اللہ کے ساتھ اور اللہ کے لیے محبت کرنے کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 145 · 54 hadiths · Page 2 of 3

4863Mishkaat-al-Masabih

خیرخواہی کی اہمیت وفضیلت

عن جرير بن عبد الله قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على إقام الصلاة وإيتاء الزكاة والنصح لكل مسلم . متفق عليه

اور حضرت جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ پابندی کے ساتھ نماز پڑھوں گا زکوٰۃ ادا کروں گا اور ہر مسلمان کے حق میں خیر خواہی کروں گا۔ ( بخاری ومسلم) تشریح اللہ تعالیٰ کی تمام تر عبادت وطاعت کا تعلق دو ہی چیزوں سے ہے ایک تو حقوق اللہ، دوسرے حقوق العباد، لہذا حضرت جریر نے حقوق اللہ میں خاص طور پر ان عبادات کا ذکر کیا جو تمام بدنی اور مالی عبادتوں میں شہادت کے بعد سب سے اعلی و افضل ہیں اور ارکان اسلام میں سے اہم ترین رکن ہیں یعنی نماز اور زکوٰۃ جہاں تک روزہ اور حج کا تعلق ہے تو ہوسکتا ہے کہ جس وقت حضرت جریر نے بیعت کی ہو اس وقت تک یہ دونوں روزہ اور حج مسلمانوں پر فرض نہ قرار دیئے گئے ہوں اسی طرح حقوق العباد سے متعلق اس چیز کو ذکر کیا جس کے دائرے میں بندون کے تمام حقوق آجاتے ہیں یعنی خیر خواہی۔ انہی حضرت جریر کا ایک واقعہ اس موقع پر نہایت مطابق ہے اور جس سے ان کی مذکورہ بالا بیعت کا عملی نمونہ سامنے آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جریر نے ایک گھوڑا تین سو درہم کے عوض خرید لیا، انہوں نے بیچنے والے سے کہا کہ تمہارا یہ گھوڑا تو تین سو درہم سے زیادہ قیمت ہے تم اس کی قیمت چار سو درہم لو گے؟ اس نے کہا ابن عبداللہ تمہاری مرضی پر موقوف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو گھوڑا چار سو درہم سے بھی زیادہ کا معلوم ہوتا ہے تم کیا اس کی قیمت پانچ سو درہم لینا پسند کرو گے؟ وہ اسی طرح اس کی قیمت سو سو درہم بڑھاتے گئے اور آخرکار انہوں نے اس گھوڑے کی قیمت میں آٹھ سو درہم ادا کئے جب لوگوں نے ان سے گھوڑے کی قیمت بڑھانے کا سبب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بیعت کی تھی کہ ہر مسلمان سے خیر خواہی کروں گا (چنانچہ جب میں نے دیکھا کہ اس گھوڑے کا مالک وہ قیمت طلب نہیں کر رہا جو حقیقت میں ہونی چاہیے تو میں نے اس کی خیر خواہی کے پیش نظر اس کو زیادہ سے زیادہ قیمت ادا کی۔

4864Mishkaat-al-Masabih

بدبخت کا دل رحم وشفقت کے جذبہ سے خالی ہوتا ہے۔

عن أبي هريرة قال سمعت أبا القاسم الصادق المصدوق صلى الله عليه وسلم يقول لا تنزع الرحمة إلا من شقي . رواه أحمد والترمذي

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں ابوالقاسم کو جو صادق و مصدوق ہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رحمت یعنی مخلوق اللہ پر رحم و شفقت کرنے کے جذبہ کو کسی دل سے نہیں نکالا جاتا مگر بدبخت کے دل کو اس جذبہ سے خالی کردیا جاتا ہے۔ (احمد، ترمذی) تشریح صادق کے معنی ہیں وہ شخص اپنی باتوں میں سچا ہے اور مصدوق کے معنی ہیں وہ شخص جس کو لوگوں نے سچا تسلیم کرلیا ہے یا جس کے سچا ہونے کی خبر خود اللہ نے دی ہے یہ دونوں لقب آنحضرت ﷺ کی صفت ہیں چناچہ آپ نہ صرف یہ کہ سچے تھے اور دنیا نے آپ کو سچا تسلیم کیا بلکہ خود اللہ نے آپ کے سچا ہونے کی خبر دی کہ فرمایا آیت (وماینطق عن الھوی)۔ بدب خت سے مراد کافر ہے یا فاجر اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ کافر اپنے یا فاسق اپنے فسق و فجور کی وجہ سے اپنے دل کو اتنا سخت بنا لیتا ہے کہ اس کے اندر سے وہ انسانی جذبہ بھی ختم ہوجاتا ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسان پر رحم و شفقت کرنے پر مائل کرتا ہے۔

4865Mishkaat-al-Masabih

تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا

وعن عبدالله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الراحمون يرحمهم الرحمن ارحموا من في الأرض يرحمكم من في السماء . رواه أبو داود والترمذي

اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مخلوق اللہ پر رحم و شفقت کرنے والوں پر رحمن کی رحمت نازل ہوتی ہے لہذا تم زمین والوں پر رحم و شفقت کرو تاکہ تم پر وہ رحم کرے جو آسمان میں ہے۔ (ابوداؤد، ترمذی) تشریح زمین والوں میں سارے جاندار داخل ہیں خواہ وہ حیوان ہوں یا انسان اور انسان بھی خواہ نیک ہوں یا بد البتہ بد لوگوں پر رحم و شفقت کرنے کی صورت یہ ہے کہ ان کی بدی اور برائی سے روکا جائے جیسا کہ اس حدیث کے اپنے بھائی کی مدد کر خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم کی تشریح میں بتایا گیا ہے تھا کہ ظالم کی مدد یہ ہے کہ اس کو ظلم سے باز رکھا جائے یا یہ کہ زمین والوں پر رحم و شفقت کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان لوگوں پر رحم و شفقت کرو جو اس کے مستحق ہیں۔ جو آسمان میں ہے اس سے مراد اللہ کی ذات ہے جس کا کمال قدرت اور جس کی سلطنت آسمان میں ہے یا اس سے مراد ملائکہ ہیں اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ تم زمین پر رہنے والوں پر رحم و شفقت کرو تاکہ آسمانوں میں رہنے والے یعنی ملائکہ کا رحم تم پر اور تمہارے حق میں ان کا رحم یہ ہے کہ وہ تمہارے دشمنوں اور ایذاء پہنچانے والی مخلوق جیسے جنات و شیاطین اور شریر انسانوں سے تمہاری حفاظت کریں اور بارگاہ کبریائی میں تمہارے لئے دعا و استغفار کریں اور طلب رحمت کریں۔

