کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ اَبِی ھُرِیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((نَزَلَ الْقُرْاٰنُ عَلٰی خَمْسَۃِ اَوْجُہِ حَلَالِ وَّ حَرَامِ وَّ مُحْکَمِ وَّمُتَشَابِہٖ وَّاَمْثَالِ فَاَحِلُوا الْحَلالَ وَ حَرِّمُوا الْحَرَامَ وَاَعْمِلُوا بِالْمُحْکَمَ وَاٰمِنُوْ بِالْمُتَشَابِہٖ وَاَعْتَبِرُوْا بِالْاَمْثَالِ)) ھٰذَا لَفْظُ الْمَصَابِیْحِ وَرَوَی الْبَیْھَقِیَّ فِی ((شُعَبِ الْاِیْمَانِ)) وَلَفْظُہُ: فَاعَمَلُوْا بِالْحَلاَلِ وَ اَجْتَنِبُوا الْحَرَامَ وَاتَّبِعُو ا الْمُحْکَمَ۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قرآن کریم پانچ صورتوں پر نازل ہوا ہے۔ (١) حلال۔ (٢) حرام۔ (٣) محکم۔ (٤) متشابہ۔ (٥) امثال۔ لہٰذا تم حلال کو حلال جانو، حرام کو حرام جانو، محکم پر عمل کرو، متشابہ پر ایمان لاؤ اور امثال (قصوں) سے عبرت حاصل کرو، یہ الفاظ مصابیح کے ہیں اور بیہقی نے جو روایت شعب الایمان میں نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔ لہٰذا حلال پر عمل کرو، حرام سے بچو اور محکم کی پیروی کرو۔
تشریح
قرآن شریف اپنے اسلوب وبیان کے اعتبار سے پانچ طرح کی آیتوں پر مشتمل ہے۔ (ا) ایسی آیتیں جن میں حلال کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے احکام بتائے گئے ہیں۔ (٢) ایسی آیتیں جن میں حرام کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے احکام بتائے گئے ہیں۔ (٣) ایسی آیتیں جن کے معنی و مطالب میں کوئی ابہام و اشتباہ نہیں ہے بلکہ وہ اپنے مقصد و مراد کو صاف واضح کرتی ہیں جیسے آیت (اَقِیْمُو الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوالزَّکٰوۃَ ) 2۔ البقرۃ 43) (یعنی نماز پڑھو اور زکوٰۃ ادا کرو) اس حدیث میں ایسی ہی آیتوں کو محکم کہا گیا ہے۔ (٤) ایسی آیتیں جن کی مراد واضح نہیں ہے اور نہ ان کے معنی و مطالب کسی پر ظاہر کئے گئے ہیں جیسے آیت (يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ ) 48۔ الفتح 10) (یعنی اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے) حدیث میں ایسی ہیں ہی آیتوں کو متشابہ کہا گیا ہے ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ایسی آیتوں کے معنی و مطالب کے کھوج کرید میں نہ لگو بلکہ ان پر صرف ایمان لاؤ اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کے جو معنیٰ مراد ہیں وہی حق اور صحیح ہیں اگرچہ ہماری رسائی ان تک نہیں ہے۔ (٥) ایسی آیتیں جن میں پچھلی آیتوں کے حالات و واقعات کا ذکر کیا گیا ہے یعنی نیک اقوام کی فلاح و کامرانی اور بد اقوام کی تباہی و بربادی کے واقعات بتائے گئے ہیں ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ان واقعات سے تم عبرت پڑو اور دیکھو کہ اللہ نے اپنے نیک و صالح بندوں پر اپنی رحمتوں و نعمتوں کی کیسی بارش کی اور بدکار و سرکش قوموں کو تباہی و بربادی اور ہلاکت کی وادیوں میں کس عبرت ناک طریقہ سے پھینک دیا۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم (( اَلْاَ مْرُثلَاَثَۃٌ اَمْرٌبَیِّنٌ رَشْدُہ، فَاتَّبِعْہ، وَاَمْرٌ بَیِّنٌ غَیُّہ، فَاجْتَنِبْہُ وَاَمْرٌ اَخْتَلِفَ فِیْہٖ فَکِلْہ، اِلَی اﷲِ عَزَّوَجَلَّ))(رواہ مسند احمد بن حنبل)
اور حضرت عباس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا امر تین طرح کے ہیں۔ (١) وہ امر جس کی ہدایت ظاہر ہے اس کی پیروی کرو۔ (٢) وہ امر جس کی گمراہی ظاہر ہے اس سے بچو۔ (٣) وہ امر جو مختلف فیہ ہے اس کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردو۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
وہ امر جس کی ہدایت ظاہر ہے ایسی چیزیں ہیں جن کا حق و صحیح ہونا واضح طور پر آیات و احادیث سے ثابت ہو جیسے نماز روزہ، زکوٰۃ و حج، وغیرہ کا فرض واجب ہونا، ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی پیروی کرو، اسی طرح وہ امر جس کی گمراہی ظاہر ہے ایسی چیزیں ہیں جن کا باطل و فاسد ہونا واضح طور پر معلوم ہو جیسے کفار کی رسموں اور ان کے طور طریقوں پر عمل کرنا، ان سے بچنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ تیسرا امر مختلف فیہ ہے یعنی ایسی چیزیں جن کا حکم واضح طور پر کچھ ثابت نہ ہو بلکہ پوشیدہ مشتبہ ہو، بعض لوگوں نے اس کی تعریف یہ کی ہے امر مختلف فیہ وہ چیزیں ہیں جن کے احکام اللہ اور اللہ کے رسول نے نہ بتائے ہوں بلکہ لوگ اس کی تعیین میں اختلاف کرتے ہوں جیسے آیات متشابہات یا وقت قیامت کا تعین وغیرہ، اس کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ ایسی چیزوں میں اپنی طرف سے کچھ نہ کہو بلکہ ان کے حقیقی مراد و مفہوم کا تعین اللہ کے سپرد کرو وہی بہتر جاننے والا ہے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((اِنَّ الشَّیْطَانَ ذِئْبُ الْاِنْسَانِ کَذِئْبِ الْغَنَمِ یَأْخُذُ الشَّاذَۃَ والْقَاصِیَۃَ وَالنَّاحِیَۃَ وَاِیَّاکُمْ وَالشِّعَابَ وَ عَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ وَالْعَامَّۃِ)) (رواہ مسند احمد بن حنبل)
