اللہ کے ساتھ اور اللہ کے لیے محبت کرنے کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 145 · 54 hadiths · Page 1 of 3

4843Mishkaat-al-Masabih

جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ کی اس پر رحمت نازل نہیں ہوتی

عن جرير بن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يرحم الله من لا يرحم الناس . متفق عليه

حضرت جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم نہیں کرتا (یعنی اس کو اپنی خاص و کامل رحمت کا مستحق نہیں گردانتا) جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔ (بخاری ومسلم)

4844Mishkaat-al-Masabih

بچوں کو پیار کرنے کی فضیلت

وعن عائشة قالت جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال أتقبلون الصبيان ؟ فما نقبلهم . فقال النبي صلى الله عليه وسلم أو أملك لك أن نزع الله من قلبك الرحمة . متفق عليه

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ کی خدمت میں ایک دیہاتی حاضر ہوا اور جب اس نے صحابہ کو دیکھا کہ وہ بچوں کو چومتے اور پیار کرتے ہیں تو کہنے لگا کہ کیا تم لوگ بچوں کو چومتے ہو؟ ہم تو بچوں کو نہیں چومتے، آنحضرت ﷺ نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ کیا میں اس بات پر قادر ہوسکتا ہوں کہ اللہ نے تمہارے دل میں سے جس رحم و شفقت کو نکال دیا ہے اس کو روک دوں۔ (بخاری ومسلم) تشریح رسول اللہ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ جب اللہ نے تمہارے دل کو رحمت و شفقت اور پیار محبت سے خالی کردیا ہے تو یہ میرے بس کی بات نہیں ہے کہ تمہارے دل میں رحم و شفقت اور محبت کا جذبہ پیدا کروں، یہ معنی اس صورت میں ہیں جب کہ لفظ ان الف کے ساتھ جیسا کہ اکثر راویوں نے نقل کیا ہے کہ اور اگر الف کے زیر کے ساتھ یعنی اِنْ ہو تو یہ معنی ہوں گے کہ میں کیا کرسکتا ہوں اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم کا جذبہ نکال دیا ہے تاہم دونوں صورتوں میں روایت کا مفہوم ایک ہی تفاوت فرق محض اعراب کی بنیاد پر ہے حدیث کا مقصد بےرحمی وبے مروتی اور سخت دلی کے خلاف نفرت کا اظہار کرنا اور اس قسم کے لوگوں کو سختی کے ساتھ مشتبہ کرنا ہے نیز اس ارشاد گرامی میں اس طرح بھی اشارہ ہے کہ دلوں میں رحم و شفقت کے جذبات کا ہونا اللہ کا ایک بہترین عطیہ ہے اور اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور اگر وہ کسی شخص کے دل سے رحم و شفقت اور محبت و مروت کے جذبات کو نکال دے تو یہ پھر کسی کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ اس شخص کے دل کو ان جذبات کی دولت عطا کر دے۔

4845Mishkaat-al-Masabih

لڑکی ماں باپ کے پیار ومحبت اور حسن سلوک کی زیادہ مستحق ہے

وعنها قالت جاءتني امرأة ومعها ابنتان لها تسألني فلم تجد عندي غير تمرة واحدة فأعطيتها إياها فقسمتها بين ابنتيها ولم تأكل منها ثم قامت فخرجت . فدخل النبي صلى الله عليه وسلم فحدثته فقال من ابتلي من هذه البنات بشيء فأحسن إليهن كن له سترا من النار . متفق عليه

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک دن میرے پاس ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کی دو بچیاں بھی تھیں اس نے مجھ سے سوال کیا کہ (یعنی مجھ سے کچھ مانگا) لیکن اس کو میرے پاس سے ایک کھجور کے علاوہ اور کچھ بھی نہ مل سکا۔ چناچہ میں نے اس کو وہی ایک کھجور دے دی اس نے اس کھجور کو آدھی آدھی اپنی دونوں بچیوں کو بانٹ دیا اور خود اس میں سے کچھ نہیں کھایا اور پھر وہ اٹھ کر چلی گئی اتنے میں نبی گھر میں تشریف لائے میں نے آپ سے اس عورت کا یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا جو شخص ان بچیوں میں سے کچھ یعنی ایک یا دو وریا اس سے زیادہ لڑکیوں کی وجہ سے ابتلاء و آزمائش سے کیا جائے وہ ان بچیوں کے ساتھ احسان و سلوک کرے تو وہ بچیاں اور ان کے ساتھ کی گئی نیکی اس کے لئے دوزخ کی آگ سے پردہ بنیں گی۔ (بخاری ومسلم) تشریح یعنی وہ بچیاں اور ان کے ساتھ کی گئی نیکی اس شخص اور دوزخ کی آگ کے درمیان حائل ہوں گی کہ وہ شخص اپنی ان بچیوں کی وجہ سے دوزخ کی آگے محفوظ رہے گا اور بچیوں کے ساتھ حسن سلوک کی یہ فضیلت اس بنا پر ہے کہ لڑکوں کی بہ نسبت لڑکیاں یا وہ اپنے ماں باپ کے پیار محبت اور ان کے حسن سلوک کی مستحق ہوتی ہیں۔ اس بارے میں علماء کا اختلافی قول ہے کہ ابتلاء و آزمائش کا محمول محض لڑکوں کا پیدا ہونا ہے یا کسی ایسی حالت میں مبتلا ہونا ہے جو لڑکیوں کی وجہ سے کسی محنت و تکلیف اور پریشانی و عسرت کے سامنے آنے اور اس پر صبر و تحمل کرنے کی صورت میں پیش آئے چناچہ پہلی صورت یعنی ابتلاء آزمائش کا تعلق لڑکیوں کی پیدائش سے ہونا زیادہ صحیح ہے اور اس صورت میں کہا جائے گا کہ جو لوگ اپنے ہاں لڑکیاں پیدا ہونے پر دل گرفتگی اور ناگواری میں مبتلا ہوتے ہیں وہ اس حقیقت سے بالکل بیخبر ہیں کہ لڑکیاں اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی رحمت ہیں اور ان کی پرورش و دیکھ بھال اور ان کے ساتھ پیار و محبت کا سلوک کرنا ایک بہت بڑی اخروی سعادت ہے اس بارے میں بھی علماء کے اختلافی قول ہیں کہ احسان و سلوک سے مراد نان نفقہ ہے جو باپ پر واجب ہوتا ہے یا اس واجب نان نفقہ کے علاوہ مزید حسن سلوک کرنا مراد ہے چناچہ راجح قول یہ ہے کہ یہ دوسرے معنی زیادہ صحیح ہیں نیز واضح رہے کہ مذکورہ احسان و سلوک کی شرط یہ ہے کہ وہ شریعت کے موافق ہو۔ علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ بچیوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کا مذکورہ اجر اس صورت میں حاصل ہوتا ہے جبکہ اس احسان و سلوک کا سلسلہ برابر جاری رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بچیاں اپنی شادی بیاہ کی وجہ سے یا کسی اور صورت میں ماں باپ کی کفالت اور اس کے احسان و سلوک سے بےنیاز ہوجائیں۔