4866Mishkaat-al-Masabih

جو شخص اپنے چھوٹوں پر شفقت اور اپنے بڑوں کا احترام نہ کرے وہ متبعین رسول میں نہیں ہے۔

وعن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس منا من لم يرحم صغيرنا ولم يوقر كبيرنا ويأمر بالمعروف وينه عن المنكر . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص ہماری اتباع کرنے والوں میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر رحم و شفقت نہ کرے ہمارے بڑوں کا جو خواہ جوان ہوں یا بوڑھے احترام ملحوظ نہ رکھے نیکی و بھلائی کا حکم نہ دے اور بدی برائی سے منع نہ کرے اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

4867Mishkaat-al-Masabih

اپنی تعظیم کرنا چاہتے ہو تو اپنے بڑوں کی تعظیم کرو

وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أكرم شاب شيخا من أجل سنه إلا قيض الله له عند سنه من يكرمه . رواه الترمذي

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بھی جوان کسی بوڑھے شخص کی اس کے بڑھاپے کے سبب تعظیم و تکریم کرتا ہے تو اللہ اس کے بڑھاپے کے وقت کسی ایسے شخص کو متعین کردیتا ہے جو اس کی تعظیم و خدمت کرتا ہے۔ (ترمذی) تشریح اس حدیث کے ذریعہ گویا اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ جو شخص دوسروں کی تعظیم و خدمت کرتا ہے تو اس کی بھی تعظیم و خدمت کی جاتی ہے اور جو لوگ اپنے بزرگوں کی تعظیم و خدمت نہیں کرتے اور اپنے بڑے بوڑھوں کی تحقیر کرتے ہیں وہ اپنے بڑھاپے میں اپنے چھوٹوں کی طرف سے اسی تحقیر و تذلیل اور بےوقعتی سے دو چار ہوتے ہیں۔ اس ارشاد گرامی میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس جوان کی عمر دراز ہوتی ہے جو اپنے بڑے بوڑھوں کی تعظیم و خدمت کرتا ہے منقول ہے کہ ایک بزرگ تھے جو مصر میں سکونت پذیر تھے اور ان کا ایک مرید تھا جو خراسان میں رہتا تھا ایک مرتبہ وہ مرید اپنے شیخ کے پاس کچھ دن رہنے کے لئے خراسان سے چل کر مصر پہنچا اور وہاں ایک طویل مدت تک شیخ کی خدمت میں راہا انہی دنوں کچھ دوسرے بزرگوں کی جماعت اس کے شیخ کی زیارت کے لئے آئی تو شیخ نے اس مرید سے اشارہ کیا کہ ان بزرگوں کو سواری کے جانور تھام لو وہ ان کے پاس سے چلا گیا اور ان جانوروں کی نگرانی کرنے لگا، مگر اس کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ میں جو اتنی دور دراز کا سفر طے کر کے شیخ کی خدمت میں آیا تھا یہ اس کا نتیجہ ہے بہرحال جب وہ بزرگ ان شیخ کے پاس سے چلے گئے اور وہ مرید اپنے پیر کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے کہا عزیز من اس وقت میں نے تمہیں ان بزرگوں کی سواری کے جانروں کی دیکھ بھال پر جو متعین کیا تھا تو اس کی وجہ سے نہ معلوم تمہارے دل میں کیا وسوسہ پیدا ہوا ہوگا لیکن اتنی بات یاد رکھو کہ تمہیں اس خدمت کا بہت بڑا اجر ملے گا اور عنقریب اللہ تمہیں اس درجہ پر پہنچائے گا کہ تمہاری خدمت میں بڑے بڑے بزرگ اور اکابر آئیں گے اور پھر اللہ کی طرف سے تمہارے پاس ایسے لوگ مقرر کئے جائیں گے کہ جو ان آنے والوں کی خدمت کریں گے چناچہ بیان کیا جاتا ہے کہ ان شیخ نے جو کہا تھا وہ صحیح ثابت ہوا اور اس شخص کی ملاقات کے لئے آنے والے بڑے بڑے بزرگوں کی کثرت کی وجہ سے ہمیشہ اس کے دروازے پر خچر اور گھوڑوں کا ایک ہجوم رہتا تھا۔ خود اس حدیث کے روای حضرت انس ؓ رسول اللہ کی خدمت کے سلسلے میں دین و دنیا کے بڑے بڑے اجر و انعام سے نوازے گئے چناچہ جب وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے تو اس وقت ان کی عمر صرف دس سال تھی اور جب تک آنحضرت ﷺ اس دنیا میں تشریف فرما رہے ان کی زندگی کا سارا وقت حضور کی خدمت ہی میں صرف ہوتا رہا اللہ نے ان کو ایک بڑی نعمت تو یہ عطا کی کہ ان کی حیات بہت طویل ہوئی اور وہ تقریبا ایک سو تین سال تک نہایت پاکیزہ اور اچھے احوال اور اطمینان و سکون کے ساتھ اس دنیا میں رہے اللہ نے ان کو مال و دولت کی فروانی سے بھی نوازا اور کثیر اولاد کی نعمت سے بھی سرفراز کیا کہا جاتا ہے کہ ان کے ایک سو لڑکے تھے۔

