اللہ کے ساتھ اور اللہ کے لیے محبت کرنے کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 145 · 54 hadiths · Page 3 of 3

4883Mishkaat-al-Masabih

خیر خواہ دوست اور خیر خواہ پڑوسی کی فضیلت

وعن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خير الأصحاب عند الله خيرهم لصاحبه وخير الجيران عند الله خيرهم لجاره . رواه الترمذي والدارمي وقال الترمذي هذا حديث حسن غريب

اور حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے نزدیک ثواب و فضیلت کے اعتبار سے دوستوں میں بہترین دوست وہ ہے جو اپنے دوستوں کا بہترین خیر خواہ ہو اور اللہ کے نزدیک پڑوسیوں میں بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسیوں کا بہترین خیر خواہ ہو۔ (ترمذی، دارمی) ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنے دوستوں اور اپنے ہمسائیوں کے ساتھ بہت زیادہ احسان اور حسن سلوک کرتا ہے اور ہر حالت میں ان کا خیر خواہ رہتا ہے تو وہ نہ صرف بہترین دوست اور بہترین پڑوسی قرار پاتا ہے بلکہ اس کو اللہ کی بارگاہ سے بہت زیادہ ثواب بھی ملتا ہے۔

4884Mishkaat-al-Masabih

زبان خلق کو نقارہ اللہ سمجھو

وعن ابن مسعود قال قال رجل للنبي الله صلى الله عليه وسلم يا رسول الله كيف لي أن أعلم إذا أحسنت أو إذا أسأت ؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم إذا سمعت جيرانك يقولون قد أحسنت فقد أحسنت . وإذا سمعتهم يقولون قد أسأت فقد أسأت . رواه ابن ماجه

اور حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنی نیکو کاری یا بدکاری کو کس طرح معلوم کرسکتا ہوں یعنی اگر میں کوئی ایسا کام کروں جس کی شرعا اچھائی برائی معلوم نہ ہو تو ایسا کون سا ذریعہ ہے جس سے میں یہ معلوم کرسکوں کہ وہ کام کر کے میں نیکو کار بنوں گا یا بدکار؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم اپنے کسی کام کے بارے میں اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو کہ تم نے اچھا کام کیا ہے تو تمہارا کام اچھا ہے اور جب تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو کہ تم نے برا کام کیا ہے تو وہ تمہارا کام برا ہے یعنی تمہارا نیکوکار یا بدکار ہونا تمہارے پڑوسیوں کی گواہی کی ذریعہ معلوم ہوگا۔ (ابن ماجہ) تشریح جب تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو میں پڑوسیوں سے سارے پڑوسی مراد ہیں کیونکہ دو چار پڑوسی تو کسی غلط بات پر اتفاق کرسکتے ہیں لیکن عام طور پر سارے پڑوسیوں کا کسی ناروا فیصلے پر اور غلط بات پر متفق ہونا ممکن نہیں ہے لیکن حضرت شیخ عبدالحق دہلوی نے صراحت بھی کی ہے کہ حدیث کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ اس کے پڑوسی اہل حق، صاحب انصاف اور کسی کام کی اچھائی کو سمجھنے والے ہوں نیز وہ اس شخص سے نہ بہت زیادہ محبت تعلق رکھتے ہوں اور نہ بہت زیادہ دشمنی عداوت۔ یہ حدیث حضرت علی ؓ کے اس عارفانہ قول کی تائید کرتی ہے کہ السنۃ الخلق اقلام الحلق۔ یعنی مخلوق اللہ کی زبان حق تعالیٰ کا قلم ہے یا اس مفہوم کو ہمارے یہاں اس محاورہ، زبان خلق نقارہ خدا، کے ذریعہ ادا کیا جاتا ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ برا کہے جسے عالم اسے برا سمجھو زبان خلق کو نقارہ اللہ سمجھو

4885Mishkaat-al-Masabih

مرتبہ کے مطابق سلوک کرو

وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال أنزلوا الناس منازلهم . رواه أبو داود

اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر ایک آدمی کو اس کے درجہ پر رکھو۔ (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس شخص کی جو حیثیت عرفی اور جس کو جو متعین مرتبہ و درجہ ہے اس کے ساتھ اسی کے مطابق سلوک و تعظیم کرو یہ نہیں کہ ہر ایک کے ساتھ ایک شخص کے ساتھ جیسا برتاؤ کیا جائے کیونکہ کوئی شخص شریف اور صاحب عزت ہوتا ہے اور کوئی شخص ذلیل و کمینہ، اگر دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا تو ظاہر ہے کہ غیر موزوں ہوگا اس لئے تعظیم و تکریم میں ہر ایک کے ساتھ ایسا سلوک کرو۔ جو نہ تو تکلیف پہنچائے اور شکایت پیدا ہونے کا باعث ہو اور نہ درجہ مرتبہ کے غیر مناسب۔ اس سے معلوم ہوا کہ خادم و مخودم کے ساتھ برابری کا سلوک نہ کرنا چاہیے بلکہ دونوں میں سے ہر ایک کو اس کے درجہ پر رکھنا چاہیے اور یہ بات قرآن کی اس آیت سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ ورفعنا بعضھم درجات۔ احیاء العلوم میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓ بیٹھی کھانا کھا رہی تھیں کہ ایک فقیر ان کے سامنے راستے سے گزرا انہوں نے روٹی کا ایک ٹکڑا اس کو بھیج دیا اس کے بعد ایک سوار ادھر سے گزرا تو انہوں نے اسے کہلا بھیجا کہ کھانا حاضر ہے اگر خواہش ہو تو تشریف لا کر تناول فرمائیں حاضرین میں سے ایک شخص نے ان کے اس مختلف برتاؤ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر آدمی کو اس کے درجہ پر رکھو چناچہ وہ فقیر تو روٹی کے ایک ٹکڑے پر خوش ہوگیا، لیکن اگر میں سوار کے ساتھ وہی برتاؤ کرتی جو فقیر کے ساتھ کیا تھا تو وہ تکلیف محسوس کرتا اور اس کی حقارت لازم آتی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو علماء تفاصیل خلفاء وغیرہ کے قائل ہیں ان کا قول صحیح ہے اور یہ حدیث ان کے حق میں سرچشمہ ہدایت ہے اگر کچھ لوگ امراء و اغنیاء اور ارباب اقتدار کے تئیں اخیتار کئے جانے والے اعزازو اکرام کو اس حدیث کے ذریعہ ثابت کرنے کی کوشش کریں تو ان کی یہ کوشش گمراہی کے مترداف ہے کیونکہ علماء تو اہل علم و فضل کو ان کے علم و فضل کے اعتبار سے ایک دوسرے پر فضیلت دیتے ہیں اور اس فضیلت دینے میں کسی کی حقارت و توہین کا جذبہ ہرگز شامل نہیں ہوتا جب کہ دنیا دار لوگ غریب و مسکین اور محتاج لوگوں کے ساتھ تو حقارت و نفرت کا برتاؤ کرتے ہیں چاہے کوئی غریب شخص علم و فضل کے بڑے سے بڑے درجے کا حامل ہی کیوں نہ ہو اور امراء مقتدرین کی تعظیم و عزت کرتے ہیں چاہے کتنے ہی بڑے فاسق و فاجر کیوں نہ ہوں، اگر ایسے دنیا دار لوگ اس حدیث سے استدلال کرنے لگیں تو اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ ایک طرف تو وہ علماء ہیں جنہیں اس حدیث سے استدلال و استنباط میں اللہ نے سرفراز کیا اور دوسری طرف وہ بدنصیب دنیا دار ہیں جن کو گمراہ کیا کل انام مشربھم فھم کل فریق مذھبم یضل بہ کثیرا ویھدی بہ کثیرا۔

