اللہ کے نزدیک طلاق ایک بری چیز ہے
وعن معاذ بن جبل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا معاذ ما خلق الله شيئا على وجه الأرض أحب إليه من العتاق ولا خلق الله شيئا على وجه الأرض أبغض إليه من الطلاق . رواه الدارقطني
اور حضرت معاذ ابن جبل کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ معاذ! اللہ تعالیٰ روئے زمین پر جتنی مستحب چیزیں پیدا کی ہیں ان میں سے اس کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چیز غلام و لونڈی کو آزاد کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر جتنی حلال چیزیں پیدا کی ہیں ان میں سے اس کے نزدیک سب سے زیادہ بری چیز طلاق دینا ہے ( دارقطنی)
تشریح
غلام و لونڈی کو آزاد کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ اس لئے کہ اس کی وجہ سے ایک انسان کو اس کا پیدائشی اور فطری حق ملتا ہے اس کو ایک ایسی مخلوق کی غلامی سے نجات حاصل ہوجاتی ہے جو انسان ہونے کی حیثیت سے اسی کے مرتبہ کے برابر ہے اور وہ اپنے پروردگار کی عبادت اور اطاعت کے لئے فارغ ہوجاتا ہے نیز اس کا مالک جس نے اسے آزاد کیا ہے اپنے اس ایثار وفراخ حوصلگی کی وجہ سے دوزخ کی آگ سے پروانہ نجات حاصل کرتا ہے۔ بری طلاق سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ طلاق بہت بری ہے جو کسی حاجت و ضرورت کے بغیر محض اپنے نفس کو خوش کرنے کے لئے دی گئی ہو چناچہ علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ بعض حالات میں طلاق دینا مستحب بھی ہے مثلا اگر عورت نماز نہ پڑھتی ہو اور بدکار ہو تو اسے طلاق دینا ہی بہتر ہے۔ فتاوی قاضی خان میں لکھا ہے کہ اگر کسی کی بیوی نماز نہ پڑھتی ہو تو اسی لائق ہے کہ اسے طلاق دیدی جائے اگرچہ اس شخص کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ وہ اس کا مہر ادا کرسکے۔ ابوحفص بخاری کا یہ قول منقول ہے کہ اگر کوئی بندہ اس حال میں اللہ سے ملاقات کرے یعنی اس کا انتقال ہوجائے کہ اس کی گردن پر اس کی بیوی کا مہر ہو تو وہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ وہ ایک ایسی بیوی سے صحبت کرے جو نماز نہ پڑھتی ہو۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نکاح کرنا عبادت کے لئے گوشہ نشینی اختیار کرنے سے افضل ہے۔
جس عورت کو تین طلاقیں دی جائیں اسکا بیان
جس عورت کو تین طلاقیں دی جائیں اس کا حکم اس باب میں بیان کیا گیا ہے کہ اس عورت کو اگر اس کا خاوند کہ جس نے اسے تین طلاقیں دی پھر اپنی بیوی بنا کر رکھنا چاہے تو اس صورت میں ممکن ہے کہ جب کہ وہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح کر کے اس سے ہمبستر ہو پھر وہ مرد اس کو طلاق دے اور وہ عورت اپنی عدت کے دن پورے کر کے ازسر نو پہلے خاوند سے نکاح کرے ان مرحلوں سے گزرنے کے بعد ہی وہ عورت اپنے پہلے خاوند کے لئے حلال ہوگی۔ مشکوۃ کے بعض نسخوں میں باب المطلقۃ ثلثا کے بعد یہ عبارت بھی لکھی ہے کہ (وفیہ ذکر الظہار والایلاء) یعنی اس باب میں ظہار اور ایلاء کا ذکر بھی کیا گیا ہے ظہار اور ایلاء کے معنی اور ان کے کچھ مسائل انشاء اللہ آگے مذکور ہوں گے۔
حلالہ کا صحیح ہونا دوسرے خاوند کے جماع کرنے پر موقوف ہے
عن عائشة قالت : جاءت امرأة رفاعة القرظي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : إني كنت عند رفاعة فطلقني فبت طلاقي فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وما معه إلا مثل هدبة الثوب فقال : أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة ؟ قالت : نعم قال : لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ایک دن رفاعہ قرظی کی عورت رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں رفاعہ کے نکاح میں تھی مگر انہوں نے مجھے طلاق دیدی اور طلاقیں بھی تین دیں چناچہ میں نے رفاعہ کے بعد عبدالرحمن ابن زبیر سے نکاح کرلیا لیکن عبدالرحمن کپڑے کے پھند کی مانند رکھتے ہیں ( یعنی اس عورت نے ازراہ شرم وحیا عبدالرحمن کی نامردی کو کنایۃ ان الفاظ کے ذریعہ بیان کیا کہ وہ عورت کے قابل نہیں ہیں) آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ کیا تم پھر رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو اس نے عرض کیا کہ ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اس وقت تک رفاعہ سے دوبارہ نکاح نہیں کرسکتیں جب تک کہ عبدالرحمن تمہارا مزہ نہ چکھ لے اور تم اس کا مزہ نہ چکھ لو (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تمہارا دوسرا شوہر تمہارے سات جماع نہ کرے اور پھر اس کی طلاق کے بعد تم عدت کے دن پورے نہ کرلو تم اپنے سابق خاوند یعنی رفاعہ سے نکاح نہیں کرسکتیں چناچہ یہ حدیث مشہور اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حلالہ یعنی سابق خاوند کے واسطے حلال ہونے کے لئے کسی دوسرے مرد سے محض نکاح کرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ مجامعت بھی ضروری ہے البتہ مجامعت میں صرف دخول کافی ہے انزال شرط نہیں۔
محلل اور محلل لہ پر آنحضرت ﷺ کی طرف سے لعنت
عن عبد الله بن مسعود قال : لعن رسول الله المحلل والمحلل له . رواه الدارمي
حضرت عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم نے محلل اور محلل لہ پر لعنت فرمائی ہے (دارمی) ابن ماجہ نے اس روایت کو حضرت علی حضرت ابن عباس اور حضرت عقبہ ابن عامر سے نقل کیا ہے۔
تشریح
فرض کیجئے کہ دو شخص ہیں ایک کا نام زید ہے اور دوسرے کا نام بکر ہے زید نے اپنی بیوی خالدہ کو تین طلاقیں دیدیں اور اس کی عدت کے دن پورے ہوگئے ہیں اب زید پھر چاہتا ہے کہ وہ خالدہ کو دوبارہ اپنی زوجیت میں لائے۔ لہذا دوسرا شخص یعنی بکر خالدہ سے اس شرط یا ارادہ کے ساتھ نکاح کرتا ہے کہ جماع کے بعد خالدہ کو طلاق دیدی جائے گی تاکہ خالدہ کا پہلا شوہر زید کہ جس نے اس کو تین طلاقیں دی تھیں اس سے دوبارہ نکاح کرسکے اور خالدہ کا پہلا شوہر محلل لہ یعنی جس کے لئے حلالہ کیا گیا) کہلائے گا۔ حدیث میں انہی دونوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ان پر لعنت فرمائی ہے حلالہ کرنیوالے پر لعنت فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے زبان سے تحلیل کی شرط کا اظہار و اقرار کرنے کے بعد اور محض جدائی اختیار کرنے کے قصد سے اس عورت سے نکاح کیا جب کہ نکاح اس لئے شروع ہوا ہے کہ اس کے ذریعہ مرد و عورت ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے کے رفیق حیات ودمساز رہیں، لہذا اس صورت میں نہ صرف یہ کہ نکاح کے اصل مقصد ومنشاء پر زد پڑتی ہے بلکہ عورت کی حرمت و عزت بھی مجروح ہوتی ہے اسی لئے ایک حدیث میں اس کو مستعار بکری سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اور محلل لہ یعنی پہلے خاوند پر لعنت فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت حال اور اس نکاح کا اصل باعث وہی بنا ہے لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ اس حدیث سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس صورت میں عقد باطل ہوتا ہے بلکہ حدیث کے الفاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ عقد صحیح ہوجاتا ہے کیونکہ حدیث میں اس نکاح کرنیوالے کو محلل کہا گیا ہے اور یہ ایک ظاہر بات ہے کہ کوئی شخص محلل اسی صورت میں ہوتا ہے جب کہ عقد صحیح ہو عقد فاسد سے محلل نہیں ہوتا لہذا ثابت ہوا کہ اس ارشاد گرامی میں لعنت کا حقیقی مفہوم مراد نہیں ہے بلکہ یہاں مراد محلل اور محلل لہ کی خساست طبع کو ظاہر کرنا ہے اور یہ واضح کرنا ہے کہ یہ ایک قبیح فعل ہے جس کو کوئی سلیم الطبع انسان پسند نہیں کرسکتا۔ حلالہ کے مکروہ تحریمی ہونے کی صورت ہدایہ اور فقہ کی دیگر کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر حلالہ کو زبان سے مشروط کیا گیا ہو یعنی محلل اس عورت سے کہ جس کو اس کا خاوند تین طلاقیں دے چکا ہے یہ کہے کہ میں تم سے اس لئے نکاح کرتا ہوں کہ تمہیں اس خاوند کے لئے کہ جس نے تمہیں طلاق دی ہے حلال کر دوں یعنی میں تم سے صرف اس لئے نکاح کرتا ہوں کہ میں جماع کے بعد تمہیں طلاق دیدوں تاکہ تمہارے پہلے خاوند کے لے تم سے دوبارہ نکاح کرنا حلال ہوجائے یا وہ عورت محلل سے یوں کہے کہ میں تم سے اس لئے نکاح کرتی ہوں کہ میں اپنے پہلے خاوند کے لئے حلال ہوجاؤں تو اس صورت میں حلالہ مکروہ تحریمی ہوگا۔ ہاں اگر زبان سے یہ نہ کہا جائے مگر نیت میں یہ بات ہو تو پھر محلل نہ قابل مواخذہ ہوگا اور نہ لعنت کا مورد ہوگا کیونکہ اس صورت میں یہی کہا جائے گا کہ اس کا مقصد دراصل اصلاح احوال ہے۔ ابن ہمام نے کہا ہے کہ اس عورت نے کہ جس کو تین طلاقیں دی جا چکی ہیں غیر کفو سے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلیا اور پھر اس نے اس کے ساتھ جماع بھی کرلیا تو اس صورت میں وہ عورت پہلے خاوند کے لئے حلال نہیں ہوگی چناچہ فتوی اسی قول پر ہے۔
وعن سليمان بن يسار قال : أدركت بضعة عشر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم كلهم يقول : يوقف المؤلي . رواه في شرح السنة
اور حضرت سلیمان ابن یسار تابعی کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کے دس بلکہ اس سے بھی زیادہ صحابیوں کو پایا ہے وہ سب یہ فرمایا کرتے تھے کہ ایلاء کرنیوالے کو ٹھہرایا جائے ( شرح السنۃ)
تشریح