حضرت معاذ بن جبل ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے جس طرح بکری کا بھیڑیا ہوتا ہے کہ وہ اس بکری کو اٹھا کرلے جاتا ہے جو ریوڑ سے بھاگ نکلی ہو یا ریوڑ سے دور چلی گئی ہو یا ریوڑ کے کنارے پر ہو اور تم پہاڑ کی گھاٹیوں (یعنی گمراہی) سے بچو نیز جماعت اور مجمع کا ساتھ پکڑے رہو۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس طرح بھیڑیا جب کسی ایسی اکیلی بکری کو پالیتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہوگئی ہو تو وہ اس پر بہت دلیر ہوجاتا ہے اور اسے اٹھا کرلے جاتا ہے اسی طرح جب کوئی آدمی علماء دین کی جماعت اور ان کے گروہ سے انحراف کر کے الگ ہوا جاتا ہے اور اپنی عقل و فہم کے بل بوتے پر نئے نئے مذاہب نکالتا ہے اور نت نئے مسلک پیدا کرتا ہے تو اس پر شیطان کو پوری طرح اختیار و تسلط ہوجاتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا آدمی شیطان کے چنگل میں پوری طرح آکر گمراہی کی انتہائی گہری گھاٹیوں پر جاگرتا ہے۔ اس لئے آخر حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ پہاڑ کی گھاٹیوں سے بچو یعنی اسلام کی صاف و سیدھی راہ کو چھوڑ کر ایسی گھاٹیوں میں نہ جا بیٹھو جو ضلالت و گمراہی سے بھری ہوئی ہوں۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ ذَرِّ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ شِبْرًا فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَۃَ الْاِسْلَامِ مِنْ عُنُقِہٖ ))(رواہ مسند احمد بن حنبل و ابوداؤد)
اور حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی جماعت سے بالشت بھر بھی (یعنی ایک ساعت کے لئے بھی) جدا ہوا، اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے نکال دیا۔ (مسند احمد بن حنبل، ابوداؤد)
تشریح
یعنی جو آدمی کسی مرحلہ پر بھی جماعت سے الگ ہوا ہوگا تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ وہ اب اسلام کی قیود اور احکام کی پابندی سے بھی آزاد ہوجائے گا اور اپنی ذہنی و فکری اور عملی طاقتوں کو ایسے رخ پر موڑ دے گا جہاں نہ کوئی قید ہوگی اور نہ کسی کی پابندی بلکہ وہ خود رو، آزاد اور دین شریعت کا غیر پابند بن جائے گا۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ مَّالِکِ بْنِ اَنَسِ ، مُرْسَلًا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((تَرَکْتُ فِیْکُمْ اَمَرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِھِمَا: کِتَابُ اﷲِ وَسُنَّۃُ رَسُوْلِہٖ)) (رواہ فی الموطا)
اور حضرت مالک بن انس ؓ مرسلًا روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں، جب تک تم انہیں پکڑے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہوسکتے۔ وہ کتاب اللہ (قرآن مجید) اور سنت رسول اللہ (احادیث) ہیں۔ (موطا)
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ غُضَیْفِ بْنِ الْحَارِثِ الثُّمَالِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((مَآ اَحْدَثَ قَوْمٌ بِدْعَۃً اِلَّا رُفِعَ مِثْلُھَا مِنَ السُّنَّۃِ فَتَمَسُّکٌ بِسُنَّۃِ خَیْرٌ مِّنْ اِحْدَاثِ بِدْعَۃِ))(رواہ مسند احمد بن حنبل)
اور حضرت غضیف بن حارث الثمالی ؓ (اسم گرامی غضیف ابن حارث شمالی ہے اور کنیت ابواسماء ہے آپ صحابی ہیں اور انصار سے ہیں)۔ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی قوم (دین میں) نئی بات نکالتی ہے (یعنی ایسی بدعت جو سنت کے مزاحم ہو) تو اس کے مثل ایک سنت اٹھالی جاتی ہے۔ لہٰذا سنت کو مضبوط پکڑنا نئی بات نکالنے (بدعت) سے بہتر ہے۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
سنت پر عمل کرنا اگرچہ وہ معمولی درجہ کی ہو بدعت پیدا کرنے اور بدعت پر عمل کرنے سے بہتر ہے اگرچہ وہ بدعت حسنہ ہو اس لئے کہ سنت نبوی کے اتباع و پیروی سے روح میں جلا پیدا ہوتا ہے جس کے نور سے قلب و دماغ منور ہوتے ہیں اس کے برخلاف بدعت ظلمت و گمراہی کا سبب ہے مثلا بیت الخلاء میں آداب سنت و شرع کے مطابق جانا، سرائیں بنانے اور مدر سے قائم کرنے سے بہتر ہے۔ کیونکہ اگر کوئی آدمی ان آداب کی رعایت کرتا ہوا بیت الخلاء جاتا ہے جو حدیث سے منقول ہیں تو وہ سنت پر عمل کرنے والا کہلائے گا۔ برخلاف اس کے کہ اگرچہ مدر سے قائم کرنا اور خانقاہیں بنانا بہت بڑا کام ہے۔ لیکن چونکہ وہ بدعت حسنہ ہے، اس لئے اس معمولی سی سنت پر عمل کرنے والا اتنے بڑے کام کرنے والے سے افضل ہوگا اس لئے کہ آداب سنت کا خیال کرنے والا اور سنت کی پیروی کرنے والا مقام و عروج اور قرب الہٰی کی طرف ترقی کرتا ہے مگر سنت کو ترک کرنے والا مقام علیا سے نیچے گرتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی چیزیں جو افضل و اعلیٰ ہوتی ہیں وہ انہیں ترک کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک مقام آجاتا ہے کہ وہ قساوت قلبی کے مرتبہ کو پہنچ جاتا ہے جسے رائن اور طبع کہتے ہیں۔ سید جمال الدین سے بھی یہی منقول ہے نیز وہ لکھتے ہیں کہ اس میں حکمت یہ ہے کہ جس نے آداب سنت کی رعایت کی مثلاً اس کا بیت الخلاء جانا بھی آداب سنت کے مطابق ہے تو اللہ کی جانب سے یہ توفیق دی جاتی ہے کہ وہ اس سے اعلیٰ سنت پر عمل کرے۔ چناچہ توفیق الہٰی کا وہی نور اعلیٰ مقامات کی طرف اس کی راہ نمائی کرتا رہتا ہے آخر کار وہ منزل مقصود تک جا پہنچتا ہے۔ اور جو آدمی کسی معمولی سنّت کو بھی ترک کرتا ہے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر یہ خامی پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ دوسری اعلیٰ و افضل چیزوں کو بھی ترک کرتا رہتا ہے اور اس کی سلامتی قلب ترک سنت کی ظلمت میں پھنس کر تنزل کرتی رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ مقام رین و طبع تک جا گرتا ہے۔ ملا علی قاری نے اس موقع پر بڑی اچھی بات کہی ہے کہ کیا تم یہ نہیں دیکھتے کہ کسل وسستی کی وجہ سے سنت کو ترک کرنا ملامت و عتاب کا باعث ہے اور سنت کو ناقابل اعتناء سمجھ کر اس پر عمل کرنا معصیت اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سبب ہے اور سنت کا انکار بدعتی ہونے کا اظہار ہے لیکن اگر کسی بدعت کو خواہ وہ بدعت حسنہ کیوں نہ ہو ترک کردیا جائے تو یہ تمام باتیں لازم نہیں آیتیں۔ گویا سنت کو ترک کرنا بیشمار نقصان و فساد کا باعث ہے مگر بدعت کو ترک کرنا کوئی اثر نہیں ڈالتا اس لئے اس سے معلوم ہوا کہ سنت پر عمل کرنا خواہ کتنی ہی معمولی ہو، فلاح وسعادت اور بہتری کا باعث ہے اور بدعت پر عمل کرنا خواہ وہ حسنہ ہوا اس کے مقابلہ میں بہتر نہیں ہے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ حَسَّانَ ، قَالَ: مَا ابْتَدَعَ قَوْمٌ بِدْعَۃً فِی دِیْنِھِمْ اِلَّا نَزَعَ اﷲُ مِنْ سُنَّتِھِمْ مِثْلَھَا ثُمَّ لَا یُعِیْدُھَا اِلَیْھِمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔(رواہ الدارمی)