4846Mishkaat-al-Masabih

بچیوں کی پرورش کرنے کی فضیلت

وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من عال جاريتين حتى تبلغا جاء يوم القيامة أنا وهو هكذا وضم أصابعه . رواه مسلم . ( متفق عليه )

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص دو بیٹیوں کی پرورش اور دیکھ بھال کرے یہاں تک کہ وہ بلوغ کی حد تک پہنچ جائیں یا شادی بیاہ کے بعد اپنے خاوند کے پاس چلی جائے تو وہ شخص قیامت کے روز اس طرح آئے گا کہ میں اور وہ اس طرح ایک دوسرے کے قریب ہوں گے یہ کہہ کر آپ نے اپنی انگلیوں کو ملا کر دکھایا۔ (مسلم) تشریح آپ نے اپنے اور اس شخص کے درمیان کمال قرب اور اتصال کو ظاہر کرنے کے لئے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملا کر دکھایا جس طرح تم ان دونوں انگلیوں کو ایک دوسرے سے ملی ہوئی دیکھ رہے ہو اسی طرح قیامت کے دن میں اور وہ شخص ایک دوسرے کے قریب ہوں گے اور محشر میں ہم دونوں ایک جگہ اور ایک جگہ اور ایک ساتھ ہوں گے یا وہ میرے ساتھ جنت میں داخل ہوگا۔

4847Mishkaat-al-Masabih

بیوہ اور مسکین کی خدمت کا ثواب

وعن أبي هريرة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الساعي على الأرملة والمسكين كالساعي في سبيل الله وأحسبه قال كالقائم لا يفتر وكالصائم لا يفطر . متفق عليه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیوہ عورت اور مسکین کی خبر گیری کرنے والا اس شخص کے مانند ہے جو اللہ کی راہ میں سعی کرے یعنی وہ شخص بیوہ عورت اور مسکین کی دیکھ بھال اور خبر گیری کرتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کر کے ان کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے تو اس ثواب کے برابر ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد اور حج کرنے والے کو ملتا ہے اور میرا گمان ہے کہ انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ بیوہ عورت اور مسکین کی خبر گری کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جو نماز و عبادت کے شب بیداری کرتا ہے اور اپنی شب بیداری میں نہ کوئی سستی کرتا ہے اور نہ کسی فتور اور نقصان کو گوارا کرتا ہے اور اس شخص کے مانند ہے جو دن کو کبھی افطار نہیں کرتا کہ جس کو صائم الدھر کہا جاتا ہے۔ (بخاری مسلم) تشریح فقیر و محتاج بھی مسکین کے حکم میں داخل ہے بلکہ بعض حضرات کے نزدیک اس کو مسکین پر ترجیح حاصل ہے۔ اور میرا گمان ہے کہ انہوں نے یہ بھی بیان ان الفاظ کی نسبت حضرت عبداللہ ابن سلمہ کی طرف کی جاتی ہے جو بخاری ومسلم کے شیخ اور اس حدیث کے راوی ہیں جس کو انہوں نے حضرت امام مالک سے روایت کیا ہے اس بات کی صراحت امام بخاری نے کی ہے بہرحال ان الفاظ کے ذریعہ عبداللہ بن سلمہ ؓ کا مطلب یہ ہے کہ میرا گمان ہے کہ اس حدیث کے روای حضرت امام مالک نے یہ الفاظ کالقائم لایفتر۔ نقل کئے ہیں لیکن اگر بخاری کی مذکورہ صراحت کے سامنے نہ ہو تو مصابیح اور مشکوہ کے ظاہری الفاظ سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ یہ جملہ اور میرا گمان ہے کہ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا ہے اور ابوہریرہ ؓ اس جملہ کے ذریعہ یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ میرے گمان کے مطابق پر آنحضرت ﷺ نے کالقائم لا۔۔۔۔۔۔۔ کے الفاظ بھی ارشاد فرمائے تھے یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس موقع پر حضرت ابوہریرہ ؓ نے اس شک کو ظاہر کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یا تو کا الساعی فی سبیل اللہ کے الفاظ ارشاد فرمائے تھے یا کالقائم کے الفاظ چناچہ اس کی تائید جامع صغیر کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ جس کو احمد، شیخین، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ سے نقل کیا گیا ہے۔ اور جس کے الفاظ یوں ہیں کہ الساعی علی الارملۃ والمساکین کالمجاھدین فی سبیل اللہ والقائم اللیل الصائم النھار۔

4848Mishkaat-al-Masabih

یتیم کی پرورش کرنے کی فضیلت

وعن سهل بن سعد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا وكافل اليتيم له ولغيره في الجنة هكذا وأشار بالسبابة والوسطى وفرج بينهما شيئا . رواه البخاري

اور حضرت سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا کہ وہ یتیم خواہ اس کا ہو یا کسی اور کا جنت میں اس طرح ہوں گے یہ کہہ کر آپ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے ذریعہ اشارہ کیا اور دونوں کے درمیان تھوڑی سی کشادگی رکھی۔ (بخاری) تشریح وہ یتیم خواہ اس کا ہو یا کسی اور کا کے ذریعہ اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ مطلق یتیم کی کفالت و پرورش کرنے کی فضیلت ہے وہ یتیم خواہ اس کا اپنا قربتی ہو جیسے پوتا اور بھتیجا وغیرہ یا کوئی غیر قرابتی ہو۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے ذریعہ اشارہ کر کے واضح کیا کہ جنت میں میرے اور یتیم کی پرورش کرنے والے کے درمیان اتنا قریبی علاقہ ہوگا کہ جتنا کہ ان دونوں انگلیوں کے درمیان ہے نیز آپ نے ان دونوں انگلیوں کے ذریعہ اس طرح بھی اشارہ کیا کہ مرتبہ نبوت جو سب سے اعلی درجہ ہے اس کے اور سخاوت و مروت کے مرتبہ کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔

4849Mishkaat-al-Masabih

تمام مسلمانوں کو ایک تن ہونا چاہیے

وعن النعمان بن بشير قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ترى المؤمنين في تراحمهم وتوادهم وتعاطفهم كمثل الجسد إذا اشتكى عضوا تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى . متفق عليه