ایلاء اس کو کہتے ہیں کہ کوئی مرد یہ قسم کھائے کہ میں چار مہینہ یا اس سے زائد مثلا پانچ مہینہ یا چھ مہینہ) تک اپنی بیوی سے جماع نہیں کروں گا لہذا اگر اس مرد نے اپنی بیوی سے جماع نہیں کیا یہاں تکہ کہ چار مہینے گزر گئے تو اس صورت میں اکثر صحابہ کے قول کے مطابق اس مرد کی بیوی پر محض چار مہینے گزر جانے سے طلاق نہیں پڑے گی بلکہ ایلاء کرنیوالے کو ٹھہرایا جائے گا یعنی حاکم وقاضی اس کو محبوس کرے گا اور اس سے یہ کہے گا کہ یا تو اپنی عورت سے رجوع کرو یعنی اس سے جماع کرلو اور اپنی قسم پوری نہ کرنے کا کفارہ دو یا اپنی بیوی کو طلاق دیدو۔ چناچہ حضرت امام مالک حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد کا مسلک یہی ہے نیز حضرت امام شافعی یہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ مرد حاکم وقاضی کی اس بات پر عمل نہ کرے یعنی نہ تو عورت سے رجوع کرے اور نہ طلاق دے تو حاکم کو اختیار ہے کہ وہ اس کی بیوی کو طلاق دیدے۔ اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اس صورت میں اگر اس مرد نے چار مہینے کے اندر اپنی بیوی سے جماع کرلیا تو اس کا ایلاء ساقط ہوجائے گا۔ مگر اس پر قسم پوری نہ کرنے کا کفارہ لازم آئے گا اور اگر اس نے جماع نہ کیا یہاں تک کہ چار مہینے گزر گئے تو اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن پڑھ جائے گی ایلاء کے دیگر مسائل اور اس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔
وعن أبي سلمة : أن سلمان بن صخر ويقال له : سلمة بن صخر البياضي جعل امرأته عليه كظهر أمه حتى يمضي رمضان فلما مضى نصف من رمضان وقع عليها ليلا فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر له فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعتق رقبة قال : لا أجدها قال : فصم شهرين متتابعين قال : لا أستطيع قال : اطعم ستين مسكينا قال : لا أجد فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لفروة بن عمرو : أعطه ذلك العرق وهو مكتل يأخذ خمسة عشر صاعا أو ستة عشر صاعا ليطعم ستين مسكينا . رواه الترمذي
اور حضرت ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک صحابی سلمان ابن صخر نے کہ جن کو سلمہ ابن صخر بیاضی کہا جاتا تھا اپنی بیوی کو اپنے لئے اپنی ماں کی پشت کی مانند قرار دیا تاوقتیکہ رمضان ختم ہو (یعنی انہوں نے بیوی سے یوں کہا کہ ختم رمضان تک کے لئے تو مجھ پر میری ماں کی پشت کے مثل ہے گویا اس طرح انہوں نے اپنی بیوی کو رمضان کے ختم تک کے لئے اپنے اوپر حرام قرار دیا) مگر ابھی آدھا ہی رمضان گزرا تھا کہ انہوں نے اسی رات اپنی بیوی سے صحبت کرلی پھر جب صبح ہوئی تو وہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ ماجرا بیان کیا آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایک غلام آزاد کرو انہوں نے عرض کیا کہ میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا دو مہینے یعنی پے درپے روزے رکھو انہوں نے عرض کیا کہ مجھ میں اتنی طاقت نہیں ہے کیونکہ حکم الٰہی تو یہ ہے کہ دو مہینے مسلسل اس طرح روزے رکھے جائیں کہ ان مہینوں میں جماع سے کلیۃ اجتناب کیا جائے اور میں اپنے جنسی ہیجان کی وجہ سے اتنے دنوں تک جماع سے باز نہیں رہ سکتا) آنحضرت ﷺ نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ! انہوں نے عرض کیا میں اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا، آنحضرت ﷺ نے ایک اور صحابی حضرت فروہ ابن عمرو سے فرمایا کہ ان کو کھجوروں کا فرق دیدو فرق کھجور کے درخت کے پتوں سے بنے ہوئے تھیلے چھابے) کو کہتے ہیں جس میں پندرہ صاع یا سولہ صاع (یعنی تقریبا ساڑھے باون سیریا چھپن سیر) کھجور سماتی ہیں ( ترمذی ابوداؤد) اور دارمی نے اس روایت کو سلیمان ابن یسار سے اور انہوں نے حضرت سلمہ ابن صخر سے اسی طرح نقل کیا ہے جس میں حضرت سلمہ کے یہ الفاظ بھی ہیں کہ میں اپنی عورتوں سے اس قدر قربت کیا کرتا تھا کہ کوئی اور شخص میری برابر قربت نہیں کرتا تھا چناچہ جنسی ہیجان کے اتنے زیادہ غلبہ ہی کی وجہ سے میں اپنی بیوی سے صحبت کرنے سے نہ رک سکا) اور ان دونوں میں یعنی ابوداؤد اور دارمی کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ فرمانے کی جگہ یہ فرمایا کہ ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق کھجوریں کھلاؤ۔
تشریح
اس حدیث میں ظہار کا حکم بیان کیا گیا ہے ظہار اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو اس اس کے جسم کے کسی ایسے حصے کو کہ اس کو بول کر پورا بدن مراد لیا جاتا ہو اور یا اس کے جسم کے کسی ایسے حصہ کو جو شائع غیر متعین ہو محرمات ابدیہ یعنی ماں بہن اور پھوپھی وغیرہ) کے جسم کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دے جس کی طرف نظر کرنا حلال نہ ہو جیسے وہ اپنی بیوی سے یوں کہے کہ تم مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح حرام ہو یا تمہارا سر یا تمہارے بدن کا نصف حصہ میری ماں کی پیٹھ یا پیٹ کے مانند ہے یا میری ماں کی ران کے مانند ہے یا میری بہن یا میری پھوپھی کی پیٹھ کے مانند ہے اس طرح کہنے سے اس بیوی سے جماع کرنا یا ایسا کوئی بھی فعل کرنا جو جماع کا سبب بنتا ہے جیسے مساس کرنا یا بوسہ لینا اس وقت تک کے لئے حرام ہوجاتا ہے جب تک کہ کفارہ ظہار ادا نہ کردیا جائے اور اگر کسی شخص نے کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کرلیا تو اس پر پہلے کفارہ کے علاوہ کچھ اور واجب نہیں ہوگا ہاں اسے چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے اور پھر جب تک کفارہ ادا نہ کرے دوبارہ جماع نہ کرے۔ یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ کہ ظہار صرف بیوی سے ہوتا ہے اور بیوی خواہ آزاد عورت ہو اور خواہ کسی کی لونڈی ہو اسی طرح خواہ وہ مسلمان ہو یا کتابیہ یعنی عیسائی و یہودی ہو ظہار کے باقی مسائل فقہ کی کتابوں میں دیکھنے چاہئیں۔ علامہ طیب فرماتے ہیں کہ حدیث الفاظ (حتی یمضی رمضان) (جب تک کہ رمضان ختم ہو) کہ ظاہر موقت صحیح ہوجاتا ہے اور قاضی خان نے کہا ہے کہ جب کوئی شخص موقت یعنی کسی متعین مدت وعرصہ کے لئے ظہار کرتا ہے تو وہ اسی وقت ظہار کرنیوالا ہوجاتا ہے اور جب وہ متعینہ عرصہ گزر جاتا ہے تو ظہار باطل ہوجاتا ہے۔ محقق علام حضرت ابن ہمام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ظہار کرے اور مثلا جمعہ کے دن استثناء کر دے تو صحیح نہیں ہوتا اور اگر ایک دن یا ایک مہینہ کے لئے ظہار کر دے (یعنی کسی مدت متعین کے لئے ظہار کرے) تو اس مدت کی قید لگانی صحیح ہے اور پھر اس مدت کے گزرے جانے کے بعد ظہار باقی نہیں رہتا۔ حدیث (اطعم ستین مسکینا) یعنی ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ سے دونوں باتیں مراد تھیں کہ یا تو تم ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلا دو یا ان میں سے ہر ایک کو صدقہ فطر کی مقدار کے برابر کچا اناج یا اس کی قیمت دیدو اور جس طرح کفارہ ادا کرنے کے لئے غلام آزاد کرنے کی صورت میں جماع سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا ضروری ہے یا کفارہ ادا کرنے کے لئے دو مہینے کے روزے رکھنے کی صورت میں جماع سے پہلے دو مہینے مسلسل روزے رکھنا ضروری ہے اس طرح ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا بھی جماع کرنے سے پہلے ضروری ہے۔ حدیث کے اس جملہ تاکہ یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دیں کے بارے میں بظاہر ایک اشکال پیدا ہوسکتا ہے وہ یہ کہ آپ ﷺ نے ساٹھ مسکینوں کو کھلانے کے لئے حضرت سلمہ ابن صخر کو جو کھجوریں دلائیں ان کی مقدار خود روایت کی وضاحت کے مطابق پندرہ یا سولہ صاع تھی اس سے معلوم ہوا کہ ہر مسکین کو ایک ایک صاع دینا واجب نہیں ہے جب کہ فقہ کی کتابوں میں یہ لکھا ہے کہ اگر کھجوریں دی جائیں تو صدقہ فطر کی قدار کے برابر یعنی ایک ایک صاع دی جائیں۔ گویا حدیث کے اس جملہ اور فقہی حکم میں تعارض واقع ہوگیا لیکن اگر اس جملہ کا یہ ترجمہ کیا جائے گا کہ تاکہ یہ ان کھجوروں کو ساٹھ مسکینوں کو کھلانے میں صرف کردیں۔ تو پھر کوئی تعارض باقی نہیں رہے گا کیونکہ اس طرح اس ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کھجوروں میں اپنے پاس سے بھی کھجوریں ملا کر ساٹھ مسکینوں میں تقسیم کردو۔ اس کے علاوہ ابوداؤد دارمی کی دوسری روایت کے یہ الفاظ کہ ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق کھجوریں کھلاؤ) بھی اس بات کی دلیل ہیں کہ اس جملہ سے یہ مراد نہیں ہے کہ صرف یہی کھجوریں ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ بلکہ مراد یہ ہے کہ ان کھجوروں میں اپنے پاس سے کھجوریں ملا کر ایک وسق کی مقدار پوری کرلو اور پھر ہر ایک مسکین کو ایک ایک صاع کھجور دے دو واضح رہے کہ ایک وسق ساٹھ صاع کے برابر ہوتا ہے۔
اگراظہار کرنیوالا کفارہ دینے سے پہلے جماع کرلے تب بھی ایک ہی کفارہ واجب ہوگا
وعن سليمان بن يسار عن سلمة بن صخر عن النبي صلى الله عليه و سلم في المظاهر يواقع قبل أن يكفر قال : كفارة واحدة . رواه الترمذي وابن ماجه عن عكرمة عن ابن عباس : أن رجلا ظاهر من امرأته فغشيها قبل أن يكفر فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له فقال : ما حملك على ذلك ؟ قال : يا رسول الله رأيت بياض حجليها في القمر فلم أملك نفسي أن وقعت عليها فضحك رسول الله صلى الله عليه و سلم وأمره أن لا يقربها حتى يكفر . رواه ابن ماجه . وروى الترمذي نحوه وقال : هذا حديث حسن صحيح غريب وروى أبو داود والنسائي نحوه مسندا ومرسلا وقال النسائي : المرسل أولى بالصواب من المسند