4886Mishkaat-al-Masabih

سچ بولو، امانت ادا کرو، اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو

عن عبد الرحمن بن أبي قراد أن النبي صلى الله عليه وسلم توضأ يوما فجعل أصحابه يتمسحون بوضوئه فقال لهم النبي صلى الله عليه وسلم ما يحملكم على هذا ؟ قالوا حب الله ورسوله . فقال النبي صلى الله عليه وسلم من سره أن يحب الله ورسوله أويحبه الله ورسوله فليصدق حديثه إذا حدث وليؤد أمانته إذا اؤتمن وليحسن جوار من جاوره

حضرت عبدالرحمن ابن ابی قراد سے روایت ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ نے وضو کیا تو صحابہ نے حضور کے وضو کے پانی کو اپنے جسم پر ملنا شروع کردیا آنحضرت ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا تم یہ جو کچھ کر رہے ہو اس کا سبب کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کی محبت اس کا باعث ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کریں تو اس کو چاہیے کہ جب بولے تو سچ بولے جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس امانت کو ادا کرے اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھی ہمسائیگی کا ثبوت دے۔ تشریح وضو کا پانی سے مراد اکثر علماء کے نزدیک تو وہ پانی ہے جو وضو کرنے کے بعد برتن میں بچ گیا تھا اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ پانی ہے جو وضو کے وقت حضور کے اعضاء مبارک سے جدا ہو کر گر رہا تھا۔ اویحبہ اللہ ورسولہ میں حرف اَو تنویع کے لئے ہے! واضح رہے کہ ایک درجہ تو بندہ کا اللہ و رسول سے محبت رکھنا ہے اور دوسرا درجہ اللہ و رسول کا بندہ سے محبت رکھنا ہے ظاہر ہے کہ دوسرا درجہ پہلے درجہ سے کہیں بالا ہے لیکن حقیقت میں دونوں درجے ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں بایں طور کہ ہر کوئی اپنے دوست دار کو دوست رکھتا ہے یا یہ کہ حرف او در اصل لفظ بل کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا کہ جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھے بلکہ جو شخص پسند کرتا ہو کہ اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرے تو اس کو چاہیے کہ۔۔۔ الخ۔۔ یہ قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے ایک احتمال یہ بھی ہے کہ حرف اَو راوی کے شک کو ظاہر کرتا ہے یعنی آنحضرت ﷺ نے یہاں یا تو یہ فرمایا تھا کہ جو شخص اللہ کے رسول سے محبت رکھنا چاہتا ہو یا یہ فرمایا تھا کہ جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ اور اللہ کا رسول اسے محبت کرے۔ بہرحال آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کا دعوی ایسی باتوں کے ذریعہ کرنا کہ جو نفس پر چنداں شاق نہیں، کوئی حثییت نہیں رکھتا بلکہ اس دعوے کے ثبوت کے لئے ضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے جن چیزوں کے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ان کو اختیار کیا جائے اور جن چیزوں سے منع کیا ہے ان سے اجتناب کیا جائے خصوصا ان احکام پر زیادہ توجہ و مستعدی اور زیادہ پابندی کے ساتھ عمل کیا جائے جن کا تعلق لوگوں کے حقوق اور باہمی معاملات سے اور حقوق و معاملات بھی وہ کہ جن سے اکثر و بیشتر واسطہ رہتا ہے جیسے سچ بولنا اور امانت کو ادا کرنا اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھے سلوک اور آداب ہمسائیگی کو لازم پکڑنا۔ احتمال یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے شاید ان صحابہ کو مذکورہ بالا چیزوں کے تعلق سے ادائے حقوق کی کسی تقصیر و کوتاہی میں مبتلا پایا ہوگا اس لئے خاص طور پر آپ نے ان ہی چیزوں کا ذکر فرمایا۔