اور حضرت نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے مخاطب تو مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے سے رحم کا معاملہ کرنے ایک دوسرے سے محبت وتعلق رکھنے اور ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی و معاونت کا سلوک کرنے میں ایسا پائے گا جیسا کہ بدن کا حال ہے کہ جب بدن کا کوئی عضو دکھتا ہے تو بدن کے باقی اعضاء اس ایک عضو کی وجہ سے ایک دوسرے کو پکارتے ہیں اور بیداری و بخار کے تعب و درد میں سارا جسم شریک رہتا ہے۔ (بخاری مسلم) تشریح اس ارشاد کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے مومن کی صفت اتحاد و یگانگت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اگر کوئی جذبہ تعلق ایسا ہوسکتا ہے جو دنیا کے تمام انسانوں کو رنگ و نسل کے بھید بھاؤ زبان و کلچر کے اختلاف و تفاوت اور ذات قبائل علاقہ کی تفرقہ بازی سے نجات دلا کر ایک انسانی برداری اور اتحاد و یگانگت ایک لڑی میں پرو سکتا ہے تو وہ صرف ایمان و اسلام کا تعلق ہے چناچہ اہل ایمان جہاں بھی ہوں جس رنگ و نسل سے بھی تعلق رکھتے ہوں ان کے درمیان کوئی انسانی اونچ نیچ نہیں ہے کوئی بھید بھاؤ نہیں ہے اور کسی برتری و کمتری کی نفرت و حقارت نہیں ہے وہ جس عقیدے کے حامل اور جس نظریہ حیات کو ماننے والے ہیں اس کی روشنی میں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ تمام انسان ایک باپ کی اولاد ہیں تمام مسلمان ایک زنجیر کی کڑیاں ہیں اگر وہ کڑیاں الگ الگ ہوجائیں تو زنجیر ٹوٹ کر رہ جائے گی اسی طرح اگر مسلمان تفرقہ بازی کا شکار ہوجائیں اور رنگ و نسل زبان و کلچر اور ذات پات کے دائروں میں سمٹ جائیں تو ان کے ملی وجود اور ان کی اجتماعی طاقت کو انتشار و اضملال کا گھن لگ جائے گا اور جب ان کی اجتماعی حثییت مجروح ہو کر غیر موثر ہوگی تو ان کا شخصی و انفرادی وجود بھی نہ صرف بےمعنی ہوجائے گا بلکہ ہر شخص مختلف آفات کا شکار ہوگا اور چونکہ ملی وجود اور اجتماعی طاقت کا سرچشمہ افراد کا آپس میں محبت و موانست اور اشخاص کا باہمی ربط وتعلق ہے اس لئے ہر مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی سے اس طرح ربط وتعلق رکھتا ہے کہ جس طرح دو حقیقی بھائی ہوتے ہیں کہ آپس میں سلام و دعا کرتے ہیں باہمی میل جول اور ملاقات کرتے ہیں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں باہمی معاملات و تعلقات کو محبت و موانست اور رحم دلی کی بنیاد پر استوار کرتے ہیں ہدایا و تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں ایک دوسرے کی مدد و اعانت کرتے ہیں اور ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے حالات رعایت اور اس کے طور طریقوں کی پاس داری کرتا ہے چناچہ جب شخصی اور انفرادی سطح پر یہ ربط وتعلق ایک دوسرے کو جوڑنے کا ذریعہ بن جاتا ہے تو سارے مسلمان ایک مضبوط اجتماعی حثییت اور عظیم طاقت بن جاتے ہیں۔ اس حقیقت کو اس ارشاد گرامی میں ظاہر کیا گیا ہے کہ اور تمام مسلمانوں کو ایک بدن کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس طرح جب بدن کا کوئی ایک عضو دکھتا ہے تو سارا بدن دکھتا ہے اور محض ایک عضو میں تکلیف ہونے سے پورا جسم تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے اسی طرح مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ ایک تن بن جائیں اور پوری ملت اسلامیہ ایک جسم کی مانند ہوجائے کہ اگر کسی ایک بھی مسلمان کو کوئی گزند پہنچے یا وہ کسی آفت میں گرفتار ہو تو سارے مسلمان اس کے دکھ و رنج میں شریک ہوں اور سب مل کر اس کی تکلیف و مصیبت کو دور کرنے کی تدبیر کریں اسی مفہوم کو شیخ سعدی نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے! بنی آدم اعضائے یکد یگرند کہ درآفرینش زیک گوہر اند چوعضوے بدرد آور دروزگا دگرعضو ہا رانماند قرار

4850Mishkaat-al-Masabih

تمام مسلمانوں کو ایک تن ہونا چاہیے

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم المؤمنون كرجل واحد إن اشتكى عينه اشتكى كله وإن اشتكى رأسه اشتكى كله . رواه مسلم . ( متفق عليه )

اور حضرت نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک اللہ ایک رسول اور ایک دین کو ماننے کی وجہ سے سارے مسلمان ایک شخص کی مانند ہیں کہ اگر اس کی آنکھ دکھتی ہے تو اس کا سارا جسم بےچین و مضطرب ہوجاتا ہے اور اس کا سر دکھتا ہے تو پورا بدن تکلیف محسوس کرتا ہے اسی طرح ایک مسلمان کی تکلیف کو سارے مسلمانوں کو محسوس کرنا چاہیے۔ (مسلم)

4851Mishkaat-al-Masabih

سارے مسلمان ایک دوسرے کی مدد واعانت کے ذریعہ ناقابل تسخیر طاقت بن سکتے ہیں

وعن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم قال المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضا ثم شبك بين أصابعه . متفق عليه . ( متفق عليه )

اور حضرت ابوموسی ؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا مسلمان، مسلمان کے لئے ایک مکان کے مانند ہے یعنی سارے مسلمان مضبوطی و طاقت حاصل کرنے کے اعتبار سے اس مکان کی طرح ہیں کہ جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط رکھتا ہے یہ کہہ کر آپ نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا۔ (بخاری ومسلم) تشریح پہلے تو آپ نے مسلمانوں کو اس مکان کے ساتھ تشبیہ دی جس کے سارے اجزاء اور تمام حصے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر پورے مکان کو مضبوط و پختہ بناتے ہیں اور پھر اس حقیقت کو آپ نے مثالی صورت میں اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنسا کر دکھلایا کہ اگر سارے مسلمان اسی طرح ایک دوسرے کے ساتھ مربوط و متحد رہیں اور باہمی محبت و موانست اور امداد و تعاون کی زنجیر میں منسلک رہیں تو پوری ملت اسلامیہ مضبوط و توانا اور ایک ناقابل تسخیر طاقت بن جائے گی لیکن واضح رہے کہ مسلمانوں کا وہی اتحاد اور وہی یک جہتی مطلب و مستحسن ہے جس کی بنیاد حق و حلال کے معاملات پر ہو حرام و مکروہ اور گناہ کے موجب معاملات میں اتحاد و اتفاق اور ایک دوسرے کے ساتھ مدد تعاون غیر مطلوب ہے۔

4852Mishkaat-al-Masabih

سفارش کرنا ایک مستحسن عمل ہے

وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان إذا أتاه السائل أو صاحب الحاجة قال اشفعوا فلتؤجروا ويقضي الله على لسان رسوله ما شاء . متفق عليه . ( متفق عليه )