اور حضرت سلیمان ابن یسار تابعی حضرت سلمہ ابن صخر سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس ظہار کرنیوالے کے بارے میں کہ جو کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کرلے فرمایا کہ اس پر ایک ہی کفارہ واجب ہوگا ( ترمذی ابن ماجہ)
تشریح
اکثر علماء کا یہی مسلک ہے کہ اگر کوئی شخص ظہار کرے اور پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کرلے تو اس پر بھی ایک ہی کفارہ واجب ہوگا لیکن بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کرلینے کی صورت میں دو کفارے واجب ہوجاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی ایک سے زائد دو یا تین اور چار بیویوں سے ظہار کرے یعنی ان سب سے یوں کہے کہ تم سب مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی مانند حرام ہو تو اس صورت میں متفقہ طور پر تمام علماء یہ کہتے ہیں کہ وہ شخص ان سب سے ظہار کرنیوالا ہوجاتا ہے البتہ اس بارے میں اختلافی اقوال ہیں کہ اس پر کفارہ ایک واجب ہوگا یا کئی واجب ہوں گے۔ چنانچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام شافعی کے نزدیک تو اس پر کئی کفارے واجب ہونگے یعنی وہ ان بیویوں میں سے جس کسی کے ساتھ بھی جماع کا ارادہ کرے گا پہلے کفارہ ادا کرنا واجب ہوگا حسن، زہری اور ثوری وغیرہ کا بھی یہی قول ہے جبکہ حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد یہ فرماتے ہیں کہ اس پر ایک ہی کفارہ واجب ہوگا یعنی وہ پہلے ایک کفارہ ادا کر دے اس کے بعد ہر بیوی کے ساتھ جماع کرنا جائز ہوگا۔ حضرت عکرمہ، حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کرلیا اس کے بعد وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے یہ واقعہ ذکر کیا آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر آمادہ کیا یعنی کیا وجہ پیش آئی کہ تم کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کر بیٹھے اس نے عرض کیا کہ چاندنی میں اس کی پازیب کی سفیدی پر میری نظر پڑگئی اور میں جماع کرنے سے پہلے اپنے آپ کو نہ روک سکا۔ یہ سن کر آنحضرت ﷺ ہنس دیئے۔ اور اس کو یہ حکم دیا کہ اب دوبارہ اس سے اس وقت تک جماع نہ کرنا جب تک کفارہ ادا نہ کرو (ابن ماجہ، ) ترمذی نے بھی اسی طرح کی یعنی اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، نیز ابوداؤد اور نسائی نے اس طرح کی روایت مسند اور مرسل نقل کی ہے اور نسائی نے کہا ہے کہ مسند کی بہ نسبت مرسل زیادہ صحیح ہے۔
کفارہ ظہار میں جو بردہ آزاد کیا جائے اس کا مؤمن ہونا ضروری ہے یا نہیں؟
عن معاوية بن الحكم قال : أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله إن جارية كانت لي ترعى غنما لي فجئتها وقد فقدت شاة من الغنم فسألتها عنها فقالت : أكلها الذئب فأسفت عليها وكنت من بني آدم فلطمت وجهها وعلي رقبة أفأعتقها ؟ فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم : أين الله ؟ فقالت : في السماء فقال : من أنا ؟ فقالت : أنت رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعتقها . رواه مالك وفي رواية مسلم قال : كانت لي جارية ترعى غنما لي قبل أحد والجوانية فاطلعت ذات يوم فإذا الذئب قد ذهب بشاة من غنمنا وأنا رجل من بني آدم آسف كما يأسفون لكن صككتها صكة فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فعظم ذلك علي قلت : يا رسول الله أفلا أعتقها ؟ قال : ائتني بها ؟ فأتيته بها فقال لها : أين الله ؟ قالت : في السماء قال : من أنا ؟ قالت : أنت رسول الله قال : أعتقها فإنها مؤمنة
حضرت معاویہ ابن حکم کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میری ایک لونڈی ہے جو میرا ریوڑ چراتی ہے میں جب اس کے پاس گیا اور ریوڑ میں اپنی بکری کم پائی تو میں نے اس بکری کے بارے میں پوچھا کہ کیا ہوئی؟ اس نے کہا کہ بھیڑیا لے گیا مجھ کو اس پر غصہ آگیا اور چونکہ میں بنی آدم میں سے ہوں یعنی ایک انسان ہوں اور انسان بتقاضائے بشریت مغلوب الغضب ہوجاتا ہے اس لئے میں نے اس لونڈی کے منہ پر ایک تھپڑ مار دیا اور اس وقت کفارہ ظہار یا کفارہ قسم کے طور پر اور یا کسی اور سبب سے مجھ پر ایک بردہ یعنی ایک لونڈی یا ایک غلام آزاد کرنا واجب ہے تو کیا میں اس لونڈی کو آزاد کر دوں تاکہ میرے ذمہ سے وہ کفارہ بھی ادا ہوجائے اور اس کو تھپڑ مار دینے کیوجہ سے میں جس ندامت و شرمندگی میں میں مبتلا ہوں اس سے بھی نجات پا جاؤں آنحضرت ﷺ نے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ اس نے کہا کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس کو آزاد کردو (مالک) مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت معاویہ نے کہا کہ میری ایک لونڈی تھی جو احد پہاڑ اور جوانیہ کے اطراف میں میرا ریوڑ چرایا کرتی تھی جوانیہ احد پہاڑ کے قریب ہی ایک جگہ کا نام ہے ایک دن جو میں نے اپنا ریوڑ دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ بھیڑیا میری ایک بکری کو ریوڑ میں سے اٹھا کرلے گیا ہے میں بنی آدم کا ایک مرد ہوں اور جس طرح کسی نقصان واتلاف کی وجہ سے اولاد آدم کو غصہ آجاتا ہے اسی طرح مجھے بھی غصہ آگیا ( چناچہ اس غصہ کی وجہ سے میں نے چاہا کہ اس لونڈی کو خوب ماروں لیکن میں اس کو ایک ہی تھپڑ مار کر رہ گیا پھر میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کے سامنے یہ سارا ماجرا بیان کیا آنحضرت ﷺ نے اس واقعہ کو میرے حق میں ایک امر اہم جانا اور فرمایا کہ تم نے یہ بڑا گناہ کیا ہے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! تو کیا میں اس لونڈی کو آزاد کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو میرے پاس بلاؤ میں لونڈی کو آنحضرت ﷺ کے پاس بلا لایا، آنحضرت ﷺ نے اس سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے اس نے جواب دیا کہ آسمان میں پھر آپ ﷺ نے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ اس نے کہا کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس لونڈی کو آزاد کردو کیونکہ یہ مسلمان ہے۔
تشریح
اس باب میں اس حدیث کو نقل کرنے سے مصنف کتاب کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ ظہار میں بطور کفارہ جو بردہ یعنی غلام یا لونڈی آزاد کیا جائے اس کا مسلمان ہونا ضروری ہے چناچہ حضرت امام شافعی کا مسلک یہی ہے لیکن حنفی مسلک میں چونکہ یہ ضروری نہیں ہے اس لئے حنفیہ اس حدیث کو فضیلت پر محمول کرتے ہیں یعنی ان کے نزدیک اس حدیث کی مراد صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ کفارہ ظہار میں آزاد کیا جانیوالا بردہ اگر مسلمان ہو تو یہ افضل اور بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ ان الفاظ کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کا مقصد اللہ تعالیٰ کے مکان کے بارے میں سوال نہیں تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ تو مکان وزمان سے پاک ہے بلکہ اس موڑ پر آنحضرت ﷺ کا مقصد یہ سوال کرنا تھا کہ بتاؤ اللہ تعالیٰ کا حکم کہاں جاری وساری ہے اور اس کی بادشاہت وقدرت کس جگہ ظاہر و باہر ہے اور اس سوال کی ضرورت یہ تھی کہ اس وقت عرب کے کفار بتوں ہی کو معبود جانتے تھے اور جاہل لوگ ان بتوں کے علاوہ اور کسی کو معبود نہیں مانتے تھے لہذا آپ ﷺ نے یہ جاننا چاہا کہ آیا یہ لونڈی موحدہ یا مشرکہ ہے گویا آپ ﷺ کی مراد دراصل ان بیشمار معبودوں کی نفی کرنی تھی جو زمین پر موجود تھے نہ کہ آسمان کو اللہ تعالیٰ کا مکان ثابت کرنا تھا چناچہ جب اس لونڈی نے مذکورہ جواب دیا تو آنحضرت ﷺ کو معلوم ہوگیا کہ یہ موحدہ ہے مشرکہ نہیں ہے۔ مالک کی روایت میں تو حضرت معاویہ سے یہ نقل کیا گیا ہے کہ ایک بردہ آزاد کرنا مجھ پر کسی اور سبب سے واجب ہے تو کیا میں اس لونڈی کو آزاد کر دوں تاکہ وہ کفارہ بھی ادا ہوجائے جو واجب ہے اور اس کو مارنے کی وجہ سے مجھے جو پشیمانی اور شرمندگی ہے وہ بھی جاتی رہے لیکن مسلم نے جو روایت نقل کی ہے اس کے الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ نے اس لونڈی کو محض اس وجہ سے آزاد کرنا چاہا کہ انہوں نے اس کو غصہ میں مار دیا تھا۔ گویا دونوں روایتوں کے مفہوم میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو ان دونوں میں قطعا کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ مالک کی روایت میں تو اس مفہوم کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ یوں تو کسی اور سبب سے مجھ پر بردہ آزاد کرنا واجب ہے لیکن مارنے کی وجہ سے بھی اس کو آزاد کرنا میرے لئے ضروری ہوگیا ہے تو اگر میں اس کو آزاد کر دوں تو ان دونوں سبب کا تقاضا پورا ہوجائے گا اس کے برخلاف مسلم کی روایت اس بارے میں مطلق ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں باتوں پر محمول کیا جاسکتا ہے لہذا یہی کہا جائے گا کہ مسلم کی روایت کا مطلق مفہوم مالک کی روایت کے مقید مفہوم پر محمول ہے یعنی مسلم کی روایت کے الفاظ کا مطلب بھی وہی ہے جو مالک کی روایت کے الفاظ کا ہے کہ اگر میں اس لونڈی کو آزاد کر دوں تو کیا دونوں سبب پورے ہوجائیں گے یا نہیں؟ کفارہ ظہار کے کچھ مسائل حنفی مسلک کے مطابق ظہار کے کفارہ میں سب سے پہلا درجہ بردہ لونڈی یا غلام) کو آزاد کرنے کا ہے بردہ خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلمان مرد ہو یا عورت چھوٹا ہو یا بڑا اور خواہ کانا ہو بہرا ہو لیکن اسی قدر بہرا ہو کہ اگر اس کو بآواز بلند مخاطب کیا جائے تو سن لے اور اگر کوئی ایسا بردہ ہو کہ اس کا ایک ہاتھ اور ایک پیر کٹا ہوا ہو تو اس کو آزاد کرنا بھی درست ہوگا بشرطیکہ یہ دونوں عضو مختلف جانب کے کٹے ہوئے ہوں مثلا اگر دایاں ہاتھ کٹا ہوا ہو تو پیر بایاں کٹا ہوا ہو اسی طرح اس مکاتب کو آزاد کرنا بھی درست ہے جس نے اپنا بدل کتابت کچھ بھی ادا نہ کیا ہو۔ جو بردہ گونگا ہو یا ایسا بہرا ہو کہ سرے سے کچھ سن ہی نہ سکتا ہو (خواہ اسے کتنی ہی بلند آواز میں مخاطب کیا جائے) تو اس کو آزاد کرنے سے کفارہ ظہار ادا نہیں ہوگا اسی طرح جس بردہ کے دونوں ہاتھ کٹے ہوئے ہوں یا دونوں پیر یا دونوں پیروں کے دونوں انگوٹھے کٹے ہوئے ہوں یا ایک ہاتھ اور ایک پیر دونوں ایک ہی طرف کے کٹے ہوئے ہوں مثلا دایاں ہاتھ بھی کٹا ہوا ہو اور دایا پیر بھی کٹا ہوا ہو تو ایسے بردہ کو آزاد کرنا بھی کافی نہیں ہوگا ایسا بردہ جو مجنون ہو یعنی جس پر ہمیشہ دیوانگی طاری رہتی ہو یا جو مدبریا ام ولد ہو یا ایسا مکاتب ہو جس نے بدل کتابت میں سے کچھ ادا کردیا ہو تو ان میں سے بھی کسی کو آزاد کرنے سے کفارہ ظہار ادا نہیں ہوگا۔ دوسرا درجہ پے درپے روزے رکھنے کا ہے یعنی اگر ظہار کرنیوالے کو بردہ نہ ملے تو پھر وہ دو مہینے مسلسل روزے رکھے اس طور پر کہ ان دونوں مہینوں میں نہ تو رمضان کا مہینہ آئے اور نہ وہ دن آئیں جن میں روزہ رکھنا ممنوع ہے جیسے عید اور بقرہ عید کا دن اور ایام تشریق اور جب تک روزے ختم نہ ہوجائیں یعنی دو مہینے کے مسلسل روزے پورے نہ ہوجائیں) تب تک عورت سے صحبت نہ کرے اگر روزے ختم ہونے سے پہلے اس عورت سے کہ جس سے ظہار کیا ہے صحبت کرلی تو اب سب روزے پھر سے رکھے چاہے دن میں اس عورت سے صحبت کی ہو یا رات میں اور چاہے قصدا ایسا کیا ہو یا بھولے سے سب کا ایک ہی حکم ہے اسی طرح اگر کسی عذر کی وجہ سے یا بلاعذر روزہ افطار کرلیا تو بھی ازسرنو سب روزے رکھے۔ تیسرا درجہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا ہے یعنی اگر کوئی شخص مذکورہ بالا شرائط وقیود کے ساتھ روزے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو پھر وہ ساٹھ مسکینوں اور فقیروں کو دو وقت کا کھانا کھلائے یا ان کو کچا اناج دیدے کچا اناج دینے کی صورت میں یہ ہے کہ ہر مسکین و فقیر کو نصف صاع پونے دو سیر یعنی ایک کلو ٦٢٣ گرام گیہوں یا ایک صاع ساڑھے تین سیر یعنی تین کلو ٦٦ ب ٢ گرام جو یا کھجوریں یا ان میں سے کسی ایک مقدر کی قمیت دیدے اسی طرح اگر ان میں سے کوئی چیز دینے کی بجائے دو چیزیں دی جائیں تو بھی جائز ہے مثلا چودہ چھٹانک یعنی ٨١٧ گرام گیہوں کے ساتھ پونے دو سیر یعنی ایک کلو ٦٣٣ گرام جو دیا جاسکتا ہے۔ کفارہ میں اباحت جائز ہے اباحت کا مطلب یہ ہے کہ کھانا پکا کر فقیر کے سامنے رکھ دیا جائے تاکہ وہ اس میں سے جس قدر کھانا چاہے کھالے چناچہ یہ اباحت کفارات اور رمضان کے روزے کے بدلے میں دیئے جانیوالے) فدیہ میں تو جائز ہے لیکن صدقات واجبہ مثلا زکوٰۃ وغیرہ میں جائز نہیں ہے کیونکہ صدقات واجبہ یعنی زکوٰۃ وغیرہ میں فقیر کو مال کا مالک بنادینا ضروری ہے اس وضاحت کے بعد اب سمجھئے کہ ظہار کے کفارہ میں ساٹھ مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے خواہ ایک ہی دن میں دو وقت یعنی دوپہر اور رات میں کھلا دیا جائے۔ اسی طرح کھلانے میں پیٹ بھرنے کا اعتبار ہے خواہ کتنے ہی تھوڑے کھانے میں ان کا پیٹ بھر جائے جہاں تک کھانے کی نوعیت کا سوال ہے تو اس کا انحصار کھلانے والے کی حیثیت واستطاعت پر ہے کہ وہ جیسا کھانا کھلا سکتا ہو کھلائے اگر کھانے میں جو کی روٹی ہو تو اس کے ساتھ سالن ہونا ضروری ہے البتہ گیہوں کی روٹی کے ساتھ سالن ضروری نہیں ہے اگر دو وقت ساٹھ فقیروں کو کھلانے کی بجائے ایک ہی فقیر کو ساٹھ دن تک دونوں وقت کھلائے تو بھی جائز ہے لیکن ایک ہی فقیر کو ایک ہی دن ساٹھ فقیروں کا کھانا دیدیا تو یہ جائز نہیں ہوگا اس صورت میں صرف ایک ہی دن کا ادا ہوگا۔ ظہار کرنیوالے نے اگر کھانا کھلانے کے درمیان جماع کرلیا تو اس صورت میں اگرچہ وہ گنہگار ہوگا مگر ازسرنو کھانا کھلانا نہ پڑے گا اگر کسی شخص پر دو ظہار کے دو کفارے واجب ہوں اور وہ ساٹھ فقیروں کو مثلا گیہوں نصف صاع فی کفارہ کا اعتبار کر کے ایک ایک صاع دے تو دونوں ظہار کا کفارہ ادا نہیں ہوگا بلکہ ایک ہی ظہار کا کفارہ ادا ہوگا۔ ہاں اگر کسی شخص پر ایک ایک کفارہ تو ظہار کا اور ایک کفارہ روزہ توڑنے کا واجب ہو اور وہ ہر فقیر کو ایک ایک صاع گیہوں دے تو یہ جائز ہوگا اور دونوں کفارے ادا ہوجائیں گے۔
لعان کے معنی و تعریف لعان اور ملاعنہ کے معنی ہیں ایک دوسرے پر لعنت کرنا، شرعی اصطلاح میں لعان اس کو کہتے ہیں کہ جب شوہر اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے یا جو بچہ پیدا ہو اس کے بارے میں یہ کہے کہ یہ میرا نہیں نہ معلوم کس کا ہے اور بیوی اس سے انکار کرے اور کہے کہ تم مجھ پر تہمت لگا رہے ہو پھر وہ قاضی اور شرعی حاکم کے پاس فریاد کرے قاضی شوہر کو بلا کر اس الزام کو ثابت کرنے کے لئے کہے چناچہ اگر شوہر گواہوں کے ذریعہ ثابت کر دے تو قاضی اس کی بیوی پر زنا کی حد جاری کرے اور اگر شوہر چار گواہوں کے ذریعہ الزام ثابت نہ کرسکے تو پھر قاضی پہلے شوہر کو اس طرح کہلائے کہ میں اللہ کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ میں نے جو زنا کی نسبت اس کی طرف کی ہے اس میں سچا ہوں عورت کی طرف اشارہ کر کے چار دفعہ شوہر اسی طرح کہے پھر پانچویں دفعہ مرد کی طرف اشارہ کر کے یوں کہے کہ اس مرد نے میری طرف جو زنا کی نسبت کی ہے اگر اس میں یہ سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب ٹوٹے۔ جب دونوں اس طرح ملاعنت کریں تو حاکم دونوں میں جدائی کرا دے گا اور ایک طلاق بائن پڑھ جائے گی اور وہ عورت اس مرد کے لئے ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی ہاں اگر اس کے بعد مرد خود اپنے کو جھٹلائے یعنی یہ اقرار کرلے کہ میں نے عورت پر جھوٹی تہمت لگائی تھی تو اس صورت میں اس پر حد تہمت جاری کی جائے گی اور عورت سے پھر نکاح کرنا اس کے لئے درست ہوجائے گا لیکن حضرت امام ابویوسف یہ فرماتے ہیں کہ اگر مرد خود اپنے کو جھٹلائے تب بھی عورت اس کے لئے ہمیشہ کو حرام رہے گی۔
دربار رسالت میں لعان کا ایک واقعہ
عن سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنه قال : إن عويمر العجلاني قال : يا رسول الله أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلا أيقتله فيقتلونه ؟ أم كيف أفعل ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قد أنزل فيك وفي صاحبتك فاذهب فأت بها قال سهل : فتلاعنا في المسجد وأنا مع الناس عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما فرغا قال عويمر : كذبت عليها يا رسول الله إن أمسكتها فطلقتها ثلاثا ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : انظروا فإن جاءت به اسحم ادعج العينين عظيم الأليتين خدلج الساقين فلا أحسب عويمر إلا قد صدق عليها وإن جاءت به أحيمر كأنه وحرة فلا أحسب عويمرا إلا قد كذب عليها فجاءت به على النعت الذي نعت رسول الله صلى الله عليه و سلم من تصديق عويمر فكان بعد ينسب إلى أمه
حضرت سہل ابن سعد ساعدی کہتے ہیں کہ ایک صحابی عویمر عجلانی نے دربار رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! اس شخص کے بارے میں بتائیے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو پائے اور اسے یہ یقین ہو کہ اس مرد نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کیا ہے کیا وہ اس مرد کو قتل کر ڈالے؟ اگر وہ اس کو مار ڈالے گا تو مقتول کے وارث اس کو قتل کردیں گے ایسی صورت میں وہ کیا کرے آیا اس عار پر صبر کرے یا کوئی اقدام کرے) رسول کریم ﷺ نے یہ سن کر اس سے فرمایا کہ تم میاں بیوی کے قضیہ میں و حی نازل کی گئی ہے جاؤ اپنی بیوی کو بلا لاؤ حضرت سہل کہتے ہیں کہ عویمر اپنی بیوی کو بلا لائے اور میاں بیوی نے مسجد نبوی میں لعان کیا اور میں بھی اس وقت دوسرے لوگوں کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے پاس ہی موجود تھا چناچہ جب وہ دونوں میاں بیوی لعان سے فارغ ہوئے تو عویمر (یعنی میاں نے کہا کہ اگر میں اس عورت کو اپنے پاس رکھوں تو گویا میں نے اس پر تہمت لگائی ہے اس کے بعد انہوں نے اس عورت کو تین بار طلاق دی پھر رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر یہ عورت اپنے موجودہ حمل سے ایسا بچہ جنے جس کا رنگ سیاہ آنکھیں بہت کالی ہوں کو ل ہے بڑے ہوں اور دونوں پنڈلیوں کا گوشت بھرا ہو تو میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں سمجھوں گا کہ عویمر نے اس عورت کے بارے میں جو کہا ہے وہ سچ کہا ہے کیونکہ عویمر نے جس مرد کی طرف زنا کی نسبت کی وہ اسی رنگ و صورت کا ہے اور جب اسی کی شباہت کا بچہ پیدا ہوگا تو یہی کہا جائے گا کہ وہ اسی کے نطفہ سے ہے اور اگر اس عورت نے ایسا بچہ جنا جس کا رنگ سرخ ہو اور بامنی کے رنگ کا معلوم ہوتا ہو تو پھر میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں سمجھوں گا کہ عویمر نے اس کے بارے میں جھوٹ بولا ہے یعنی عویمر چونکہ سرخ رنگ کے ہیں اس لئے بچہ کی رنگت بھی سرخ ہوئی تو سمجھا جائے گا کہ بچہ عویمر ہی کے نطفہ سے ہے اور عویمر نے اپنی بیوی کو جھوٹی تہمت لگائی ہے) چناچہ جب اس عورت کا بچہ پیدا ہوا تو وہ اسی صورت کا تھا جس کو رسول کریم ﷺ نے عویمر کی تصدیق کے لئے ذکر کیا تھا (یعنی وہ بچہ اسی مرد کی شباہت کا تھا جس کی طرف سے عویمر نے زنا کی نسبت کی تھی گویا عویمر کی بات سچ ثابت ہوئی اس کے بعد وہ بچہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے مطابق) اپنی ماں کی طرف منسوب کیا گیا ( بخاری ومسلم)