4887Mishkaat-al-Masabih

بھوکے پڑوسی سے صرف نظر کمال ایمان کے منافی ہے۔

وعن ابن عباس قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ليس المؤمن بالذي يشبع وجاره جائع إلى جنبه . رواه البيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ کامل مومن نہیں ہوسکتا جو پیٹ بھر کر کھالے اور اس کا ہمسایہ اس کے پہلو میں بھوکا ہو، دونوں روایتوں کو بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔ تشریح ظاہر ہے کہ وہ مسلمان کمال ایمان کے درجہ کو کس طرح پہنچ سکتا ہے جو خود تو پیٹ بھر کر کھانا کھائے اور اس کا پڑوسی بالکل بھوکا رہے کسی کامل مسلمان کے بارے میں یہ تصور بھی کیا جاسکتا کہ یہ جاننے کے باوجود کہ اپنے پڑوسی میں فلاں شخص کو محتاجگی و افلاس اور شدت بھوک نے مظطرب و بےحال کردیا ہے وہ اس کی خبر نہ لے اور اس کو اپنے کھانے میں شریک نہ کرے اس کے پہلو میں۔ اس جملہ کے ذریعہ گو اس طرف اشارہ ہے کہ جو شخص اپنے پڑوسی کے حالات سے بیخبر و لاپرواہ ہو اس سے بڑا غافل اور لاپرواہ کون ہوسکتا ہے۔

4888Mishkaat-al-Masabih

اپنی بد زبانی کے ذریعہ ہمسایوں کو ایذاء پہنچانے والی عورت کے بارے میں وعید

وعن أبي هريرة قال قال رجل يا رسول الله إن فلانة تذكر من كثرة صلاتها وصيامها وصدقتها غير أنها تؤذي جيرانها بلسانها . قال هي في النار . قال يا رسول الله فإن فلانة تذكر قلة صيامها وصدقتها وصلاتها وإنها تصدق بالأثوار من الإقط ولا تؤذي جيرانها . قال هي في الجنة . رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن مجلس نبوی میں کسی شخص نے عرض کیا، یا رسول اللہ فلاں عورت کا زیادہ نماز، روزے اور کثرت صدقہ و خیرات کی وجہ سے بڑا چرچا ہے یعنی لوگ کہتے ہیں کہ وہ عورت بہت زیادہ عبادت کرتی ہے اور کثرت سے صدقہ و خیرات کرتی رہتی ہے لیکن وہ اپنی زبان کے ذریعہ اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ وہ دوزخ میں جائے گی۔ یعنی وہ عورت چونکہ اپنی زبان اور گالم گلوچ کے ذریعہ اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے اس لئے وہ شوزخ میں ڈالی جائے گی اور باوجودیکہ نماز روزہ اور صدقہ و خیرات افضل ترین عبادات میں سے ہیں لیکن اس کی یہ عبادتیں بھی اس کے گناہ کا کفارہ نہیں ہوں گی اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ فلاں عورت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت کم روزے رکھتی ہے بہت کم صدقہ دیتی ہے اور بہت کم نماز پڑھتی ہے اور حقیقت میں اس کا صدقہ و خیرات قروط کے چند ٹکڑوں سے آگے نہیں بڑھتا لیکن وہ اپنی زبان کے ذریعہ اپنے ہمسائیوں کو تکلیف نہیں پہنچاتی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ وہ عورت جنت جائے گی۔ (احمد وبہیقی) تشریح ا نحضرت ﷺ نے ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ اصل میں دین کا مدار جس چیز پر ہے وہ اکتساب فرائض اور اجتناب معاصی ہے یعنی انسان کی اخروی فلاح نجات محض اس بات پر منحصر ہے کہ وہ دینی فرائض و واجبات پر عمل کرے اور گناہ و معصیت سے پرہیز کرے اور گناہ و معصیت خواہ ترک فرائض و واجبات کی صورت میں ہوں یا بد عملیوں کی شکل میں اس بات سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں کہ فضول یعنی نفلی عبادات و طاعات کو اختیار کیا جائے اور اصول یعنی واجبات کو ضائع کیا جائے جیسا کہ اکثر علماء اور صلحاء اس کمزوروی میں مبتلا ہیں چناچہ علماء تو ان چیزوں کو ترک کرتے ہیں جن پر عمل کرنا واجب ہے اور صلحاء اس علم کو حاصل نہیں کرتے جس کو حاصل کرنا واجب ہے گویا دونوں طبقے ترک واجب کی معصیت کے مرتکب ہیں البتہ وہ مشائخ اور صوفیاء جو علم و عمل دونوں کے حامل ہوتے ہیں وہ واجبات پر عمل کرنے کو جو درجہ دیتے ہیں وہی ترک واجب کی معصیت سے اجتناب کو بھی دیتے ہیں بلکہ ایک طرح سے ان کے نزدیک اجتناب کی اہمیت مقدم ہے اور وہ حکمائے طب کے اصول کو اختیار کرتے ہیں کہ تحلیہ پر تخلیہ مقدم ہے لہذا جس طرح اطباء مریض کو پرہیز پہلے کراتے ہیں اور دواء بعد میں دیتے ہیں اس طرح وہ مشائخ و صوفیا بھی سالکیں طریقیت کے لئے پہلی منزل توبہ قرار دیتے ہیں اور حقیقت بھی ہے کہ جس طرح مریض مضر چیزوں سے پرہیز نہ کرے تو لاکھ دوائیں بھی اس کے لئے بےفائدہ ہیں اسی طرح کوئی مسلمان گناہ معصیت سے اجتناب نہ کرے اور ترک واجبات سے دامن نہ بچائے تو لاکھ عبادات کرے اور نوافل و ادوار میں مشغول ہو اس کو خاص فائدہ نہیں ہوگا چناچہ کلمہ توحید میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ پہلے نفی ہے پھر اثبات اور یہ کہ صفات ثبوتیہ پر صفات سلبیہ مقدم ہیں کیونکہ صفات ثبوتیہ کا حصول تو لازم آتا ہے لیکن ثبوتیہ سے صفات سے سلبیہ کا حصول لازم نہیں آتا۔