اور حضرت ابوموسی ؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ کے پاس کوئی سائل یا حاجت مند آتا صحابہ سے فرماتے کہ مجھ سے اس شخص کی سفارش کرو تاکہ تمہیں سفارش کا ثواب مل جائے اور اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی زبان سے جو حکم چاہتا ہے جاری فرماتا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح کسی کی سفارش کرنا گویا اس کے ساتھ ہمدردی کرنا اور اس کی مدد کرنا ہے اس لئے حضور نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ تم لوگوں کی سفارش کرتے رہا کرو خواہ تمہاری سفارش قبول کی جائے یا نہ کی جائے کیونکہ کسی کا کام ہونا یا نہ ہونا تقدیر الٰہی اور حکم الٰہی کے مطابق ہے لہذا تم اس امر کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ شاید میری سفارش قبول نہ ہو، سفارش کرنے سے اجتناب نہ کرو اور اس کا ثواب ہاتھ سے نہ جانے دو۔ واضح رہے کہ سفارش کا حکم ان امور و معاملات سے متعلق ہے کہ جو کسی ناجائز حرام مقصد پر مبنی نہ ہو نیز اگر کوئی شخص کسی ایسے معاملے میں ماخوذ ہو جو حد یعنی شریعت کی طرف سے متعین شدہ سزا کو لازم کرتا ہے تو اس صورت میں اس وقت سفارش کرنا جائز نہیں ہوگا جب کہ وہ معاملہ امام وقت تک پہنچ چکا ہو، اگر وہ معاملہ امام تک نہ پہنچا ہو تو پھر سفارش کی جاسکتی ہے ہاں تعزیری معاملات میں بہر صورت سفارش کرنا جائز ہے نیز یہ ساری تفصیل اس صورت سے متعلق ہے جبکہ وہ شخص موذی و شریر نہ ہو، جس کی سفارش کرنا مقصود ہے موذی اور شریر کی سفارش کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے۔

4853Mishkaat-al-Masabih

ظالم کی مدد کس طرح کی جا سکتی ہے

وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم انصر أخاك ظالما أو مظلوما . فقال رجل يا رسول الله أنصره مظلوما فكيف أنصره ظالما ؟ قال تمنعه من الظلم فذاك نصرك إياه . متفق عليه . ( متفق عليه )

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ! جو مسلمان مظلوم ہے اس کی مدد تو مجھے کرنی چاہیے لیکن میں اس مسلمان کی کس طرح مدد کرسکتا ہوں جو ظلم کر رہا ہے؟ حضور نے فرمایا تم اس کو ظلم سے روکو یہی یعنی اس کو ظلم سے روکنا اس کے حق میں تمہاری مدد ہے کیونکہ اس کو ظلم سے روکنا گویا اس کو اپنے نفس اور شیطان پر قابو پانے میں مدد دینا ہے۔ (بخاری ومسلم)

4854Mishkaat-al-Masabih

تمام مسلمان ایک دوسرے کے دینی بھائی ہیں

وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه ومن كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته ومن فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه كربة من كربات يوم القيامة ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيامة . متفق عليه

اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کا دینی بھائی ہے یعنی تمام مسلمان آپس میں دینی اخوت کا تعلق رکھتے ہیں اور اس اعتبار سے شریعت کو وہی مقام حاصل ہے جو ماں کو حاصل ہوتا ہے اور شارع تمام مسلمانوں کے دینی باپ ہیں لہذا اس دینی اخوت کا تقاضا ہے کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان پر ظلم نہ کرے اور کسی کو ہلاکت میں مبتلا نہ کرے اور نہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو اس کے دشمن کے ہاتھوں میں چھوڑے بلکہ اس دشمن کے مقابلہ پر اس کی مدد اعانت کرے اور یاد رکھو جو شخص کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کی سعی و کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی کرتا ہے جو شخص کسی مسلمان بھائی کے کسی غم کو دور کرتا ہے تو اللہ اس کو قیامت کے دن غموں میں سے ایک بڑے غم سے نجات دے گا اور جو شخص کسی مسلمان بھائی کے بدن یا اس کے عیب کو ڈھانکتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب کو ڈھانکے گا۔ (بخاری ومسلم) تشریح حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان بھائی کی ستر پوشی کرنے والے یا اس کے عیوب کو چھپانے والے شخص نے دنیا میں جو عیوب و گناہ کئے ہوں گے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے ان گناہ و عیوب کی پردہ پوشی کرے گا بایں طور کہ اہل موقف کے سامنے ظاہر نہیں کرے گا اس پر مواخذہ و محاسبہ نہیں کرے گا اور نامہ اعمال کی پیشی کے وقت ان کا ذکر پوشیدہ طور پر ہوگا۔ علماء نے لکھا ہے کہ جن مسلمانوں کے عیوب کی پردہ پوشی مستحسن و مستحب ہے وہ اس درجہ کے مسلمان ہیں جن کو اہل عزت و حیاء کہا جاتا ہے یعنی وہ مسلمان جن کی ظاہری زندگی پاکیزہ اور آبرو مندانہ سمجھی جاتی ہے اور جن کے عیوب پوشیدہ رہتے ہیں کہ اگر بتقضائے بشریت ان سے کوئی گناہ و عیب سرزد ہوجائے تو وہ اس کو پردہ حیاء میں چھپاتے ہیں رہے وہ مسلمان جو حیاء کا پردہ اٹھا دیتے ہیں جن کی ایذاء رسانی اور فتنہ پردازی آشکار ہوتی ہے اور علی الاعلان گناہ معصیت کا ارتکاب کرنے میں کوئی شرم اور جھجک محسوس نہیں کرتے ان کا معاملہ جداگانہ ہے کہ نہ صرف ان کو ان گناہ و عیوب پر ٹوکنا واجب اور ان کو ارتکاب معصیت سے منع کرنا اور تنبیہ کرنا لازم ہے بلکہ اگر وہ روکنے اور تنبیہ کرنے کے باوجود اپنی برائیوں اور گناہ و ایذا رسانی سے باز نہ آئیں تو ان کے بارے میں حاکم کے یہاں اطلاع دینی چاہیے تاکہ وہ ان کو ایذاء رسانی اور فتنہ پردازی سے باز رکھے اسی طرح روایات حدیث اور مورخین پر جرح ونقد، ارباب حکومت اور گواہوں کی تحقیق اور اہل ظلم کے حالات کا اظہار بھی نہ صرف جائز بلکہ واجب لازم ہے کیونکہ ان صورتوں میں دین و علم کی نگہبانی اور لوگوں کے حقوق کی حفاظت مقصود ہوتی ہے اس لئے مذکورہ بالا لوگوں کے حالات و عیوب کو بیان کرنا اس اظہار عیب میں داخل نہیں ہے جس کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