تشریح
اگر کوئی شخص کسی غیر مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ منہ کالا کرتا ہوا پائے اور وہ شخص اس مرد کو جان سے مار ڈالے تو اس کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ آیا وہ شخص جس نے اپنی بیوی کے ساتھ منہ کالا کرنے والے کو جان سے مار ڈالا ہے) اسلامی قانون کے مطابق قصاص یعنی سزائے موت کا مستوجب ہے یا نہیں؟ چناچہ جمہور علماء کا قول یہی ہے کہ اس کو سزائے موت دی جائے ہاں اگر وہ شخص اس بات کے ثبوت میں کہ مقتول نے اس کی بیوی کے ساتھ منہ کالا کیا تھا چار گواہ پیش کر دے یا خود مقتول کے ورثاء اس بات کا اقرار کرلیں تو اس صورت میں اس کو سزائے موت نہیں دی جائے گی تاہم یہ ملحوظ رہے کہ اگر چار پیش نہ کرنے یا مقتول کے ورثاء کے اقرار نہ کرنے کی صورت میں اسے سزائے موت دے دی گئی تو واقع کے اعتبار سے وہ سچا تھا تو اللہ کے نزدیک گنہگار نہیں سمجھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس مسئلہ میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ہیں۔ ا یت (وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَا ءُ اِلَّا اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍ بِاللّٰهِ اِنَّه لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔ وَالْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَيْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ ) 24۔ النور 7-6) اور جو لوگ اپنی بیویں پر زنا کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس بجز اپنے ہی دعوی کے اور کوئی گواہ نہ ہو تو ان کی شہادت جو کہ ان کو حد قذف سے بچا سکتی ہے یہی ہے وہ چار بار اللہ کی قسم کھا کر یہ کہہ دے بیشک میں سچا ہوں اور پانچویں بار یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں (آخرتک) بعض مفسرین کے قول کے مطابق یہ آیات کریمہ ٩ ھ کے ماہ شعبان میں نازل ہوئیں ہیں ابن ملک فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ لعان کے بارے میں مذکورہ بالا آیت حضرت عویمر کے واقعہ پر نازل ہوئی ہے اور اسلام میں سب سے پہلا لعان انہی کی طرف سے ہوا تھا جب کہ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت ایک دوسرے صحابی حضرت ہلال ابن امیہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی اور اسلام میں سب سے پہلے ہلال ہی نے لعان کیا ہے چناچہ آگے حضرت ابن عباس کی جو روایت آئے گی اس سے یہی ثابت ہوتا ہے لہذا اس صورت میں ارشاد گرامی تم میاں بیوی کے قضیہ میں وحی نازل کی گئی ہے کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہارے قضیہ جیسے ایک قضیہ میں وحی نازل کی گئی ہے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ یہ بھی احتمال ہے کہ یہ آیت دونوں ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہو جس کی صورت یہ ہوئی ہوگی کہ پہلے ان میں سے کسی ایک نے آنحضرت سے اپنے بارے میں سوال کیا ہوگا پھر بعد میں دوسرے کا قضیہ پیش آیا ہوگا اور اس نے بھی آنحضرت ﷺ سے سوال کیا ہوگا یہاں تک کہ ان دونوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی لیکن ان دونوں میں حضرت ہلال نے پہلے لعان کیا۔ گویا میں نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے یہ حضرت عویمر نے دراصل تین طلاق دینے کا سبب بیان کیا ہے کہ اس صورت حال کے بعد بھی اگر میں اس عورت کو اپنے نکاح میں رکھو اور طلاق نہ دوں تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ میں نے اس کی طرف زنا کی جھوٹی نسبت کی ہے کیونکہ اس کو نکاح میں رکھنے کا مطلب یہی ہوگا کہ گویا میں نے جو کچھ کہا ہے سب جھوٹ ہے اور یہ عورت بدکاری کے گناہ سے پاک ہے۔
لعان کی صورت میں میاں بیوی کے درمیان تفریق کا مسئلہ
وعن ابن عمر رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه و سلم لاعن بين رجل وامرأته فانتقى من ولدها ففرق بينهما وألحق الولد بالمرأة . متفق عليه . وفي حديثه لهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعظه وذكره وأخبره أن عذاب الدنيا أهون من عذاب الآخرة ثم دعاها فوعظها وذكرها وأخبرها أن عذاب الدنيا أهون من عذاب الآخرة
اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص اور اس کی بیوی کے مابین لعان کا حکم فرمایا چناچہ اس لعان کی وجہ سے وہ شخص اس عورت کے بچہ سے دور ہوگیا یعنی بچہ کا نسب اس شخص سے ہٹا دیا گیا نیز آنحضرت ﷺ نے میاں بیوی کے درمیان تفریق کرا دی اور بچہ کو عورت کے حوالے کردیا (بخاری مسلم) اور حضرت ابن عمر کی ایک روایت میں جو بخاری ومسلم ہی نے نقل کی ہے یہ الفاظ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس شخص کو نصیحت کی اور آخرت کا عذاب یاد دلایا (تاکہ وہ جھوٹ نہ بولے اور عورت اپنے الزام کو ناحق ثابت نہ کرے) اور اس کو اس بات سے آگاہ کیا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے سہل ہے پھر آپ ﷺ نے عورت کو بلایا اس کو بھی نصیحت کی اور آخرت کا عذاب یاد دلایا اور آگاہ کیا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے سہل ہے۔
تشریح
تفریق کرا دی کا مطلب یہ ہے کہ لعان کی صورت میں میاں بیوی کے درمیان تفریق جدائی حاکم وقاضی کے حکم ہی سے ہوتی ہے نہ کہ محض لعان سے چناچہ حضرت امام ابوحنیفہ کا مسلک یہی ہے نیز ان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر نفس لعان ہی سے تفریق واقع ہوجاتی تو پھر تین طلاقیں کیوں دی جاتیں جیسا کہ اوپر کی حدیث میں گزرا ہے کہ حضرت عویمر نے لعان کے بعد اپنی بیوی کو تین طلاق دی۔ دنیا کے عذاب سے مراد حد یعنی شرعی سزا ہے اس کی وضاحت یہ ہے کہ اگر مرد کسی عورت کو چاہے وہ اس کی بیوی ہی کیوں نہ ہو) زنا کی تہمت لگائے اور اس کی تہمت جھوٹی ثابت ہوجائے تو شرعی قانون کے مطابق اس پر حد جاری کی جائیگی یعنی اس کو ایک پاکدامن عورت پر زنا کی جھوٹ تہمت لگانے کے جرم میں اسی کوڑے مارے جائیں گے اور اگر وہ مرد سچا ثابت ہوجائے یعنی یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جائے کہ اس عورت نے بدکاری کرائی ہے تو پھر اس عورت پر حد جاری ہوگی کہ شادی شدہ ہونے کی صورت میں اس کو سنگسار کردیا جائے گا اور غیرشادی شدہ ہونے کی صورت میں سو کوڑے مارے جائیں گے اس صورت میں یہ امکان ہوسکتا ہے کہ مرد نے کسی غلط فہمی کی بناء پر یا کسی خاص جذبہ کے تحت عورت کو تہمت لگا دی ہو اور پھر اسے یہ یقین ہوگیا ہو کہ میں نے عورت پر جو الزام لگایا ہے وہ بےبنیاد ہے مگر اب اس خوف سے کہ ایک پاکدامن عورت پر جھوٹی تہمت لگائی تھی یا یہ کہ واقعۃ عورت نے بدکاری کرائی ہو مگر اس خوف سے کہ میں سنگسار کردی جاؤں گی یا سو کوڑے ماری جاؤں گی اپنے اس گناہ کا اعتراف و اقرار نہیں کرتی بلکہ ملاعنت پر تیار ہوجاتی ہے لہذا آنحضرت ﷺ نے اس امکانی صورت کے خلاف دونوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آخرت کے عذاب کے مقابلہ میں دنیا کا عذاب یعنی یہاں کی سزا کہیں آسان اور سہل ہے اس لئے جو صورت حال ہو اور جو سچ بات ہو اس کا اعتراف و اقرار کرلو اور اس دنیا کے آسان عذاب کو اختیار کر کے آخرت کے سخت ترین عذاب سے بچو۔
لعان کرنیوالوں کا محاسبہ آخرت میں ہوگا
وعنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال للمتلاعنين : حسابكما على الله أحدكما كاذب لا سبيل لك عليها قال : يا رسول الله مالي قال : لا مال لك إن كنت صدقت عليها فهو بما استحللت من فرجها وإن كنت كذبت عليها فذاك أبعد وأبعد لك منها
اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے لعان کرنیوالے مرد و عورت سے فرمایا ہم صرف ظاہری احوال و وجوہ کی بنیاد ہی پر کوئی حکم نافذ کرسکتے ہیں اور وہ ہم نے لعان کی صورت میں نافذ کردیا ہے البتہ) تمہارا حساب اللہ کے ہاں ہوگا کیونکہ نفس الامر اور حقیقت کے اعتبار سے تم دونوں میں سے کوئی ایک ضرور جھوٹا ہے (پھر آپ ﷺ نے مرد سے فرمایا کہ) اب عورت کے بارے میں تمہارے لئے کوئی راہ نہیں ہے (یعنی لعان کے بعد اس عورت کے ساتھ رہنا تمہارے لئے جائز نہیں ہے کیونکہ یہ تمہارے لئے ہمیشہ حرام ہوگئی ہے) مرد نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اور میرا مال یعنی میں نے اس عورت کو جو مہر دیا ہے کیا وہ مجھ سے جاتا رہے گا) اپ ﷺ نے فرمایا اس مال پر تمہارا کوئی حق نہیں ہے یعنی دیئے ہوئے مہر کو واپس لینے کا تمہیں کوئی حق نہیں ہے کیونکہ اگر تم نے اس عورت کے بارے میں سچ کہا ہے کہ یعنی تمہارے کہنے کے مطابق اگر اس عورت نے واقعۃ بدکاری کرائی ہے) تو وہ مال اس چیز کا بدلہ ہوگیا کہ تم نے اس کی شرم گاہ کو حلال کیا ہے اگر تم نے اس عورت کے بارے میں بولا ہے تو وہ اس صورت میں مہر کا واپس لے لینا اس سے بھی بعید ہے اور تم سے بھی بہت بعید ہے یعنی جب سچ کی صورت میں مہر کو واپس لینے کا تمہیں کوئی حق نہیں ہے تو جھوٹ کی صورت میں تو بدرجہ اولی تمہیں وہ مہر واپس نہ لینا چاہئے ( بخاری ومسلم)
تشریح