4868Mishkaat-al-Masabih

عالم حافظ اور عادل بادشاہ کی تعظیم ہے

وعن أبي موسى قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن من إجلال الله إكرام ذي الشيبة المسلم وحامل القرآن غير الغالي فيه ولا الجافي عنه وإكرام السلطان المقسط . رواه أبو داود والبيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت ابوموسی اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بوڑھے مسلمان کی عزت و توقیر کرنا، حامل قرآن یعنی حافظ و مفسر اور قرآن خوان کا احترام کرنا جبکہ وہ قرآن میں زیادتی کرنے والا ہو اور اس سے ہٹ جانے والا نہ ہو اور عادل بادشاہ کی تعظیم کرنی منجملہ خداوندی کی تعظیم کرنا ہے۔ (ابوداؤد، وبہیقی) تشریح اس حدیث کے ذریعہ مذکورہ بالا لوگوں کی تعظیم و توقیر کی اہمیت کو ظاہر کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی شان میں بےادبی گستاخی کرنا اور اللہ کی تعظیم کے منافعی عمل کرنا ہے۔ حامل قرآن، یعنی حافظ، مفسر اور قرآن خواں، کی تعظیم کو اس امر کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے کہ نہ تو غلو کرنے والا ہو اور نہ قرآن پڑھنے پڑھانے کو ترک کرنے والا ہو بلکہ اعتدال و میانہ روی کو اختیار کرنے والا جیسا کہ تمام عبادات میں آنحضرت ﷺ کی عادت شریفہ تھی چناچہ غول نہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ ریا کاروں کی طرح الفاظ کی تجوید اور حسن قرأت و صورت میں حد سے تجاوز نہ کیا جائے تلاوت اس قدر تیز نہ کی جائے کہ نہ تو الفاظ صحیح طور پر ادا ہوں اور نہ معنی سمجھ میں آئیں قرآن کے الفاظ و حروف میں تحریف کے ذریعہ خیانت کا ارتکاب نہ کیا جائے اور نہ غلط سلط تاویلات اور فاسد عقائد ونظریات کے ذریعہ اس کے مفہوم میں حذف و اضافہ اور ترمیم و تبدیلی کی جائے جیسا کہ اکثر اور فاسد ذہن و فکر کے حامل لوگوں کا شیوہ ہے اور نہ قرآن کے احکام و ہدایات کے بارے میں شکوک و شبہات اور وسوسے پیدا کئے جائیں اسی طرح قرآن سے نہ ہٹنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت کو ترک نہ کیا جائے تجوید و قرآن کے آداب و قواعدے اعرض نہ کیا جائے اور قرآن نے جو احکام و ہدایات اور مسائل بیان کئے ہیں ان پر عمل کرنے سے گریز نہ کرے۔ بعض حضرات نے غالی اس شخص کو قرار دیا ہے جو تعلیم و تدریس، تبلیغ و اصلاح، ذکر و فکر اور عبادات سے بالکل بےپرواہ ہو کر صرف تلاوت قرآن میں مشغول و مصروف رہے اسی طرح جافی اس شخص کو قرار دیا ہے جو تلاوت قرآن سے بالکل بےپرواہ اور دوسروں چیزوں میں مشغول رہے۔ عادل بادشاہ سے مراد وہ حاکم و سربراہ ہے جو حقیقی معنوں میں عدل کا پیکر ہو اور اپنے عوام پر ظلم و جور کو گوارا نہ کرتا ہو اور اس کا کوئی فیصلہ اور کوئی عمل عدل کے خلاف نہ ہو اور یہ اعلی درجہ ہے اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اس کا عدل اس کے ظلم پر غالب ہو اس کے ظلم پر غالب ہو اس کے برخلاف اگر اس کا ظلم اس کے عدل پر غالب ہو تو اس کو عادل نہیں کہیں گے اور ایسے بادشاہ حاکم سے دور رہنا ہی افضل ہوگا واضح رہے کہ اس دور کے اکثر حاکموں اور سربراہوں کے احوال ان کی حکومتی کاروائیاں اور ان کے نظم حکومت کے دیکھتے ہوئے ان کو ادنیٰ درجہ کا عادل کہنا بھی بڑا مشکل ہے ان کی طرف سے اپنے عوام پر جو قوانین نافذ کئے جاتے ہیں اور جس طور پر ان کے کارندے عوام کے ساتھ سلوک کرتے ہیں ان کو اگر حقیقت کے آئینے میں دیکھا جائے تو عدل و انصاف سرنگوں اور ظلم و زیادتی کا غلبہ نظر آئے گا یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ جو شخص موجودہ زمانہ میں کسی بادشاہ حاکم کو عادل کہے گا وہ کفر کی حد میں داخل ہوجائے گا اگرچہ بادشاہ حاکم کو کسی نہ کسی طرح کے عدل سے بالکل خالی نہیں کہا جاسکتا دراصل اس قول کی بنیاد ایک لطیف نکتہ پر ہے اور وہ یہ کہ کسی شخص کا عدل کرنا اور کسی شخص کا عادل ہونا ان دونوں کے درمیان فرق ہے اگر یہ کہا جائے کہ زید عدل کرتا ہے تو اس کے کہنے کا مطلب یہ قطعا نہیں ہوگا کہ زید عادل ہے کیونکہ عدل کرنے کا اطلاق اس شخص پر بھی ہوتا ہے جو اگرچہ گاہے بگاہے عدل کرتا ہو جب کہ عادل کا اطلاق صرف اس شخص پر ہوتا ہے جو صفت عدل کے ساتھ دوامی طور پر موصوف ہو اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر اس طرح کہا جائے کہ زید نمازی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ زید نماز پابندی کے ساتھ پڑھتا ہے اور کبھی بھی اس کی کوئی نماز ترک یا قضا نہیں ہوئی جب کہ اگر یوں کہا جائے کہ زید نماز پڑھتا ہے تو اس کا مفہوم بالکل دوسرا ہے اور وہ یہ کہ زید بھی نماز پڑھتا ہے اگرچہ پابندی کے ساتھ نہیں بلکہ کبھی کبھی پڑھتا ہے لہذا لفظ عادل اپنے جس وسیع اور اہم مفہوم کو ادا کرتا ہے اس کی بنیاد پر اسلفظ کا اطلاق نہ تو اس دور کے بادشاہ و حاکم پر ہوتا ہے اور نہ اس دور کے کسی بھی بادشاہ و حاکم کو عادل کہنے کی اجازت ہے۔ مذکورہ بالا حدیث میں تین طرح کے لوگوں کی تو قیر و تظیم کرنے کا حکم ذکر ہے اور شرح السنہ میں حضرت طاؤس سے یہ نقل کیا گیا ہے کہ یہ مسنون ہے کہ تم چار آدمیوں کی تعظیم و تکریم کرو ایک تو عالم کی دوسرے بوڑھے شخص کی تیسرے سلطان و بادشاہ کی اور چوتھے باپ کی۔ ملاعلی قاری نے نے اس قول کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ باپ کے حکم میں ماں بھی داخل ہے اور عالم سے مراد عالم با عمل ہے جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث میں باپ کا ذکر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اول تو باپ کا معاملہ بالکل ظاہر ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ باپ کی تعظیم کرنی چاہیے دوسرے یہ کہ مستحق تعظیم قرار دینے کی زیادہ ضرورت انہی لوگوں کے حق میں ہے جو اجنبی ہوں اور جن کا تعلق قرابتی نہ ہو کیونکہ قرابت کا تعلق بجائے خود ایک انسان کو دوسرے انسان کی تعظیم و توقیر کرنے پر مائل کرتا ہے لہذا اگر شخص کا باپ بوڑھا بھی ہو۔ حامل قرآن یعنی حافظ و عالم با عمل بھی ہو اور سلطان و حاکم بھی ہو اور اس کا سلطان و حاکم ہونا خواہ اپنی ظاہری منصب کے اعتبار سے ہو یا باطنی روحانی طور پر تو اس سورت میں اس شخص کو اپنے باپ کی بہت زیادہ تعظیم و توقیر کرنی چاہیے کیونکہ اس کی ذات میں وہ کئی خصوصیات جمع ہیں جو تعظیم و توقیر کو واجب کرتی ہیں۔ اس حدیث میں مذکورہ لوگوں کی تعظیم کو منجملہ تعظیم الٰہی قرار دیا گیا ہے جب کہ ایک روایت کے مطابق اس تعظیم و توقیر کو نبی ﷺ نے خود اپنی تعظیم و توقیر کے مترادف قرار دیا ہے چناچہ خطیب نے اپنی جامع میں حضرت انس ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان من اجلالی تو قیر الشیخ من امتی، یعنی اس بوڑھے شخص کی تو قیر و تعظیم کرنا جو میری امت میں سے ہو من جملہ میری تو قیر و تعظیم کرنا ہے۔