4889Mishkaat-al-Masabih

کون شخص بہتر ہے اور کون بدتر

وعنه قال إن رسول الله صلى الله عليه وسلم وقف على ناس جلوس فقال ألا أخبركم بخيركم من شركم ؟ . قال فسكتوا فقال ذلك ثلاث مرات . فقال رجل بلى يا رسول الله أخبرنا بخيرنا من شرنا . فقال خيركم من يرجى خيره ويؤمن شره وشركم من لا يرجى خيره ولا يؤمن شره . رواه الترمذي والبيهقي في شعب الإيمان وقال الترمذي هذا حديث حسن صحيح

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے بیٹھے ہوئے صحابہ کے سامنے کھڑے ہو کر فرمایا کیا میں تمہیں یہ بتاؤں کہ تم میں نیک ترین کون شخص ہے اور تمہارے آدمیوں کو تمہارے بدترین آدمیوں سے جدا کر کے دکھا دوں؟ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ صحابہ یہ سن کر خاموش رہے کیونکہ انہیں خوف ہوا کہ اگر حضور نے عام مفہوم اور عنوان کلی کے طور پر بتانے کے بجائے مشخص و متعین یعنی ایک ایک شخص کا نام لے کر بتادیا کہ فلاں نیک اور فلاں بد تو اس سے بڑی ذلت اور رسوائی کیا ہوگی یہاں تک کہ جب حضور نے مذکورہ ارشا کو تین بار فرمایا تو ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں بتا دیجیے اور ہمارے نیک آدمیوں کو ہمارے بد آدمیوں سے ممیز و ممتاز کردیں، حضور نے فرمایا تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جس سے لوگ بھلائی کی توقع کرتے ہیں اور اس کے شر سے محفوظ و مامون ہیں اور تم میں سے بدترین وہ شخص ہیں جس سے لوگ بھلائی کی توقع نہ کریں اور اس کے شر سے محفوظ و مامون نہ ہوں، (ترمذی، بہیقی) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تشریح بہترین اور بدترین شخص کی پہچان تو یہ ہے کہ جس کو حدیث میں فرمایا گیا ہے، رہا وہ شخص جس سے لوگ بھلائی کی امید تو رکھتے ہوں، لیکن اس کے شر سے محفوظ و مامون نہ ہوں یا وہ شخص کہ جس کے شر سے تو لوگ محفوظ و مامون ہوں مگر اس سے بھلائی کی توقع نہ رکھتے ہوں تو ایسا شخص بین بین ہوگا کہ اس کو نہ بہتر کہیں گے نہ بدترین۔

