کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 2 · 55 hadiths · Page 2 of 3

157Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ الْاِیْمَانَ لَیَأْرِزُاِلَی الْمَدِیْنَۃِ کَمَا یَأْرِزُالْحَیَّۃُ اِلٰی جُحْرِھَا مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ وَ سَنَذْکُرُ حَدِیْثَ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ((ذَرُوْفِی مَاتَرَ کْتُکُمْ))فِی کِتَابِ الْمَنَاسِکِ وَ حَدِیْثَیْ مُعَاوِیَۃَ وَ جَابِرِ ((لَا یَزَالُ طَائِفَۃٌ مِّنْ اُمَّتِیْ)) فِیْ بَابِ ثَوَابِ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اِنْشَآءَ اﷲُ تَعَالیٰ۔

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ایمان مدینہ کی طرف اس طرح سمٹ آئے گا جس طرح سانپ بل کی طرف سمٹتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث (ذرونی ماتر کتکم) ہم کتاب مناسک (حج) میں ذکر کریں گے نیز حضرت معاویہ ؓ و جابر کی دونوں حدیثیں (لایزال من امتی الخ) اور لا یزال طائفۃ من امتی۔ بھی اس امت کے ثواب کے باب میں ذکر کریں گے انشاء اللہ یعنی یہ حدیثیں صاحب مصابیح نے اسی باب میں ذکر کی تھیں لیکن ہم نے ان کو ان بابوں میں ذکر کیا ہے۔ تشریح دشمنان اسلام کے مصائب اور مظالم سے اہل ایمان کے بھاگنے اور ایمان پر ثابت قدم رہنے کی مثال رسول اللہ ﷺ نے سانپ سے دی ہے اس لئے کہ دوسرے جانوروں کے مقابلہ میں سانپ تیز بھاگتا ہے اور بہت سمٹ کر بل میں جاتا ہے اور پھر مشکل ہی سے وہ بل سے نکالا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ پیشین گوئی یا تو ابتدائے ہجرت کے وقت کے لئے تھی یا پھر آخر زمانہ کے بارے میں جب مسلمان بہت کم رہ جائیں گے اور سب سمٹ سمٹا کر مدینہ چلے جائیں گے۔

158Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنْ رَبِیْعَۃَ الْجُرَشِیِّ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ اُتِیَ نَبِیُّ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقِیْلَ لَہ، لِتَنَمْ عَیْنَکَ وَ لْتَسْمَعْ اُذُنُکَ وَلِیَعْقِلْ قَلْبُکَ قَالَ فَنَامَتْ عَیْنَایَ وَسَمِعَتْ اُذُنَایَ وَعَقَلَ قَلْبِیْ قَالَ فَقِیْلَ لِی سَیِّدٌ بَنٰی دَارًا فَصَنَعَ فِیْھَا مَأْدُبَۃً وَّاَرْسَلَ دَاعِیًا فَمَنْ اَجَابَ الدَّاعِیَ دَخَلَ الدَّارَوَاَکَلَ مِنَ الْمَأْدُبَۃِ وَرَضِیَ عَنْہُ السَّیِّدُ وَمَنْ لَمْ یُجِبِ الدَّاعِیَ لَمْ یَدْخُلِ الدَّارِ وَلَمْ یَاْکُلْ مِنَ الْمَأْدُبَۃِ وَسَخَطَ عَلَیْہِ السَّیَّدُ قَالَ فَاﷲُ السَّیِّدُ ، وَمُحَمَّدٌ الدَّاعِیْ وَالدَّارُ الْاِ سْلَامُ ، وَالْمَأْدُبَۃُ اَلْجَنَّۃُ۔ (رواہ الدارمی)

حضرت ربیعہ الجرشی ( آپ کا اسم گرامی ربیعۃ بن التمار ہے کچھ لوگوں نے انہیں ربیعہ بن عمرو بھی لکھا ہے ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے خرج راہط کے دن انتقال ہوا تھا)۔ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب میں فرشتے دکھلائے گئے اور آپ ﷺ سے کہا گیا (یعنی فرشتوں نے کہا) چاہئے کہ آپ کی آنکھیں سوئیں، آپ ﷺ کے کان سنیں اور آپ ﷺ کا دل سمجھے، آپ ﷺ نے فرمایا تو میری آنکھیں سوئیں، میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے سمجھا، پھر آپ نے فرمایا کہ مجھ سے کہا گیا (یعنی مثال کے طور پر فرشتوں نے میرے سامنے بیان کیا) کہ ایک سردار نے گھر بنایا اور کھانا تیار کیا پھر ایک بلانے والے کو بھیجا (تاکہ وہ لوگوں کو بلائے) لہٰذا جس نے بلانے والے کی دعوت کو قبول کیا وہ گھر میں داخل ہوا اور کھانے میں سے کھایا اور سردار خوش ہوا اور جس نے بلانے والے کی دعوت کو قبول نہ کیا وه گھر میں داخل ہوا اور نہ کھانے میں سے کھایا اور نہ ہی اس سے سردار خوش ہوا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس مثال میں سردار سے مراد اللہ ہے، بلانے والے سے مراد محمد ﷺ ہیں، گھر مراد اسلام ہے اور کھانے سے مراد جنت ہے۔ (دارمی) تشریح چاہئے کہ آپ ﷺ کی آنکھیں سوئیں یعنی اپنی آنکھوں سے اور کچھ نہ دیکھئے، نہ کسی بات پر کان رکھئے اور نہ دل میں کوئی دوسرا سوال جمائیے فرشتوں کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ خوب غور و خوض اور حضور دل کے ساتھ اس مثال کو سنیے جو ہم بیان کرنے والے ہیں تاکہ یہ خوب اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ فنامت عینای یعنی میری آنکھیں سوئیں الخ، اسی مضمون کی وه حدیث جو پہلی فصل میں گزری اس کی مذکورہ مثال میں گھر سے جنت اور کھانے سے بہشت کی نعمتیں مراد لی گئی تھیں، اس حدیث میں گھر سے مراد اسلام لیا گیا ہے اور کھانے سے جنت مراد لی گئی ہے اس لئے کہ مکان بہشت میں داخل ہونے کا سبب اور ذریعہ ہے اس لئے اسے گھر کی تمثیل دی گئی ہے مادبۃ کے معنی مہمان کے کھانے کے ہیں، دونوں حدیث میں اس سے مراد جنت کی نعمتیں ہیں۔

159Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ رَافِعِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا اُلْفِیَنَّ اَحَدَکُمْ مُتَّکِئًا عَلٰی اَرِیْکَتِہٖ یَاْتِیْہِ الْاَمْرُمِنْ اَمْرِیْ مِمَّا اَمَرْتُ بِہٖ اَوْنَھَیْتُ عَنْہُ فَیَقُوْلُ لَآ اَدْرِیْ مَاوَجَدْنَا فِی کِتَابِ اﷲِ اِتَّبَعْنَاہُ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل والجامع ترمذی و ابوداؤد و ابن ماجۃ والبیہقی فی دلائل النبوۃ)

اور حضرت ابورافع ؓ (آپ کا اسم گرامی اسلم ہے ابورافع کنیت ہے یہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوسکے تھے علامہ سیوطی رحمه اللہ کے قول کے مطابق حضرت علی ؓ کے دور خلافت میں آپ کا انتقال ہوا ہے)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے چھپر کھٹ (مسہری) پر تکیہ لگائے ہوئے اور میرے ان احکام میں سے جن کا میں نے حکم دیا ہے یا جس سے منع کیا ہے کوئی حکم اس کے پاس پہنچے اور وہ (اسے سن کر) یہ کہہ دے کہ میں کچھ نہیں جانتا، جو کچھ ہمیں اللہ کی کتاب میں ملا ہم نے اس کی اطاعت کی۔ (مسند احمد بن حنبل، ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، بیہقی) تشریح چھپر کھٹ پر لگائے ہوئے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی ازراہ غرور وتکبر بےفکر ہو کر بیٹھا نہ رہے اور نہ طالب علم و حصول حدیث میں کو تا ہی کرے اور نہ دینی علوم کو ترک کرے اور ازراہ جہالت و نادانی میرے کسی ایسے حکم کے بارے میں جو قرآن میں صراحت کے ساتھ موجود نہ ہو یہ نہ کہنے لگے کہ کتاب اللہ کے علاوہ میں اور کچھ نہیں جانتا اور نہ اس کے سوا کسی دوسری چیز کی پیروی کرتا ہوں اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ان جاہل اور متکبر و بےفکرے لوگوں کے بارے میں پیشین گوئی فرمائی ہے جو ان احکام پر عمل کرنے میں شک و شبہ کا اظہار کریں گے یا ان کی اطاعت میں کسل و سستی کا اظہار کریں گے جو صراحت کے ساتھ قرآن میں موجود نہ ہوں گے اور ان کی ظاہر بین نظریں قرآنی علوم کے اسرار و معانی کی حقیقت تک پہنچنے سے قاصر رہیں گی۔ چنانچہ وہ لوگ یہ خیال کریں کہ دین و شریعت کے احکام و مسائل صرف قرآن ہی میں منحصر و مذکور ہیں حالانکہ وہ عقل کے اندھے یہ نہیں جانتے کہ بہت سے مسائل و احکام قرآن مجید میں موجود نہیں ہیں وہ صرف حدیث میں صراحت کے ساتھ ذکر کئے گئے ہیں، اسی لئے علماء اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ جس طرح احکام شرائع کے لئے قرآن دلیل و حجت ہے اسی طرح حدیث بھی دلیل و حجت ہے کیونکہ جس طرح قرآن رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ہے، اسی طرح احادیث کے علوم و معارف بھی بارگاہ الوہیت ہی سے نازل ہوئے ہیں اور دونوں وحی ہیں۔

160Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَربَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((اِلَا اِنِّیْ اُوْتِیْتُ الْقُرْاٰنَ وَمِثْلَہ، مَعَہ، اَلَا یُوْشِکُ رَجُلٌ شَبْعَانَ عَلٰی اَرِیْکَتِہٖ یَقُوْل: عَلَیْکُمْ بِھٰذَا الْقُرْاٰنِ& فَمَاوَجَدْتُّمْ فِیْہِ مِنْ حَلَالَ فَاَحِلُّوْہُ وَمَاوَجَدْتُّمْ فِیْہِ مِنْ حَرَامِ فَحَرِّمُوْہُ& وَاِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم کَمَا حَرَّمَ اﷲُ أَلاَ لاَ یَحِلًّ لَکُمُ الْحِمَارُ الْاَھْلِیُّ وَلَا کُلُّ ذِیْ نَاْبِ مِنَ السِّبَاعِ وَلَا لُقْطَۃُ مُعَاھِدِ اِلا اَنْ یَّسْتَغْنِیَ عَنْھَا صَاحِبُھَا وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمِ فَعَلَیْھِمْ اَنْ یَّْقُرْوُہ فَاِنْ لَّمْ یَقْرُوْہُ فَلَہ،ۤ اَنْ یُعْقِبَھُمْ بِمِثْلِ قِرَاہُ)) رَوَاہُ اَبُوْدَا دَوَرَوَی الدَّرِامِیُّ نَحْوَہ، وَکَذَا ابْنُ مَاجَۃَ اِلٰی قَوْلِہٖ ((کَمَا حَرَّمَ اﷲُ))

اور حضرت مقدام بن معدیکرب ؓ (اسم گرامی مقدام بن معدیکرب اور کنیت بھی معدیکرب ہے، آپ صحابی ہیں شام میں ٨٧ ھ میں بعمر ٩١ سال آپ کا انتقال ہوا ہے۔ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آگاہ رہو! مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس کا مثل، خبردار، عنقریب اپنے چھپر کھٹ پر پڑا ایک پیٹ بھرا آدمی کہے گا کہ بس اس قرآن کو اپنے اوپر لازم جانو (یعنی فقط قرآن ہی کو سمجھو اور اس پر عمل کرو) اور جو چیز تم قرآن میں حلال پاؤ اس کو حلال جانو اور جس چیز کو تم قرآن میں حرام پاؤ اسے حرام جانو حالانکہ جو کچھ رسول اللہ ﷺ نے حرام فرمایا ہے وہ اس کے مانند ہے جسے اللہ نے حرام کیا، خبردار تمہارے لئے نہ اہلی (گھریلو) گدھا حلال کیا اور نہ کچلی رکھنے والے درندے اور نہ تمہارے لئے معاہد یعنی وہ قوم جس سے معاہدہ کیا گیا ہو کا لقطہ حلال کیا ہے جس کی پرواہ اس کے مالک کو نہ ہو اور جو شخص کسی قوم کا مہمان ہو اس قوم پر لازم ہے کہ اس کی مہمانی کریں۔ اگر وہ مہمانی نہ کریں تو اس آدمی کے لئے جائز ہے کہ وہ مہمانی کے مانند اس سے حاصل کرے۔ (ابوداؤد) دارمی نے بھی ایسی روایت نقل کی ہے اور اسی طرح حدیث بھی مجھے بارگاہ الوہیت سے عطا ہوئی ہے۔ تشریح قرآن کا مثل حدیث ہے یعنی جس طرح قرآن مجید مجھ پر نازل کیا گیا ہے اسی طرح حدیث بھی مجھے بارگاہ الوہیت ہی سے عطا ہوئی ہے لیکن فرق یہی ہے کہ قرآن وحی ظاہر ہے اور حدیث وحی پوشیدہ۔ لہٰذا واجب العمل دونوں میں الا لا یحل سے بطور مثال کے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان چیزوں کی حرمت قرآن میں کہیں مذکور نہیں ہے میں نے ہی ان کی حرمت بیان کی ہے جس پر عمل کرنا واجب و ضروری ہے۔ اہلی گدھا اسے کہتے ہیں جو گھر میں رہتا ہے یہ حرام ہے گدھا وحشی جسے گورخر کہتے ہیں۔ ان سب کی حرمت احادیث ہی سے ثابت ہے معاہد اس کافر کو کہتے ہیں جس کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ صلح وامان ہوا ہو، خواہ وہ کافر ہو یا غیر ذمی، اس کے بارے میں فرمایا کہ اس کا لقطہ حلال نہیں ہے، ہاں اگر لقطہ ایسی چیز ہے جس سے اس کا مالک بےنیاز و بےپرواہ ہو جیسے گٹھلی، چھلکے، گا جر، مولیٰ یا ایسی ہی کوئی حقیر چیز تو اس کے لئے لینا جائز ہے لقطہ اس چیز کو کہتے ہیں جو راستہ میں گری پڑی پائی جائے۔ آخر میں فرمایا گیا ہے کہ جو آدمی کسی کے یہاں مہمان جائے تو میزبان پر اس کی مہمانداری لازم ہے علماء فرماتے ہیں کہ یہ حکم فرض نہیں ہے بلکہ ایسا کرنا مستحب و اولی ہے، اسی طرح یہ حکم دینا کہ اگر میزبان مہمان نوازی نہ کرسکے تو میزبان کے لئے جائز ہے کہ وہ اس میزبان سے مہمانداری کا عوض وصول کرلے یعنی اس سے روپیہ پیسہ لے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ یا تو ایسی شکل میں جائز ہوا جب کہ مہمان ایسا مضطر ولا چار ہو کہ اگر میزبان سے وہ کچھ نہ لے تو اس کے ہلاک ہوجانے کا خطرہ ہو۔ یا پھر یہ کہا جائے گا کہ جواز کا حکم ابتدائے اسلام میں تھا لیکن اب منسوخ ہے۔

161Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ ((اَیَحْسِبُ اَحَدُکُمْ مُتَّکِئًا عَلٰی اَرِیْکَتِہٖ یَظُنُّ اَنَّ اﷲَ لَمْ یُحَرِّمْ شَیْئًا اِلَّا مَافِی ھٰذَا الْقُرْاٰن؟ اَلَا اوَاِنِّیْ وَاﷲِ قَدْاَمَرْتُ وَوَعَظْتُ وَنَھَیْبُ عَنْ اَشْیَآءَ اِنَّھَا لَمِثْلُ الْقُرْاٰنِ اَوْ اَکْثَرُ& وَاِنَّ اﷲَ لَمْ یُحِلَّ لَکُمْ اَنْ تَدْخُلُوْ ابُیُوْتَ اَھْلِ لْکِتَابِ اِلَّا بِاِذْنِ وَلَا ضَرْبَ نِسَآءِ ھِمْ وَلَا اَکْلَ ثِمَارِھِمِ اِذَا اَعْطُوْ کُمُ الَّذِیْ عَلَیْھِمْ)) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ فِی اِسْنَادِہٖ اَشْعَثُ بْنُ شُعْبَۃَ الْمَصِیْصِیُّ قَدْ تُکُلِّمَ فِیْہِ۔