4869Mishkaat-al-Masabih

یتیم کے ساتھ حسن سلوک کی فضیلت

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خير بيت في المسلمين بيت فيه يتيم يحسن إليه وشر بيت في المسلمين بيت في يتيم يساء إليه . رواه ابن ماجه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں کے گھروں میں بہترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے اور مسلمانوں کے گھروں میں بدتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک کیا جائے۔ (ابن ماجہ) تشریح یتیم کے ساتھ برے سلوک کا مطلب یہ ہے کہ اس گھر کے افراد اس کی ضروریات زندگی کی کفالت میں غفلت و کوتاہی برتیں اس کے ایسا برتاؤ کریں کہ جس سے اس کو اپنی کم تری وبے چارگی کا احساس ہو اور اس کو ناحق مارا پیٹا جائے اور تکلیف پہنچائی جائے ہاں اس کو تعلیم و تربیت کے طور پر مارنا یا کوئی سزا دینا برے سلوک میں شامل نہیں ہوگا بلکہ اس کو احسان و حسن سلوک ہی میں شمار کیا جائے گا۔

4870Mishkaat-al-Masabih

یتیم کے ساتھ حسن سلوک کی فضیلت

أ بي أمامة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من مسح رأس يتيم لم يمسحه إلالله كان له بكل شعرة تمر عليها يده حسنات ومن أحسن إلى يتيمة أو يتيم عنده كنت أنا وهو في الجنة كهاتين وقرن بي أصبعيه . رواه أحمد والترمذي وقال هذا حديث غريب

اور حضرت ابوامامہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی اور غرض و جذبہ کے تحت نہیں بلکہ محض خداوند کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کسی یتیم بچے کے سر پر پیار و محبت کے ساتھ ہاتھ پھیرے تو اس کے لئے یتیم کے سر پر اس بال کے عوض کہ جس پر اس کا ہاتھ لگا ہے نیکیاں لکھی جاتی ہیں جو شخص اس یتیم لڑکے یا یتیم لڑکی کے ساتھ جو اس کی پرورش و تربیت میں ہو اچھا سلوک کرے تو وہ شخص اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے اور یہ کہہ کر آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کو ملایا یعنی شہادت اور بیچ کی انگلی کو ملا کر دکھایا کہ جس طرح یہ دونوں انگلیاں ایک دوسرے کے قریب ہیں اسی طرح میں اور وہ شخص جنت میں ایک دوسرے کے قریب ہیں اس روایت کو احمد و ترمذی نے نقل کیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح لفظ تمر اگر تاء کے زبر اور میم کے پیش کے ساتھ یعنی مونث کا صیغہ ہو تو اس کا ترجمہ وہی ہوگا جو اوپر نقل کیا گیا ہے اور اگر یہ لفظ یاء کے پیش اور میم کے زیر کے ساتھ یعنی یمر بصیغہ مذکر ہو تو اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ ہر اس بال کے عوض کہ جس پر وہ شخص اپنا ہاتھ پھیرتا ہے مطلب کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے حسنات کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ نیکیاں کمیت و کیفیت کے اعتبار سے مختلف درجہ کی ہوتی ہیں اور یہ فرق اختلاف حسن نیت کے مدار پر مبنی ہوتا ہے۔ اچھا سلوک کرے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ شفقت و مہربانی کا برتاؤ کرے اس کی تعلیم و تربیت پر توجہ دے جب وہ سن بلوغ کو پہنچے تو اس کا نکاح کرے اور اگر اس کا مال وغیرہ اپنے پاس رکھا ہوا ہو تو اس کی محافظت کرے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یتیمۃ او یتیم میں حرف او تنویع کے لئے ہے لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ حرف او شک کو ظاہر کرتا ہے یعنی اس موقع پر کسی راوی کو شک واقع ہوا ہے کہ یہاں نبی ﷺ نے یتیمۃ کا لفظ ارشاد فرمایا تھا یا یتیم کا۔ حدیث میں یتیم کی پرورش و تربیت کرنے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک اختیار کرنے والے کے بارے میں جن الفاط کے ذریعہ تحسین فرمائی گئی ہے ان میں اس شخص کے لئے حسن خاتمہ کی بشارت ہے۔

4871Mishkaat-al-Masabih

بہن بیٹی کی پرورش کرنے کی فضیلت

وعن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من آوى يتيما إلى طعامه وشرابه أوجب الله له الجنة البتة إلا أن يعمل ذنبا لا يغفر . ومن عال ثلاث بنات أو مثلهن من الأخوات فأدبهن ورحمهن حتى يغنيهن الله أوجب الله له الجنة . فقال رجل يا رسول الله واثنتين ؟ قال واثنتين حتى قالوا أو واحدة ؟ لقال واحدة ومن أذهب الله بكريمتيه وجبت له الجنة قيل يا رسول الله وما كريمتاه ؟ قال عيناه . رواه في شرح السنة