4855Mishkaat-al-Masabih

کسی مسلمان کو حقیر نہ سمجھو

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يخذله ولا يحقره التقوى ههنا . ويشير إلى صدره ثلاث مرار بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم كل المسلم على المسلم حرام دمه وماله وعرضه . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا دینی بھائی ہے لہذا مسلمان، مسلمان پر ظلم نہ کرے اس کی مدد و اعانت کو ترک نہ کرے اور اس کو ذلیل و حقیر نہ سمجھے پھر آپ نے اپنے سینے کی طرف تین دفعہ اشارہ فرما کر کہا کہ پرہیزگاری اس جگہ ہے نیز فرمایا کہ مسلمان کے لئے اتنی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو ذلیل و حقیر کرے یعنی کسی مسلمان بھائی کو ذلیل و حقیر کرنا بجائے خود اتنی بڑی برائی ہے کہ وہ کوئی گناہ نہ بھی کرے تو اسی کی ایک برائی کی وجہ سے مستوجب مواخذہ ہوگا۔ (اور یاد رکھو کہ) مسلمان پر مسلمان کی ساری چیزیں حرام ہیں جیسے اس کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت و آبرو۔ (مسلم) تشریح اس کو ذلیل حقیر نہ سمجھے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان بھائی کے عیب کو اچھال کر اور اس کی برائیوں کو لوگوں کے سامنے بیان کر کے ان کو رسوا اور بدنام نہ کرے اس کے ساتھ بدزبانی اور سخت کلامی نہ کرے اور کوئی مسلمان خواہ کتنا ہی غریب و محتاج ہی کیوں نہ ہو کتنا ہی ضعیف و نا تو اں اور کتنا ہی نامراد و خستہ حال ہو اس کا مذاق نہ اڑائے کیونکہ کسی کو کیا معلوم کہ جو مسلمان ظاہر طور پر نہایت خستہ حال ہے اور محتاج ہے وہ اللہ کے نزدیک اس کا مقام کیا ہے اور انجام و مال کے اعتبار سے وہ کس درجہ کا ہے اس حقیقت کو کسی صورت میں فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ جو بھی شخص لاالہ الا اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اللہ کے رسول کا امتی ہے وہ عزت والا ہے اور قابل تکریم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (وللہ العزۃ ولرسولہ)۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔۔ لہذا کسی مومن کی عزت ایمانی کو کسی حال میں مجروح نہ کرنا چاہیے اور خصوصا مومن جن کے چہرے مہرے علم دین کی علامت اور عبادت الٰہی کا نور جھلکتا ہو ان کی تعظیم و توقیر کو بطریق اولی ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے اکثر لوگ اور خصوصا دنیا دار جو نفس کی ظلمت و غفلت میں مبتلا ہوتے ہیں عام طور پر فقراء و مساکین اور غریب وبے کس مسلمانوں کے وبال میں گرفتار رہتے ہیں کیونکہ وہ ان کو ذلیل و کمتر سمجھتے ہیں اور ان بےچاروں کے ساتھ انتہائی ترشی اور حقارت کا معاملہ کرتے ہیں اور نتیجہ کے طور پر مومن کو ذلیل و حقیر کرنے کا عذاب اپنے سر لیتے ہیں وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ ان لوگوں کو دنیا میں بھی عزت و اقبال مندی سے نوازتا ہے اور آخرت میں بھی نجات عطا کرے گا جو اس کے غریب و مسکین اور ضعیف وبے کس بندوں کے ساتھ محبت و احترام کا برتاؤ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسکین و غرباء کی محبت حاصل ہونے کی دعا مانگا کرتے تھے نیز آپ کو اللہ کی طرف سے یہ حکم دیا گیا تھا کہ فقراء مسکین کی ہم نشینی اختیار فرمائیں جیسا کہ سورت کہف میں مذکور ہے۔ پرہیزگاری اس جگہ ہے کا مطلب یہ ہے کہ متقی یعنی وہ شخص جو شرک اور گناہوں سے اجتناب و پرہیز کرتا ہے اس کو کسی بھی صورت میں حقیر و کم تر نہیں سمجھنا چاہیے یا یہ مراد ہے کہ تقوی کا مصدور مخزن اصل میں سینہ یعنی دل ہے اور وہ ایک ایسی صفت ہے جو باطن کی ہدایت اور نورانیت سے پیدا ہوتی ہے اس صورت میں کہا جائے گا کہ ان الفاظ کا مقصد ماقبل جملہ کی تاکید و تقویب ہے اور مطلب یہ ہوگا کہ جو چیز کسی انسان کو معزز و مکرم بناتی ہے وہ تقوی ہے اور جب تقوی کا تعلق باطن سے ہے اور اس کی جگہ دل ہے جو ایک پوشیدہ چیز ہے کہ جس کو انسان ظاہری طور پر نہیں دیکھ سکتا تو پھر کسی مسلمان کو کیونکہ حقیر و ذلیل کہا جاسکتا ہے درآنحالیکہ اس کی حقیقت معلوم نہیں ہے کہ ایک بات یہ بھی کہی جاسکتی ہے کہ تقوی کی جگہ دل کو قرار دے کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ جس کے دل میں تقوی ہو وہ کسی مسلمان کو حقیر و ذلیل نہ کرے کیونکہ کوئی بھی متقی کسی مسلمان کو ذلیل کرنے والا نہیں ہوسکتا یہ مراد اگرچہ بعض علماء نے لکھی ہے لیکن پہلے معنی زیادہ صحیح اور زیادہ موزون ہیں۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی مسلمان ایسا کوئی کام نہ کرے اور نہ اپنی زبان سے کوئی ایسی بات نکالے جس سے کسی مسلمان بھائی کی خون ریزی ہو یا اس کا مال تلف و ضائع ہو اور یا اس کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچے۔ یہ حدیث اپنے الفاظ کے اختصار لیکن مفہوم و معنی کی وسعت کے اعتبار سے جوامع الکلم میں سے ہے اللہ کی طرف سے آنحضرت ﷺ کو خصوصی عطیہ ہے۔

4856Mishkaat-al-Masabih

جنتی اور دوزخی لوگوں کی قسمیں

وعن عياض بن حمار قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أهل الجنة ثلاثة ذو سلطان مقسط متصدق موفق ورجل رحيم رفيق القلب لكل ذي قربى ومسلم وعفيف متعفف ذو عيال . وأهل النار خمسة الضعيف الذي لا زبر له الذين هم فيكم تبع لا يبغون أهلا ولا مالا والخائن الذي لا يخفى له طمع وإن دق إلا خانه ورجل لا يصبح ولا يمسي إلا وهو يخادعك عن أهلك ومالك وذكر البخل أو الكذب والشنظير الفحاش . رواه مسلم . ( متفق عليه )

