صفتوں پر غالب اور ان کی ساری خصلتوں سے اعلی ہوتی ہے) اور اسلام کا وہ خلق حیاء ہے۔ اس روایت کو مالک نے بطریق ارسال نقل کیا ہے (کیونکہ زید صحابی نہیں ہیں بلکہ تابعی ہیں نیز ابن ماجہ اور شعب الایمان میں بیہقی نے اس روایت کو حضرت انس ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے۔
تشریح
یہاں حیاء سے اس چیز میں شرم و حیاء کرنا مراد ہے جس میں حیاء کرنا مشروع ہے چناچہ جن چیزوں میں شرم و حیاء کرنے کی اجازت نہیں ہے جیسے تعلیم و تدریس، امربالمعروف ونہی عن المنکر ادائیگی حق کا حکم دینا خود حق کو ادا کرنا اور گواہی دینا وغیرہ وغیرہ ان میں شرم و حیاء کرنے کی کوئی فضیلت نہیں ہے۔ حدیث کا زیادہ مفہوم بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر دین کے لوگوں پر کوئی نہ کوئی وصف و خصلت غالب رہتی ہے چناچہ اہل اسلام پر جس طبعی وصف و خصلت کو غالب قرار دیا گیا ہے وہ حیاء ہے اور باوجودیکہ حیاء بھی ان اوصاف و خصائل میں سے ہے جو تمام ادیان و مذاہب کے لوگوں میں مشترک طور پر پائی جاتی ہیں لیکن اسی وصف و حیاء کو خاص طور پر اہل اسلام پر غالب کیا گیا ہے اور دوسرے مذہب کے لوگوں میں اس جوہر کو بہت کم رکھا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حیاء نہ صرف یہ کہ طبعی خاصیتوں اور خصلتوں میں سب سے اعلی درجہ رکھتی ہے بلکہ یہ وہ جوہر ہے جس سے انسانی اخلاق و کردار کی تکمیل بھی ہوتی ہے اور چونکہ حضور نے فرمایا کہ بعثت لاتمم مکارم الاخلاق (میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے دنیا میں بھیجا گیا ہوں) اس لئے اس جوہر کے ذریعہ ملت اسلامیہ کے اخلاق اوصاف کو کمال کے درجہ پر پہنچایا گیا ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ صرف حیاء ہی میں منحصر نہیں ہے بلکہ ہم سے پہلے کی امتوں میں تمام ہی اخلاق و خصائل ناقص تھے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ دنیا میں تشریف لائے اور آپ کی برکت سے ملت اسلامیہ میں تمام اخلاق و خصائل کو کامل و مکمل کیا گیا اسی لئے ملت اسلامیہ کی اس خاصیت کو اللہ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ آیت (کنتم خیر امۃ اخرجت للناس) (تم کو دنیا والوں کے لئے سب سے بہتر امت بنا کر پیدا کیا گیا ہے الخ۔ )۔۔ ابن ماجہ اور بیہقی نے مذکورہ بالا روایت کو حضرت انس ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے بطریق موقوفہ نقل نہیں کیا ہے جیسا کہ عبارت سے ظاہر اسلوب سے یہ گمان ہوسکتا ہے بلکہ بطریق مرفوع نبی کریم ﷺ کے ارشاد گرامی کے طور پر نقل کیا ہے نیز مذکورہ عبارت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں یعنی ابن ماجہ اور بیہقی میں سے ہر ایک نے ان دونوں صحابی سے اس روایت کو نقل کیا ہے اور یہ بھی احتمال ہوسکتا ہے کہ مذکورہ عبارت میں ان دونوں کا ذکر علی الترتیب ہو یعنی ابن ماجہ نے اس روایت کو حضرت انس ؓ سے اور بہیقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے، لیکن جامع صغیر میں اس حدیث کو ابن ماجہ کے سلسلہ کے ساتھ براویت حضرت انس ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ نقل کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح بیہقی نے بھی اس روایت کو ان دونوں صحابی سے نقل کیا ہے۔
ایمان اور حیاء لازم ملزوم ہیں
وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال إن الحياء والإيمان قرناء جميعا فإذا رفع أحدهما رفع الآخر .وفي رواية ابن عباس فإذا سلب أحدهما تبعه الآخر . رواه البيهقي في شعب الإيمان
اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حیاء اور ایمان کو ایک دوسرے کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے لہذا جب کسی کو ان دونوں میں سے کسی ایک سے محروم کیا جاتا تو وہ دوسرے سے بھی محروم رکھا جاتا ہے یعنی جو شخص ایمان سے محروم رہتا ہے وہ حیاء سے محروم رکھا جاتا ہے اور جس میں حیاء نہیں ہوتی اس میں ایمان بھی نہیں ہوتا اور ایک دوسری روایت جو حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے یوں ہے کہ ان دونوں میں سے جب ایک کو دور کیا جاتا ہے تو دوسرا بھی جاتا رہتا ہے۔ (بہیقی)
تشریح
لفظ قرناء اصل میں قرین کی جمع ہے اس اعتبار سے یہ لفظ ان لوگوں کی دلیل ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اقل جمع کا اطلاق دو پر بھی ہوتا ہے ویسے بعض نسخوں میں یہ لفظ ماضی مجہول کے صیغہ تثنیہ کے ساتھ منقول ہے۔
وعن معاذ قال كان آخر ما وصاني به رسول الله صلى الله عليه وسلم حين وضعت رجلي في الغرز أن قال يا معاذ أحسن خلقك للناس . رواه مالك
اور حضرت معاذ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے جن باتوں کی نصیحت و وصیت فرمائی ان میں سب سے آخری وصیت جو آپ نے اس وقت فرمائی جب کہ میں نے (گھوڑے پر سوار ہونے کے لئے اپنا پاؤں رکھا تھا یہ تھی کہ معاذ لوگوں کی تربیت وتعلیم کے لئے خوش خلقی اختیار کرنا۔ (مالک)
تشریح
نبی کریم ﷺ نے اپنے زمانہ حیات میں حضرت معاذ ؓ کو یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تھا چناچہ جب حضرت معاذ ؓ اپنا منصب سنبھالنے کے لئے یمن روانہ ہونے لگے تو حضور نے ان کو بہت سی نصیحتیں فرمائیں گھوڑے پر سوار کرایا اور رخصت کرنے کے لئے خود پاپیادہ کچھ دور تک ان کے ساتھ گئے اس وقت نبی کریم ﷺ نے ان سے یہ الفاظ بھی فرمائے کہ معاذ، شاید تم پھر مجھے نہ دیکھ پاؤ چناچہ معاذ کو اس کے بعد سرکار رسالت پناہ کی زیارت نصیب نہیں ہوئی، وہ یمن ہی میں تھے کہ نبی کریم ﷺ نے اس دنیا سے پردہ فرما لیا، بہرحال حضرت معاذ ؓ نے مذکورہ بالا روایت میں نبی کریم ﷺ کی جس وصیت کا ذکر کیا ہے وہ اسی موقع پر ان کے لئے نبی کریم ﷺ کی آخری نصیحت تھی۔ سیوطی کہتے ہیں کہ یہاں لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خوش خلقی اور نرمی و مہربانی کے مستحق ہوں ورنہ جہاں تک اہل کفر و فسق اور ظالموں کا تعلق ہے وہ اس دائرہ سے خارج ہیں اور ان کے ساتھ سختی کا برتاؤ کرنے کا حکم ہے بلکہ سرکش لوگوں کے ساتھ اختیار کی جانے والی سختی درشتی کو ظاہر کرنا ہی حسن خلق میں داخل ہے کیونکہ نہ صرف ان کی تربیت و تہذیب اسی سختی و درشتی پر منحصر ہوتی ہے بلکہ ان کے ساتھ اختیار کئے جانے والے اس رویہ کے ساتھ دوسرے لوگوں کے حالات کی بہتری و سلامتی بھی وابستہ ہوتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ سیوطی کے نزدیک گویا حدیث میں حسن خوش خلقی سے مراد نرمی و مہربانی اور عفو درگزر کا رویہ اختیار کرنا۔
وعن مالك بلغه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال بعثت لأتمم حسن الأخلاق رواه الموطأ ورواه أحمد عن أبي هريرة