4890Mishkaat-al-Masabih

کامل مومن و مسلمان کون ہے؟

وعن ابن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله تعالى قسم بينكم أخلاقكم كما قسم بينكم أرزاقكم إن الله يعطي الدنيا من يحب ومن لا يحب ولا يعطي الدين إلا من أحب فمن أعطاه الله الدين فقد أحبه والذي نفسي بيده لا يسلم عبد حتى يسلم قلبه ولسانه ولا يؤمن حتى يأمن جاره بوائقه

اور حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق کو تقسیم فرمایا ہے جس طرح تمہارے رزق کو تمہارے درمیان تقسیم فرمایا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ دنیا میں تو اس شخص کو بھی دیتا ہے جس کو وہ دوست رکھتا ہے جیسے حضرت سلمان فارسی اور حضرت عثمان وغیرہ اور اس شخص کو بھی دیتا ہے جس کو وہ دوست نہیں رکھتا۔ لہذا اللہ تعالیٰ کا کسی شخص کو دین عطا فرمانا اس بات کی علامت ہے کہ اس کو اس نے دوست رکھا ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کوئی بندہ اس وقت کامل مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کا دل اور زبان مسلمان نہ ہوں اور کوئی بندہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ و مامون نہ ہو۔ تشریح دل کا اسلام تو یہ ہے کہ اس کو باطل عقائد و نظریات سے پاک رکھا جائے اور زبان کا اسلام یہ ہے کہ اس کو لایعنی باتوں سے محفوظ رکھا جائے لیکن زیادہ وقت صحیح بات ہے کہ دل اور زبان کے مسلمان ہونے سے مراد وہ تصدیق اقرار ہے جس پر ایمان کی بنیاد ہے اور اس کے ذریعہ گویا اس طرح اشارہ مقصود ہے کہ ظاہر و باطن کا ایک ہونا کمال ایمان و اسلام کی دلیل ہے اور چونکہ دل اور زبان ہی ایمان و اسلام کا مدار ہیں اس لئے خاص طور پر ان دونوں کا ذکر کیا گیا۔

4891Mishkaat-al-Masabih

باہمی الفت ومحبت، اتحاد ویکجہتی کا ذریعہ ہے۔

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال المؤمن مألف ولا خير فيمن لا يألف ولا يؤلف رواهما أحمد والبيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مسلمان، الفت، محبت کا مقام و مخزن ہے اور اس شخص میں بھلائی نہیں ہے جو الفت نہیں کرتا اور نہ اس شخص سے الفت کی جائے یعنی جو شخص ایسا ہو کہ نہ تو وہ مسلمانوں سے الفت و محبت کرتا ہو اور نہ مسلمان اس سے محبت و الفت کرے تو وہ کسی کام کا نہیں، ان دونوں روایتوں کو احمد اور شعب الایمان میں بہیقی نے نقل کیا ہے۔ تشریح لفظ مالف مصدر میمی ہے اور فاعل و مفعول دونوں کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے گویا کہ یہ لفظ مفہوم کے اعتبار سے یوں یالف و یولف یعنی مومن کی شان یہ ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ الفت و محبت کرتا ہے اور دوسروے اس سے الفت محبت کرتے ہیں چناچہ ایک روایت میں اسی طرح منقول ہے کہ اور یہاں بھی اس حدیث کے اخری الفاظ اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ لیکن طیبی نے کہا ہے کہ یہ احتمال کہ یہ لفظ مالک مصدر بطریق مبالغہ ہو جیسا کہ کہا جائے رجل عدل اس صورت معنی ہوں گے مومن الفت کرنے والا اور یا کہ مالف اسم مکان ہے جیسا کہ ترجمہ میں ظاہر کیا گیا ہے اس صورت میں اس طرف اشارہ ہے کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے مسلمان کے ساتھ محبت و موانست اور الفت و شفقت ہی کے ذریعہ اتحاد و یگانگت اور اتفاق و یکجہتی کی دولت حاصل کرسکتے ہیں اور اگر باہمی الفت و محبت کی روح ختم ہوجائے اور تو پھر ان میں تفرقہ پڑجائے گا اور وہ انتشار کا شکار ہوجائیں گے۔ چناچہ اللہ نے اس آیت کریمہ ( اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَا ءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِھ اِخْوَانًا) 3۔ ال عمران 103)۔ کے ذریعہ باہمی الفت و موانست کو مسلمانوں کے حق میں ایک زبردست نعمت قرار دیا ہے اور قرآن میں اس مضمون کو کئی جگہ پر بیان کیا گیا ہے۔