اور حضرت حسان ؓ ( اسم گرامی حسان ابن ثابت ہے اور کنیت ابوالولید ہے انصاری اور خزرجی ہیں بعض حضرات نے کہا ہے کہ کنیت ابوالحسام ہے حضرت حسان کی وفات حضرت علی ؓ کے زمانہ خلافت میں ٤٠ ھ میں ہوئی ہے بعض لوگ فرماتے ہیں کہ وفات پچاس ہجری میں ہوئی ہے) فرماتے ہیں، کہ جب کوئی قوم اپنے دین میں نئی بات ( یعنی ایس بدعت سیہ جو سنت کے مزاحم ہو) نکالتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی سنت میں سے اس کا مثل نکال لیتا ہے (یعنی جب کوئی بدعت سیہ پیدا ہوتی ہے تو اس کے مثل سنت دنیا سے اٹھالی جاتی ہے) اور پھر وہ سنت قیامت تک اس کی طرف واپس نہیں کی جاتی۔ (درامی)
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَۃِ فَقَدْ اَعَانَ عَلٰی ھَدْمِ الْاِسْلَامِ)) رَوَاہُ الْبَیْھَقِیْ فِی شُعَبِ الْاِیْمَانِ مُرْسَلًا۔ (رواہ البیہقی)
اور حضرت ابراہیم بن میسرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی نے بدعتی کی تعظیم کی اس نے اسلام کے ستون کو گرا دینے میں مدد کی۔ (بیہقی )
تشریح
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی آدمی کسی بدعتی کی تو قیر و عزت کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں اس سنت کی عزت و احترام کا کوئی خیال نہیں ہے اس طرح وہ سنت کی تحقیر کا باعث ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ سنت کی تحقیر اسلام کی عمارت کو اجاڑنا ہے اسی پر اہل سنت کی تحقیر کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی پابند شرع و سنت کی توہین کرتا ہے تو وہ دین و سنت کی عمارت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے برخلاف اگر کوئی آدمی بدعتی کی تحقیر و تذلیل کرے تو یہ اس بات کا اظہار ہوگا کہ اسے سنت سے محبت ہے جو دین اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کا سبب ہے جس پر اسے بیشمار حسنات کا مستحق قرار دیا جائے گا۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ: مَنْ تَعَلَّمَ کِتَابَ اﷲِ ثُمَّ اتَّبَعَ مَافِیْہِ ھَدَاہُ اﷲُ مِنَ الضَّلَالَۃِ فِی الدُّنْیَا وَوَقَاہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سُوْ ۤءَ الْحِسَابِ وَفِیْ رِوَایَۃِ ، قَالَ : مَنِ اقْتَدَی بِکِتَابِ اﷲِ لَایَضِلُّ فِی الدُّنْیَا وَلَا یَشْقٰی فِی الْاٰخِرَۃِ ثُمَّ تَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ(فَمَنِ اتَّبَعَ ھُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَلَا یَشْقٰی)) (رواہ رزین)
اور حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے کتاب اللہ کا علم حاصل کیا اور پھر اس چیز کی پیروی کی جو اس (کتاب اللہ) کے اندر ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں گمراہی سے ہٹا کر راہ ہدایت پر لگائے (یعنی اس کو ہدایت کے راستہ پر ثابت قدم رکھے گا اور گمراہی سے بچالے گا) اور قیامت کے دن اس کو برے حساب سے بچالے گا ( یعنی اس سے مواخذہ نہیں ہوگا) اور ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے کتاب اللہ کی پیروی کی تو نہ وہ دنیا میں گمراہ ہوگا اور نہ آخرت میں بدبخت ہوگا (یعنی اسے عذاب نہیں دیا جائے گا) اس کے بعد عبداللہ ابن عباس ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت (فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰي) 20۔ طہ 123) ترجمہ جس آدمی نے میری ہدایت (یعنی قرآن) کی پیروی کی نہ وہ دنیا میں گمراہ ہوگا اور نہ (آخرت میں) بدبخت ہوگا۔ (رزین)
تشریح
چونکہ قرآن کریم کا پڑھنا باعث سعادت اور اس پر عمل کرنا ذریعہ نجات ہے اس لئے جو آدمی قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھے اور قرآن کو سمجھنے کی جو شرائط ہیں ان کے مطابق اس کے علوم و معارف کو حاصل کرے اور پھر قرآن کریم نے جو احکام بتائے ہیں ان پر عمل کرے اور ہدایت کا جو راستہ متعین کردیا ہے اس پر چلتا رہے تو اس کے لئے دین و دنیا دونوں جگہ سعادت و رحمت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ دنیا میں اس پر اللہ کی جانب سے رحمت ہوگی کہ وہ چونکہ قرآن کو اپنا راہبر بنا رکھے گا اس لئے گناہ و معصیت سے بچتا رہے گا برائی کے راستے کو چھوڑ دے گا جس کا نتیجہ آخرت میں یہ ہوگا کہ وہاں اس پر اللہ کی بیشمار رحمتوں کا سایہ ہوگا نہ تو حساب و کتاب کی سختی ہوگی اور نہ عذاب میں مبتلا ہوگا اور یہی بندہ کے حق میں سب سے بڑی فلاح وسعادت ہے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدِ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ((ضَرَبَ اﷲُ مَثَلًا صِّرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا وَعَنْ جَنْبَتَیِ الصِّرَاطِ سُوْرَانٌ فِیْھِمَا اَبْوَابٌ مُفَتَّحَۃٌ وَعَلَی الْاَبْوَابِ سْتُوْرٌ مُرْخَاۃٌ وَعِنْدَ رَأْسِ الصِّرَاطِ دَاعِ یَقُوْلُ اسْتَقِیْمُوْا عَلَی الصِّرَاطِ وَلَا تَعَوَجُّوْا وَفَوْقَ ذٰلِکَ دَاعِ یَّدْعُوْ کُلَّمَاھَمَّ عَبْدٌ اَنْ یَفْتَحَ شَیْئًا مِنْ تِلْکَ الْاَبْوَابِ قَالَ: وَیْحَکَ لَا تَفْتَحُہ، فَاِنَّکَ اِنْ تَفْتَحُہ، تَلِجْہ،))ثُمَّ فَسَّرَہ، فَاَخْبَرَ ((اَنَّ الْصَرَاطَ ھُوَ الْاِسْلَامُ وَاَنَّ الْاَبْوَابَ الْمُفَتَّحَۃَ مَحَارِمُ اللّٰہِ وَاَنَّ السَّتُوْرَ الْمُرْخَاۃَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَاَنَّ الدَّاعِیَ عَلَی رَأْسِ الصِّرَاطِ ھُوَالْقُرْاٰنُ وَاَنَّ الدَّاعِیَ مِنْ فَوْقِہٖ ھُوَوَاعِظُ اﷲِ فِیْ قَلْبِ کُلِّ مُؤْمِنِ)) رَوَاہُ رَزَیْنٌ وَاَحْمَدُ وَالْبَیْھَقِیُّ فِی شُعَبِ الْاِیْمَانِ عَنِ النَّوَاسِ بْنِ سَمَعَانَ وَکَذَا التِّرْمِذِیُّ عَنْہ، اِلَّا اَنَّہُ ذَکَرَ اَخْصَرَ مِنْہُ۔
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے (وہ یہ کہ) ایک سیدھا راستہ ہے اور اس کے دونوں طرف دیواریں ہیں۔ ان دیواروں میں کھلے ہوئے دروازے ہیں دروازوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور راستہ کے سر پر پکارنے والا کھڑا ہے جو پکار پکار کر کہتا ہے، سیدھے راستہ پر چلے آؤ، غلط راستے پر نہ لگو! اس پکارنے والے کے اوپر (یعنی اس کے آگے کھڑا ہوا) ایک دوسرا پکارنے والا ہے، جب کوئی بندہ ان دروازوں میں سے کوئی دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو وہ (دوسرا پکارنے والا) پکار کر کہتا ہے، تجھ پر افسوس ہے! اس کو نہ کھول اگر تو اسے کھولے گا تو اس کے اندر داخل ہوجائے گا (اور وہاں سخت تکلیف میں ہوگا) پھر رسول اللہ ﷺ نے اس مثال کی وضاحت کی اور فرمایا سیدھا راستہ سے مراد اسلام ہے (جس کو اختیار کر کے جنت میں پہنچتے ہیں) اور کھلے ہوئے دروازوں سے مراد وہ چیزیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے (جس کو اختیار کرنا تکمیل اسلام کے منافی ہے) اور (دروازوں پر) پڑے ہوئے پردوں سے مراد اللہ تعالیٰ کی قائم کی ہوئی حدود ہیں اور راستہ کے سرے پر جو پکارنے والا کھڑا ہے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیحت کرنے والا فرشتہ ہے جو ہر مومن کے دل میں ہے۔ زرین، مسند احمد بن حنبل اور بیہقی نے اس روایت کو شعب الایمان میں نو اس بن سمعان سے نقل کیا ہے اور جامع ترمذی نے بھی انہیں سے روایت کی ہے مگر جامع ترمذی نے اختصار ساتھ بیان کیا ہے۔
تشریح
شرعی احکام زیادہ تر دو ہی قسموں سے متعلّق ہیں یعنی حلال و حرام اور ان دونوں کو شریعت نے وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا ہے جو چیزیں حلال ہیں ان کے بارے میں بھی اعلان کردیا گیا ہے اور جو چیزیں حرام ہیں ان کی بھی تصریح کردی گئی ہے اور بتادیا گیا ہے کہ جس طرح حلال چیزوں پر عمل کر کے اللہ کی خوشنودی ورضا کے مستحق ہوگے اسی طرح حرام چیزوں کو اختیار کر کے سزا کے مستوجب گردانے جاؤ گے جو چیزیں حرام قرادی گئی ہیں ان کے اور بندوں کے درمیان اللہ نے اپنے احکام سے حدیں قائم کردی ہیں تاکہ بندے اس سے تجاوز کر کے محرمات کے ارتکاب کے مجرم نہ ہوں، انہی حرام چیزوں اور حدود کو جو احکام الہٰی ہیں اس مثال میں دروازوں اور پردوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اسی طرح مثال مذکورہ میں فرمایا گیا ہے کہ ہر مومن کے دل پر ایک فرشتہ ہوتا ہے جو قلب کا محافظ ہوتا ہے جس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ بندہ کو نیکی کے راستہ پر لگانے کی سعی کرے اس کو تائید الہٰی اور توفیق الٰہی کہتے ہیں اگر کسی بندے کے ساتھ تائید الہٰی و توفیق الٰہی نہ ہو تو انسان کتنا بھی چاہے ہدایت کے راستہ پر نہیں لگ سکتا۔ چناچہ مثال میں قرآن کو راہبر بتایا گیا ہے مگر اس کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا ہے کہ قرآن کی ہدایت بھی اسی وقت کارآمد ہوتی ہے جب کہ بندہ کے ساتھ تائید الہٰی اور توفیق الٰہی بھی شامل ہو۔ قرآن تو راستہ بتادیتا ہے اور سیدھے راستے پر چلنے کی ہدایت کرتا ہے مگر اس سے نصیحت حاصل کرنا اور اس راہ پر چل کر منزل مقصود تک پہنچنا اسی وقت ہوسکتا ہے کہ جب بندہ کے دل میں اللہ کی جانب سے ہدایت ڈال دی جائے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدِ قَالَ: مَنْ کَانَ مُسْتَنًا فَلْیَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْمَاتَ فَاِنَّ الْحَیَّ لَا تُؤْمَنُ عَلَیْہِ الْفِتْنَۃُ اُوْلٰئِکَ اَصْحَابُ مُحَمَّدِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانُوْا اَفْضَلَ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اَبَرَّھَا قُلُوْبًا وَّاَعْمَقَھَا عِلْمًا وَّاَقَلَّھَا تَکَلُّفًا اخْتَارَھُمُ اﷲُ لِصُحْبَۃِ نَبِیِّہٖ وَلَا قَامَۃِ دِیْنِہٖ فَاعْرِفُوْالَھُمْ فَضْلُھُمْ وَاتَّبِعُوْ ھُمْ عَلَی اَثَارِھِمْ وَتَمَسَّکُوْا بِمَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ اَخْلَاقِھِمْ وَسِیَرِھِمْ فَاِنَّھُمْ کَانُوْا عَلَی الْھُدٰی الْمُسْتَقِیْم۔ (رواہ رزین)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جو آدمی کسی طریقہ کی پیروی کرنا چاہے تو اس کو چاہئے کہ ان لوگوں کی راہ اختیار کرے جو فوت ہوگئے ہیں کیونکہ زندہ آدمی (دین میں) فتنہ سے محفوظ نہیں ہوتا اور وہ لوگ جو فوت ہو گے ہیں ( اور جن کی پیروی کرنی چاہئے) رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ہیں، جو اس امت کے بہترین لوگ تھے، دلوں کے اعتبار سے انتہا درجہ کے نیک، علم کے اعتبار سے انتہائی کامل اور بہت کم تکلّف کرنے والے تھے، ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی رفاقت اور اپنے دین کو قائم کرنے کے لئے منتخب کیا تھا لہٰذا تم ان کی بزرگی کو پہچانو اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرو اور جہاں تک ہو سکے ان سے آداب و اخلاق کو اختیار کرتے رہو (اس لئے کہ) وہی لوگ ہدایت کے سیدھے راستہ پر تھے۔ (رزین)