اور حضرت مالک سے منقول ہے کہ ان تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں یعنی اس دنیا میں میری بعثت کا ایک عظیم مقصد یہ ہے کہ انسانی اخلاق و اوصاف کو بیان کروں اور ان کو درجہ کمال تک پہنچا دوں۔ (موطا امام مالک اور احمد نے اس روایت کو حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے) اپنی بہترین صورت و سیرت پر نبی کریم ﷺ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے۔
وعن جعفر بن محمد عن أبيه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا نظر في المرآة قال الحمد لله الذي حسن خلقي وخلقي وزان مني ما شان من غيري . رواه البيهقي في شعب الإيمان مرسلا
اور حضرت جعفر بن محمد اپنے والد بزرگوار حضرت امام باقر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا، رسول اللہ جب آئینہ دیکھتے تو فرماتے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں وہ اللہ کہ جس نے مجھ کو بہترین تخلیق سے نوازا میرے اخلاق و کردار کو اچھا بنایا اور مجھ میں ان چیزوں کو آراستہ جو میرے عیب و نقصان کا باعث ہیں، اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں بطریق ارسال نقل کیا ہے۔
تشریح
حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح بعض آدمیوں کی جسمانی تخلیق میں کوئی عیب و نقصان ہوتا ہے کہ مثلا کوئی شخص ایک ہاتھ سے یا ایک آنکھ سے محروم ہوتا ہے یا کسی شخص کو کوئی ٹانگ ٹیڑھی ہوتی ہے یا کوئی اور عضو ناقص ہوتا ہے اس طرح اللہ نے مجھ میں کوئی جسمانی عیب نقصان نہیں رکھا بلکہ مجھ کو تمام عیوب سے محفوظ رکھا ملا علی قاری کی وضاحت سے یہ معلوم ہوتا ہے نقصان و عیب عام ہیں کہ اس کا تعلق خواہ جسمانی تخلیق و پیدائش سے ہو یا اخلاق و کردار سے، بہرحال یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ کسی بھی انسان کے مقابلہ میں نبی کریم ﷺ کی سیر و صورت بہت اعلی اور بہت خوب تھی اور جیسا کہ طیبی نے کہا ہے کہ مذکورہ بالا حدیث گویا نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد، بعثت لاتیمم۔۔۔۔۔ کی وضاحت بھی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا اپنے حسن و صورت و حسن سیرت پر اللہ کا شکر ادا کرنا اور اس کی حمد وثناء کرنا، حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے اس حمد و شکر کی طرح ہے جس کو قرآن میں اللہ نے یوں فرمایا آیت (ولقد اٰتینا داؤد)۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔۔ یعنی بلاشبہ ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم سے مالا مال کیا اور ان دونوں نے کہا کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں اپنے مومن بندوں میں سے اکثر فضیلت عطا فرمائی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آئینہ دیکھنا مستحب ہے اور اپنے حسن و صورت اور حسن سیرت پر اللہ کی حمد وثناء کرنا بھی مستحب ہے کیونکہ یہ دونوں نعمتین اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہیں لہذا ان پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے رہی یہ بات کہ ظاہری حسن و خوبصورتی ایک ایسی چیز ہے جس کو آئینہ میں دیکھا جاسکتا ہے لہذا آئینہ دیکھ کر اس پر شکر ادا کرنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن اس کے ساتھ حسن سیرت یا حسن خلق کا ذکر سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ وہ ایک پوشیدہ چیز ہے جس کا آئینہ میں دیکھا جانا ناممکن ہی نہیں ہے؟ اس کے جواب میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ بیشک حسن سیرت کوئی نظر آنے والی چیز نہیں ہے لیکن انسان کا ظاہر بہر حال اس کے باطن کی غمازی کرتا ہے اور کسی دوسرے کے بارے میں بات چاہے صحیح نہ ہو لیکن رسول اللہ پر یہ بات ضرور صادق آتی ہے کہ حسن صورت سیرت کا ایک جلی عنوان ہوتا ہے جس کو دیکھ کر باطن کے احوال کا ادراک کیا جاسکتا ہے لہذا اس منابست سے حضور نے حسن سیرت کے ساتھ حسن صورت کو بھی ذکر فرمایا اور اگر یہ سوال پیدا ہو کہ کیا نبی کریم ﷺ کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی اتباع میں آئینہ دیکھ کر مذکورہ طرح سے حمد وثناء کریں یا اس طرح حمد وثناء کرنا صرف نبی کریم ﷺ کے ساتھ مخصوص تھا اور دوسرے لوگ وہ دعا پڑھیں جو آگے آنے والے حدیث میں نقل کی گئی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں حمد وثناء اور شکر جو الفاظ مذکو رہیں ان کو ہر مومن پڑھ سکتا ہے کیونکہ انسان اس اعتبار سے کہ وہ اچھی صورت کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے کہ اور وہ صاحب الایمان ہے بلاشک و شبہ اللہ کی مخلوق کامل اور دین و اخلاق کے اوصاف سے مزین ہونا ہوتا ہے تاہم بعض حضرات نے کہا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حمد وثناء اور شکر کے مذکورہ الفاظ اپنی ذات کے تعلق سے فرمائے ہوئے تھے اور ظاہر ہے کہ حسن صورت اور حسن سیرت کا وصف جو کمال و نہایت کے ساتھ حضور کی ذات میں تھا وہ کسی دوسرے میں نہیں ہوسکتا اس لئے کسی دوسرے کے لئے ان الفاظ کو استعمال کرنا موزوں نہیں ہوگا امت کے بعض افراد کے اعتبار سے اس طرح کے الفاظ کے استعمال کو جائز نہ کہا جائے لیکن امت کے لئے بہتر یہی ہے کہ اسی دعا کو اختیار کیا جائے جو اگلی حدیث میں منقول ہے۔
وعن عائشة قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول اللهم حسنت خلقي فأحسن خلقي . رواه أحمد
اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! تو نے میری جسمانی تخلیق کو اچھا کیا ہے لہذا میرے اخلاق کو بھی اچھا بنا۔ (احمد)
تشریح
یہ دعا یا تو آپ مطلق کسی بھی وقت فرماتے تھے یا آئینہ میں اپنی صورت دیکھ کر فرماتے تھے جیسا کہ جزری نے حصن حصین میں صراحت بھی کی ہے کہ اور پہلی حدیث کے مطابق یہی زیادہ موزوں ہے نیز نبی کریم ﷺ کی یہ دعا تو امت کی تعلیم تلقین کے لئے تھی تاکہ امت کے لوگ اپنے حق میں اسی طرح دعا مانگا کریں اور یا اس دعا کا تعلق خود آپ کی ذات سے تھا اس صورت میں آپ کی مراد گویا یہ طلب درخواست تھی کہ خدایا اپنے دین کو کامل اور اپنی نعتموں کو پورا کر دے اس مراد کا قرینہ اس صورت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ کے خلق کو اچھا اور مہذب کرنے کا ذریعہ قرآن کریم تھا جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم ﷺ کا خلق کیا ہے آپ نے فرمایا قرآن۔ لہذا نبی کریم ﷺ کا اپنے اخلاق کا اچھا ہونے کی دعا کرنا درحقیقت قرآن کو نازل کرنے اور اس کے نزول کو پورا کرنے کی طلب درخواست تھی۔
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ألا أنبئكم بخياركم ؟ قالوا بلى . قال خياركم أطولكم أعمارا وأحسنكم أخلاقا رواه أحمد
اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ تم میں بہترین لوگ کون ہیں صحابہ نے عرض کیا ہاں ضرور بتائیں فرمایا تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو لمبی عمر والے ہیں اور جن کے اخلاق اچھے ہیں۔ (احمد)
تشریح
ظاہر ہے کہ جن لوگوں کے اخلاق واطوار پاکیزہ اور اچھے ہوں گے ان کی عمر زیادہ ہوگی تو وہ نیکیاں اور عبادتیں بہت کریں گے جس کے نتیجے میں ان کو فضائل و کمالات بھی زیادہ حاصل ہوں گے اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کی عمر کا دراز ہونا اس کے حق میں بہت مبارک ہے اور حقیقت میں دراز عمر شخص وہی ہے جو نیک کاموں میں مشغول رہے۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایمان میں کامل ترین لوگ وہی ہیں جن کے اخلاق بہتر ہیں۔ (ابوداؤد، دارمی)
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا . رواه أبو داود والدارمي .وعنه أن رجلا شتم أبا بكر والنبي صلى الله عليه وسلم جالس يتعجب ويتبسم فلما أكثر رد عليه بعض قوله فغضب النبي صلى الله عليه وسلم وقام فلحقه أبو بكر وقال يا رسول الله كان يشتمني وأنت جالس فلما رددت عليه بعض قوله غضبت وقمت . قال كان معك ملك يرد عليه فلما رددت عليه وقع الشيطان . ثم قال يا أبا بكر ثلاث كلهن حق ما من عبد ظلم بمظلمة في غضي عنها لله عز وجل إلا أعز الله بها نصره وما فتح رجل باب عطية يريد بها صلة إلا زاد الله بها كثرة وما فتح رجل باب مسألة يريد بها كثرة إلا زاد الله بها قلة . رواه أحمد
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکر ؓ کو برا بھلا کہا نبی کریم ﷺ اس کی سخت سست باتوں کو سن کر حیرت کرتے اور مسکراتے تھے یہاں تک کہ جب وہ شخص برا بھلا کہنے میں حد سے گزر گیا تو حضرت ابوبکر ؓ نے بھی اس کی بعض باتوں کا جواب دیا یعنی انہوں نے بھی اس شخص کو برا بھلا کہا۔ اس پر نبی کریم ﷺ ناراض ہوگئے اور وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے حضور کے پیچھے پیچھے حضرت ابوبکر ؓ بھی آگئے اور خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ جب وہ شخص مجھ کو برا بھلا کہہ رہا تھا آپ وہاں بیٹھے رہے لیکن میں نے جب اس کی بعض باتوں کا جواب دیا تو آپ ناراض ہوگئے اور وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اس میں آپ کے اٹھنے کی کیا حکمت تھی حضور نے فرمایا اصل بات یہ ہے کہ جب تک تم خاموش رہے تو تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو تمہاری طرف سے اس کو جواب دے رہا تھا مگر جب تم نے خود جواب دیا تو شیطان درمیان میں کود پڑا پھر فرمایا تیں باتیں ہیں اور وہ سب حق ہیں ایک تو یہ کہ جو بندہ کسی کے ظلم کا شکار ہوتا ہے محض اللہ کی رضا کے لئے نہ اپنے عجز کی وجہ سے اس ظالم سے چشم پوشی کرتا ہے یعنی اس سے درگزر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب یا اس کے اس وصف کے سبب پر دنیا و آخت میں اپنی مدد کے ذریعہ اس بندہ کو مضبوط و قوی بناتا ہے دوسرے یہ کہ جو بھی بندہ اپنی عطاء و بخشش کا دروازہ کھولتا ہے کہ تاکہ اس کے ذریعہ اپنے قرابت داروں اور مسکینوں کے ساتھ احسان و نیک سلوک کرے تو اللہ اس کے عطا و بخشش کے سبب اس کے مال و دولت میں اضافہ کرتا ہے اور تیسرے یہ کہ جو شخص سوال گدائی کا دروازہ کھولتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ اپنی دولت کو بڑھائے تو اللہ اس کو گدائی کے سبب اس کے مال دولت میں کمی پیدا کردیتا ہے اور اس کو نقصان و بربادی سے دوچار کردیتا ہے یا اس کو خیر و برکت سے اس طرح محروم کردیتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے مال میں کمی نقصان کو محسوس کرتا رہتا ہے۔