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے کھانے پینے میں کسی یتیم کو شریک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق اس شخص کو بلا شک و شبہ جنت کا مستحق گردانتا ہے الاّ یہ کہ وہ کوئی ایسا گناہ کرے جو بخش جانے کے قابل نہ ہو اور جو شخص تین بیٹیوں یا ان ہی کی طرح تین بہنوں کی پرورش کرے اور پھر ان کی تربیت کرے اور ان کے ساتھ پیارو شفقت کا برتاؤ کرے یہاں تک کہ اللہ ان کو بےپرواہ بنا دے۔ یعنی وہ بڑی ہوجائیں اور بیاہ دی جائیں تو اللہ اس کو جنت کا مستحق گردانتا ہے یہ سن کر ایک صحابی نے عرض کیا کہ کیا دو بیٹیوں یا دو بہنوں کی پرورش کرنے پر بھی یہ اجر ملتا ہے آپ نے فرمایا ہاں دو پر بھی یہ اجر ملتا ہے، راوی کہتے ہیں کہ اگر صحابہ ایک بیٹی یا ایک بہن کے بارے میں بھی سوال کرتے تو آپ یہی جواب دیتے کہ ہاں ایک پر بھی یہی اجر ملتا ہے پھر نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جس شخص کی دو پیاری چیزیں لے لے وہ بھی جنت کا مستحق گردانا جاتا ہے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ دو پیاری چیزوں سے کیا مراد ہے آپ نے فرمایا کہ اس کی دو آنکھیں۔ (شرح السنہ) تشریح جو گناہ بخشے جانے کے قابل نہ ہو اس سے مراد شرک اور حقوق العباد ہیں گویا آپ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ شخص کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہو جو توبہ و استغفار وغیرہ کے بغیر بخشا نہیں جاتا ہو تو اس کو جنت کا مستحق نہیں گردانا جائے گا، اس میں اس طرف بھی اشارہ فرمایا کہ وہ تمام گناہ جن کا تعلق اللہ کے حق سے ہے بخش دیئے جائیں گے مگر شرک کے گناہ کو نہیں بخشا جاتا۔ اگر صحابہ ایک بیٹی یا ایک بہن کے بارے میں سوال کرتے یہ بات اس راجح و مختار مسلک کی روشنی میں تو بالکل واضح ہے کہ جس میں اس امر کو تسلیم کیا گیا ہے کہ احکام شرعیہ کا نفاظ نبی ﷺ کی صوابدید پر ہے کہ آپ جس طرح چاہیں نافذ فرمائیں اور جس کو چاہیں مقید و مستثنی قرار دیں لیکن اس قول کو تسلیم نہیں کرتے وہ مذکورہ عبارت کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ حضور نے صحابہ کے مذکورہ جواب میں جو بات فرمائی وہ وحی الٰہی کی بنیاد پر تھی کہ سائلین نے اپنے سوال کے ذریعہ گویا اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ جو ثواب تین بیٹیوں یا تین بہنوں کی پرورش و تربیت کرنے پر ملتی ہے کاش وہی ثواب دو بیٹیوں یا دو بہنوں کی پرورش کرنے کی صورت میں بھی ملے، چناچہ اللہ نے ان کی اس خواہش کے مطابق وحی نازل فرمائی اور نبی ﷺ نے اس کو بیان فرمایا جیسا کہ اور بہت سی حدیثوں میں بھی اسی طرح کی صورت حال منقول ہے۔

4872Mishkaat-al-Masabih

بچوں کی صحیح تربیت وتادیب کی اہمیت

وعن جابر بن سمرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأن يؤدب الرجل ولده خير له من أن يتصدق بصاع . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب وناصح الراوي ليس عند أصحاب الحديث بالقوي

اور حضرت جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا واللہ انسان کا اپنے بیٹے کو ادب کی ایک بات سکھانا ایک صاع غلہ خیرات کرنے سے بہتر ہے ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس کے راوی ناصح محدثین کے نزدیک قوی یعنی قابل اعتماد نہیں ہے۔ تشریح ادب سے شرعی تربیت و تادیب ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شریعت کی نظر میں بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کی بہت زیادہ اہمیت ہے لہذا یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو صحیح تعلیم و تربیت سے بہرہ مند فرمائیں اور صحیح تعلیم و تربیت وہی ہے جو دینی تعلیم اسلامی اخلاق اور شرعی آداب و قواعد پر مشتمل ہے۔ ترمذی کے قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن واضح رہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر بھی عمل کرنا جائز ہے جیسا کہ محدثین کا متفقہ فیصلہ ہے۔

4873Mishkaat-al-Masabih

بچوں کی صحیح تربیت وتادیب کی اہمیت

وعن أيوب بن موسى عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما نحل والد ولده من نحل أفضل من أدب حسن . رواه الترمذي والبيهقي في شعب الإيمان وقال الترمذي هذا عندي حديث مرسل

اور حضرت ایوب بن موسیٰ اپنے والد حضرت موسیٰ اور وہ ایوب کے دادا حضرت ابن سعید ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی باپ اپنے بیٹے کو نیک ادب اور صحیح تربیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دیتا۔ ترمذی نے کہا ہے کہ میرے نزدیک یہ حدیث مرسل ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ ایک باپ کی طرف سے اپنے بیٹے کے لئے جو چیز سب سے زیادہ قیمتی اور سب سے زیادہ مفید ہوسکتی ہے وہ صحیح تعلیم و تربیت ہے اور نیک تادیب ہے۔

4874Mishkaat-al-Masabih

اپنی اولاد کی پرورش میں مشغول رہنے والی بیوہ کی فضیلت

وعن عوف بن مالك الأشجعي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا وامرأة سفعاء الخدين كهاتين يوم القيامة . وأومأ يزيد بن ذريع إلى الوسطى والسبابة امرأة آمت من زوجها ذات منصب وجمال حبست نفسهاعلى يتاماها حتى بانوا أوماتوا رواه أبو داود