تشریح
مرے ہوئے لوگوں سے مراد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں اور زندوں سے عبداللہ ابن مسعود ؓ کے زمانہ کے لوگ اور تابعین مراد ہیں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نے یہ ارشاد تابعین کے سامنے ازراہ نصیحت فرمایا تھا اور ہوسکتا ہے کہ ان دور میں چونکہ باطل فرقے جنم لینے لگے تھے جو صحابہ کرام کی ذات اقدس کے پاک دامن پر گندگی و غلاظت کے چھینٹے ڈالتے تھے جیسا کہ رافضی اور ملحدین کے گروہ اس ناپاک مشغلہ میں لگے ہوئے تھے اس لئے عبداللہ ابن مسعود ؓ نے ان کے غلط الزامات اور صحابہ پر باندھے گئے بہتان کی رد میں صحابہ کرام کی عظمت و بزرگی اور ان کی فضیلت کا اظہار فرمایا۔ چنانچہ عبداللہ ابن مسعود ؓ شہادت دے رہے ہیں کہ صحابہ کرام امت کے بہترین اور انتہا درجہ کے نیک لوگ تھے۔ یعنی ان کے قلوب ایمان و اسلام کی روشنی سے پوری طرح منوّر تھے خلوص و استقامت کے اوصاف سے متصف تھے ایمان کامل کی دولت سے مشرف تھے اور زہد و تقدس و خشیت الہٰی سے ان کی زندگیاں معمور تھیں۔ پھر دوسری بات یہ کہ یہی وہ مقدس جماعت تھی جس نے سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی آواز پر لبّیک کہا اور اللہ کے دین کو پھیلانے میں معین و مددگار رہے، جس کے نتیجہ میں انہیں جن جانکاہیوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا وہ ظلم و ستم اور تشدّد و بربریّت کے جس دور سے گزرے اور انہوں نے اسلام کی اشاعت وبقاء کے سلسلہ میں جو قربانیاں دیں وہ اسلامی تاریخ کا سب سے تابناک باب ہے۔ چنانچہ اسلامی تاریخ کے جاننے والے جانتے ہیں کہ ان مقدّس حضرات کو رسول اللہ ﷺ کی معاونت اور رفاقت اور دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے صلہ میں کتنی سختیوں اور مشکلات سے دو چار ہونا پڑا، زندگی کی کوئی ایسی تکلیف نہ تھی جس میں یہ مبتلا نہ کئے گئے ہوں، کوئی ایسی آزمائش نہ تھی جس سے انہیں سابقہ نہ پڑا ہو اور یہ سب اللہ کی جانب سے محض اس لئے تھا کہ ان قلوب کو خوب جانچ، پرکھ لیا جائے اور دیکھ لیا جائے کہ جس عظیم مشن کے چلانے کے لئے ان کو منتخب کیا جا رہا ہے اور جس رسول کی رفاقت جیسے عظیم منصب کے لئے ان کو پسند کیا جا رہا ہے ان کے ذہن و فکر اور دل و دماغ اس کے اہل ہیں یا نہیں، ان کے قلوب سختیوں کو برداشت کرنے کے قابل اور مشکلات پر صبر و شکر کرنے والے ہیں یا نہیں، چناچہ ان کو امتحان میں ڈالا گیا ہے، آزمائش کی گئی اور وہ حضرات امتحان و آزمائش کے ہر مرحلہ سے کامیاب گزرے اور مصیبت و سختی کی ہر بھٹی سے کندن ہو کر نکلے، ان کے صبر و رضا کا جب امتحان لیا گیا تو ایسے صابر و شاکر نکلے کہ بڑی سے بڑی سختی اور سخت مصیبت پر بھی ان کے قدم میں لغزش آنے کی بجائے اور استقامت پیدا ہوئی اور وہ اپنے ایمان و اسلام پر پورے ایقان و اعتماد کے ساتھ قائم و مضبوط رہے ان کے اسی عظیم وصف کی شہادت قرآن نے اس طرح دی ہے کہ آیت ( اُولٰ ى ِكَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى۔ (49۔ الحجرات 3) یہ صحابہ وہی ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے ادب کے واسطے جانچ لیا ہے۔ اگر علم و فضل کی کسوٹی پر ان سختیوں کو پرکھا جائے تو بلا مبالغہ نتیجہ یہی قائم کرنا پڑے گا کہ ہر صحابی علم و معرفت، فہم و فراست، تدبر و فکر، عقل و دانش کا مینارہ نور تھا جن سے دنیا نے ظلم و جہل کے اس ماحول میں تعلیم و ترقی وتہذیب و شرافت اور انسانیت کی روشنی حاصل کی۔ چناچہ کوئی حدیث و تفسیر میں یکتا تھا تو کوئی فقہ و قراءت کا امام کسی کے اندر تصوّف و فرائض کا علم پورے کمال کے ساتھ تھا تو کسی کے اندر معانی و ادب کا بحربیکراں موجزن تھا، غرض کہ ہر ایک اپنی جگہ علمی حیثیت سے بھی کامل واکمل تھا۔ اور پھر یہ رسول اللہ ﷺ کے شرف و صحبت کا اثر اور آپ ﷺ کی نگاہ کرشمہ ساز کا کمال تھا کہ نہ صرف مرد صحابی بلکہ عورت صحابیہ بھی اپنی اپنی جگہ علم و معرفت کے آفتاب ہدایت تھے جن سے بڑے بڑے صحابی روشنی حاصل کرتے تھے۔ روحانی و اخروی عظمت وسعادت کے اس عظیم مرتبہ پر ہوتے ہوئے ان مقدس حضرات کی بےتکلّفی کا یہ عالم تھا کہ عملی دنیا میں بھی دولت و ثروت، اقتدار حکمرانی اور ملک و وجاہیت کے باوجود انہیں ننگے پاؤں پھرنے میں عار تھا اور نہ زمین و فرش پر نماز پڑھنے، لیٹنے بیٹھنے میں کوئی شرم محسوس ہوتی تھی۔ سادگی کی حد تھی کہ مٹی لکڑی کے برتن و باسن میں انہیں کھانے پینے میں کوئی تکلّف نہیں ہوتا تھا، دوسرے لوگوں کا جھوٹا کھانا اور پینا ان کے نزدیک کوئی معیوب چیز نہ تھی، آداب گفتگو کی یہ کیفیت تھی کہ ہر ایک کی نجی بات چیت نے بھی کبھی شرافت و تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا، بیکار گفتگو، لا یعنی باتیں، لغو باتوں سے کوسوں دور رہتے کلام و گفتگو وہی کرتے جو ضروری اور بامقصد ہو صاف گوئی اس درجہ کی تھی کہ جو مسئلہ انہیں معلوم نہ ہوتا نہایت صفائی سے کہہ دیتے کہ ہمیں یہ معلوم نہیں ہے آج کل کی طرح خواہ مخواہ تکلّف کر کے لچھے دار تقریریں کر کے مسئلے کو غلط سلط بیان نہیں کرتے تھے بلکہ وہ جسے اپنے سے افضل سمجھتے تھے نہایت خلوص کے ساتھ سائل کو ان کے پاس بھیج دیتے کہ ان سے دریافت کرلو، حصول علم کا اتنا شوق تھا کہ جس کو وہ علم میں اپنے سے بڑا سمجھتے، خواہ وہ عمر میں کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، استفادہ کے لئے اس کے پاس جانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا تھا۔ جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ ان کے یہاں زندگی کے کسی بھی شعبہ میں تصنع و بناوٹ نام کو بھی نہیں ہوتی تھی یہاں تک کہ وہ لوگ اگر قرآن پڑھتے تو وہ بھی کسی تصنع و بناوٹ کے بغیر اس کے پورے حقوق و آداب کو ملحوظ رکھ کر خالص عربی لہجہ میں پڑھتے تھے یہ نہیں تھا کہ خواہ مخواہ آواز بنا کر راگ و سر کے ساتھ پڑھتے ہوں۔ یہی حال ان کے باطن کا تھا چونکہ انہیں براہ راست سرکار دو عالم ﷺ سے قرب و صحبت کا شرف حاصل تھا اس لئے ان کے قلوب پوری طرح مجلیٰ و مصفا ہو کر ہمہ وقت یاد الہٰی اور ذکر اللہ میں مصروف رہتے تھے، ان کے افکار عرفان و حقیقت کی انتہائی بلندیوں پر تھے، آج کل کے جاہل صوفیاء اور پیروں کی طرح وہ دکھلانے کے لئے حال میں آکر رقص نہ کرتے تھے نہ ہو ہا کا شور و شغب کرتے تھے اور نہ وہ اپنے قلوب کی صفائی کے لئے ہارمونیم کے ساز پر، طبلہ کی تھاپ پر اور قوالی کی تان پر حصول معرفت کا دعویٰ کرتے تھے جیسا کہ آج کے دور میں اہل اللہ کے مزارات پر ان لغویات سے تصوّف و طریقت کے نام پر سرور و کیف حاصل کیا جاتا ہے اور نہ وہ کسی اسکیم و تنطیم کے باعث حلقہ وغیرہ بنا کر مسجد و گھر میں ذکر جہر کرتے تھے بلکہ نہایت سادگی کے ساتھ جسے جہاں موقع مل جاتا وہیں یاد الہٰی میں نہایت صبر و سکون کے ساتھ مشغول ہوجانا ان کی اسی سادگی اور خلوص کی وجہ سے بظاہر تو ان کے اجسام فرش پر نظر آتے مگر ان کی روحیں عرش پر سیر کرتی ہوتیں، ان کے ظاہری بدن لوگوں کے ساتھ ہوتے مگر ان کے قلوب مقام قرب کی انتہائی بلندیوں پر ہوتے۔ صحابہ کا طرز معاشرت بھی تصنع و بناوٹ اور تکلّف سے بالکل پاک و صاف تھا، انہیں جو میسر آتا وہی کھالیتے جو مل جاتا وہی پہن لیتے، موٹا چھوٹا کپڑا ہو وہ پہن لیا، عمدہ ملا اسے استعمال کرلیا، یہ نہیں تھا کہ دنیا کو دکھلانے کے لئے یا اپنے زہد و تقدّس کا رعب جمانے کے لئے حرقہ، گڑری یا ایسے ہی لباس اپنے اوپر لازم کر رکھے ہوں، ہاں جسے یہی لباس میسر ہوتا وہ اسے بھی استعمال کرتا، کھانے پینے میں یہ تامل تھا نہایت ذوق و شوق سے کھاتے اور اگر روکھا سوکھا دال دلیا ہی اللہ دے دیتا تو اسے بھی نہایت صبر و شکر سے کھالیتے۔ بہر حال عبادات ہوں یا معاملات، اخلاق و عادات ہوں، یا معیشت و معاشرت، زندگی کے ہر پہلو میں ان کے یہاں خلوص اور بےتکلّفی و سادگی تھی اور انہوں نے اپنے نظام حیات کو ایسے سانچے میں ڈھال رکھا تھا جو خالص اسلامی دینی اور اخلاقی تھا اور یہ سب نگاہ نبوت کی کرشمہ سازی اور اس ذات اقدس کی صحبت کا اثر تھا جو خود اپنے قول الحدیث (ادبنی ربی فاحسن تادیبی) (یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے ادب سکھایا اور ادب کے انتہائی درجہ بر پہنچایا) کے مطابق ادب و اخلاق اور تہذیب و شرافت کے تمام جواہر ازل ہی سے اپنے اندر سموئے ہوئے تھے کہ جو قوم دنیا کی سب سے زیادہ غیر مہذب، غیر متمدن اور غیر ترقی یافتہ تھی اور اصلاح و تربیت کے ذریعہ اسے تہذیب و تمدن اور اخلاق و احسان کے اس مقام رفیع تک پہنچا دیا جہاں نہ صرف یہ کہ وہ خود ایک کامل اور عظیم قوم ثابت ہوئی بلکہ دنیا کی دوسری قوموں نے اس کے نقش قدم کو اپنے لئے جادہ منزل بنا کر تہذیب و تمدن کی انتہائی بلندیوں پر بسیرا کیا۔ چنانچہ اس حدیث میں عبداللہ ابن مسعود ؓ لوگوں کو یہی ہدایت فرما رہے ہیں کہ اگر تم ہدایت کا راستہ چاہتے ہو، فلاح کی منزل کے خواہش مند ہو، عرفان الہٰی اور حبّ رسول ﷺ کے انتہائی مقام پر پہنچنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ اسی مقدّس جماعت کے راستہ کو اختیار کرو، انہی کے اخلاق و عادات کو اپنے لئے جادہ منزل جانو، انہی کی متابعت و پیروی کو کامیابی و کامرانی کا ذریعہ سمجھو اور ان کی عقیدت و محبت سے زندگی کے ہر گوشہ کو منور کرو۔ اس جگہ اتنی بات اور سمجھ لینی چاہئے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کے ارشاد سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین انتقال فرما گئے ہیں انہیں کی پیروی و اطاعت کرنی چاہئے۔ حالانکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ پیروی کے لائق صحابہ کرام کی جماعت ہے خواہ وہ زندہ ہوں یا اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہوں مردوں کی تخصیص صرف اس لئے کی گئی ہے کہ اکثر صحابہ کرام اس وقت انتقال فرما چکے تھے ورنہ یہاں زندہ اور مردہ دونوں مراد ہیں۔ اس حدیث سے صحابہ کی انتہائی عظمت اور فضل و کمال کا اظہار ہوتا ہے چونکہ تمام مخلوق اور تمام انسانوں میں یہ سب سے افضل تھے اور حق و صداقت کے قبول کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم ان میں موجود تھی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی ﷺ کی رفاقت کے لئے منتخب فرمایا اور قرآن میں بایں طور پر ان کے فضل و کمال کی شہادت دی کہ آیت ( وَاَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَكَانُوْ ا اَحَقَّ بِهَا وَاَهْلَهَا) 48۔ الفتح 26) اور ان (صحابہ) کو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اس کے مستحق اور اہل تھے۔ بعض آثار میں آیا ہے کہ پروردگار عالم نے تمام بندوں کے قلوب پر نظر فرمائی چناچہ رسول اللہ ﷺ کا قلب مبارک سب سے زیادہ منوّر و روشن اور پاک و صاف تھا تو نور نبوت اس میں ودیعت فرمایا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قلوب بھی بہت زیادہ پاک و صاف اور اہل و لائق تھے تو ان کو اپنے نبی کی ﷺ کی رفاقت کے لئے پسند فرمایا۔ اور اتنی بات تو ہم آج خود جانتے ہیں کہ ایک آدمی جب کسی پیر برحق کا مرید ہوتا ہے تو باوجودیکہ وہ پہلے سے بالکل خالی اور کورا ہوتا ہے مگر پیر کی صحبت اور اس کی خدمت و اطاعت گزاری کی وجہ سے وہ کتنا اعلیٰ مقام حاصل کرلیتا ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنی زندگیاں رسول اللہ ﷺ کی محبت میں اور اپنی عمریں آپ ﷺ کی خدمت میں صرف کردیں اور فضل و کمال حاصل نہ کریں۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ جَابِرِاَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اﷲُ عَنْھُمَا اٰتَی رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم بِنُسْخَۃِ مِنَ التَّوْرَاۃِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اﷲِ!ھٰذِہٖ نُسْخَۃٌ مِّنَ التَّوْرَاۃِ فَسَکَتَ فَجَعَلَ یَقْرَأُوَوَجْہُ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَتَغَیَّرُ فَقَالَ اَبُوْبَکْرِ رَضِیَ اﷲُ عَنْہ، ثَکِلَتْکَ الثَّوَاکِلُ مَاتَرٰی مَابِوَجْہٖ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَنَظَرَ عُمَرُ اِلٰی وَجْہٖ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ اَعُوْذُ بِاﷲِ مِنْ غَضَبِ اﷲِ وَغَضَبِ رَّسُوْلِہٖ رَضِیْنَا بِاﷲِ رَبًا وَبِالْاِ سْلَامِ دِیْنَا وَبِمُحَمَّدِ نَبِیًّا فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدِ بِیَدِہٖ لَوْبَدَاْلَکُمْ مُوْسٰی فَاتَّبَعْتُمُوْہ، وَتَرَکْتُمُوْنِیْ الَضَلَلْتُمْ عَنْ سَوَاءِ لسَّبِیْلِ وَلَوْ کَانَ حَیًّا وَاَدْرَکَ نَبُوَّتِیْ لاَ تَّبَعَنِی))(رواہ الدامی)
اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ (ایک مرتبہ) حضرت عمر بن خطاب ؓ سرکار دو عالم ﷺ کے پاس تورات کا ایک نسخہ لائے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! یہ تورات کا نسخہ ہے، رسول اللہ ﷺ خاموش رہے۔ پھر حضرت عمر فاروق ؓ نے (تورات کو) پڑھنا شروع کردیا۔ ادھر غصہ سے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہونے لگا (یہ دیکھ کر) حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا عمر! گم کرنے والیاں تمہیں گم کریں۔ کیا تم رسول اللہ ﷺ کے چہرہ اقدس (کے تغیر) کو نہیں دیکھتے۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ منوّر کی طرف نظر ڈالی اور (غصہ کے آثار دیکھ کر کہا) میں اللہ کے غضب اور اس کے رسول کے غصہ سے پناہ مانگتا ہوں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے درمیان ظاہر ہوتے تو تم ان کی پیروی کرتے اور مجھے چھوڑ دیتے (جس کے نتیجہ میں) تم سیدھے راستہ سے بھٹک کر گمراہ ہوجاتے اور (حالانکہ) اگر موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے اور میرا زمانہ نبوت پاتے تو وہ (بھی) یقینًا میری (ہی) پیروی کرتے۔ (درامی)
تشریح
جملہ ثکلتک الثواکل (گم کرنے والیاں تمہیں گم کریں) اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے موت کے لئے بد دعا ہے لیکن یہ ایک اہل عرب کا محاورہ ہے جو اپنے اصل معنی و مفہوم میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ ایسے مواقع پر بولا جاتا ہے جب اپنے کسی بےتکلف دوست سے کسی کو تعجب کا اظہار مقصود ہوتا ہے جیسے کوئی آدمی اپنے بےتکلف مخاطب سے ایسے موقع پر جب کہ وہ کسی ظاہری بات کو بھی نہیں سمجھ رہا ہوتا یہ کہے کہ مجھے بڑا تعجب ہے کہ یہ کھلی ہوئی بات بھی تم نہیں سمجھ رہے ہو۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کتاب و سنت کو چھوڑ کر یہود و نصاری اور حکماء اور فلاسفہ کی کتابوں کی طرف بےضرورت رجوع کرنا اور ان کی طرف التفات کرنا مناسب نہیں بلکہ یہ گمراہی کی بات ہے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْہ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((کَلَامِیْ لَا یَنْسَخُ کَلَامَ اﷲِ وَ کَلَامُ اﷲِ یَنْسَخُ کَلَامِیْ وَ کَلَامُ اﷲِ یَنْسَخُ بَعْضُہ، بِعْضًا))
اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا میرا کلام، کلام اللہ کو منسوخ نہیں کرتا اور کلام اللہ میرے کلام کو منسوخ کردیتا ہے اور کلام اللہ کا بعض کو منسوخ کرتا ہے۔
تشریح
نسخ کے معنی لغت میں کسی چیز کو مٹانے یا نقل و تحویل کے آتے ہیں جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ نسخت الریح اثار القوم۔ کہ ہوا نے لوگوں کے پاؤں کے نشان مٹا دیئے یا اسی طرح بولتے ہیں نسخ الکتاب الی کتاب کہ ایک جگہ سے کتاب کو دوسری طرف نقل کیا۔ علماء کی اصطلاح میں نسخ اسے کہتے کہ کسی حکم شرعی کا اصلاح دین کی خاطر کسی دوسرے حکم کے ذریعہ تغیر و تبدل کیا جائے۔ یا کسی حکم کو نافذ کرنا کہ جس کے اور اس سے پیشتر کا حکم جو مقدم تھا اٹھ جائے اوّل حکم کو منسوخ اور دوسرے حکم کو ناسخ کہتے ہیں۔ نسخ کی چار قسمیں ہیں۔ (١) کتاب اللہ کا نسخ کتاب اللہ کے ساتھ (٢) حدیث کا نسخ حدیث کے ساتھ (١) کتاب اللہ کا نسخ حدیث کے ساتھ (٤) حدیث کا نسخ کتاب اللہ کے ساتھ۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ مثلاً پہلے کوئی حکم قرآن میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتارا گیا لیکن بعد میں کسی خاص مصلحت کی وجہ سے قرآن کی کسی دوسری آیت نے آکر اس حکم کو منسوخ کردیا، اب اس کی بھی دو شکلیں ہوں گی، یا تو وہ آیت قرآن میں باقی رہے اور صرف تلاوت کی جاتی رہے مگر اس کا حکم کالعدم قرار دیا گیا۔ یا یہ کہ حکم کے ساتھ آیت بھی منسوخ کردی گئی اور اسی طرح نسخ کی دوسری شکل یہ ہے کہ حدیث کے کسی حکم کو حدیث ہی کے ذریعہ منسوخ کردیا گیا ہو، تیسری شکل نسخ کی یہ ہے کہ قرآن کے کسی حکم کو حدیث کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ نے منسوخ فرمایا ہو لیکن اس میں کسی قسم کا یہ اشکال پیدا نہیں ہوسکتا کہ حکم الہٰی کو رسول ﷺ جو ایک انسان ہوتا ہے کس طرح کالعدم قرار دے سکتا ہے یہ اشکال وہیں رفع ہوگیا ہے جہاں یہ بتلا دیا گیا ہے کہ حدیث بظاہر تو رسول اللہ ﷺ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے مجموعہ کا نام ہے لیکن حقیقت میں حدیث بھی وحی من اللہ ہے فرق صرف اتنا ہے کہ قرآن ایسی وحی ہے جس کی تلاوت نہیں کی جاتی اور جس کا مضمون براہ راست بار گاہ الوہیت سے اترتا ہے لیکن الفاظ رسول کے ہوتے ہیں اس صورت میں یہ حدیث متعارض نظر آئے گی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث قرآن کے حکم کو منسوخ نہیں کرسکتی۔ لہٰذا اس کا جواب یہی ہوگا کہ حدیث میں لفظ کلامی سے مراد رسول اللہ ﷺ کا وہ ارشاد ہے جو خود رسول اللہ کی ذاتی رائے اور اجتہاد کے طریقہ پر وارد ہو، نہ کہ وہ ارشاد جو بطور وحی آپ ﷺ کے قلب پر القاء فرمایا گیا ہے اس تاویل کے بعد یہ تعارض رفع ہوجائے گا۔ یا پھر یہ تاویل کی جائے گی کہ یہ حدیث خود منسوخ ہے لہٰذا اس سے اس کلیہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ چوتھی شکل نسخ کی یہ ہے کہ حدیث کے کسی حکم کو کتاب اللہ کے ذریعہ منسوخ قرار دے دیا گیا، یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ کسی قانون میں تبدیلی یا کسی حکم کی منسوخی دو وجہ سے ہوتی ہے اوّل تو یہ کہ قانون بناتے وقت بانی قانون سے کوئی فروگزاشت یا غلطی ہوگئی جس کی وجہ سے بعد میں اس قانون میں تبدیلی اور منسوخی ضروری قرار دی گئی۔ ظاہر ہے کہ کلام اللہ میں یہ محال ہے اس لئے کہ اللہ کی علیم وخبیر ذات کسی قسم کی غلطی، بھول چوک یا فروگزاشت سے بالکل منزّٰی و پاک و صاف ہے اس لئے جو بھی قانون بنائے گا یا جو بھی حکم دے گا وہ بالکل صحیح و کامل ہوگا اس میں کسی غلطی کا امکان بھی نہیں ہوسکتا اسی طرح رسول کے بتائے ہوئے احکام میں بھی یہ چیز نہیں ہوسکتی کیونکہ ایسے احکام جن کا تعلق دینی امور سے ہوتا ہے وہ براہ راست بارگاہ الوہیت سے نازل ہوئے ہیں اور دربار رسالت سے ان کا انعقاد عمل میں آتا ہے گویا وہ خود بھی احکام اللہ کے مرتبہ کے ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جس طرح قرآن کے احکام پر عمل کرنا فرض ہے اسی طرح حدیث کے احکام کی پیروی کرنا بھی ضروری و لازم ہے لہٰذا حدیث کے احکام میں بھی کسی حکم کی تبدیلی کا سبب یہ نہیں ہوسکتا۔ کسی قانون و حکم کی تبدیلی و منسوخی کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ محکوم کی حالت بدلنے سے مصلحت بھی بدل گئی ہے اس لئے قانون بھی بدل گیا جیسے کہ مریض کی حالت بدل جانے پر نسخہ بھی بدل دیا جاتا ہے۔ مثلاً ایک قانون بنایا گیا یا کوئی حکم دیا گیا اس وقت ماحول اس قسم کے قانون کا متقاضی تھا، یا محکوم کے ذہن مزاج اسی حکم کے لائق تھے مگر بعد میں جب ماحول میں تبدیلی آگئی، محکوم کے ذہن و مزاج بھی دوسرا رخ اختیار کر گئے تو اب بانی قانون کی مصلحت بھی بدل گئی لہٰذا اس نے محکوم اور ماحول کی بھلائی اور اصلاح کی خاطر اس سے پہلے قانون کو بدل دیا اور اس جگہ کسی دوسرے قانون کو لاگو کردیا ظاہر ہے کہ ایسا نسخ صحیح اور جائز ہوگا اس میں کسی قسم کا کوئی عقلی و نقلی اشکال پیدا نہیں ہوسکتا اور یہی تبدیلی و تفسیر اور نسخ قرآن و احادیث کے احکام میں ہوتے ہیں لہٰذا ان میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اﷲُ عَنْھُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((اِنَّ اَحَادِیْثَنَا یَنْسَخُ بَعْضُھَا بِعْضًا کَنَسْخِ الْقُرْاٰنْ))
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہماری (بعض) احادیث بعض کو اس طرح منسوخ کرتی ہیں جیسا کہ (قرآن کے بعض حصہ کو) قرآن منسوخ کرتا ہے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ اَبِی ثُعْلَبَۃَ الْخُشَنِی قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((اِنَّ اﷲَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَیِّعُوْھَا وَحَرَّمَ حُرُمَاتِ فَلَا تَنْتَھِکُوْ ھَاوَحَدّحُدُوْدًا فَلَا تَعْتَدُوْھَاوَسَکَتَ عَنْ اَشْیَآءَ مِنْ غَیْرِ نِسْیَانِ فَلَا تُبْحَثُوْاعَنْھَا((رَوَی الْاَحَادِیْثَ الثَّلَاثَۃَ الدَّارَقُطْنِی))۔
اور حضرت ابوثعلبہ خشنی ( آپ کے نام میں بہت زیادہ اختلاف ہے بعض نے جرہم بن ثابت کہا ہے اور بعض نے جرثوم بن ثابت اور عمر ابن جرثوم لکھا ہے بہر حال یہ اپنی کنیت ابوثعلبہ سے مشہور ہیں ٧٥ ھ میں بعہد عبدالملک بن مرواں کا انتقال ہوا ہے)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے چند فرائض کو فرض کیا ہے لہٰذا تم ان کو ضائع نہ کرو (یعنی ان کو نہ چھوڑو یا ان کے شرائط و ارکان کو ترک نہ کرو، یا یہ کہ ان فرائض میں نمائش و ریا، شک و شبہ اور غرور وتکبر نہ کرو) اور چند چیزیں اللہ تعالیٰ نے حرام کی ہیں (یعنی ان کو اختیار کرنا گناہ قرار دیا ہے) لہٰذا تم ان کے نزدیک بھی مت جاؤ اور چند حدود مقرر کی ہیں (مثلاً قصاص وغیرہ) لہٰذا تم ان سے تجاوز نہ کرو (یعنی ان میں اپنی طرف سے کمی و زیادتی نہ کرو) اور چند چیزوں کے بارے میں بھول کر نہیں (بلکہ دانستہ) اختیار کیا ہے (یعنی کتنی چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ حرام ہیں یا حلال اور یا واجب ہیں، لہٰذا ان چیزوں میں تم اپنی طرف سے) بحث نہ کرو۔ مذکورہ تینوں حدیثیں دار قطنی نے روایت کی ہیں۔