تمہارا حساب اللہ کے ہاں ہوگا کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں تو ہم نے تمہارے اس تنازعہ کو لعان کی صورت میں ختم کرا دیا ہے مگر تم دونوں کا حقیقی محاسبہ آخرت میں ہوگا کہ وہاں تمہارے معاملہ کی تحقیق کی جائے گی اور پھر تم میں سے جو جھوٹا ہوگا اس کو اس کی سزا اللہ تعالیٰ دے گا۔ تو وہ مال اس چیز کا بدل ہوگی الخ اس بات کی دلیل کہ لعان کرنیوالا مہر واپس نہ لے بشرطیکہ اس عورت کے ساتھ اس نے دخول کیا ہو چناچہ اس بارے میں تمام علماء کا متفقہ طور پر یہی مسلک ہے البتہ عدم دخول کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک کا قول یہ ہے کہ اگر لعان کرنیوالے نے اس عورت کے ساتھ دخول نہ کیا ہو تو اس صورت میں وہ آدھے مہر کی حقدار ہوگی۔
وعن ابن عباس : أن هلال بن أمية قذف امرأته عند النبي صلى الله عليه و سلم بشريك بن سحماء فقال النبي صلى الله عليه و سلم : البينة أو حدا في ظهرك فقال : يا رسول الله إذا رأى أحدنا على امرأته رجلا ينطلق يلتمس البينة ؟ فجعل النبي صلى الله عليه و سلم يقول : البينة وإلا حد في ظهرك فقال هلال : والذي بعثك بالحق إني لصادق فلينزلن الله ما يبرئ ظهري من الحد فنزل جبريل وأنزل عليه : ( والذين يرمون أزواجهم ) فقرأ حتى بلغ ( إن كان من الصادقين ) فجاء هلال فشهد والنبي صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله يعلم أن أحدكما كاذب فهل منكما تائب ؟ ثم قامت فشهدت فلما كانت عند الخامسة وقفوها وقالوا : إنها موجبة فقال ابن عباس : فتلكأت ونكصت حتى ظننا أنها ترجع ثم قالت : لا أفضح قومي سائر اليوم فمضت وقال النبي صلى الله عليه و سلم : أبصروها فإن جاءت به أكحل العينين سابغ الأليتين خدلج الساقين فهو لشريك بن سحماء فجاءت به كذلك فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لولا ما مضى من كتاب الله لكان لي ولها شأن . رواه البخاري
اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک صحابی ہلال ابن امیہ نے نبی کریم ﷺ کے سامنے اپنی بیوی شریک ابن سحماء صحابی کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی یعنی ہلال نے کہا کہ شریک ابن سحماء نے میری بیوی کے ساتھ زنا کیا ہے) نبی کریم ﷺ نے ہلال سے فرمایا کہ اپنے الزام کے ثبوت میں گواہ پیش کرو ورنہ جھوٹی تہمت لگانے کے جرم میں تمہاری پیٹھ پر حد جاری کی جائے گی یعنی اسی کوڑے مارے جائیں گے ہلال نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! اگر ہم میں سے کوئی کسی کو اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری میں مبتلا دیکھے تو کیا وہ گواہ ڈھونڈھنے چلا جائے؟ یعنی اول تو ایسی صورت میں اتنا موقع کہاں کہ کسی کو گواہ کرے پھر یہ کہ کسی کو گواہ کرنے کی وہ جگہ کیا ہے لیکن نبی کریم ﷺ یہی فرمائے جا رہے تھے کہ گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری کی جائے گی پھر ہلال نے عرض کیا کہ قسم ہے اس پاک ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا میں سچا ہوں مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا حکم ضرور نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو حد سے بری رکھے گا، آخر کا کچھ ہی عرصہ بعد حضرت جبرائیل تشریف لائے اور آنحضرت ﷺ پر یہ آیتیں نازل کی گئی ہیں آیت (وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ ) 24۔ النور 26) ( یعنی اور جو لوگ کہ اپنی بیویوں کو تہمت لگاتے ہیں الخ پھر اس کے بعد کی آیتوں (اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ ) 24۔ النور 26) تک تلاوت کی اس کے بعد ہلال دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور گواہی دی یعنی لعان کی جو تفصیل پیچھے بیان کی جا چکی ہے اس کے ساتھ انہوں نے پانچ مرتبہ گواہی کے ذریعہ لعان کیا اور نبی کریم ﷺ فرماتے تھے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں تم سے کوئی ایک جھوٹا ہے سو تم میں سے کون ہے جو توبہ کرے اس کے بعد ہلال کی بیوی کھڑی ہوئی اور لعان کیا یعنی چار مرتبہ اپنی پاکدامنی کی شہادت دی اور جب وہ پانچویں مرتبہ گواہی دینے چلی تو صحابہ نے اس کو روکا اور کہا کہ اچھی طرح سوچ سمجھ لو یہ پانچویں گواہی تم دونوں کے درمیان جدائی کو واجب کردے گی یا اگر تم جھوٹی ہوگی تو آخرت میں عذاب کو واجب کر دے گی ابن عباس کہتے ہیں یہ سن کر وہ عورت ٹھہر گئی اور پیچھے ہٹی یعنی وہ پانچویں مرتبہ کچھ گواہی دینے میں متامل ہوئی جس سے ہمیں یہ گمان ہوا کہ یہ اپنی بات سے پھر جائے گی لیکن پھر اس نے کہا کہ میں لعان سے بچ کر اور اپنے خاوند کے الزام کی تصدیق کر کے اپنی قوم کو ساری عمر کے لئے رسوا نہیں کروں گی یہ کہہ کر اس نے پانچویں گواہی کو بھی پورا کیا اس طرح جب لعان پورا ہوگیا اور آنحضرت ﷺ نے دونوں میاں بیوی کے درمیان جدائی کرا دی تو آپ نے فرمایا کہ اس کو دیکھتے رہنا اگر اس نے ایسے بچے کو جنم دیا جس کی آنکھیں سرمئی کو ل ہے بھاری اور پنڈلیاں موٹی ہوں تو وہ بچہ شریک ابن سحماء کا ہوگا کیونکہ شریک اسی طرح کے ہیں چناچہ جب اس عورت نے ایسے ہی بچہ کو جنم دیا جو شریک کے مشابہ تھا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر کتاب اللہ کا مذکورہ حکم نہ ہوتا جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ لعان کرنیوالوں پر تعزیر جاری نہیں ہوگی) تو پھر میں اس عورت کے ساتھ دوسرا ہی معاملہ کرتا یعنی شریک کے ساتھ اس بچہ کی مشابہت اس عورت کی بدکاری کا ایک واضح قرینہ ہے اس لئے اس کی اس بدکاری پر میں اس کو ایسی سزا دیتا کہ دیکھنے والوں کو عبرت ہوتی (بخاری)
تشریح
اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے حضرت ہلال نے لعان کیا ہے اور اس موقع پر لعان کے سلسلہ میں مذکورہ آیت نازل ہوئی اس بارے میں جو تحقیقی تفصیل ہے وہ حضرت سہل کی روایت کی تشریح میں بیان ہوچکی ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے الخ، بظاہر زیادہ صحیح یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بات ان دونوں کے لعان سے فارغ ہونے کے بعد ارشاد فرمائی اور اس ارشاد گرامی کی مراد یہ ہے کہ جو بھی شخص کوئی جھوٹی بات کہے یا کسی پر جھوٹی تہمت لگائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ توبہ کرے بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے یہ بات لعان سے پہلے ان دونوں کو جھوٹ کے عواقب سے ڈرانے کے لئے ارشاد فرمائی تھی۔ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ حاکم و قاضی کسی بھی معاملہ میں اپنے گمان و خیال قرائن اور کسی علامت کی بنیاد پر کوئی حکم نہ دے بلکہ وہی حکم دے جس کے دلائل و شواہد تقاضا کریں۔
زنا کی تہمت چار گواہوں کے ذریعہ ثابت ہوتی ہے
وعن أبي هريرة قال : قال سعد بن عبادة : لو وجدت مع أهلي رجلا لم أمسه حتى آتي بأربعة شهداء ؟ قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم قال : ٍ بالحق إن كنت لأعاجله بالسيف قبل ذلك قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اسمعوا إلى ما يقول سيدكم إنه لغيور وأنا أغير منه والله أغير مني . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک صحابی سعد نے کہا کہ اگر میں کسی غیر مرد کو اپنی بیوی کے پاس پاؤں تو جب تک کہ چار گواہ فراہم نہ کرلوں اس کو ہاتھ نہ لگاؤں۔ یعنی نہ اس کو ماروں اور نہ قتل کروں) رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہاں سعد نے کہا کہ ہرگز نہیں قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں قبل اس کے کہ چار گواہ فراہم کروں فوری طور پر تلوار سے اس کا خاتمہ کر دوں گا۔ آنحضرت ﷺ نے حاضرین مجلس کو مخاطب کر کے فرمایا کہ سنو تمہارا سردار یعنی سعد کیا کہہ رہا ہے بلاشبہ وہ غیرت مند ہے میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے (مسلم)
تشریح
آنحضرت ﷺ کا یہ جواب سن کر حضرت سعد نے جو کچھ کہا اس سے نہ تو آنحضرت ﷺ کے قول کی تردید مقصود تھی اور نہ آنحضرت ﷺ کے حکم کی مخالفت منظور تھی بلکہ انہوں نے اپنی اس بات کے ذریعہ دراصل اپنی طبیعت اور اپنے مزاج کے بارے میں بتایا۔ کہ میرا حال تو یہ ہے کہ میرے غصہ اور میری غیرت کا یہ عالم ہے کہ اگر میں اپنی بیوی کے پاس کسی غیر مرد کو دیکھ لوں تو اس کو فورًا قتل کر دوں جب کہ اس بارے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ جب تک چار گواہ فراہم نہ کرلو اس کو کچھ نہ کہو تو اس صورت میں میرے لئے کونسا راستہ ہے؟ اس لئے آنحضرت ﷺ نے حضرت سعد کی یہ بات سن کر لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کیا کہ سنو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے گویا آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کہ سنو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے؟ کی مراد حضرت سعد کے وصف کی تعریف کرنا ہے اور اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ طبیعت و مزاج میں اتنی غیرت کا ہونا بزرگوں کی صفات اور سرداروں کی عادات میں سے ہے اگرچہ اس معاملہ میں شریعت کا حکم دوسرا ہے جس پر عمل کرنا غیرت مندی کے تقاضا پر عمل کرنے سے زیادہ ضروری ہے۔ حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعہ حضرت سعد کی بات کی تقریر یعنی تائید و توثیق نہیں فرمائی بلکہ آپ ﷺ نے ان کا عذر بیان کیا کہ حضرت سعد نے جو بات کہی ہے اور جس سے بظاہر میرے حکم کی خلاف ورزی معلوم ہوتی ہے وہ دراصل ان کی غیر معمولی غیرت مندی کی وجہ سے سے ان کی زبان سے نکل گئی ہے۔ حضرت مظہر فرماتے ہیں کہ حضرت سعد کا آنحضرت ﷺ کو مذکورہ جواب دینا آنحضرت کے حکم کی مخالفت یا آپ ﷺ کے ارشاد کو قبول کرنے سے انکار کردینے کے طور پر نہیں تھا بلکہ درحقیقت ان کی اس خواہش کے اظہار کے طور پر تھا کہ اگر کوئی غیرت مند کسی غیر مرد کو اپنی بیوی کے پاس پائے تو اس کو قتل کردینے کی اجازت عطا ہوجائے چناچہ جب آنحضرت نے یہ اجازت دینے سے ایک بلیغ انداز میں انکار کردیا تو انہوں نے سکوت اختیار کرلیا۔ غیرت آدمی کی اندرونی کیفیت و حالت کے اس تغیر کو کہتے ہیں جو اپنے اہل میں کسی ناگوار چیز کو دیکھنے پر پیدا ہوتا ہے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی غیرت کی نسبت اسی معنی کے اعتبار سے محال و ناممکن ہے لہذا اللہ تعالیٰ کے غیرت مند ہونے کی معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے بندوں کو گناہوں سے روکنے والا ہے تاکہ وہ اس کی بارگاہ کی قربت و مقبولیت سے دور نہ جا پڑیں۔