اور حضرت عوف بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ عورت کہ جس کے رخسار اپنی اولاد کی پرورش و دیکھ بھال کی محنت اور مشقت اور ترک زینت و آرائش کی وجہ سے سیاہ پڑگئے ہیں قیامت کے دن اسی طرح ہوں گے اس حدیث کے روای یزید بن ذریع نے یہ الفاظ بیان کرنے کے بعد انگشت شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس طرح یہ دونوں انگلیاں ایک دوسرے کے قریب ہیں اسی طرح قیامت کے دن آپ اور وہ بیوہ عورت قریب قریب ہوں گے اور سیاہ رخساروں والی عورت کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ اس سے مراد وہ عورت ہے جو اپنے شوہر کے مرجانے یا اس کے طلاق دیدینے کی وجہ سے بیوہ ہوگئی ہو اور وہ حسین و جمیل اور صاحب و جاہ عزت ہونے کی باوجود محض اپنے یتیم بچوں کی پرورش اور ان کی بھلائی کی خاطر دوسرا نکاح کرنے سے باز رہے یہاں تک کہ وہ بچے جدا ہوجائیں یعنی بڑے اور بالغ ہوجانے کی وجہ سے اپنی ماں کے محتاج نہ رہیں یا موت ان کے درمیان جدائی ڈال دے۔ ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس عورت کا خاوند چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ کر مرگیا ہو یا جس عورت کو طلاق اس کے خاوند نے دی ہو اور اس عورت نے محض اپنے یتیم بچوں کی خاطر دوسرے شخص سے نکاح نہ کیا ہو بلکہ اپنے حسن و جمال اور جاہ عزت کے باوجود اپنے جذبات کو کچل کر ازواجی زندگی کی خوشیوں و مسرتوں سے دور رہی اور اپنے ان بچوں کی پرورش و دیکھ بھال میں اس وقت تک اپنی جان کھپاتی رہی جب تک کہ وہ اس کے ساتھ رہے یہاں تک کہ اس نے ان کی پرورش میں مشغول رہ کر اپنی زندگی کے جو ان ایام کو قربان کیا اور اپنے حسن و جمال کو برباد کردیا تو نبی ﷺ نے ایسی حوصلہ مند عورت کے بارے میں فرمایا کہ وہ قیامت کے میرے اس قدر قریب ہوگی جس قدریہ دونوں انگلیاں ہیں اس سے معلوم ہوا کہ جو عورتیں اپنے خاوند کی وفات یا طلاق کی وجہ سے بیوہ ہوگئی ہوں تو ان کو صبر و استقامت عفت و پاکدامنی اور ترک زیب وزینت کو اختیار کرنا اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنا اور ان بچوں کی صحیح تربیت میں مشغولیت رہنا بڑی فضیلت کا حامل ہے۔

4875Mishkaat-al-Masabih

دینے دلانے میں بیٹے کو بیٹی پر ترجیح نہ دو

وعن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من كانت له أنثى فلم يئدها ولم يهنها ولم يؤثر ولده عليها يعني الذكور أدخله الله الجنة . رواه أبو داود

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے کوئی بہن بیٹی ہو اور وہ اس کو نہ تو زندہ درگور کرے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں رواج تھا کہ لوگ فقر کے خوف سے بچیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کردیتے تھے نہ اس کو ذلت و حقارت کے ساتھ رکھے اور نہ اپنے والد یعنی بیٹے کو اس پر ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا۔ (ابوداؤد) تشریح چونکہ ولد کا اطلاق بیٹے اور بیٹی دونوں پر ہوتا ہے اس لئے حضرت ابن عباس ؓ نے ان الفاظ یعنی الذکور کے ذریعہ یہ وضاحت فرمائی کہ اس حدیث میں ولد سے نبی ﷺ کی مراد بیٹا ہے۔

4876Mishkaat-al-Masabih

کسی شخص کو اپنے سامنے کسی مسلمان بھائی کی غیبت نہ کرنے دو

وعن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من اغتيب عنده أخوه المسلم وهو يقدر على نصره فنصره نصره الله في الدينا والآخرة . فإن لم ينصره وهو يقدر على نصره أدركه الله به في الدنيا والآخرة . رواه في شرح السنة

اور حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نے فرمایا جس شخص کے سامنے اس کے مسلمان بھائی کی غیبت کی جائے اور وہ اس مسلمان بھائی کی مدد کرے بشرطیکہ وہ مدد کرنے پر قادر ہو تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی مدد کرے گا۔ اور اگر وہ مدد کرنے پر قادر ہونے کے باوجود اس کی مدد نہ کرے تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا مواخذہ کرے گا۔ (شرح السنہ) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے سامنے بھائی کی غیبت کی جا رہی ہے اور اس کے عیوب کو بیان کر کے اس کی حثییت و عزت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہو تو اس کو چاہیے کہ اگر وہ اس پر قادر ہو تو اپنے اس مسلمان بھائی کی ذات و حثییت کو جو نقصان پہنچا ہے اس کو ختم کرنے کی کوشش کرے کیونکہ اس طرح نہ صرف اپنے ایک مسلمان بھائی کی مدد ہوتی ہے بلکہ اپنے آپ کو دنیا و آخرت میں اللہ کی مدد نصرت کا مستحق بنایا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص اپنی اس ذمہ داری پوری کرنے سے گریز کرے تو اس کو جان لینا چاہیے کہ قدرت کا ہاتھ اس کا گریبان پکڑے گا اور اس کو دنیا و آخرت میں مواخذہ الٰہی سے دو چار ہونا ہوگا۔