4892Mishkaat-al-Masabih

مسلمانوں کی حاجت روائی کی فضیلت

وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من قضى لأحد من أمتي حاجة يريد أن يسره بها فقد سرني ومن سرني فقد سر الله ومن سر الله أدخله الله الجنة

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی میری امت میں سے کسی شخص کی کسی دنیاوی حاجت و ضرورت کو پورا کریں گے اور اس سے اس کا مقصد اس کو خوش کرنا ہے تو اس نے مجھ کو خوش کیا کیونکہ مسلمان کی خوشی ہوتی ہے اور جس نے مجھ کو خوش کیا اس نے اللہ کو خوش کیا اور جس نے اللہ کو خوش کیا اس کو اللہ جنت میں داخل کرے گا۔ تشریح مسلمان کی حاجت روائی کی فضیلت کو جامع صغیر کی روایت میں جس کو خطیب نے حضرت انس ؓ سے نقل کیا ہے یوں بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کی کسی حاجت و ضرورت کو پورا کیا تو اس کو حج وعمرہ کرنے والے شخص کی ثواب مانند ثواب ملتا ہے۔

4893Mishkaat-al-Masabih

مسلمان کی فریاد رسی کی فضیلت

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أغاث ملهوفا كتب الله له ثلاثا وسبعين مغفرة واحدة فيها صلاح أمره كله وثنتان وسبعون له درجات يوم القيامة . وعنه وعن عبد الله قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الخلق عيال الله فأحب الخلق إلى الله من أحسن إلى عياله . روى البيهقي الأحاديث الثلاثة في شعب الإيمان

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مظلوم کی فریاد رسی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے بہتر بخششیں لکھ دیتا ہے اور ان میں سے ایک بخشش تو وہ ہے جو اس کے تمام امور کی اصلاح کی ضامن بن جاتی ہے اور باقی بہتر بخششیں قیامت کے دن اس کے درجات کی بلندی کا سبب ہوں گی۔ تشریح عیال کے معنی متعلقین کے ہیں اور کسی شخص کے متعلقین کا اطلاق ان افراد پر ہوتا ہے جن کی پرورش، جن کا کھانا پینا اور جن کی ضروریات زندگی کی تکمیل اس شخص کے ذمہ ہے اور وہ ان کے اخراجات اپنے روپیہ پیسے سے پورا کرتا ہے لہذا اس معنی میں عیال کی نسبت غیر اللہ کی طرف تو مجازی ہے اللہ کی طرف حقیقی ہے کیونکہ رزاق مطلق حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی ہے جیسا کہ خلاق مطلق اسی کی ذات ہے ارشاد ربانی ہے۔ ومامن دابۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔۔ زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔

4894Mishkaat-al-Masabih

حقوق ہمسائیگی کی اہمیت

وعن عقبة بن عامر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أول خصمين يوم القيامة جاران . رواه أحمد