اور حضرت عیاض ابن حمار کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنتی لوگوں کی تین قسمیں ہیں (یعنی جو اہل ایمان اس لائق ہیں کہ سابقین اور مقربین کے ساتھ جنت میں داخل ہوں وہ تین طرح کے ہیں) ایک تو وہ حاکم جو عدل و انصاف کرتا ہو اور لوگوں کے ساتھ احسان کرنے والا ہو اور جس کو نیکیوں اور بھلائیوں کی توفیق دی گئی ہو دوسرے وہ شخص (جو چھوٹوں اور بڑوں پر) مہربان ہو اور قرابت داروں اور مسلمانون کے لئے رقیق القلب ہو یعنی نرم دل ہو۔ اور تیسرے وہ شخص جو غیر حلال چیزوں سے بچنے والا پرہیز کرنے والا اور اہل و عیال کے بارے میں اللہ پر توکل کرنے والا ہو یعنی اہل و عیال کی محبت اور ان کے رزق کا خوف اس کو اللہ پر توکل کرنے سے باز نہ رکھتا ہو لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرنے اور حرام و ناجائز مال حاصل کرنے پر مجبور نہ کرتا ہو اور نہ وہ اپنے ان اہل و عیال کی وجہ سے علم و عمل میں مشغول ہونے غافل رہتا ہو۔ اور دوزخی لوگوں کی پانچ قسمیں ہیں۔ یعنی جو لوگ اپنے افعال بد کے وبال میں پڑ کر مستوجب عذاب ہوتے ہیں وہ پانچ طرح کے ہیں گویا یہاں ان افعال بد اور بری خصلتوں کی برائی بیان کرنا اور ان کی سختی وشدت کو ظاہر کرنا مقصود ہے جو دوزخ کے عذاب کا باعث ہیں جیسا کہ پہلے ان چیزوں کی تعریف و مدح کی گئی جو جنت میں لے جانے والی ہیں۔ ایک تو کمزور عقل والا کہ اس کی عقل کی کمزوری اس کو ناشائستہ امور سے باز نہ رکھے۔ (یعنی وہ شخص اپنی عقل پر نفسانی خواہشات اور خود غرضی کے جذبات کے غالب آجانے کی وجہ سے ثبات و استقامت ترک کردیتا ہے اور گناہوں اور بری باتوں سے باز رہنے پر قادر نہیں رہتا ٰ ) وہ لوگ کہ جو تمہارے تابع اور تمہارے خادم ہیں ان کو نہ بیوی کی خواہش ہوتی ہے اور نہ مال کی پرواہ (یعنی وہ لوگ جو تمہارے مال داروں اور مقتدروں کے آگے پیچھے نظر آتے ہیں ان کی خدمت و اطاعت میں دم بھرتے ہیں ان کے مدنظر نہ تو کسی کی بھلائی دوستی ہوتی ہے اور نہ ان کو واقعتا خدمت و اطاعت سے کوئی غرض ہوتی ہے بلکہ وہ تو محض اپنی نفسانی خواہشات اور خود غرضی کے تابع ہوتے ہیں ان کا اصل مقصد اچھے اچھے کھانوں سے اپنا پیٹ بھرنا ہے اور اچھے درجہ کے لباس اور دوسری چیزیں حاصل کرنا ہوتا ہے نہ تو انہیں بیوی کی پرواہ ہوتی ہے کہ جس کے ذریعہ وہ اپنی جنسی خواہش جائز طور پر پوری کرسکیں اور نہ انہیں اس مال و زر کی طلب ہوتی ہے جو حلال ذرائع جائز وسائل اور محنت و مشقت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے بلکہ وہ بدکاریوں حرام خوریوں اور اجنبی عورتوں اور حرام و مشتبہ اسباب میں مگن اور خوش رہتے ہیں اور یہ چیز بھی انسانی عقل کی کم زوری ہے اور ضمیر کی مرونی پر دلالت کرتی ہے کیونکہ حلال و پاک چیزوں سے اعراض کرنا اور حرام و مشتبہ چیزوں کو مطلب و مقصد قرار دینا نہ تو عقل کا تقاضا ہوسکتا ہے اور نہ ضمیر کے مطابق) دوسرے وہ شخص جو خائن و بددیانت ہو کہ اس کی طمع کسی پوشیدہ چیز کو بھی اس کے ہاتھ سے نہیں جانے دیتی تاکہ وہ اس میں بدنیتی کرسکے خواہ وہ کتنی ہی کیوں نہ چھوٹی ہو اور کم تر ہو (یعنی اس کی طمع و حرض اس کو کسی حال میں چین سے نہیں بیٹھنے نہیں دیتی یہاں تک کہ وہ چھپی ہوئی چیزوں کو بھی تلاش و جستجو میں لگا رہتا ہے اور جب وہ چیزیں اس کے ہاتھ لگ جاتی ہیں تو ان میں بھی بدنیتی کرتا ہے اور خواہ وہ چیزیں کتنی ہی بےوقعت اور کمتر ہی کیوں نہ ہوں، نیز بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ خفا چونکہ ظہور کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اس لئے لایخفی لہ طمع کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ خائن کہ وہ اس چیز میں بھی خیانت کرتا ہے جو اس کے سامنے نہیں ہوتی اور نہ وہ اس قابل ہوتی ہے کہ وہ اس کی طمع وحرص کرسکے) اور تیسرے وہ شخص جو صبح وشام تمہیں تمہارے اہل عیال میں دھوکہ دینے کے چکر میں رہتا ہے (یعنی جس شخص کو تم اپنے گھر والوں کی حفاظت اور اپنے مال و اسباب کی نگرانی سپرد کرتے ہو یا جو شخص از خود تمہارے ساتھ لگا رہتا ہے اور اپنی عفت پاک دامنی کو تم پر ظاہر کر کے یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ تمہارے گھر بار اور اہل خانہ کی حفاظت و نگرانی میں مصروف ہے لیکن حقیقت میں وہ ہر لمحہ تمہارے اہل خانہ اور تمہارے مال اسباب پر بری نظر رکھتا ہے (نیز آنحضرت ﷺ نے بخیل اور جھوٹے اور بد خلق فحش گو کا ذکر کیا ہے۔ (مسلم) تشریح رجل رحیم رقیق القلب میں رحیم سے مراد صفت فعلیہ اور رقیق سے مراد صفت قلبیہ ہے صفت فعلیہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ صفت اپنا خارجی وجود بھی رکھے اور دوسروں پر اس کے اثرات ظاہر ہوں جبکہ صفت قلبیہ کا تعلق محض اس صفت کے باطنی وجود سے ہوتا ہے کہ خواہ وہ علمی اور خارجی طور پر اس کا اظہار ہو یا نہ ہو۔ لفظ بخل اور کذب مصدر قائم مقام فاعل ہیں۔ وذکر البخل والکذب۔۔۔۔ الخ۔۔ کے ذریعہ راوی نے یہ بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے دوزخیوں کی جو قسمیں بیان کی ہیں ان میں بخیل اور کا ذب کا بھی ذکر فرمایا اور پوری عبارت کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ نے دوزخیوں کی مذکورہ قسمیں بیان فرمانے کے بعد فرمایا کہ دوزخیوں کی اور قسمیں بخیل و کا ذب ہیں رہی یہ بات کہ راوی نے ذکر البخیل و الکاذب کہنے کے بجائے ذکر البخل والکذب کیوں کہا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے جو ارشاد فرمایا تھا وہ بعینہ الفاظ میں راوی کو یاد نہیں رہا تھا البتہ صحیح طور پر یہ یاد تھا کہ آپ نے باقی دو قسموں کے سلسلے میں جو الفاظ ارشاد فرمائے تھے ان میں بخل کذب کا ذکر ضرور تھا خواہ آپ نے والبخیل والکاذب ہی کے الفاظ فرمائے ہوں یا کچھ اور الفاظ فرمائے ہوں اکثر روایتوں میں البخل اور الکذب کے درمیان واؤ کے بجائے او ہے یعنی البخل او الکذب اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اس موقع پر راوی کو شک ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یا تو البخل کا لفظ ارشاد فرمایا تھا یا الکذب کا یعنی راوی گویا یہ بیان کرنا چاہتا ہے کہ آپ نے دوزخیوں کی تین قسمیں بیان کرنے کے بعد چوتھی قسم کے طور پر یا تو بخیل کو بیان کیا تھا کہ یا کا ذب کو اور زیادہ صحیح بات بھی یہی ہے کہ یہاں حرف او ہے اور جو راوی کے شک کو ظاہر کرتا ہے اور جن روایتوں میں واؤد ہے ان میں بھی واؤ حرف او کے معنی میں ہے لفظ والشنظیر کو بھی مرفوع قرار دینا زیادہ صحیح ہوگا اور اس کا عطف رجل پر کیا جاتا ہے جب کہ بعض حضرات نے اس کو منصوب قرار دیا ہے۔