اور حضرت عرباض بن ساریہ ؓ (حضرت عرباض بن ساریه ؓ کی کنیت او نجیح ہے اور سلمی ہیں آپ اہل صفہ سے تھے۔ ان سے تابعین کی ایک بڑی جماعت روایت حدیث کرتی ہے ٧٥ ه میں آپ کا انتقال ہوا ہے )۔ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (خطبہ کے لئے) کھڑے ہوئے اور فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی اپنے چھپر کھٹ پر تکیہ لگائے ہوئے یہ خیال رکھتا ہے کہ اللہ نے وہی چیزیں حرام کی ہیں جو قرآن میں ذکر کی گئی ہیں، خبردار! اللہ کی قسم! بلاشک میں نے حکم دیا، میں نے نصیحت کی اور میں نے منع کیا چند چیزوں سے جو مثل قرآن کے ہیں بلکہ زیادہ ہیں، بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے یہ حلال نہیں کیا کہ تم اہل کتاب کے گھروں میں اجازت حاصل کئے بغیر چلے جاؤ اور نہ تمہارے لئے ان عورتوں کو مارنا حلال ہے اور نہ تمہارے لئے ان کے پھلوں کا کھانا جائز کیا ہے جب کہ وہ اپنا مطالبہ ادا کردیں جو ان کے ذمہ تھا۔ (ابوداؤد) اور ان کی سند میں اشعث بن شعبہ مصیصی ہیں جن کے بارے میں کلام کیا گیا ہے وہ ثقہ ہیں یا نہیں؟۔ تشریح ان اللہ لم یحل سے آخر تک رسول اللہ ﷺ نے چند احکام دیئے ہیں وہ یہ کہ اہل کتاب کے گھروں میں ان کی اجازت کے بغیر داخل ہو کر ان کو نہ ستاؤ اور نہ ان کو پریشان کرو اور نہ ان کے گھر والوں کو ستاؤ اور نہ تکلیف پہنچاؤ اسی طرح ان کے مال کو نہ لو جب کہ وہ جزیہ ادا کریں۔ ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ یہ احکام قرآن میں مذکور نہیں ہیں بلکہ میں نے دیئے ہیں اور ان چیزوں سے میں نے منع کیا ہے اور ان پر عمل کرنا واجب و ضروری ہے۔ ان احکام سے یہ کہہ کر اعراض نہیں کیا جاسکتا کہ یہ قرآن میں چونکه موجود نہیں ہیں اس لئے واجب العمل بھی نہیں ہیں۔ آخر روایت میں لفظ رواہ کے بعد مشکوۃ کے اصل نسخہ میں جگہ خالی ہے اس لئے کہ صاحب مشکوٰۃ کو اس حدیث کے راوی کا علم نہ ہوا ہوگا۔ لیکن بعد میں میرک شاہ نے مذکورہ عبارت لکھ دی ہے۔

162Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنْہُ قَال: صَلَّی بِنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ذَاتَ یَوْمِ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہٖ فَوْعَظَنَا مَوْعِظَۃً بَلِیْغَۃً& ذَرَفَتْ مِنْھَا الْعُیُوْنُ، وَوَجِلَتْ مِنْھَا الْقُلُوْبُ فَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم کَأَنَّ ھٰذِہٖ مُوْعِظَۃً مُوَدِّعِ فَاَوْصِنَا فَقَالَ: ((اُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اﷲِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ وَاِنْ کَانَ عَبْدًا حَبَشِیًّا فَاِنَّہ، مَنْ یَّعْشِ مِنْکُمْ بَعْدِیْ فَسَیَرٰی اِخْتِلَافًا کَثِیْرًا فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَآءِ الرَّاشِدِیْنِ الْمَھْدِیِّیْنَ تَمَسَّکُوْا بِھَا وَعَضُّوْا عَلَیْھَا بِالنَّوَا جِذِ وَاِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ فَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃِ بِدْعَۃٌ ضَلَالَۃٌ))رَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ اِلَّا أَنَّھُمَا لَمْ یَذْکُرَا الصَّلاَۃَ۔

اور حضرت عرباض بن ساریہ ( حضرت عرباض ابن ساریہ کی کنیت ابونجیح ہے اور سلمی ہیں آپ اہل صفہ سے تھے۔ ان سے تابعین کی ایک بڑی جماعت روایت حدیث کرتی ہے ٧٥ ھ ہیں آپ کا انتقال ہوا ہے)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی ہماری طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گئے اور ہم کو نہایت موثر انداز میں نصیحت کی کہ ہماری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور دلوں میں خوف پیدا ہوگیا، ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) گویا نصیحت کرنے والے کی یہ (آخری نصیحت ہے) لہٰذا ہم کو وصیت فرما دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور تم کو مسلمان سردار جو کہے سننے اور بجا لانے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ وہ (سردار) حبشی غلام ہو تم میں سے جو آدمی میرے بعد زندہ رہے گا وہ اختلاف بھی دیکھے گا ایسی حالت میں تم پر لازم ہے کہ میرے اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقہ کو لازم جانو اور اسی طریقہ پر بھروسہ رکھو اور اس کو دانتوں سے مضبوط پکڑے رہو اور تم (دین میں) نئی نئی باتیں پیدا کرنے سے بچو اس لئے کہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) مگر اس روایت میں جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ نے نماز پڑھنے کا ذکر نہیں کیا ہے یعنی ان کی رعایت میں حدیث کے الفاظ صلی بنا رسول اللہ ﷺ مذکور نہیں ہیں بلکہ حدیث وعظنا موعظۃ سے شروع ہوتی ہے۔ تشریح راوی کے قول کَأَنَّ ھٰذِہ مُوَعِظَۃُ مُوْدِّعِ (گویا کہ رخصت کرنے والے کی آخری نصیحت ہے) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئی آدمی کوچ کرنے والا ہوتا ہے تو بر وقت رخصت وعظ و نصیحت کے بیان میں کمال کوشش کرتا ہے تاکہ کوئی پہلو تشنہ نہ ره جائے اسی طرح آپ ﷺ نے بھی اس وقت اس انداز سے وعظ و نصیحت بیان فرمائی ہے گویا آپ کا وقت رحلت قریب ہے لهٰذا اس سے پہلے آپ اس دنیا سے تشریف لے جائیں ہمیں ایسی وصیتیں فرما دیجئے جو دین و دنیا دونوں جگہ ہمارے لئے رہبر ہوں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ مسلمان سردار و حاکم کی اطاعت و فرمانبرداری ہر حال میں ضروری، الاّ یہ کہ خلاف شریعت باتوں کا حکم نہ دے چناچہ بطور مبالغہ فرمایا کہ اگرچہ مسلمان سرادر حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو اس کی اطاعت و فرمانبرداری ضروری ہے۔ دانتوں سے پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کو پورے عزم و یقین اور پختگی کے ساتھ اپنے اوپر لازم کرلیا جائے۔

163Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ مَسْعُوْدِ قَالَ: خَطَّ لَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم خَطًّا ثُمَّ قَالَ: ((ھٰذَا سَبِیْلُ اﷲِ))ثُمَّ خَطَّ خُطُوْطًا عَنْ یَّمِیْنِہٖ وَعَنْ شِمَالِہٖ وَقَالَ ((ھٰذِہٖ سُبُلٌ عَلٰی کُلِّ سَبِیْلِ مِّنْھَا شَیْطَانٌ یَدْعُوْ اِلَیْہِ)) وَقَرَأَ:(( وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ))اَلْآیَۃ۔ (رواہ والسنن نسائی والدارمی)

اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ہمیں سمجھانے کے لئے) ایک (سیدھا) خط کھینچا اور فرمایا۔ یہ اللہ کا راستہ ہے، پھر آپ ﷺ نے اس خط کے دائیں اور بائیں کئی (چھوٹے اور ٹیڑھے) خطوط کھینچے اور فرمایا۔ یہ بھی راستے ہیں جن میں سے ہر ایک راستہ پر شیطان (بیٹھا ہوا) ہے جو اپنے راستہ کی طرف بلاتا ہے پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ( وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِ يْمًا فَاتَّبِعُوْهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِه) 6۔ الانعام 153) ترجمہ اور بیشک یہ میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا اس کی پیروی کرو اور (دوسرے) راستے کی پیروی نہ کرو تاکہ اس کے راستے تمہیں منتشر نہ کریں۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن نسائی، دارمی) تشریح خط مستقیم جو رسول اللہ ﷺ نے پہلے کھینچا تھا وہ اللہ کے راستہ کی مثال ہے جس سے صحیح عقائد اور نیک و صالح، اعمال مراد ہیں اور دوسرے چھوٹے و ٹیڑھے خطوط راہ شیطان کی مثال ہیں جن سے گمراہی و ضلالت کے راستے مراد ہیں۔

164Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرِو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلموسلم ((لَایُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبْعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ)) رَوَاہُ فِیْ شَرْحِ السُّنَّۃِ قَالَ النَّوَوِی فِیْ ۤ ((اَرْبَعِیْنِہٖ)) ھٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ رَوَیْنَاہُ فِی ((کِتَابِ الْحُجَّۃِ)) یِا سْنَادِ صَحِیْح۔

اور حضرت عبداللہ بن عمر راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک پورا مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس چیز (دین و شرعیت) کی تابع نہیں ہوتیں جس کو میں (اللہ کی جانب سے لایا ہوں یہ حدیث شرح السنتہ میں روایت کی گئی ہے اور امام نووی نے اپنی چہل حدیث میں لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے جس کو ہم نے کتاب الحجۃ میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے)۔ تشریح حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کامل اس آدمی کا ہوتا ہے جو دین و شریعت کا پوری طرح پیری اور ان کی صداقت و حقانیت کا ایقان و اعتقاد پورے رسوخ کے ساتھ رکھتا ہو، نیز اس کی زندگی کے ہر پہلو میں خواہ اعتقادات و عبادات ہوں یا اعمال و عادات سب میں کمال رضا ورغبت اور بخوشی دین و شریعت کار فرما ہوں اور ظاہر ہے کہ روحانی پاکیزگی و لطافت اور عرفانی عروج کا یہ مرتبہ اس آدمی کو حاصل ہوسکتا ہے جس کا قلب و دماغ خواہشات نفسانی کی تمام گندگی و ثقالت سے پاک و صاف ہو کر نور الہٰی کی مقدس روشنی سے جگمگا اٹھے، چناچہ اولیاء اللہ اور صالحین حقیقت و معرفت کے اسی عظیم مرتبے پر فائز ہوتے ہیں۔

165Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنْ بِلَالِ بْنِ حَارِثِ الْمُزَنِیْ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم((مَنْ اَحْیَا سُنَّۃً مِّنْ سُنَّتِیْ قَدْ اُمِیْتَتْ بَعْدِیْ فَاِنَّ لَہ، مِنَ الْاَجْرِ مِثْلَا اُجُوْرِ مِنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّنْقُصَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْئًا وَّمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَۃً ضَلَالَۃً لَا یَرْضَا ھَا اﷲُ وَرَسُوْلُہ، کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْاِ ثْمِ مِثْلَا اٰثَامِ مِنْ عَمِلَ بِھَا لَا یَنْقُصُ مِنْ اَوْزَارِھِمْ شَیْئًا)) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَرَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ عَنْ کَثِیْرِ بْنِ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرِوعَنْ اَبِیْہٖ عَنْ جَدِّہٖ۔

اور حضرت بلال بن حارث مزنی (اسم گرامی بلال بن حارث اور کنیت ابوعبدالرحمن ہے، آخر میں آپ نے بصرہ میں سکونت اختیار فرمائی تھی حضرت معاویہ ؓ کے آخر زمانہ میں ٩٠ ھ بعمر اسی سال آپ کا انتقال ہوا۔ (راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی نے میری کسی ایسی سنت کو زندہ کیا (یعنی رائج کیا) جو میرے بعد چھوڑ دی گئی تھی تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ اس سنت پر عمل کرنے والوں کو ملے گا بغیر اس کے کہ اس (سنت پر عمل کرنے والوں) کے ثواب میں کچھ کمی کی جائے۔ اور جس آدمی نے گمراہی کی کوئی ایسی نئی بات (بدعت) نکالی جس سے اللہ اور اس کا رسول خوش نہیں ہوتا تو اس کو اتنا ہی گناہ ہوگا جتنا کہ اس بدعت پر عمل کرنے والوں کو گناہ ہوگا بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی کی جائے۔ (جامع ترمذی) اور اس روایت کو سنن ابن ماجہ نے کثیر بن عبداللہ بن عمر سے اور عمر نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ سنت پر عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوتی اور سنت کو رائج کرنے والے کو بھی اس کے برابر ثواب ملتا ہے، اسی طرح بدعت پر عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ کمی نہیں ہوتی اور بدعت پیدا کرنے والے کے نامہ اعمال میں اس کے برابر گناہ لکھا جاتا ہے۔ یہاں سنت سے مراد مطلق دین کی بات ہے خواہ وہ فرض ہو یا واجب وغیرہ جیسے کہ نماز جمعہ کہ لوگوں نے اسے چھوڑ رکھا ہو اور اسے تبلیغ و ارشاد کے ذریعہ قائم کیا جائے یا ایسے ہی مصافحہ اور دیگر مسنون چیزیں جو متروک العمل ہوچکی ہوں، ان سب کو رائج کرنا بیشمار حسنات کو موجب ہے۔

166Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنْ عَمْرِوبْنِ عَوْفِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((اِنَ الدِّیْنَ لِیَارِزُاِلَی الْحِجَازِ کَمَا تَارِزُالْحَیَّۃُ اِلَی جُھْرِھَا وَلَیَعْقِلَنَ الدِّیْنُ مِنَ الْحِجَازِ مَعْقِلَ الْاَرْوِیَّۃِ مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ اِنَّ لدِّیْنَ بَدَاَغَرِیْبًا وَسَیَعُوْدُ کَمَا بَدَأَ فَطُوْبٰی لِلْغُرَبَاءِ وَھُمُ الَّذِیْنَ یُصْلِحُوْنَ مَآ اَفْسَدَ النَّاسُ مِنْ بَعْدِی مِنْ سُنَّتِی))(رواہ الجامع ترمذی)

اور حضرت عمر بن عوف راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ بلاشبہ دین (اسلام) حجاز (مکہ و مدینہ اور اس کے متعلقات) کی طرف اس طرح سمٹ آئے گا جس طرح کہ سانپ بل کی طرف سمٹ آتا ہے اور دین حجاز میں اس طرح جگہ پکڑ لے گا جیسے کہ بکری پہاڑ کی چوٹی پر جگہ پکڑ لیتی ہے اور دین ابتداء میں غریب پیدا ہوا تھا اور آخر میں ایسا ہی ہوجائے گا جیسا کہ ابتداء میں تھا، چناچہ خوشخبری ہو غریبوں کو وہی اس چیز (یعنی میری سنت) کو درست کردیں گے جس کو میرے بعد لوگوں نے خراب کردیا ہوگا۔ (جامع ترمذی )

167Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عُمْرِوقَالَ: وَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لَیَا تِیَنَّ عَلَی اُمَّتِی کَمَا اَتَی عَلٰی بَنِی اِسْرَائِیْلَ حَذْوَالنَّعْلِ بِالنَّعْلِ، حَتّٰی اِنْ کَانَ مِنْھُمْ مَنْ اٰتَی اُمَّہ، عَلَانِیَۃً لَکَانَ فِی اُمَّتِی مَنْ یَّصْنَعُ ذٰلِکَ وَاِنَّ بَنِی اِسْرَائِیلَ تَفَرَّقَتْ عَلَی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِیْنَ مِلَّۃً وَتَفْتَرِقُ اُمَّتِی عَلٰی ثَلَاثِ وَّسَبْعِیْنَ مِلَّۃِ کُلُّھُمْ فِی النَّارِ اِلَّا مِلَّۃً وَّاحِدَۃً) قَالُوْا مَنْ ھِیَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ ؟ قَالَ ((مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِی)) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَفِی رِوَایَۃِ اَحْمَدِ وَاَبِی دَاؤُدَ عَن معادیۃ ثنتان وَسَبْعُوْنَ فِی النَّارِ وَوَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَھِیَ الْجَمَاعَۃُ وَاِنَّہُ سَیَّخْرجُ فِی اُمَّتِی اَقْوَامٌ تَتَجَارٰی بِھِمْ تِلْکَ الْاَ ھْوَاءُ کَمَا یَتَجَارٰی الْکَلْبُ بِصَاحِبِہٖ لَا یَبْقَی مِنٖہ، عِرْقٌ وَلَا مُفْصِلٌ اِلَّا دَخَلَہ،))