اور حضرت عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے دو جھگڑنے والے دو ہمسایہ ہوں گے۔ (احمد) تشریح مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اہل دوزخ کے بعد حقوق کی عدم ادئیگی سے متعلق جو معاملہ سب سے پہلے پیش کیا جائے گا وہ ان دو ہمسایوں کا ہوگا جنہیں آپس میں ایک دوسرے سے ایذا رسانی یا حقوق واجب الادا میں تقصیر و کوتاہی وغیرہ سے دوچار ہونا پڑا ہوگا۔ واضح رہے کہ ایک روایت میں یوں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جس محاسبہ کا سامنا کرنا پڑے گا وہ نماز ہے نیز ایک روایت میں یہ منقول ہے کہ قیامت کے دن بندہ کے سب سے پہلے جس معاملہ کا فیصلہ کیا جائے گا وہ خون کا معاملہ ہے اور مذکورہ بالا روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جس معاملہ کا فیصلہ کیا جائے گا وہ ہمسایوں کی مخاصمت کا ہوگا چونکہ ان روایتوں میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے اس لئے علماء نے ان تمام روایتوں کے درمیان تطبیق دی ہے حقوق اللہ کے سلسلہ میں سب سے پہلے خون کے معاملہ کا فیصلہ کیا جائے گا کیونکہ کسی کو ناحق خون بہانا بہت بڑا گناہ ہے رہی مذکوہ بالا حدیث تو لفظ خصمین کے ذریعہ یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ یہ حدیث دونوں فریق کے ایک دوسرے کے خلاف دعوی رکھنے کے ساتھ مقید ہے یعنی جو لوگ ایسے ہیں ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کے حقوق کی ادئیگی میں کوتاہی کا تعلق دونوں فریق سے نہ ہو بلکہ کسی ایک سے ہو تو اس صورت میں کہا جائے گا کہ دونوں فریق پر خصمین کا اطلاق بطریق تغلیب اور مشاکلت کے ہے جیسا کہ قرآن کے یہ الفاظ، آیت (وجزاء سیئیۃ سیئتہ مثلھا)۔ اس کی مثال حاصل یہ ہے کہ مذکورہ بالا روایتوں میں جن معاملات کا ذکر کیا گیا ہے ان میں ہر ایک میں اولیت اضافی ہے جس کی وجہ سے حقیقی طور پر کوئی باہمی تضاد لازم نہیں آتا۔

4895Mishkaat-al-Masabih

سنگدلی کا علاج

وعن أبي هريرة أن رجلا شكا إلى النبي صلى الله عليه وسلم قسوة قلبه فقال امسح رأس اليتيم وأطعم المسكين . رواه أحمد

اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک شخص نے اپنی سنگدلی کی شکایت کی اور اس کا علاج پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کرو اور مسکین کو کھانا کھلایا کرو۔ (احمد)

4896Mishkaat-al-Masabih

بیوہ بیٹی کی کفالت

وعن سراقة بن مالك أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ألا أدلكم على أفضل الصدقة ؟ ابنتك مردودة إليك ليس لها كاسب غيرك . رواه ابن ماجه

اور حضرت سراقہ بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں بہترین صدقہ کے بارے میں بتاؤں اور وہ صدقہ اپنی بیٹی کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے جو تمہارے پاس واپس بھیج دی گئی ہے۔ اور جس کے لئے تمہارے علاوہ کوئی کمانے والا نہیں ہے یعنی اگر تمہاری بیٹی کو اس کے شوہر نے طلاق دیدی ہو اور نہ تو اس کے پاس کوئی ایسا ذریعہ ہو اس کے لئے گزر بسر کا سامان فراہم کرسکے بلکہ صرف تم ہی اس کے لئے واحد سہارا بن سکتے ہو اور وہ اسی لئے ناچار ہو کر تمہارے گھر آن پڑی ہو تو تمہاری طرف سے اس کی کفالت اور اس کے ساتھ حسن سلوک ایک بہترین صدقہ ہے۔ (ابن ماجہ)