4877Mishkaat-al-Masabih

کسی شخص کو اپنے سامنے کسی مسلمان بھائی کی غیبت نہ کرنے دو

وعن أسماء بنت يزيد قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من ذب عن لحم أخيه بالمغيبة كان حقا على الله أن يعتقه من النار . رواه البيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت اسماء بنت یزید ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے پیٹھ پیچھے اس کا گوشت کھانے سے باز رکھے یعنی اس کے سامنے اگر کوئی شخص مسلمان بھائی کی برائی اور غیبت کر رہا ہو تو اس کو اس حرکت سے روکے تو اس کا اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ سے آزاد کرے گا۔ (بہیقی) تشریح غیبت کرنے کو بطور گوشت کنایہ کھانے سے تعبیر کیا ہے یعنی جو شخص کسی کی غیبت کرتا ہے تو گویا وہ اس کا گوشت کھاتا ہے چناچہ قرآن کریم میں غیبت کی برائی ان الفاظ میں بیان فرمائی گئی ہے کہ ایحب احد کم ان یاکل۔۔۔۔ الخ۔۔ کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے۔ غیبت کرنے کو گوشت کھانے سے تشبیہ دینے کا سبب یہ ہے کہ غیبت کرنا دراصل اس کی آبرو ریزی کرنا ہے اور آبرو چونکہ جان سے بھی زیادہ پیاری ہوتی ہے لہذا جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کی غیبت کے ذریعہ آبرو ریزی کی اس نے گویا اس کو ہلاک کردیا اور اس کا گوشت کھالیا۔ بظاہر یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ لفظ بالمغیبۃ کا تعلق لفظ ذب سے ہے اور غیبت یعنی عدم موجودگی کے مفہوم میں ہے تاہم احتمال بھی ہے کہ بالمغیبۃ کا تعلق بلحم اخیہ سے ہو اور مفہوم کے اعتبار سے غیبت یعنی پیٹھ پیچھے برائی بیان کرنے کے معنی میں ہو اس صورت میں عبارت گویا یوں ہوں گی من ذب عن اکل لحم اخیہ بالمغیبۃ یعنی جو شخص کسی اپنے مسلمان بھائی کی غیبت کے ذریعہ اس کا گوشت کھانے سے باز رکھے۔ لیکن حدیث کا حاصل دونوں صورتوں میں ایک ہی رہے گا وہ یہ کہ اس کے ذریعہ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے کی غیبت کرنے سے باز رکھنے والے کی فضیلت کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔ دوزخ کی آگ سے آزاد کرے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ اس شخص کو شروع ہی میں دوزخ کی آگ سے نجات یافتہ قرار دیا جائے گا یا یہ کہ اگر وہ شخص اپنے گناہوں کے سبب دوزخ میں داخل کیا جائے گا تو اس کو وہاں عذاب پورا کئے بغیر نکال لیا جائے گا۔

4878Mishkaat-al-Masabih

کسی شخص کو اپنے سامنے کسی مسلمان بھائی کی غیبت نہ کرنے دو

وعن أبي الدرداء قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ما من مسلم يرد عن عرض أخيه إلا كان حقا على الله أن يرد عنه نار جهنم يوم القيامة . ثم تلا هذه الآية ( وكان حقا علينا نصر المؤمنين )رواه في شرح السنة

اور حضرت ابودرداء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو مسلمان کسی مسلمان بھائی کی آبرو ریزی یعنی اس کی غیبت کرنے سے روکے اور اس کا دفعیہ کرے تو اللہ پر اس کا حق ہے کہ وہ اس قیامت کے دن دوزخ کی آگ سے بچائے یا اس سے دوزخ کی آگ کو دور کر دے پھر نبی ﷺ نے اپنے قول کان حقا کو ثابت کرنے کے لئے یہ آیت پڑھی، آیت (وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ ) 30۔ الروم 47) یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومنین کی مدد کرنا ہم پر واجب ہے۔ (شرح السنہ)

4879Mishkaat-al-Masabih

کسی شخص کو اپنے سامنے کسی مسلمان بھائی کی غیبت نہ کرنے دو

وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ما من امرئ مسلم يخذل امرأ مسلما في موضع ينتهك فيه حرمته وينتقص فيه من عرضه إلا خذله الله تعالى في موطن يحب فيه نصرته وما من امرئ مسلم ينصر مسلما في موضع ينتقص فيه عرضه وينتهك فيه حرمته إلا نصره الله في موطن يحب فيه نصرته . رواه أبو داود

اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی اس موقع پر مدد کرے اور غیبت کرنے والے کو غیبت سے نہ روکے جہاں اس کی بےحرمتی کی جاتی ہو اور اس کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچایا جاتا ہو تو اللہ بھی اس موقع پر اس شخص کی مدد نہیں کرے گا جہاں وہ اللہ کی مدد کو پسند کرتا ہے اور جو مسلمان شخص اپنے مسلمان بھائی کی اس موقع پر مدد کرے جہاں اس کی بےحرمتی کی جاتی ہو اور اس کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچایا جاتا ہو تو اللہ بھی اس موقع پر اس شخص کی مدد کرے گا جہاں وہ اللہ کی مدد کو پسند کرتا ہے۔ (ابوداؤد)

4880Mishkaat-al-Masabih

کسی میں کوئی عیب دیکھو تو اس کو چھپاؤ

وعن عقبة بن عامر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من رأى عورة فسترها كان كمن أحيا مؤودة . رواه أحمد والترمذي وصححه

اور حضرت عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان میں کوئی عیب دیکھے یا اس کی برائی کو جانے اور پھر اس کو چھپالے تو اس کا درجہ اس شخص کے درجہ کے برابر ہوگا کہ جو زندہ دفن کی ہوئی لڑکی کو بچالے۔ احمد، ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ تشریح کسی کا عیب چھپانے کو زندہ دفن کی ہوئی لڑکی کو بچانے کے ساتھ تشبیہ دینے کی وجہ علماء نے یہ لکھی ہے کہ جس شخص کی کوئی معیوب بات ظاہر ہوجاتی ہے تو مارے شرم کے گویا مردہ کے ہوجاتا ہے اور یہ تمنا کرتا ہے کہ کاش میں مرجاتا کہ میرا عیب ظاہر نہ ہوتا اور مجھ کو اپنی رسوائی دیکھنی نہ پڑتی لہذا اگر کوئی شخص کسی کے عیب کو چھپاتا ہے تو گویا اس کی اس شرمندگی اور خجالت کو دفع کرتا ہے جو اس کے لئے موت کے برابر ہے اس اعتبار سے کسی کے عیب کو چھپانا اس کو زندگی بخشنے کے مرادف ہے جیسا کہ کسی زندہ لڑکی کو دفن کردیا جائے اور پھر کوئی شخص اس کو عین اس وقت قبر سے نکال لے جب کہ وہ آخری سانس لے رہی ہو پھر زندگی پا جائے۔