اور حضرت عبداللہ بن عمرو راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ بلاشبہ میری امت پر (ایک ایسا زمانہ آئے گا جیسا کہ بنی اسرائیل پر آیا تھا اور دونوں میں ایسی مماثلت ہوگی) جیسا کہ دونوں جوتے بالکل برابر اور ٹھیک ہوتے ہیں یہاں تک کہ بنی اسرائیل میں سے اگر کسی نے اپنی ماں کے ساتھ علانیہ بدفعلی کی ہوگی تو میری امت میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جو ایسا ہی کریں گے اور بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی اور وہ تمام فرقے دوزخی ہوں گے ان میں سے صرف ایک فرقہ جنتی ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا! یا رسول اللہ ﷺ! جنتی فرقہ کون سا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ جس میں میں اور میرے صحاب ہوں گے۔ (جامع ترمذی) اور مسند احمد بن حنبل و ابوداؤد نے جو روایت معاویہ سے نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ بہتر گروہ دوزخ میں جائیں گے اور ایک گروہ جنت میں جائے گا اور وہ جنتی گروہ جماعت ہے اور میری امت میں کئی قومیں پیدا ہوں گی جن میں خواہشات یعنی عقائد و اعمال میں بدعات اسی طرح سرائیت کر جائیں گی جس طرح ہڑک والے میں ہڑک سرایت کر جاتی ہے کہ کوئی رگ اور کوئی جوڑ اس سے باقی نہیں رہتا۔ تشریح بنی اسرائیل اور اس امت کی مماثلث کو جوتوں کی برابری سے تشبیہ دی گئی ہے جس طرح بنی اسرائیل کے لوگ اپنے زمانہ میں بداعمالیوں میں مبتلا تھے اسی طرح ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ جب اس امت کے لوگ بھی بالکل بنی اسرائیل کی طرح ہوجائیں گے اور ان کے عقائد و اعمال میں ان سے بالکل مطابقت ہوجائے گی۔ یہاں ماں سے حقیقی ماں مراد نہیں بلکہ باپ کی بیوی یعنی سوتیلی ماں مرادی ہے اس لئے کہ حقیقی ماں سے اس قسم کا معاملہ بالکل بعید ہے کیونکہ اس میں شرعی رکاوٹ کے ساتھ طبعی رکاوٹ بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح امتی سے مراد اہل قبلہ ہیں یعنی جو مسلمان سمجھے جاتے ہیں۔ اس شکل میں کلھم فی النار یعنی وہ تمام فرقے دوزخ میں ہوں گے کہ معنی یہ ہوں گے کہ وہ سب اپنے غلط عقائد اور بداعمالیوں کی بنا پر دوزخ میں داخل کئے جائیں گے، لہٰذا جس کے عقائد و اعمال اس حد تک مفسد نہ ہوں گے کہ وہ دائرہ کفر میں آتے ہوں تو اللہ کی رحمت سے وہ اپنی مدت سزا کے بعد دوزخ سے نکال لئے جائیں گے۔ آخر حدیث میں جنتی گروہ کو جماعت کہا گیا ہے اور اس سے مراد اہل علم و معرفت اور صاحب فقہ حضرات ہیں ان کو جماعت کے نام سے اس لئے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ حضرات کلمہ حق پر جمع ہیں اور دین و شریعت پر متفق ہیں، اس موقع پر مناسب ہے کہ حدیث میں مذکورہ تہتر فرقوں کی تفصیل کردی جائے۔ اہل اسلام میں بڑے گروہ آٹھ ہیں۔ (١) معتزلہ (٢) شیعہ (٣) خوارج (٤) مرجیہ (٥) بخاریہ (٦) جبریہ (٧) مشبہہ (٨) ناجیہ، پھر یہ آٹھوں گروہ چھوٹے چھوٹے فرقوں پر اس طرح منقسم ہیں۔ (١) معتزلہ کے بیس فرقے ہیں۔ (٢) شیعہ کے بائیس فرقے ہیں (٣) خوارج کے بیس فرقے ہیں۔ (٤) مرجیہ کے پانچ فرقے ہیں (٥) بخاریہ کے تین فرقے ہیں اور (٦) جبریہ (٧) مشبہہ صرف ایک ایک ہی فرقے ہیں ان میں کئی فرقے نہیں ہیں اور آٹھواں فرقہ ناجیہ بھی صرف ایک ہے اور وہ اہل سنت والجماعت ہیں جو جنتی ہیں۔ اس موقع پر ان فرقوں کے عقائد بھی اجمالی طور پر سن لیجئے۔ معتزلہ فرماتے ہیں کہ بندہ اپنے تمام اعمال کا خالق ہے، کا سب نہیں ہے نیز ان کا عقیدہ ہے کہ بندہ صالح کو ثواب دینا اور بدکار بندہ کو عذاب دینا اللہ پر واجب اور ضروری ہے اسی طرح اس فرقہ کے لوگ باری تعالیٰ کے دیدار کا انکار کرتے ہیں، مرجیہ کا عقیدہ ہے کہ جس طرح کافر کے لئے اس کے صالح اور نیک اعمال کار آمد نہیں ہیں اسی طرح مومن کو اس کے اعمال بد کچھ نقصان و ضرر نہیں پہنچاتے اور نہ اس کے ایمان میں کوئی نقص پیدا ہوتا ہے، بخاریہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کمال کا انکار کرتے ہیں اور کلام الہٰی کو حادثات مانتے ہیں۔ جبریہ کا عقیدہ ہے کہ بندہ مجبور محض ہے اسے اپنے کسی عمل پر کوئی اختیار نہیں ہے، مشبہہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو مخلوق کے مشابہ مانتے ہیں اور ذات باری تعالیٰ کی جسمیت کے قائل ہیں، نیز ان کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق میں حلول کرتا ہے اور شیعہ اور خوارج کے عقائد مشہور ہی ہیں، یعنی شیعہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تفصیل کے قائل ہیں، اب ان میں بھی کئی فرقے ہیں، شیعہ کے بعض فرقے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو شیخین یعنی حضرت ابوبکر صدیق وعمر فاروق ؓ پر فضیلت و فوقیت دیتے ہیں لیکن شیخین کی تکفیر نہیں کرتے مگر دوسرے فرقے حضرت ابوبکر صدیق وعمر فاروق ؓ کی تکفیر کے بھی قائل ہیں۔ (نعوذبا اللہ) نیز بعض شیعہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ قرآن اپنی مکمل صورت میں موجود نہیں ہے بلکہ اس کی بعض وہ آیتیں جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی منقبت میں تھیں، حذف کردی گئی ہیں، خوارج حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی دشمن جماعت کو کہتے ہیں یہ لوگ حضرت علی کرم وجہہ اللہ کی تکفیر کے قائل ہیں (نعوذ با اللہ )۔ اس موقع پر ایک خاص اشکال کی طرف اشارہ کردینا بھی ضروری ہے ایک ایسا آدمی جو جاہل تھا اسلام کی دولت سے مشرف ہوا، اس کے سامنے اہل سنت والجماعت بھی ہیں اور شیعہ کی جماعت بھی ہے دونوں اس کے سامنے اپنے حق پر ہونے کے دلائل قرآن و سنت سے پیش کرتے ہیں، وہ نو مسلم حیران ہے کہ وہ دونوں میں سے کسے حق جانے اور کس کے دلائل کی تصدیق کرے جب کہ وہ علم سے بالکل بےبہرہ ہے، اس کا سیدھا حل یہ ہے کہ بعض چیزیں ایسی ہیں جو صراحت کے ساتھ اہل سنت والجماعت کے حق ہونے کی دلیلیں پیش کرتی ہیں اور وہ چیزیں ایسی صاف اور ظاہر ہیں کہ ان کا مشاہدہ عام لوگوں کو بھی ہوا کرتا ہے لہٰذا وہ ان میں غور کرے تو اس کے سامنے اہل سنت کی حقانیت آشکارا ہوجائے گی۔ مثلاً ایک سب سے بڑی کھلی نشانی جو آج سب کے سامنے مشاہدہ میں ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے اور وہ اہل سنت والجماعت کے حصہ میں ہے یعنی قرآن کریم کے جتنے بھی حافظ ہوتے ہیں وہ سنی ہوتے ہیں آج تک کسی شیعہ کو حافظ نہیں دیکھا گیا اس لئے کہ ان کی قسمت میں اس عظیم نعمت سے محرومی لکھی ہوئی ہے، ہوسکتا ہے کہ لاکھوں میں کوئی ایک شیعہ حافظ نکل آئے تو یہ نادر ہے جس کا اثر کلیہ پر نہیں پڑتا کیونکہ النادر کا لمعدوم نادر نہ ہونے کے درجہ میں ہے۔ دوسرے یہ بھی ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ دین محمدی اور شریعت مصطفوی کے ائمہ اور رکن دین جتنے علماء اور اولیاء تھے وہ سب سنی تھے اور ان میں بعض ائمہ و علماء کے شیعہ بھی معتقد ہیں۔ اگر مسلک اہل سنت والجماعت میں کوئی کجی یا نقص ہو تو وہ حضرات یقینًا اس مسلک کو اختیار کئے ہوئے نہ ہوتے۔ تیسرے اسلامی شعار مثلاً جمعہ، جماعت عیدین وغیرہ علی الاعلان اور کھلے بندوں صرف سنی ہی ادا کرتے ہیں اور شیعہ ان نعمتوں سے محروم و بےنصیب ہیں۔ چوتھے مکہ و مدینہ جو دین اسلام کا مبداء اور مرکز ہے اور وہاں کے باشندے اپنی بزرگی و عظمت کے لحاظ سے ضرب المثل ہیں وہاں کے لوگ بھی اسی مسلک کے پابند ہیں اگر شیعہ مسلک اچھا ہوتا تو وہ لوگ یقینًا سنی نہ ہوتے بلکہ شیعہ مسلک کے پابند ہوتے۔ اسی طرح دوسرے فرقے بھی اپنی حقانیت کے دعوے کرتے ہیں لیکن ان کا جواب یہی ہے کہ کسی کی حقانیت و بطلان پر محض دعویٰ کوئی حقیقت نہیں رکھتا جب تک اس دعویٰ کی قوی دلیل نہ ہو۔ اہل سنت والجماعت کی حقانیت کی دلیل یہ ہے کہ یہ دین اسلام جو ہم تک پہنچا ہے وہ نقل کے ساتھ پہنچا ہے اس میں محض عقل کافی نہیں ہے لہٰذا تواتر اخبار اور احادیث و آثار میں تلاش و جستجو اور تنقیع کے بعد یہ بات متیقّن ہوگئی ہے کہ صحابہ اکرام رضون اللہ علیہم اجمعین اور تابعین عظام رحمہم اللہ اسی مسلک و اعتقاد پر تھے، دوسرے باطل فرقے سب بعد میں پیدا ہوئے، نہ تو صحابہ ان باطل فرقوں کے مسلک کے پابند تھے اور نہ دیگر نیک و صالح لوگ ان فرقوں کے ساتھ تھے اگر صحابہ اور تابعین کے زمانوں میں ان میں سے بعض باطل فرقے پیدا ہوئے تو ان لوگوں نے ان سے اپنی انتہائی نفرت و بیزاری کا اظہار کیا یہاں تک کہ ایسے غلط عقائد و مسلک کے لوگوں سے ان حضرات نے تمام تعلق و رابطے منقطع کر ڈالے، نیز صحاح ستہ کے حضرات مصنفین و دیگر محدثین علمائے ربانین اور اولیائے کا ظمین تمام کے تمام اہل سنت والجماعت کے عقائد و مسلک کے پابند تھے۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ اہل سنت الجماعت کا مسلک حق نہ ہوتا اور ان کے عیقدے صحیح نہ ہوتے تو کروڑہا پدم ہا پدم لوگ اس مسلک حق کے پابند نہ ہوتے جن میں صحابہ بھی تھے اور تابعین بھی، بڑے بڑے اولیاء اللہ بھی تھے اور علمائے محدثین بھی، عقلاء و دانش مند بھی تھے اور عوام بھی۔ بہر حال مسلک اہل سنت والجماعت کے حق ہونے کی چند مثالیں ہیں ان کے علاوہ بھی بیشمار مثالیں ہیں جو اہل سنت والجماعت کی حقانیت پر شاہد عادل ہیں، اگر نفسانی خواہشات اور ذاتی اغراض سے الگ ہٹ کر تلاش حق کے حقیقی جذبہ سے اہل حق کی اس جماعت کے عقائد کو دیکھا جائے تو ان کی حقانیت عیاں ہوجائے گی ورنہ بقول شاعر ہشیار کو اک حرف نصیحت ہے کافی ناداں کو کافی نہیں دفتر نہ رسالہ اس حدیث کے ان تمام فرق باطلہ کے لوگوں کو ہڑک والوں سے مشابہت دی گئی ہے اس لئے کہ جس طرح ہڑک والے پر ہڑک غالب ہوتی ہے اور پانی سے بھاگتا ہے نتیجہ میں وہ پیاسا ہوجاتا ہے اسی طرح جھوٹے مذاہب اور باطل مسلک والوں پر بھی خواہشات نفسانی کا غلبہ ہوتا ہے وہ علم و معرفت کے لالہ زاروں سے بھاگ کر جہل و گمرائی کی وادیوں میں جا گرتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی روحانی موت واقع ہوجاتی ہے اور وہ دین و دنیا دونوں جگہ اللہ کی رحمت سے محروم رہتے ہیں۔

168Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اﷲُ عَنْھَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم: ((اِنَّ اﷲَ لَا یَجْمَعُ امَّتِی۔ اَوْقَالَ ((اُمَّۃَ مُحَمَّدِ عَلَی ضَلَالَۃِ وَّیَدُ اﷲِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ وَمَنْ شَذَّشُذَّ فِی النَّارِ))(رواہ الجامع ترمذی)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ میری امت کو یا (بجائے میری امت کے) یہ فرمایا کہ امت محمدیہ کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہے اور جو آدمی جماعت پر ہے اور جو آدمی جماعت سے الگ ہے وہ جنت والوں کی جماعت سے الگ کر کے تنہا دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ (جامع ترمذی ) تشریح اللہ کے ہاتھ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے توفیق و تائید اور حفاظت و مدد جماعت پر ہوتی ہے اس امت مرحومہ پر اللہ کی جانب سے جہاں بہت سے احسانات ہیں وہیں اس کا یہ بھی بڑا کرم ہے کہ امت کے تمام لوگ کبھی ناحق اور غلط باتوں پر جمع نہیں ہوتے یہ جب بھی کسی چیز پر اتفاق کرتے ہیں وہ حق بات ہوتی ہے۔

169Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنْہ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم: ((اِتَّبِعُوْ السَّوَادَ الْاَ عْظَمَ فَاِنَّہُ مِنْ شَذَّ شُذَّ فِی النَّارِ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃ مِنْ حَدِیْثِ اَنَسِ وَابْنُ عَاسِمِ فِی کِتَبِ السُّنَّۃِ)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر راوی راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ بڑی جماعت کی پیروی کرو! اس لئے کہ جو جماعت سے الگ ہوا وہ تنہا آگ میں ڈالا جائے گا ابن ماجہ نے یہ حدیث کتاب السنۃ سے حدیث انس و ابن عاصم سے روایت کی ہے۔ تشریح اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ انہی اعتقادات کی پیروی کرنی چاہئے جو اکثر علماء کے نزدیک حق ہوں اسی طرح ایسے اقوال و افعال کو قبول کرنا چاہئے جو جمہور علماء سے ثابت ہوں۔ اس حدیث میں لفظ رواہ کے بعد اصل مشکوٰۃ میں جگہ خالی تھی اس لئے کہ صاحب مشکوٰۃ کو اس کتاب کا نام معلوم نہیں ہوا تھا جس سے یہ حدیث نقل کی گئی ہے بعد میں میرک شاہ نے مذکورہ عبارت نقل کی ہے۔

170Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنْ اَنَسِ قَالَ قَالَ لِی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((یَا نَبِیَّ اِنْ قَدَرْتَ اَنْ تُصْبِحَ وَ تُمْسِیَ وَلَیْسَ فِیْ قَلْبِکَ غَشٌ لِاَحَدِ فَافْعَلَ))ثُمَّ قَالَ ((یَابُنَیَّ وَذٰلِکَ مِنْ سُنَّتِی وَمَنْ اَحَبَّ سُنَّتِی فْقَدْ اَحَبَّنِی وَمَنْ اَحَبَّنِی کَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ))(رواہ الجامع ترمذی)

اور حضرت انس راوی راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا۔ اے میرے بیٹے! اگر تم اس پر قدرت رکھتے ہو کہ صبح سے لے کر شام تک اس حال میں بسر کرو کہ تمہارے دل میں کسی سے کینہ نہ ہو تو ایسا ہی کرو! پھر فرمایا اے میرے بیٹے! یہی میری سنت ہے لہٰذا جس آدمی نے میری سنت کو محبوب رکھا اس نے مجھ کو محبوب رکھا اور جس نے مجھ کو محبوب رکھا وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ (جامع ترمذی ) تشریح اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور آپ ﷺ کے طریقہ کو پسند کرنا اور اسے محبوب رکھنا رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھنے کا سبب اور جنت میں آپ ﷺ کی رفاقت جیسی نعمت عظیم کے حصول کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا یہ سوچنے کی بات ہے کہ جب آپ ﷺ کی سنت کو پسند کرنے پر یہ خوشخبری ہے تو سنت نبوی ﷺ پر عمل کرنا کتنی بڑی سعادت و خوش بختی کی بات ہوگی۔ ذراغور کرنا چاہئے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کو پسند کرنے والوں کا کتنا بڑا مرتبہ ہے وہ یہ ہے کہ انہیں جنت میں رسول اللہ ﷺ کی رفاقت و معیت کا شرف حاصل ہوگا، حقیقت یہ ہے کہ دونوں جہان کی تمام نعمتیں اگر ایک طرف ہوں اور دوسری طرف یہ نعمت ہو تو یقینًا سعادت و خوشی کے اعتبار سے یہ نعمت بڑھ جائے گی، اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپ ﷺ کی مقدّس سنت کو محبوب رکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم سب اس نعمت سے بہرہ ور ہو سکیں۔ (آمین)۔

171Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((مِنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِی عَنْدَ فَسَادِ اُمَّتِی فَلَہُ اَجْرُ مِائَۃِ شَھِیْدِ)) رَوَاہُ الْبَیْھَقِیُّ فِی کِتَبِ الزُّھْدِ لَہ، مِنْ حَدِیْثِ ابُنِ عَبَّاسِ۔

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت کے بگڑنے کے وقت جس آدمی نے میری سنت کو دلیل بنایا اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔ تو بیہقی نے یہ روایت اپنی کتاب زہد میں عبداللہ ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے۔ تشریح ایسے عظیم اجر کے ملنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح ایک شہید دین اسلام کو زندہ رکھنے اور اس کی شان و شوکت کو بڑھانے کی خاطر دنیا کی تمام مصیبتیں جھیلتا ہے یہاں تکہ کہ اپنی جان بھی قربان کردیتا ہے، اسی طرح جب کہ دین میں رخنہ اندازی ہونے لگے اور فتنہ فساد کا دور دورہ ہو تو سنت کو رائج کرنے اور علوم نبوی کو پھیلانے میں بیشمار مصائب و تکالیف کا سامنا ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات اس سے بھی زیادہ مشقتیں اٹھانی پڑتی ہیں اس لئے اس عظیم اجر کی خوشخبری دی جا رہی ہے اس حدیث میں بھی لفظ رواہ کے بعد مشکوٰۃ کے بعض نسخوں میں جگہ خالی ہے مگر مذکورہ عبارت میرک شاہ نے بڑھا دی ہے۔

172Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنْ جَابِرِ عَنْ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم حَیْنَ اَتَاہُ عُمَرُ فَقَالَ: اِنَّا نَسْمَعُ اَحَادِیْثَ مِنْ یَھُوْدَ تُعْجِبُنَا اَفَتَرَی اَنْ نَّکْتُبَ بِعْضَھَا ؟فَقَالَ: اَمُتَھَوْ کُوْنَ اَنْتُمْ کَمَا تَھَوَّکَتِ الْیَھُوْدُ وَالنَّصَارِی ؟لَقَدْ جَئْتُکُمْ بِھَا بَیْضَاءَ نَقَیَّۃً وَلَوْ کَانَ مُوْسٰی حَیَّا وَمَاسِعَہ، اِلَّا اتِّبَاعِی۔ (رَوَاہُ اَحْمَدُ وَالْبَیْھَقِیُّ فِی کِتَاب شُعَبِ الْاِیْمَانِ۔