اللہ سے زیادہ کوئی غیرت مند نہیں ہے
وعن المغيرة قال : قال سعد بن عبادة : لو رأيت رجلا مع امرأتي لضربته بالسيف غير مصفح فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أتعجبون من غيرة سعد ؟ والله لأنا أغير منه والله أغير مني ومن أجل غيرة الله حرم الله الفواحش ما ظهر منها وما بطن ولا أحد أحب إليه العذر من الله من أجل ذلك بعث المنذرين والمبشرين ولا أحد أحب إليه المدحة من الله ومن أجل ذلك وعد الله الجنة
اور حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ حضرت سعد نے یہ کہا کہ اگر میں کسی غیر مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھوں تو میں اس کو تلوار سے مار دوں اور تلوار کی پشت کی جانب سے نہیں بلکہ دھار والی جانب سے ماروں حاصل یہ کہ میں تلوار سے اس کا خاتمہ کر دوں جب رسول کریم ﷺ تک یہ بات پہنچی کہ سعد اس طرح کہتے ہیں) تو آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ تمہیں سعد کی اس غیر معمولی غیرت مندی پر تعجب ہے؟ اللہ کی قسم میں یقینًا ان سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے اور اللہ نے اپنی غیرت ہی کی وجہ سے تمام گناہوں کو حرام کیا ہے خواہ وہ ظاہری گناہ ہوں یا پوشیدہ گناہ ہوں اور عذر کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں رکھتا اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ڈرانے والوں اور بشارت دینے والوں یعنی پیغمبروں کو بھیجا ہے نیز تعریف کرنے کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی پسند نہیں کرتا اور اسی کے سبب اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے ( بخاری ومسلم)
تشریح
اور اللہ تعالیٰ نے اپنی غیرت ہی کی وجہ سے گناہوں کو حرام کیا ہے یہ جملہ دراصل اللہ تعالیٰ کی غیرت کی وضاحت کے لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی غیرت کے معنی یہ ہیں کہ اس نے لوگوں کو حرام امور اختیار کرنے سے منع کیا ہے اور حرام امور کو اختیار کرنے پر عذاب مقرر کیا ہے چناچہ اصل میں غیرت کا مطلب یہی ہے کہ آدمی اس بات کو ناپسند کرے اور اس پر ناراض ہو کہ کوئی اس کی ملکیت میں تصرف کرے۔ اور غیرت کا مشہور معنی یہ ہے کہ آدمی اس شخص پر غصہ کرے جو اس کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرے یا اس کو نظر بد سے دیکھے لہذا اللہ تعالیٰ کی غیرت یہ ہے کہ وہ اس شخص پر غصہ کرے جو گناہ کا مرتکب ہو۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ عذر کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں رکھتا میں عذر اعزار یعنی ازالہ عذر کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ عذر ختم کردینے کو پسند کرتا ہے اس طرح کوئی اور عذر کو ختم کرنے کو پسند نہیں کرتا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پیغمبروں اور رسولوں کو بھیجا ہے تاکہ اس طرف سے اتمام حجت ہوجائے اور بندوں کو عذر کرنے کا موقع نہ ملے۔ جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ا یت (لئلا یکون علی اللہ حجۃ بعد الرسل) تاکہ لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے سامنے پیغمبروں کے بعد کوئی عذر باقی نہ رہے تعریف کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی پسند نہیں کرتا، کا مطلب یہ ہے کہ تعریف کرنے کو جتنا اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اتنا کوئی اور پسند نہیں کرتا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے خود اپنی تعریف بھی فرمائی ہے اور اپنے محبوب بندوں کی بھی تعریف کی ہے اور ان لوگوں کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ کیا ہے جو اس کی حمد و تعریف کرتے ہیں اور اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ غیرت کا تقاضا کیا ہے
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى يغار وإن المؤمن يغار وغيرة الله أن لا يأتي المؤمن ما حرم الله
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ غیرت مند ہے اور مؤمن بھی غیرت مند ہے (یعنی غیرت دراصل اللہ تعالیٰ کی صفت ہے جو مؤمن میں بھی موجود ہے) اور اللہ تعالیٰ کی غیرت کا تقاضہ یہ ہے کہ مؤمن وہ کام نہ کرے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ( بخاری و مسلم)
محض معمولی علامتوں کی بناء پر اپنے بچہ کا انکار نہ کرو
وعنه أن أعرابيا أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن امرأتي ولدت غلاما أسود وإني نكرته فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل لك من إبل ؟ قال : نعم قال : فما ألوانها ؟ قال : حمر قال : هل فيها من أورق ؟ قال : إن فيها لورقا قال : فأنى ترى ذلك جاءها ؟ قال : عرق نزعها . قال : فلعل هذا عرق نزعه ولم يرخص له في الانتفاء منه
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری بیوی نے ایک ایسے بچے کو جنم دیا ہے جس کا رنگ کالا ہے اور اس وجہ سے کہ وہ میرا ہم رنگ نہیں ہے) میں نے اس کا انکار کردیا ہے (یعنی یہ کہہ دیا ہے کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے) رسول کریم ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں، اس نے عرض کیا کہ ہاں ان میں خاکسری رنگ کے بھی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ خاکستری رنگ کے اونٹ کہاں سے آگئے ( یعنی ان میں خاکستری رنگ کہاں سے آیا جب کہ ان کے ماں باپ خاکستری رنگ کے نہیں ہیں؟ ) اس نے عرض کیا کہ کوئی ٰرگ ہوگی جس نے انہیں کھینچ لیا ( یعنی ان کی اصل میں کوئی خاکستری کا رہا ہوگا جس کے مشابہ یہ بھی ہوگئے) آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو پھر یہ بچہ بھی کسی ایسی رگ کے سبب کالا ہوا ہے جس نے اس کو کھینچ لیا ہے یعنی اس بچہ کی اصل میں بھی کوئی شخص کالے رنگ کا رہا ہوگا جس کے مشابہ یہ بچہ ہوگیا ہے اور اس طرح آنحضرت ﷺ نے اس دیہاتی کو اس بچہ کا انکار کرنے کی اجازت نہیں دی ( بخاری و مسلم)
تشریح
طیبی کہتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ محض معمولی اور ضعیف علامتوں کی بناء پر اپنے بچہ کا انکار کرنا یعنی یہ کہنا کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے ممنوع ہے بلکہ اس صورت میں مضبوط دلائل و وجوہ کا ہونا ضروری ہے مثلا بیوی سے صحبت نہ کی ہو اور اس کے باوجود بچہ کی ولادت ہوئی ہو یا صحبت کی ہو مگر صحبت کے بعد چھ مہینہ سے کم مدت میں بچہ پیدا ہوا ہو اور ان صورتوں میں اس بچہ کا انکار کردینا جائز ہے۔
زنا کے نتیجہ میں پیدا ہونیوالے بچہ کا نسب زانی سے ثابت نہیں ہوتا
وعن عائشة قالت : كان عتبة بن أبي وقاص عهد إلى أخيه سعد بن أبي وقاص : أن ابن وليدة زمعة مني فاقبضه إليك فلما كان عام الفتح أخذه سعد فقال : إنه ابن أخي وقال عبد بن زمعة : أخي فتساوقا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال سعد : يا رسول الله إن أخي كان عهد إلي فيه وقال عبد بن زمعة : أخي وابن وليدة أبي ولد على فراشه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هو لك يا عبد بن زمعة الولد للفراش وللعاهر الحجر ثم قال لسودة بنت زمعة : احتجبي منه لما رأى من شبهه بعتبة فما رآها حتى لقي الله وفي رواية : قال : هو أخوك يا عبد بن زمعة من أجل أنه ولد على فراش أبيه
اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص کو وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کا لڑکا میرے نطفہ سے ہے تم اس کو لے لینا چناچہ فتح مکہ کے سال سعد نے اس لڑکے کو لے لیا اور کہا کہ یہ میرا بھتیجا ہے جبکہ ابن زمعہ نے کہا کہ یہ میرا بھائی ہے پھر وہ دونوں اپنا معاملہ رسول کریم ﷺ کے پاس لے گئے اور سعد نے کہا کہ یہ لڑکا میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے جو میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے دونوں کی بات سن کر فرمایا کہ عبد بن زمعہ اس بچہ کے تم ہی حقدار ہو کیونکہ بچہ صاحب فراش کی طرف منسوب ہوتا ہے اور زانی کے لئے نسب و میراث سے محرومی ہے یا یہ کہ زانی سنگساری کا مستوجب ہے) پھر آنحضرت ﷺ نے حضرت سودہ بنت زمعہ سے فرمایا کہ تم اس لڑکے سے پردہ کیا کرو کیونکہ اس میں عتبہ کی شباہت نظر آتی ہے چناچہ حضرت سودہ اس لڑکے کے سامنے کبھی نہیں آئیں یہاں تک کہ وہ واصل بحق ہوگیا) ایک روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عبد بن زمعہ وہ لڑکا تمہارا بھائی ہے اس لئے کہ وہ لڑکا ان کے باپ کے بستر پر پیدا ہوا تھا (بخاری ومسلم)
تشریح