4881Mishkaat-al-Masabih

ایک مومن دوسرے مومن کے حق میں آئینہ ہے

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن أحدكم مرآة أخيه فإن رأى به أذى فليمط عنه . رواه الترمذي وضعفه . وفي رواية له ولأبي داود المؤمن مرآة المؤمن والمؤمن أخو المؤمن يكف عنه ضيعته ويحوطه من ورائه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اپنے مسلمان بھائی کے حق میں آئینہ کی طرح ہوتا ہے لہذا اگر تم اس میں کوئی برائی دیکھو تو اس سے اس برائی کو دور کرو یعنی جس مسلمان میں کوئی عیب اور برائی دیکھو یا اس کو غلط راہ پاؤ تو اس راہ راست پر لانے کی ہر ممکن کوشش کرو اور خواہ نرمی و شفقت کے ساتھ خواہ زجر و تنبیہ کے ذریعہ اور خواہ اس کو معتوب کر کے غرضیکہ اصلاح و نصیحت کے جو شرائط و قواعد ہیں ان کے مطابق جس طرح بھی ہو سکے اس کو برائی سے باز رکھنے کی سعی کرو، ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے کہ اس کو ضعیف قرار دیا ہے یعنی ان کے نزدیک اس حدیث کو مذکورہ الفاظ میں روایت کرنا ضعف سے خالی نہیں ہے اور ترمذی کی ایک دوسری روایت نیز ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا آئینہ ہے اور ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے جو اس سے اس چیز برائی اور عیب کو دور کرتا ہے جس میں اس کے لئے نقصان اور ہلاکت ہے اور اس کی عدم موجودگی میں بھی اس کے حقوق و مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ جس طرح آئینہ دیکھنے والا اس آئینہ میں اپنے خد و خال کو دیکھتا ہے اور اس میں جو عیب و خرابی ہوتی ہے اس سے آگاہ ہوجاتا ہے خواہ وہ عیب کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو اسی طرح ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے حق میں اتنا ہی حساس اور بہی خواہ ہونا چاہیے کہ اگر کوئی مسلمان اپنے بھائی مسلمان میں کوئی عیب دیکھے اور اس کو کسی برائی میں مبتلا پائے تو اس کو فورا آگاہ کر دے اور اس عیب و برائی کی مضرت و ہلاکت کو واضح کر دے اور یہ آگاہ واضح کرنا پوشیدہ طور پر ہو تاکہ اس کے اس عیب سے دوسرے لوگ مطلع نہ ہوں اور وہ دنیا کی نظر میں ذلیل و رسواء نہ ہو جیسا کہ آئینہ اپنے دیکھنے والے کو اس عیب سے اس طرح آگاہ کرتا ہے کہ کسی دوسرے شخص کو معلوم نہیں ہوتا نیز اس مسلمان کو بھی چاہیے کہ جب کوئی مسلمان اس کو اس کے کسی عیب سے آگاہ کرے تو فورا اس عیب پر مطلع ہوجائے اور اپنی ذات کو اس کے داغ سے پاک و صاف کرے جیسا کہ کوئی شخص آئینہ میں اپنے چہرے پر کسی داغ و دھبہ کو دیکھ کر فورا مطلع ہوجاتا ہے اور چہرے کی صفائی و زیبائش کی کوشش کرتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ مسلمان کا آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جو قلبی و روحانی تعلق ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی مسلمان اپنے کسی بھائی مسلمان کو کسی برائی، یا کسی عیب اور کسی ناشائستہ حرکت میں مبتلا دیکھے تو اس احساس کے ساتھ کہ یہ میرا بھائی نقصان و تباہی کے راستہ پر لگ گیا ہے اور اس کا نقصان میرا نقصان ہے اور اسی کی تباہی میری تباہی ہے اس کو اس عیب و برائی سے بچانے کی کوشش کرے کیونکہ یہ بہی خواہی اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی و تعاون ایمان و اسلام کا منشاء ہے اور اس ارشاد گرامی ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے تقاضا یہ ہے کہ ہمدردی ملت کی فلاح و بہبود اور دینی و دنیاوی کامرانیوں اور سعادتوں کا سرچشمہ ہے غالباً اسی بناء پر مولانا روم نے فرمایا کہ اس وقت تک خیر و بھلائی پر ہیں جب تک وہ ایک دوسرے کے احوال کی اصلاح کی سعی و کوشش کرتے ہیں جب بھی وہ ایک دوسرے کی طرف سے بےپرواہ اور ایک دوسرے کے احوال سے اتفاق کرلیں گے ہلاکت میں پڑجائیں گے۔ حدیث کے آخری الفاظ ویحوط من وراہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایمانی اخوت کا مظہر ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی عدم موجودگی میں بھی اس کی عزت و آبرو اور اس کی جان و مال کا تحفظ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے چناچہ کوئی مسلمان نہ صرف یہ کہ خود کسی مسلمان کی غیبت اور عیب جوئی نہیں کرتا کیونکہ اگر کسی شخص کسی مسلمان کی غیبت کرتا ہے تو وہ اس غیبت کرنے سے منع کرتا ہے اور اس کی طرف سے عیب جوئی پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے اس کی تردید و تنقیص کرتا ہے اور اس بات کا کوشاں رہتا ہے کہ اس کے سامنے کسی مسلمان بھائی کے جانی و مالی حقوق اور حثییت عرفی کو نقصان نہ پہنچے۔

4882Mishkaat-al-Masabih

تم مسلمان کو عیب جو کے شر سے بچاؤ، اللہ تعالیٰ تمہیں دوزخ کی آگ سے بچائے گا۔

وعن معاذ بن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من حمى مؤمنا من منافق بعث الله ملكا يحمي لحمه يوم القيامة من نار جهنم ومن رمى مسلما بشيء يريد به شينه حبسه الله على جسر جهنم حتى يخرج مما قال . رواه أبو داود

اور حضرت معاذ بن انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کی عزت کو منافق کے شر سے بچائے گا اللہ اس کے لئے ایک فرشتہ بھیجے گا جو اس کو قیامت کے دن دوزخ کی آگ سے بچائے گا اور جو شخص کسی مسلمان پر ایسی چیز یعنی کسی عیب و برائی کی تہمت لگائے گا جس کے ذریعہ اس کے مقصد اس مسلمان کی ذات کو عیب دار کرنا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ کے پل پر قید کر دے گا یہاں تک کہ وہ اس تہمت لگانے کے وبال سے نکل جائے۔ (ابوداؤد) تشریح یہاں منافق سے مراد غیبت کرنے والا ہے اور عیب جو شخص ہے اس کو منافق اس لئے فرمایا گیا ہے کہ غیبت کرنے والا کبھی بھی کسی شخص کے منہ پر اس کی برائی نہیں کرتا بلکہ اگر وہ سامنے ہوتا ہے تو دل میں اس کی طرف سے برائی رکھنے کے باوجود اس کی خیر خواہی کا دم بھرتا ہے اور پیٹھ پیچھے اس پر عیب لگاتا ہے غیبت کرنا اور عیب جوئی منافق کا کام ہے جس کا ظاہر کچھ ہوتا ہے اور باطن کچھ۔ حدیث کے آخری الفاظ حتی یخرج مما قال کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ شخص اپنی اتہام تراشی کے گناہ سے صاف نہ ہوجائے اس وقت تک اس کی گلو خاصی ممکن نہیں ہوگی۔