اور حضرت جابر ؓ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں حضرت عمر فاروق ؓ دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم یہود کی حدیثیں سنتے ہیں اور وہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہوتی ہیں کیا آپ ﷺ اجازت دیتے ہیں کہ ہم ان میں سے بعض کو لکھ لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم بھی اسی طرح حیران ہو جس طرح یہود اور نصاریٰ حیران ہیں۔ (جان لو کہ) بلاشبہ میں تمہارے پاس صاف و روشن شریعت لایا ہوں، اگر موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو وہ بھی میری پیروی پر مجبور ہوتے۔ (مسند احمد بن حنبل، بیہقی) تشریح رسول اللہ ﷺ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح یہود و نصاریٰ حیران ہیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو اور اپنے پیغمبر کی حقیقی تعلیم کو چھوڑ دیا ہے اور اپنے خود غرض و لالچی علماء کی خواہشات کے مطیع ہوگئے ہیں، کیا اسی طرح تم بھی متحیر ہو کہ اپنے دین کو ناقص و نامکمل سمجھ کر دوسروں کے دین و شریعت کے محتاج ہو رہے ہو، حالانکہ میری لائی ہوئی شریعت اتنی مکمل اور واضح ہے کہ اگر آج موسیٰ (علیہ السلام) بھی زندہ ہوتے تو وہ بھی میری شریعت کے پابند اور میرے احکام کے مطیع ہوتے۔

173Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنْ اَبِی سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم((مَنْ اَکَلَ طَیِّبًا وَعَمِلَ فِی سُنَّۃِ وَاٰمِنَ النَّاسُ بَوَائِقَہ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ)) فَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اِنَّ ھٰذَا لْیَوْمَ لَکَثِیْرٌ فِی النَّاسِ؟ قَالَ: وَسَیَکُوْنَ فِی قُرُوْنِ بَعْدِی۔(رواہ الجامع ترمذی)

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی نے حلال (رزق) کھایا، سنت کے طریقہ پر عمل کیا اور اس کی زیادتیوں سے لوگ امن میں رہے تو وہ جنت میں داخل ہوگا ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! ایسے لوگ تو آج کل بہت ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا اور میرے بعد بھی ایسے لوگ ہوں گے۔ (جامع ترمذی ) تشریح حلال رزق کا مطلب یہ ہے کہ خواہ تجارت ہو یا ملازمت یا کوئی دوسرا ذریعہ معاش، ہر جگہ ایماندار و دیانت کے دامن کو پکڑے رہے اور شریعت کی حدود سے تجاوز نہ کرے نیز ایسی کوئی صورت اختیار نہ کرے جس سے اس کی کمائی حرام ہوجائے جیسے اگر کوئی آدمی تجارت میں خریدو فروخت کے وقت میں ایسے طریقے اختیار کرتا ہے جو شریعت کی نظر میں جائز نہیں ہیں تو اس کا کمایا ہوا مال پاک و حلال نہیں رہے گا۔ ہاں اگر اس کا طرز عمل خلاف شریعت نہیں ہوتا تو اس کی کمائی حلال ہوگی۔ شرعی نقطہ نظر سے تجارت میں حلال کمائی کے لئے یہ شرط ہے کہ کسی مال کو فروخت کرتے وقت نہ تو عقد بیع سے پہلے نہ عقد بیع کے وقت اور عقد بیع کے بعد کوئی ایسی شکل اختیار کرے جو شرعی طور پر مفسد بیع ہو تو اس کا کمایا ہوا مال حلال و طیب ہوگا اور اگر اس کے برخلاف عمل کیا تو اس کی کمائی حلال نہیں ہوگی۔ مثلاً کسی تاجر نے کسی چیز کو فروخت کرنے کا ارادہ کیا اور عقد بیع سے پہلے دھوکہ اور فریب دینے کا خیال کیا۔ جیسے جس چیز کو فروخت کر رہا ہے اس میں کوئی عیب ہے لیکن اس نے اس کو نہ ظاہر کرنے کا ارادہ کیا تو اگرچہ عقد بیع کے وقت ایجاب و قبول شرعی طور پر ہوا ہو مگر اس کی اس فاسد نیت کی وجہ سے اس کا کمایا ہوا مال حلال نہیں ہوگا۔ یا اسی طرح فروخت کے وقت جب کہ عقد بیع واقع ہو رہا تھا یا عقد بیع کے بعد تاجر نے کوئی فاسد شرط لگا دی جو جائز نہیں ہے تو اس صورت میں بھی اس کا کمایا ہوا مال حلال نہیں ہوگا جیسے دکاندار نے کسی چیز کو فروخت کیا اور خریدار سے کہا کہ بیع ہوگی لیکن شرط یہ ہے کہ ایک بوتل شراب مجھے دیا کرنا تو چونکہ یہ شرعی طور پر جائز نہیں ہے اس لئے اس کا حاصل کیا ہوا مال حلال نہیں ہوگا۔ بہر حال مطلب یہ ہے کہ خریدو فروخت کے سلسلہ میں ان تینوں اوقات میں ایسا طریقہ اختیار نہ کرنا چاہئے جو خلاف شریعت ہوتا کہ اس کا کمایا ہوا مال حلال رہے۔ پھر یہ تجارت ہی پر موقوف نہیں ہے۔ بلکہ اسی طرح ملازمت اور زراعت وغیرہ کا معاملہ بھی ہے کہ وہاں ایسے طریقے اختیار نہ کئے جائیں جو حلال رزق کے حصول میں رکاوٹ بنیں۔ بہرحال مطلب یہ ہے کہ خریدو فروخت کے سلسلہ میں ان تینوں اوقات میں ایسا طریقہ اختیار نہ کرنا چاہئے جو خلاف شریعت ہو تاکہ اس کا کمایا ہوا مال حلال رہے۔ پھر یہ تجارت ہی پر موقوف نہیں ہے۔ بلکہ اسی طرح ملازمت اور زراعت وغیرہ کا معاملہ بھی ہے کہ وہاں ایسے طریقے اختیار نہ کئے جائیں جو حلال رزق کے حصول میں رکاوٹ بنیں۔ حدیث میں دخول بہشت کے لئے دوسرا وصف یہ قرار دیا گیا ہے کہ سنت کی پیروی پوری پوری ہو یعنی جو بھی کام کیا جائے یا جو بھی بات کہی جائے وہ سنت نبوی کے مطابق ہو۔ گویا انسانی زندگی کا کوئی بھی پہلو ہو خواہ وہ عبادات کا ہو یا معاملات یا معاشرت کا، سب میں سنت نبوی کی جھلک اور اتباع رسول کا جذبہ موجود ہو۔ چنانچہ جن اعمال کے بارے میں احادیث وارد ہوئی ہیں ان کے مطابق ہی عمل کیا جائے یہاں تک کہ بیت الخلاء جانے اور راستہ کو کسی تکلیف دہ چیز سے صاف کرنے کے بارے میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں یا جو سنت منقول ہے اس پر عمل کرے اور ان کے احکام کو بجا لائے۔ آخر حدیث میں صحابی کے قول کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں تو ایسے لوگ بکثرت موجود ہیں جو مذکورہ اوصاف سے متّصف ہونے کی وجہ سے اس خوشخبری کے مستحق ہیں لیکن ہمارے بعد ایسے لوگ پائے جائیں گے یا نہیں؟ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارے بعد بھی ایسے لوگ ہوں گے یعنی اس امت سے خیر و بھلائی بالکل ختم نہیں ہوجائے گی۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ آخر زمانہ میں جب کہ فتنہ و فساد کا دور دورہ ہوگا، ایسے لوگوں کی کمی ہوجائے گی لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ ایسے اللہ والے لوگ اس دنیا میں رہیں گے جو حدیث و سنت کے طریقہ پر اپنی زندگی گزاریں گے اور ایمان و دین پر پورے یقین کے ساتھ قائم و دائم رہیں گے۔

174Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرِیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((اِنَّکُمْ فِی زَمَانِ مَنْ تَرَکَ مِنْکُمْ عُشْرَ مَا اُمِرَبِہٖ ھَلَکَ ثُمَّ یَأْتِی زَمَانٌ مِنْ عَمِلَ مِنْھُمْ بِعُشْرِمَا اُمِرَبِہٖ نَجَا) (رواہ الجامع ترمذی)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم ایسے زمانہ میں ہو کہ اگر تم میں سے کوئی آدمی ان احکام کا دسواں حصہ بھی چھوڑ دے جو دیئے گئے ہیں تو وہ ہلاک ہوجائے لیکن ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اگر کوئی آدمی ان احکام کے دسویں حصہ پر بھی عمل کرے گا تو نجات پا جائے گا۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث سے عہد رسالت اور مابعد کے فرق کا پتہ چلتا ہے، عہد نبوی ﷺ میں امربالمعروف و نہی عن المنکر کا چرچا اتنی شدت اور کثرت کے ساتھ تھا کہ ذراسی لغزش بھی ہلاکت و تباہی کا باعث بن سکتی تھی لیکن زمانہ آخر میں جب کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں اضمحلال پیدا ہوجائے گا تو اس وقت اتنا فرق ہوجائے گا کہ اگر کوئی آدمی احکام کے دسویں حصہ پر بھی عمل کرے تو یہ اس کی نجات کے لئے کافی ہوگا۔

175Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((مَاضَلَّ قَوْمً بَعْدَ ھُدًی کَانُوْا عَلَیْہِ اِلَّا اُوْتُوا الْجَدَلَ)) ثُمَّ قَرَارَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ھٰذِہٖ الْاٰیَۃ ((مَاضَرَبُوْہ، لَکَ اِلَّا جَدَ لَابَلْ ھُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ)) (رواہ الجامع ترمذی و ابن ماجۃ)

اور حضرت ابوامامہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہدایت پانے اور ہدایت پر قائم رہنے کے بعد کوئی قوم گمراہ نہیں ہوئی مگر اس وقت جب کہ اس میں جھگڑا پیدا ہوا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی آیت (مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ ) 43۔ الزخرف 58) (قرآن) ترجمہ وہ تمہارے لئے نہیں بیان کرتے مثال مگر جھگڑنے کے لئے بلکہ وہ جھگڑالو قوم ہی ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دینی معاملات اور شرعی مسائل میں جھگڑنا نہیں چاہئے اور نہ ہر کس وناکس کو ان میں اپنی عقل کے تیر چلانے چاہیں کیونکہ زمانہ ما سبق میں ہدایت یافتہ اقوام کی گمراہی کا بیشتر سبب یہی ہوتا تھا کہ لوگ دینی معاملات میں جھگڑتے رہتے تھے اور یہ حرکت علماء سوء اور نفسانی خواہشات کے تابع لوگ کیا کرتے تھے اس سے ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ دینی معاملات میں تفرقہ پیدا ہو اور لوگ آپس میں لرنے جھگڑنے لگیں تاکہ غلط عقائد اور باطل مذاہب کو فروغ دیں اور حق کی بنیادوں کو اکھاڑ پھینکیں۔ مشرکین کے اس غلط نظریہ کے رد میں آیت مذکورہ آیت (ماضربوہ لک) الایۃ نازل ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد ﷺ یہ مشرک لوگ اس آیت کو سن کر تم سے جو بحث کرتے ہیں اور اپنی طرف سے غلط معنی مراد لے رہے ہیں وہ محض ان کی ہٹ دھرمی اور ضد ہے اور یہ مخاصمت و مجادلت کے طور پر ایسی غلط بات کہہ رہے ہیں حالانکہ یہ صاحب زبان ہیں اور عربی زبان کے اصول و قواعد انہیں معلوم ہیں اور وہ بھی جانتے ہیں کہ ماتعبدوں سے پتھر وغیرہ کے بت مراد ہیں اس لئے کہ لفظ ماخود اس پر دال ہے کہ یہ حکم غیر ذوی العقول معبودوں یعنی پتھروں وغیرہ کے بتوں کے بارے میں ہے نہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور اللہ کے دیگر نیک بندے اس میں شامل ہیں۔

176Mishkaat-al-Masabih

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان

وَعَنْ اَنَسِ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یَقُوْلُ لَا تُشَدِّدُوْا عَلَی اَنْفُسِکُمْ فَیُشَدِّدُ اﷲُ عَلَیْکُمْ فَاِنَّ قَوْمًا شَدَّدُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ فَشَدَّدَ اﷲُ عَلَیْھِمِ فَتِلْکَ بَقَایَاھُمْ فِی الصَّوَامِعِ وَالدِّیَارِ((رَھْبَانِیَّۃَ ابْتَدَعَوْھَا مَاکَتَبْنَا ھَا عَلَیْھِمْ))(رواہ ابوداؤد)

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ فرمایا کرتے تھے، تم اپنے نفس پر سختی نہ کرو اس لئے کہ پھر اللہ بھی تم پر سختی کرے گا، ایک قوم (یعنی بنی اسرائیل) نے اپنے نفس پر سختی کی تھی چناچہ اللہ نے بھی اس پر سختی کی۔ پس آج جو لوگ صومعوں اور دیار میں پائے جاتے ہیں یہ انہیں لوگوں نے پیدا کیا ہم نے ان پر فرض نہیں کی تھی۔ (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اپنی جانوں کو خواہ مخواہ زیادہ محنت و مشقت میں مبتلا نہ کرو یعنی ریاضت و مجاہدہ میں ایسے طریقے اختیار نہ کرو جن کو تمہارے قوی برداشت کرنے کے اہل نہ ہوں اور نہ تمہارا نفس اتنی محنت و مشقت برداشت کرسکتا ہو اور اسی طرح ایسی چیزوں کو اپنے اوپر حرام نہ کرو جو اللہ نے تمہارے لئے مباح قرار دی ہیں اس لئے کہ اگر تم اپنی طرف سے اپنی جانوں پر سختی کرو گے اور زیادہ محنت و مشقت میں پڑو گے تو اللہ انہیں چیزوں کو تمہارے اوپر فرض کرے گا لیکن تمہارے اندر اتنی طاقت نہیں ہوگی کہ تم ان کے حقوق ادا کرسکو، نتیجہ میں آخرت کی تباہی و ہلاکت اپنے ذمہ لے لوگے۔ صومہ اس جگہ کو فرماتے ہیں جہاں عیسائی عبادت کیا کرتے ہیں جسے گرجا کہا جاتا ہے اور دیار یہود کے عبادت کرنے کو جگہ کو کہتے ہیں اسی طرح رہبانیت اسے کہتے ہیں کہ عبادت و ریاضت بہت زیادہ کی جائے اپنے نفس کو مشقّتوں اور تکلیفوں میں ڈالا جائے دنیا سے بالکل بےتعلق ہوجائے تمام لوگوں سے اپنے کو منقطع کرلے ٹاٹ کے پیراہن استعمال کرے، گردن میں زنجیر باندھ لے قوت مردانگی کو ختم کرنے کے لئے نفسانی خواہشات کو مار ڈالنے کے لئے بالکل غیر فطری طور پر جنسی محرکات کو منقطع کر ڈالے اور دنیاوی زندگی کو یکسر چھوڑ کر جنگل و پہاڑ پر جا کر بسیرا ڈال لے، جیسا کہ رہبانیت اہل کتاب نے اپنے اوپر ضروری کر رکھی تھی اور ان کے عابد و زاہد لوگ ایسا کیا کرتے تھے لیکن چونکہ رہبانیت اسلام کے فطری اصولوں سے بالکل جدا اور الگ ہے اس لئے شریعت نے کبھی اس کا جائز قرار نہیں دیا۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے رہبانیت اسلام میں ناجائز قرار دی ہے اور فرمایا ہے الحدیث (لارھبانیۃ فی الاسلام) یعنی اسلام میں رہبانیت جائز نہیں ہے، بلکہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رہبانیت کسی بھی آسمانی دین میں ضروری نہیں تھی بلکہ خود اس دین کے ماننے والے رہبانیت کو اپنی دینی و دنیاوی فلاح و کامیابی کا ذریعہ سمجھتے تھے، چناچہ یہود و نصارٰی میں بھی لوگوں نے خود ہی ان چیزوں کا اختراع کیا تھا اور ایسی مشقتیں و تکلیفیں اپنے اوپر لازم کرلی تھیں جو شریعت کی جانب سے ان پر فرض نہ کی گئی تھیں لیکن یہ قومیں چونکہ فطرتًا غیر مستقل مزاج، خواہشات نفسانی کی پابند اور آزاد طبع واقع ہوئی ہیں اس لئے وہ اپنے اوپر خود فرض کی ہوئی چیزوں کو بھی پورا نہ کرسکیں ان کے ذہن و قوی نہ ان کے حقوق ادا کرسکے اور نہ وہ ان پر مستقل مزاجی سے قائم رہے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں اپنے دین سے بھی ہاتھ دھونا پڑا چناچہ اکثر نہ ان کے حقوق ادا کرسکے اور نہ وہ ان پر مستقل مزاجی سے قائم رہے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں اپنے دین سے بھی ہاتھ دھونا پڑا چناچہ اکثر عیسائی اپنے دین سے منحرف ہوگئے اور انہوں نے یہودی مذہب قبول کرلیا بہت سے یہودی رہبانیت کو چھوڑ چھاڑ کر نصرانیت کی طرف مائل ہوگئے کچھ ایسے بھی تھے جو اپنے دین پر قائم رہے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پایا اور آپ ﷺ پر ایمان لائے۔ بہر حال آنحضور ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اسی طرح تم رہبانیت کو اختیار نہ کرو اور نہ غیر شرعی فطری مشقتوں میں اپنی جانوں کو مبتلا کرو بلکہ شریعت نے جو حدود متعین کردی ہیں انہیں کے اندر اپنی زندگی کزارو اور خداوند کے رسول ﷺ نے جو فرائض بتائے ہیں وہی ادا کرتے رہو۔