اس حدیث میں جو چند نام ذکر ہوئے ہیں پہلے ان کے بارے میں بتادینا ضروری ہے تاکہ صورت واقعہ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ عتبہ حضرت سعد بن ابی وقاص کا حقیقی بھائی تھا حضرت سعد کو تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی دولت سے بہرور کیا اور وہ ایک جلیل القدر صحابی ہوئے مگر عتبہ کفر کے اندھیرے سے نہ نکل سکا یہاں تک کہ کفر کی حالت میں مرگیا اور یہی وہ بدبخت تھا اور یہی وہ بدبخت تھا جس نے غزوہ احد کے موقع پر رحمت دو عالم ﷺ کے داندان مبارک شہید کئے تھے۔ زمعہ حضرت سودہ کے باپ تھے اور عبد ان زمعہ کے بیٹے یعنی حضرت سودہ کے حقیقی بھائی تھے حضرت سودہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ تھیں۔ اب حدیث کی طرف آئیے کہ عتبہ نے زمعہ کی لونڈی سے زنا کیا جس کے نتیجہ میں لڑکا پیدا ہوا چونکہ زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ زانی کے دعوی پر ولد الزنا (حرامی بچہ) کا نسب اسی زنی سے ثابت ہوتا تھا اس لئے عتبہ نے اس قدیم دستور کے مطابق اس لڑکے کے بارے میں دعوی کیا کہ یہ میرا ہے اور اپنے بھائی حضرت سعد کو وصیت کی کہ تم اس لڑکے کو اپنی تحویل میں لے لینا اور اس کی پرورش کرنا چناچہ حضرت سعد نے فتح مکہ کے سال اپنے بھائی کی وصیت کے مطابق اس لڑکے کو اپنی تحویل میں لے لیا اور یہ اعلان کیا کہ یہ میرا بھتیجا ہے ادھر زمعہ کے بیٹے عبد نے یہ دعوی کیا کہ یہ میرا بھائی ہے کیونکہ اس کو میرے باپ نے اپنی لونڈی سے جنوایا ہے غرضیکہ ان دونوں کے درمیان ایک تنازعہ کی صورت ہوگئی تو وہ دونوں اس معاملہ کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں لے کر آئے آنحضرت ﷺ نے عبد بن زمعہ سے فرمایا کہ یہ تمہارا بھائی ہے کیونکہ بچہ صاحب فراش ہی سے ثابت ہوتا ہے اور زانی اس سے محروم رہتا ہے۔ (بچہ صاحب فراش کی طرف منسوب ہوتا ہے اور زانی کے لئے محرومی ہے) کی تفصیلی وضاحت باب الوصایا کی پہلی فصل میں حضرت ابوامامہ کی روایت کے ضمن میں کی جا چکی ہے۔ ام المؤمنین حضرت سودہ کو آنحضرت ﷺ کے اس حکم کہ تم اس لڑکے سے پردہ کیا کرو) کا مطلب یہ تھا کہ اگرچہ یہ لڑکا شرعی حکم کے مطابق تمہارا بھائی ہوا بایں طور کہ اس کا نسب تمہارے باپ زمعہ سے ثابت ہوگیا ہے اور یہ بھی اپنی جگہ پر صحیح ہے کہ شرعی معاملات میں مشابہت اور قیافہ و قرائن کا اعتبار نہیں لیکن وہ لڑکا چونکہ عتبہ کے مشابہ ہے اور عتبہ کے دعوی کیوجہ سے اس کا عتبہ کے نطفہ سے ہونا ایک حد تک حقیقت کے مطابق بھی ہے اس لئے احتیاط وورع کا تقاضا یہی ہے کہ تم اس کے سامنے نہ آؤ۔ دوسری روایت کے آخری الفاظ (انہ ولد علی فراش ابیہ) ( اس لئے کہ وہ لڑکا ان کے باپ کے بستر پر پیدا ہوا تھا) دراصل حدیث کے راوی کا اپنا قول ہے یعنی راوی نے ان الفاظ کے ذریعہ یہ واضح کیا کہ آنحضرت ﷺ نے عبد بن زمعہ کے حق میں یہ حکم کہ وہ لڑکا تمہارا بھائی ہے اس لئے صادر فرمایا تھا کہ وہ ان کے باپ (زمعہ) کے بستر پر پیدا ہوا تھا) ان کے بستر پر پیدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ استقرار حمل اور بچہ کی ولادت کے زمانہ میں وہ لونڈی زمعہ کی ملکیت میں اور ان کے تصرف میں تھی نیز وہ لڑکا انہی کے گھر میں پیدا ہوا تھا۔
اثبات نسب میں قیافہ شناس کا قول معتبر ہے یا نہیں؟
وعنها قالت : دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم وهو مسرور فقال : أي عائشة ألم تري أن مجززا المدلجي دخل فلما رأى أسامة وزيدا وعليهما قطيفة قد غطيا رؤوسهما وبدت أقدامهما فقال : إن هذه الأقدام بعضها من بعض
اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ بہت خوش میرے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ عائشہ! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ آج مجزر مدلجی مسجد نبوی میں آیا) اور جب اس نے اسامہ اور زید کو دیکھا جو اس طرح چادر اوڑھے ہوئے لیٹے تھے اور ان کے سر چھپے ہوئے تھے اور پیر کھلے ہوئے تھے تو اس نے کہا کہ ان دونوں کے پیر ایک دوسرے کے مطابق ہیں یعنی یہ پیر جن دو آدمیوں کے ہیں وہ آپس میں باپ بیٹے ہیں ( بخاری و مسلم)
تشریح
حضرت زید بن حارثہ جو آنحضرت ﷺ کے متبنی (لے پالک) تھے بہت گورے اور خوبصورت تھے جب کہ ان کے صاحبزادے حضرت اسامہ کالے تھے اور اپنی ماں کے ہم رنگ تھے ان کی ماں جن کا نام ام ایمن تھا ایک لونڈی اور کالے رنگ کی تھیں باپ بیٹے رنگت کے اس فرق کی وجہ سے منافق حضرت اسامہ کے نسب میں عیب لگاتے تھے اور دلیل یہ دیتے تھے کہ ایسے حسین اور خوبصورت باپ کا بیٹا اتنا کالا کیسے ہوسکتا ہے؟ چناچہ آنحضرت ﷺ منافقوں کی اس بات سے بہت کبیدہ خاطر ہوتے تھے کہ اسی دوران میں یہ واقعہ پیش آیا۔ مجزر مدلجی عرب کا ایک مشہور قیافہ شناس اور اپنے فن میں یگانہ روزگار تھا وہ آدمی کی صورت دیکھ کر اس کے حالات و کوائف اور اوصاف و خصوصیات معلوم کرلیا کرتا تھا چناچہ مسجد نبوی میں آیا اور اس نے حضرت زید اور حضرت اسامہ کے پیر دیکھے تو اس نے علم قیافہ کی رو سے یہ فیصلہ کیا کہ یہ پیر جن دو آدمیوں کے ہیں ان دونوں کو آپس میں باپ بیٹا ہونا چاہئے۔ آنحضرت ﷺ اس بات سے بہت خوش ہوئے کیونکہ اہل عرب کے ہاں قیافہ شناس کا قول معتبر ہوتا تھا اور اس کے فیصلہ کو سند کا درجہ دیا جاتا تھا لہذا آنحضرت ﷺ کو یہ بھی اطمینان ہوگیا کہ اب جب کہ اسامہ کا نسب اس سند سے ثابت ہوگیا ہے تو منافقین بھی ان کے نسب کے بارے میں طعن کرنے کی ہمت نہیں کریں گے۔ لیکن یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ اس حدیث سے لازم نہیں آتا کہ شرعی احکام اور اثبات نسب میں قیافہ شناس کا قول معتبر ہوتا ہے چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہی ہے البتہ حضرت امام شافعی حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد رحمہم اللہ قیافہ شناس کے قول کو معتبر مانتے ہیں یہاں تک کہ ان کے مسلک میں یہ مسئلہ ہے کہ اگر کوئی لونڈی دو آدمیوں کی مشترک ملکیت ہو اور اس کے بچہ پیدا ہو اور پھر وہ دونوں شریک اس بچہ کے نسب کا دعوی کریں یعنی ہر ایک یہ کہے کہ یہ میرا بچہ ہے تو اس صورت میں ان دونوں کو قیافہ شناس کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ اور وہ قیافہ شناس اپنے قیافہ کی بنیاد پر جو فیصلہ کرے اس کو قبول کرلینا چاہئے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس صورت میں وہ بچہ شرعی حکم کے اعتبار سے دونوں کا ہوگا اگرچہ واقعہ کے اعتبار سے وہ کسی ایک کا ہوگا اور وہ لونڈی دونوں کی ام ولد ہوگی۔
اپنے باپ کا انکار کرنیوالے کے بارے میں وعید
وعن سعد بن أبي وقاص وأبي بكرة قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ترغبوا عن آبائكم فمن رغب عن أبيه فقد كفر وذكر حديث عائشة ما من أحد أغير من الله في باب صلاة الخسوف
اور حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت ابوبکرہ دونوں راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے آپ کو اپنے باپ کے بجائے کسی دوسرے شخص کی طرف منسوب کرے اور وہ یہ جانتا بھی ہو کہ یہ میرا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے ( بخاری و مسلم)
تشریح
اس پر جنت حرام ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر اپنے باپ کی بجائے کسی دوسرے شخص کی طرف اپنی نسبت کرتا ہے اور وہ اس بات کو برا نہیں جانتا بلکہ اس کا اعتقاد ہے کہ اپنے نسب میں اس طرح خلط ملط کرنا حلال ہے تو ایک حرام چیز کے حلال ہونے کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے وہ کفر کی حد میں پہنچ گیا اور جب وہ کفر کی حد میں پہنچ گیا اور اسی حال میں مرگیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس پر جنت کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند رہیں گے اور اگر وہ شخص کفریہ عقیدہ نہیں رکھتا ( یعنی باپ کی بجائے کسی دوسرے شخص کی طرف اپنی نسبت کرنے کو حلال نہیں جانتا بلکہ حرام ہی جانتا ہے تو اس صورت میں اس پر جنت حرام ہے کا مطلب یہ ہوگا کہ اس وقت اس پر جنت کے دروازے بند رہیں گے جب تک کہ وہ اپنے اس گناہ کی سزا نہ بھگت لے گا۔ یا پھر یہ کہا جائے گا کہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد کہ اس پر جنت حرام ہے زجر یعنی تنبیہ کے طور پر ہے جس کا مقصد لوگوں کو اس برائی سے روکنا ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم غیر شخص سے اپنا نسب جوڑ کر اپنے باپ سے منہ نہ پھیرو کیونکہ جس شخص نے اپنے باپ سے منہ پھیرا یعنی اس سے اپنے نسب کا انکار کیا) تو اس نے درحقیقت کفران نعمت کیا (بخاری ومسلم) تشریح زمانہ جاہلیت میں یہ ایک عام برائی تھی کہ لوگ اپنے اصل باپ سے اپنے نسب کا انکار کر کے دوسروں کو اپنا باپ قرار دیتے تھے چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس برائی سے منع فرمایا۔ اس بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ جان بوجھ کر اصل باپ کی بجائے کسی غیر شخص سے اپنا نسب قائم کرنا حرام ہے اور اگر کسی شخص نے غیر شخص سے اپنا نسب قائم کرنے کو مباح جانا اور اس کا عقیدہ رکھا تو وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ ایسی چیز کے حلال و مباح ہونے کا عقیدہ رکھنا جس کو پوری امت نے حرام قرار دیا ہے کفر ہے اس صورت میں حدیث کے الفاظ فقد کفر اپنے حقیقی معنی پر محمول ہوں گے اور اگر کرنیوالا مباح ہونے کا یقین نہیں رکھتا تو اس صورت میں کفر کے دو معنی ہوں گے ایک تو یہ کہ اس شخص نے کفار کے فعل کی مشابہت اختیار کی دوسرے یہ کہ اس نے کفران نعمت کیا ہے اور حضرت عائشہ کی حدیث ( ما من احد غیر من اللہ) باب صلوۃ الخسوف میں نقل کی جا چکی ہے۔