4857Mishkaat-al-Masabih

اپنے مسلمان بھائی کے لئے اسی چیز کو اچھا سمجھو جس کو اپنے لئے اچھا سمجھتے ہو

وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم والذي نفسي بيده لا يؤمن أحد حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه . متفق عليه . ( متفق عليه )

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس اللہ کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کہ کوئی بندہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے وہی چیز نہ چاہے جو اپنے لئے چاہتا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ کسی مسلمان کا ایمان اس وقت کامل نہیں سمجھا جائے گا جب تک کہ وہ اپنے بھائی مسلمان کے لئے اس چیز کو پسند نہ کرے جس کو خود اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ چیز سے مراد دنیا و آخرت کی بھلائی ہے چناچہ ایک روایت میں من الخیر کا لفظ صریح طور پر منقول ہے رہی یہ بات کہ دنیا و آخرت کی بھلائی کا تعلق کن چیزوں سے ہے تو آخرت کی بھلائی یہ ہے کہ نیک اعمال اور اچھے احوال کی سعادت نصیب ہو، خاتمہ بخیر ہو قبر کی سختیوں قیامت کے دن کی باز پرسی اور دوزخ کے عذاب سے نجات حاصل ہو اپنے اعمال صالحہ کے سبب سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جنت میں اعلی درجات میں اور اللہ اور اللہ کے رسول کی خوشنودی حاصل ہو اسی طرح دنیا کی بھلائی یہ ہے کہ عزت و آبرو اور نیک نامی و خوش حالی کی زندگی نصیب ہو اور مال دولت اور اسباب و راحت حاصل ہو اچھے احوال و کردار کے حامل اہل خانہ اور صالح و فرمانبردار اولاد کی نعمت ملے اور یہ سب چیزیں آخرت کا وسیلہ بنیں جو مسلمان دنیا و آخرت کی ان نعمتوں اور بھلائیوں کو اپنے لئے چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ انہیں دنیاوی و اخروی نعمتوں اور بھلائیوں کو سارے مسلمانوں کے لئے چاہے کیونکہ یہی کمال ایمان بھی ہے اور دینی اخوت کا تقاضا بھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ جو مسلمان محض شیطان کے فریب، نفسانی حرص اور و فساد و باطن کی وجہ سے اپنے لئے دنیا کے مال و زر اور دنیا کی جاہ کے طلب گار و خواہش مند ہوتے ہیں اور اس مال و جاہ کا نتیجہ گناہ و معصیت فتنہ و فساد، ظلم و جور اور آخرت کے وبال و عذاب کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا تو وہ اس مال و جاہ کی خواہش کسی دوسرے کے لئے کیسے کرسکتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو مال و زر جو جاہ و حشمت دین کے نقصان اور آخرت کے عذاب کا باعث ہو تو اس کو خیر و بھلائی کے زمرہ میں شمار ہی نہیں کیا جاسکتا، لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے مال و زر اور جاہ و حشمت کو نہ تو اپنے لئے پسند کرے اور نہ کسی دوسرے مسلمان کے لئے تاہم اس بات کو ملحوظ رکھنا چاہیے کہ مال و دولت اور جاہ حشمت بجائے خود برائی نہیں ہیں اور نہ یہ ہر حالت میں برائی تک پہنچانے کا سبب بنتے ہیں بلکہ ان کے تعلق سے برائی یا بھلائی کا دار و مدار خود انسان کے ذہن و مزاج اور اس کی طبعی خاصیت پر ہوتا ہے ایک شخص ایسا ہوتا ہے کہ وہ محض مال و دولت اور جاہ حشمت کی وجہ سے نیکی بھلائی کے بڑے سے بڑے درجہ پر پہنچ جاتا ہے اور جاہ حشمت کا حصول ثواب آخرت اور قرب مولیٰ کا سبب بنتا ہے جیسے مال و زر کے ذریعہ حج کرنا اور فقراء مساکین کی خبرگیری کرنا اور جاہ و حشمت کے ذریعہ عدل و انصاف قائم کرنا اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ذمہ داری کو پوری طرح کرنا اس کے برخلاف اگر وہی جاہ حشمت دوسرے شخص کے لئے دینی فائدے کے بجائے نقصان کا موجب بنتی ہے جیسے اس مال جاہ کے ذریعہ فسق و فجور کا ارتکاب فتنہ و فساد اور ظلم و جور کی گرم بازاری تو اول الذکر شخص کا اس مال و جاہ کو اپنے لئے پسند کرنا اور دوسرے شخص کے لئے پسند نہ کرنا درست ہوگا کیونکہ اس مال و جاہ کو اس کے حق میں خیر نہیں کہا جائے گا۔

4858Mishkaat-al-Masabih

ہمسایہ کو تکلیف نہ پہنچاؤ

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم والله لا يؤمن والله لا يؤمن والله لا يؤمن . قيل من يا رسول الله ؟ قال الذي لا يأمن جاره بوائقه . متفق عليه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اللہ کی اس شخص کا ایمان کامل نہیں ہے قسم ہے اس اللہ کی اس شخص کا ایمان کامل نہیں ہے جب آپ نے بار بار یہ الفاظ فرمائے اور اس شخص کی وضاحت نہیں کی تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ شخص کون ہے جس کا ایمان کامل نہیں ہے اور جس کے بارے میں آپ کا یہ ارشاد ہے؟ حضور نے فرمایا وہ شخص جس کے پڑوسی اس کی برائیوں اور اس کے شر سے محفوظ و مامون نہ ہوں۔ (بخاری ومسلم)

4859Mishkaat-al-Masabih

ہمسایہ کو تکلیف نہ پہنچاؤ

وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يدخل الجنة من لا يأمن جاره بوائقه . رواه مسلم . ( متفق عليه )

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص نجات یافتہ اور سابقین کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا جس کے پڑوسی اس کی برائیوں اور شر سے محفوظ نہ ہوں۔ مسلم)

4860Mishkaat-al-Masabih

ہمسایہ سے اچھا سلوک اختیار کرنے کی اہمیت

وعن عائشة وابن عمر رضي الله عنهم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه . متفق عليه . ( متفق عليه )

اور حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ابن عمر ؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا حضرت جبرائیل ہمیشہ مجھ کو ہمسایہ کے حق کا لحاظ رکھنے کا حکم دیا کرتے تھے یہاں تک کہ مجھے خیال ہوا کہ حضرت جبرائیل حکم الٰہی کے مطابق بذریعہ وحی عنقریب ہی پڑوسیوں کو ایک دوسرے کا وارث قرار دیں گے۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس حدیث سے ہمسایہ کے حقوق یعنی پڑوسیوں کے ساتھ احسان و نیک سلوک کرنے اس کے دکھ درد کو بانٹنے اور اس کو کسی قسم کی تکلیف و پریشانی میں مبتلا نہ کرنے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے چناچہ حضرت جبرائیل اس سلسلے میں اللہ کی طرف سے آنحضرت ﷺ کو جس تواتر اور پابندی کے ساتھ حکم دیتے تھے اس سے آنحضرت ﷺ نے یہ خیال قائم کیا کہ حضرت جبرائیل شاید کسی قریبی وقت میں یہ وحی لے کر نازل ہوں کہ پڑوسی آپس میں ایک دوسرے کے وارث قرار دیئے جاتے ہیں۔

4861Mishkaat-al-Masabih

تیسرے شخص کی موجودگی میں دو شخص آپس میں سرگوشی نہ کریں

وعن عبد الله بن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كنتم ثلاثة فلا يتناجى اثنان دون الآخر حتى تختلطوا بالناس من أجل أن يحزنه . متفق عليه

اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم تین آدمی یکجا ہو تو دو آدمی اس طرح سر گوشی نہ کریں کہ تیسرا شخص نہ سن سکے یہاں تک کہ وہ بہت سے آدمیوں میں مل جائیں اور یہ ممانعت اس وجہ سے ہے کہ ان دونوں کا یہ فعل اس تیسرے آدمی کو رنجیدہ کرے گا یعنی وجب وہ اپنے سامنے ان لوگوں کو سر گوشی کرتے دیکھے گا تو خیال کرے گا کہ یہ دونوں شاید میری برائی کر رہے ہیں یا میرے خلاف کوئی مشورہ کر رہے ہیں۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر تین آدمی ایک ساتھ مثلا کہیں بیٹھے ہوئے ہیں تو ان میں سے کسی بھی دو آدمیوں کے لئے یہ روا نہیں ہے کہ وہ آپس میں اس طرح سر گوشی اور رکانا پھوسی کریں کہ ان میں تیسرا آدمی ان کی بات سننے نہ پائے ہاں اگر کسی جگہ چار آدمی ایک ساتھ بیٹھے ہوئے ہوں اور ان میں سے دو آدمی آپس میں سر گوشی کرنے لگیں تو ان دونوں کی سر گوشی پر مذکورہ ممانعت کا اطلاق نہیں ہوگا۔۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ تیسرے آدمی کی موجودگی میں دو آدمیوں کے آپس میں سر گوشی کرنے یا اسی طرح چوتھے آدمی کی موجودگی میں تین آدمیوں کے آپس میں سر گوشی کرنے کی مذکورہ ممانعت نہی تحریمی کے طور پر ہے، لہذا دو آدمی ہوں یا تین چار ہوں یا پورا مجمع ہو ان کے لئے یہ حرام ہے کہ وہ ایک آدمی کو چھوڑ کر باقی سب آپس میں سر گوشی کریں ہاں اگر اس ایک آدمی سے پوچھنے کے بعد اور اس کی اجازت کی صورت میں سر گوشی کریں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں حضرت ابن عمر ؓ حضرت امام مالک شوافع اور جمہور علماء کا یہی مسلک ہے اور اس حکم کا تعلق ہر موقع پر اور ہر زمانہ سے ہے خواہ سفر ہو یا حضر ہو۔

4862Mishkaat-al-Masabih

خیرخواہی کی اہمیت وفضیلت

وعن تميم الداري أن النبي صلى الله عليه وسلم قال الدين النصيحة ثلاثا . قلنا لمن ؟ قال لله ولكتابه ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم . رواه مسلم . ( متفق عليه )

اور حضرت تمیم داری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دین نصیحت ہے (یعنی نصیحت اور خیر خواہی اعمال دین میں سے افضل ترین عمل ہے یا نصیحت اور خیر خواہی دین کا ایک مہتم بالشان نصب العین ہے) حضور نے یہ بات تین بار فرمائی ہم نے یعنی صحابہ نے پوچھا کہ یہ نصیحت اور خیر خواہی کسی کے حق میں کرنی چاہیے؟ حضور نے فرمایا کہ اللہ کے لئے، اللہ کی کتاب کے لئے، مسلمانوں کے اماموں یعنی اسلامی حکومت کے سربراہوں اور علماء کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے۔ مسلم۔ تشریح خدا کے حق میں خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی ذات وصفات پر ایمان لائے اس کی واحدانیت و حاکمیت کا اعتقاد رکھے اس کی صفات و کا رسازی میں کسی غیر کو شریک کرنے سے اجتناب کرے اس کی عبادت اخلاص نیت کے ساتھ کرے اور اس کے اوامرو نواہی کی اطاعت و فرمانبرداری کرے اس کی نعمتوں کا اقرار و اعتراف کرے اور اس کا شکر ادا کرے اور اس کے نیک بندوں سے محبت کرے اور بدکار سرکش بندوں سے نفرت کرے۔ خدا کی کتاب کے حق میں خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کا عقیدہ رکھے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اس میں جو کچھ لکھا ہے اس پر ہر حالت میں عمل کرے تجوید و ترتیل اور غور و فکر کے ساتھ اس کی تلاوت کرے اور اس کی تعظیم و احترام میں کوئی کوتاہی نہ کرے۔ خدا کے رسول کے حق میں خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کو سچے دل سے تصدیق کرلے کہ وہ رسول اللہ اور اس کے پیغمبر ہیں ان کی نبوت پر ایمان لائے وہ اللہ کی طرف سے جو پیغام پہنچائیں اور جو احکام دین ان کو قبول کرے اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرے ان کو اپنی جان اپنی اولاد اپنے ماں باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ عزیز رکھے ان کے اہل بیت اور ان کے صحابہ سے محبت رکھے اور ان کی سنت پر عمل کرے۔ مسلمانوں کے اماموں کے حق میں خیر خواہی یہ ہے کہ جو شخص اسلامی حکومت کی سربراہی کر رہا ہو اس کے ساتھ وفاداری کو قائم رکھے، احکام و قوانین کی بیجا طور پر خلاف ورزی کر کے ان کے نظم حکومت میں خلل و ابتری پیدا نہ کرے اچھی باتوں میں ان کی پیروی کرے اور بری باتوں میں ان کی اطاعت سے اجتناب کرے اگر وہ اسلام اور اپنے عوام کے حقوق کی ادائیگی میں غفلت و کوتاہی کا شکار ہوں تو ان کو مناسب اور جائز طریقوں سے متنبہ کرے اور ان کی خلاف بغاوت کا علم بلند نہ کرے اگرچہ وہ کوئی ظلم ہی کیوں نہ کریں، علماء کو جو مسلمانوں کے علمی و دینی رہنما ہوتے ہیں ان کی عزت و احترام کرے، شرعی احکام اور دینی مسائل میں وہ قرآن و سنت کے مطابق جو کچھ کہیں اس کو قبول کرے اور اس پر عمل کرے ان کی اچھی باتوں اور ان کے نیک اعمال کی پیروی کرے۔ اور تمام مسلمانوں کے حق میں خیر خواہی کا مطلب ان کی دینی دنیاوی خیر و بھلائی کا طالب رہے ان کو دین کی تبلیغ کرے ان کو دنیا کے اس راستہ پر چلانے کی کوشش کرے اور ان کو کسی بھی طرح نقصان پہنچانے کی بجائے نفع پہنچانے کی سعی کرے۔ واضح رہے کہ یہ حدیث بھی جوامع الکلم میں سے ہے اس کے مختصر الفاظ حقیقت میں دین و دنیا کی تمام بھلائیوں اور سعادتوں پر حاوی ہیں اور تمام علوم اولین و آخرین اس چھوٹی سی حدیث میں مندرج ہیں۔