تشریح
حیرت کرتے اور مسکراتے تھے میں حیرت کا تعلق تو اس شخص کی بدزبانی اور اس میں شرم و حجاب کی کمی سے تھا یا حضرت ابوبکر ؓ کے صبر و تحمل اور ان کے باوقار و بردبار رویہ سے تھا اور مسکرانے کا تعلق اس فرق سے تھا کہ جو آپ نے ان دونوں کے درمیان دیکھ رہے تھے علاوہ ازیں آپ کی نظر ان دونوں کے حق میں مرتب ہونے والے نتیجہ پر تھی کہ وہ شخص تو اپنی بدکلامی کے سبب عذاب کا مستوجب ہو رہا تھا اور حضرت ابوبکر ؓ اپنے صبر تحمل کی چشم پوشی کے سبب رحمت الٰہی نازل ہو رہی تھی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے ان کی باتوں کا جواب دیا گویا انہوں نے اس موقع پر جواب دے کر رخصت و اجازت پر عمل کیا جو ایک عام آدمی کے لئے موزوں ہے اس عزیمت کو ترک کیا جو خواص کے مرتبہ و شان کے عین مطابق ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا آیت (جزاء سیئتۃ)۔۔۔۔۔۔ برائی کا بدلہ اس برائی کے مطابق لیا جاسکتا ہے لیکن جو شخص درگزر کرے اور صبر اختیار کرے گویا دونوں پہلوں کی رعایت کی مگر نگاہ نبوت میں چونکہ ان کے لئے وہ مرتبہ کمال مطلوب تھا جو ان کی شان صدیقیت کے مطابق ہے اس لئے ان کا اس شخص کی بعض باتوں کا جواب دینا بھی حضور کو پسند نہیں آیا اور آپ پر وہ کیفیت طاری ہوگئی جو ناراض ہوجانے والے شخص پر ہوتی ہے۔ چناچہ آپ مجلس سے اٹھ کر چلے گئے تاکہ ایک طرف تو حضرت ابوبکر ؓ کے رویہ پر ناپسندیدگی کا اظہار ہوجائے اور دوسری طرف اللہ کے اس ارشاد پر عمل بھی ہوجائے کہ، آیت (واذاسمعوا اللغو)۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب وہ کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں۔ شیطان درمیان میں کود پڑا۔ یعنی نبی کریم ﷺ نے گویا یہ واضح فرمایا کہ جب تم خود جواب دینے لگے تو پھر شیطان کو دخل دینے کو موقع مل گیا اور وہ فرشتہ جو تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا آسمان پر چلا گیا اور تم یہ جانتے ہو کہ جب کسی معاملہ میں شیطان کود پڑتا ہے تو کیا کچھ نہیں ہوجاتا اور وہ بےحیائی و برائی پر اکسانے کے علاوہ اور کیا کرتا ہے چناچہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں شیطان کا داؤد تم پر نہ چل جائے اور تم اپنے مخالف سے بدلہ لینے میں حد سے زیادہ نہ بڑھ جاؤ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تم جو مظلوم تھے ظالم کی جگہ پر آجاؤ جب کہ چاہیے یہ کہ تم اللہ کے مظلوم بندے بنو ظالم بندے نہ ہو۔
نرمی ومہربانی کرنے کا اثر
وعن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يريد الله بأهل بيت رفقا إلا نفعهم ولا يحرمهم إياه إلا ضرهم . رواه البيهقي في شعب الإيمان
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ جن گھر والوں کے لئے نرمی و مہربانی پسند کرتا ہے اس کے ذریعہ ان کو نفع پہنچاتا ہے اور جن گھر والوں کو نرمی و مہربانی سے محروم رکھتا ہے اس کے ذریعہ ان کو نقصان پہنچاتا ہے۔ (بیہقی)